اکثر شبِ تنہائی میں کچھ دیر پہلے نیند سے۔ ۔ ۔

پاکستان کا ایک فخر ریشماں، ریشماں ملک پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں جہنوں نے اپنے فن کے ذریعے ملک کی خدمت کی ہے،ان کا ایک کلام ابھی youtube پے سنا، یہ کلام ریشماں کا بہت ہی اچھا انداز کا ہے۔ بہت اچھا لگا سو سوچا سب کے ساتھ share کیا جائے 🙂

اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ ذندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دلِ صد چاک پر۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ہیں ایک ایک سب،،،

دل کا کنول جو روز و شب
رہتا شگفتہ تھا سو اب
اسکا یہ ابتر حال ہے
اک سبزۂ پا مال ہے
اک پھو ل کُملایا ہوا
ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روندا پڑا ہے خاک پر
یوں ہی شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی ناکامیاں
بیتے ہوئے دن رنج کے
بنتے ہیں شمعِ بےکسی
اور ڈالتے ہیں روشنی
ان حسرتوں کی قبر پر،،،

جوآرزوئیں پہلے تھیں
پھر غم سے حسرت بن گئیں
غم دوستو ں کی فوت کا
ان کی جواناں موت کا۔۔۔

لے دیکھ شیشے میں مرے
ان حسرتوں کا خون ہے
جو گرد شِ ایام سے
جو قسمتِ ناکام سے
یا عیشِ غمِ انجام سے
مرگِ بتِ گلفام سے
خود میرے غم میں مر گئیں
کس طرح پاؤں میں حزیں
قابو دلِ بےصبر پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب آہ ان احباب کو
میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے
جس طرح طائر باغ کے
یا جیسے پھول اور پتیاں
گر جائیں سب قبل از خزاں
اور خشک رہ جائے شجر،،،

اس وقت تنہائی مری
بن کر مجسم بےکسی
کر دیتی ہے پیشِ نظر
ہو حق سااک ویران گھر
ویراں جس کو چھوڑ کے
سب رہنے والے چل بسے
ٹو ٹے کواڑ اور کھڑ کیاں
چھت کے ٹپکنے کے نشاں
پرنالے ہیں روزن نہیں
یہ ہال ہے، آ نگن نہیں
پردے نہیں، چلمن نہیں
اک شمع تک روشن نہیں
میرے سوا جس میں کوئی
جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
وہ خانۂ خالی ہے دل
پو چھے نہ جس کو دیو بھی
اجڑا ہوا ویران گھر،،،

یوں ہی شب تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دل صد چاک پر۔۔۔۔۔۔۔

18 thoughts on “اکثر شبِ تنہائی میں کچھ دیر پہلے نیند سے۔ ۔ ۔”

  1. ” جب آہ ان احباب کو
    میں یاد کراٹھتا ہوں جو
    یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے ”
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ میری داستاں تم نے نہایت ہی پر اثر انداز میں لکھدی : خوش رہو ریشماں

  2. بہت خوب سیدہ ‪ثنا شاہ صاحبہ۔ اسی کو تو علم کی تقسیم کہتے ہیں۔ علم صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ پروردگار کی تخلیق کردہ اس حسین دنیا کی ایک ایک چیز علم ہے اور موسیقی تو بڑے علوم میں سے ایک علم ہے۔ اگر چہ علم موسیقی کے حوالے سے یہ نظم ریشماں جیسی گلوکارہ کے لیئے نہیں اور نہ ہی ان کے مزاج کی ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسے نہایت خوبسورتی کے ساتھ گایا ہے۔
    بیتے ہوئے دن عیش کے
    بنتے ہیں شمعِ زندگی
    اور ڈالتے ہیں روشنی
    میرے دل صد چاک پر
    ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر فنکار کُش معاشرہ ہے اور حکومتوں کی ترجیحات میں تو فنکا دنیا کہیں بہت آخر میں آتی ہے۔ ریشماں کئی ماہ سے علیل ہیں اور اب انکے فنکار ساتھیوں نے ایک خبر کے آئینے میں اس طرح سے اپیل کی ہے۔
    ”شوبز کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو گلوکارہ ریشماں کی بیماری کے اخراجات برداشت اور انکی سرکاری سطح پر ہر ممکن امداد کرنی چاہیے ۔اداکارامان اللہ‘ سہیل احمد‘ سائرہ نسیم‘ فریحہ پرویز‘ حمیرا ارشد‘ زین‘ امانت علی‘ جواد احمد‘ نصیبو لال‘ شوکت علی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ہر ممکن مدد کرے”۔
    بیتے ہوئے دن عیش کے
    بنتے ہیں شمعِ زندگی
    اور ڈالتے ہیں روشنی
    میرے دل صد چاک پر

  3. یہ نظم نادر کاکوروی مرحوم کی ہے جنکا عرصہ حیات 1857-1912تک ہے۔
    آئیے پہلے اس نظم کو مکمل پڑھیں پھر اس کے حوالے سے ایک نئے جہت۔۔۔
    اکثر شبِ تنہائی میں
    کچھ دیر پہلے نیند سے
    گزری ہوئی دلچسپیاں
    بیتے ہوئے دن عیش کے
    بنتے ہیں شمعِ ذندگی
    اور ڈالتے ہیں روشنی
    میرے دلِ صد چاک پر
    وہ بچپن اوروہ سادگی
    وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
    پھر وہ جوانی کے مزے
    وہ دل لگی وہ قہقہے
    وہ عشق وہ عہدِ و فا
    وہ وعدہ اور وہ شکریہ
    وہ لذتِ بزمِ طرب
    یاد آتے ہیں ایک ایک سب
    دل کا کنول جو روز و شب
    رہتا شگفتہ تھا سو اب
    اسکا یہ ابتر حال ہے
    اک سبزۂ پا مال ہے
    اک پھو ل کُملایا ہوا
    ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا
    روندا پڑا ہے خاک پر
    یوں ہی شبِ تنہائی میں
    کچھ دیر پہلے نیند سے
    گزری ہوئی ناکامیاں
    بیتے ہوئے دن رنج کے
    بنتے ہیں شمعِ بےکسی
    اور ڈالتے ہیں روشنی
    ان حسرتوں کی قبر پر
    جوآرزوئیں پہلے تھیں
    پھر غم سے حسرت بن گئیں
    غم دوستو ں کی فوت کا
    ان کی جواناں موت کا
    لے دیکھ شیشے میں مرے
    ان حسرتوں کا خون ہے
    جو گرد شِ ایام سے
    جو قسمتِ ناکام سے
    یا عیشِ غمِ انجام سے
    مرگِ بتِ گلفام سے
    خود میرے غم میں مر گئیں
    کس طرح پاؤں میں حزیں
    قابو دلِ بےصبر پر
    جب آہ ان احباب کو
    میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
    یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے
    جس طرح طائر باغ کے
    یا جیسے پھول اور پتیاں
    گر جائیں سب قبل از خزاں
    اور خشک رہ جائے شجر
    اس وقت تنہائی مری
    بن کر مجسم بےکسی
    کر دیتی ہے پیشِ نظر
    ہو حق سااک ویران گھر
    ویراں جس کو چھوڑ کے
    سب رہنے والے چل بسے
    ٹو ٹے کواڑ اور کھڑ کیاں
    چھت کے ٹپکنے کے نشاں
    پرنالے ہیں روزن نہیں
    یہ ہال ہے، آ نگن نہیں
    پردے نہیں، چلمن نہیں
    اک شمع تک روشن نہیں
    میرے سوا جس میں کوئی
    جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
    وہ خانۂ خالی ہے دل
    پو چھے نہ جس کو دیو بھی
    اجڑا ہوا ویران گھر
    یوں ہی شب تنہائی میں
    کچھ دیر پہلے نیند سے
    گزری ہوئی دلچسپیاں
    بیتے ہوئے دن عیش کے
    بنتے ہیں شمعِ زندگی
    اور ڈالتے ہیں روشنی
    میرے دل صد چاک پر
    اب اس نظم کے حوالے ایک نئی جہت کا تذکرہ
    کہا جاتا ہے کہ یہ نظم ‘( Thomas Moore (1779-1852) ‘ کی نظم ‘ Oft in The Stilly’ کا ترجمہ ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اس سے ماخوذ ہے۔
    Thomas Moore نے یہ نظم غالباً 1815 میں لکھی تھی جسے Sir John Stevenson نے 1818 میں کمپوز کیا۔
    لیجئے انگریزی میں اس نظم کو پڑھیئے
    Oft in the stilly night

    Oft in the stilly night,
    Ere Slumber’s chain has bound me,
    Fond Memory brings the light
    Of other days around me;
    The smiles, the tears,
    Of boyhood’s years,
    The words of love then spoken,
    The eyes that shone
    Now dimmed and gone,
    The cheerful hearts now broken!
    Thus in the stilly night,
    Ere Slumber’s chain has bound me,
    Sad Memory brings the light
    Of other days around me.

    When I remember all
    The friends, so link’d together,
    I’ve seen around me fall,
    Like leaves in wintry weather;
    I feel like one
    Who treads alone
    Some banquet-hall deserted,
    Whose lights are fled,
    Whose garland’s dead,
    And all but he departed!
    Thus in the stilly night,
    Ere Slumber’s chain has bound me,
    Sad Memory brings the light
    Of other days around me
    اور اب یہی نظم انگریزی میں کمپوز شدہ یو ٹیوب میں موجود ہے۔لیجئے سنیئے
    http://www.youtube.com/watch?v=apX2yO38cXQ

  4. واہ واہ مطلب کہ پاکستانی بہت ھی talented ہیں اتنا اچھا ترجمہ کیا ،،،،،،،اور اس نظم کے حوالے ایک نئی جہت کا تذکرہ بہت دلچسپ !

  5. واہ واہ واہ، کیا باات ہے،
    ایک ایک لائن پر سر دُھننے کو دل کرتا ہے، اور کیا تسلسل ہے، اور معانی کا ربط کیا خوبصورت ہے،درد اور کرب کو کتنی لطافت سے کہا گیا ہے، اور پھر جیسے گایا ہے ریشماں نے، واہ. لیکن ثناء صاحبہ کے حُسن انتخاب کی داد دیئے بغیر بھی نہیں رہ سکتے، کہ ہر کسی کو ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پر مجبور کر دیا ہے. سلامت رہو اور خوش رہو.

  6. شکریہ عمران جی ! آپ سب بھی سلامت رہیں اور خوش رہیں !

  7. ثنا مجھے لگتا ہے آپ کی تعلیم مکمل ہو گئی یے اسی لئے کبھی مہدی حسن کی غزل سن لیتی ہو اور کبھی ریشماں کے گیت- آغا صاحب نے بلکل صحیح لکھا کہ ہمارا معاشرہ فنکار کُش ہے- میں ایک واقع آپکو سنانا چاہتا ہوں-
    آغا صاحب کو پتہ ہے کہ ریشماں‌ نے گانے کی ابتداء حضرت لعل شہباز کے دربار سے کی۔ ایک وقت تھا کہ ریشماں اکثر درگاہ میں نظر آتی تھی مگر ہر جمعرات کو دربار پہ باقائدگی کے ساتھ حاضری دینے آتی تھی- لعل میری پت رکھیو بلا جھولے لالن ریشماں ہی نے گانا شروع کیا- مشتاق وفا مرحوم میرے ساتھ تھے- دربار میں‌ محفل ہو رہی تھی- مشتاق صاحب نے ` علی ہر دا مولا`گانے کی فرمائش کی- ریشماں نے یہ کلام سنایا اور اس کے فوراً بعد کسی نے فرمائش کی کہ سانگین جا سر سانگ سناؤ- ریشماں نے بے اختیار جواب دیا کہ مولا پاک کے کلام کے بعد میں کچھ اور نہیں گا سکتی- کیا عقیدت ہے – ریشماں نے جتنا بھی گایا ہے وہ خلوص اور عقیدت کے ساتھ گایا ہے-
    تک پتری والیا لیکھ میرے دیگر بہت سے گلوکاروں نے گایا ہے مگر جس ظرح ریشماں جی نے گایا ہے اس طرح کوئی بھی نہیں گا سکا-
    بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک کا عظیم سرمایا آج کسمپرسی کی زندگی گذ ار رہا ہے- استاد جمن مرحوم کو حکومت سندھ نے وظیفہ دینے کا اعلان کیا مگر وظیفہ اعلان تک ہی رہا- اسی طرح محمد یسف مرحوم بنا علاج معالجے کے دنیا سے چلا گیا- اور بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں- الللہ کر ے کہ صاحبانِ اقتدار کی نظر اس بلاگ پہ پڑ جائے –

  8. ساہیں جی پڑھائی تو ابھی ختم نہیں ہوئی آخری سال ھے ،آپ دعا کریں ! پر یہ easter کی دو ہفتے کی چھٹیاں تھی سو blog پے زیادہ لکھ رہی تھی پر کل سے پھر کلاسیں شروع !! چھٹیاں ختم

  9. ثنا مولا پاک کی مھربانی سے تعلیم مکمل ہو جائے گی- ثنا آپ عالمی اخبار کا ہی نہیں‌ بلکہ ہم سب کا سرمایہ ہو- آپ عالمی اخبار کی فخریہ پیش کش ہو- الللہ کرے جلدی ہی آپکی تعلیم مکمل ہو اور اچھی سی جاب مل جائے- آدھی تنخواہ آغا جی کو اور آدھی مجھے بھیج دیا کرنا- بڑوں کی خدمت کرنا ثواب ہے-
    ثنا، عمران بھائی اور آغا صاحب ! میری درخواست ہے کہ تھوڑی سی میر ی تعریف بھی کر دیں- آخر کار میں‌ بھی اتنا بڑا گلوکار ہوں- عموماً میں سامعین کو مدوع کرتا ہوں جو دور دراز رہنے والے ہوں کیونکہ وہ میری گائیکی کے دوران بھاگ نہیں‌ سکتے- ،اسی طرح جو شہر میں‌ رہنے والے ہیں‌ ان کو رات کے 2 بجے کے بعد گانا سناتا ہوں کیونکہ اس وقت سرکاری ذرائع آمد و رفت بند ہو جاتے ہیں اور سامعین ٹیکسی کا کرایہ افورڈ نہیں کر سکتے لہٰذا اس خوف کی وجہ سے مجبوراً ساری رات بیٹھے رہتے ہیں- قبلہ مہدی حسن صاحب سے میری بات ہوئی تو انہوں نے فوراً کہا کہ بیٹا جتنا گا سکتے ہو گاؤ مگر میری زندگی میں ہی- میں نے پوچھا سائیں اس کا مطلب تو خان صاحب نے فرمایا کہ `جب مین تمھاری آواز سنتا ہوں تو مجھے اپنی جوانی یا آجا تی ہے اور میں‌ یہ بھی نہیں‌ چاہتا کہ میر مرنے کے بعد تم گا کر میری روح کو ایصالِ ثواب پنہچاؤ ` واہ واہ سبحان الللہ
    لوگ کہتے ہیں‌ کہ اپنے منہ سے اپنی تعریف نہیں کرنی چاہئے- کیوں جی؟ میں اپنی تعریف کسی اور کے منہ سے کیسے کر سکتا ہوں- میرا منہ اور میری تعریف-
    اچھا جب بات چل ہی نکلی ہے تو اپنی کچھ اور خصوصیات اور خوبیاں بیان کرتا چلوں- مرحوم سعادت حسن منٹو صاحب کو مجھ سے اتنی محبت تھی کہ اس دنیا سے اکیلے جانے کو تیار نہ تھے اور اسرار کرتے رہے کہ سائیں بیٹا میرے ساتھ چلو – بڑی منت سماجت کر کے جان چھڑائی- خیر جاتے ہوئے اپنی قیمتی عینک مجھے بطور نشانی دے گئے اور آغا صاحب نے خود وہ عینک میرے خوبصورت چہرے پہ دیکھی ہے-
    اسی طرح مرحوم محسن ککڑئی صاحب مجھے ساتھ لے کہ جانے پہ مصر تھے- جاتے ہوئے ایک تھیلہ میرے سپرد کر گئے اب کھول کے دیکھا تو تمام تر کلاموں پہ میرا نام لکھا تھا- مرحوم مشتاق وفا صاحب آغا صاحب کے بہت اچھے دوست تھے مگر مجھ سے اسقدر محبت تھی کہ جاتے ہوئے وصیت کی کہ جب بھی سائیں حیدرآباد آئے تو میری برسی کی صدارت ان سے کروائیں- حیدرآباد پریس کلب میں انتظام کیا گیا- میری آمد کے اعلان کے ساتھ ہی پبلک کا ٹھاٹھیں مارتا ہو سمندر اُمڈ آیا- محسن صاحب کے چاہنے والے بھی موجود تھے- سب گلے بھی مل رہے تھے اور مرحومین کے پیغامات بھی کان میں سنا رہے تھے- اتنے محبت بھرے پیغامات سننے کے بعد میں وہاں سے ایسا بھاگا کہ دوبارہ حیدرآباد نہیں‌ گیا- خیر میں‌ نے مرحوم کی برسی میں اپنا کلام بھی سنایا- کلام چونکہ فی البدیح تھا اس لئے اس کے شعر اب یاد نہیں –
    اس برسی میں کچھ چاہنے والوں نے ھارمونیم میرے آگے رکھ دیا- گو کہ میں ایسی محافل میں‌ نہیں‌ گاتا لیکن عوام کا دل رکھنے کے لئے مجبوراً گانا پڑا – میں‌ نے بھی فیض صاحب کی غزل ` نہ گنواؤ ناواکِ نیم کش ` شروع کردی- اتفاق سے سلامت مہدی بھی بیٹھا ہوا تھا فوراً ہاتھ جوڑ کے عرض کرنے لگا کہ سائیں جی خدا کے نام پہ غزل گانا بند کر دیں ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا- آپ کی آواز کا سوز برداشت سے باہر ہے- بہت سے لوگ زار و قطار رو رہے تھے- میں‌ نے فوراً گانا بند کر دیا کیونکہ میرا کام عوام الناس کا ستیاناس کرنا ہرگز نہیں – میرا کام تو لوگوں کا دل خوش کرنا ہے-
    کہانی سنانے کا مقصد واقعات بتانا نہیں تھا بلکہ اپنی تعریف میں کچھ کہنا تھا- امید ہے کہ یہ پڑھ کر آپ بھی میری صفات کے قائل ہو جائیں گے اور میری تّعریف کریں گے- جاری ہے

  10. سائیں جی۔ہم تو عالم بالغیب کے صدقے آپکی صفات کے قائل ہی نہیں بلکہ کاہل بھی ہو چکے ہیں۔آپ نے یہ جو کچھ لکھا ہے مجھے یقین ہے دوسرے قائین کے لیئے لکھا ہے ورنہ میں تو ان معجزات سے بھی اگے آپ سے واقف ہوں۔ یاد ہے نا سویڈن کے سفر کے دوران ایک جگہ جہاں برف کا اتنا بڑا تودا تھا کہ گاڑی گزرنا محال تھا اور جعفر بھائی بھی پریشان تھے اور آپ نے راگ”چیں چیں منتی” گاڑی میں بیٹھے بیٹھے سنا کر باہر سڑک پر پڑی برف پگھلا دی تھی۔ ویسے یہ آپ نے کیوں کہا کہ آپکی بھی کچھ تعریف کریں ہم؟جناب تعریف اس خدا کی جس نے تمہیں بنایا۔۔۔۔

  11. آغا جی یہ مکمل راگ نہیں‌ تھا ابھی خیال ہی شروع کیا تھا- خیال کی گرمی کی شدت کی گواہی آپ نے خود ہی دے دی- جعفر بھائی اگر نہ روکتے تو برف کے ساتھ گاڑی نے بھی پگھل جانا تھا- اور اگر نوید بھائی ساتھ ہوتے تو سارے سویڈن کی برف پگھل جاتی- اسی لئے میں‌ اور نوید بٹ‌ صاحب جعفر بھائی کو ساتھ لے کر نہیں‌ جاتے-
    ویسے آغا جی قائل اور کاہل کا درمیانی سفر بھی لگتا ہے اسی راگ کی مرحون منت ہے- آغا جی ایک اطلاع بھی دینی ہے آپکو- وہ یہ کہ میں عنقریب ایک کہانی لکھنا شروع کرہا ہوں- اس کا عنوان ہوگا `سیاسی طوطا` اور طوطا میں نے پکڑ لیا ہے- میں‌ چاہتا ہوں کہ سیاسی مینیٰ کا ذکر بھی شامل ہو لیکن کوئی نظر نہیں آ رہی- اگر آپ کی نظر میں کوئی سیاسی مینا ہو تو مطلع فرمائیں‌-
    آخر میں‌ سب قارئین سے درخواست ہے کہ میری تعریف میں ضرور دو لفظ لکھا کریں بلا وجہ ہی صحیح-

  12. سائیں جی کی جے۔ لو جہ توتا کہانی شروع۔چھوڑو جی مینا کو۔اس بار مینا کے بغیر ہی طوطا یعنی توتا کہانی لکھیں۔جس مینا کو اس میں شامل ہونا ہو گا خود ہی ہو جائے گی۔آپ بسم اللہ کریں ہم سب آمین کہیں گے۔

  13. ماریہ علی صاحبہ کی ان بلاگوں میں کمی محسوس ہورہی ہے۔

  14. سلام و علیکم۔ بہت خوب ثنا جی۔ریشماں ہمارے ملک کا بہت بڑا سرمایہ ہیں۔آجکل وہ علیل ہیں۔ہم سب کو مل کر انکی صحتیابی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔انکا ایک نضمہ جو مجھے بہت پسند ہے۔چار دن نا دہ پیار او رب لمبی جدائ۔یہ songانڈین مووی جنت میں باکستانی سنگر نے گایا تھا۔اور بھی رریشماں کا کلام انڈین مووی کی زینت بنا ہے ریشماں جی کا یہ گانا میری ہمجو لیا ں کچھ یہاں کچھ وہاں مجھے بہت بسند ہے۔اور یہ یو ٹیوب میں بھی مجود ہے اللہ انکو صحت عطا آمین

  15. ASLAMO ALEKOM SANA ji nein reshman ke geet ka zekar keya aur baba nein us ka angreze malz bhee bta deya bohat kobsorat muzoo hee SUKREYA Tahir Malik GERMANY

  16. شکریہ آپ کا رانی جی اور طاہر ملک صاحب !! لکھتے رہئیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *