نئے سال کی آمد آمد ہے اور ہر جانب جشن کا ماحول ہے ۔ساری دنیا میں لوگ اس موقعے کو نئے انداز سے منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ اس تیاری میں اسراف بے جا کے بھی امکانات بے شمار ہیں ۔ اگر ان تمام اخراجات کوجوڑا جائے جسے اس خاص موقعے پر دنیا خرچ کرے گی تو ایک عام قیاس کے مطابق اس صرفے سے کسی ایک ملک کی غریبی دور کی جاسکتی ہے ۔ لیکن ایسا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ اس کا امکان ہے۔ کیونکہ ہر جانب ابھی سے ہی مبارک باد دینے کی ہوڑ لگی ہوئی ۔ مختلف اشتہارات اور رنگ و نور کی جو محفل سجائی جائے گی اسی سے دنیا کے غریب بچوٕں کے لیے کتابیں خریدی جاسکتی ہیں ۔ لیکن اس جشن کے ماحول میں کون انسانی مجبوریوں کو سمجھتا ہے اور کسے فکر ہے ۔کاش اس نئے سال میں کوئی عالمی سطح پر یہ تحریک چلا سکے کہ اس برس نہ سہی آنے والے برس میں کوئی ایسی جشن کی تقریب نہیں منائی جائے گی ، بلکہ اسی تقریب کے اخراجات کو ان لوگوں پر خرچ کیا جائے گا جو گذشتہ سال کسی ناگہانی آفت کے شکار ہوئے ہیں ۔کاش کوئی اٹھے ۔ ہم نے تو آواز بلند کر دی ہے لیکن مجھے معلوم ہے یہ آواز نقارے خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق ہے ۔
جہاں تک جشن کے ماحول کا تعلق ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ 25 دسمبرکو کرسمس منایا جاتا ہے ، اس وجہ سے بھی پوری دنیا میں جشن کا سماں رہتا ہے اور نئے سال کی آمد تک یہ ماحول خوشیوں میں ڈوبا رہاتاہے۔مجھے یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ ہندستان میں ہر جگہ لوگ کرسمس مناتے ہیں ۔ لیکن ان منانے والوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو یہ معلوم نہیں کہ کرسمس کیا ہے ۔ لیکن ہمارے میڈیا اور اقتصادی اداروں نے اسے ایسا رنگ دیدیا ہے جیسے یہ کوئی خاص فرقے کا تہورا نہیں ہے ۔ اسے دیکھ کر اکثر یہ محسوس کرتا ہوں کہ کاش ہمارے تہواروں کو بھی اسی طرح دیکھا جاتا اور کسی تعصب کے بغیر لوگ عید کی خوشیاں مناتے ۔ مگر جب ہمارے اپنے تہوار ہوتے ہیں تو لوگ اسی کسی اور نظریے سے دیکھتے ہیں۔ان باتوں کے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اس کرسمس کا مخالف ہوں لیکن اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح کرسمس کو ہم مناتے ہیں اسی انداز سے ہندستانی تہواروں کی بھی منایا جانا چاہیئے۔
جہاں تک نئے سال کے جشن کی بات ہے تو یہ بھی سمجھ سے باہر ہے کہ نئے سال کے جشن کا کیا مطلب ہے ۔ یہ تو محض ہم نے اپنے دنوں کو سمجھنے اور اس کے شمار کے لیے بنایا ہے ۔ اس دن کوئی خاص بات تو نہیں کہ اسے جشن میں تبدیل کر دیا جائے۔ میں نے اپنے طور پر بہت معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آخر نئے سال کے جشن کی ابتدا کیسے اور کب ہوئی ؟لیکن یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ابتدا اور جشن منانے کی روایت بہت قدیم ہے ۔ ظاہر ہے کسی قدیم روایت پر بات کرنی یا اس کے متعلق شکوک شبہات کا اظہار کرنا لوگوں کے عتاب کے شکار ہونے کے مترادف ہے۔مگر میں کسی کو ناراض کیے بغیر صرف غور وفکر کرنا چاہتاہوں کہ اگر اسے منایا جائے تو کوئی نیا انداز اختیار کیاجاسکتاہے؟ کیا اسے سال گذشتہ کے کے احوال و کوائف کو سامنے رکھ کر منا سکتے ہیں ۔ بہتر تو یہی ہوتا کہ اسے سال گذشتہ کے احتسا ب کے طور پر مناتے ۔ ممکن ہے ایسا کرنے سے کئی سال تک سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے کیونکہ جب ہم اپنے گزرے ہوئے ایام پر نظر ڈالتے ہیں تو سوائے فتنہ پردازی ، بد عنوانی ، لوٹ کھسوٹ کے کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسے میں جب ہم اپنے سود زیان پر نظر ڈالیں گے تو غم وغصہ کی ہی کیفیت حاوی ہوگی ۔ لیکن جب یہی روایت کا حصہ بن جائے گی تو ہم سود و زیان کے ذمہ داروں کی گرفت بھی کرنے کی سوچیں گے اس طرح رفتہ رفتہ وہ لوگ جب سر عام بے نقاب ہوں گے اور لوگوں کے عتاب کے شکار ہوں گے تو عین ممکن ہے نئے سال منانے کی روایت کچھ نفع کا سامان بن سکے گی۔ ورنہ ظلم واستحصال اور جبر استبداد کے اس ماحول میں بھلا ہم جشن کیوں کر اور کیسے منائیں؟

ڈاکٹر خواجہ اکرم صاحب آپ نے بجا ارشاد فرمایا کہ ” ہم نے تو آواز بلند کر دی ہے لیکن مجھے معلوم ہے یہ آواز نقارے خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق ہے ۔“ مگر اپنے اپنے حصے کا حق تو ادا کردیا ہے نا!
اگر نئے سال کی ابتدا ھم اپنے احتیساب سے کریں تو وہ دن دور نہیں جب ھم ایک متحد امت مسلمہ کی صورت میں اس کرہ عرض پر نمودار ہوں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب ایک سہانہ خواب ہے اس قوم میں جھوٹ ، فریب ، دھوکہ دھی ، جعلسازی ، بے اعتیباری ، بے اعتینائی ، بد اخلاقی، بد عنوانی، بے مروتی کوٹ کوٹ کر بھر گئی ہو وہ قوم بھلا کیا اپنا احتساب کر سکے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
امام جعفرصادق کی حدیث ہے کہ اگر کسی کا ایمان پرکھنا ہے تو اسکی عبادت مت دیکھو بلکہ اسکا لین دین دیکھو۔
اکرم خواجہ صاحب آپکا اعتراض میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ نئے سال کی خوشیوں پر جہاں لوگ اربوں ڈالرز خرچ کرتے ہیں وہاں انہی اربوں ڈالرز سے کڑوڑوں لوگوں کو روز گار ملتا ہے۔ انسانیت کا بڑا تقاضہ یہ بھی ہے کہ دوسروں کی خوشی اور غم میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوا جائے۔ لیکن مسلمانوں پر تو بدعت کا خوف سوار ہے۔ جب اُن کے بدعت کے فتوے نوے فیصد سے زیادہ مسلمانوں کو مشرک قرار دے چکے ہیں تو پھر وہ دوسروں کے غم خوشی اور دکھ میں کیونکر شریک ہونگے۔
میرا حضرت عیسیٰٰٰٰ کی ولادت پر بلاگ اس بلاگ سے مماثلت رکھتا ہے۔
اسلام علیکم محترم ساتھیو
میری اپنی ایک سوچ ہے کہ ہمارا مزہب اسلام ایک انتہائی سیدھا سادھا اور تا قیامت رہنے والا مزہب ہے ، جو ہمیں سادگی ایثار اور محبت کا درس دیتا ہے ۔
وہیں ایک درس اعتدال کا ہے کہ کوئی بھی جزبہ اعتدال سے اآگے نہ نکلے ۔ہماری مصیبت یہ ہے کہ ہم اآنکھیں بند کر کے ہر بات پر عمل کرنے کی سوچتے ہیں ،میں نے یہاں بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ یہاں کا ہر تہوار اسی طرح مناتے ہیں اپنے گھروں میں جس طرح یہاں کے لوگ ۔مثلاََ ایک دوسرے کی سالگرہ ،شادی کی سالگرہ ۔۔ ویلینٹائن ڈے ، ماؤں کا دن ۔باپوں کا دن ، نیا سال اور نہ جانے کیا کیا ، میں ان کے منانے کی یا مبارکباد دینے کی بالکل خلاف نہیں ہوں لیکن ہمیں اپنے رشتوں کے مضبوط ہونے اور ان کی پہچان پر ضرور مان رکھنا چاہئے کہ ہمیں ان دنوں کی ضرورت اس لئے نہیں پڑتی کہ ہم اپنے سولہ سال کے بچوں کو علیحدہ رہنے کی اجازت نہیں دیتے ، وہ اپنے ماں باپ سے علیحدہ نہیں ہوتے ان کا تعلق ماں باپ سے صرف مبارکباد یا کارڈ کا نہیں ہوتا ،بلکہ ان کا تعلق دل کا ہوتا ہے ۔وہ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے محبت کا جز بہ لے کر پیدا ہوتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں زیادہ تر ان رشتوں میں دکھاوے کی ضرورت نہیں ہوتی ،
بات مبارکباد اور چھوٹے موٹے تحفوں تک تو ٹھیک ہے مگر آپ شاید ہی یقین کریں کہ میں نے ایک شادی صرف اس وجہ سے ٹوٹتی دیکھی بلکہ شاید ٹوٹ بھی گئی تھی کہ شوہر شادی کی سالگرہ پر قیمتی تحفہ نہ دے سکا تھا ؟ بس میرا خیال اتنا ہے کہ جہاں تک حرج نہ ہو وہاں تک ان باتوں کو اپنایا جائے ،اور جہاں نقصان کا خدشہ ہو وہاں ایسی باتوں سے کنارا رکھا جائے تو بہتر ہے ،
ہماری نئی نسل کو بہت توجہ کی ضرورت ہے کہ وہ ہم ہی سے سیکھتی ہیں کہ اعتدال کیاہے اور حد کہاں شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے ۔
بس مجھ ناچیز کی دعا ہے کہ اللہ ہمیں ان ملکوں میں رہتے ہوئے اپنے ماحول اور اپنی شناخت پر قائم رکھے اور ہمارے لئے اآسانیاں پیدا کرے ۔آمین
اللہ ہمیں عقل و شعور اور سمجھ سے مالا مال کر دے ۔۔ کوئی بھی بات بارِخاطر ہو تو در گزر کی درخواست ہے ۔
عالم آرا
بہن عالم آراء
دنیا کے کسی بھی ملک میں قدرتی یا انسانی یا بوجہ جنگ کوئ آفت آتی ہے وہاں بلا تفریقِ مذہب عیسا ئیوں کی ریڈ کراس بے لوث مدد کیلئے پہنچ جاتی ہے۔ میں یہ نہیں کہونگا کہ اللہ تعلیٰٰ نے ہمیں یہ توفیق نہیں دی۔ لیکن ہماری تنگ نظری ہمیں روکتی ہے کہ ہم دوسروں کی خوشی اور غم میں شرکت کو بدعت کہکر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہم نے نہ تو کچھ قرآن سے سیکھا نہ Romans سے۔
ہم جسقدر وسیع ہوئے تنگ ہو گئے
اسلام علیکم ظفر جعفری بھائی
میں آپ کی بات سے اتفاق کرتی ہوں صرف اتنی سی بات ہے کہ ہمسایوں کا حق ۔مبارکباد دینا ،دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سب سے زیادہ اس کا درس اسلام ہی دیتا ہے ۔
ہمیں ان باتوں کو پورا ضرور کرنا چاہئے لیکن انہیں اپنی ذندگیوں میں اس طرح جاری و ساری نہ کر لینا چاہئے کہ وہ ہمیں پریشان کریں ۔
جہاں تک بدعت کا تعلق ہے تو بھائی اس بات پر بلکہ کسی بھی ایسی علمی بات پر جس پر مجھے عبور نہ ہو میں کبھی نہ قلم اُٹھاتی ہوں اور نہ ہی بات کرتی ہوں ۔کہ جتنا علم ہو بس اتنی بات کرنی چاہئے ۔
اس لئے میں اپنے علم میں اضافے کی طرف توجہ ضرور دیتی ہوں لیکن ہر علم پر عبور مجھے حاصل نہیں ہے ۔اس لئے آپ سب کے علم سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کرتی ہوں ،
جو لوگ دوسروں کی خوشی میں خوش نہیں ہوتے مجھے وہ کنجوس لگتے ہیں ،کہ مبارکباد دینا نہ بدعت ہے اور نہ ہی شاید کوئی بری بات ۔
مگر ایک بات ضرور چبھتی ہے کہ ہم اپنے اسلامی نئے سال کی مبارکباد اس گرمجوشی سے نہیں دے پا تے ۔ نہ معلوم کیوں ؟
آپ شاید ہی یقین کریں کہ جب میں اسلامی سال کی مبارکباد دیتی ہوں اپنے مسلمان بہن بھائیوں ہی کو تو وہ حیرت سے کہتے ہیں ارے ابھی تو پہلی جنوری بہت دور ہے ۔
اللہ ہم سب کو علم کی دولت سے مالا مال کرے ۔میری کوئی بھی بات بارِ خاطر ہو تو در گزر کی درخواست ہے ۔
عالم آرا
بہن عالم آراء
اسلامی نئے سال کی مبارکباد ہم اسلئے نہیں دیتے کہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے کہ جس میں ہمارے نبی کا سارا گھرانا قتل کردیا گیا اور نبی زادیوں کو برہنہ سر بازاروں میں ذلیل وخوار کیا گیا۔
جب کبھی غیرتِ انساں کا سوال آتا ہے
بنتِ زہرہ ترے پردہ کا خیال آتا ہے
یکم محرم کو خلیفہ دوئم حضرت عمر کو قتل کردیا۔ یزیدیوں کے علاوہ کس مسلمان کے پاس وہ دل گردہ ہے جو ایسے مہینہ میں کسی کو مبارکباد دے۔
ظفر بھائی آپ نے کتنی سادگی اور بردباری سے اتنی بڑی سچائی لکھی ہے کہ سبحان اللہ … مجھے لگا جیسے اللہ پاک نےہمیں خود کو درست کرنے کا عظیم موقع عطا کیا ہو .. جزاک اللہ ..
سلام علیکم
جعفر حسین صاحب ۔ ظفر جعفری صاحب، عالم آرا صاحبہ اور بہن ڈاکٹر نگہت صاحبہ آپ تمام احباب کا شکریہ کہ آپ نے اس بلاگ کو اپنی قیمتی تحریروں سے مزین کیا۔
میں نے صرف ایک بات دل کو جو کچوٹتی تھی اس کو آپ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ میں آج تک اس بات سے کنونس نہیں ہوسکا کہ ہمیں غیر ضروری رسومات کو کیوں منانا چاہیے۔ وہ بات جو بہن عالم آرا صاحبہ نے کہی ہے کہ نئی نسل ہم سے سے سیکھتی ہے ۔ ہمیں یقینا` اپنے تہذیبی اور ثقافتی رسومات کو فوقیت دینی چاہیے کیونکہ اس سے نئی نسل کی ذہن سازی ہوتی ہے مگر وہاں بھی اسراف بے جا سے بچنا چاہیے۔ عالم آرا صاحبہ کی بات سے متفق ہوں کہ دوسروں کا خیال رکھنا یہ ہماری رواداری کی روایت ہے ۔
جعفری صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ محرم کے حوالے سے سیاہ باب کا لفظ اچھا نہیں ہے ۔ اس کی جگہ کوئی لفظ استعمال کریں۔ کیونکہ محرم یزید اور منافقوں کی کرتوتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس مناسبت سے اسلامی نئے سال کی مبارک باد دی جائے تو شاید غلط نہیں کیونکہ اس مبارک باد کے ساتھ ہم شہدائے کربلا اور امام حسین کے پیغام کوبھی عام کرتے ہیں۔
محترمہ عالم آرا صاحبہ نے جناب ظفر جعفری صاحب کے جواب سے بخوبی سمجھ لیا ہوگا کہ اسلامی سال کا آغاز مسلمانوں کی تقریباچودہ سو سال پہلے کی تاریخ کے غمناک اور المناک واقعات ِ کربلا سے شروع ہوتا ہے۔
مگر یکم محرم کو اسکا سوگ نہیں منایا جاتا کہ اس دن “ خلیفہ دوئم حضرت عمر کو قتل کردیا۔ “
بلکہ ، جس “میں ہمارے نبی کا سارا گھرانا قتل ( شہید ) کردیا گیا اور نبی زادیوں کو برہنہ سر بازاروں میں ذلیل وخوار کیا گیا۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے مذاہب اور دوسری اقوام کے نئے سال کا آغاز اس طرح نہیں ہوا ہے۔اس لیے وہ اپنے نئے سالوں پر ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے ہیں اور پرانے سال کے اعمال کا احتساب اورآنے والے سال کے منصوبوں کے متعلق غور و خوض کرتےہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لیے کسی مسلمان کو اسلامی سال کے آغاز پر مبارکباد دیتےوقت اسلامی تاریخ کے آغاز کی حساسیت کو ذہن نشین رکھنا ہوگا ۔
مگر پرانے سال کے اعمال کا جائزہ اور احتساب اور آنےوالے سال کے منصوبو ں کے متعلق غور و خوض کرنا بھی ضروری ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کا مشہور شعر ہے کہ :
غافل تجھے گھڑیا ل یہ دیتا ہے منادی
گردوں نےگھڑی عمر کی اک اور گھٹادی
۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا سے دعا کرنا چاہیے کہ آنےوالا سال ہر ایک کو صحت اور تندرستی کا پیغام لائے ۔
اسلام علیکم قابلِ صد احترام ساتھیو
مجھے بے حد خوشی ہے کہ آپ نے میرے علم میں اضافہ کیا اور میری سوچ کو جلاء بخشی ۔میں مسلمان ہونے کے ناطے ماہَ محرم کی عظمت اور احترام اور اس قربانی سے پوری طرح واقف ہوں ۔اور الحمدُ للہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین سے اور ان کی تمام آل سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنا ایک سچا اور اچھا مسلمان کرتا ہے۔ بس یہاں ہی ہماری بات کا جواب مل جاتا ہے کہ ہمارے تو سارے مہینوں میں کہیں نہ کہیں ایسی تاریخیں ہیں جن میں ہمیں مبارکباد نہیں دینی چاہئے ؟ تو کیا ہم ان کی مبارکباد والی تاریخوں میں اپنے اسلامی سانحات کی تاریخ بھی دیکھیں گے کہ ہمیں اس دن مبارکباد دینی چاہئے یا نہیں ،؟
یہ بس میرا سوال ہے کسی بھی بحث کے لئے نہیں بلکہ اپنے کم علم میں اضافے کے لئے ۔
میری ناقص عقل کہتی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی تو اسلامی مہینہ ہوگا کیا یہ تاریخ پیدائش سلام کے حساب سے صحیح ہے ۔؟ کیونکہ ان کے کیلینڈر تو بعد میں بنے ۔اگر غلط ہے تو تصیح کریں تاکہ میں اپنی سوچ صحیح کر سکوں ۔کہ ہمارا کیلینڈر ان کے کیلینڈر سے ہر سال کچھ دن کے فرق سے اآتا ہے ۔کہ اللہ کے حکم کے مطابق اسلامی مہینے چاند کے حساب سے ہیں اور ہماری ساری تاریخیں بھی اسی کے حساب سے ہوتی ہیں ۔تو یہ صرف چھٹیوں کی مبارکباد ہو سکتی ہے حضرت عیسیٰ کی پیدا ئش کی نہیں ،
میرے تمام سوال صرف اپنے علم میں اضافہ کرنے کے لئے ہیں ،
یہ دُکھ ہوا کہ یہ کیسے سمجھ لیا گیا کہ مجھے محرم الحرام کے احترام کا علم نہیں ہے ۔دوسرے یہ مبارکباد بھی محرم ہی کے مہینے میں دی جارہی ہے ۔کہ شاید 25 دسمبر کو بھی محرم کے مہینے کی اآخری تاریخیں ہیں ۔
میری کوئی بھی بات بارِ خاطر ہو تو در گزر کیجئے گا ۔
جزاک اللہ خیر
عالم آرا
محترم ظفر جعفری بھائی اللہ آپ کو خوش رکھے
محترم جزبات سے شاید اسی لئے منع فرمایا گیا کہ بعض اوقات جزبات میں انسان دوسروں کا دل بڑی شدت سے دکھا دیتا ہے ۔لیکن محسوس نہیں کرتا ۔
عالمی اخبار ایک فیملی ہے جس میں ہر سوچ کے لوگ موجود ہیں اور سب اپنی بات کر سکتے ہیں ،مجھے آپ کے آخری جملے نے بہت دکھ دیا ۔
یکم محرم کو خلیفہ دوئم حضرت عمر کو قتل کردیا۔ یزیدیوں کے علاوہ کس مسلمان کے پاس وہ دل گردہ ہے جو ایسے مہینہ میں کسی کو مبارکباد دے۔
محترم بھائی یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کون کیا ہے مگر میرے بھائی آپ نے سب کو ایک لاٹھی سے ہانک دیا کہ جو کوئی اس مہینے میں مبارکباد دے گا وہ یزید ہے ، اور بہن نگہت نے بھی شاید صاد کر دیا بلا سوچے سمجھے ، میرے بھائی بعض دفعہ جزبات ہمیں بہت تکلیف دے جاتے ہیں مجھے بھی شدید دکھ ہوا کہ اسی ماہ میں آپ سب اس بلاگ پر بات کر رہے ہیں یا تحریریں لکھ رہے ہیں کہ ہم اس ماہ میں آنے والے کرسمس کی مبارکباد دیں ؟
میں دل میں کوئی بات نہیں رکھتی اس لئے اپنی بات کھل کر آپ کے سامنے رکھ دی ،میری بات سے تکلیف پہنچے تو معافی کی خواستگار ۔کیونکہ آپ نے مجھے مخاطب کر کے لکھا اس لئے جواب دے رہی ہوں ،میری بات بس یہاں ہی ختم ہے ،یہ ہماری اپنی اپنی سوچ ہے کہ ہم کسی کو کیا سمجھتے ہیں لیکن میں کسی مسلمان کو یزید نہیں سمجھتی یہ میری سوچ ہے ۔میں سب کو اچھا اور سچا مسلمان ہی سمجھتی ہوں چاہے وہ میری بات سے اتفاق کرے یا نہ کرے ۔
اللہ ہم سب کو اپنی رحمتوں میں شامل رکھے ۔اور آپ کو خوشیاں اور کامیابیاں عطا کرے ۔
عالم آرا
ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نے اپنے اس بلاگ میں جو بات ظفر جعفری صاحب کو کہی ہے وہ غور طلب ہے:
ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نےظفرحعفری صاحب سے مخاطب ہوکر یہ فرمایا :
“ جعفری صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ محرم کے حوالے سے سیاہ باب کا لفظ اچھا نہیں ہے ۔ اس کی جگہ کوئی لفظ استعمال کریں۔ کیونکہ محرم یزید اور منافقوں کی کرتوتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس مناسبت سے اسلامی نئے سال کی مبارک باد دی جائے تو شاید غلط نہیں کیونکہ اس مبارک باد کے ساتھ ہم شہدائے کربلا اور امام حسین کے پیغام کوبھی عام کرتے ہیں۔“
ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کے مندرجہ بالا نظریے اور تبصرے کا جواب شائد ظفر جعفری صاحب ہی دینگے۔
مگر میں ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کی توجہ واقعاتِ کربلا سےپہلے کے ہجری دور کی طرف دلانا چاہتا ہوں اور ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تاریخ اسلام کی تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے کیا وہ کہ سکتے ہیں کہ کیا آنحضرت صلعم نے یکم ہجری سے اپنی وفات تک اور اسکے بعد کے خلیفاوں نے یعنی 40 ہجری تک ۔ہر سال کی ابتدا یعنی پہلی محرم کو کبھی نئے سال کی خوشی میں جلسے جلوس کئے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیں؟
مجھے امید ہے کہ ناظم بلاگ ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب اپنی معلومات سے ہم سب کے علم میں اضافہ کرتے رہینگے۔
اگر میرے اس سوال کا جواب ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نہ دےسکیں تو ممکن ہے کہ کوئی باعلم مبصر میرے مندرجہ بالا سوال کاجواب عطا فرمادے ۔
میں صرف یہ کہونگا کہ اختلافِ رائے اچھی چیز ہے لیکن تفرقہ بری چیز ہے اور فتنہ اس سےبھی بری بات ہے۔ میں ہر اُس عمل سے گریز کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس سے کوئ فتنہ کھڑا ہو۔ اگر کچھ احباب محرم میں نئے سال کی خوشی منانا چاہتے ہیں تو ضرور منائیں لیکن میں انکی اس خوشی میں شریک نہیں ہو پاؤں گا۔ قوی امکان یہی ہے کہ اس قسم کا عمل فتنہ کو جنم دے گا۔
بہن عالم آراء
کیا ہماری روز مرہ کی زندگی اسلامی کیلنڈر کے گرد گھومتی ہے ؟ کیا ہم پاکستان کا یومِ پیدئش اسلامی کیلنڈر کے مطابق مناتے ہیں ؟
آج کا شمسی کیلنڈر ایک مسلمان عمر خیّام کی دین ہے۔
البتہ آپکے مندرجہء ذیل اعترض سے میں متفق ہوں۔
ٰٰٰ ٰٰٰ مجھے بھی شدید دکھ ہوا کہ اسی ماہ میں آپ سب اس بلاگ پر بات کر رہے ہیں یا تحریریں لکھ رہے ہیں کہ ہم اس ماہ میں آنے والے کرسمس کی مبارکباد دیں ؟ٰٰ ٰٰٰ
انتہائی احترام کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بدعتیں تو دور حاضر کی ہیں ۔ اس کو منایا جائے یا نہ منایاجائے یہ ہم نہیں کہہ سکتے ۔رہی بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو انھوں نے کبھی بھی اس طرح کی رسموں کو نہ خود کیا اور نہ اس کو فروغ دیا۔ لیکن ہم خود اپنے گھروں میں ااپنا، اپنے بچوں کا ، اپنے بزرگوں کا، اپنے والدین کا بھی برتھ ڈے مناتے ہیں ۔ لیکن حضور نے تو اسے نہیں منایا۔ اس لیے میںکچھ کہنے سے بہتر علامہ اقبال کا یہ مصرعہ لکھنا چاہتا ہوں :
یہ امت خرافات میںکھو گئی۔
ہم نے اس بلاگ کو اظہار رائے کا ذریعہ سمجھا ہے اس لیے اپنے دل کی بات رکھ دی۔
محرم کے مہنیے کی حرمت اور عظمت ہمارے دل میں ہے ۔ اور سب مسلمان کرتے ہیں بلا تفریق مسلک و ملت کرتے ہیں۔
کاش کہ ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب اقبال کاپورا شعر ہی لکھدیتے جس کا مصرعہ انہوں نے اپنے تبصرے میں تحریر کیا کہ:
“یہ امت خرافات میںکھو گئی۔“
صرف ایک مصرعہ لکھنے سے تشنگی باقی رہتی ہے اس لیے میں یہ درخواست کررہا ہوں ۔
لفظ “ خرافات “ میں نے اقبال کی نظم بعنوان “ ہندی مکتب “ میں دیکھا وہ یوں ہے کہ :
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منّور
محکوم کا اندیشہ گرفتارِ خرافات
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کے مندرجہ ذیل تحریر سے یہ معلوم ہوگیا کہ ا:
“ ۔رہی بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو انھوں نے کبھی بھی اس طرح کی رسموں کو نہ خود کیا اور نہ اس کو فروغ دیا۔ لیکن ہم خود اپنے گھروں میں ااپنا، اپنے بچوں کا ، اپنے بزرگوں کا، اپنے والدین کا بھی برتھ ڈے مناتے ہیں ۔ لیکن حضور نے تو اسے نہیں منایا۔ “
اگر حضور ( صلعم ) نے نئے سال کے آغاز کا جشن نہیں منائے حالانکہ انحضرت صلعم کے زمانے میں ہر ہجری سال یکم محرم ہی سے شروع ہوا ہوگا ۔ اسکےعلاوہ آنحضرت صلعم کی وفات کے بعد چاروں خلفائے راشدین کے زمانے ( یعنی 40 ہجری تک ) میں کسی نے بھی یکم محرم پر نئےسال کا جشن نہیں منایا ۔ حالانکہ اس دور میں مسلمان ایران اور عراق اور شام اور مصر اور مشرق وسطیٰ کے اہم اہم ممالک میں اسلام کو پھیلا چکے تھے۔ مگر کیا تاریخ اسلام یہ بتاتی ہے کہ اس دور میں کسی نے نئے سال کے آغاز کا جشن منایا ہو؟ کیا تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس دور میں کسی نے اسلام کے آخری رسول حضرت محمد صلعم کا یوم پیدائش بھی منا یا ہے ؟
میرے خیال میں اسلام کے آخری رسول حضرت محمد صلعم کی یوم پیدائش پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے دنیا کو صراطِ مستقیم پر چلنےکی ہدایت ملی۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہر مسلمان کو اس بات کا شکر ادا کرناچاہیے کہ اسے اللہ نے حضرت محمد صلعم کی امت میںپیدا کیا ۔
۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کا یہ جملہ غور طلب ہے :
“ انتہائی احترام کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بدعتیں تو دور حاضر کی ہیں ۔ اس کو منایا جائے یا نہ منایاجائے یہ ہم نہیں کہہ سکتے “
اگر ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب اپنے اس جملے میں “ بدعتیں “ کی بجائے “ رسومات “ کا لفظ لکھتے تو انکے کہنے کا مقصد پورا ہوجاتا ۔ اس لیے کہ “بدعت “ کے ایک معنی ( فیروزاللغات کے مطابق ) جھگڑا ، فساد شرارت بھی ہے !!!
ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب شائد جانتے ہی ہیں کہ ایسے ایسے حساس الفاظ کے استعمال سے حالات خراب ہوجایا کرتےہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
ویسے میں ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب کی بیشتر باتوں کی تائید کرتا ہوں ، اس لیے کہ :
“سرداد ، نہ داد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائےلا الہٰ است حسین ( ع) “
اور :
“قتل حسین ( ع) اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد “
۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم محترم ساتھیو
یہ بلاگ دیکھ کر مجھے لگا تھا کہ ہم اُن باتوں پر کچھ روشنی ڈال سکینگے یا کوئی آسان حل نکال سکینگے جس سے ہماری نئی نسل دو چار ہو رہی ہے ۔ہم جن ممالک میں رہتے ہین وہاں ہمارے بچے ان تمام باتوں سے مقابلہ کرتے ہیں ۔اگر ہم انہیں صحیح اور غلط بتائیں تو یہ زیادہ اچھی بات ہے ۔لیکن ہم بلاگ کا رُخ ایسی طرف موڑ دیتے ہیں کہ اکثر ایسے بلاگ بجائے فائدے کے طعنوں اور تشنعوں میں بدل جاتے ہیں ۔جو کچھ اچھی بات نہیں ۔کہ انکھیں موندھ لینے سے حقیقت بدلتی نہیں ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم سب ان باتوں سے گزر رہے ہیں ،کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں ؟
بات صرف مبارکباد دینے سے شروع ہوئی تھی جشن منانے سے نہیں، اور مبارکباد دینا کسی صورت بھی برائی نہیں لگتا ۔اور جو لوگ یہ جشن مناتے ہیں وہ تو شاید یہ بلاگ پڑھتے بھی نہیں ہونگے ۔
ہماری عمر کے لوگ جو اس وقت تمام تجربات سے گزر رہے ہیں یا گزر تے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہم کس حد تک ان باتوں کو روک سکتے ہیں ۔ہمیں ضرور ایسی باتیں بتانی چاہئیں جو ہماری نئی ماؤں اور نئے باپوں کو سمجھ آسکیں ۔
میری بات صرف اتنی سی ہے کہ ہم خود جو کچھ کرتے ہیں اس پر خود ہی اعتراض کرتے ہیں ۔
ان ہی تحریروں میں ہم نے عالمی ٹی وی کی مبارکباد دی کچھ ہی دن پہلے مہینہ یہ ہی تھا ۔ ان ہی صفحات پر ہم نے مبارکباد دی سب مسیحی برادری کو اور مسلما نوں کو ۔
پھر ہم ہی کہتے ہیں کہ مبارکباد نہیں دینی چاہئے ۔یہ سخت روئیہ ہے ۔کیونکہ میں نہیں سمجھتی کہ صرف مبارکباد دینا کچھ غلط بات ہے ۔ہاں جس طرح جشن منائے جاتے ہیں ،وہ کسی صورت بھی حوصلہ افزا بات نہیں ہے ۔ مبارکباد کا مقصد میرے نزدیک نیک خواہشات ہیں جو ہم دوسرے کے لئے اپنے دل میں رکھتے ہیں ۔
ہم جب ان بلاگ پر تبصرے پڑھتے ہیں تو ہمیں بہت ساری باتیں ایک دوسرے سے پڑھنے کو ملتی ہیں ،جس میں مثبت باتیں خود ہمارے لئے اور ہمارے بچوں کے لئے بھی فائدہ مند ہوتی ہیں ،کیونکہ اکثر باتیں ہم اپنے جوان بچوں سے بانٹتے بھی ہیں ۔کہ دیکھو یہ اچھا طریقہ ہے یا یہ اچھی بات ہے ۔
اس لئے میرا خیال ہے کہ ایسے بلاگز پر اگر تبصرے دورِ حاضر میں بچتے ہوئے گزرنے سے ہوں تو بہتوں کا بھلا بھی ہوگا ۔اور صدقئہ جاریہ بھی ۔
اگر کوئی بھی بات بارِ خاطر ہو تو در گزر کی درخواست ہے ۔
اللہ رب العزت ہماری زندگیوں میں آسانیاں اور حلاوت پیدا کرے ۔
عالم آرا
تمام احباب کا شکریہ کا آپ نے اس بلاگ کواپنی قمیتی آرا سے مزین کیا۔
نیا سال آبھی گیا اور اب مبارک بادیاں دینے کا قت بھی گزر گیا اس لیے اس بلاگ کو یہیں ختم کرتا ہوں۔
آپ تما م احباب کا شکریہ
خدا حافظ
یہ بلاگ نئے سال کے شروع ہو جانے کے بعد اگر چہ موضوعاتی طور پر ختم ہو چکا ہے لیکن چونکہ انشااللہ ایک اور نیا سال اگلے برس بھی آئے گا اور یہی بحث انہی نکات کے ساتھ یہی لوگ کریں گے اس لیئےمجھے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ بنیادی طور ہر بحث کی طرح مجھ سمیت ہر فرد کو اپنانکتہ نظر بیان کرنا چاہیئے دوسرے کو مجبور نہیں کہ وہ صرف آپکی ہی بات مانے۔
میں سمجھتا ہوں کہ نئے سال کے موقع پر اگر ایسی صورت حال ہو جو اس برس آئی ہے تو بہت آسان طریقہ اسکا یہ ہے کہ جو اس موقع پر باقاعدہ خوشی ومسرت کے ساتھ مبارکباد دینا چاہتا ہے وہ ضرور دے لیکن دوسرے کو مجبور نہ کرے کہ وہ بھی اسکی فکر کے مطابق عمل کرے۔ جو اس موقع پر اظہار مسرت نہیں کرنا چاہتا وہ اس موقع کو دعا کے لیئے استعمال کرے اور صحت و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی دعا کرے۔
میں اپنی زاتی مثال دے سکتا ہوں کہ مجھے جن درجنوں احباب نے ہیپی نیو ایر کے پیغامات بھیجے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو یہ نہیں کہا کہ آپ نے کیوں ارسال کیئے۔ بس جواب میں دعائیں ارسال کی ہیں۔
ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ دلوں کی کشادگی بھی اس پروردگار کی عطا ہے جو برائی سے بھری اس دنیا میں نیکی کی توفیق اور اسکا راستہ مہیا کرتا ہے
شکریہ ھمدانی صاحب قبلہ آپ نے بھی ا سکو زینت بخشی ۔ میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔
مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب غالب کی شاعری اور زندگی پر بھی کافی تحقیق کرچکے ہونگے ۔
اگر وہ غالب کی زندگی اور شاعری پر کچھ تبصرے کرنا چاہتے ہیں تو میرا آ ج کا بلاگ (جس میں “ مضراب“ کے غالب نمبر کی اشاعت کی خبر شامل ہے ) ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔
سال نو کی مبارکباد قبول ہو۔ اللہ آپ کے لیے نیا سال خوشیاں ، امن ، سلامتی لے کر آئے۔
اور ہمارے ملک کو اللہ پاک اپنوں اور غیروں کی نظر بد سے بچاے۔ آمین
میں سمجھتا ہوں کہ دوسروں کی خوشی اور غم میں میں شریک ہونا تقاضہء انسانیت ہے۔ میری دعا ہے اللہ مسلمانوں کا وقار بلند کرے۔
اہلِ دیروحرم سنو اک بات
خدمتِ خلق بھی عبادت ہے
کاش اہلِ ہوس سمجھ سکتے
مقصدِ زندگی محبت ہے
حفیظ جالندھری
اس بلاگ کے خالق بلاگ نویس ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب نے یکم جنوری 2011 کو یہ کہدیا کہ:
“نیا سال آبھی گیا اور اب مبارک بادیاں دینے کا قت بھی گزر گیا اس لیے اس بلاگ کو یہیں ختم کرتا ہوں۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ابھی تک اس میں تبصرے لکھےجارہے ہیں اس لیے میں موقع کو غنیمت جان کر محترمہ عالم آرا صاحبہ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر میری یا کسی اور مبصر کی کسی بات ( طعنوں اور تشنعوں ) سے انکی دلشکنی ہوئی ہو تو براہ کرام معاف کردیجئے ۔
عالم آرا صاحبہ جانتی ہی ہیں کہ انسان غلطی کا پتلا ہے ( خواہ وہ کتنے ہی حج کرے ) اور اس کو کسی دوسرے انسان کے سمجھنےمیں غلطی ہوجایا کرتی ہے ۔
اللہ ہم سب کے گناہ معاف کرے اور ایک دوسرے کی دعائیں لینے کی سعادت اور توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
اللہ یہ نیا سال ہر ایک کے لیے صحت اور عافیت کا پیغام لائے ۔ آمین
عالم آرا صاحبہ کی عظیم شخصیت سے دلی عقیدت کے ساتھ
طالبِ دعا
منظور قاضی
جرمنی سے
اسلام علیکم محترم صد احترام منظور قاضی بھائی
نہیں محترم بھائیو میں بہت کھلے اور صاف دل کی مالک ہوں آپ لوگوں کی طرح ، یعنی عالمی اخبار کے تمام پڑحنے اور لکھنے والوں کی طرح ۔
کبھی کبھی جب انسان سادگی سے کوئی بات کر رہا ہو اور اس کا مطلب غلط لے لیاجائے تو میں تحیح کرنا ضروری سمجھتی ہوں ۔کیونکہ میں کبھی کدورت نہیں رکھتی کوشش کرتی ہوں کہ میرا دل صاف رہے اور دوسروں کو بھی میری کسی بات سے کوئی تکلیف نہ ہو ۔
یہ وہ عام باتیں ہیں جن سے ہم یہاں گزرتے ہیں ۔ اگر ان مسائل پر قلم اُٹھے تو بہت اچھا ہے ۔کہ ہم ہی سنوارنے والے ہیں ،اور ہم ہی بگاڑنے والے ۔کیونکہ ہماری ایک نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے اور ہمیں اس کی فکر ضرور کرنی چاہئے ۔یہاں ہر قسم کی مبارکبادیں ملتی ہیں اور سمجھ نہیں آتا کہ ہم جواب میں کیا کریں ،
جہاں تک میری بات ہے تو بھائی میں تو کسی سے اپنا دل برا کر ہی نہیں سکتی ۔اس لئے کہ جو بات مجھے دکھی کرتی ہے میں کہہ دیتی ہوں اور دل آئینہ ہوجاتا ہے ،مجھے احساس ہوا کہ میرے محترم ظفر جعفری بھائی بہت معصوم ہیں ،اور جزبات میں جلد آجاتے ہیں ۔اس لئے بہنیں تو ہر دم اپنے بھائیوں کے لئے دعا گو رہتی ہیں ۔اور میری دلی دعائیں اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کے لئے انتہائی کھلے اور صاف دل کے ساتھ ہیں ،
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں تو قربت کا زریعہ بنتی ہیں ، بس انہیں بڑا نہیں ہونا چاہئے ۔
آپ کی بڑائی کی دل سے قدر دان ،۔
محترم بھائ میرا دل بس اتنا چاہتا ہے کہ ہم سخت باتوں سے گریز کریں ، چاہے وہ کسی کے لئے بھی ہوں ۔زبان ایک ایسی چیز ہے جو میٹھی ہو تو دل موہ لے اور کڑوی ہو تو دل رو دے ۔
عالمی اخبار سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور آپ سب کی تحریریں مجھے بڑی اپنائیت دیتی ہیں ۔جس کے لئے تہہ دل سے شکر گزار ۔
اور عالمی اخبار کی فیملی کے لئے نیک تمنائیں
عالم آرا