دل نہیں بھرا

خدا کا لاکھ لاکھ شُکر ہے مجھے اور ثریا کو حج کی سعادت نصیب ہوئ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ہمارا دل نہیں بھرا اور دوبارہ وہاں جانے کیلئے ہم دونوں بیتاب ہیں۔مکہ میں خدا کا جلال ہی جلال اورمدینہ میں اُسکے محبوب کا جمال ہی جمال ہے اسکے علاوہ مجھے کچھ اور نظر نہیں آیا۔ ایک بات جو میرے لئے بالخصوص قابل رشک تھی وہ یہ ہے کہ وہاں تقریباً ہر جماعت کے بعد کئ کئ خوش قسمت مومنین کی نمازِ جنازہ ہوتی تھی جو لاکھوں مومنین پڑھتے تھے۔ میرے منہ میں تو بہت پانی آتا تھا اور یہی دعا بے ساختہ دل سے نکلتی تھی کھ میری موت بھی ایسی ہی ہو

شُکرِ خدا کہ گُذری ہے عزت سے زندگی
اب ہے دعا کہ موت مری باوقار ہو

ہمارا گروپ پہلے مدینے گیا اور چار روز بعد مکہ ۔ مدینہ ایک ماڈرن حسین وجمیل شہر ہے اسکا سب سے بڑا حسن مسجدِنبوی ہے۔ یہ مسجد جسکا ایریا مکہ کی مسجدالحرام سے زیادہ ہے ماڈرن Architecture کا ایک حسین شاہکار ہے۔ اس مسجد کی ہر جماعت لاکھوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مسجد کے در میان متعدد چھوٹے چھوٹے صحن ہیں۔ ایک صحن کی دیوار پر چاروں طرف چودہ معصومین کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ اس صحن کا محلِ وغوع میں اسطرح بیان کرونگا کہ مسجد میں اگر آپ شاہ فہد دروازے سے داخل ہوںتو آپ صحن سے گذر کر مسجد میں داخل ہوکر آگے چلتے چلے جلئیں ۔ پہلا چھوٹا صحن آئیگا ۔ اُسکے بعد دوسرے چھوٹے صحن میں چودہ معصومین کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ ان چھوٹے صحنوں کی وجہ سے مسجد میں تازہ ہوا چلتی رہتی ہے۔ ہر صحن میں بہت ہی حسین وجمیل چھتری لگی ہوئ ہے جو موسم کے لحاظ سے کُھلتی اور بند ہوتی رہتی ہیں۔ ایسی ہی درجنوں چھتریاں مسجد کے چاروں طرف بیرونی صحن میں بھی لگی ہوئ ہیں جو دن میں کھل جاتی ہیں اور رات میں بند ہوجاتی ہیں۔ مدینہ میں ہم نے روضہء رسول، جنت البقیع، میدانِ اُحد ، میدانِ خندق، مسجدِ قبع، مسجدِ قبلتین، متعدد مساجد اور بنی ہاشم کے محلہ اویلی میں اُس جگہ کی جہاں شام سے واپسی پر لُٹی ہوئ برہنہ سر حضرت زینب اور آلِ رسول نے قیام کیا تھا اور امام بارگاہ کی زیارت کی۔ بنی ہاشم کا محلہ دیکھکر مجھے بڑی خوشی ہوئ اور شاہ عبداللہ کیلئے دل سے بیحد دعائیں نکلیں۔ یہ بنی ھاشم سیکڑوں سال سے بڑی پسماندہ حالت میں تھے اورآلِ سعود کے مظالم نے انہیں انسانی حقوق سے محروم کررکھا تھا۔ لیکن شاہ عبداللہ جنکی ایک زوجہ بنی ھاشم سے ہے انہوں نے شیعوں کی زرعی زمین کو کمرشیل زمین میں تبدیل کردیا ہے جسکی وجہ سے یہ امیر اور صاحبِ ثروت ہوگئے ہیں۔ شاہ عبداللہ نے حج سے پہلے ٹیوی پر آکر اس خواہش اور عزم کا اعلان کیا کہ وہ مسلمانوں کے سارے فرقوں کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں اور انکو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔ اسکے بعد ٹیوی پر سارے فرقوں کے علماء نے اس بات پر اتفاق کیا اور مل جل کر آگے بڑھنے کا عزم کیا۔

مینہ سے ہملوگ مکہ گئے اور حج کی سعادت حاصل کی۔ سعودی حکومت جو کچھ حاجیوں کیلئے کرتی ہے اُسکی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ میرے پاس انکے لئے دعائیں ہی دعائیں ہیں۔

میں نے جہاں آپ سب کے لئے دعائیں مانگیں وہیں آپ سب کیلئے عمرہ بھی کرلیا۔ ہمارے ساتھ جو مولانا تھے جب انہوں نے یہ بتایا کہ اپنے عمرہ کی نیت کے ساتھ نام بنام اگر عزیز واقارب و احباب کو بھی شامل کرلیا جائے تو اُن سب کی طرف سے بھی عمرہ ہوجائے گا تو میں نے 102 عزیز واقارب و احباب کی فہرست بناکر اُنہیں بھی عمرہ کی نیت میں شامل کرلیا۔ ان 102 ناموں میں اپنے بزرگوں کے بعد سرِ فہرست عالمی اخبار کے عملہ، لکھنے والوں، مبصرین اور پڑھنے والوں کے نام تھے۔ اس سے بہتر تحفہ میں آپ لوگوں کو نہیں دے سکتا۔

23 thoughts on “دل نہیں بھرا”

  1. محترم ظفر جعفری صاحب،
    حج کی سہ بارہ مبارک قبول فرمائیں ۔ ” مکہ میں خدا کا جلال ہی جلال اورمدینہ میں اُسکے محبوب کا جمال ہی جمال “ دیکھنے کے بعد ہر عاشق کے دل میں وبال ہی وبال ہی اٹھتا رہتا ہے کہ اسے کب یہ گھڑی پھر سے نصیب ہو ۔ اللہ آپ کی یہ مراد پوری کرے ، آمین۔

    آپ کے موجودہ بلاگ کو پڑھنے کے بعد مجھے بے اختیار آپ کے ” عالمی اخبار کے قارئین اور لکھنے والوں کی حج Reunion “ والے بلاگ میں لکھا اپنا تبصرہ پھر سے یاد آگیا جس کا کچھ حصہ دوبارہ یہاں چسپاں کر رہا ہوں :

    ” ۔۔۔۔۔۔ مولوی صاحب خانہء کعبہ کی تعمیر ، اس کی عظمت اور حج کے احکامات کے بارے میں بیان فرما رہے تھے ۔ فرمایا ، پورے کُرہء عرض کا مرکز زمین کا وہ مقدس ٹکڑا ہے جس پہ خدائے بزرگ و برتر کا یہ گھر واقع ہے ، جہاں پوری دنیا کے مسلمان آکر اس کا طواف کرتے ہیں ۔ اس گھر کی تعمیر ابراہیم خلیل اللہ کے ہاتھوں مکمل ہوئی ۔ تعمیر سے فارغ ہوکر آپ نے اس کا طواف کیا اور پھر اپنے رب سے اجرت طلب کی ۔ رب کریم نے ابراہیم علیہ السلام کو یہ گھر تعمیر کرنے اور اس کا طواف کرنے پہ مغفرت کا مژدہ سنایا ۔ ابراہیم (ع) نے اپنے رب سے زیادہ کا تقاضا کیا ۔ رحیم کی رحمت جوش میں آئی ، خوشخبری سنائی ، میرے خلیل آپ کی امت کا جو شخص میرے اس گھر کا طواف کرے گا میں اس کی بخشش کا وعدہ کرتا ہوں ۔ خلیل اللہ پھر بضد ہوئے اور مزید کا تقاضا کر بیٹھے ۔ رحمٰن کی رحمت نے پھر جوش مارا ، فرمایا میرے خلیل جاؤ اور اُمت کو یہ خوشخبری سنا دو کہ قیامت تک میرے گھر کا طواف کرنے والا جس کسی کے لئے بھی دعا کرے گا میں ان سب کی بخشش کا وعدہ کرتا ہوں ۔

    تو محترم جعفری صاحب ،
    آپ اپنی تیار کردہ لسٹ بے شک گھر چھوڑ جائیں اور جب وہاں پہنچیں تو بس اسی پیغام اور خدائے ذوالجلال کے اسی وعدے کو یاد رکھیں اور پوری دنیا کے بے بس و مجبور مسلمانوں ، ظالم ، سفاک اور کرپٹ حکمرانوں کے ستائے مسلمانوں ، ایک وقت کی باعزت روٹی اور پانی کے چند گھونٹوں کے لئے خوار مسلمانوں ، ہنود ، یہود و نصاریٰ کی سازشوں کے شکار مسلمانوں ، دنیوی طمع کے بیمار مسلمانوں اور دلوں میں حسرتیں ، لبوں پہ دعائیں ، آنکھوں میں انتظار ، جبینوں پہ سجود اور وہاں حاضری کو بے قرار مسلمانؤں کے لئے دعا فرمائیں اور وہ بھی ہاتھ اٹھا کر نہیں بلکہ اپنا احرام پھیلا کر ، دل ہی دل میں نہیں بلکہ آہ و بکا اور گریہ زاری سے ۔ اللہ رب العزت
    آپ کی تمام دعائیں منظور فرمائے ، آمین ۔“

    اور اب حج سے واپسی کے بعد آپ کے موجودہ بلاگ میں جب یہ پڑھا :

    ” میں نے جہاں آپ سب کے لئے دعائیں مانگیں وہیں آپ سب کیلئے عمرہ بھی کرلیا۔ ہمارے ساتھ جو مولانا تھے جب انہوں نے یہ بتایا کہ اپنے عمرہ کی نیت کے ساتھ نام بنام اگر عزیز واقارب و احباب کو بھی شامل کرلیا جائے تو اُن سب کی طرف سے بھی عمرہ ہوجائے گا تو میں نے 102 عزیز واقارب و احباب کی فہرست بناکر اُنہیں بھی عمرہ کی نیت میں شامل کرلیا۔ ان 102 ناموں میں اپنے بزرگوں کے بعد سرِ فہرست عالمی اخبار کے عملہ، لکھنے والوں، مبصرین اور پڑھنے والوں کے نام تھے۔ اس سے بہتر تحفہ میں آپ لوگوں کو نہیں دے سکتا ‘

    تو یقین جانیں ظفر صاحب ، یہ پڑھتے ہی آنسوؤں کی بےاختیار برسات شروع ہوگئی اور دل سے جہاں آپ کے درجات میں بلندی کے لئے دعائیں نکلیں وہاں رب ذوالجلال کا وہی وعدہ یاد کرتے ہوئے جو رب نے اپنے خلیل سے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت کیا تھا ، اس کی ذات کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی قست پہ رشک آیا کہ اسی وعدے کی روشنی میں اس ذاتِ اقدس نے آپ کو ہم سب کے لئے دعاؤں کے علاوہ عمرے کے لئے بھی چنا ۔

    اللہ تعالیٰ آپ کے حج کو قبولیت بخشے ، آپ کی دلی مرادوں کو پورا کرے اور ہم سب کےلئے کی جانے والی دعاؤں اور عمرے کو قبول فرمائے اور آپ کو اس بہترین صلہ دے ، آمین۔

  2. ظفر جعفری بھئی
    اسلام علیکم
    پہلے تو آپ کو مبارکباد کہ آپ کو خانہِ خدا ، روضہِ رسول(ص) اور جنت البقیع کی زیارات کا شرف حاصل ہوا۔
    پھر آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ساتھ عالمی اخبار کے تمام افراد کو نہ صرف دعاؤں میں یاد رکھا بلکہ ان کی طرف سے عمرہ کی ادایئگی بھی کر لی ، یقینآ اس سے عمدہ تحفہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ پروردگار آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو طولِ عمر عطا کرے صحت و تندرستگی کے ساتھ۔
    ظفر بھائی ایک بات آپنے انوکھی بتائی جو اس سے پہلے کسی سے نہ سنی ” پہلا چھوٹا صحن آئیگا ۔ اُسکے بعد دوسرے چھوٹے صحن میں چودہ معصومین کے نام لکھے ہوئے ہیں“
    دوسری بات یہ کہ امام بارگاہ کہاں بنی ہوئی ہے کس حال میں ہے اس کی تفصیل بتائں بڑی مہربانی ہوگی ( ھم نے سنا ہے کہ پورے سعودی عرب میں کہیں کوئی امام بارگاہ نہیں ہے)
    —————————————————–

    آپ نے فرمایا کہ ” ایک بات جو میرے لئے بالخصوص قابل رشک تھی وہ یہ ہے کہ وہاں تقریباً ہر جماعت کے بعد کئ کئ خوش قسمت مومنین کی نمازِ جنازہ ہوتی تھی جو لاکھوں مومنین پڑھتے تھے۔ میرے منہ میں تو بہت پانی آتا تھا اور یہی دعا بے ساختہ دل سے نکلتی تھی کھ میری موت بھی ایسی ہی ہو“
    ھم جب مشہد مقدس ”امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت پر گئے تھے تو بالکل ایسا ہی منظر تھا ھمارے سامنے اور ھمارے دل سے بھی یہی دعا نکلی تھی کہ اے ربِ جہاں ھم کو بھی ایسی متبرک موت عطا کر۔

    تبصرہ کی طوالت کے پیشِ نظر ابھی اسی پر اختصار کرتے ہیں ایک بار پھر بہت شکریہ یاد رکھنے کا۔
    والسلام

    طالبِ دعا
    جعفر حسین، کراچی

  3. جناب جعفری صاحب آپکو اور آپکی بیگم صاحبہ کو بہت حج مبارک میری دعا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی آپ ددنوں کو حج مبرور سے نوازے۔ میرے لیءے دعا کرنے پر بہت بہت شکریہ۔ میں آجکل ابو ظبی میں ہوں انشا اللہ واپس پہونچ کر فون پربات کرونگا

  4. برادرِ محترم جناب ظفر جعفری صاحب !
    آپ ایسی عظیم سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور پھر بھی دل نہیں بھرا، بے شک ایک مؤمن کا دل ایسے مقدس مقامات کی زیارت سے بھلا، بھر ہی کب سکتا ہے
    اسی طرح آپ کے اس مختصر سفرنامہ نے بھی ہماری تشنگی کو مٹانے کی بجائے اور بھڑکا دیا ہے، میں خیالوں ہی میں مسجدِ نبوی اور بقیع کی سیر کرنے لگا، محلہ بنی ہاشم کی امام بارگاہ اور چہاردہ معصومین علیہم السلام کے اسمائے گرامی والے صحن میں پہنچ گیا۔

    درخواست ہے کہ ہماری اس تصوراتی سیر کا سلسلہ آگے بڑھائیے، بے شک “عالی اخبار” والوں کی طرف سے عمرہ کی ادائیگی سے بڑھ کر اور تحفہ بھلا ہو بھی کیا سکتا ہے
    لیکن انسان تو شاید فطرتا ً حریص ہے، ہم اتنا عظیم تحفہ بصد شکریہ وصول کرنے کے بعد بھی مزید تحائف (مکہ و مدینی کی سیر) کی فرمائش لیے آپ کے سامنے کھڑے ہیں

    آپ کے لیے تہہ دل سے دُعائیں ہیں، خصوصا ً آپ کے حج و دیگر اعمال کی قبولیت اور آپ کی صحت و سلامتی کے لیے اللہ کریم سے بحقِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام دُعا گو ہیں۔

  5. جناب ظفر جعفری صاحب اسلام علیکم ۔ سب سے پہلے تو حج کی سعادت حاصل کرنے پر آپ کو اور قا بل صد احترام ثریا بھابھی کو دل کی گہرايئوں سے بہت بہت بہت مبارک باد پیش کرتے ھیں اور دعا ھے کہ ھر مسلمان کو مومن و مومنات کو جو وھاں جانے کی تڑپ رکھتے ھیں پروردگار غیب سے وھاں جانے کا انتظام کردے۔ واقعی ایسے مقدس مقامات سے واپس آنے کا کس کا دل چاھتا ھے

    میرے عزیز بھائ وھاں جاکر دل کی جوکیفیت ھوتی ھے اور آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں کا تو مقدر ھی تبدیل ھوجاتا ھے ۔اللہ پاک آپکو صحت وعافیت کے ساتھہ دوبارہ مرکز جمال و جلال کی زیارت اور پھر وھاں بار بار جانے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثم آمین

    آپ کا بہت شکریہ کہ آپنے ھم سب کےلیے دعا بھی اور عمرہ بھی ۔اللہ پاک آپ کو اس نیکی کا کئی گنا اجر عطا فرماۓ آمین

    عزیز بھائ آپ ضرور تفصیل سے مقام مقدسہ کی زیارت کا مفصل احوال تحریر کیجیے گا ۔

    کویت سے سعودی عرب کی سرحد ملتی ھے اور یہا ں سے عمرہ اور حج پر جانا بہت آسان ھوتا ھے ھر ویک اینڈ پر عمرے کےلیے انتہائ مناسب معاوضے پر آرام دہ لگـژری بسیں جاتی ھیں اور لوگ اپنی گاڑیوں میں بھی عمرے کے لیے جاتے ھیں

    الحمداللہ یہ سعادت میرے رب نے مجھے بھی عطا کی ۔میں نے 1999دسمبر کی 27تاریخ کو گذشتہ صدی کا آخری عمرہ کیا اور پھر نئ صدی 2000 کا پہلا حج کیا تھا یہ سب میری والدہ ماجدہ کی دعايئں کی بدولت ھوا تھا ماشا اللہ آجکل وہ قافلے کے ساتھہ زیارات مفدسہ کے لیے گيئں ھويئں ھیں عاشور کے دن عراق میں تھیں ، اللہ ھم سب کو ان اراضی مقدسہ کی زیارت باربار نصیب کرے آمین

    جب میں پہلی بار عمرے کے لیے گی تھی کویت کی پنجتن پاک کمیٹی کی جانب سے وہ قافلہ عمرے کے لیے جارھا تھا اور میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ اس قافلہ شوق میں شامل سارے مسافروں کی خدمت کرونگی خاص کر دو تین بہت بیمار اور ضعیف خواتین کی دیکھہ بھال اور انکو عمرہ کرانے کی ذمہ داری بھی میں نے اپنے فرائض میں شامل کرلی تھیں ۔ اتنے برسوں کے بعد بھی وہ خواتین مجھے آج بھی دعايئں دیتی ھیں اور کہتی ھیں کہ جس طرح میں نے ان کا خیال رکھا اور انکی خدمت کی انکی اپنی اولاد بھی نیہں کرسکتی تھی ۔ سفر میں بہت سارے لوگوں کو پہچانے کا موقع ملتا ھے ۔ اور وہ تاثر ھمیشہ قائم رھتاھے ھم سب سے پہلے مدینہ گۓ اور مسجد نبوی سے بہت قریب ھماری رھائش گاہ تھی ھم نے تمام اھم مقامات کی زیارت کی تھی اور جب ھم اس مقام پر گیے تھے جہاں بیمار بی بی صغراء اپنی جدہ بی بی ام البنین کے ھمراہ اپنے کنبے کی واپسی کا انتظارکیا کرتی تھیں اور جس مقام پر بیمار امام سید الساجدین نے پہلی مرتبہ مجلس برپا کی تھی اس جگہ پر سیکنڑوں سال بعد جب ھم نے وھاں مجلس کی تھی تو سب کا عجب حال تھا

    اس مقام پر جگہ جگہ غریب الوطن مسافروں کے آنسووں سے تحریر داستان الم پڑھ کر تاقیامت زائریں ان مصائب پر روتے رھینگے اور کتنی تکیلف دہ بات تھی کہ اس کے بعد جب ھم مدینہ گۓ تو ان سارے مقامات کے گرد آھنی تار لگا دیۓ گۓ تھے ۔ سارے مقامات پر زیادہ دیر رکنے بھی نیہں دیتے۔ مدینہ میں فرحت کے ساتھہ دل اس بات پر جھوم جاتاھے کہ روضہ رسول کی زیارت کا شرف ملتا ھے ۔ اور مکہ تو بیت العتیق کی وجہ ژمین کا مرکز ھے ۔ اور ژمیں پر وہ ایک ایسی جگہ ھے جہاں عرش وفرش کے مکیں رات دن عبادت میں مصروف رھتے ھیں

    اللہ پاک آپکی عبادات کو قبول فرماۓ آمین
    ایک بار پھر بہت مبارک قبول کریں

  6. ظفر بھائی آپ کو اور آپ کی اہلیہ کو حج کی بہت بہت مبارک ہو اور آپ نے ہماری طرف سے عمرہ بھی ادا کیا ۔۔ اس کا شکریہ احاطہ تحریر نہیں ۔۔ اس کا اجر میرا پاک رب ہی دے سکتا ہے سو آپ کے اس اخلاص کا معماملہ میں نے اللہ پر رکھا جو ایک نیکی کے بدلے ستر ہزار نیکیوں کا اجر دینے والا ہے ۔۔۔ یقیننا بھائی اس سے بہتر تحفہ نہ دیکھا نہ سنا ۔۔ سلامت رہیں ۔۔ خوشیوں میں رہیں ۔۔۔ خاتمہ بلخیر اور ایمان کی سلامتی پر ہو ۔۔۔ جنت کی بہاروں میں رہیں ۔۔ آمین

    آپ سب کی باتوں کے سحر میں ہوں اور یوں لگ رہا ہے جیسے میں وہی کہیں ہوں ۔۔ انہی پاک فرشوں پر چلتے ہوئے خود کو دیکھ رہی ہوں تو کہیں روضہ رسول کے سامنے دامن کو پھیلائے ہوئے ۔۔ اللہ سے التجا ہے کہ وہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو حج مبارک کی اجازت اور سعادت عطا فرمائے ۔۔۔ دلی تمنا ہے کہ میں اس در پاک کو اپی آنکھوں سے چوموں اور رو رو کر اپنے گناہوں کو بخشوالوں ۔۔ انشاللہ ۔۔

    ظفر بھائی ہمیں اور بھی بتائیں نا اپنے سفر حج کے بارے میں ۔۔ سچ شوق اور بڑھ گیا ہے ۔۔ اللہ کریم یہ سعادتیں ہم سب کو عطا فرمائے اور بار بار عطا فرمائے ۔۔ آمین

  7. برادر محترم ظفر جعفری. حج کی سعادت حاصل کرنے پر آپکو اور اہلیہ محترمہ کو اس خاکسار کی طرف سے دلی مبارک. آپ نے ہم سب کے نام پر بھی عمراہ ادا کیا اس کی جزا فقط اللہ رب العزت ہی عطا کر سکتا لیکن شکریہ آپکا ادا کرنا ہم سب پر واجب ہے. مجھے دلی افسوس ہے کہ جرمنی روانگی کی وجہ سے لندن میں آپ سے ملاقات سے محروم رہا. لیکن آپکی نوازش کہ اپ نے فون پر رابطے کی زحمت فرمائی. سلامت باشد

  8. السلام علیکم
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حج کا بلاوا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے.کچھ برس قبل میرے شوہر کی تائی جان نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ اگر خاندان میں کوئی حج پر جا رہا ہو تو وہ بھی اس فرض کی ادائیگی کرنا چاہیں گی. میرے شوہر نے آمادگی ظاہر کی اور ہم حج کے سفر پر روانہ ہو گئے. ہمارے ساتھ تائی جان کے علاوہ ہماری دو پھوپھیاں اور ایک بیمار چچا تھے. ہمارے ایک اور چچا اپنی بیگم اور دو بیٹیوں کے ہمراہ امریکہ سے اور ایک پھوپھی کینیڈا سے حج کے لئے آئیں . اس طرح ہم گیارہ افراد نے اکھٹے حج کی ادائیگی کی. یہ سفر مجھے ہمیشہ یاد رہے گا. ہمارے چچا کا حج کے بعد انتقال ہو گیا مگر اُس وقت ہم جدہ میں میں اپنے ایک عزیز کے ہاں تھے اس طرح سعودی عرب میں ہونے کے باوجود اُنکی نمازَ ِ جنازہ حرم میں نہ ادا ہوسکی. حج کے دوران حجرِ اسود تک رسائی نہ مل سکی تھی جسکا سخت افسوس تھا. طوافِ زیارت کے دوران حرم کی چھت سے حجرِ اسود کا نظارہ کیا تو کچھ سکون ملا.
    حج پر کچھ تشنگی سی رہ گئی تھی اس لئے دو تین برس بعد عمرہ کی ادائیگی کے لئے گئے تو حجرِ اسود کو بوسہ دہنے کی سعادت نصیب ہوئی. ایک بات پرسخت کوفت ہوتی تھی کہ حرم میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک رو ا رکھا جاتا تھا. ملتزم کو ہاتھ لگاتے ہوئے ایک باریش عرب بزرگ نے میری جانب قہر آلود نگاہوں سے دیکھا اور مجھے پیچھے ہٹ جانے کے لئے کہا. مجھے سخت رنج ہوا. حجرِ اسود کے ساتھ کھڑے سپاہی سے التجا کی کہ میری مدد کرے مگر اُس نے ٹکا سا جواب دیا کہ احسن سُنت یہ ہے کہ تم دور ہی سے استصلام کرو. ہم سمجھتے تھے کہ حج خواتین پر بھی فرض ہے اس لئے حج کے دوران ہر قسم کی سعادت حاصل کرنے پر بھی ہمارا حق ہے مگر وہاں کی انتظامیہ کا خیال اس کے بر عکس ہے.
    رسولَ پاک کے روضہء مبارک پر بھی یہی حال تھا. عورتوںکو صبح سات بجے سے دس گیارہ بجے تک جنت ابقیع کی جانب جالیوں کے باہر سلام پڑھنے کی اجازت تھی. چند فٹ جگہ پر ہزاروں خواتین کا اژدہام ہوتا تھا. کچھ یکسوئی ملے تو انسان عرضِ حال کرے . تسلی سے دو نفل ادا کرنے بھی مشکل تھے. البتہ صحن کافی کشادہ اور وسیع تھے . صفائی کا انتظام قابلِ رشک تھا. اشیائے خوردو نوش کی فراوانی تھی. ہمارے معلم نے ہمیں حج کے پانچ دنوں میں ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کی . میدانِ عرافات میں ہمیں اپنے لئے خیمہ بھی خود ہی نصب کرنا پڑا . اس لئے مزدلفہ پہنچ کر کنکریاں چنتے ہوئے جی چاہا کہ کچھ کنکریاں معلم کے لئے بھی چُن لی جائیں.
    بہت سی مشکلات کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میری مُراد بن مانگے ہی پوری ہو گئی تھی اس لئے شاید جذبے کا وہ عالم نہ تھا. ہر روز اپنامعصوم بیٹا یاد آتا تھا جو پاکستان میں میں اپنی دادی صاحبہ کے پاس تھا. گھر کی یاد بھی آتی تھی اور گھر کی بنی ہوئی چپاتی کی بھی.

    نگہت جی آپ کے لئے دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جلد یہ سعادت نصیب کرے
    والسلام
    زرقا

  9. اللہ الحاج ظفر جعفری صاحب اور انکی اہلیہ کا حج اور ان کے عمرے قبول فرمائے۔
    انکا شکریہ کہ انہوں نے اپنی دعاوں میں ہم جیسے “ عالمی اخبار کے “لکھنے والوں، مبصرین اور پڑھنے والوں “ کو یاد رکھا اور انکے نام پر عمرہ بھی ادا کیا۔ اللہ انکی عبادتیں اوردعائیں قبول فرمائے ِ آمین
    جزاک اللہ :
    اللہ ظفر جعفری صاحب کو اس نیک کام کا نیک اجر عطا کرے : آمین

    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی ( برسوں پہلے) حج اور عمروں کی سعادت اور مقامات مقدسہ کی زیارتیں نصیب ہوئی ہیں ۔ ۔ مگر اُ ن دنوں وہ تمام سہولتیں موجود نہیں تھیں جو اب ہیں ۔ (میرے ذہن میں وہ تمام باتیں ابھی تک تازہ ہیں ۔)
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  10. محترم ظفر جعفری بھائی اور ان کی اہلیہ کو حج کی سعادت پر بہت بہت مبارکباد ۔
    عالم آرا

  11. جزا ک اللہ ،جعفری صاحب کہ آپ مع مسز کے اس نیک سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور ساتھ ہی عالمی اخبار کے لکھار یوں کی جانب سے بھی عمرہ کیا ،بلاشبہ پروردگا رعالم نے صاف صاف کہا ہے کہ ہم زرّہ برابر نیکی کی بھی جزا دیں گے تو پھر اتنی بڑی نیکی ،سبحا ن اللہ ،توفیقات بھی وہ انہی کو دیتا ھے جو اس کے اہل ہوتے ہیں ،میر ی دلی دعا ئیں اور نیک تمنّائیں آ پ اور آپ کےتمام اہل خانہ کے نام
    زائرہ بجّو

  12. محترم جناب ظفر جعفری صاحب،
    اللہ تعالی آپ کے اور آپ کی اہلیہ کے ارکان حج کو قبول کرے اور آپ دونوں کو ہم دونوں(میری اور میری بیگم) کی طرف سے بہت بہت مبارک ہو. آپ نے ہم سب کی جانب سے عمرہ ادا کیا بھلا اس سے خوبصورت تحفہ ہم سب کے لیے اور کیا ہوسکتا ہے، بہت سارے شکریوں کا تحفہ ہماری طرف سے بھی قبول کریں.

  13. محترم جناب ظفر جعفری صاحب

    اللہ تعالی
    آپ کے
    اور
    آپ کی
    اہلیہ
    کے
    ارکان حج
    کو قبول کرے
    اور
    آپ دونوں
    کو
    بہت بہت
    مبارک ہو
    میر ی
    دلی دعا ئیں
    اور
    نیک تمنّائیں
    آ پ اور آپ کےتمام اہل خانہ کے نام

  14. زرقا بہن ! آپ نے اپنے حج کی یہ مختصر سی روداد بہت خوبصورتی سے لکھی ہے، ماشاء اللہ

    ایک بات پرسخت کوفت ہوتی تھی کہ حرم میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک رو ا رکھا جاتا تھا.
    ملتزم کو ہاتھ لگاتے ہوئے ایک باریش عرب بزرگ نے میری جانب قہر آلود نگاہوں سے دیکھا.
    عرافات میں ہمیں اپنے لئے خیمہ بھی خود ہی نصب کرنا پڑا.
    کنکریاں چنتے ہوئے جی چاہا کہ کچھ کنکریاں معلم کے لئے بھی چُن لی جائیں.

    یہ چند جملے، پورا سفر نامہ ہیں،
    ہم لوگ عقیدت کے جوش میں وہاں کے ایک ایک لمحے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، اس سفر کی ہر زحمت کو رحمت سمجھتے ہیں، اور بے شک ایسا ہے بھی- لیکن جو لوگ وہاں کے رہنے والے ہیں ان کے لیے یہ رحمتیں یہ اعزاز روزانہ کا معمول ہیں، شاید اسی لیے وہ اس کی اتنی قدر نہیں کر پاتے جتنی دور سے گئے ہوئے، ساری زندگی کے ترستے ہوئے لوگ، جنہوں نے اپنی خون پسینے کی کمائی اس سفر کے لیے خرچ کی ہوتی ہے.

    ایک حج کا واقعہ میں بھی عرض کرنا چاہوں گا

  15. 1974 میں، میں نے کالج میں داخلہ لیا، کالج میں پہلے دن ہی سے ایک شخص کو دیکھا جسے سب بابا بِلُو (ل – تشدید اور پیش کے ساتھ) کہہ کر پکارتے تھے
    بہت دُکھ کی بات یہ تھی کہ بابا بِلُو کا دماغی توازن کچھ درست نہ تھا، جس وجہ سے لڑکے اسے چھیڑتے رہتے تھے، بابا بِلُو کالج میں بطور چوکیدار رہتا تھا اور کالج کے احاطہ کا چکر لگاتا رہتا
    اس کے ہر وقت کچھ بڑبڑانے یا لڑکوں کے چھیڑنے پر غصہ میں ان کو ملامت کرنے کے سوا کسی بھی طرح اس کی دماغی کیفیت آشکار نہ ہوتی تھی، کئی لوگوں کو ایک عمر رسیدہ شخص کے ساتھ یہ اخلاق اور آداب سے گری ہوئی حرکتیں بہت گراں گزرتیں
    ایک دن میں نے بابا کے ساتھ کچھ بات چیت کی کوشش کی لیکن اس نے مجھے بھی جھڑک دیا ظاہر ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر ہی پیتا ہے.
    اساتذہ کرام جہاں تک ہو سکتا تھا لڑکوں کو اِن مذموم حرکتوں سے روکتے ہی رہتے تھے، ایک لیکچرار صاحب نے مجھے بِلُو بابا سے بات کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ لیا اور پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے کیا کہنا چاہتے ہو وغیرہ، میں نے عرض کی کہ میں اس شخص سے بات کرنا چاہ رہا تھا کیوں کہ ہر ایک اس کو ستانے میں لگا رہتا ہے میں چاہتا تھا کہ ان کی مزاج پرسی وغیرہ کروں، کسی طرح ان کو ڈھارس دوں- لیکچرار صاحب نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ سوائے پرنسپل صاحب کے کسی اور سے بات نہیں کرتے، میں نے تفصیل جاننی چاہی تو انہوں نے بتایا کہ . . .

    بابا بِلُو اپنی جوانی سے ہی اس کالج میں ملازم ہے، مجرد ہے، اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ حج کرے، تنخواہ سے بچا بچا کر حج کے لیے رقم جمع کرتا رہا، ساری جوانی گزر گئی جب ادھیڑ عمر ہوا تو خواب پورا ہوتا نظر آیا، گرد و پیش میں سب ہی بابا کی اس خواہش اور اس سلسلہ میں اس کی تگ و دو کے بارے میں جانتے تھے، بابا نے حج کے بارے میں معلومات جمع کرنی شروع کر دیں کہ طریقہ کار کیا ہے خرچہ کتنا ہے وغیرہ- ایک روز سب کو پتہ چل گیا کہ اس سال بابا حج کرے گا، بابا نے شاید جن کو اس سلسلہ میں بتایا انہوں نے آگے بات کی اور اس طرح یہ بات پھیل گئی کہ بابا فلاں رو ز اور فلاں جگہ پاسپورٹ اور ٹکٹ وغیرہ کے لیے پیسے جمع کروانے جا رہا ہے-

    رات کو کسی نے بابا کی وہ ساری رقم چُرا لی، اگلے دن بابا جمع کروانے کی نیت سے وہ رقم ڈھونڈتا رہا مگر ٹوٹا ہوا تالا اور کھلا ہوا ٹرنک دیکھ کر حقیقت سمجھنی مشکل نہ تھی.
    بابا پاگل ہو گیا-
    کہانی ختم-

    میں آج تک اس شخص کے جذبہ، لگن اور اس کی عقیدت کی شدت پر حیران ہوں، جس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے صرف کیا، ہر قسم کی قربانی دی شادی تک نہ کی ، اور آخر میں جب سب کچھ چلا گیا تو اس قدر غم، اس قدر صدمہ اور تکلیف ہوئی کہ دماغ ہمیشہ کے لیے متاثر ہو گیا-

    میں سوچتا ہوں کہ کاش مجھ میں اس عقیدت کا ایک تھوڑا سا حصہ ہی ہوتا.

  16. zaffar بھائی ! آسلام علیکم :- آپکو اور بھابی suraya کو حج کی بہت مبارک ہو دعاؤںمیں یاد رکھنے کا بہت بہت شکریہ .

  17. دل کے اوپر صدمہ ملال غم ، بہت کچھ ہو کر گزر گیا ،راہ عشق کے مسافروں کو دنیا کی لگن کہاں ہوتی ہے وہ تو بس عشق کی آنچ میں جل رہے ہوتے ہیں اور جب محبو ب کے دروازے پر دستک کا وقت آجائے تو اچانک محبوب کا دروازہ ہی بند ہو جائے تو دیوا نگی تو طاری ہو ہی جاتی ھے

    شائد اللہ اس کے عشق کو مزید آزما کر اپنا قرب عطا کرنا چاہتا ہو

    مگر ہمارا ظرف بہت ہی ناتواں ھے ،ایک حد تک برداشت کےبعد پاؤں میں گھنگھرو باندھ لیتا ھے اور روتا ہوا گاتا پھرتا ھے تیرا عشق نچایا گلی گلی
    ،میری دعا ھے کہ مالک الملک با با بلو کو وہاں وہ کچھ نعمعتیں عطا کر دے جس سے اس کی تشنہ روح کو قرا ر آجائے

  18. جعفر حسین صاحب

    میں نے مسجدِ نبوی کے اُس صحن کا محلِ وقوع تحریر کردیا ہے جہاں چودہ معصومین کے نام نقش ہیں ۔ مدینہ کے وسط میں واقع امام بارگاہ کا پتہ تین سال پہلے مجھے اسطرح چلا کہ وہاں میری چھوٹی بہن نرجس کی نمازِ جنازہ ہوئ تھی جو اب جنت البقیع میں ابدی نیند سورہی ہے۔ اس محلے کا نام اویلی ہے۔ کوئ بھی ٹیکسی والا آپکو وہاں لے جائیگا۔ مسجدِ نبوی سے تین ریال لگتےہیں۔

    جاوید اقبال کیانی صاحب، شمس جیلانی صاحب،شاھین حیدر رضوی بہن، صفدر ھمٰدانی صاحب، بہن زرقا مفتی ،منظورقاضی صاحب،
    عالم آ را بہن، بہن زائرہ عا بدی ، انور ظہیر رہبر صاحب، محمداحمد ترازی صاحبہ اور بہن عا بدہ آپ سب کی دعاؤں، خلوص اور دل جوئ کا بہت بہت شکریہ۔

    بھائ عبدالمنف اور نگہت بہن آپکی بھی دعاؤں، خلوص اور دل جوئ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کے مشورہ کے مطابق اب میں اس بلاگ کو کل سے آگے بڑھاؤنگا اور مشاہدہ کو جاری رکھونگا۔

  19. اللہ پاک جب جس کو ہدائت سے سرفراز کر دے یہ اس کی عنائت ھے ، میری معلومات اہل تشیع محلّےکی حد تک نہیں،کیونکہ میں ابھی اس سعادت سے محروم ہوں لیکن مجھے معلوم ہوا کہ ابھی چند سال پہلے ہی ایک بزرگ سعو دی کو یہ شیعہ دائرہ پناہ اس وقت ملا جب اس کے دل کو شیعت کی جانب راہ ہدائت ملی اور ان بزرگ نے پھر فورا اسی جگہ مسجد بنا کرنمازاور شہیدان کربلا کی مجالس شروع کر دیں ،میں نے پچھلے سال یہیں پر ان ضعیف ا لعمر بزرگ کی تصا ویر بھی اپنی آنکھوں سے ان لوگوں کے ہمراہ دیکھیں جو ایڈمنٹن سےوہا ں زیارات مقدّسہ کے لئے گئے تھے ،،اگر کسی کو اس بارے میں مزید معلومات ھیں تو وہ قارئین کو ضرور بتا ئیں ،،اور ہم سب کی دلی دعائیں لیں
    دعا ؤ ں کے ہمراہ
    اللہ حا فظ
    زائرہ بجّو

  20. جگر کا ایک شعر :

    اللہ اگر توفیق نہ دے ، انسان کے بس کا کام نہیں
    فیضانِ محبت عام تو ہے ، عرفانِ محبت عام نہیں

  21. ما شا اللہ سرور کاینات (ص) نے اپ کو اپنا مہمان کیا کاش کہ مجھے پہلے پتا ہوتا تو اپ کے ہاتھ محسن انسانیت جناب سرور کاینات (ص)کو سلام بھجواتی اور اپنی حاضری کی دعا کرواتی مولا اپ کو اور ثریا انٹی کو یہ سعادت بار بارنصیب فرمایے اور اپ دونوں کے صدقے ہمیں بھی اس سعادت سے فیض یاب ہونے کا موقع عطافرمایے امین اپ نے پو چھا کہ اب کب اوں گی میں اوکلاہاما تو وہ تو مولا بہتر جانتے ہیں لیکن میں تو اپ کا اور انٹی کا پاکستان میں انتظار کر رہی ہوں کہ اپ کی میزبانی کا شرف حاصل ہو مجھے ……

  22. نادیہ

    ہملوگ بہت جلد لاہور کا چکر لگائیں گے۔ میری ددھیال 1905 سے تاحال لاہور میں مقیم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *