شہادتِ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

نام :              علی ابنِ حسین علیہ السلام
کنیت :           ابو محمد
لقب :            زین العابدین، سید السجاد
والد محترم :  حسین ابنِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام
والدہ محترمہ : بی بی شہر بانو
تاریخِ ولادت: 15 جمادی الاول سن 38 ھ
تاریخِ شہادت: 25 محرم سن 95 ھ

آپ کی ولادت بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الاول اور بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الثانی کو ہوئی جبکہ سالِ ولادت 38ھ تھا اور اس وقت ان کے دادا حضرت علی عليہ سلام عالمِ اسلام کے خلیفہ تھے۔ آپ کا نام آپ کے دادا کے نام پر علی رکھا گیا جبکہ کنیت ابوالحسن اور ابوالقاسم رکھی گئی۔ ولادت کے چند دن بعد آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کے بعد آپ کی خالہ گیہان بانو جو محمد بن ابی بکر کی زوجہ تھیں اور انہوں نے محمد بن ابی بکر کے انتقال کے بعد شادی نہیں کی تھی، نے آپ کی پرورش کی۔ دو سال کی عمر میں آپ کے دادا حضرت علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام عليہ سلام کو شہید کر دیا گیا

آپ کا زہد و تقویٰ مشہور تھا۔ وضو کے وقت آپ کا رنگ زرد ہو جاتا تھا۔ پوچھا گیا تو فرمایا کہ میرا تصورِ کامل اپنے خالق و معبود کی طرف ہوتا ہے اور اس کے جلالت و رعب سے میری یہ حالت ہو جاتی ہے۔نماز کی حالت یہ تھی کہ پاؤں کھڑے رہنے سے سوج جاتے اور پیشانی پر گٹھے پڑے ہوئے تھے اور رات جاگنے کی وجہ سے رنگ زرد رہتا تھاعلامہ ابن طلحہ شافعی کے مطابق نماز کے وقت آپ کا جسم لرزہ براندام ہوتا تھا۔ سجدوں کی کثرت سے آپ کا نام سید الساجدین اور سجاد پڑ گیا تھا۔ علامہ ابن حجر مکی نے لکھا کہ ایک دفعہ کسی شخص نے آپ کے سامنے آپ کی برائی کی مگر آپ خاموش رہے تو اس شخص نے کہا کہ اے علی ابن الحسین میں آپ سے مخاطب ہوں تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ:

”جاہلوں کی بات کی پروا نہ کرو اور میں اس پر عمل کر رہا ہوں۔ ایک شامی نے حضرت علی عليہ سلام کو آپ کے سامنے گالیاں دیں تو آپ نے فرمایا اے شخص
تو مسافر معلوم ہوتا ہے اگر کوئی حاجت ہےتو بتا۔ اس پر وہ شخص سخت شرمندہ
ہو کر چلا گیا۔“

سن 57 ھ میں آپ کی شادی آپ کے چچا حضرت حسن بن علی بن ابو طالب علیہ السلام کی بیٹی حضرت فاطمہ سے ہوئی۔ آپ کے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں جن میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اورحضرت زید شہید مشہور ہیں۔

واقعہ کربلا 10 محرم سن 61 ھ کو پیش آیا 28 رجب سن 60 ھ کو آپ (ع) اپنے والد امام حسین علیہ السلام کے ھمراہ مدینہ سے مکہ تشریف لائے اور 8 ذی الحجہ سن 60 ھ کو جب امام حسین علیہ السلام حج کو عمرہ سے بدل کر عازمِ سوئے کربلا ہوئے تو امام سجاد علیہ السلام بھی آپ کے ھمراہ تھے۔
کربلا آنے کے بعدازنِ خدا سے آپ انتہائی بیمار ہو گئے یہاں تک کہ 10 محرم کو غشی کی حالت طاری تھی اس لیے اس قابل نہ تھے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت پر فائز ہوتے۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے61 ھ میں عاشور کے دن امامت کی عظیم ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر سنبھال لیں ۔ 10 محرم کی شام کویزیدی فوج نے اہلیبیت علیہ السلام کےتمام خیموں کو آگ لگا دی تمام بییبیاں ایک خیمہ سے دوسرے خیمہ میں منتقل ہوتی رہیں بالآخرامام وقت کے حکم پر اپنے آپ کو بچانے کی خاطر بیبیاں خیموں سے باہر آگئیں اس کے بعد تو ظلم کی انتہا ہوگئی اور تمام بیبیوں کی چادریں چھین لی گئیں۔ 11 محرم کو آپ کے اہلِ حرم کو بے کجاوہ اؤنٹوں پرسوار کیا گیا اور امام (ع) کے گلے میں لوہے کاطوق اور ہاتھوں میں ھتکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں ڈال کر پہلے کوفہ اور بعد میں دمشق روانہ کیا گیا۔ تمام شہداء بشمول امام حسین علیہ السلام کے سر نیزوں کی نوکوں پر ساتھ روانہ کیے گئے۔ خاندانِ رسالت کا یہ قافلہ 16 ربیع الاول سن 61 ھ کو دمشق پہنچا اور عورتوں اور بچوں کو رسیوں میں بندھا ہوا دربارِ یزید میں پیش کیا گیا
ایک سال کی قید و صعوبت کی مشکلات سہ کر آپ 8 ربیع الاول سن 62 ھ کو مدینے واپس تشریف لائے اور تمام عمر خاندانِ رسالت کی شہادت اور نبی (ص) کی آل کی بازارِ شام اور کوفہ میں کی گئی بے حرمتی پر گریہ کرتے رہے۔ آپ کی زیادہ تر زندگی عبادت اور گریہ میں گزری وہ تمام ارشادات جو آپ (ع) کے دہن مبارک سے جاری ہوئے ، وہ اعمال جو آپ(ع) نے انجام دیئے وہ دعائیں جو لب مبارک تک آئیں وہ مناجاتیں اور راز و نیاز کی باتیں آج صحیفہ کاملہ کی شکل میں موجود ہیں۔ جب امام علیہ السلام سے پوچھا جاتا کہ آپ کو کہاں پر زیادہ مصیبت کا سامنا کرنا پڑا آپ آہ بھرتے اورفرماتے الشام ، الشام ، الشام۔ آپ (ع) کو اس بات کا سب سے زیادہ قلق تھا نبی زادیوں کو سر برہنہ فاسق و فاجر یزید معلون کے دربار میں کھڑا ہونا پڑا تھا۔

آپ کے بعض خطبات بہت مشہور ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد کوفہ میں آپ نے پہلے خدا کی حمد و ثنا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذکر و درود کے بعد کہا کہ:

”اے لوگوجومجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہوں۔میں اس کا فرزند ہوں جسے ساحلِ فرات پرپیاسا ذبح کر دیا گیا اور بغیر کفن و دفن کے چھوڑ دیا گیا ۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کا سامان لوٹ لیا گیا۔جس کے اہل و عیال قید کر دیے گئے۔ اور شہادتِ حسین ہمارے فخر کے لیے کافی ہے ۔۔۔۔۔۔“

دمشق میں یزید کے دربار میں آپ نے جو مشہور خطبہ دیا اس کا ایک حصہ یوں ہے:

”۔ ۔ ۔ میں پسرِ زمزم و صفا ہوں، میں فرزندِ فاطمہ الزہرا ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔ ۔ ۔“

یہ خطبہ سن کر لوگوں نے رونا اور شور مچانا شروع کیا تویزید گھبرا گیا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو جائے،چنانچہ اس نے مؤذن کو کہا کہ اذان دے کہ امام خاموش ہو جائیں،اگرچہ کہ اذان کا وقت تھا نہ نماز کا مگر یزید کے حکم پر اذان شروع ہوئی تو حضرت علی ابن الحسین خاموش ہو گئے۔ جب مؤذن نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت کی گواہی دی تو حضرت علی ابن الحسین رو پڑے اور کہا کہ اے یزید تو بتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تیرے نانا تھے یا میرے؟ یزید نے کہا کہ آپ کے تو حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام نے فرمایا کہ ‘پھر کیوں تو نے ان کے اہل بیت کو شہید کیا’۔ یہ سن کر یزید یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ مجھے نماز سے کوئی واسطہ نہیں۔
اسی طرح آپ کا ایک اور خطبہ بھی مشہور ہے جو آپ نے مدینہ واپس آنے کے بعد دیا۔آپ ربیع الاول 62 ھ کو مدینہ واپس پہنچے۔ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر پہنچے تو قبر مطہر پرگال رگڑ کر چند اشعار پڑھ کر فریاد پیش کی جن کا ترجمہ یوں ہے:

” میں آپ سے فریاد کرتا ہوں اے نانا۔ اے تمام رسولوں میں سب سے بہتر آپ کا محبوب ‘حسین’ شہید کر دیاگیا اور آپ کی نسل تباہ و برباد کر دی گئی۔ اے نانا میں رنج و غم کا مارا آپ سے فریاد کرتا ہوں کہ مجھے قید کیا گیا اور میرا کوئی حامی اور مدافعت کرنے والا نہ تھا۔ اے نانا ہم سب کو اس طرح قید کیا گیا جیسے لاوارث کنیزوں کو قید کیا جاتا ہے۔ اے نانا ہم پر اتنے مصائب ڈھائے گئے جن کو انگلیوں
پر گنا نہیں جا سکتا“۔

مروان ابن الحکم کے مرنے کے بعدسن 65ھ میں عبدالملک بن مروان تخت نشین ہوا اس نےحجاج بن یوسف کو حجاز کا گورنر بنا دیا کیونکہ حجاج نے عبداللہ بن زبیر کو قتل کرکے حجاز پر قبضہ کیا تھا۔ حجاج نے کعبہ پر سنگ باری کی تھی اور اسے تباہ کر دیا تھا حتی کہ اس کی دوبارہ تعمیر کی ضرورت پیش آئی۔ اس وقت عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا تھا کہ حضرت علی ابن الحسین کو گرفتار کر کے شام پہنچا دیا جائے چنانچہ اس نے انہیں زنجیروں سے باندھ کر مدینہ سے باہر ایک خیمہ میں رکھوایا۔ علامہ ابن حجر مکی کے مطابق عبدالملک بن مروان کو کچھ لوگوں نے سمجھایا کہ حضرت علی ابن الحسین خلافت سے کوئی غرض نہیں رکھتے اس لیے انہیں نہ چھیڑا جائے۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج کو پیغام دیا کہ بنی ہاشم کو ستانے اور ان کا خون بہانے سے پرہیز و اجتناب کرو کیونکہ بنی امیہ کے اکثر بادشاہ انہیں ستا کر جلد تباہ ہو گئے۔ اس کے بعد انہیں حجاج نے چھوڑ دیا اور عبدالملک بن مروان کی زندگی میں زیادہ تنگ نہ کیا گیا۔جب حجاج نے کعبہ کو تباہ کیا اور اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی تو حجر اسود کو نصب کرنے کا مسئلہ ہوا کیونکہ جو کوئی بھی اسے نصب کرنا چاہتا تھا تو حجر اسود متزلزل اور مضطرب رہتا اور اپنے مقام پر نہ ٹھہرتا۔ بالآخر حضرت علی ابن الحسین زین العابدین نے اسے بسم اللہ پڑھ کر نصب کیا تو بخوبی نصب ہو گیا۔

اگرچہ آپ گوشہ نشین تھے اور خلافت کی خواہش نہ رکھتے تھے مگر حکمرانوں کو ان کے روحانی اقتدار سے بھی خطرہ تھا اور خوف تھا کہ کہیں وہ خروج نہ کریں، چنانچہ 95 ھ میں ولید بن عبدالملک نے آپ کو زہر دے دیا ، امام مظلوم حضرت علی ابنِ حسین ابنِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام 25 محرم سن 95 ھ کو درجۂ شہادت پر فائزہوئے۔ آپ کی تجہیز و تکفین آپ کے فرزند اور پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے کی اور آپ کی تدفین جنت البقیع میں امام حسن ابنِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کے پہلو میں کی گئی آپ کی شہادت کے بعد آپ کا ایک اؤنٹ آپ (ع) کی قبرِ مبارک پر فریاد کرتا رہا اور ۳ دن میں مر گیا۔

20 thoughts on “شہادتِ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام”

  1. واقعہ کربلا کے بعد دوسرا بڑا سانحہ واقعہ حرہ تھا جس میں شامی افواج نے مدینہ پر چڑھائی کی تھی ، مدینہ میں قتلِ عام کیا گیا مدینہ والوں نے یزید کے خلاف بغاوت کر کے اس کے گورنر کو معطل کر دیا
    یزید نے مسلم بن عقبہ کو جو اپنی سفاکی کے لیے مشہور تھا اہلِ مدینہ کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا ،اس کی بھیجی ہوئی افواج نے دس ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور تین دن تک مسجد نبوی میں نماز نہ ہو سکی۔ تمام لوگوں سے یزید کی زبردستی بیعت لی گئی اور جس نے انکار کیا اس کا سر قلم کیا گیا۔ صرف دو آدمیوں سے بیعت طلب کرنے کی جرأت نہ کی گئی جو حضرت علی ابن الحسین اور حضرت عبداللہ ابن عباس تھے۔اس واقعہ کے بعد جو اہلِ بیت کا مشہور دشمن تھا اس کو خطرہ محسوس ہوا لیکن اس کو اور اس کے اہل خانہ کو کسی نے پناہ نہ دی مگر وہ ایک کوشش کے لیے حضرت علی ابن الحسین کے پاس آیا اور پناہ طلب کی تو آپ نے یہ خیال کیے بغیر کہ اس نے واقعہ کربلا کے سلسلے میں کھلی دشمنی دکھائی تھی اسے اور اس کے اہل خانہ کو پناہ دی اور اس کو بچوں کو اپنے بچوں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ کے ہمراہ ‘منبع’ کے مقام پر بھیج دیا اور مکمل حفاظت کی۔مسلم بن عقبہ جو اس فوج کا سالار تھا جس نے مدینہ کو تباہ و برباد کیا، اس نے خاندانِ رسالت بشمول حضرت علی ابن الحسین کی خوب کھل کر برائیاں کیں مگر جب حضرت علی ابن الحسین کا سامنا ہوا تو ادب سے کھڑا ہو گیا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے قصداً ایسا نہیں کیا بلکہ ان کے رعب و جلال کی وجہ سے مجبوراً ایسا کیا۔

  2. بھائی جعفر حسین
    اجرکم من اللہ

    تھے زیست سے ہاتھ اپنے دھوئے سجّاد . . . . . شب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجّاد
    جب تک جیے ہنستے نہ کسی نے دیکھا . . . . . . . چالیس 40 برس باپ کو روئے سجّاد . . . . میر انیس

    السلام علیک یا علی ابن الحسین، و علی آبآئک و علی ابنآئک و رحمۃ اللہ و برکاتہ

  3. جب امام سخت مشکلات اور محاصرہ میں تھے تو آپ نے اپنے مطالب کو دعا کی شکل میں پیش کرنا شروع کردیا آپکی دعاؤں کو صحیفہ سجادیہ میں جمع کیا گیا ہے یہ کتاب اگرچہ ظاہرا ایک کتاب ہے مگر یہ علمی ، ریاضی ، طبیعی ، فلکی ، اجتماعی ، سیاسی اور اخلاقی مطالب کا دریا ہے اسمیں حقیقی مشکلات اور تکالیف کا بیان ہے ہم بطور نمونہ چـند محتصر اور سادہ جملات کا ترجمہ کیۓ دیتے ہیں ۔ (1) خدا یا میں اپنی زندگی میں حسد ، غصہ ، فضول خرچی اور پرہیز گاری کی کمی سے تیزی بارگاہ میں پناہ مانکتا ہوں ، خدا یا اگر میری زندگی تیری اطاعت میں گذرے تو مجھے زندہ رکھنا اور اگر شیطان کی چراہگاہ بن جاۓ تو مجھے اپنی طرف لے جا اور میری جان لے لینا ۔ (2) اے بیٹا والدین کی عزت کرو ! کیونکہ اگر باپ نہ ہوتا تو تم بھی نہ ہوتے اور ماں کو دیکھو ! کہ جو ہر لحاظ سے تمہاری حفاظت کرتی ہے اسے کوئی پرواہ نہیں کہ وہ خود بھی بھوکی رہتی ہے اور تجھے سیراب کرتی ہے خود اچھے کپڑے نہ پہنکر تجھے پہناتی ہے خود دھوپ میں رہ کر تجھے سایہ مہیا کرتی ہے تم اس کا اجر نہیں دے سکتے بلکہ صرف خدا ہی اس کا اجر دے سکتا ہے ۔ (3) اپنی اولاد کا خیال رکھیں چونکہ نیک و بد ہر دو صورت میں اس کا تیرے ساتھ تعلق ہے اور تم اسکی تربیت و راہنمائی کے ذمے دار ہو ۔ (4) اپنے بہن بھائیوں پر شفقت و مہربانی کریں کیوں کہ وہ تیرے بازو تیری عزت اور طاقت ہیں دشمن کے مقابلہ میں ان کی مدد اور خیر خواہی کرو ! (5) استاد کا احترام کرو ! اسکے سامنے ادب سے بیٹھو ! اور اسکی گفتگو تو جہ سے سنو ! اس کے سامنے بلند آواز میں گفتگو نہ کرو ! نیز اگر کوئی اس سے سوال کرے تو اگر چہ تجھے اس کا جواب معلوم ہو پھر بھی اس سے پہلے بات نہ کرو ۔ (6) ہمسایہ کا احترام کرو ! اسکی مدد کرو ! اگر اس کا کوئی عیب دیکھو تو اسے چھپاؤ ! اور لغزشوں میں اسے نصیحت کرو ! (7) اپنے دوست کیساتھ انصاف کرو ! اور اسے ایسے چاہو جیسے وہ تمہیں چاہتا ہے اگر گناہ کرنے لگے تو اسے منع کرو ! ہمیشہ اس کے لۓ رحمت بنو ! نہ عذاب ۔

  4. طلب مغفرت کے سلسلے کی دعا۔۔۔۔۔صحیفہ سجادیہ
    اللهم صل علي محمد و اله ، و صيرنا الي محبوبك من التوبة ، و ازلنا عن مكروهك من الاصرار .اللهم و متي وقفنا بين نقصين في دين أو دنيا ، فاوقع النقص باسرعمها فناء ، و اجعل التوبة في اطولهما بقاء .و إذا هممنا بهمين يرضيك احدهما عنا ، و يسخطك الاخر علينا ، فمل بنا الي ما يرضيك عنا ، و اوهن قوتنا عما يسخطك علينا .و لا تخل في ذلك بين نفوسنا و اختيارها ، فانها مختارة للباطل إلا ما وفقت ، امارة بالسوء إلا ما رحمت .اللهم و إنك من الضعف خلقتنا ، و علي الوهن بنيتنا ، و من ماء مهين ابتدأتنا ، فلا حول لنا إلا بقوتك ، و لا قوة لنا إلا بعونك .فايدنا بتوفيقك ، و سددنا بتسديدك ، و اعم ابصار قلوبنا عما خالف محبتك ، و لا تجعل لشي ء من جوارحنا نفوذا في معصيتك .اللهم فصل علي محمد و اله ، و اجعل همسات قلوبنا ، و حركات اعضائنا ، و لمحات اعيننا ، و لهجات السنتنا في موجبات ثوابك حتي لا تفوتنا حسنة نستحق بها جزاءك ، و لا تبقي لنا سيئة نستوجب بها عقابك .
    اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہماری توجہ اس کی توبہ کی طرف مبذول کر دے جو تجھے پسند ہے اورگناہ کے اصرار سے ہمیں دور رکھ جو تجھے ناپسند ہے بارالہا!جب ہمارا موقف کچھ ایسا ہو کہ (ہماری کسی کوتاہی کے باعث) دین کا زیاں ہوتا ہو یا دنیا کا تو نقصان (دنیا میں ) قرار دے کہ جو جلد فنا پذیر ہے اورعفو ودرگذر کو(دین کے معاملہ میں ) قرار دے جو باقی و برقرار رہنے والا ہے اورجب ہم ایسے دو کاموں کا ارادہ کریں کہ ان میں سے ایک تیری خوشنودی کا اور دوسرا تیری ناراضی کا باعث ہو تو ہمیں اس کام کی طرف مائل کرنا جو تجھے خوش کرنے والا ہو ۔ اور اس کام سے ہمیں بے دست وپا کر دینا جو تجھے ناراض کرنے والا ہو اور اس مرحلہ پر ہمیں اختیار دے کر آزاد نہ چھوڑ دے ، کیونکہ نفس تو باطل ہی کو اختیار کرنے والا ہے ۔ مگرجہاں تیری توفیق شامل حال ہو اوربرائی کا حکم دینے والا ہے مگر جہاں تیرا رحم کار فرما ہو ۔ بارالہا! تو نے ہمیں کمزور اور سست بنیاد پیدا کیا ہے اور پانی کے ایک حقیر قطرہ (نطفہ ) سے خلق فرمایا ہے اگر ہمیں کچھ قوت وتصرف حاصل ہے تو تیری قوت کی بدولت اوراختیار ہے تو تیری مدد کے سہارے سے۔ لہذا اپنی توفیق سے ہماری دستگیری فرما اوراپنی رہنمائی سے استحکام و قوت بخش اورہمارے دیدہ دل کو ان باتوں سے جو تیری محبت کے خلاف ہیں نابینا کردے اورہمارے اعضاء کے کسی حصہ میں معصیت کے سرایت کرنے کی گنجائش پیدا نہ کر ۔ بارالہا ! رحمت نازل فرما محمد اورانکی آل پر اورہمارے دل کے خیالوں ، اعضاء کی جنبشوں،آنکھ کے اشاروں اورزبان کے کلموں کو ان چیزوں میں صرف کرنے کی توفیق دے جو تیرے ثواب کا باعث ہوں یہاں تک کہ ہم سے کوئی ایسی نیکی چھوٹنے نہ پائے جس سے ہم تیرے اجر وثواب کے مستحق قرار پائیں۔ اورنہ ہم میں کوئی برائی رہ جائے جس سے تیرے عذاب کے سزاوار ٹھہریں ۔

  5. طلب حاجات کے سلسلہ میں حضرت کی دعا۔۔۔۔صحیفہ سجادیہ
    اللهم يا منتهي مطلب الحاجات .و يا من عنده نيل الطلبات .و يا من لا يبيع نعمه بالاثمان .و يا من لا يكدر عطاياه بالامتنان .و يا من يستغني به و لا يستغني عنه .و يا من يرغب اليه و لا يرغب عنه .و يا من لا تفني خزائنه المسائل .و يا من لا تبدل حكمته الوسائل .و يا من لا تنقطع عنه حوائج المحتاجين .و يا من لا يعنيه دعاء الداعين .تمدحت بالغناء عن خلقك و أنت اهل الغني عنهم .و نسبتهم الي الفقر و هم اهل الفقر اليك .فمن حاول سد خلته من عندك ، و رام صرف الفقر عن نفسه بك فقد طلب حاجته في مظانها ، و اتي طلبته من وجهها .و من توجه بحاجته الي احد من خلقك أو جعله سبب نجحها دونك فقد تعرض للحرمان ، و استحق من عندك فوت الاحسان .اللهم و لي اليك حاجة قد قصر عنها جهدي ، و تقطعت دونها حيلي ، و سولت لي نفسي رفعها الي من يرفع حوائجه اليك ، و لا يستغني في طلباته عنك ، و هي زلة من زلل الخاطئين ، و عثرة من عثرات المذنبين .ثم انتبهت بتذكيرك لي من غفلتي ، و نهضت بتوفيقك من زلتي ، و رجعت و نكصت بتسديدك عن عثرتي .و قلت : سبحان ربي كيف يسال محتاج محتاجا ؟ و اني يرغب معدم الي معدم ؟فقصدتك ، يا الهي ، بالرغبة ، و اوفدت عليك رجائي بالثقة بك .و علمت ان كثير ما اسألك يسير في وجدك ، و ان خطير ما استوهبك حقير في وسعك ، و ان كرمك لا يضيق عن سؤال احد ، و ان يدك بالعطايا اعلي من كل يد .اللهم فصل علي محمد و اله ، و احملني بكرمك علي التفضل ، و لا تحملني بعدلك علي الاستحقاق ، فما انا باول راغب رغب اليك فاعطيته و هو يستحق المنع ، و لا باول سائل سالك فافضلت عليه و هو يستوجب الحرمان .اللهم صل علي محمد و اله ، و كن لدعائي مجيبا ، و من ندائي قريبا ، و لتضرعي راحما ، و لصوتي سامعا .و لا تقطع رجائي عنك ، و لا تبت سببي منك ، و لا توجهني في حاجتي هذه و غيرها الي سواك .و تولني بنجح طلبتي و قضاء حاجتي و نيل سؤلي قبل زوالي عن موقفي هذا بتيسيرك لي العسير و حسن تقديرك لي في جميع الامور .و صل علي محمد و اله ، صلوة دائمة نامية لا انقطاع لابدها و لا منتهي لامدها ، و اجعل ذلك عونا لي و سببا لنجاح طلبتي ، إنك واسع كريم .و من حاجتي يا رب كذا و كذا ( و تذكر حاجتك ثم تسجد و تقول في سجودك : ) فضلك انسني ، و احسانك دلني ، فاسالك بك و بمحمد و اله ، صلواتك عليهم ، أن لا تردني خائبا .
    ا ے معبود ! اے وہ جو طلب حاجات کی منزل منتہا ہے۔ اے وہ جس کے یہاں مرادوں تک رسائی ہوتی ہے ۔ اے وہ جو اپنی نعمتیں قیمتوں کے عوض فروخت نہیں کرتا اورنہ اپنے عطیوں کو احسان جتا کر مکدر کرتا ہے ۔ اے وہ جس کے ذریعہ بے نیازی حاصل ہوتی ہے اور جس سے بے نیاز نہیں رہا جا سکتا۔اے وہ جس کی خواہش و رغبت کی جاتی ہے اورجس سے منہ موڑا نہیں جا سکتا۔ اے وہ جس کے خزانے طلب وسوال سے ختم نہیں ہوتے اور جس کی حکمت ومصلحت کو وسائل واسباب کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ اے وہ جس سے حاجتمندوں کا رشتہ احتیاج قطع نہیں ہوتا اورجسے پکارنے والوں کی صدا خستہ وملول نہیں کرتی ۔ تو نے خلق سے بے نیاز ہونے کی صفت کا مظاہرہ کیا ہے اور تو یقینا ان سے بے نیاز ہے اور تونے ان کی طرف فقرواحتیاج کی نسبت دی ہے اور وہ بیشک تیرے محتاج ہیں ۔لہذا جس نے اپنے افلاس کے رفع کرنے کے لیے تیرا ارادہ کیا اوراپنی احتیاج کے دور کرنے کے لۓ تیرا قصد کیا اس نے اپنی حاجت کو اس کے محل ومقام سے طلب کیا اور اپنے مقصد تک پہنچنے کا صحیح راستہ اختیار کیا ۔ اور جو اپنی حاجت کو لے کر مخلوقات میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوا یا تیرے علاوہ دوسرے کو اپنی حاجت برآری کا ذریعہ قرار دیا وہ حرماں نصیبی سے دوچار اورتیرے احسان سے محرومی کا سزاوار ہوا ۔ بارالہا ! میری تجھ سے ایک حاجت ہے جسے پورا کرنے سے میری طاقت جواب دے چکی ہے اورمیری تدبیر وچارہ جوئی بھی ناکام ہو کر رہ گئی ہے اورمیرے نفس نے مجھے یہ بات خوش نما صورت میں دکھائی کہ میں اپنی حاجت کو اس کے سامنے پیش کروں جو خود اپنی حاجتیں تیرے سامنے پیش کرتا ہے اور اپنے مقاصد میں تجھ سے بے نیاز نہیں ہے یہ سراسر خطا کاروں کی خطاؤں میں سے ایک خطا اور گنہگاروں کی لغزشوں میں سے ایک لغزش تھی لیکن تیرے یاد لانے سے میں اپنی غفلت سے ہوشیار ہوا اورتیری توفیق نے سہارا دیا تو ٹھوکر کھانے سے سنبھل گیا اور تیری راہنمائی کی بدولت اس غلط اقدام سے باز آیا اورواپس پلٹ آیا اورمیں نے کہا واہ سبحان اللہ ! کس طرح ایک محتاج دوسرے محتاج سے سوال کر سکتا ہے ۔اورکہاں ایک نادار دوسرے نادار سے رجوع کر سکتا ہے (جب یہ حقیقت واضح ہوگئی )تو میں نے اے میرے معبود!پوری رغبت کے ساتھ تیرا ارادہ کیا اورتجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی امیدیں تیرے پاس لایا ہوں ۔اورمیں نے اس امر کو بخوبی جان لیا ہے کہ میری کثیر حاجتیں تیری تونگری کے آگے کم اور میری عظیم خواہشیں تیری وسعت رحمت کے سامنے ہیچ ہیں ۔ تیرے دامن کرم کی وسعت کسی کے سوال کرنے سے تنگ نہیں ہوتی اورتیرا دست کرم عطا وبخشش میں ہر ہاتھ سے بلند ہے۔ اے اللہ ! محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اوراپنے کرم سے میرے ساتھ تفضل واحسان کی روش اختیار اوراپنے عدل سے کام لیتے ہوئے میرے استحقاق کی رو سے فیصلہ نہ کر کیونکہ میں پہلا وہ حاجت مند نہیں ہوں جو تیری طرف متوجہ ہوا اور تو نے اسے عطا کیا ہو حالانکہ وہ رد کئے جانے کا مستحق ہو اور پہلا وہ سائل نہیں ہوں جس نے تجھ سے مانگا ہو اور تو نے اس پر اپنا فضل کیا ہو حالانکہ وہ محروم کئے جانے کے قابل ہو۔ ا ے اللہ ! محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورمیری دعا کا قبول کرنے والا میر ی پکار پر التفات فرمانے والا ، میری عجز وزاری پر رحم کرنے والا اورمیری آواز کا سننے والا ثابت ہو اور میری امید جو تجھ سے وابستہ ہے اسے نہ توڑ اورمیرا وسیلہ اپنے سے قطع نہ کر۔ اورمجھے اس مقصد اور دوسرے مقاصد میں اپنے سوا دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہونے دے ۔اوراس مقام سے الگ ہونے سے پہلے میری مشکل کشائی اورتمام معاملات میں حسن تقدیر کی کارفرمائی سے میرے مقصد کے برلانے ، میری حاجت کے روا کرنے اورمیرے سوا ل کے پورا کرنے کا خود ذمہ لے ۔اورمحمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما۔ ایسی رحمت جو دائمی اورروز افزوں ہو ۔ جس کا زمانہ غیر مختتم اورجس کی مدت بے پایاں ہو اور اسے میرے لیے معین اورمقصد برآری کا ذریعہ قرار دے ۔ بیشک تو وسیع رحمت اورجود وکرم کی صفت کا مالک ہے ۔ اے میرے پروردگار! میری کچھ حاجتیں یہ ہیں (اس مقام پر اپنی حاجتیں بیان کرو۔ پھر سجدہ کرو اورسجدہ کی حالت میں یہ کہو) تیرے فضل وکرم نے میر ی دل جمعی اورتیرے احسان نے رہنمائی کی ۔ اس وجہ سے میں تجھ سے تیرے ہی وسیلہ سے اور محمد و آل محمد علیہم الصلوة والسلام کے ذریعہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے (اپنے در سے) ناکام ونامراد نہ پھیر

  6. ادا‎ۓ قرض کی دعا۔۔۔۔۔صحیفہ سجادیہ
    اللهم صل علي محمد و آله ، و هب لي العافيه من دين تخلق به وجهي ، و يحار فيه ذهني ، و يتشعب له فكري ، و يطول بممارسته شغلي .و اعوذ بك ، يا رب ، من هم الدين و فكره ، و شغل الدين و سهره ، فصل علي محمد و آله ، و اعذني منه ، و استجير بك ، يا رب ، من ذلته في الحيوة ، و من تبعته بعد الوفاة ، فصل علي محمد و آله ، و اجرني منه بوسع فاضل أو كفاف واصل .اللهم صل علي محمد و آله ، و احجبني عن السرف و الازدياد ، و قومني بالبذل و الاقتصاد ، و علمني حسن التقدير ، و اقبضني بلطفك عن التبذير ، و اجر من اسباب الحلال ارزاقي ، و وجه في ابواب البر انفاقي ، وازو عني من المال ما يحدث لي مخيلة أو تأديا الي بغي أو ما اتعقب منه طغيانا .اللهم حبب الي صحبة الفقراء ، و اعني علي صحبتهم بحسن الصبر .و ما زويت عني من متاع الدنيا الفانية فاذخره لي في خزائنك الباقية .و اجعل ما خولتني من حطامها ، و عجلت لي من متاعها بلغة الي جوارك و وصلة الي قربك و ذريعة الي جنتك ، إنك ذو الفضل العظيم ، و أنت الجواد الكريم .
    30 اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ایسے قرض سے نجات دے ، جس سے تو میری آبرو پر حرف آنے دے اور میرا ذہن پریشان اور فکرپراگنده رہے اور اس ی فکر و تدبر میں ہمہ وقت مشغول رہوں ۔ اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قرض کے فکرواندیشہ سے اور اس کے جھمیلوں سے اور اس کے باعث بے خوابی سے تو محمد ور ان کی آل پر رحمت نازل فرما ۔ اور مجھے اس سے پناہ دے ۔ پروردگار ! میں تجھ سے زندگی میں اس کی ذلت اور مرنے کے بعد اس کے وبال سے پناہ مانگتا ہوں ۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے مال و دولت کی فراوانی اور پیہم رزق رسانی کے ذریعے اس سےچھٹکارا دے ۔اے اللہ محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما ۔ اور مجھے فضول خرچی اور مصارف کی زیادتی سے روک دے اور عطا و میانہ روی کے ساتھ نقطہ اعتدال پر قائم رکھ اور میرے لۓ حلال طریقوں سےروزی کا سامان کر اور میرے مال کو مصرف امور خیر میں قرار دے اور اس مال کو مجھ سے دور ہی رکھ جو میرے اندر غرور و تمکنت پیدا کرے یا ظلم کی راہ پر ڈال دے یا اس کا نتیجہ طغیان وسرکشی ہو ۔ اے اللہ ! درویشوں کی ہم نشینی میری نظروں میں پسندیدہ بنا دے اور اطمینان افزا صبر کے ساتھ ان کی رفاقت اختیار کرنے میں میری مدد فرما ۔ دنیاۓ فانی کے مال میں سے جو تو نے مجھ سے روک لیا ہے ۔ اسے اپنے باقی رہنے والے خزانوں میں میرے لۓ ذخیرہ کر دے اور اس کے سازو برگ میں سے جو تو نے دیا ہے اور اس کے سروسامان میں سے جو بہم پہنچایا ہے اسے اپنے جوار( رحمت ) تک پہچنے کا زاد راہ ، حصول تقرّب کا وسیلہ اور جنت تک رسائی کا ذریعہ قرار دے اس لۓ کہ تو فضل عظیم کا مالک اور سخی و کریم ہے ۔

  7. دفع بلیات کے سلسلے میں دعا۔۔۔۔صحیفہ سجادیہ
    اللهم لك الحمد علي حسن قضائك ، و بما صرفت عني من بلائك ،فلا تجعل حظي من رحمتك ما عجلت لي من عافيتك فاكون قد شقيت بما احببت و سعد غيري بما كرهت .و إن يكن ما ظلت فيه أو بت فيه من هذه العافية بين يدي بلاء لا ينقطع و وزر لا يرتفع فقدم لي ما اخرت ، و اخر عني ما قدمت .فغير كثير ما عاقبته الفناء ، و غير قليل ما عاقبته البقاء ، و صل علي محمد و اله .
    اے اللہ ! تیرے ہی لیے حمد وستائش ہے تیرے بہترین فیصلہ پر اور اس بات پر کہ تو نے بلاؤں کا رخ مجھ سے موڑ دیا۔ تو میرا حصہ اپنی رحمت میں سے صرف اس دنیوی تندرستی میں منحصر نہ کر دے کہ میں اپنی اس پسندیدہ چیز کی وجہ سے (آخرت کی ) سعادتوں سے محروم رہوں اوردوسرا میری نا پسندیدہ چیز کی وجہ سے خوش بختی وسعادت حاصل کر لے جائے ۔ اور اگر یہ تندرستی کہ جس میں دن گزارا ہے یا رات بسر کی ہے کسی لازوال مصیبت کا پیش خیمہ اورکسی دائمی وبال کی تمہید بن جائے تو جس (زحمت واندوہ ) کو تو نے موخر کیا ہے اسے مقدم کر دے اور جس( صحت وعافیت کو مقدم کیا اسے موخر کر دے کیونکہ جس چیز کا نتیجہ فنا ہو وہ زیادہ نہیں اورجس کا انجام بقا ہو وہ کم نہیں ۔ اے اللہ تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما۔

  8. اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لیے حضرت کی دعا۔۔۔۔صحیفہ سجادیہ
    و تصيرهم الي امن من مقيل المتقين .يا من لا تنقضي عجائب عظمته ، صل علي محمد و اله ، واحجبنا عن الالحاد في عظمتك .و يا من لا تنتهي مدة ملكه ، صل علي محمد و اله ، و اعتق رقابنا من نقمتك .و يا من لا تفني خزائن رحمته ، صل علي محمد و اله ، و اجعل لنا نصيبا في رحمتك .و يا من تنقطع دون رؤيته الابصار ، صل علي محمد و اله ، و ادننا الي قربك .و يا من تصغر عند خطره الاخطار ، صل علي محمد و اله ، و كرمنا عليك .و يا من تظهر عنده بواطن الاخبار ، صل علي محمد و اله ، و لا تفضحنا لديك .اللهم اغننا عن هبة الوهابين بهبتك ، و اكفنا وحشة القاطعين بصلتك حتي لا نرغب الي احد مع بذلك ، و لا نستوحش من احد مع فضلك .اللهم فصل علي محمد و اله ، و كد لنا و لا تكد علينا ، و امكر لنا و لا تمكر بنا ، و ادل لنا و لا تدل منا .اللهم صل علي محمد و اله ، و قنا منك ، و احفظنا بك ، و اهدنا اليك ، و لا تباعدنا عنك ، ان من تقه يسلم ، و من تهده يعلم ، و من تقربه اليك يغنم .اللهم صل علي محمد و اله ، و اكفنا حد نوائب الزمان ، و شر مصائد الشيطان ، و مرارة صولة السلطان .اللهم انما يكتفي المكتفون بفضل قوتك ، فصل علي محمد و اله ، و اكفنا ، و انما يعطي المعطون من فضل جدتك ، فصل علي محمد و اله ، و اعطنا ، و انما يهتدي المهتدون بنور وجهك ، فصل علي محمد و اله ، و اهدنا .اللهم انك من واليت لم يضرره خذلان الخاذلين ، و من اعطيت لم ينقصه منع المانعين ، و من هديت لم يغوه اضلال المضلين .فصل علي محمد و اله ، و امنعنا بعزك من عبادك ، و اغننا عن غيرك بارفادك ، و اسلك بنا سبيل الحق بارشادك .اللهم صل علي محمد و اله ، و اجعل سلامة قلوبنا في ذكر عظمتك ، و فراغ ابداننا في شكر نعمتك ، و انطلاق السنتنا في وصف منتك .اللهم صل علي محمد و اله ، و اجعلنا من دعاتك الداعين اليك ، و هداتك الدالين عليك ، و من خاصتك الخاصين لديك ، يا ارحم الراحمين .
    اے وہ جس کی بزرگی وعظمت کے عجائب ختم ہونے والے نہیں ۔ تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں اپنی عظمت کے پردوں میں چھپا کر کج اندیشیوں سے بچا لے ۔ اے وہ جس کی شاہی وفرمانروائی کی مدت ختم ہونے والی نہیں تو رحمت نازل کر محمد اور ا ن کی آل پراورہماری گردنوں کو اپنے غضب وعذاب ( بندھنوں ) سے آزاد رکھ ۔ اے وہ جس کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور اپنی رحمت میں ہمارا بھی حصہ قرار دے۔ اے وہ جس کے مشاہدہ سے آنکھیں قاصر ہیں رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اوراپنی بارگاہ سے ہم کو قریب کر لے۔ اے وہ جس کی عظمت کے سامنے تمام عظمتیں پست و حقیر ہیں رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اورہمیں اپنے ہاں عزت عطا کر۔ اے وہ جس کے سامنے راز ہائے سر بستہ ظاہر ہیں رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہمیں اپنے سامنے رسوا نہ کر۔ بارالہا! ہمیں اپنی بخشش وعطا کی بدولت بخشش کرنے والوں کی بخشش سے بے نیاز کر دے اوراپنی پیوستگی کے ذریعہ قطع تعلق کرنے والوں کی بے تعلقی ودوری کی تلافی کر دے تاکہ تیری بخشش وعطا کے ہوتے ہوئے دوسرے سے سوال نہ کریں اورتیرے فضل واحسان کے ہوتے ہوئے کسی سے ہراساں نہ ہوں۔ اے اللہ ! محمد اورا ن کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے نفع کی تدبیر کر اورہمارے نقصان کی تدبیر نہ کر اورہم سے مکر کرنے والے دشمنوں کو اپنے مکر کا نشانہ نہ بنا اور ہمیں اس کی زد پر نہ رکھ ۔ اورہمیں دشمنوں پر غلبہ دے دشمنوں کو ہم پر غلبہ نہ دے ۔ بارالہا ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں اپنی ناراضی سے محفوظ رکھ اوراپنے فضل وکرم سے ہماری نگہداشت فرما اور اپنی جانب ہمیں ہدایت کر اوراپنی رحمت سے دور نہ کر کہ جسے تو اپنی ناراضگی سے بچائے گا وہی بچے گا اورجسے تو ہدایت کرے گا وہی (حقائق پر ) مطلع ہو گا اورجسے تو (اپنی رحمت سے )قریب کرے گا وہی فائدہ میں رہے گا۔ اے معبود !تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمیں زمانہ کے حوادث کی سختی اورشیطان کے ہتھکنڈوں کی فتنہ انگیزی اورسلطان کے قہر وغلبہ کی تلخ کلامی سے اپنی پناہ میں رکھ ۔ بارالہا! بے نیاز ہونے والے تیرے ہی کمال قوت واقتدار کے سہارے بے نیاز ہوتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور ہمیں بے نیاز کر دے اورعطا کرنے والے تیری ہی عطا وبخشش کے حصہ وافر میں سے عطا کرتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور ہمیں بھی (اپنے خزانہ رحمت سے )عطا فرما۔ اور ہدایت پانے والے تیری ہی ذات کی درخشندگیوں سے ہدایت پاتے ہیں ۔ رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پراورہمیں ہدایت فرما۔ بارالہا ! جس کی تو نے مدد کی اسے مدد نہ کرنے والوں کا مدد سے محروم رکھنا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اورجسے تو عطا کرے اس کے ہاں روکنے والوں کے روکنے سے کچھ کمی نہیں ہو جاتی ۔اورجس کی تو خصوصی ہدایت کرے اسے گمراہ کرنے والوں کا گمراہ کرنا بے راہ نہیں کر سکتا۔ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اوراپنے غلبہ اورقوت کے ذریعہ بندوں(کے شر) سے ہمیں بچائے رکھ اوراپنی عطا وبخشش کے ذریعہ دوسروں سے بے نیاز کر دے اوراپنی رہنمائی سے ہمیں راہ حق پر چلا۔ اے معبود ! تو محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اورہمارے دلوں کی سلامتی اپنی عظمت کی یاد میں قرار دے اورہماری جسمانی فراغت (کے لمحوں ) کو اپنی نعمت کے شکریہ میں صرف کر دے اورہماری زبانوں کی گویائی کو اپنے احسان کی توصیف کے لیے وقف کر دے۔ اے اللہ ! تو رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو تیری طرف دعوت دینے والے اورتیری طرف کا راستہ بتانے والے ہیں اوراپنے خاص الخاص مقربین میں سے قرار دے۔ اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  9. تنگی رزق کے موقع پر پڑھنے کی دعا۔۔۔۔صحیفہ سجادیہ
    اللهم إنك ابتليتنا في ارزاقنا بسوء الظن ، و في اجالنا بطول الامل حتي التمسنا ارزاقك من عند المرزوقين ، و طمعنا بامالنا في اعمار المعمرين .فصل علي محمد و آله ، و هب لنا يقينا صادقا تكفينا به من مؤنة الطلب و الهمنا ثقة خالصة تعفينا بها من شدة النصب .و اجعل ما صرحت به من عدتك في وحيك ، و اتبعته من قسمك في كتابك ، قاطعا لاهتمامنا بالرزق الذي تكفلت به ، و حسما للاشتغال بما ضمنت الكفاية له .فقلت و قولك الحق الاصدق و اقسمت و قسمك الابر الاوفي : و في السماء رزقكم و ما توعدون .ثم قلت فو رب السماء و الارض إنه لحق مثل ما أنكم تنطقون .
    اے اللہ ! تو نے رزق کے بارے میں بے یقینی سے اور زندگی کے بارے میں طول امل سے ہماری آزمائش کی ہے ۔ یہاں تک کہ ہم ان سے رزق طلب کرنے لگے جو تجھ سے رزق پانے والے ہیں اور عمر رسیدہ لوگوں کی عمریں دیکھ کر ہم بھی درازی عمر کی آرزوئیں کرنے لگے ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ایسا پختہ یقین عطا کر جس کے ذریعہ تو ہمیں طلب و جستجو کی زحمت سے بچا لے اور خالص اطمینانی کیفیت ہمارے دلوں میں پیدا کر دے جو ہمیں رنج و سختی سے چھڑا لے اور وحی کے ذریعے جو واضع اور صاف وعدہ تو نے فرمایا ہے اور اپنی کتاب میں اس کے ساتھ ساتھ قسم بھی کھائی ہے ۔ اسے اس روزی کے اہتمام سے جس کا تو ضامن ہے ۔ سبکدوشی کا سبب قرار دے اور جس روزی کا ذمہ تو نے لیا ہے اس کی مشغولیتوں سے علیحدگی کا وسیلہ بنا دے ۔چنانچہ تو نے فرمایا ہے اور تیرا قول حق اور بہت سچا ہے اور تو نے قسم کھائی ہے اور تیری قسم سچی اور پوری ہونے والی ہے کہ ” تمہاری روزی اور وہ کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے ۔” پھر تیرا ارشاد ہے :” زمین و آسمان کے مالک کی قسم ! یہ امر یقینی و قطعی ہے جیسے یہ کہ تم بول رہے ہو ”

  10. ریاض نبوت کے گل ترسیدنا زین العابدین کی حدیث مبارکہ آزاد نظم کی صورت میں ۔۔۔

    آپ کا نام علی، ابوالحسن کنیت اور زین العابدین لقب تھا، آپ حضرت امام حسین (علیہ السلام) کے فرزند اکبر اور ریاض نبوت کے گل تر تھے۔

    سیدنا زین العابدین کی حدیث مبارکہ سے ماخوز دو آزاد نظمیں ..از: نگہت نسیم

    کیا اس مغرور کا اترانا اور فخر کرنا
    جو ہو ایک نطفے کی پیداوار
    جس کوہو ہر حال میں کل مردار ہونا
    سچ پوچھو تو اس کو جچتا نہیں
    یوں
    خدا کے حکم سے بیزار ہونا

    (آپ فرماتے تھے کہ مجھے اس مغرور اور فخر کرنے والے پر تعجب ہوتا ہے جو کل حقیقت میں ایک نطفہ تھا اور کل مردار ہوجائے گا)
    —————————
    عبادت کیا ہے ۔۔ لوگو ۔۔
    اللہ سے اپنی سچی محبت کا اقرار
    خود سپردگی کا ایک انوکھا اظہار
    میں حیران ہوں انہیں دیکھ کر
    جو
    خوف سے رب کی عبادت کرتے ہیں
    مشروط جیسے اپنی محبت کرتے ہیں
    ہائے ۔۔۔
    کیسی غلامانہ عبادت کرتے ہیں
    بھلا محبت میں خوف کیسا ۔۔؟
    میں بہت تعجب میں ہوں
    جو
    عبادت میں بھی رب سے تجارت کرتے ہیں
    طمع جنت میں اس سے محبت کرتے ہیں
    ہائے ۔۔
    کیسی تاجرانہ بات کرتے ہیں
    بھلا عبادت میں تجارت کیسی ۔۔؟
    ہاں ۔۔ پر ۔۔
    کچھ لوگ ایسے بھی ہیں
    جوصرف اور صرف
    اللہ کی رضا کی محبت سے آبیاری کرتے ہیں
    ہر خوف اور طمع سے بالا تر ہو کر
    خالص
    اور
    غیر مشروط ریاضت نفس کرتے ہیں
    بےشک یہی لوگ عبادت کرتے ہیں

    ( آپ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ خوف سے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یہ غلاموں کی عبادت ہے کچھ (جنت میں جانے کی) طمع میں عبادت کرتے ہیں یہ تاجروں کی عبادت ہے کچھ خالص رضاءِ الہٰی میں عبادت کرتے ہیں یہی آزاد لوگوں کی عبادت ہے )

  11. جزاک اللہ ،دل باغ باغ ہو گیا صفدر بھیّا نے صحیفہ سجّادیہ کی دعا ئیں اورپرمغز مناجاتیں تحریر کیں یہ کم از کم مجھ جیسے پردیسیوں کے لئے نعمت عظمیٰ ہیں اور نگہت ییٹی کی خوبصورت الفاظمیں ڈھلی ہوئ آزاد شاعری ،احادیث کا اس شاعری کے زریعے بہترین ترجمانی کا حق پھر ایک بار نگہت بیٹی نے ہی حاصل کیا ہے ماشاللہ،

    بےشک اللہ کی رضا بغیر اپنے کسی مطلب کے حاصل کرنے کی جستجو ہی خالص عبادت ہو سکتی ھے ،پروردگار عالم ہما رے قلوب کو بھی اپنی محبّت سے سرشار کردے تو ہماری عبا د ات بھی مخلصانہ ہو جائیں گی

  12. سبحان اللہ نگہت آپی کیا خوبصورت نظمیں کہی ہیں امام (ع) کی احادیث کو بہت اچھے انداز سے بیان کیا ہے
    عبادت کیا ہے ۔۔ لوگو ۔۔
    اللہ سے اپنی سچی محبت کا اقرار
    خود سپردگی کا ایک انوکھا اظہار
    میں حیران ہوں انہیں دیکھ کر
    جو
    خوف سے رب کی عبادت کرتے ہیں
    مشروط جیسے اپنی محبت کرتے ہیں
    ہائے ۔۔۔
    کیسی غلامانہ عبادت کرتے ہیں
    بھلا محبت میں خوف کیسا ۔۔؟
    میں بہت تعجب میں ہوں
    جو
    عبادت میں بھی رب سے تجارت کرتے ہیں
    طمع جنت میں اس سے محبت کرتے ہیں
    ہائے ۔۔
    کیسی تاجرانہ بات کرتے ہیں
    بھلا عبادت میں تجارت کیسی ۔۔؟
    ہاں ۔۔ پر ۔۔
    کچھ لوگ ایسے بھی ہیں
    جوصرف اور صرف
    اللہ کی رضا کی محبت سے آبیاری کرتے ہیں
    ہر خوف اور طمع سے بالا تر ہو کر
    خالص
    اور
    غیر مشروط ریاضت نفس کرتے ہیں
    بےشک یہی لوگ عبادت کرتے ہیں
    ———————————————
    دو شعر پیش ہیں

    وہ ہی اللہ کے خالص بندے ہوا کرتے ہیں
    لمحہ لمحہ جو عبادت میں بسر کرتے ہیں

    وہ جو اک وار کریں باطل پر، وہ ضربت
    افضل ثقلین کی عبادت سے ہوا کرتی ہے
    —————————-

  13. سلام کے کچھ اشعار پیشِ خدمت ہیں

    یہ سوچتا ہوں کہ عابد کا حال کیا ہوگا
    اسیر ہو کہ وہ جب شام میں گیا ہو گا

    گلے کے طوق نے عابد کو کیا جھکانا تھا
    وہ اپنے کھوئے ہوئے لعل ڈھونڈتا ہو گا

    سنا ہے شام میں جاتے ہی خون رونے لگا
    نجانے شمر نے اس وقت کیا کہا ہوگا

    وہ ظلم دیکھے ہیں سجاد نے حسین کے بعد
    مجھے یقیں ہے وہ ابتک بھی رو رہا ہوگا
    (شاعر کا نام یاد نہیں آرہا)

  14. میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کی اس دعا پر آمین کہتا ہوں :

    “،پروردگار عالم ہما رے قلوب کو بھی اپنی محبّت سے سرشار کردے تو ہماری عبا د ات بھی مخلصانہ ہو جائیں گی“

  15. بھائی جعفر حسین نے یہ بلاگ شروع کیا اور مولا علیہ السلام کی خدمت میں سلام پیش کیے
    آغا ہمٰدانی صاحب نے صحیفہء کاملہ سے اقتباسات سے مستفید فرمایا
    نگہت بہن نے احادیثِ امام علیہ السلام کو نظم کے رنگ میں پیش کیا
    سیّدہ زائرہ عا بدی بہن نے ہمت افزائی فرمائی اور دعائیں دئیں
    منظور قاضی صاحب نے آمین کہی

    اللہ کریم آپ سب کی اس حاضری کو قبول فرمائے اور حسبِ ِعقیدت اجر عطا فرمائے

    اور کوئی اس بلاگ پر آتا یا نہ آتا، لیکن خواہش تھی کہ سادات کرام ضرور تشریف لاتے اور ہم سے اپنے جد کا پُرسا وصول فرماتے
    بہر حال آپ سب سادات کرام کی خدمت میں یہ حقیر، ان کے جد کا، اور مؤمنین کرام کی خدمت میں ان کے امام، بیمارِ کربلا صلواۃ اللہ علیہ کا پُرسا پیش کرتا ہے۔

  16. بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

    امام سجاد علیہ السلام کی ذات اقدس کے بارے میں کچھ کہنا یقینا” چھوٹا منہ، بڑی بات ہے۔ یہ وہ ذات ہے، جسکے لئے سمندروں کی روشنائی اور درختوں کے قلم بھی ادائیگی حق کے لئے ناکافی ہیں۔ میرے خیال کے مطانق امام کی ذات اب تک کے تمام انسانوں اور آج کے بعد تا قیامت آنیوالے انسانوں میں حیران کن ترین ذات ہے۔ آپ کی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ سبق آموزی کا ایک بحر بے کراں ہے۔ بچپن ہو یا جوانی، ادھیڑ عمری ہو یا بڑھاپا، گھر ہو یا محلہ، محراب ہو کہ منبر، بازار ہو کہ چوراہا، دربار ہو کہ زندان۔ ۔ ۔ آپکی شخصیت بیان کے سانچے میں نہیں ڈھالی جا سکتی۔ آپکے فضائل و مصائب میں بہت کچھ لکھا اور پڑھا جا چکا ہے، لیکن یہ لکھنا اور پڑھنا ہرگز آپکا حق ادا نہیں کرسکتا۔

    روایات میں ہے کہ روز جزا دو شخصیات کے متعلق ندا بلند ہو گی۔ ایک سیدہ نساءالعالمین سلام اللہ علیہا کے واسطے، کہ اے اہل محشر اپنی نگاہیں جھکا لو، سیدہ تشریف لا رہی ہیں۔ اور دوسری یہ کہ، “این زین العابدین؟” یعنی کہاں ہے عابدین کا افتخار؟ یہ روایت آپکی عبادات کی انتہا بیان کرتی ہے کہ آپ کو یہ افتخار حاصل ہے کہ روز جزا آپکو آپکے نام سے نہیں، آپ کے کام سے یاد کیا جائیگا۔ اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہی زین العابدین، یزید کے دربار میں جب خطبہ ارشاد فرماتے ہیں تو آپنے جد بزرگوار جناب علی ابن ابی طالب کو اسی خطاب، یعنی زین العابدین سے بھی یاد کرواتے ہیں۔ یہ بھی فرماتے ہیں کہ کیا کوئی میرے دادا علی (ع) سے زیادہ بھی عبادر گزار ہوسکتا ہے ؟ دوسری جانب یہ بھی فرماتے ہوئے ملتے ہیں کہ میں زین العابدین ہوں ، مگر میری پھوپی زینب (س) مجھ سے بھی بڑی عابدہ ہیں۔ کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کے جاں سوز سفر میں پشت شتر پر بھی آپکی نماز شب تک میں کوئی فرق یہ آیا۔ امام سجاد (ع) کے یہ معرکۃالآرا فرامین ہماری حیرت اور تربیت کے لئے بحار کے درجات رکھتے ہیں کہ کیا مقام ہوگا ان عابدین اور ساجدین کا، جن پر زین العابدین و سید الساجدین نے رشک فرمایا ہے۔

    تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب مدینے میں بغاوت ہوئی تو کربلا کے واقعے کے ایک اہم محرک مروان بن حکم (ل) کو کہیں پناہ نہ ملی۔ وہ در در کی ٹھوکریں کھاتا پھر رہا تھا۔ کسی نے کہا کہ علی بن حسین سے ملو۔ وہ بےغیرت، امام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام (ع) نے نہ صرف اسکی سرزنش نہ فرمائی، بلکہ اسے اسکے 35 اہل خانہ کے ساتھ اپنے دارالرحمت میں پناہ دی۔ اور ایسی مہمان نوازی فرمائی کہ مروان کی بیٹی کے یہ الفاظ تاریخ کا حصہ بن گئے کہ “جیسی محبت اور شفقت ہمیں امام زین العابدین (ع) کے یہاں ملی، کبھی اپنے باپ کے گھر بھی میسر یہ آئی۔”

    میں قربان جاؤں اپنے امام کے قدموں کی خاک پر۔ میرے پاس مدحت امام کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ ابھی ابھی میں مجلس شہادت امام سجاد (ع) سے واپس آرہا ہوں۔ زہن میں ہزار ہا مطالب گردش کر رہے ہیں، مگر الفاظ کا روپ دھارنے سے قاصر ہیں۔ اپنے آقا اور آپکے مصائب سے متعلق چند اشعار یاد آ رہے ہیں۔

    تاریخ میں گر شام کا بازار نہ ہوتا
    شبیر کا بیٹا کبھی بیمار نہ ہوتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سجاد اسیر جور ہوئے صد حیف کسی نے یہ نہ کہا
    یہ پاؤں ستون کعبہ ہیں، زنجیر کسے پہناتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یارب کوئی مل جائے نہ پہچاننے والا
    بازار میں سجاد دعا مانگ رہا ہے
    تاریخ نے غیرت کا خدا لکھا ہے جسکو
    ہرموڑ پہ بہنوں کی ردا مانگ رہا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک معرکۃ الآرا سلام کے چند اشعار پیش ہیں۔

    یہ سوچتا ہوں کہ عابد کا حال کیا ہوگا
    اسیر ہو کے وہ جب شام میں گیا ہو گا

    سنا ہے شام میں جاتے ہی خون رونے لگا
    نجانے شمر نے اس وقت کیا کہا ہوگا

    وہ یاد کرتا تو ہوگا وطن کی شاہی کو
    بہن کو دفن جو پردیس میں کیا ہوگا

    گلے کے طوق نے عابد کو کیا جھکانا تھا
    وہ اپنے کھوئے ہوئے لعل ڈھونڈتا ہوگا

    وہ ظلم دیکھے ہیں سجاد نے حسین کے بعد
    مجھے یقیں ہے کہ اب تک بھی رو رہا ہوگا

    جو غور کیجے تو عابد بشر نہیں لگتا
    میرے خیال میں دکھ درد کا خدا ہوگا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الا لعنۃ اللہ علی القوم الظلمین۔ وسیعلمو الذین ظلموا ایا منقلب ینقلبون۔

    اس فقیر در سید سجاد کی جانب سے امام عصر (عج) اور تمام اہل درد حضرات کی خدمت میں پھٹے ہوئے دل سے تعزیت پیش ہے۔

  17. امام سجّاد سے زیادہ مشکل حالات کا سامنا کسی انسان کو نھین ہوا

  18. 25محرم شہادت حضرت امام سجاد علیہ السلام پر میں تمام سادات ومنونین اور بالخصوص حضرت امام حجت عصر علیہ السلام کے حضور عاجزانہ تعزیت پیش کرتا ہوں۔
    آپ کی دعاﺅں کا طلب گار
    محمد سکندر حیدر۔۔۔ کالم نگار

  19. آہ میرا مظلوم امام !
    سلام ہو اس امام (ع) پر جو زندانِ شام میں بھی طوق اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا جس کو نہ سونے دیا جاتا نہ ہی پورا کھانا دیا جاتا نجانے یزید معلون نے کس کس باتوں کا بدلا لیا تھا اس مظلوم خاندان سے۔
    آہ ! آج پھر اس مظلوم امام کی یاد آگئی زنداں میں وہ معصوم بچی جو اپنے بابا کو یاد کر کر کے روتی تھی ایک دن اس کو قرار نہ آیا پھپھپیوں نے بہت چپ کرانے کی کوشش کی بہت بھلایا مگر ننھی سکینہ کو قرار نہ آیا فریاد کرتی رہی
    ہائے میرے بابا
    ہائے میرے بابا
    ہائے میرے بابا
    ابھی آئے تھے اور مجھے پیار کررہے تھے
    کہاں ہیں میرے بابا
    ہائے میرے بابا
    یہ آہ و گریہ کی آوازیں یزید کے کانوں تک پنہچیں اس نے حکم دیا کے اس رونے والی بچی کو چپ کرادو غلاموں نے کہا کہ یزید اگر تو اس بچی کو چپ کرانا چاہتا ہے تو اس کے بابا کا سر اس کو بھیج دے وہ چپ ہو جائے گی
    رات کی تاریکی میں
    زندانِ شام کا دروازہ کھولا گیا
    ایک طشت میں سرِ امام مظلوم لایا گیا
    بس پھر کیا تھا
    زندان میں ایک کہرام بپا ہوا
    پیاسی سکینہ نے اپنے بابا کے لبوں پر اپنے لب ارکھ دیئے
    اور فریاد کی ہائے میرے بابا ،
    آپ کے بعد بابا بہت ظلم ہوئے ھم پر
    بابا میرے رخساروں پر طمانچے مارے گئے
    میری بالیاں چھینی گئیں
    اس چھوٹے سے زندان میں قید کیا گیا
    اور اور بابا جب میں روتی تھی تو لعین تازیانہ مارا کرتے تھے
    آہ پھر یہ آواز معدوم ہوتی گئی اور پھر قید خانہ میں سکوت طاری ہوگیا
    امام سجاد (ع) آہ میرا بے کس امام
    ننھی بہن کے لاشے کو زمین پر لٹا دیا
    انا للہ وا انا الیہِ راجعوں

    زنداں میں جب کہ دخترِ شبیر مرگئی
    دنیا سے دفعتآ سفرِ خلد کر گئی
    کنبہ کے دل پہ داغ جدائی کا دھر گئی
    غل پڑگیا حسین کی عاشق گزر گئی
    جنت بسائی چھوڑ کے دنیا کے باغ کو
    تازہ کیا ہے پھر علی اصغر کے داغ کو

    گھٹ گھٹ کے یاں اندھیرے میں کہتی تھیں بار بار
    اماں چراغ ہو تو ٹھہر جائے جان زار
    اب شام میں ملے گی تمہیں بر تنگ و تار
    بی بی کو نیند آئے گی کیونکر یہ ماں نثار
    تڑپو گی تم تو ماں کو خبر ہو گی کس طرح
    پہلی یہ شب لحد میں بسر ہو گی کس طرح
    (میر انیس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *