رسالہ مضراب (جنوری 2011) کا غالب نمبر

میں جناب سرور عالم راز سرور صاحب اور انکے معاونین (جن میں عالمی اخبار کی ایک ہم معاون محترمہ زرقا مفتی صاحبہ بھی شامل ہیں )، کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے شہنشاہ سُخن مرزا اسداللہ خاں غالب کی زندگی اور ان کی شاعری پر اپنا ایک انتہائی معیاری رسالہ “مضراب “ کا جنوری 2011 کا شمارہ ، شایع کیا۔
آج ہی جناب سرور عالم راز سرور صاحب نے جو اپنا برقی خط اس سلسلے میں مجھے ارسال کیا اسکی نقل پیش کررہا ہوں :

Kindly see Mizraaab (Ghalib Number) at the following URL:

www.mizraab.org

“یاران اردو انجمن: تسلیمات
جنوری ٢٠١١ کا مضراب (غالب نمبر) منظر عام پر آگیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ درج بالا پتے پر جا کر اس کو ملاحظہ فرمائیں اور اہنے تاثرات و تجاویز سے خادم کو مطلع بھی کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ مضراب کا یہ شمارہ بھی پچھلے شماروں کی طرح آپ کو پسند آئے گا۔ بہت شکریہ۔
سرور عالم راز سرور“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اس رسالے کو تفصیل سے پڑھنے میں کچھ دیر لگے گی مگر ایک سرسری نظر ڈالنے پر اس کی مشمولات کی اہمییت کا اندازہ ہوگیا ۔
اس رسالے کی مشمولات کی فہرست یہ ہے :
پردہ ساز( اداریہ)
تارِ نفس ( حمد و نعت )
سرودِ رفتہ ( ادبِ عالیہ )
گل نغمہ ( غزلیات )
سوز و ساز ( منظومات )
زیر و بم ( مضامین )
آہنگِ خیال ( افسانے ) : یہ صفحہ اس وقت دستیاب نہیں ہے۔
شہنائی ( ادبِ لطیف )
باز گشت ( متفرقات)

رابطہ :
گذشتہ شمارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خیال میں سرور عالم راز سرور صاحب اور انکے معاونین اردو کی ترقی اور ترویج کے لیے جو کام کررہےہیں وہ سب قابلِ تعریف اور قابلِ تقلید ہیں۔
۔۔۔۔
ہوسکے تو “مضراب “ کے اس شمارے کو پڑھیے اور غالب پر جس قدر اہم اور معیاری مضامین ، نظمیں اور غزلیں لکھی گئی ہیں اور خود غالب کے اشعار اور اسکی زندگی کے مختلف پہلووں پر جن قابل قدر ہستیوں نے اظہار خیال کیا ہے انکو بھی ملاحظہ کیجئے ۔ اور سرور عالم راز سرور صاحب اور انکے معاونین کو اپنی تجاویز اور اپنے رائے سے بھی مطلع کیجئے ۔

اگر اس بلاگ میں بھی مضراب کے غالب نمبر پر کچھ تبصرے شایع ہوجائیں تو انکو بھی مدیران اور معاونین مضراب ( شائد ) پڑھکر انکے جوابات اس عالمی اخبار میں (شائد ) دے سکینگے ۔

مجھے امید ہے کہ زرقا مفتی صاحبہ اس بلاگ کی نظامت کے سلسلے میں میری مدد فرمائینگیں ۔ اس لیے کہ مضراب کی تشکیل اور تخلیق میں شروع ہی سے انکا بہت ہی اہم حصہ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے

31 thoughts on “رسالہ مضراب (جنوری 2011) کا غالب نمبر”

  1. اسّلام علیکم ، ہم نشینوں بیٹوں ،بیٹیوں ،بھیّا منظور قاضی نے ایک انتہائ اہم مو ضو ع سخن دے دیا ہے کہ طبیعت ایک دم چہ کنم میں آ گئ ھے کہ کیا لکھوں ؟ حقیقت یہ ھے کہ بچپن سے لے کر آج تک جب کہ پاؤں قبر میں ہیں عمر کا کوئ دور ایسا نہیں گزرا جب کہ مرزاغالب جیسے جیّد شاعر کے متلّق کچھ پڑھا نا ہو لیکن جب لکھنے کا وقت آیا تو لفظ اپنے معنی خود کھوئے دے رہے ہیں کیونکہ الفاظ اور مرزا غالب مجھے سورج اور چراغ کی لو دکھائ دے رہے ہیں

    اور زرقا بیٹی میں کل ہی تمہارے حج بلاگ کے لئے کچھ لکھنا چاہ رہی تھی مگر وقت نے مہلت نہیں دی سوچا تھا آج تو ہر حال میں لکھوں گی تو تمہارے بارے میں اس نئے لیکن خوبصورت انکشاف نے چونکا دیا کہ تم اردو زبان کی ترویج وترقّی کے لئے اس طرح بھی کام کر رہی ہو ماشاللہ

    اب سرور عالم راز سرور نے اور ان کے معا ونین نےاردو زبان کو اس کا احسن مقام دینے کی یہ زمّہ داری جس خلوص سے اٹھائ ھے میری د عائیں ان کے ساتھ ہیں
    اس میں بھی کوئ شک نہیں کہ قیام پاکستان سے لے کر آ ج تک اردو کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد اردو کو اس کا جائز مقام دلوانے کی کوششیں کرتی رہی ھے لیکن چو نکہ اس زبان کو اپنے ہی وطن میں حکومتی سرپرستی حاصل نہین ھے اس لئے یہ زبان تا حال محروم ہے
    یہ بات بلکل عیا ں ھے کہ حکو مت پاکستان کی نا اہلی کی وجہ سے آج اردو زبان (یو این او) اقوام متحدہ اسبلی میں اپنا مقام بھی نہیں پاسکی جب کہ اس سے چھوٹی زبانیں دنیا میں اپنا مقام بنا چکی ہیں

    لیکن مجھے اللہ تعا لیٰ کی زات گرامی سے امّید ہے کہ وہ وقت بھی ضرور آئے گا جب اہل وطن کی یہ کوششیں بار آور ہو ں گی اور ہماری اردو زبان ان ہی کوششوں کی بدولت اپنے وطن میں اور دنیا میں اپنا درست مقام حاصل کرسکے گی انشاللہ

    مضراب میں مرزا غالب کے شاعرانہ مقام پر ار ان کی زندگی پر یہ معیاری تحریریں بہت اچھّی لگیں امّید ہے کہ مضراب کے پرخلوص احبا ب کی یہ پر خلوص کاوش ضرور رنگ لائے گی اور مرزا غالب کی روح کی بھی خوشی کا باعث ہو سکے گی ورنہ شائد ان کی لوح مزار بھی شکوہ کنا ں ہوتی اور کہتی
    برمزار ما ں غریباں ، نئے چراغ نئے گلے
    نئے پر پروانہ سوزد ،نئے صدائے بلبلے
    نیک تمنّا ؤں کے ہمراہ
    اللہ نگہبان

    زائرہ بجّو

  2. مضراب بلاشبہ اردو کی ترویج میں گراں قدر اضافہ ہے .. سرور بھائی اور تمام اراکین ادارت کو اس کامیاب سفر کی بہت بہت مبارک اور دلی دعائیں .. اللہ ہر قدم سلامتی کا عطا فرمائے ..آمین

  3. میں محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحب کی اردو تحریر کی سلاست اور روانی سے کافی متاثر ہوا ۔

    انکی مہربانی کہ انہوں نے اتنی تفصیل سے اس بلاگ کے موضوع پر اپنی پسند اور اپنے خیالات کا اظہا ر کیا۔ وہ ایک کامیاب نثر نگار ہیں اسلیے ہم سب امید کرتے ہیں کہ وہ اردو ادب اور اردو نظم و غزل نگاری اور خاص طور پر غالب کی شاعری پر مزید کچھ عطا کرسکینگی۔

    زندگی میں توازن کی ضرورت ہے ، ہمیں چاہیے کہ دنیا کے بہت سارے امور کے ساتھ ساتھ ، اردو ادب اور شاعری کے تنوع سے فائدہ اٹھا کر اس کی خوبیوں سے لطف اٹھائیں اور اردو کے اساتذہ شعرا اور شاعرات اور انکے علاوہ موجودہ شعرا اور شاعرات کے کلام سے محظوظ ہوتے رہیں ۔

    مضراب کا یہ شمارہ ہمیں غالب کی زندگی اور اسکی شاعری کے کئی دلچسپ پہلووں پر غور و فکر کے مواقع عطا کرتا ہے ۔

    اگر اس بلاگ میں مزید تبصرے شایع ہوتے رہیں تو یہ غالب کے موضوع کی پذیرائی سمجھی جائےگی ۔۔

    ویسے میں یہ سمجھتا ہوں کہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کی مذکورہ بالا تحریر سے اس بلاگ کے شایع کرنے کا مقصد پورا ہوگیا ۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  4. اسلام و علیکم

    بہت ہی خوبصورت اور معیاری رسالہ ہے میں نے کُچھ غزلیں پڑھی ہیں ۔

    جو بہت بھلہ معلوم ہو رہیں ہیں ۔

    لنک شیر کرنے کے لیے بہت سا شکریہ۔

    خدا توفیقات میں اضافہ کرے الہی آمین۔

  5. اسلام علیکم محترم ساتھیو مزاج بخیر ۔
    مضراب واقعئی مضراب ہے ۔ بہت اچھی کاوش اور اُس شاعر کو خراج جس کا کلام پڑھ پڑھ کر ہم پاس بھی ہوئے اور اردو بھی سیکھی ۔ ایک ایسے شاعر کے بارے میں پڑھنا بہت اچھا لگا جو شاید آٹھویں جماعت سے ساتھ ساتھ تھا ۔ غالب کی شاعری ہمیشہ دل سے قریب محسوس ہوتی تھی کیونکہ اشعار کی تشریح آسان لگتی تھی ۔اس وقت تو بس اچھے نمبر لینا ہی سب کچھ تھا ۔لیکن جب شعور جاگا تو غالب کا کلام ایک نئے رنگ میں اثر کرتا تھا ۔ایک ایسا شاعر جس نے شاعری کی زبان کو آسان بھی کیا اور سمجھنے کا موقعہ بھی زیادہ ملا ۔جس کی شاعری اور سوچ آفاقی سی لگتی ہے ۔
    میں اس شاعر کے بارے میں تو کچھ نہیں لکھ سکتی کہ اس کی بساط ہی مجھ میں نہیں ہے ۔
    غالب کی بزلہ سنجی بھی ان کے کلام ہی کی طرح ہر دلعزیز ہے ،
    مضراب پڑھ کر بہت اچھا لگا ۔ اللہ ہمت دے اور آسانیاں فراہم کرے ۔ ایسی کاوشوں کو ضرور سراہا جانا چاہئے تاکہ ہم بھی اپنی زبان کا حق ادا کر سکیں ۔
    مقام جب ہی ملتا ہے جب دلانے کی کوشش کی جائے ۔مجھے خوشی ہے کہ ہم سب اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ،تو اس کا ثمر بھی ایک دن ضرور ملے گا ۔
    صاحبِ بلاگ کے لئے نیک تمنائیں ۔
    ملک رام صاحب کا مضمون یہ غالب کے جعلی شاگرد ہیں ۔ ایک اہم معلوماتی مضمون ہے ۔
    عا لم آرا

  6. السلام علیکم
    مضراب کی تخلیق میں میرا بہت معمولی سا حصہ ہے. اور اس کے لئے بھی میں محترم سرور عالم راز صاحب کی ممنون ہوں. البتہ اس کے ایک خاص شمارے (شاعرات نمبر) کو میں نے کافی محنت سے ترتیب دیا تھا
    http://shayeraat.mizraab.org/editorial.htm
    والسلام
    زرقا

  7. محترمہ زرقا مفتی صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے اس بلاگ کو اپنی تحریر سے زینت بخشی اور اس میں مضراب کے شاعرات نمبر ( اپریل 2009 ) کے متعلق لکھا۔

    افسوس کہ اپریل 2009 سے لے کر زرقا مفتی صاحبہ کے مذکورہ بالا تبصرے کے شایع ہونے تک ، عالمی اخبار میں ان کے ترتیب دئے ہوئے مضراب کے اس خصوصی شمارے ( شاعرات نمبر ) کی کوئی تشہیر نہیں ہوئی ۔ اسی کو چراغ تلے اندھیرا بھی کہا جاسکتا ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔
    یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ زرقا مفتی صاحبہ اپنی گونا گوں مصروفیا ت کے باوجود عالمی اخبار کے ادبی سیکشن کی بھی نگرانی کرتی ہیں اور امریکہ ( ڈلس ) سے شایع ہونے والے مضراب کی ادارت کی بھی معاونت کرتی ہیں۔

    یہ سرور عالم راز سرور صاحب کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں اپنی“ اردو انجمن“ اور اپنے رسالے“ مضراب “ کے لیے زرقا مفتی صاحبہ کی اعانت حاصل ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میر ے علم کے متعلق سرور عالم سرور صاحب کا تعلق ہندوستان سے ہے مگر وہ امریکہ ( ٹیکسس ) میں اردو کی ترقی اور ترویج کی خاطر پاکستانی ادیبوں اور شاعروں اور شاعرات کی خدمات حاصل کررہے ہیں اور انکے تعاون سے اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ اللہ سرور عالم راز سرورصاحب کو اس نیک کام کا نیک اجر عطا کرے : امین

    یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنے ڈلس کے قیام کے زمانے میں سرور عالم راز سرور صاحب کی شاعری کو( انکی زبانی ڈلس کے) مشاعروں میں سننے کے مواقع عطا ہوئے ۔
    اللہ انکو اس طرح اردو کی خدمت کی نیک جزا عطا کرے : آمین

    ۔۔۔۔۔۔
    زرقا مفتی صاحبہ کے ایک خاموش معتقد کی حیثیت سے میں انکی نثر نگاری اور نظم نگاری کو دل سے پسند کرتا ہوں ۔
    زرقا مفتی صاحبہ سے عرض ہے کہ ان کی دی ہوئی لنک سے صرف “ اداریہ کا صفحہ “ اور حمد و نعت کا صفحہ کھل سکا ۔
    مضراب کے شاعرات نمبر کے دوسرے صفحات کم از کم میرے کمپیوٹر سے نہ کھل سکے ۔

    بہر حال :
    میں کوشش کرتارہونگا کہ مضراب کے گذشتہ شماروں کی فہرست حاصل کرلوںاور اس فہرست کے ذریعہ اپریل 2009 کا شمارہ ڈھونڈ نکالوں۔
    اگر زرقا مفتی صاحبہ اپنے اس شمارے (شاعرات نمبر ) کی لنک پھر سے عطا کردیں تو مہربانی ہوگی ۔

    اگر ہوسکے تو زرقا مفتی صاحبہ عالمی اخبار میں بھی اپنی “ اردو انجمن “ کی سرگرمیوں کے متعلق اور “مضراب “ کے شماروں کے متعلق اطلاع دیتے رہیں ( بشرطیکہ عالمی اخبار کی انتظامیہ کو کوئی اعتراض نہ ہو ) تو ہم سب عالمی اخبار کے پڑھنے اور لکھنےوالوں کا بھلا ہوتا رہے گا ۔

    “ سمندر سے پیاسے کو شبنم “ ہی مل جایا کرے تو غنیمت ہے ۔

    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  8. ہماری زندگی بہت سے ان رنگہائےگلفشاں مجمو عو ں کا نام ھے جو ہمیں اپنی پید ائش سے لے کر اپنے جینے کے آخری لمحات تک پیش آ تے رہتے ہیں ،،اگار غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ قدرت نے بھی اپنی ہر صنّا عی کو رنگا رنگ شو خی اور ندرت عطا کی ہےقدرت کے مظاہر کو دیکھئے ،،آسمان ،ستارے ،سیّا رے ،سورج کی روشنی چا ند کی کرنیں پھو لوں کے رنگ تتلیوں کے حسین پر ،بس اسی طرح انسان کی فطرت کی ترتیب ہے جو اس ترتیب کو سمجھ لیتا ھے اور اس کو استعمال بھی کر سکنے کا ہنر جان لیتا ہے وہ بھی اپنے دور اپنے زمانے پر اپنے نقش پا کو ثبت کرتا چلاجاتا ھے ایسے لوگ زمانوں پر اس طرح محیط ہوجا تے ہیں کہ زمانہ ان کو فراموش کرنا بھی چاہے تو کر نہیں سکتا ہے

    مرزا اسد اللہ خان غالب برّصغیر میں اردوادب کے آسمان پر وہ روشن اور درخشا ں نام ہے جس کو زمانے کی کوئ بھی گردش ابھی تک دھندلا نہیں سکی ہے
    ان کا دور وہ دور تھاجب انگریز پورے برّصغیر پر کرّو فر سے حکومت کر رہا تھا اور مقامی باشندوں کے لئے جن میں مسلمان سر فہرست تھے زمین تنگ ہوتی جارہی تھی ،،جبکہ اس دور میں اردو زبان بھی پوری طرح سے ہاتھ پاؤں نکال کر توانا نہیں ہوئ تھی

    ایسے دور میں مرزا غالب نےاپنی زندگی میں اردو زبان کے اس دور کے تمام تکلّفات کو برطرف کرتے ہوئے طرح طرح کے شوخئ تحریر کےایسے ، ایسے رنگ بھرے کہ ان کی ہر، ہر تحریر سرمائہ ادب بن گئ ،عشق کا کانٹوں بھرا میدان تھا یا غم روزگار کا ویران صحرا
    خطوط نویسی تھی یا نثر نگاری ، شاعری رزمیہ کرنی تھی یا المیہ وہ ہر جگہ اپنا ایک منفرد اور اعلیٰ مقام رکھنے والے شہسوار تھے ،ان کی شاعری ،امر شاعری ہے

    ان کی غزلیں ہر دور کے غزل گانے والو ں نے اپنی اپنی آوازوں میں گائ ہیں ،،چند ایسی غزلیں جن کو جب بھی سنا جائے تو محسوس یہ ہوتا ھے کہ اپنے لئے ہی حسب حال ہیں یہی امر شاعری کا کمال ہے کہ وہ ہر دل کی آواز میں ڈ ھل جاتی ہو مجھے بھی جوچند غزلیں اور اشعارمن وعن یاد ہیں وہ پیش کرتی ہوں

    آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
    کون جیتا ہےتیری زلف کے سر ہونے تک

    عاشقی صبر طلب اور تمنّا بیتاب
    دل کاکیا رنگ کروںخون جگر ہونے تک

    ہم نے مانا کہ تغا فل ناکرو گے لیکن
    خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

    غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج
    شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

    کچھ اور یاد داشت میں محفوظ ملے ہیں ،بے انتہا پسند کئے جانے والے یہ اشعارمیرے بچپن کے دور میں بھی زبان زد عام ہوا کرتے تھے ،اور آ ج ایک طویل مدّت گزر جانے کے بعد بھی بے اختیار زبان پر آ جاتے ہیں

    ہزاروں خوا ہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    2
    دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
    آخر اس درد کی دوا کیا ہے
    3
    پھر کچھ اس دل کو بیقراری ہے
    سینہ جویائے زخم کاری ہے

    4نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
    بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

    ان کی ایک مشہر زمانہ غزل کے چند اشعار

    یہ ناتھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

    کہوں کس سے میں کہ کیا ھے،شب غم بری بلا ہے

    مجھے کیا برا تھامرنا اگر ایک بار ہوتا

    کوئ میرے دل سے پو چھے تیرے تیر نیم کش کو

    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

  9. وعلیکم والسّلام معزّز ہم نشینوں ،اللہ تبارک وتعا لیٰ سے آپ سب کی بہترین خیر و عافیت کی طلبگار ہوں حقیقت حال یہ ہے کہ وقت کا دامن اتنا تنگ ہوتا ھے کہ بہت کچھ چاہنے کے باوجود کچھ بھی نہیں کر پاتی ہوں
    بھیّا منظو ر قاضی آ پ کی ہمّت افزائ بلا شبہ میرے لئے بڑا اعزاز ہے ورنہ میں کجا اور میرا علم کجا ،،مین ایک طفل مکتب ہوں اس کا مجھ کو شدّت سے احساس تو ہے لیکن آ پ خود جان سکتے ہیں ایک عورت زات، شعور کی منزل پر آتے ہی تمام عمر خوبصورت رشتوں میں تقسیم ہو تی رہتی ہے ھے ،،اس تقسیم کے بعد اسکو اپنی بچی کھچی زات سمیٹ کر اپنے لئے کچھ سوچنا ہوتا ہے تو پھر اس مقام پر آٹے میں نمک کے مصداق میں بھی اپنا حصّہ ڈالنے کی کوشش کر لیتی ہوں ،آ پ کی حوصلہ افزائ کا بہت بہت شکریہ

    اللہ نگہبان

    سب کے لئے دعاگو

    آ پ کی بجّو

  10. اسلام علیکم بجو اللہ آپ کو عمرِدراز عطا فرمائے ۔
    بہت خوبصورت تحریرین ہیں ،جنہیں پڑھکر دل خوش ہوجاتا ہے ۔
    محترم بجو یہ آپ نے میرے دل کی بات لکھ دی کہ ،
    ایک عورت زات، شعور کی منزل پر آتے ہی تمام عمر خوبصورت رشتوں میں تقسیم ہو تی رہتی ہے ھے ،،اس تقسیم کے بعد اسکو اپنی بچی کھچی زات سمیٹ کر اپنے لئے کچھ سوچنا ہوتا ہے تو پھر اس مقام پر آٹے میں نمک کے مصداق میں بھی اپنا حصّہ ڈالنے کی کوشش کر لیتی ہوں ،
    بجو میں ان خواتین کو مجا ہدہ سمجھتی ہوں اور سلام پیش کرتی ہوں ۔
    مجھے پتہ ہے کہ ایک عورت ہونے کے ناطے تمام زمے داریاں انصاف سے نبھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا بہت معرکہ ہوتا ہے ،،لیکن شوق اور لگن سب مرحلے آسان کر دیتی ہے ۔
    اللہ ہم سب کو اپنی صلا حیتوں سے فائدہ اُ ٹھانے کی توفیق عطا کرے ، آمین
    عالم آرا

  11. السلام علیکم
    مضراب شاعرات نمبر میں دلچسپی رکھنے والے اسے مندرجہ ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں
    http://kitaben.ifastnet.com/Pages/Mizrab.html
    یہ لنک اُردو کتابوں کی برقی لائبریری کا ہے جسے بھارت میں رہائش پذیر اعجاز عبید صاحب چلا رہے ہیں. اُن کی کمال مہربانی ہے کہ اس شمارے کو اپنی لائبریری میں جگہ دی
    والسلام
    زرقا

  12. ماشااللہ ، سبحان اللہ ، جزاک اللہ ، مرحبا: محترمہ زرقا مفتی صاحبہ نے مضراب کے شاعرات نمبر کے شمارے کی وہ ویب سائٹ عطا کی جس کو کھولنے سے ادب اور شاعری کا ایک بیش بہا خزانہ نظر آجاتا ہے ،

    اس کے ہر حصہ میں ایک نئی دنیا موجود ہے اور اسکا ہرہر لفظ بار بار پڑھنے کے قابل ہے۔

    اس شمارے میں جو جانےپہچانی ہستیاں اور انکی ادبی تخلیقات موجود ہیں انکے چند نام یہ ہیں :
    زرقا مفتی صاحبہ؛ نگہت نسیم صاحبہ ؛ ڈاکٹر پنہاں صاحبہ ، تانیہ رحمان صاحبہ ، نوشی گیلانی صاحبہ ، ادا جعفری صاحبہ ؛ صدف مرزا صاحبہ ؛ زہرہ نگاہ صاحبہ ؛ پروین شاکر مرحومہ اور انکے علاوہ بہت ساری مشہور شاعرات کا کلام اس شمارے میں موجود ہے ۔

    اس شمارے میں شاعرات کی شاعری ہی نہیں بلکہ انکےتخلیق کردہ افسانے بھی شامل ہیں ۔
    اس شمارے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی مرد کی تحریر موجود نہیں ہے ۔

    مضراب کا یہ شمارہ ( شاعرات نمبر ) اردو کے تمام شیدائیوں کی خانگی لائبریری کی زینت بننے کے قابل ہے۔
    زرقا مفتی صاحبہ نے اس شمارے کی تشکیل میں جو محنت کی ہے اس کا ثبوت اس رسالے کے ہر ہر صفحہ میں موجود ہے ۔

    زرقا مفتی صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے اس شمارے کی ادارت کی اور اسے ہم تک پنچایا ۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  13. بہت محترم منظور قاضی صاحب ۔ اللہ آپکو سلامت رکھے۔ کچھہ دفتری مجبوریوں اور جکی کی مشقت کے باعٹ دیر سے تبصرہ لکہ رھی ھوں ۔ اس وقت رات کا ڈیھرہ بجہ ھے اور صرف اور صرف غالب کا نام ھے جس نے آنکھوں میں نیند کی جگہ مضراب جیسے خوبصورت ادبی مرقعہ کو ٹڑھنے کا خمار باقی ھے۔۔

    خوش رھیں ۔ مضراب کی خوبصورت کتابت ، منفرد انداز نے رنجیدہ دل کو شاد کیا

    صرف اسی وجہ سے اس وقت یہ سطور تحریر کررھی ھوں ۔ ایک دعا دل سے نکل رھی ھے کہ اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے ۔ آمین

    ابھی تو مضراب کا شاعرات نمبر بھی ایک یادگار شمارہ ھے
    عزیز بہن زرقا سلامت رھو۔ اللہ پاک تمھاری والدہ کو صحت کاملہ عطا فرماۓ مین نے دو بار تم کو فون کرنے ی کوشش کیں
    ایک بار تو 3 نمبر کا اضافہ کیا پھر بھی تم سے رابطہ نہ ھوسکا، اس وقت بہت دیر ھوچکی ھے۔ دو بجنے والے ھیں ۔ صبح افس کےلیے بھی اٹھنا ھے۔

    محترم منظور قاضی صاحب یہ اپکی اردو سے محبت کا ثبوت ھے ۔ میرے پاس ڈاکٹر افتاب احمد کی غالب آشفتہ نوا ھے انشا اللہ چند گھنٹے کے بعد اس بہترین کتاب میں سے چند اقتباسات آپ سب کے لیے
    ۔

  14. بہت معذرت خواہ ھوں کہ اوپر والے تبصرے میں بہت ساری ٹائپنگ کی غلطیاں ھیں

    درگزر کردیجیے گا ۔ چند حروف لکھتے ھوۓ صرف ڈبہ بنتا ھے اور اس صورت میں لکھتے ھوۓ صرف کوفت ھوتی ھے۔

  15. محترم جناب قاضی صاحب ،
    جزاک اللہ ۔ اتنا معلوماتی بلاگ آپکی اردو سے محبت کا ثبوت کا منہہ بولتا ثبوت ہے ۔ مضراب میں مرزا غالب کی بہو کا انٹرویو بہت ہی دلچسپ ہے ۔ اللہ آپ جیسے اردو کے قدردانوں میں اضافہ فرمائے تاکہ اپنے ادب کے انمول موتی اور مخفی خزانے ہم تک پہنچتے رہیں ۔

  16. برادرم قاضی صاحب: سلام مسنون! یہ آپ کی قدر دانی اور دوست نوازی ہے کہ ناچیز کو یاد رکھتے ہیں۔ مضراب کی پزیرائی اورتحسین و تعریف بھی اسی محبت اور مود ت کا عکس ہیں۔ میں ان سب احباب کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے مضراب پر اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار کیا۔ مضراب پچھلے تین سال سے اردو کی ترویج و فلاح وابلاغ کے میدان میں سر گرم عمل ہے۔ اس کی کامیابی اگر کچھ ہے تو وہ در اصل اردو اور اہل اردو کی کامیابی ہے۔ اگر درد مند دوست ساتھ نہ دیں تو کوئی کوشش بھی کامیابی سے آشنا نہیں ہوسکتی ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ مضراب کے لئے اپنی تخلیقات ہمیں بھیجیں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ ساتھ ہی ہماری اردو کی چوپال اردو انجمن (جس کا پتہ نیچے دیا جا رہا ہے) آپ کی منتظر ہے۔ آپ وہاں اردو کے مختلف کام ہوتے دیکھ سکیں گے اور ان میں حصہ بھی لے سکیں گے۔ مجھ کو یقین ہے کہ آپ کو وہاں مایوسی ہرگز نہیں ہو گی۔ شکریہ۔
    ڈبلو ڈبلو ڈبلو.اردوانجمن.کام

  17. وعلیکم وا لسّلام بہن عالم آرا ،بہت ہی شرمندگی کے ساتھ آپ کے محبّت نامے کا جواب دے رہی ہوں ،زندگی کی بنت کو یہ محبّت بھرے رشتے بہت خوبصورت بناتے ہیں،
    اور رشتوں کی خوبصورتی جزبوں سے عبارت ہوتی ہے ،آپ کی یاد آ وری کا بہت بہت شکریہ ،عالمی اخبار کے طفیل ہر ،ہر دن نت نئ بہترین مصروفیت مل رہی ہے الحمد للہ

    مضراب پڑھ کر بہت اچھّا لگا ،اردو ادب کے شاہکار گھر بیٹھے ہم کو مہیّا کرنے والے صاحبان علم و عمل افراد مبارکباد کے مستحق ہیں ،اور ابھی ابھی سرور صا حب کے دئے ہوئے ویب کو اوپن کیا تو دل باغ باغ ہو گیا ،بلا شبہ اردو زبان اپنے اندر ادب کا بہترین خزینہ رکھتی ہے
    انشاللہ جلد حا ضر ہوتی ہوں

    فی امان اللہ

    آ پکی بجّو

  18. اسّلام علیکم سرور صاحب ،اللہ تعا لیٰ سے آ پکی اور آپ کے رفقا ء کی درازئ عمر مع صحت وسلامتی کے لئے دعاگو ہوں ،فروغ علم و دانش کی ان بہترین کوششوں کا بہترین صلہ پرور دگار عا لم آ پ سب کو ضرور عطا کرے گا ،

    ابھی ابھی آ پ کی سجائ ہوئ خوبصورت اردو گلی ڈبلیو ،ڈبلیو ،ڈبلیو۔اردوانجمن ۔۔کام کا چکّر لگایا ہے ،دل بہت خوش ہوا ،مزید نگارشات کل زیر مطالعہ ہوں گی انشاللہ

    ایڈ منٹن ،کینیڈا سے

    دعاگو ،بجّو

  19. مضراب کا مضمون ،غالب بنام فکر تونسوی رات کے تین بجے پڑھنے کے بعد میرے لئے ضروری ہو گیا کہ میں اس مضمو ن کے اوپربھی اور نضراب جیسے میعاری رسالے پر اپنا تبصرہ ضرور لکھوں ،ویسے مجھے لکھنا نہیں آتا ھے بس شوق میں ٹامک ٹو ئیا ں مار لیتی ہوں ،یقین جانئے وہ دور یاد آگیا جب ادب لطیف ،نقوش ،سیپ وغیرہ ادب کے شہ پارے کراچی میں پڑھنے کو ملتے تھے ،

    اب مضراب کو پڑھنے کے بعد پھر سے وہی سب کچھ کینیڈا کے برف زار میں مل گیا ھے اس کے لئے اللہ تعا لیٰ کی شکر گزار ہوں اور مضراب کے تخلق کاروں کی

    اللہ نگہبان

    زائرہ بجّو

  20. محترم بھائی منظور صاحب نے حکم دیا تھا کہ اسے دیکھیں ماشا ءاللہ بہت نادر مضامین ہیں ۔مضراب کو ابھی پرے طور پر پڑھ نہیں سکا،انشا ءاللہ بعدمیں ان پر تفصیل سے لکھوں گا۔ اس ڈر سے کہ محترم بھائی ناراض نہ ہوجائیں ۔اس لیے صرف شرکت کا شرف حاصل کرنے کے لیے ایک عمومی بات لکھ رہا ہوں۔ غالب کاایک شعر جو بہت مشہور ہے اس ، جسے یوں پڑھاجاتا ہے:
    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
    لیکن یہ شعر در اصل اس طرح ہے :
    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
    اردو کے ایک نامور محقق جناب حنیف نقوی صاحب نے جب اس شعر کا اصل متن بتایا تو سامعین نے کہا۔ اگرچہ صحیح’’ یوں ‘‘ہے ، لیکن ہمیں ’’یہ ‘‘ہی اچھا لگتا ہے ۔
    قارئین بتائیں کہ آپ کو کیا اچھا لگتا ہے؟

  21. اسلام علیکم ساتھیو
    مضراب کا شاعرات نمبر بہت ہی خوبصورت ہے ،
    اردو زبان کی چاشنی سے کوئی انکار ممکن ہی نہیں ،مضراب کا غالب نمبر اور شاعرات نمبر پڑھ کر بہت اچھا لگا ،اپ سب کا بہت شکریہ جنہوں نے ہمیں یہ لنک بھیجا ۔
    اللہ آپ سب کو کامیابی سے ہمکنار کرے اور آپ کی کاوشیں اسی طرح رنگ لاتی رہیں ۔
    عالم آرا

  22. میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اور محترمہ عالم آرا صاحبہ اور سیدہ شاہین رضوی صاحبہ کا ممنون ہوں کہ انہوں نےسرور عالم راز سرور صاحب اورانکے معاونین کی ادارت میں شایع ہونے والے انٹرنیٹ کےرسالے مضراب کو پسند کیا اور ا س کے شماروں کا مطالعہ بھی کیا اور ان پر اپنی قیمتی آرا سے سب کو مطلع بھی کیا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میری خواہش ہے کہ “ مضراب “ کےآنے والے شماروں میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ ، محترمہ عالم آرا صاحبہ اور محترمہ شاہین رضوی صاحبہ اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے مضامین اور انکا کلام بھی شایع ہوجائے تاکہ “اردو انجمن “ کے ارکان عالمی اخبار کی ان ادیبوں اور سخنوروں اور شاعرات کی تخلیقات سے بھی محظوظ ہوتےرہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں سرور عالم راز سرور صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت اپنےتبصرے کو اس بلاگ میں شامل کرنے پر صرف کیا اور ہم سب کو انکی “ اردو انجمن“ سے مستفید ہونے کے لیے کہا ۔

    میں سرور عالم راز سرور صاحب اور انکی معاون محترمہ زرقا مفتی صاحبہ کی دل سے قدر کرتا ہوں کہ وہ اور انکے ساتھی اردو کی بے لوث خدمت کررہے ہیں ۔ مضراب رسالہ انتہائی قیمتی مواد ( خزانے ) کا حامل ہے مگر ہم سب کو مفت مل رہا ہے ۔

    ہم سب “ مضراب “ کے گذشتہ شماروں کو بھی پڑھ سکتے ہیں اور انکی مشمولات سے لطف اندوز ہوسکتے ہییں۔

    سرور عالم راز سرور صاحب کے تبصرے سے اس بلاگ کی افادیت اور اہمیت اور بھی بڑھ گئی ۔

    جہاں تک مضراب کے غالب نمبر کا تعلق ہے اس میں مجھے بشیر بدر کا مضمون جو انہوں نے غالب کی استفہامیہ شاعری پر لکھا ہے بے حد معلوماتی معلوم ہوتا ہے ۔ اس میں غالب کی استفہامیہ اشعار کی مثالیں اور انکی تشریحات بھی موجود ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں ۔

    اس شمارے میں ماہر القادری کا مضمون بھی پڑھنے کے قابل ہے مگر اس مضمون میں ماہر القادری نے یہ بات کہنےکی کوشش کی کہ غالب کی فارسی شاعری اسکی اردو شاعری سے زیادہ اچھی ہے مگر ماہر القادری صاحب نے غالب کی فارسی شاعری کی خاطر خواہ مثالیں اور انکی تشریحات نہیں پیش کیں جس کے باعث یہ مضمون ادھورا سے معلوم ہوتا ہے۔

    اس شمارے میں مجھے یوسف ناظم کا مزاحیہ قسم کا مضمون بھی پسند آیا ۔
    میں یوسف ناظم صاحب کی مزاحیہ نگاری کا ایک زمانے سے قائل ہوں ۔ یوسف ناظم صاحب حیدرآباد دکن کے ایک شہر جالنہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ میں اپنےبچپن میں ان کے والد ایوب وکیل اور انکے بڑے بھائی اور یوسف ناظم کو دیکھ اور سن چکاہوں ۔ یوسف نآظم نے جامعہ عثمانیہ سے ایم اے کیا اور اسی زمانے میں اپنے مضامین کی ندرت کےباعث شہرت حاصل کرلی ۔ انکا تذکرہ اردو کے مشہور کالم نگار مجتبیٰ حسین نے اپنے “سیاست اخبار حیدرآباد دکن کے “ کالموں میں کئی بار کیا ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں اس بلاگ کی نظامت کو 7 جنوری کے بعد جاری نہ رکھ سکونگا ۔ ا س لیے کہ میں اور میری بیوی اس دن تین ہفتوں کے لیے اسپین ( اندلوسیا ) جارہے ہیں تاکہ وہاں پر جرمنی کے برفیلے موسم سے چھٹکارا پاسکیں ۔
    اگر اسپین میں کمپیوٹر کی سہولت ملی تو میں کوشش کرونگا کہ اس بلاگ کو بھی دیکھ سکوں اور اسکے تبصروں کو پڑھ سکوں ۔

    مجھے یقین ہے کہ میری غیر موجودگی میں بھی اس بلاگ سے دلچسپی رکھنے والےمبصر اس میں اپنے تبصرے شایع کرتے رہینگے ۔
    یہ بلا گ اصل میں “ مضراب “ کے مدیروں کا ہے ۔ امید کہ میری غیر موجودگی میں وہ اس بلاگ میں ان تمام سوالات کا جواب دیتے رہینگے جنھیں اس بلاگ کے مبصروں نے اٹھایا ہے ۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  23. اسّلام علیکم اور اللہ حا فظ و ناصر برائے سفر اسپین، بھیّا منظور قاضی ،اور بھابھی صاحبہ ،میری دعا ہے کہ آپ کا یہ سفر آپ دونوں کے لئے وسیلہ ظفر ثابت ہو اور آ پ کو اسپین کی حدود میں برف باری سے نجات حاصل رہے اور واپسی پر جرمنی میں بھی برفباری بند ہو چکی ہو

    ابھی یہا ں ایڈمنٹن میں بھی برف باری بہت فراخی کے ساتھ جاری ہے ،یہ برف کا شہر ھے اور ہم ہیں دوستو ،کچھ نہیں کیا جاسکتا ہے کوئ ٹونا ،کوئ ٹوٹکا ،کسی کے دل کی دعا کچھ کار آمد نہیں ہو سکتی ہے اس ظالم موسم کو روکنے کے لئے،پوری دنیا کا بیس فی صد شفّاف پانی جمع کرنے کے لئے کینیڈا مینں یہ برف باری اللہ میاں نے لازم کر رکھّی ھے اس پر سے یہاں کے جابرانہ شہری قوانین ،یقین جانئے ہر ہر دن پاکستان یاد آ تا ہے

    یہا ں کا قانون ہے اپنے گھر سے باہر کی جمع شدہ برف صاحب خانہ کو خود صاف کرنی ہوتی ہے ،ورنہ سائیڈ واک پر اگر کوئ راہ گیر گر جائے تو ٹھیک ٹھاک جرمانہ بھرنا ہوتا ہے ،میں جب اپنے بیٹے کو یہ مشقّت ہر دوسرے یا تیسرے دن آ فس سے واپسی پرکرتے دیکھتی ہوں تو میرا دل اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ھے مگر کیا کرو ں ہم اللہ کی رضا میں راضی رہنے والے لوگ ہیں اس کی مر ضی تھی تو یہا ں کے برفزار میں آئے ہیں ،،چلئے مین تو اپنی رام کہانی سنانے بیٹھ گئ آپ بلکل

    ،بے فکر ہو کر سد ھارئے ہم سب ادب کے دلد ادہ بلاگی آپ کے اس بلاگ پر آپکی غیر موجودگی میں بھی حا ضر وناظررہنے کی بھر پور کوشش کریں گے

    دعاؤں کے ساتھ فی امان اللہ

    آ پ کی بجّو

  24. انشاللہ آپ کی خوا ہش کے عین مطابق اردو انجمن اور مضراب کے لئے بھی جلد لکھنے کی کوشش کروں گی

  25. میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کا ممنو ن ہوں کہ وہ اپنی نیک دعاوں میں مجھے اور میری بیوی کو شامل کررہی ہیں۔ اللہ انہیں اس کا نیک اجر دے : آمین

    جرمنی میں بھی اپنے اپنے گھروں کے اطراف کی برف کا ہٹادینے کا قانون موجود ہے اگر برف نہ ہٹائی گئی اور کوئی گھر میں آنے جانے والا اس برف میں پھسل کر گر جائے تو قانونی طور پر برف صاف نہ کرنے والے گھر کے مالک کو جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے میں اورمیری بیوی اس مشق کو بڑی باضابطگی سے جاری رکھتے ہیں اور ہرصبح ہمارا پہلا کام برف کی صفائی کرنا ہوتا ہے ۔
    ہماری غیر موجودگی میں ہمارے ہمدرد ہمسائے ہمار ے گھر کے اطراف کی برف صاف کردیا کرتے ہیں ( انکی غیر موجودگی میں ہم دونوں میا ں بیوی انکے گھر کے اطراف کی برف صاف کیا کرتے ہیں ) ۔

    میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اور محترمہ عالم آرا صاحبہ کا مشکو ر ہوں کہ وہ اس بلاگ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
    مجھے یقین ہے کہ زرقا مفتی صاحبہ ضرور مضراب کے آنے والے شماروں میں ان دونوں کی ادبی تخلیقات شایع کرینگی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب سے عرض ہے کہ غالب کے جس شعر کا ذکر انہوں نے اپنےتبصرے میں کیا ہے وہ یوں ہے :

    جان دی ، دی ہوئی اُسی کی تھی
    حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب جلدی میں اس شعر کو دو نوں بار ایک ہی طرح لکھکر پوچھ رہے ہیں کہ:
    “ قارئین بتائیں کہ آپ کو کیا اچھا لگتا ہے؟“

    اس پر غالب کا شعر یا د آیا کہ :
    پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
    کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا

    ایک سوال : کیا ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ آج کل کے دلّی والے “ کوئی بتلاو “ کہینگے یا “ کوئی بتلائے“ یا “ کوئی بتلادے “ کہنا صحیح سمجھینگے ؟

  26. فی الوقت میرا یہ آخری تبصرہ ہے اس لیے کہ میں اسپین جانے کی تیاریاں کررہا ہوں۔ انشا اللہ 28 جنوری کو جرمنی واپسی ہوگی۔

    “پھر ملینگے اگر خدا لایا “

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر یہ بلاگ بغیر کسی مزید تبصرے کے ختم ہوجائے تو کوئی بات نہیں اس لیے کہ“ مضراب “ بہر حال اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آپ سب کو علم و ادراک کا خزانہ مہیا کرتا رہے گا ۔۔ صرف اس کی ویب سائیٹ کو کلک کرنے کی ضرورت ہے۔
    امید ہےکہ“ مضراب “اور “اردو انجمن “ کے اربابِ اختیار آپ سب کی علمی تشنگی دور کرنے کی کوشش کرتے رہینگے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس بلاگ کے تمام پڑھنے والوں کو صحت اور تندرستی اور ذہنی اور جسمانی اور روحانی عافیت کی دعا کے ساتھ :
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  27. محترم قاضی صاحب ۔
    رب راکھا ، اللہ کرے آپ کی روانگی اور آمد بخریت ہو اور آپ کے وقت کا ہر ایک لمحہ پرسکون گذرے ۔ آپ کی کمی شدت سے محسوس ہوگی ، والسلام ۔

  28. محترم منظور قاضی صاحب سفر مبارک
    بسلامت رو ی و باز آئی

  29. عالمی اخبار کے بلاگ میں منظور قاضی کا تبصرہ مورخہ 25 مارچ 2011 حاضر ہے :

    میرے ڈلس ، ٹیکسس( امریکہ )کے کرم فرما جانب سرور عالم راز سرور صاحب نے 23 مارچ 2011 کو یہ پیغام نہ صرف مجھے بلکہ انکی اردو انجمن کے تما م ارکان کو بھجوایا ۔ اس پیغام کے ذریعہ انہوں نے یہ افسوسناک خبر دی کہ “چند ناگزیر اسباب کی بنا پر ( جس میں انکی عمر اور صحت کو بہت دخل ہے) اپریل 2011 سے مضراب کا اجرا معطل کیا جارہا ہے “
    سرور عالم راز سرور صاحب نے کہا کہ اس انتہائی معیاری رسالے کے اجرا کی معطلی کا ایک اور سبب “ اہل اردو کی
    عمومی بے حسی اور خاموشی “ ہے۔ انہوں نےکہا کہ“ متعدد گذارشات کے باوجود مضراب پر اظہا رِ خیال کرنے سے احباب گریزاں رہے“ ۔

    سرور عالم سرور راز صاحب نے حق گوئی اور بے باکی سے کام لیتےہوئے یہ تادیب بھی کی کہ : “ کم ازکم اخلاق اور تہذیب کا اقتضا یہ تھا کہ ہماری اس کوشش کو اردو کی خدمات کے حوالے سے دیکھکر اُس پر اچھے برے خیالات سے ہمیں آگاہ کیا جاتا ، لیکن افسوس کہ اہل اردو میں اتنی اعلیٰ ظرفی اور اپنی زبان و ادب سے محبت نہیں ہے کہ وہ تھوڑی سی زحمت اُٹھائیں “

    سرور عالم سرور راز صاحب نے امید ظاہر کی کہ “اگر حالات سازگار ہوئے تو مضراب پھر اپ کی خدمت میں حاضر کیا جائے گا“
    موصوف کا رومن میں لکھا ہوا یہ پیغام حاضر ہے :

    yaaraan-e-Urdu: tasleemaat!

    jaisaa keh aap jaante haiN seh-maahee Mizraab pichhle taqreeba” 5 saal se Urdu kee Khidmat meN sargarm rahaa hai. chand naa-guzeer asbaab kee binaa par (jis meN meree u’mr aur SeHat ko bohat daKhl hai) April 2011 se Mizraab kaa ijraa mu,attal kiyaa jaa rahaa hai. hameN afsos hai keh mustaqbil meN ham Mizraab ko seh-maahee jareedeh kee shakl meN shaaye’ naheeN kar sakeN ge. agar Haalaat ne ijaazat dee to waqta” fa-waqta” risaalah shaaye’ ho saktaa hai. us soorat meN aap ko e-mail se aagaah kar diyaa jaaYe gaa.

    is faiSileh kaa ek pehloo ahl-e-Urdu kee u’moomee beHisee aur Khaamoshee hai keh muta.a’ddid guzaarishaat ke baa-wujood Mizraab par iz^haar-e-Khayaal karne se eHbaab gurezaaH rahe. kam se kam aKhlaaq aur tehZeeb kaa iqtiZ^aa yeh thaa keh hamaaree is koshish ko Urdu kee Khidamt ke Hawaale se dekh kar us par achhe-bure Khayaalaat se hameN aagaah kiyaa jaataa. lekin afsos keh ahl-e-Urdu meN intee a’alee-z^arfee aur apnee zabaan-o-adab se muHabbat naheeN hai keh woh thoRee see zeHmat uThaaYeN.

    so ba-Sad afsos ham aap se ijaazat chaahate haiN. shikaayat se kuchh HaaSil naheeN. inshaa Allah agar Haalaat saazgaar huwe to Mizraab phir aap kee Khidmat meN HaaZ^ir kiyaa jaaYe gaa. aap kee nawaazisahaat ke liYe mamnoon hooN.

    Sarwar A. Raz “Sarwar”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ:
    میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھے مضراب کے اجرا کی معطلی پر بہت افسوس ہوا ۔ اس کے معطلی کی وجوہات میں سرور عالم راز سرور صاحب کی صحت اور جیسا کہ انہوں نے کہا کہ “ انکی عمر کو بھی دخل ہے “ ۔

    ان کا یہ کہنا بھی ایک حد تک درست ہے کہ اہل انجمن نے اس کوشش کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں کی ۔ حالانکہ یہ انٹرنیٹ پر مفت عطا کی گئی تھی اور اس میں سرور عالم راز سرور صاحب اور انکے معاونین جن میں عالمی اخبار کی ایک اہم رکن زرقا مفتی صاحبہ بھی شامل ہیں کی دن رات کی بے لوث محنت بھی شامل تھی ۔

    تعجب اور افسوس ہے کہ اردو کی ترویج اور ترقی کے لیے اتنی اہم خدمت کو کیوں اس قدر بے قدری کا شکار بنایا گیا۔

    جہاں تک مضراب کی پذیرائی اور تشہیر کا تعلق ہے اسے تو میں عالمی اخبار کے بلاگوں میں اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق کرتا رہا ہوں ( حالانکہ میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا رکن نہیں ہوں ) ۔

    میں اس طرح کے بلاگ مضراب کی تشہیر کے لیے لکھ چکا ہوں مگر افسو س صد ا فسوس کہ مضراب کی قارئین اور مضراب کی انتظامیہ نے میرے بلاگوں پر توجہ نہیں دی ۔ اور ان بلاگوں کو مضراب کی اشاعت اور اس کی مشمولات کی تشہیر کے لیے
    استعما ل نہیں کیا ۔

    اگر مضراب کی انتظامیہ اور اس کے قارئین عالمی اخبار کی اس نعمت سے فائدہ اٹھا کر عالمی اخبار کےبلاگوں میں یونی کوڈ اردو فانٹ میں لکھسکتے اور اپنے خیالات کو رومن کی بجائے اردو فانٹ میں تحریر کرنے کے قابل ہوتے تو نہ صرف مضراب کو بلکہ عالمی اخبار کی پڑھنےوالوں کے علم میں ضرور اضافہ ہوجاتا ۔

    عالمی اخبار کےاردو بلاگوں سے اتنی اجنبیت اور غیریت کا سلوک میرے لیے قابل تعجب ہے ، خاص طور پراس لیے کہ مضراب اور اردو انجمن کا مقصد بھی اردو کی بےلوث خدمت ہی ہے۔

    میری گذارش ہے کہ مضراب کے احبابِ اختیار اور مضراب کے تمام پڑھنےوالے مضراب کی اشاعت کو جاری رکھیں اور اگر سرور عالم راز سرور صاحب اپنی صحت اور عمر کی وجہ سے تھک گئے ہیں تو انکی انجمن کے ذمہ دار ارکان انکی ذمہ داری کو ایک دوسرےمیں تقسیم کرنےکی کوشش کریں ۔

    سرور عالم راز سرور صاحب سے یہی گذارش ہے کہ ہوسکے تو اپنے معاونین میں سے کسی ایک کو مضراب کی ادارت کی تعلیم اور تربیت دیتے رہیں تاکہ کسی وجہ سے وہ اگر مضراب پر اپنا پورا وقت دینےکے قابل نہ رہیں تو انکے ذمہ دار معاون مضرا ب کو جاری رکھیں ۔

    اللہ مضراب کو تاقیامت سلامت رکھکر اسے اردو کی خدمت اور اسکی ترویج اور ترقی کے مواقع عطا کرتا رہے: آمین

    میں جرمنی میں سب سے دور ہوں مگر میری دلی دعائیں اور نیک تمنائیں جناب سرور عالم راز سرور صاحب ( جنھیں میں ڈلس کے کئے مشاعروں میںسن چکا ہوں ) اور انکےمعاونین کے ساتھ ہیں :

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے
    manzoorquazi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *