اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والی مملکت کے وزیر داخلہ نے انتیس دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں صرف ایک بار ہی نہیں بلکہ تینوں مرتبہ قل ہو اللہ احد کی غلط تلاوت کی.
مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے
اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والی مملکت کے وزیر داخلہ نے انتیس دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں صرف ایک بار ہی نہیں بلکہ تینوں مرتبہ قل ہو اللہ احد کی غلط تلاوت کی.
مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے
ہمدانی صاحب
اس قسم کے مسائل قائدِ اعظم کے ساتھ بھی تھے۔ لیکن وہ ہزاروں حافظِ قرآن سے بہتر انسان تھے۔ ہاں یہ ضرور کہونگا کہ کہاں قائدِ اعظم اور کہاں ہمارے وزیرِ داخلہ۔ دونوں میں کم از کم زمین و آسمان کا فرق ہے۔
میرا خیال ھے کہ بی اے کی سند کی ظرح قران پاک کی تعلیم بھی قو می اسمبلی میں جانے کی لازمی شرط قرار دے دی جائے تو کم از کم ہمارے راہبر قران پاک بھی پڑھ لیں گے اللہ تبارک و تعا لیٰ ان کو قران پاک جیسی مقدّس کتاب کو سمجھنے کی بھی توفیق عطا کر دے آ مین
یہ وہ لوگ ہیں جنہوںنے سیاست میں سب کچھ حاصل کرلیا مگر دین کو بھول گئے۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہوا اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات ہو چکے ہیں ، وزیر موصوف اس میں بھی اپنی صفائی پیش کردیں گے کہ ”جہاں تک اجلاس میں تلاوت کرنے کا تعلق ہے اس کے لئے میں تیار نہیں تھا“ ، اب آپ (میڈیا والے) پورا قرآن سن لیں، وغیرہ وغیرہ
آج کچھ شور شرابہ ہے کل سب بھول جائیں گے پھر کوئی نیا ایشو ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترمہ بہن سیّدہ زائرہ عا بدی صاحبہ
قران پاک کی تعلیم، قو می اسمبلی میں جانے کی لازمی شرط قرار دے جائے یہ نہ
لیکن ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے، فرض ہے
“چوں ہمیں مکتب و ہمیں ملّا
کارِ طفلاں تمام خواہد شد “
۔۔۔۔۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
کوئ بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
مئے خانوں کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
(محسن بھوپالی)
کوئی گل نہیں … معاف کر دیں اسے .. یاد کر لے گا بیچارا .. بھول چوک انسانوں سے ہی ہوتی ہے .. آپ دیکھ لینا آئیندہ اجلاس میں صحیح پڑھے گا .. ہاں نا وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہو رہا تھا .. شکل پر آیا ہوا تھا سچی سے .. اچھا آپ سب پھر وڈیو دیکھیں..
بھیّا عبد المناف کاش کہ چودہ سو برس پہلے آنے والے اس حکم ربّانی کو ہم نے بھلایا نا ہوتا تو آ ج ہم پسماندگی درماندگی اور تہ دامانی کی اس سطح پر نا ہوتے جہا ں آ ج کھڑے ہیں
ہم نے قران پاک جیسی عظیم المرتبت کتاب کے احکا مات کو فراموش کر کے اپنے لئے جیتے جی جہنّم کی آگ خرید لی ہم نے مسلمان ہمسایوں کو چھوڑ کر یہو د و نصا ریٰ کی آغو ش کو اپنی جائے امان بنا لیا ،یہ سب قران پاک سے دوری کا نتیجہ ھے
اور ہمارے یہ وزیر سفیر آج کے ہمارے ر ہبران قوم کی بلکل صحیح نمائندگی کر رہے ہیں جن کی نا تو دنیاوی تعلیم ھے نا ھی دینی تعلیم آنے والے کل کی خبر اللہ ہی بہتر جان سکتا ھے کہ کیا ہونا ھے فی ا لحال تو ہمار ے مستقبل کی سیاست کی نرسری د بئ میں تیّار ہو رہی ھے ،ہمارے مستقبل کے صدر بھی دنیا کے اعلٰی ترین تعلیمی اداروں سےاسی طرح کی نام نہاد تعلیم سے تعلیم یافتہ تو ہوں گے لیکن قران پاک کی تعلیم سے نابلد ہوں گے ،اور جو قران پاک کی تعلیمات سے بے بہرہ ہوگا وہ شعور سے بھی نا بلد ہو گا
اللہ تعلیٰ کا فرمان ھے جس قوم کو اپنی حالت کے بدلنے کا خیال ناہو میں بھی اس کی حالت نہیں بدلتا ہوں ،
اسلام علیکم ساتھیو اللہ آپ سب کو خوش رکھے ۔
آپ لوگ بھی کس خوش فہمی میں ہیں ، کہتے ہیں کہ لکھی ہوئی سورت پڑھ رہے تھے ۔لہذٰ تحقیق ہوگی کہ کس نے غلط لکھ کر دی ۔
ہے کوئی جواب کسی کے پاس ۔نزلہ اس پر گرے گا جس نے لکھ کر دیا ،،یعنی ایک نہ شد دو شد ۔
ہمارے پاس تو سوائے اللہ سے توبہ مانگنے کے اور کوئی حل نہیں ہے ۔کہ اسمبلی ہمارے ہی ووٹوں سے بنی ہے ۔ بس آگے کو سوچ سمجھ کر ۔۔۔۔۔
اللہ میرے ملک پر رحم و کرم کرے ۔اور ہمارے گناہوں کو معاف کرے ۔ آمین
عالم آرا
امجد حیدرآبادی کی رباعی کا یہ شعر:
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہ گئی
نادان کو اُلٹا بھی تو نادان رہا
عالم آرا بہن ہماری آ ج کی اسمبلیا ں ہمارے ووٹو ں سے نہیں بنتی ہیں ،،خدا جھو ٹ نا بلوائے ووٹنگ کے روز رجال ا لغیب سوزوکیا ں بھر بھر کر لائے جاتے ہیں اور وو ٹ بھگتائے جاتے ہیں اور ہم عوا م اپنے اپنے گھروں میں جان کی امان مناتے ہیں ،،
گاؤں گو ٹھوں کی کیابات ھے ہر گھر کا مکین ان کا کمی ٹہرا مجال ھے جو کوئ اپنی مرضی سے ووٹ دے سکے یہ ھے ہما ری اپاہج قوم کی داستان ،،جس کو جب جس کا دل چاہےاپنی فصلیں بچانے کو سیلاب کا رخ موڑ کر ڈبو دے ،محترم ممبران نے انہی گاؤں اور گوٹھو ں کو ڈبویا جنہوں نے ان کو اپنے مقدّس ووٹ دے کر اپنا نجات دہندہ بنایا تھا
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
اسلامی جمہوریہء پاکستان کی قسمت میں یہ دن بھی رہ گیا تھا دیکھنے کو !
”جیسا رحمان ملک ویسے میری امام دین ٹائپ شاعری “
واہ رے اسلامی جمہوریہء پاکستان !
تیرے ’ اندر کا منتری ‘ بنا اک ’ رحمان ‘
زرداریوں ، گیلانیوں کے فَر فَر پڑھے فرمان
سٹپٹائے ، لڑکھڑائے جو پڑھنا پڑھے قرآن
انگریز کے ہے رنگ میں رنگا ہوا غریب
عربی نہیں ہے ہر گز اس کاٹھے کی زبان
دولت سے اس کو پیار ہے اور زندگی عزیز
کندھوں پہ موت سوار ہے تو گردن پہ طالبان
ٹکٹ ہے اس کی جیب میں اور دولت دیارِ غیر میں
صرف لُوٹنے کو آیا ہے دو دن کا یہ مہمان
کچھ تو گھٹا خدایا ، ہر بشر یُوں گِڑ گِڑایا
میری دھرتی پہ سیاہ یہ دھبے ، میری وطن کے امتحان
اسلام علیکم بجو مزاج بخیر
آپ نے ٹھیک کہا میں نے بھی طنزیہ ہی لکھا تھا کیونکہ ہمارے تمام وزراء خواتین وزراء اور ممبرانِ پارلیمنٹ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ ہمیں عوام نے ووٹ دئے ہیں ،ہم عوام کے ووٹ سے اقتدار میں
آئے ہیں ۔اور اگر اُن کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ عوام کی توہین نہ کرو ۔
اب یہ تو میں اور آپ اور ہم جیسے لوگ بھی نہیں جانتے کہ ووٹ کہاں سے اآتے ہیں ؟
مگر ہاں اقتدار میں ہمیشہ وہ لوگ ہی آتے ہیں جو جیتتے ہیں ۔
واہ بھائی اقبال کیانی بہت خوب ۔ خوش رہئے ۔
میری دھرتی پہ سیاہ یہ دھبے ۔میرے وطن کے امتحان
اللہ میری دھرتی کو ان دھبوں سے پاک کرے اور کوئی اچھا سا ڈرائی کلینر مل جائے ۔آمین
عالم آرا
ہا ،ہا ،ہا ،ہا اور آمین ثمّ آمین
السلام وعلیکم۔
روز مرہ ہمارے ارد گرد مشاہدے میں یہ باتیں موجود نظر آتی ہیں جنہوں کو سورۃ اخلاص یا اس سے بھی زیادہ نہایت قرت کے ساتھ پورا قرآن پاک بھی پڑھنا آتا ہے ۔ انہوں نے کیا تیر مارے ہیں ؟
خود کش بم دھماکے ۔ معصوموں اور بے قصوروں کو اغواہ قتل۔ فتنہ فساد ۔وغیرہ
ہمدانی صاحب نے چند سطروں میں سارے مولویوں کا نقشہ کینچھ دیا ہے ؟ شایدان چند حروف پر کسی نے توجہ نہیں کی؟
ُُ اس قسم کے مسائل قائدِ اعظم کے ساتھ بھی تھے۔ لیکن وہ ہزاروں حافظِ قرآن سے بہتر انسان تھے۔ُُُُ
ہمدانی صاحب نے اتنی قیمتی بات لکھ کردل خوش کردیا ہے ۔ ماشاللہ
وسلام آویز۔ برمنگھم
مجھے تو اس بیچارے کیمرہ مین کی فکر لاحق ہو رہی ہے، جس نے اس وڈیو کو یوٹیوب پر چڑھایا۔ اب تک تو اسے رحمن ملک کی ایجنسیاں غائب کروا چکی ہوں گی۔
مجھےجاوید اقبال کیانی صاحب کی “ امام دین ٹائپ شاعری “ ا س لیے پسند پے کہ اس میں طنز بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ خوش مزاجی اور بذلہ سنجی بھی :
جاوید اقبال کیانی نے فرمایا کہ ::
جیسا رحمان ملک ویسے میری امام دین ٹائپ شاعری “
واہ رے اسلامی جمہوریہء پاکستان !
تیرے ’ اندر کا منتری ‘ بنا اک ’ رحمان ‘
زرداریوں ، گیلانیوں کے فَر فَر پڑھے فرمان
سٹپٹائے ، لڑکھڑائے جو پڑھنا پڑھے قرآن
انگریز کے ہے رنگ میں رنگا ہوا غریب
عربی نہیں ہے ہر گز اس کاٹھے کی زبان
دولت سے اس کو پیار ہے اور زندگی عزیز
کندھوں پہ موت سوار ہے تو گردن پہ طالبان
ٹکٹ ہے اس کی جیب میں اور دولت دیارِ غیر میں
صرف لُوٹنے کو آیا ہے دو دن کا یہ مہمان
کچھ تو گھٹا خدایا ، ہر بشر یُوں گِڑ گِڑایا
میری دھرتی پہ سیاہ یہ دھبے ، میری وطن کے امتحان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں انکی اس مذکورہ بالا نظم کے چند الفاظ کی الٹ پھیر کرکے یہ کوشش کررہا ہوں کہ ان اشعار کا مضمون تو برقرار رہے مگر ساتھ ہی ساتھ ان اشعار میں کچھ نہ کچھ روانی بھی پیدا ہوجائے ۔ ( اس مشق کا مقصد صرف اور صرف الفاظ کی تبدیلی ہے ۔ اس کو عروض کی کسوٹی پر نہ نابا جائے تو بہتر ہے):
واہ رے اسلامی جمہوریہ ءپاکستان
تیرے اندر کا منتری بن گیا ملک رحمان
دھن والوں اور زرداروں کے یاد کرے فرمان
لڑکھڑ ا کر گرتا جائے جب پڑھنےلگے قرآن
انگریزی کے رنگ میں ایسا رنگا ہے یہ انسان
عربی نہیں ہے ہرگز اس جاہل کے بس کی زبان
دولت سے ہے پیار اسے اور اپنی جان عزیز
سر پر اس کے موت ہے طاری اور گردن پہ طالبان
اسکی جیب میں ٹکٹ ہے باہر کا، اسکی دولت ہے پردیس
لوٹ کھسوٹ کو آیا ہوا ہے یہ دو دن کا مہمان
مانگ رہا ہے پاکستانی اپنے دل میں یہ دعا
پاکستان سے مٹتے جائیں یارب یہ شیطان
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
بہت شکریہ جناب قاضی صاحب ، مجھے قوی یقین تھا کوئی نہ کوئی اس تُک بندی کو ضرور انوکھا رنگ دے گا اور آپ نے واقعی کمال دکھایا ہے ۔
ویسے اُس وقت جلد بازی میں لکھنے کے بعد میں نے اسے پھر ردوبدل کے بعد یُو ٹیوب پہ مختلف لوگوں کے تبصروں کے ہمراہ شامل کردیا کہ شاید رحمان ملک اور جاہلوں کے اس ٹولے تک پہنچ جائے ۔
۔۔۔
واہ رے اسلامی جمہوریہء پاکستان !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام کا گہوارہ ، میرا دیس یہ پاکستان
یہاں لال بجھکڑ منتری ، جن میں ایک رحمان
زرداریوں ، گیلانیوں کے فَر فَر پڑھے فرمان
لڑکھڑائے کبھی ہکلائےجو پڑھنا پڑھے قرآن
انگریز کے ہے رنگ میں رنگا ہوا غریب
عربی نہیں ہے ہر گز اس کاٹھے کی زبان
دولت سے اس کو پیار اور زندگی عزیز
کندھوں پہ موت سوار تو گردن پہ طالبان
ٹکٹ ہے اس کی جیب میں اور دولت دیارِ غیر میں
صرف لُوٹنے کو آیا ہے دو دن کا یہ مہمان
کچھ تو گھٹا خدایا ، ہر فرد یُوں گِڑ گِڑایا
میری دھرتی پہ سیاہ یہ دھبے ، میرے دیس کے امتحان
میرے وطن کی یہ دعا ، یا رب مجھے بچا
زرداری ہو گیلانی ، کوئی اعوان یا رحمان
جاوید اقبال کیانی صاحب نے اپنی نظم میں مزید جان ڈال دی : ماشا اللہ ، یہ جاوید اقبال کیانی صاحب کی نظم “ زرداری کی وصیت “ کی طرح ایک دلچسپ تخلیق ہے۔ اگر جاوید اقبال کیانی صاحب اسی طرح اپنی شاعری جاری رکھیں تو انکی نثر نگاری کی طرح انکی نظم نگاری بھی سونےپر سہاگہ بن جائے گی ۔
ایک گذارش ہے کہ وہ اپنے “ یوٹیوب“ کی لنک اس بلاگ میں لکھدیں تاکہ ہم بھی اسے دیکھ سکیں ۔
اگر “یو ٹیوب “ پر انکا کلام نہیں موجود ہے تو شائید “فیس بک“ پر ہوگا ، تو فیس بک کا پتہ بھی لکھدیں تاکہ ہم بھی انکی فیس بک کو پڑھ سکیں ۔
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
جناب منظور قاضی صاحب ،
بہت شکریہ قبلہ ، یُو ٹیوب پہ میں نے علحٰدہ سے نہیں بلکہ اسے مختلف لوگوں کی طرف سے اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز پہ تبصروں کے ہمراہ شامل کیا ہے ۔ اس کے لئے آپ صرف Rehman Malik Reciting ہی ٹائپ کریں تو بے شمار لنکس کھل جائیں گے ۔ ان میں سب سے زیادہ دیکھی گئی ویڈیوز کا انتخاب کرلیں ان میں یہ بھی دو پارٹس میں شامل ہوگی ۔ مثال کے لئے ایک دو لنکس یہاں شامل کررہا ہوں ۔
http://www.youtube.com/comment_servlet?all_comments=1&v=u_y9K53gaa4
http://www.youtube.com/watch?v=yfRrSvDEpKc&feature=related
اس تک بندی پہ ہمت افزائی کا بے حد شکریہ ۔