قا نو ن

نبی پاک(ص) کی زات مقدسہ  کا احترام ہم سب پر واجب ہے  اور خود ہمارے نبی (ص) یہ فرمایا کہ تمھارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو جاتا کہ جب تک تم مجھے اپنے مال اور اولاد سے بڑھ کر نہ چاہو.سو ثابت ہوا کہ نبی سے محبت دنیا کی ہر پیاری چیز سے بڑھ کر ہے.ہمارے ملک میں توہین رسالت قانون جو بنا بالکل ٹھیک ہے لیکن ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ یہ قانون عاید کن پر ہوتا ہےا یمان والوں پر یا کہ غیر ایمان والوں پر چلیں ہم نے یہ مان لیا کہ سٹیٹ کا قانون ہے اور سب پر لاگو ہے اس میں مسلمان اور غیر مسلمان بھی شامل ہیں اور فرض کیا کہ  کسی غیر مسلم پر یہ الزام عاید ہوا کہ خدانخواستہ اس نے یہ گستاخی کی ہے اب الزام کو ثابت کرنے کے لیے شرعی طور پر گواہوں کی ضرورت پیش اتی ہے اور شریعت کے مطابق گواہی بھی ان کی مانی جاتی ہے جن کی شہرت نیک ہو.خیر اپ سب میرے سے زیادہ پڑھے لکھے اور تجربہ کار لوگ ہیں اب میں اپنی موضوع کی طرف اتی ہوں قانون ہے کہ جو بھی نبی پاک  (ص) کی شان میں گستاخی کرے گا اس کی سزا سزایے موت ہے میں بھی اس کےحق میں ہوں کہ اگر میرے نبی  (ص)کی شان میں کویی ایسا کرے تو یقینا سزا پایے گا لیکن جب میں نے نبی پاک (ص) کی زندگی پر نگاہ دوڑایی تو مجھے ایک بوڑھی عورت اپ پر کوڑا پھینکتے ہویے نظر ایی لیکن اپ نے اسے معاف کر دیا اور یہ ہی نہیں بلکہ شہر طایف کی گستاخانہ حرکت کو  بھی معاف کر دیا   یعنی نبی (ص) نے اپنی زات مبارکہ پر ڈھایے جانے والے مظالم کو تو معاف کردیا  کیو نکہ وہ تو رحمت اللعالمین ہیں لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں اتی کہ  ایک طرف  نبی (ص)  کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا قانون میں تو شامل ہے لیکن نبی کی اولاد کا ایے روز جوقتل عام ہو رہا ہے سادات کشی کا بازار گرم ہے تو کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون میں قانون تحفظ زریت رسول  (ص)کی کیا کویی گنجا یش نہیں ؟ کیا اس گناہ کی  معافی نبی (ص) دے پاییں گے ؟؟؟؟؟

3 thoughts on “قا نو ن”

  1. سلام نادیہ….

    میں آپ کی بات سے متفق ہوں صحیح فرمایا آپ نے…..
    ………….کائنات کے سب سے مشکل کام رسول اللہ ص اور ان کی آل ع کے حصے میں آئے..
    سب سے زیادہ تکلیفیںبھی ان کے حصے میں آئیں…
    اور سب سے جاہل لوگوں پر مبنی امت بھی ان کے حصے میں آئی…..
    ا ِس امت کی جہالت پر ماتم کرنے کادل کرتا ھے… اُس امت سے کوئی بعید نہیں کہ جس نے
    یزید لعنہ کے پالے ہوئے علمائے شام کے فتووں کو بنیاد بنا کر……
    رسول (ص ع وو) کے نواسے کا گلا نعرہ تکبیر لگا کر عین ِ اسلام سمجھ کر کاٹا ہو…..

    ہائے رے امت وائے رے امت…

    والسلام…..

  2. نادیہ تمہاے دوبارہ جلوہ افروز ہونےپر بیحد خوشی ہوئ ۔ تم پھر اوکلا ہوما کب آرہی ہو۔

    انسان کیلئے اپنے آپ سے زیادہ عزیز اپنی اولاد ہوتی ہے۔ خود انسان بھوکا رہ سکتا ہے لیکن بچوں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتا۔ اُنکا پیٹ بھرنے کیلئے وہ چوری کرتا ہے، ڈاکے ڈالتا ہے قتل کرتا ہے۔ جہاں تک اولادِ رسول کا تعلق ہے تو رسول کی اولاد پر میری محدود معمولی معلومات کی حد تک اِن پر آج تک غیر مسلموں نے کبھی بھی ظلم نہیں کیا۔ اسکی وجہ مسلمانوں کا عدم اتحاد ہے۔ کوئ بھی مسلمان دوسرے مسلمان پر ظلم پسند نہیں کرتا۔ یہ دیکھنے کیلئے سب سے اچھی جگہ حج ہے جہاں ہر مسلمان بلا تفریقِ زبان، نسل اور مسلک بغلگیر ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں عدم اتحاد کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ جس معاشرہ میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے وہاں Clergy کا زور ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں آپس کی غلط فہمی، تفرقہ، عدم بردشت اور عدم اتحاد کی وجہ ہماری Clergy اور نیم ملّا ہیں۔ اختلاف رائے صحتمند عمل ہے لیکن تفرقہ غلط بات ہے۔ میں عالمی اخبار میں ڈاکٹر نگہت نسیم کو اتحادِِ بین المسلمین کی داعی سمجھتا ہوں۔ اس درسگاہ سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ اختلاف کی بات کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن اتحاد کا پیغام پھیلانے کیلئے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جسکا ہمارے معاشرہ میں فقدان ہے۔

  3. اہل البیت علیھم السلام کی زندگیاں سدا ہی ظلم و ستم کا نشانہ رہی ہیں، لیکن انکی ہمیشہ تمام تر توجہ اہل ایمان کی علمی تربیت پر ہی مرکوز رہی ہیں۔ آج بھی اگر مسلمان باب شہر علم سے متصل ہو جائیں تو ہماری مشکلات کا حل نکل سکتا ہے، ورنہ یہ قتل و غارتگری یونہی جاری رہے گی اور لوگ نہ قاتل کے حق میں فیصلہ کر سکیں گے نہ مقتول کے۔
    ظفر جعفری صاحب کی تعلیم کے حوالہ سے بات صد فیصد درست ہے اور تمام مسائل کا حل دنیاوی و دینوی تعلیم ہے۔ صرف ایک کے حصول سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت یہی ہے کہ ہر مسلمان اپنی حسب ضرورت دین کا علم بھی رکھتا ہو اور دنیا کا بھی۔ کم از کم جتنا علم دنیا کا ہم حاصل کرتے ہیں اتنا ہی دین کا بھی تو کریں۔ پھر کسی مُلا ملوانے کی مسلمانوں کی ضرورت نہیں رہے گی اور کئی تفریقی مسائل خود ہی صوابدید علمی و تقابلی جائزہ کے سبب سے حل ہوتے چلے جائیں گے، انشاء اللہ۔
    جہاں تک قانون سازی کا تعلق ہے تو وہ تو بقدر ضرورت پہلے ہی موجود ہے، اصل ضرورت اسکے نفاذ کی ہے۔ لیکن اکثر ہوتا یہ ہے کہ طاقتور کے لئے کوئی قانون نہیں اور کمزور کے لئے پورا آئین بلائے جان بن کر آن کھڑا ہوتا ہے۔ یہی سلمان تاثیر کا معاملہ دیکھ لیں۔ اگر کوئی اسکو کچہری میں لانے کی تدبیر کرتا تب تک وہ ہوا ہو چکا ہوتا۔ بلکہ وہ تو مسلسل ماورائے عدالت اقدام و بیان میں اسقدر مگن تھا کہ اسے کچھ اور سوجھا ہی نہ۔ ان حالات میں کمزور کے پاس جو ہتھیار رہ جاتا ہے وہ راست اقدام کہلاتا ہے۔ اسی سبب سے دنیا بھر میں بے امنی اور بد انتظامی موجود ہے۔ دنیا بھر کی انقلابی تحاریک اور آزادی کی تحریکوں میں گوریلا جنگ کو عالمی قوتوں نے اسی اصول کے تحت ترویج دی کی یہ کمزور کا ہتھیار ہے۔ لیکن آج یہی کمزور ہتھیار جمع کرتے کرتے کچھ اور بن گیا ہے۔ اس لئے جب تک صاحبان حیثیت کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کر دیا جاتا تب تک یہ بد امنی اور قتل و غارتگری یونہی جاری رہے گی، کبھی کسی نام پر اور کبھی کسی نام پر۔ ایسا کب ممکن ہے؟ اسکا جواب وہی ہے جو ظفر جعفری صاحب نے لکھا کہ اسکا واحد حل تعلیم ہے۔
    اب تعلیم کس طرح پھیلائی جائے؟ یہ ایک الگ سوال ہے۔ اسکے سوا سو طریقے ہونگے، لیکن کار آمد ہوتا ایک بھی نظر نہیں آتا، سوائے اس کے کہ ہم کم از کم اپنی تعلیم توجہ دیں۔ صرف دنیا کی جامعات کی ماسٹرز و ڈاکٹریٹ کی سندیں کافی نہیں۔ ہمیں اب خود کتب تاریخ و حدیث اور تفسیر کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ نہ صرف مطالعہ بلکہ ایک تقابلی مطالعہ جس میں فرائق متحاربہ کی کتب کا مطالعہ ہمیں حقائق کے قریب تر کر سکتا ہے۔ ہمیں بخاری بھی پڑھنی ہوگی اور بحار الانوار بھی۔ ہمیں من لا یحضر الفقیہہ پڑھنی ہوگی اور ساتھ ہی مشکوات شریف دیکھنا ہوگی۔ ہمیں نہج الفصاحت و بلاغت دیکھنا ہونگیں۔ ہمیں صحیفہء سجادیہ پڑھنا ہوگا، دعا کی غرض سے نہیں، اس کے معارف کی غرض سے۔ ہمیں تفسیر کبیر، در منثور اور تاریخ کے ساتھ ساتھ تفسیر میزان اور تفسیر نمونہ کا مطالعہ خود کرنا ہوگا۔ ہمیں حیات القلوب اور حلیت المتقین جیسی کتب خود پڑھنا ہونگی۔ پھر جا کر کہیں آسان ہوگا کہ ہم خود اپنا مواخذہ کریں کہ ہم مؤمن ہیں یا کچھ اور۔ اپنا پنا احتساب کرنا اس سے کہیں بہتر ثابت ہوگا کہ ہم ان کا احتساب کریں جن پر ہمیں کوئی قوت عطا نہیں کی گئی۔

Comments are closed.