میں چاہتا ہوں کہ آج مجھ پر فتویٰ لگے آج مجھے سنگساری کا کہا جائے شاید میرے گناہ دھل جائیں ، میں کون ہوں میں ایک اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کا باشندہ ہوں جسے آج ساری دنیا میں لعن طعن کیا جا رہا ہے ، کس لئے ؟ صرف اسکی اسلام سے وابستگی کے لئے ، میں بہت عجیب ہوں ، نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھتا ، پڑوسی سے لیکر ماں باپ کے احترام کے اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے میری جان جاتی ہے ، سود میری کمائی کی جان ہے ، بے حسی اور بے غیرتی میرے شعار کا حصہ ہیں ، بے حیائی مجھے پسند ہے ، میں مردوں کو آزاد اور عورتوں کو کپڑوں اور حیا سے آزاد دیکھنا چاہتا ہوں ، مجھے مغربی جمہوریت پسند ہے ، میرے ہیرو دنیا بھر کے یہودی ہیں ، امریکا اور یورپ میری منزل ہیں اور پیرس اور لاس ویگاس کے کیسینو اور کلبز میری تفریح ہیں
مگر میں پھر بھی مسلمان ہوں ، ساری دنیا سے نرالا مسلمان ، نہ عربوں کی طرح عیاش ہوں ، نہ ایرانیوں کی طرح انقلابی ، نہ ترکوں کی طرح سیکولر اور نہ ہی سوڈانیوں کی طرح نسل پرست ، میں مسلمان ہوں ، جھوٹ بولنا میرا شیوہ ہے ، حرام کی دولت میرا میوہ ہے ، رشوت اور اقرابا پروری میرا خاصہ ہے ، بد دیانتی اور بد خوئی میری پہچان ہے ، وطن فروشی اور ضمیر فروشی میری سرشت ہیں ۔ ۔۔ ۔ مگر میں مسلمان ہوں
میں مسلمان ہوں ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کو آخری نبی مانتا ہوں ، اللہ کو ایک اور دین اسلام کو مکمل ضابطہ حیات سمجھتا ہوں ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کی شان میں کوئی گستاخی کرے میرا خون کھول جاتا ہے ، میں ۔۔ ۔ اپنے آپ میں نہیں رہتا ، میں گستاخ رسول کو اسی وقت واصل جہنم کرنا چاہتا ہوں ، اور موقعہ ملنے پر کر گزرتا ہوں ، کیونکہ مجھے ہر چیز سے زیادہ ناموس رسالت صلی اللہ و عیلہ وصلم عزیر ہے ۔ ۔۔ ۔ اور توہین رسالت کی سُن گُن ملتے ہی میں مرو یا مار دو کا جذبہ لے کر نکل پڑتا ہوں
میں یہ سب کر سکتا ہوں ، مگر اسوہ رسول صلی اللہ و عیلہ وصلم پر چلتے ہوئے پتہ نہیں کیوں میری جان نکل جاتی ہے ، نبی صلی اللہ و عیلہ وصلم کو غربت پسند تھی مجھے امارت پسند ہے ، بھلا اس میں نبی کی کیا توہین ہے ؟ ، نبی کمزوروں کا ساتھ دیتے تھے میں طاقتوروں کے ساتھ ہوں ، اس میں بھلا کیا توھین ہے ؟ نبی کو صدقہ خیرات دینا پسند تھا مجھے لینا پسند ہے بھلا اس میں کیا نوہین ہے ؟ نبی کو مساوات پسند تھی ، مجھے اپنی ذات پسند ہے تو اس میں کیا توہین ہے ؟ مختصر اطعیواللہ اور اطعیوالرسول پر اگر عمل نہیں کرتا تو اسکا مطلب یہ تھوڑا ہی ہے کہ میں اللہ کو نہیں مانتا اور نبی سے محبت نہیں ؟
اگر پھر بھی کوئی سمجھتا ہے کہ میں گناہ گار ہوں ۔ بدکار ہوں سیاہ کار ہوں تو پھر سب کو دعوت ہے کہ مجھے سنگسار کریں ، اور عبرت کا نشان بنا دیں ،اور اگر یہ سب کچھ آپ اپنے اندر بھی سمجھتے ہیں تو پھر خود کو توھین رسالت کا مجرم سمجھیے اور اپنی سزا خود متعین کریں ۔ ۔۔ ۔ ۔
اس مملکت خداداد میں جس کا نام پاکستان ہے ، اسلام ایک کھلونا بنا ہے ، جس سے ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے کھیل رہا ہے ، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسی نام پر قائم رہے گا انشااللہ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے ایک سیکولر ملک کا خواب دیکھا تھا تو مجھے صرف اس بات کا جواب چاہیے کہ اگر سیکولر ہی رہنا تھا تو ریاستی خودمختاری میں سب کچھ مل جاتا ، ١٩٤٥ کے انتخابات اور پھر مسلمانوں کے جداگانہ انتخابات کافی تھے ۔ ۔ ۔۔ میں اس دیس میں قدرت کا کھیل دیکھ رہا ہوں ، کہ کس طرح سے اس ملک کو دنیا کی نظروں میں لایا جا رہا ہے تا کہ دنیا جان لے کہ بظاہر ماڈرن اور الٹرا ماڈرن نظر آنے والا مسلمان کبھی بھی ممتاز قادری بن سکتا ہے ، اور پھر کسی بھی سلمان تاثیر کو اڑاسکتا ہے ، اسکے ممتاز قادری بننے کے لئے اس کا صرف نام کا مسلمان ہونا ہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ میں بھی شاید ایسے ہی مسلمانوں میں سے ہوں
میری ایک پرانی شاعری ہے (میں خود کو شاعر نہیں کہتا کہ وزن میں شعر کہنا میرے لئے ناممکن ہے مگر لکھتا ہوں ضرور )
یہ آج سے تقریباَ چار سال پہلے لکھی گئی تھی جس میں ملک کے حالات پر لکھا تھا جب پی پی کی حکومت بنی تھی ، جو رنگ مجھے نظر آیا تھا وہ لکھا شاید اب یہ وقت آنے والا ہے
سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا
اس دور میں ہونا ہے یہ، ہو کے رہے گا
مصلوب بھی ہو گا وہ ، سولی بھی چڑھے گا
وقت کے فرعون کو جو حق بات کہے گا
“ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“
ظلم ہے سہنا اسے تو ظلم سہے گا
مایوس نہیں ہوں میں ، یقیں ہے سحر کا
اظہر یہ بت ڈھہے گا ڈھہے گا ڈھہے گا

بھائی اظہر الحق صاحب ! آپ نے حق ظاہر کردیا ہے،
ماشاء اللہ، آپ نے ہمیں اپنے گریبان میں چھانکنے پر مجبور کردیا، آپ کی کہی ایک ایک بات درست ہے۔
ہمارے ایک استاد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ :
“پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کے کسی قاتل، ڈاکو کیا کنجر کے سامنے بھی کوئی اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جسارت کرے تو وہ بدمعاش بھی اس کا سر پھاڑ دے، اسے قتل کر دے گا”، ہم میں سے اکثر طلباء استاد جی کی اس بات پر فخر سے پھول جاتے تھے، کہ ہم کتنے غیرت مند مسلمان ہیں، لیکن ایک دن استاد جی نے اپنی بات کی تشریح بھی کردی کہ اس میں فخر کی کوئی بات نہیں بلکہ یہ تو شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم نے اسلام صرف گستاخِ نبوت کو قتل کردینے ہی کا نام سمجھ رکھا ہے، یہ غیرت نہیں بلکہ جہالت اور حماقت ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو فرسودہ سمجھ کر نظر انداز کردیں، فرنگی کی پیروی ہی کو مہذب ہونے کی نشانی سمجھیں، دین سے اتنے دور ہو جائیں کہ ملک میں نہ اسلام اور نہ اسلامی نظام کا کہیں دور دور تک نام و نشان ہے، ہماراحکمران طبقہ آج بھی انگریز ہے (سوائے شکل و صورت کے)-
استاد صاحب کی اس آخری بات کی تصدیق اس وقت ہو گئی جب حکومت کے ایک نمائندہ نے سورہ توحید کی غلط تلاوت ڈھٹائی سے دنیا کے سامنے ٹی وی پر کی اور مزید ڈحٹائی سے کہا کہ “دیکھیے، آپ اس کو اِشو نہ بنائیں”
صرف اسی ایک وزیر کی غلط تلاوت کی بات نہیں جس کا راز فاش ہو گیا بلکہ یہ تو ہم سب کی کہانی ہے، مجھ سمیت کتنے میرے مسلمان بھائی اور بہنیں آج دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ “ہم نے تجوید سیکھی ہے” وغیرہ۔ کیوں کہ اسلام صرف قران کی درست تلاوت ہی کا نام نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے درست تلاوت سیکھنی فرض ہے۔
بھائی اظہر الحق ! آپ کی تحریر میں مجھے اپنے ان استاد صاحب کی آواز سنائی دی ہے- آپ کا ایک ایک جملہ بار بار پڑھے جانے اور غور کرنے کے لائق ہے لیکن درج ذیل دو باتوں پر تمام قارئین کو خصوصاً دعوتِ فکر ہے . . . . .
“اگر یہ سب کچھ آپ اپنے اندر بھی سمجھتے ہیں تو پھر خود کو توھین رسالت کا مجرم سمجھیے اور اپنی سزا خود متعین کریں ۔ ۔۔ ۔ ۔”
“کس طرح سے اس ملک کو دنیا کی نظروں میں لایا جا رہا ہے تا کہ دنیا جان لے کہ
بظاہر ماڈرن اور الٹرا ماڈرن نظر آنے والا مسلمان کبھی بھی ممتاز قادری بن سکتا ہے ، اسکے ممتاز قادری بننے کے لئے اس کا صرف نام کا مسلمان ہونا ہی کافی ہے”
میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ بہن نادیہ بخاری کا 8جنوری کا بلاگ “قانون” صرف تین ہی تبصروں کے بعد بند کردینے کی وجہ سے مطلع فرمایا جائے-
میری نظر میں ایک نہایت معقول سی گفتگو تھی- کسی تعصب یا کسی جھگڑے وغیرہ کی دور دور تک کوئی بُو نہ تھی، نہ کسی کی توہین یا دل آزاری کا کوئی پہلو نظر آیا نہ ایسی کوئی بھی قابلِ اعتراض بات جو بلاگ کو بند کردینے کی مجبوری بنی ہو . . . . ؟ ؟
یہ ساری وہ تلخ حقیقتیں ہیں جو صرف پاکستان ہی کا مقدر نہیں بلکہ تمام مسلم امہ پر زوال کا منظر ہے ..اور یہ سب ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں کہ ہم نے اسلام پڑھا ضرور لیکن اپنے لئے عمل کی راہ نہیں نکالی ..یہی وہ المیہ ہے جو غفلت کی سزا بن کر ہماری روحوں کو چاٹ رہا ہے .. ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل سکتے ہیں .. چلئے آج سے ہم کوئی نیکی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں ..اپنے گناہوں کی توبہ استغفار کرتے ہیں .. ہمارا رب بہت ہی بخشنے والا اور رحیم ہے .. وہ ہمیں ضرور سیدھی اور سچی راہ دکھائے گا ..
آیئے آج سے ہم خوش اخلاق ہو جاتے ہیں ..کشادہ دل ہو جاتے ہیں .. صبر اور تحمل کی راہ نکالتے ہیں .. گھر میں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں .. ایک دوسرے کو سنانے کی بجائے صرف سنتے ہیں اور کوئی نتیجہ نکالنے کے لئے بلکہ بے غرض ہو کر اس نیت سے کہ اگر اچھی بات ہوئی تو مان لیں گے .. آیئے کچھ نیکیوں کے پھول اگاتے ہیں .. اپنے دین کی خوشبو سے خود کو مہکاتے ہیں .. کوشش کر کے وضو اور نماز کادھیان رکھتے ہیں .. ایسی کتنی ہی اور بے شمار بنیادی باتیں ہیں جو ہمارے عمل میں نہیں آئی .. آیئے آج سے سوچتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کا احساس دلاتے ہیں اور پھر مل جل کر اس کو اپنے عمل میں لاتے ہیں .. انشاللہ ..یقینا ہم دنیا تونہیں لیکن اپنے اطراف کو مہکا سکتے ہیں .. اطراف کے لوگ اپنے اطراف کومہکا دیں گے .. کیوں نہ وہ وہ بارش کا پہلا قطرہ ہم بن جائیں ..
لیجئے میرے بہن بھایئو میں نے سوچا ہے کہ میں انشاللہ، اللہ کریم کی مدد سے آج سے کشادہ دل ہونے کی کوشش کرونگی .. میں اپنے تمام بہن بھائیو سے التجا کرتی ہوں کہ انہیں اگر میری کسی بات سے .. میرے لکھے سے .. میرے عمل سے کبھی بھی رنج اور تکلیف ہوئی ہو مجھے اپنی کشادگی دل کی بدولت معاف فرما دیں .. اور جو مجھے کبھی کسی سے رنج و تکلیف ہوئی ( یقین کیجئے مجھے یاد نہیں کبھی ایسا ہو اہو) میں سب کچھ معاف کرتی ہوں .. اور آج سے اپنے مطالعہ اسلام کو وسیع کرنے کی پوری کوشش کرونگی ..
آپ سب بھی لکھئے کہ کونسی نیکی آپ اپنے عمل کا حصہ بنانا چاہتے ہیں .. انشاللہ جب ایک نیکی ہمارے عمل کا حصہ ہو جائے گی توباقی بھی آہستہ آہستہ ہماری عادت ہو جائے گی .. انشاللہ ..
سوچتی ہوں آخر کب تک ہم صرف اپنے اندر کی برائیوں کا ہی زکر کرتے رہیں گے .. کیوں نہ ان کے تدارک پر بھی بات کی جائے .. اور کوشش کر کے ایک دوسرے کی مدد سے خود کو سنوارنے کی بھی سعی کی جائے .. اللہ کریم ہم پر اپنے اپنی مہربانیوں کا سایہ رکھے ..آمین
شکریہ اظہر بھائی
مناف بھائی کے مراسلے کے بعد پچھلے کسی بلاگ میں میں نے بھی کچھ ایسا ہی لکھا تھا۔
پھر دہراتی ہوں کہ ہمارے اعمال شاید ہی ہمیں روزَ محشر حضور پاک ص کی شفاعت کا حقدار بنا سکیں ۔ ہماری محبت کی گواہی ہمارے اعمال ہی دیں گے نہ کہ ہماری شدت پسندی۔
عام مسلمانوں کا مسلہ یہ ہے کہ وہ اسلام کو ایک ہمہ گیر اور عملی مذہب نہیں سمجھتے۔ اسلام کی پابندی صرف نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا حج عمرہ کرنے سے نہیں ہو جاتی ۔
میں حیران ہوتی ہوں کہ ایسی خواتین درسِ قرآن دے رہی ہیں جن کے گھر میں لیز شدہ گاڑیا ں کھڑی ہیں۔ ادھیڑ عمر خواتین نے خود تو حجاب کر لیا ہے مگر ان کی جوان لڑکیاں مخلوط اداروں میں بے پردہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں یا پھر ملازمت کر رہی ہیں۔برقع پوش نوجوان لڑکیاں موبائیل فون کی سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے نجانے حیا کی کو ن کون سی دیوار پھلانگ جاتی ہیں۔ ہمارے اکثر تاجر ناجائز منافع خوری سے یا جھوٹی قسمیں کھا کھا کر مال کماتے ہیں اور پھر اسی مال سے عمرہ کی ادائیگی کے لئے چلے جاتے ہیں یا کسی مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈال دیتے ہیں۔ ماتھے پر محراب ہوتے ہیں اور زبان پر جھوٹ۔ یہ ہمارا دوغلا پن ہی ہے جس نے ہمارے معاشرے کو تقسیم کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہم سب کو باعمل مسلمان بننے کی توفیق عطا کرے۔
والسلام
زرقا
اظہر بھیّا ٹھیک کہ رہے ہیں یہ بت پاش پاش ہونا ہے کیوں کہ سرکاری میکدوں سے پی کر نکلنے والے مدہوش حاکمو ں نے دیکھ تو لیا ہو گا کہ کراچی میں سرفروشان دین کس طرح کفن باندھ کر ناموس دین کی حفاظت کے نام پر جمع ہوئے ،کیوں نہیں بارود سے بھرا ٹرک اس مجمع کو منتشر کرنے کو بھیجا کیونکہ معلوم ھے نا ں ،اچھّی طرح سے معلوم ھے کہ اگر چھیڑا تو پاکستان کے ہر ہر بچّے اور ہر بزرگ کا نام ممتاز حسین قادری ہی ہوگا ،اور پھر اسلام آباد کے پر شکوہ ایوان زمیں بوس ہو جائیں گے
،،یہو دی آقاؤں کی آغو ش میں پلنے والے، خنزیر کا گوشت کھانے والے ،غیر ملکی شرابیں پینے والے جوا خانوں میں اپنی عمریں گزارنے والے ہمارے زار تو ہیں لیکن باقی تمام کے تمام وہ ہیں جن کے ہاتھوں میں اتنی استقا مت ہے کہ وہ اپنی نہتّی انگلیوں سے اپنے ناموس دین کی حرمت کے داغدار کرنے والوں کے دیدے نکال کر ان کو نا بینا کر دیں
اب دنیا کچھ کہتی رہے اللہ سے حساب کتاب رکھنے والے دنیا سے بے خوف تو ہوتے ہی ہیں ،،
اسلام علیکم محترم ساتھیو اللہ آپ سب کو خوش رکھے
محترم اظہر الحق صاحب بہت ہی دعوتِ فکر دیتا بلاگ ہے ،اور حقیقت سے اتنا قریب کہ اگر خود کو اس پر پرکھنے کی کوشش کریں تو شاید سانس لینا بھی مشکل ہو ،مگر بات یہ ہے کہ ہم من حیث القوم خود کو ان باتوں پر پرکھنے کے قابل نہیں سمجھتے بس دوسروں کو پرکھنے کا شوق رکھتے ہیں ،اور شاید یہ ہی وہ بات ہے جو ہمیں اپنی کمزوریوں کو دور نہیں کرنے دیتی ۔ اگر کوئی ایک چیختا ہے چور چور تو سب اس کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں چور چور چیختے ہوئے بلا تحقیق کہ واقعئی چور ہے بھی کہ نہیں ؟میرا اشارہ کسی کی بھی طرف نہیں ہے عام بات کر رہی ہوں ۔
مگر میں سمجھتی ہوں جب کچھ لوگوں کو چاہے وہ ایک چھوٹی سی جماعت ہی کیوں نہ ہو حق کہنے اور حق سمجھنے کی توفیق ہو جائے تو وہ دن دور نہیں ہوگا جب ہم اپنا مقام پھر سے اسی عزت اور عظمت کے ساتھ حاصل کر لینگے ۔انشاء ا للہ ۔کاش ہم حُسنِ خُلق کو سمجھ سکیں کہ میرا پاک اور پیارا نبی حُسنِ خُلق کا ایسا منبع تھا جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی اور ہم اُمتی ہیں اُس سراپا محبت اور اخلاق کے ۔ہماری جانیں قربان پیارے نبی اور اٰلِ نبی پر ۔جتنے تبصرے کئے گئے انتہائی سبق دیتے ہوئے ہیں ، اور غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ۔ جزاک اللہ خیر۔
ایک خیال لکھا تھا سال بھر پہلے ۔
حزن و ملال دل کی آمجگاہ ہوئے
یہ سوچ کر کیا تھے ہم آج کیا ہوئے
اخلاق دور دور ہے اقدارد ور دور
جو جاگزیں تھے ہم میں وہ کردار کیا ہوئے
اغیار کی نقل کی اپنوں کو چھوڑ بیٹھے
اب سوچتے ہیں سارے راہوار کیا ہوئے
بدلے ہیں ہم نے پیکر شرم و حیاء کے دیکھو
ننگے بدن ہیں سارے لباس کیا ہوئے
انسانیت بھی سوئی چادر لپیٹ دیکھو
جاگے ہیں بھیڑئے سب گلزار کیا ہوئے
تھی جن کے دم سے رونق بزمِ جہاں کی دیکھو
خاموش ہو گئے ہیں الفاظ کیا ہوئے
پر یہ نہیں ہے جائز ظلم و ستم یوں سہنا
جو ہم میں تھے وہ سارے حصار کیا ہوئے
تقدیر قوم و ملت بنتی ہے اک ادا سے
سچائی کے وہ حامل اشعار کیا ہوئے
خود ہی تو کھول بیٹھے ہیں اپنی ردائیں ہم
کیوں پوچھتی ہو سارے شعار کیا ہوئے
ہے لازم عالم آرا کہ سوچ لیں یہ ہم سب
ہم ہی میں تھے وہ سارے دلدار کیا ہوئے
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور ہم سب کو سچا اور اچھا مسلمان بنا دے ہماری نیکیاں قبول کرے اور ہمارے دل نبی مھترم کی محبت سے سرشار رکھے اور ہمیں اسوئہ حسنہ پر عمل کرنے والا بنا دے آمین
کوئی بھی جملہ بارِ خاطر ہو تو میری کم علمی سمجھ کر در گزر کیجئے گا ۔
عالم آرا
السلام علیکم۔
محترم عبدلمناف کی طرح مجھے بھی اس بات کی شکایت ہے ؟
———————————————————————————————————————
میری انتظامیہ سے درخواست ہے کہ بہن نادیہ بخاری کا 8جنوری کا بلاگ “قانون” صرف تین ہی تبصروں کے بعد بند کردینے کی وجہ سے مطلع فرمایا جائے-
———————————————————————————————————————-
ہر بلاگ انتظامیہ کی سنسر شپ اور ان کی نظروں سے گزر کر جاتا ہے اور ان کی مرضی ہی سے بلاگرز کا تبصرہ بلاگ میں لگاتے ہیں ۔
بلاگ کو بند کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے ؟
میں نے ایک بار پہلے بھی شکایت کی تھی مگر وہ شکایت بھی انہوں نے بلاگ میں نہیں لگائی ؟
ابھی تک درجنوں بلاگ ایسے کھلے ہیں جن کی کوئی اہمیت بھی نہیں ۔ مگر نہایت قیمتی بلاگ کو بند کردینا مناسب نہیں ۔
وسلام ۔
آویز ۔ برمنگھم
احباب محترم اس بلاگ میں بات اسی کے موضوع پر ہی رکھی جائے تو اسکا حُسن قائم رہے گا۔ جو بلاگ بند ہو چکا اس کی بابت مزید بحث کی گنجائیش نہیں ہے، اس کے لئے آپ سب کے تعاون کا بیحد شکریہ۔ اگر کسی کی تکلیف کا باعث بنا تو بھی ہم سب سے معذرت خواہ ہیں۔
گناہ گار
انتظامیہ
محترم اظہر الحق صاحب ،
آپ نے بہت ہی جذباتی بلاگ شروع کیا ہے جس کی ایک ایک سطر قابل غور اور تبصرہ ہے لیکن بات مختصر کرنے کی کوشش کروں گا :
” میں چاہتا ہوں کہ آج مجھ پر فتویٰ لگے آج مجھے سنگساری کا کہا جائے شاید میرے گناہ دھل جائیں “
محترم ، آپ پہ کسی فتوے کی خواہش تو کوئی قاضی صاحب ہی پوری کرسکتے ہیں لیکن سنگساری کو آپ نے گناہ دھلنے سے کیسے مشروط کرلیا ، یہ سمجھنے سے میں قطعی قاصر رہا ۔ آپ کے بلاگ کے باغیانہ آغاز سے اختتام تک میرے اندر کا باغی بھی بار بار باہر نکلنے کی بے سود کوشش کرتا رہا کیونکہ میں مسلسل اسے تصویر کا دوسرا رخ ، جو کہ بلاگ میں بھی موجود ہے ، دکھاتا رہا ۔
” میں اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کا باشندہ ہوں جسے آج ساری دنیا میں لعن طعن کیا جا رہا ہے ، کس لئے ؟ صرف اسکی اسلام سے وابستگی کے لئے “
آپ نے جس طرح اس حقیقت کا اعتراف کیا ، لائقِ تحسین ہے ۔ بھیا ، جب ساری دنیا کی حقارت کا سبب میری اسلام سے وابستگی ہی ہے تو پھر یا تو اس وابستگی کو خیرباد کہتے ہوئے مجھے دنیا کو راضی رکھنا چاہیئے نہیں تو پھر ’ دنیا جائے بھاڑ میں ، مجھے کیا پڑی‘ ؟
اس کے بعد اسی اسلام سے وابسطہ مسلمان میں آپ نے ایک مغربی انسان پیدا کرلیا جوکہ کھلا تضاد ہے ۔ یہاں مجھے آپ سے راہنمائی چاہیئے کہ ایک ہی انسان میں دو تہذیبیں ، اسلامی اور مغربی، کیونکر اکھٹی ہوگئیں یعنی آپ نے دو علحٰدہ علحٰدہ طبقوں ، قدامت پسند اور مغرب پسند ، کو ایک ہی انسان میں کیسے جمع کرلیا ۔ اگر بات معاشرے کی ہے تو سارا معاشرہ نہ قدامت پسند ہوسکتا ہے نہ مغرب پسند ۔ یہ تقسیم نجانے کب سے آرہی ہے اور کب تک چلے گی ۔ نہ سارا معاشرہ کبھی اسلامی ہوگا اور نہ ہی پورے کا پورا مغربی ۔
اس کے بعد آپ نے جن ذاتی خامیوں سے پردہ اٹھایا ہے وہ بھی میرے خیال میں پورے معاشرے پہ لاگو نہیں کی جاسکتیں ۔ ابھی خوف خدا رکھنے والے اللہ کے نیک بندوں کی اکثریت ہے ۔ لیکن چونکہ بدی ہمیشہ نیکی پہ غالب رہی ہے ، اسی طرح جسطرح سیاہی کا ایک ہی قطرہ پانی سے بھرے گلاس کا رنگ بدل دیتا ہے ، لہذا ہمیں ہر طرف بُرے لوگ ہی نظر آتے ہیں جبکہ دور نہ جائیں معاشرے میں اچھے لوگوں کی توصیف میں اسی عالمی اخبار کے بلاگ بھرے پڑے ہیں ، مثال کے لئے صرف ’ ریسکیو 1122 ‘ ہی پڑھ لیں ۔
اس کے بعد آپ نے پھر دو مختلف انسانوں کو ایک ہی جگہہ جمع کرنے کی کوشش کی ہے یعنی گستاخ رسول (ص) پہ مر مٹنے والے اور اسوہء رسول صلی اللہ و عیلہ و آلہ وصلم پر چلنے سے پہلو تہی کرنے والے ۔ آپ نے بڑی خوبصورتی سے دونوں کا موازنہ بھی کیا ہے اور طنزیہ انداز میں ہی سہی لیکن بہت اچھی تبلیغ بھی کی ہے اور میں اپنے رب سے یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ کے رسول اور ان کی تعلیمات کی جہاں جہاں توہین ہوتی ہے وہاں ہم سب کی راہنمائی اور مدد فرمائے ، آمین ۔
” اگر پھر بھی کوئی سمجھتا ہے کہ میں گناہ گار ہوں ۔ بدکار ہوں سیاہ کار ہوں تو پھر سب کو دعوت ہے کہ مجھے سنگسار کریں ، اور عبرت کا نشان بنا دیں ،اور اگر یہ سب کچھ آپ اپنے اندر بھی سمجھتے ہیں تو پھر خود کو توھین رسالت کا مجرم سمجھیے اور اپنی سزا خود متعین کریں “
محترم بھائی ، کسی سنگساری یا نشانِ عبرت بننے سے گناہوں کا کفارہ نہیں ہوتا ۔ آپ کے بقول بے شک ہم سب اپنے نبی کی تعلیمات سے ہٹ کر ان کی توہین کر رہے ہیں اور پھر اسی کا حساب و کتاب یا احتساب تو ہوگا روز محشر ۔ چونکہ رحمت العٰلمین (ص) کی امت کو اللہ پاک نے پہلی امتوں کی طرح اسی دنیا میں ہی عذاب سے معاف فرما کر فیصلہ روز آخرت پہ چھوڑتے ہوئے ہماری رسی ڈھیلی کر رکھی ہے لہذا ہم بھی صرف کسی مصیبت یا سخت آزمائیش کے وقت ہی دلی رجوع کرتے ہیں ۔
” یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسی نام پر قائم رہے گا انشااللہ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے ایک سیکولر ملک کا خواب دیکھا تھا تو مجھے صرف اس بات کا جواب چاہیے کہ اگر سیکولر ہی رہنا تھا تو ریاستی خودمختاری میں سب کچھ مل جاتا ، ١٩٤٥ کے انتخابات اور پھر مسلمانوں کے جداگانہ انتخابات کافی تھے “
آپ نے یہاں ایک علحٰدہ بحث کو دعوت دی ہے جو میں نہیں چاہتا کہ اصل موضوع سے ہٹ کر ایک نیا پنڈورہ بکس کھولا جائے لیکن مختصر طور پہ عرض کرنا چاہوں گا کہ پوری تحریک پاکستان کے دورران سیکولر پاکستان کا نعرہ کبھی نہیں لگا ۔ پاکستان اسلام کے نام پر ہی ایک اسلامی ملک کے طور پر معرض وجود میں آیا جہاں تمام اقلیتوں کو جان و مال کی حفاظت کی مکمل ضمانت دی گئی ۔ یہ علحٰدہ بات ہے کہ اب جان و مال ہم میں سے کسی کی بھی محفوظ نہیں !
”۔۔۔۔ میں اس دیس میں قدرت کا کھیل دیکھ رہا ہوں ، کہ کس طرح سے اس ملک کو دنیا کی نظروں میں لایا جا رہا ہے تا کہ دنیا جان لے کہ بظاہر ماڈرن اور الٹرا ماڈرن نظر آنے والا مسلمان کبھی بھی ممتاز قادری بن سکتا ہے ، اور پھر کسی بھی سلمان تاثیر کو اڑاسکتا ہے ، اسکے ممتاز قادری بننے کے لئے اس کا صرف نام کا مسلمان ہونا ہی کافی ہے “
جب آپ اسے قدرت کا کھیل سمجھ رہے ہیں تو بات ہی ختم ہوگئی کہ جب مشیت ایزدی میں ہی یہی لکھا ہے تو کسی اور کو دوش کیا ؟ اور کیا یہ فخر کی بات نہیں ہے کہ دنیا ہمارے تعلیمی نصاب تبدیل کرکے بھی حتاکہ ہمیں معاشی طور پر گروی رکھ کر بھی ہم سے روحِ محمد نہیں نکال سکی اور آپ کے بقول ، بالخصوص ، ” میں اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کا باشندہ ہوں جسے آج ساری دنیا میں لعن طعن کیا جا رہا ہے ، کس لئے ؟ صرف اسکی اسلام سے وابستگی کے لئے “ ، یہ جان چکی ہے کہ الٹرا ماڈرن نظر آنے والا مسلمان کبھی بھی ممتاز قادری بن سکتا ہے تو اسے بڑا حُب رسول (ص) کا ثبوت دنیا کو یا کسی اور کو اور کیا چاہیئے ؟
” اس کے ممتاز قادری بننے کے لئے اس کا صرف نام کا مسلمان ہونا ہی کافی ہے۔۔۔۔۔میں بھی شاید ایسے ہی مسلمانوں میں سے ہوں “
اللہ کرے کہ آپ ہوں اور ضرور ہوں ، مگر میں ایسے مسلمانوں سے ہر گز نہیں ہوسکتا کیونکہ میں صرف کاغذی شیر ہوں ، میں محض بلاگ ہی لکھ سکتا ہوں ، میں ’ عقل ‘ کا پجاری جبکہ ’ عقش ‘ میں ناکام ہوں ۔ میں غازی علم الدین یا ممتاز قادری کبھی نہیں بن سکتا ، ہائے افسوس ، صد افسوس !
وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوح محمد اس کے بدن سے نکال دو
جو عمل بغیر ایمان کے کیا جائے وہ عملِ صالح نہیں ہوتا۔ اگر عبادت بغیر قربانی دئے کی جائے تو وہ کارگر نہیں ہوتی۔ سرجنی نائڈو نے کہا تھا کہ جناح کو کوئ نہیں خرید سکتا۔ ہمارے حکمرانوں کو کون نہیں خرید سکتا؟ آج کے مسلمان کا رب اللہ نہیں پیسہ ہے۔
تصحیح
آج ہمارے حکمرانوں کو کون نہیں خرید سکتا؟
اظہر صاحب
ہمارے ذلیل و خوار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایمان نہین ہے۔ ایمان کی پہچان صاف ستھرا لین دین ہے۔ اگر ہمارے مغاشرہ میں لین دین سدھر جائے تو ہم خود بہ خود ہی بوقار قوم بن جائیں گے۔ اللہ بھی ہم سے محبت کریگا اور دنیا بھی ہماری عزت کریگی۔
ٰٰٰٰ ٰٰٰ اگر کسی کا ایمان پرکھنا ہے تو اُسکی عبادت نہیں دیکھو، اُسکا لین دین دیکھوٰٰٰٰ ٰٰٰ۔ حدیث
ہر مسلمان کو صرف خود کو ٹھیک کرنے کی ضروت ہے اور یہی سب سے بڑا جہاد ہے۔
میں بہت کم علم خاتون ہوں مجھے اس بات کا احساس بھی اکثر وبیشتر ہوتا رہتا ہے اس لئے میں اپنے بلاگی ساتھیوں سے ہر وقت کچھ نا کچھ سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں ،آ ج کے سب ہی بلاگ علمی بھی ہیں حسب معمول اور کہیں کہیں تلخئ سود و زیاں بھی جھلک رہی ھے
لیکن مجھے سب سے اچھا بلاگ نگہت نسیم اپنی بیٹی کا محسوس ہوا ھے یعنی بارش کا پہلا قطرہ ہم بن جائیں ،،
قران پاک میں اللہ تعا لیٰ کا فرمان ھے ،،،دیکھو جب ہمارے پاس آنا تو قلب سلیم سے آنا ،،ہر انسان کے وجود میں دل بہت ہی حسّاس عضو ءبدن ہے دل پر جزبات کا غلبہ ہوتا ہے اسکے اندر دھو اں بھر جائے تو اسے صاف کرنا آسان بھی نہیں ہوتا ھے رہ رہ کر کدورتیں یاد آتی ہیں ،اللاؤ بھڑکتے ہیں اور دل کہتا ھے ہرگز معاف نہیں کرنا ،،اور دوسری جانب اللہ تعا لیٰ کہ رہا ہے آنا تو دل میلا نہیں ہو ،
میں نے بھی کبھی بارش کا پہلا قطرہ بننے کی جستجو نہیں کی ،مجھے بھی جب جب اپنے اوپر کی جانے والی زمانے کی زیادتیاں یاد آئیں ،میں نے کہا میں کبھی معاف نہیں کروں گی ،مگر وہ پہلا دن تھا جب میں نے اپنے رب کا وہ فرمان پڑھا ،اور اپنی اصلاح پر توجّہ دی اور سو چا بھی کہ اس کے پاس جانے کا مطلب کیا ھے ،پھر میری سمجھ میں آیا کہ
جب ہم پانچ وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو اسی کی بارگا ہ میں ہی تو جاتے ہیں ،،تو پھر کیا میری نماز اس کے حضور قبول ہوئ ،بس پھر اس وقت میں نے کہا اے اللہ میں نے آ ج سے اپنا دل سلیم کر لیا اور اپنے ساتھ ہونے والی ہر بے انصافی کو تیرے سپرد ر دیا ،اس دن سے میرے روح لطیف ہو گئ ،،،اور میں نے اللہ کی مخلوق کے لئے جینا سیکھ لیا
دعا ؤں کے ہمراہ اللہ حافظ
محترم ساتھیوں
موجودہ بلاگ میں انسان کی اچھائی اور برائی دونوں کا تجزیہ بہت تھیکے انداز میں کیا گیا ہے مگر میں یہاں جناب جاوید کیانی بھائی کی بات دوھراؤں گا کہ یہ بات مجھے بھی ہضم نہیں ہوئی جیسا کہ کیانی بھائی نے فرمایا
—————————————————
” ایک ہی انسان میں دو تہذیبیں ، اسلامی اور مغربی، کیونکر اکھٹی ہوگئیں یعنی آپ نے دو علحٰدہ علحٰدہ طبقوں ، قدامت پسند اور مغرب پسند ، کو ایک ہی انسان میں کیسے جمع کرلیا ۔ اگر بات معاشرے کی ہے تو سارا معاشرہ نہ قدامت پسند ہوسکتا ہے نہ مغرب پسند ۔ یہ تقسیم نجانے کب سے آرہی ہے اور کب تک چلے گی ۔ نہ سارا معاشرہ کبھی اسلامی ہوگا اور نہ ہی پورے کا پورا مغربی“ ۔
——————————————————————————–
رہ گئی یہ بات کہ ایک سچا مسلمان اور سچا عاشقِ رسول (ص) بننے کے لیئے کن باتوں کا ہونا ضروری ہے اس کے لئے عالمی اخبار میں ھمارا شائع ہونے والا کالم اس باتوں کو اجاگر کرتا ہے اس کالم کا ایک حصہ یہاں پیش کرتے ہیں:
———————————-
روئے زمین پر زندگی کا یہ ہنگامہ ، یہ مال و اولاد، یہ رونقیں اور چکاچوند، اچھے برے حالات، یہ سب ایک ابتلاءو آزمائش کے سامان کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔اورہماری پیدائش کا ایک مقصد یہ امتحان لینا ہے کہ کون اللہ کی دی ہوئی سماعت و بصارت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو استعمال کرکے اللہ اور اس کے رسولوں، اور آئمہ علیہ السلام پر ایمان لاتا ہے اور اعمال صالحہ کرتا ہے اورکس طرح اپنے آپ کو اشرف المخلوقات اوراللہ کا حقیقی نائب ثابت کرتا ہے۔
والسلام
میں آپ سب احباب کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس ناچیز کی تحریر کو اپنے قیمتی تبصروں سے نوازا، خاصکر نگہت باجی اور زائرہ صاحبہ عالم آراء اور مباف بھائی کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے میری بات کو آگے بڑھایا
میں جاوید صاحب کے تبصرے کا بھی ممنون ہوں کہ انہوں نے میری تحریر کے ان پہلوؤں کو مزید واضح کیا کہ جنکو میں تحریر میں شامل نہیں کر پایا
جی ہاں ہم سب کا مسلہء ہی ہمارا دوغلا پن ہے ، زمانے کی تیز رفتاری نے ہمیں اتنا دنیا دار بنا دیا ہے کہ ہمیں سوائے اپنے اور کچھ نظر ہیں نہیں آتا مذہب ہماری زندگیوں میں ایسے ہی ہے جیسے کھانا پینا ، کہ کھانا ضروری ہے کبھی بہت اچھا لگتا ہے اور کبھی ہماری مرضی کا نہیں ہوتا ، مگر ہمیں کھانا ضروری ہے زندہ رہنے کے لئے
مگر سچی بات تو یہ ہے کہ جیسا کہا اقبال نے کہ
یہ مسلمان فاقہ کشی سے بھی نہیں ڈرتا ، جب تک روح محمد اس میں موجود ہے ، اور میں آپ سب سے متفق ہوں کہ روح محمد(ص) ہماری زندگی کا لازمی جز ہے ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے قرآن و حدیث کو صرف اپنی مرضی کی زندگی کے لئے رکھ چھوڑا ہے ، جب ہمیں اپنی بات منوانی ہوتی ہے تو قرآن و حدیث سے دلیلیں دیتے پھرتے ہیں اور جب ہم کو اپنی پسند چاہیے ہوتی ہے تو ہم قرآں و حدیث کو یہ کہ کر پرے کر دیتے ہیں کہ اور کونسے ہم عمل کر رہے ہیں مسلمانوں والے
میں نگہت باجی کی یہ بات کوٹ کروں گا کہ سب کچھ ویسا ہے مگر خود کو بدلیے ، برداشت و تحمل پیدا کرتے ہوئے خوش اخلاق ہو جاتے ہیں یہاں مجھے ایک حدیث یاد آتی ہے کہ میرے آقا (ص) نے فرمایا
“تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں”
اور یہ ہی زندگی بدلنے کا راستہ بھی ہے اور واسطہ و وسیلہ بھی . . . .