میرا یہ بلاگ ریاستی قانون پہ بحث کی بجائے ایک مخصوص قانون ” قانونِ ناموسِ رسالت “ پہ ہے جو فی الوقت پوری دنیا کا موضوعِ بحث بنا ہوا ہے ۔
ایک شاتمہء رسول (ص) آسیہ بی بی کو سیشن کورٹ کی طرف سے سزائے موت اور اس کے خلاف مختلف این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس قانون کے ’ غلط استعمال ‘ کے اعتراضات کے شور میں موجودہ حکومت کی ایک سرکردہ راہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محترمہ شیری رحمان نے ایوان میں نجی کارروائی کے دن ذاتی حیثیت میں ایک ترمیمی بل پیش کر دیا جس میں ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو رکوانے کے لیے تجاویز پیش کیں ۔ اس بل پہ بحث اور کسی فیصلے سے پہلے ہی گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے اس قانون پہ سرِ عام تنقید جبکہ پسِ پردہ صدر زرداری کی اشیرباد ، اپنی خفیہ ڈپلومیسی اور زیرِ زمین سرگرمیوں سے آسییہ بی بی کی ہائی کورٹ میں اپیل پہ فیصلے سے پہلے ہی اسے صدر سے رحم کی اپیل پہ دستخط کروا کر صدر آصف زرداری کے حوالے کر دیا اور صدر کے فیصلے سے پہلے ہی اپنے گارڈ کی گولیوں کا نشانہ بن گیا ۔
سلمان تاثیر کی موت نے اس بل پہ متوقع بحث یا ترامیم کے فی الحال تمام دروازے بند کردئیے ہیں اور وزیرِ اعظم گیلانی نے اعلان بھی کردیا ہے کہ ان کی حکومت قانونِ ناموسِ رسالت کو ہر گز نہیں چھیڑے گی لیکن چند انتہائی اہم سوالات اب بھی ذہنوں میں موجود ہیں :
کیا بعض لوگ اس قانون کو ذاتی انتقام کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس قانون کی آڑ میں بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں ؟ اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کی روک تھام کے لئے کیا کیا جارہا ہے یا کیا کیا جا سکتا ہے ؟
حکومت قانونِ ناموسِ رسالت میں کون سی ترامیم کی خواہاں ہے اوراس قانون میں وہ کون سی سقمیں (اسقام ؟) ہیں جنھیں حکومت دور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
ہم کیوں نہ روشن خیالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام تجاویز کی روشنی میں اس پہ مکمل بحث کریں ، اسے ایسی متفقہ شکل دیں جو ہماری دینی و ملی نیک نامی کا باعث ہو ۔ اور اگر اس کا نفاذ تمام تجاویز کی روشنی میں بہتر سے بہترین انداز میں ہو سکتا ہے تو ہماری مذہبی سیاسی پارٹیوں کو کیا ہچکچاہٹ ہے ؟

محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،
” میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ قانون تمام انبیاء کرام کے لئے ہونا چاہیئے کیونکہ ہمارا سب پرایمان ہے.“
میں آپ کے اس خیال کی پرزور تائید کرتا ہوں ۔ چونکہ ہمارا تمام انبیاء اور آسمانی کتب پہ ایمان ہے ، لہذا اس قانون کو بھی امتیازی ہونے کی بجائے مساویانہ ہونا چاہیئے تاکہ ہم خود بھی اکثریت کے نشے میں کسی دوسرے مذہب ، ان کے نبی یا آسمانی کتاب کی گستاخی نہ کریں ۔ یہ نہ صرف ہماری نیک نامی کا باعث ہوگا بلکہ دوسری اقلیتوں کا احساسِ محرومی دور کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا ۔
”. اگر ہم تاریخ سے ہی سبق سیکھ لیں تو معلوم ہو گا کہ اسلام اولیا ء کرام اور صوفیاء کے حُسنِ سلوک سے پھیلا نہ کہ تشدید اور عدم برداشت سے. لیکن آج ہمارا طرزِ عمل قطعا مختلف ہے.“
خواجہ نظام الدین اولیاء کی مثال ہم سب کے لئے مشعلِ راہ ہے کہ ان کے مزار پہ آج بھی ہندو بھی مسلمانوں جتنی ہی عقیدت و احترام سے جاتے ہیں ۔
”موجودہ حالات میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ترمیم کریں مزید یہ کہ میڈیا قانون کی پاسداری کی اہمیت کو اُجاگر کیا جائے. علماء کرام کا بھی فرض ہے کہ وہ سادہ اذہان کو مشتعل کرنے کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے کی نصیحت کریں.“
آپ کا خیال بالکل صحیح ہے کہ حکومت کے علاوہ میڈیا کا رول انتہائی اہم ہے ۔ میڈیا کو چاہیئے عوام کا اس معاملے میں شعور بیدار کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے ، مزید یہ کہ اگر کہیں بدقسمتی سے ایسا واقعہ رونما ہو ہی جائے تو پوری ایمانداری سے صحیح صحیح رپوٹنگ کرتے ہوئے سنسنی خیزی کی حوصلہ شکنی کرے ۔
” نہایت افسوس کا مقام ہے کہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی ایک دوسرے پر توہینِ رسالت اور کفر کےالزامات لگاتے ہیں.“
اور اعداد و شمار سے ثابت ہے کہ یہ افسوسناک رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ اس پہ جتنا جلدی قابو پایا جائے بہتر ہے ، اسے پہلے کہ یہ جِن مکمل طور پہ بے قابو ہوکر پورے نظام کو ہی درہم برہم کردے ۔
آپ کا بہت شکریہ ۔
السلام علیکم
چونکہ اس قانون کے غلط استعمال اور اس میں ممکنہ ترامیم پر بحث ہو رہی ہے تو کیوں نہ بقیہ مسلم ممالک میں اس قانون کا ایک حقیقی جائزہ لیا جائے
دو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پانچ اسلامی ممالک میں یہ قانون رائج ہے
http://www.thenews.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=9222
By Umar Cheema
ISLAMABAD: Religious scholars and lawyers, who have unequivocally supported the blasphemy law in its existing shape, said that similar laws that carry capital punishment for blasphemers are being practised in hardly five Islamic countries out of 54.
All of those interviewed affirmed such laws exist at least in two Islamic countries: Pakistan and Saudi Arabia, but were not certain of the exact number of countries governed by such stringent legislation as one of them said it is also being practised in Iran, Sudan and Afghanistan.
One religious scholar, explaining the absence of such laws in other Islamic countries, said it was due to the fact that these countries were set up on the basis of nationalism, not on ideological grounds like Pakistan.
Ibtisma Elahi Zaheer, secretary general of Jama’t Ahl-e-Hadith Pakistan, Ismail Qureshi Advocate and Rao Abdul Raheem, the counsel of Mumtaz Qadri, the assassin of Governor Salman Taseer, were interviewed for the purpose. Sahibzada Fazl Karim, a leading figure of Tuhaffaz-e-Namoos-e-Risalat, couldn’t be reached for his version in this respect.
Ibtisam affirmed the presence of such laws in Saudi Arabia but was not certain about their existence in Afghanistan under the new Constitution, though it was practised there in the past. Asked why the stringent legislation was not enacted in other Muslim countries, Ibtisam said majority of the countries in the Islamic bloc were formed on the basis of nationalism hence they didn’t form such strict laws.
Another prominent scholar on the issue interviewed was Ismail Qureshi Advocate, who took the blasphemy law to the Sharia Court that resulted in the ruling that blasphemer would be awarded death sentence, deleting the option of life imprisonment, told The News that blasphemy law requiring death sentence for the offender, exists in Saudi Arabia, Pakistan and Afghanistan. Though he mentioned UAE in the list of such countries, he was not certain whether it is practised there.
A study of Egyptian Constitution however found that the minimum sentence for such an offender is six months and maximum five years. Article 98(f) of the Penal Code of Egyptian Constitution, as amended by Law 147/2006 states the penalty for blasphemy and similar crimes states: “Confinement for a period of not less than six months and not exceeding five years, or a fine of not less than five hundred pounds and not exceeding one thousand pounds shall be the penalty inflicted on whoever makes use of religion in propagating, either by words, in writing, or in any other means, extreme ideas for the purpose of inciting strife, ridiculing or insulting a heavenly religion or a sect following it, or damaging national unity.”
As regards Afghanistan, the issues relating to blasphemy are governed by Sharia permitting capital punishment for such an offender.
Besides Egypt and UAE, there are several other Muslim countries that have blasphemy laws but no capital punishment for the offenders. For example, Algeria was the only country other than Pakistan that had moved the United Nations for legislation on blasphemous acts, but its Constitution doesn’t permit death sentence for blasphemers. This country’s law prohibits blasphemy using legislation rather than applying Sharia laws. The penalty for blasphemy may be imprisonment as well as a fine.
Likewise, in Jordan, the punishment for this crime is imprisonment, not death sentence. For example, Jihad Momani, a Jordanian journalist, published three of the cartoons in the Shihan weekly, along with an editorial calling on Muslims to be reasonable. He was fired from job and arrested later on but was not awarded capital punishment.
In Malaysia, the Constitution’s sections 295-298A of the Penal Code punish offences against all religions with up to three years in prison or a fine of around US$1,000. Indonesian Constitution’s section 156(a) of the Criminal Code prohibits conduct that affronts a “recognised religion” (identified as Islam, Buddhism, Hinduism, Roman Catholicism or Protestantism). But this largest Islamic country doesn’t have capital punishment as sentence for the blasphemer but imprisonment up to five years as well as fine. Analysts say if someone commits blasphemy in writing and persistently owns his writing that person must be punished under the law.
والسلام
زرقا
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،
دوسرے مسلم ممالک میں قانون توہین رسالت کا جائزہ پیش کرنے کا شکریہ ۔ علم کی حد تک تو یہ ٹھیک ہے لیکن موازنے کی غرض سے شاید اس کا کوئی جواز نہ ہو کیونکہ ہر ملک کی اپنی تاریخ ، اقلیتوں کے وجود ، تمام مذاہب کے لوگوں کے آپس کے تعلقات اور امن و امان کی مجموعی صورتِ حال اہم عناصر ہیں جو کسی بھی قانون ، بالخصوص اس قانون ، کے نفاذ کا جواز ہو سکتے ہیں ۔
ہمارے علم میں اضافے کا بے حد شکریہ ۔
السلام علیکم ورحمت اللہ
محترمہ زرقا مفتی۔
ماشاللہ آپ کی تحریروں میں بڑی باریکی ، زندگی بھر کا مشاہدہ، تجربہ اور سچ بولنے پر بیباکی نظر آتی ہے جس سے میرے جیسے طالب علم کو سیکھنے کو بہت کچھ مل رہا ہے ۔ میں آپ کے بلاگ سے ایک ایک لفظ سے متفق ہوں ۔
—————————————–آپ کے بلاگ کے حوالے سے ————————————
آسیہ زوجہ عاشق اٹاں والی چک نمبر 3ننکانہ صاحب کی رہائشی ہے۔اس کے گھرکےقریب ہی فالسے کا کھیت ہے جس میں آسیہ دیگر خواتین کے ساتھ مل کر یومیہ اجرت پر فالسے چننے روزانہ جاتی تھی ۔14جون 2009ء کو آسیہ ،اسماء ،یاسمین ،مافیا کے ہمراہ کھیت میں فالسے چننے گئی ۔ کام کے دوران مافیا اور اسماء نے آسیہ کو پانی لانے کا کہا ۔لیکن ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے پانی لیے سے انکا ر کردیا اور کہا کہ تم کرسچن ہواس لئے ہم تمہارے ہاتھ سے پانی نہیں پئیں گی۔
————————————————————————————————————————-
یہاں میرا سوال یہ ہے کہاگر یہ ساری بات حقیقت ہے تو پہلے مافیا اور اسما ء نے پانی کیوں مانگا۔؟ جب کہ ان دونوں لڑکیوں کو معلوم بھی تھا کہ وہ کرسچین ہے ۔پھر جب وہ پانی لے کر آئی تو پانی لینے سے انکار کردیا ؟
پانی لیے سے انکا ر کردیا اور کہا کہ تم کرسچن ہواس لئے ہم تمہارے ہاتھ سے پانی نہیں پئیں گی۔
یہ تو سرا سر کسی کو طیش دلانے والی بات ہے ۔
ہم کرسچین کے ہاتھ سے فالسہ کھا سکھتے ہیں ۔ اہسپتال میں سینکڑوں کرسچین نرسوں کے ہاتھ سے دوائی پانی پی رہے ہیں ۔ سار ے عرب ممالک کرسچین ملک خاص ڈنمارک سے دودھ گھی مکھن اور سینکڑوں کھانے کی چیزیں لے کر کھا رہے ہیں ۔
میرے خیال میں دوسرے لفظوں میں مافیا اور اسماء نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین میں پہل کی ہے ۔
آپ کے مشورے اور انصاف کی ضرورت ہے ۔
وسلام ۔
آویز ۔ برمنگھم
کیانی صاحب
السلام علیکم
مجھ جیسے کچھ لوگ اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ تمام مسلمان ایک قوم ہیں اور اُن کا ایک ہی ضابطہء حیات ہے . پھر ایک حساس موضوع پر قانون میں اختلاف کیوں ہے. مصرایک ایسا ملک ہے جہاں جامعہ اظہر جیسے ادارے موجود ہیں حیرت ہے کہ وہاں توہینِ رسالت کی سزا موت نہیں ہے.
اگر ہم یہ مان لیں کہ مصر ایک نظریاتی مملکت نہیں یہ وطنیت کے نظریے پر قایم ہے تو اسلامی نظریاتی مملکت ایران میں یہ قانون کیوں رائج نہیں
والسلام
زرقا
آویز صاحب
السلام علیکم
اتفاقِ رائے کے لئے آپ کی ممنون ہوں. ہم سب ہی اپنے دیہاتوں کے ماحول سے واقف ہیں. ہم سب جانتے ہیں کہ عیسائی برادری کو دیہاتوں میں اُسی سلوک کا سامنا ہے جو ماضی بعید میں نچلی ذاتوں سے روا رکھا جاتا تھا. اس لئے ہم سب اپنی اپنی استعداد کے مطابق اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کھیت کی کارکن خواتین کے درمیان کس قسم کے مکالمات کا تبادلہ ہوا ہو گا.
ایسے ہی واقعات کے پیشِ نظر مجوزہ ترامیم میں اشتعال دلانے والے کے لئے بھی سزا تجویز کی گئی ہے.
مزید یہ کہ اسی لئے میرا خیال ہے کہ توہینَ رسالت کا قانون تمام انبیاء کے لئے نافذ ہونا چاہیئے
لیکن میں اس سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے سے قاصر ہوں کیونکہ نہ تو میں اس واقعے کی چشم دید گواہ ہوں اور نہ ہی منصف.
امید ہے کہ ہائی کورٹ میں اپیل کی سنوائی کے دوران مزید حقائق سامنے آئیں گے پھر اس سلسلے میں کچھ فیصلہ کرنا آسان ہو گا
والسلام
زرقا
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،
میں آپ سے اختلاف کی گستاخی نہیں کر سکتا کہ آپ کے خیالات پہ میری بھی وہی رائے ہے جو جناب آویز صاحب کی ہے ، بلکہ شاید اسے بھی بڑھ کر ہو ۔
جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ تمام مسلمان ایک قوم ہیں جن کا ضابطہء حیات بھی ایک ہے تو پھر ایک حساس موضوع پر قانون میں اختلاف کیوں ہے ۔میں آپ کی بات سے صد فی صد اتفاق کرتے ہوئے یہی آرزو کروں گا کہ کاش مصر بھی اپنے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے باقی اسلامی دنیا ، جہاں یہ قانون نافذ ہے ، کے برابر آجائے اور وہ اسلامی ممالک بھی کہ جہاں یہ قانون نہیں وہ بھی اسے اپنے ہاں متعارف کرائیں لیکن اتنا کچھ کہنے کے بعد بھی اپنی اسی بات پہ لوٹوں گا کہ شاید ان کے ہاں ابھی تک ایسی گھمبیر صورتحال پیدا نہیں ہوئی جو انہیں اس طرف متوجہ کرتی ۔ ویسے تو توہین رسالت کا قانون ( Blasphemy Law) غیر مسلم ممالک میں بھی موجود ہے ۔
اسی طرح اگر ایران میں بھی یہ قانون رائج نہیں ہے تو اس وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ انہیں ہم جیسی فرقہ واریت یا توہینِ اذہان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں لیکن یہاں بھی میری یہی خواہش ہوگی کی کاش وہ بھی اسے اپنے قانون کا حصہ بنا کر یکجہتی کی طرف قدم اٹھائیں ۔
ہماری سوچوں کو نیا رخ عطا کرنے کا بہت شکریہ ۔
کیانی صاحب
اختلافِ رائے آپ کا حق ہے اور میں ایک عام انسان ہوں مجھے شرمندہ مت کیجئے
والسلام
زرقا
محترم جناب آویز صاحب ،
’ محترمہ مفتی صاحبہ ‘ کا اس بلاگ میں شامل ہونا میں اپنے لئے ہمیشہ کی طرح ایک سعادت سمجھتا ہوں ۔ آپ کا پوائینٹ حرف بحرف صحیح ہے جس پہ میری بھی یہی رائے ہے کہ ہمیں اکثریت کے بل بوتے پہ اقلیتوں کے مذہبی جذبات سے کھیلے کا کوئی حق نہیں اور قانون میں تمام انبیاء اور آسمانی کتب کے تقدس ، جوکہ ہمارے پیغمبر (ص) کی واضح تعلیمات ہیں ، کی خاطر مناسب ترامیم انتہائی ضروری ہیں ۔
اگر کبھی موقعہ ملے تو مولانا عنائیت اللہ مشرقی کی اپنی برادی کے ملاؤں کے خلاف باغیانہ خیالات و خطابات پہ مبنی کتاب ” مولوی کا غلط مذہب “ ضرور پڑھیں ۔ ہمیں وہی سوچ آج بھی درکار ہے ورنہ ہم ناموس رسالت (ص) کے نام پہ پتہ نہیں کس حد سے گذر جائیں ۔
آپ کے قیمتی وقت کا بے حد شکریہ ۔
قانون تحفظ ناموس رسالت پر 45 ملکوں میں سے 5 ممالک جن میں پاکستان ، سوڈان ، سعودی عرب ، ایران اور افغانستان میں ایک ہی جیسا قانون ہے یعنی گستاخ رسول کی سزا ” موت” ہے .باقی سب ممالک میں سزا قید اور جرمانہ ہے .
قانون پر بحث نہیں ہے۔ بحث اسکے غلط استعمال پر ہے۔ ملزم کو مجرم قرار دینا صرف عدالت کا کام ہے۔ عدل توحید کے بعد اصولِ دین کا سب سے افضل ستون ہے۔
عدل کے لئے با ضمیر ہونا ضروری ہے اور ہمارے ملک میں ضمیر کی شدید قلت ہے .. معجزوں کے انتظار میں سوئے ہوئے لوگو کا حل میرے پاس نہیں ہے .. .. لہذا مجھے اس ضمن میں کچھ اور نہیں کہنا ..سوائے اس کے کہ خدا خیر کرے .. قانون کا س لئے بتایا کہ جاوید بھائی نے لکھا تھا کہ ایران میں قانون مختلف ہے ..شکریہ
محترم ظفر صاحب ،
آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا کہ بحث قانون کے غلط استعمال پہ ہے اور یہی بلاگ کا عنوان بھی ہے ۔
محترمہ ڈاکٹر نگھت نسیم صاحبہ ،
آپ کی تصحیح کا شکریہ ، دراصل میں کسی پہلے تبصرے پہ جواب لکھتے ہوئے اسی رو میں لکھ گیا جس کا مجھے بعد میں خیال آیا کہ ایران ہی وہ پہلا اور واحد ملک ہے جس کے فرمانروا امام خمینی مرحوم نے سلمان رشدی ملعون پہ قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا ۔ افغانستان میں ، اگر میں غلط نہیں ہوں ، تو یہ قانون فی الحال معطل ہے ۔
” عدل کے لئے با ضمیر ہونا ضروری ہے اور ہمارے ملک میں ضمیر کی شدید قلت ہے “
ڈاکٹر صاحبہ ، اگر پچھلے 23 برسوں میں اس قانون کے تحت درج کئے گئے 964 مقدمات میں سے آج تک کسی ایک کو بھی پھانسی نہیں ہوئی تو میرے خیال میں اس میں کہیں نہ کہیں عدل اور ضمیر کا بھی کوئی نہ کوئی دخل ضرور ہوگا ۔
جاوید بھائی دوسری بار آپ کومیری بات انتہائی ناگوار محسوس ہوئی ہے اور آپ نے اسے ویسے ہی سمجھا ہے جیسا آپ سمجھنا چاہتے تھے .. بخدا میں نے جب یہ لکھا کہ” اور یہ اللہ کی تدبیر نہیں تو اور کیا ہے کہ جنہیں اس قانون کا پتہ تک نہ تھا وہ بھی اس پر سیر حاصل بحث فرما رہے ہیں “ تو میرا اشارہ صرف اور صرف ان بلاگرز اور رائے عامہ کی طرف تھا جنہیں نہ تو پاکستان کے کسی قانون کا پتہ ہے اور نہ قانون قدرت کا ادراک .. لیکن آپ اسے خود پر طنز سمجھے جبھی آپ نے لکھا کہ “نجانے آپ اسے عالمی اخبار کا کارنامہ گنوانے سے کیوں کترا گئیں کہ جنھیں ، یعنی ملزم بذاتِ خود ، قانون سے لاعلمی کے علاوہ ڈھنگ کی گرامر بھی نہیں آتی وہ بھی بلاگ کھولے بیٹھے ہیں ، واہ اللہ تیری شان !
آپ اسے اپنی طرف اشارہ سمجھے تو یہ میری ہی کوتاہی ہے کہ اپنی بات آپ تک نہیں پہنچا سکی تاہم میں نے کوشش کی تھی آپ تک پہنچانے کی یہ لکھ کر ” جاوید بھائی ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی ڈھال ہے .. غور کریں تو عالمی اخبار کی بلاگ فیملی اپنے مشن پر رواں دواں ہے .. اور یہی اس نازک بحث کا کمال ہے .. سب حسب توفیق سیکھ رہے ہیں …ماشاللہ”
اور حقیقتا میرا پہلا تبصرہ جسے آپ خود پر طنز سمجھے وہ آپ کی طرف تو کیا عالمی اخبار کی بلاگ فیملی کے کسی ایک بھی فرد کی طرف نہیں تھا ..
دوسری بار آپ نے زرقا کے بلاگ پر دوبارہ یہ لکھ کر کہ لوگ اب یہ کہے گے آپ کو قانون کا نہیں پتہ تو بات کیوں کر رہے ہیں ” مجھے مزید شرمندہ کر دیا ..مجھے محسوس ہوا اب مجھے اپنی صفائی میں کہنا ہی پڑے گا کہ آپ میری بات کو واقعی نہیں سمجھ سکے ہیں .. مجھے یقین ہے کہ اور آپ کی کشادہ دلی سے امید بھی ہے کہ آپ میری بات کو سمجھنے کی کوشش ضرور کریں گے اور جو جو باتیں آپ کو گراں بار ہوئی ہیں وہ مجھے معاف بھی کر دیں گے … میں انشاللہ آئیندہ مزید محتاظ ہو کر لکھونگی … جزاک اللہ
ڈاکٹر صاحبہ ،
آپ نے جو لکھا سچ لکھا اور مجھے سچ بہت پسند ہے ۔ آپ کی اعلیٰ ظرفی کا بھی بہت شکریہ ۔
مصروفیت کی وجہ سے بلاگ پہ توجہ نہ دے سکا ۔ ایک آدھ دن میں اپنی آخری کاوش کے ساتھ بلاگ کا اختتام کروں گا ، والسلام ۔
جزاک اللہ جاوید بھائی ۔۔ سلامت رہیں ۔ میں آپ کی بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے میری معافی کو قبول کر لیا۔۔
جاوید بھائی اگر میں آپ کو ان بلاگز کاپتہ بتادوں جہاں یہ بحث ہو رہی ہے اور جہاں 200 تبصروں میں سےصرف ایک انسان مستقل قران و حدیث سے دلیل دئے جا رہا ہے اور باقی بلاگرزاپنی کم علمی کی وجہ سے اسے گالیوں سے نواز رہے ہیں ۔۔ یقین کیجئے دل دکھتا ہے ان بلاگرز اور کالم نگاروں سے جنہیں یہ معلوم نہیں ہو رہا ہے کہ یہاں بات رسول اللہ کی ہو رہی ہے اور ان کے بنائے ہوئے قانون کی ہو رہی ہے ۔۔
یہ الگ قصہ ہے کہ کون کون ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور کون کون انہیں انصاف نہیں دے رہا ہے ۔۔۔ معاملہ کسی عام انسان کا نہیں ہے بلکہ عام انسانوں کے تحفظ کے لئے ہے جس نے اپنی زندگی اور گھر بار لٹا دیا ۔۔اپناخاندان کا خاندان اسی عزت و ناموس کو بچانے میں لگا دیا اسی محسن انسانیت کے بنائے ہوئے قانون پر یہ خود ساختہ بلاگرز اور مفکر نکتہ چین بنے ہوئے ہیں ۔۔
مجھے افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں کی سوچوں سے جو سلمان تاثیر کی یاد میں ہجر وفراق میں غلطاں ہیں ۔۔ ایک ایسے آدمی کی غم میں جو خود دن رات شراب میں ڈوبا رہتا تھا ۔۔ چھوڑیں بھائی مجھے تو اس بحث میں جانا ہی نہیں کہ کون شہید ہے اور کون دہشت گرد ۔۔۔۔۔۔ جولوگ سلمان تاثیر کی مدح سرائی کرنا چاھتے ہیں کریں یہ ان کا ذاتی فعل ہے ۔۔۔
مجھے صرف افسوس اور رنج اس بات پر ہے کہ قانون ناموس رسالت کی حثیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور وہ بھی ایک عیسائی اور ایک شرابی کے کہنے پر ۔۔۔ اور ہم تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔۔ اور جو چیخ رہے ہیں وہ اپنوں اور غیروں دونوں سے جوتے کھا رہے ہے اور اس سارے قصے میں فائدہ کون اٹھا رہا ہے ۔۔ دہائی خدا کی کسی کو یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ اس کو ہوا دینے والے سارے قادیانی اور عیسائی ہیں .
یقین کریں بھائی ہمارے عالمی اخبار کے بلاگ کے علاوہ ہر کسی کے بلاگ کو ان قادیانیوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے اور وہ اپنی من پسند اور من گھڑت حدیثں بیان پر بیان کئے جا رہے ہیں اور عمومی طور پر مسلمانوں کو چونکہ اسلامیات پڑھنے لکھنے سے کوئی دلچسپی توہے نہیں سو وہ ان کے جواب پڑھ پڑھ کر متاثر ہوئے جا رہے ہیں اور انہیں میں جو صرف ایک سچ بولنے والا ہو تو وہی جھوٹا کہلائے گا سو جاوید بھائی دل دکھتا ہے اپنے گھر کو آگ لگتا دیکھ کر ۔۔ اسے اجڑتا دیکھ کر ۔۔۔
اور شائد اسی غم میں ایسا لکھ گئی تھی جسے آپ نے خود پر طنز سمجھ لیا تھا ۔۔۔ ہائے میں تو اس انٹرنیٹ کے وبائی بلاگرز اور کالم نگاروں کی ستائی ہوئی ہوں جو بغیر تحقیق کے کچھ بھی لکھ دیتے ہیں اور میں روز ہی ایک قیامت سے گزر جاتی ہوں ۔۔
گورنر پنجاب کے بیٹے آتش کی کہانی
لندن (ماریانہ بابر ) گورنرپنجاب سلمان تاثیر کے 29سالہ بیٹے آتش تاثیر جو کہ ایک صحافی ہیں اور لندن میں رہائش پذیر ہیں نے ایک کتاب لکھی ہے جو ان کی ذاتی یادداشتوں پر مبنی ہے اس کتاب میں انہوں نے اپنی زندگی کی کہانی بیان کی ہے ۔جس میں انہوں نے اپنے والد کے بارے میں جس طرح بیان کیا اس سے پاکستانی قارئین کو نہ صرف صدمہ ہوگا بلکہ وہ برگشتہ ہوں گے۔ کتاب کا عنوان ”تاریخ کا اجنبی، ایک بیٹے کا اسلامی سرزمین کا سفر “ ہے اور اس کتاب کا ایک ہفتے تک لندن میں اجراء ہوگا اور چند ہفتوں تک بھارت میں اجرا ہوگا۔ بھارتی میگزین”آؤٹ لک“ نے اس کتاب کے حقوق حاصل کرلئے ہیں اور خیر سگالی کے طور پر دی نیوز کے ساتھ اس کی خبر چلانے پر رضا مندی ظاہر کی ہے میگزین آج جمعہ کو بھارت کی مارکیٹ میں آئے گا ۔ میگزین نے آتش کا بھی انٹرویو کیا ہے ۔
میگزین کے مطابق کتاب مارکیٹ میں آنے کو تیار ہے اور آتش جلدکتاب کے اجرا کی بھر پور عالمی مہم پر ہوگا۔ اس کے ناشر ”پکاڈر انڈیا ”والے ہیں ۔ آؤٹ لک میگزین کے مطابق کتاب آتش کی ڈرامائی زندگی کا افسانوی بیان ہے ۔ مختصراً کہانی کچھ اس طرح سے ہے۔”پاکستانی سیاستدان سلمان تاثیر اور بھارتی صحافی تولین سنگھ کے درمیان ایک مختصر مگر بھر پور تعلق کے نتیجہ میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جب تعلق ناکام ہوتا ہے تو باپ (اس کے بیٹے کے بیان کے مطابق) ماں اور شیر خوار بچے کو لندن میں چھوڑ دیتا ہے وہ دونوں دہلی چلے جاتے ہیں جہاں لڑکا (بچہ) آتش ایک سکھ اشرافیہ خاندان میں ایک امتیاز کے ساتھ پروان چڑھتا ہے کیونکہ اس کا باپ ایک پاکستانی اور مسلمان ہے“۔
آتش نے بچپن میں اپنے والد کے ساتھ تعلقات کی بحالی کیلئے 2مرتبہ کوشش کی مگر اسے دھتکار دیاگیا۔2002ء میں جب اس کی عمر 21سال تھی اس نے پھر سے کوشش کی اور لاہور پہنچ کر بڑی کامیابی حاصل کی۔ سلمان کا سیاسی کیرئیر روبہ زوال تھا ، فوجی حکمران ملک پر براجمان تھا ۔ ان کی پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو جلا وطن تھیں اور وہ (سلمان تاثیر) ایک دولتمند تاجر اور میڈیا ٹائیکون بن چکا تھا اور اپنی تیسری خوبصورت بیوی او 6بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا“۔ آتش کے برسوں سے واقف خاندانی دوستوں اور رشتہ داروں نے سلمان کی زندگی میں داخل ہونے کیلئے اس کی مدد کی۔ اس طرح باپ بیٹے کے تعلقات کا آغاز ہوا جو کہ کسی طرح سے آسان نہ تھے ۔
اس طرح سے ناول وجود میں آتا ہے۔ آپ بیتی پر ناول لکھنے کی کوشش پر نظر دوڑاتے ہوئے آتش کہتا ہے کہ ”یہ وہ غیر معمولی کہانی ہے، لیکن اس کا مقصد کیا ہے؟۔ یہ ہر ایک کی کہانی نہیں ہے “ ”پھر ایک اہم موڑ آتا ہے۔ 2005ء میں آتش جو کہ لندن میں قیام پذیر ایک صحافی تھا نے برطانوی میگزین کیلئے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی دوسری نسل کی بنیاد پرستی کے بارے میں لکھا اور ایک زبردست دلیل دی کہ بنیاد پرستی کا تعلق مختلف محاذوں پر شناخت کی ناکامی سے ہے۔ اپنی سرورق کی کہانی شائع ہونے کی خوشی میں آتش نے یہ تحریراپنے باپ جس سے اب وہ قربت محسوس کررہا تھا کو بھی بھیجی اور اس کو اس وقت سخت صدمہ ہوا جب اس کو ایک غصے سے بھر پور جواب ملا کہ وہ مسلمانوں کیخلاف مذموم پروپیگنڈا کرکے خاندان کا نام بدنام کررہا ہے“۔
ان الزامات نے آتش کے اندر ردعمل / بدلے کا طوفان برپا کردیا ہے اس کا باپ (جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں بتایا) ایک مسلمان کے طور پر اس کی تحریروں سے کسطرح مشتعل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ تو خود ہر شام ا سکاچ پیتا ہے ،روزہ رکھتا ہے نہ نماز پڑھتا ہے حتیٰ کہ سور کا گوشت تک کھاتا ہے(کچھ باتیں ناقابل اشاعت ہیں)۔
ذاتی تعلقات اور گفتگو کو برسرعام بیان کرنے کے اپنے متنازعہ فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے آتش نے کہا کہ اس کا فیصلہ میں نے اس واقعہ کے بعد اس یقین پر کیا کہ ذاتی حالات میں بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کتاب تحریر کرنے کا مقصد اس مایوسی پر قابو پانا تھا جو اسے اپنے والد کے ساتھ تعلقات اچانک ختم ہونے پر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ ذاتی تاریخ سے سمجھوتا کرنے کا بھی ایک طریقہ تھا“ ۔ یہ کتاب ایک صحافی کی دلچسپ روداد سفر ہے ۔ لیکن سیاسی اور ذاتی واقعات جہاں بھر پور انداز میں آئے وہ کتاب کا تیسرا حصہ ہے جہاں آتش اپنے آپ کو پاکستان میں پاکستانیوں کے درمیان پاتا ہے ۔ ذاتی مایوسی اور دانشورانہ غصہ اس کے اپنے والد کے ساتھ آخری ٹاکرے میں ملکر سامنے آتا ہے ۔
ایک سیاح کے طور پر وہ اپنے منتشر آبائی تعلق کے بارے میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ پاکستانیوں بالخصوص نوجوانوں میں بھارت مخالف جذبات دیکھ کر افسردہ ہوتا ہے۔ کتاب کسی حد تک نظر یہ پاکستان (کسی حد تک بھارتی نظریے کی حمایت) کو مسترد کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے تاہم آتش دونوں کو ساتھ ساتھ لیکر چلتاہوا دکھائی دیتا ہے ۔ اس نے کہا کہ ”مجھے امید ہے کہ یہ کتاب پاکستان کیلئے ہے(اگرچہ) یہ کہنا انتہائی معصومانہ سی بات ہے ۔ یہ کتاب میں نے اس لئے نہیں لکھی کہ میں پاکستان یا اپنے باپ سے حساب برابر کروں مجھے امید ہے کہ وہ کچھ جو پاکستان کے بارے میں مایوسانہ نظر آتا ہے ممکن ہے وہ پاکستان کے بارے میں حقیقی تشویش اور محبت کا اظہار ہوگی“۔
آؤٹ لک کے مطابق آتش کی یہ ذاتی کہانی نئے موڑ لے چکی ہے ۔ سلمان تاثیر جس کے ساتھ آتش کا 15ماہ سے کوئی رابطہ نہیں ہے کتاب کے بارے میں سن کر اپ سیٹ ہے او ر وہ ویسے بھی آج کل پاکستان کی سیاست کے افق پر دوبارہ ابھر آئے ہیں بے یقینی کے ساتھ ہنستے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”کتاب کے اجرا کا وقت ٹھیک نہیں ہے “ وہ (سلمان تاثیر) ایک کاروباری شخصیت تھے اور میرے خیال میں ان کیلئے یہی کافی تھا ۔ انہیں پنجاب کا گورنر بننے کی ضرورت نہیں تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس قسم کی کتاب لکھ کر خاص طورپر اس قد ر حساس موقع پر تعلقات گنوانے کیلئے تیار ہیں تو انہوں نے کہا کہ ”میں کتاب لکھتا یا نہ لکھتا دونوں صورتوں میں میں ناپسندیدہ شخصیت ہوں“۔ لیکن اس نے مزید کہا کہ ”میرے والد ایک ذہین اور وسیع المطالعہ شخص ہیں مجھے امید ہے آخر ایک روز وہ سمجھ جائیں گے“۔
ذیل میں کتاب کے کچھ اقتباسات ہیں ۔ ”میں اپنا سفر ان سوالوں کے ساتھ شروع کرچکا تھا۔ کہ میرا باپ مسلمان کیوں تھا؟ اور اس کی کیا وجہ ہے کہ اسلام کے اخلاقی احکامات /معیارات ان کے اندر کیوں نہیں پائے جاتے ، لیکن وہ مسلمان تھے کیونکہ وہ ہولو کاسٹ پر یقین نہیں رکھتے اور امریکا اور اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں ، ہندوؤں کو کمزور اور بزدل تصور کرتے ہیں اور اسلام کی ماضی میں شاندار کامیابیاں ان کو پر جوش بنادیتی ہیں “۔ ”ان کے اندر ایمان کمزور پڑچکا تھا، جس سے وہ کوئی اخلاقی رہنمائی حاصل نہیں کرتے تھے ان کیلئے وہ تاریخی و سیاسی شناخت کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ ان کے اندر ایمان کی اتنی سی ہی قوت تھی یہ اہم بات تھی کیونکہ اس طرح وہ ایک ماڈریٹ مسلمان بن گئے تھے لیکن یہ بہت کمزور اور غلط سمت میں اختیار کی کی گئی اعتدال پسندی تھی ۔
یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ کوئی کس طرح عبادت کرتا ہے ، کتنی عبادت کرتا ہے ، کیسا لباس زیب تن کرتا ہے، آیا شراب نوشی کرتا ہے یا نہیں لیکن یہ بات ضرور اہم ہے کہ کوئی یہودیوں ، امریکیوں اور ہندوؤں کے بارے میں نفرت کے جذبات رکھتا ہے یہ وہ چیز ہے جو کہ عقیدہ میں گندھی ہوئی ہے اور سیاسی مباحثوں میں شامل ہے ۔ میں کمرے سے چلے جانے کیلئے کھڑا ہوا ۔ یہ ایسا تھا جیسے کوئی نہر کا کنارا ٹوٹ گیا ہو۔ میں اور میرے والد پہلی مرتبہ پریشانی کی حدوں کو پار کرچکے تھے ۔میں کچھ دیر بعد ان کو خدا حافظ کہنے کیلئے واپس آیا لیکن وہ کچھ کہے بغیر ہی کمرہ چھوڑ کر جاچکے تھے۔
اس خالی کمرے نے میرے اندر خالی پن پیدا کردیا جو کہ ایک طرح کی مایوسی تھی میں نے پھر سے سب کچھ دوبارہ سوچنا چاہا ۔ اس میں مفاہمت شامل نہیں تھی کیونکہ اس کے بہت سے تقاضے تھے ۔ صرف احساس زیاں ہی نہیں بلکہ میرا اپنے باپ کی تلاش کا سفر لاہور میں ایک خالی کمرے پر ختم ہو ا تھا۔ ”میرے اور میرے والد کے درمیان فاصلہ زیادہ نہ تھا لیکن یہ سرزمین ایک منفرد تاریخ رکھتی ہے جس سے میرے دونوں ٹوٹے ہوئے (ماں اور باپ) ٹکڑوں کا تعلق ہے۔ میرا اپنے والد کی تلاش اور ان کے ذریعے ان کے ملک کی تلاش اپنی تاریخ کے ساتھ سمجھوتے کا ایک انداز تھا لیکن یہ بے صلہ نہ رہا۔ میرے پاکستان کے ساتھ تعلق کی تجدید ہوئی میں خوش قسمت تھا کہ میرا دونوں ملکوں کے ساتھ تعلق تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے وہ کچھ ملا جس سے بٹوارے نے بہت سے لوگوں کو محروم کردیا تھا۔
میرے لئے اس کا مطلب مختلف تعلیم اور انڈیا کی سہ جہتی یعنی اردو، سنسکرت اور انگریزی میں تاریخ کے بارے میں جاننے کے امکانات شامل تھا۔ یہ بے جوڑ تعلق تحریف شدہ تاریخ رکھنے والے لوگوں کا مقدر ہے لیکن میں ان کو انتہاپسندی پر ترجیح دیتا ہوں۔ دنیا دوغلوں سے بھری پڑی ہے۔ ”لیکن پھر وہاں خالی کمرہ تھا اور رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ تھی جس کیلئے میرے پاس اپنے باپ کے وجود کے سوا کوئی تسلی نہیں تھی اور جس کا وجود میری پوری زندگی میں ایک سایہ کا سا تھا اب محض انتہائی بے وزن ہوگیا تھا اور کون جانتا ہے کہ یہ فضول و ہم مجھ پر کس قدر شدت سے حاوی ہے۔
بشکریہ ” جنگ ” (9 جنوری 2011)
اس بلاگ کو تفصیل سے پڑھکر مجھے جاوید اقبا ل کیانی صاحب کی بلاگ نویسی اور بلاگ کی نظامت کے کمال کا اندازہ ہوگیا۔
اس میں لکھے گئے تمام تبصرے کافی معلوماتی ہیں۔ ہر ایک تبصرہ ایک قطرہ کی طرح ہے جو اپنے اندر سمندر سموئے ہوئے ہے۔
میں اپنے اسپین کے دورے کی وجہ سے اس بلاگ میں حصہ نہ لے سکا مگر کبھی کبھی اس کے تبصرے اور ان پر جاوید اقبال کیانی صاحب کے جوابات پر سرسری نظر ڈالتا رہا ۔ اسپین میں کمپیوٹر کی اتنی سہولت موجود نہیں تھی جتنی جرمنی مین میرے اپنے گھر میں ہے۔ اب جب کہ میں اس بلاگ کو پڑھ رہا ہوں تو مین یہ سمجھتا ہوں کہ تمام باتیں میرے اپنے علم سے اونچی سطح پر تھیں اس لیے میرا ان پر تبصرہ کرنا بالکل سطحی قسم کا ہوسکتا تھا۔
آخری تبصرے میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے جنگ اخبار سے آتش ( سلمان تاثیر کے بیٹے ) کی کتاب پر تبصرہ اور اس کتاب کے اقتباسات بھی پیش کیے جن سے سلمان تاثیر کی زندگی کے تاریک پہلو کا انکشاف ہوتا ہے۔
جاوید اقبال کیانی صاحب نے اپنےاس بلاگ کو اپنے اختتامی تبصرے کے بغیر چھوڑ دیا۔ ان کے اس بلاگ کا موضوع “ قانونِ توہینِ رسالت کا غلط استعمال ؟ تھا جس پر سیر حاصل بحث ہوگئی ۔
میں جاوید اقبال کیانی صاحب کی تحریری قابلیت اور مدبرانہ ( ماہر وکیلوں کی طرح ) بحث کی صلاحیت سے کافی متاثر ہوتا رہتا ہوں ۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
جاوید اقبال کیانی صاحب نے اپنےای میل سے مجھ غریب کو یاد بھی کیا جس کے لیے میں ان کا ممنون ہوں ۔
میری نیک تمنائیں اور دعائیں جاوید اقبال کیانی صاحب اور انکے اہل و عیا ل کے ساتھ ہیں۔
مجھے امید ہے کہ وہ اسی طرح اپنے بلاگوں سے پڑھنے والوں کی عقل اور فہم کو جھنجھوڑتے رہینگے اور ان کے علم میں اضافہ کرتے رہینگے۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
اس بلاگ کو جاوید اقبال کیانی صاحب نے اپنے اختتامی تبصرے کے بغیر چھوڑ دیا
میرے مندرجہ بالا تبصرے کا آخری جملہ مجھ سے دوپارہ کمپوز ہوگیا ہے ۔
اسے نظرانداز کر دیجئے : شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی اس بات پر کہ “ ہر کسی کے بلاگ کو ان قادیانیوں نےہائی جیک کیا ہوا ہے“ مزید روشنی ڈالی جاسکتی تھی کہ قادیانیوں نے توہین رسالت کے موضوع کو کس طرح ہائی جیک کیا۔ اور اسکےسد باب کے لیے پاکستان کے مسلمان کیا کررہے ہیں ؟
میرا اشارہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے 21 جنوری کے تبصرے کے اس اقتباس سے ہے :
“یقین کریں بھائی ہمارے عالمی اخبار کے بلاگ کے علاوہ ہر کسی کے بلاگ کو ان قادیانیوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے اور وہ اپنی من پسند اور من گھڑت حدیثں بیان پر بیان کئے جا رہے ہیں اور عمومی طور پر مسلمانوں کو چونکہ اسلامیات پڑھنے لکھنے سے کوئی دلچسپی توہے نہیں سو وہ ان کے جواب پڑھ پڑھ کر متاثر ہوئے جا رہے ہیں اور انہیں میں جو صرف ایک سچ بولنے والا ہو تو وہی جھوٹا کہلائے گا سو جاوید بھائی دل دکھتا ہے اپنے گھر کو آگ لگتا دیکھ کر ۔۔ اسے اجڑتا دیکھ کر ۔۔۔ “
کاش کہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اپنے مذکورہ بالا احتجاج کو موضوع بنا کر ایک نیا بلاگ شروع کریں۔
۔
محترم جناب قاضی صاحب،
اپنے دوسرے وطن یعنی جرمنی اور بالخصوص دوسری فیملی یعنی ’ عالمی بلاگ فیملی ‘ میں بخریت واپسی پہ دلی خوش آمدید ۔ ہمیشہ کی طرح آخری سانسیں لیتے بلاگ میں آپ نے دوبارہ سے روح پھونکی جوکہ واقعی آپ کی مسیحائی کا کمال ہے ۔
اس بلاگ کا جنم اسے پہلے بلاگ ” اکیسویں صدی کا غازی علم الدین “ کے بند ( بلاوجہ ) ہونے کے بعد کچھ کڑوے حقائق کی روشنی میں میرے اندر کے باغی کے بیدار ہونے کی وجہ سے ہے ۔ جن خدشات کے ساتھ میں نے اس بلاگ کا آغاز کیا تھا اُن پہ مہرِ تصدیق بھی ہمارے محترم مبصرین نے ہی اپنے پرمغز تبصروں اور اعداد و شمار سے ثبت فرمائی ۔
آپ کا شکوہ ، جسے اب حکم سمجھ کر بجا لاؤں گا ، کہ وعدے کے باوجود میں نے اسے اپنے اختتامی تبصرے کے بغیر چھوڑ دیا بالکل بجا ہے اور اس کی وجوہات میں میری کوتاہی ، کچھ حقائق کی تصدیق ، جو ابھی تک نہیں ہوسکی ، اور ان سب سے بڑھ کر میرا احساس کمتری ، کہ اتنی علمی اور قانونی بحث میرے بس کی بات نہیں ، شامل تھیں ۔ آپ کی حکم عدولی کی ہمت نہیں لہذا ایک کوشش اور کرکے دیکھوں گا ۔
آپ کا بے حد شکریہ ۔
محترمی جاوید اقبال کیانی صاحب میرے خیال میں، کبھی “ احساس کمتری “ کا شکار نہیں ہوسکتے ۔ انہیں اس خیال کو ذہن سے نکال دینا چاہیے۔ اس لیے کہ انکی حق گوئی و بے باکی کے آگے کسی کی مجال نہیں کہ زبان درازی کرے۔ اور انہیں اپنی کم علمی سے مرعوب کرنے کی کوشش کرے۔
ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے بلاگ ( بقول انکے) “ بلا وجہ بند “ ہوسکتے ہیں اس لیے کہ اندیشہ ہائے دور دراز ایسا کرنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔
میرا اپنا خیال ہے کہ کالم یا مضمون لکھنا آسان کام ہے اس لیے کہ کالم اور مضمون لکھنے کے بعد کالم نگار اور مضمون نگار آرام سے اپنے گھر بیٹھ کر پڑھنےوالوں کو اپنےکالموں اور مضمونوں سے لطف اٹھانے کا موقعہ عطا کرتے ہیں ۔ اس کے برخلاف
بلاگ نویس کو اپنےبلاگ کو پڑھنے والوں کےتبصروں کا سامنا کرنا پڑتاہے اور اپنے بلاگ کی نظامت کے ساتھ ساتھ الٹے سیدھے تبصروں کے جوابات بھی دینے پڑتے ہیں اور یہ کوشش کرنی پڑتی ہے کہ جوابات اور سوالات کے سلسلہ بلاگ کےمضمون سے ہٹ کر کسی ذیلی خرافات اور ذیلی موضوعات کی بھول بھلیاں میں الجھ نہ جائے ۔
اب دیکھئے کہ اس بلاگ میں بات چلی تھی “ قانونِ توہینِ رسالت کا غلط استعمال ؟ “ پر مگر اس میں لکھے چند ہی تبصرے اس موضوع پر پورے اترتے ہیں اور باقی تمام باتیں ذیلی موضوعات سے متعلق ہیں ۔
اسی طرح جاوید اقبال کیانی صاحب اگر اپنے “بند کئے گئے بلاگ “ کا تفصیل سے مطالعہ کریں تو انہیں اندازہ ہوجائےگا کہ چند ایک مبصروں ہی نے موضوع پر بحث کی باقی کے مبصروں نے نہ جانے کیا ذیلی موضوعات کی طرف انکے بلاگ کا رخ موڑدینے کی کوشش کی ۔ حالانکہ جاوید اقبال کیانی صاحب نے ضرور کوشش کی کہ کوئی مبصر اس بلاگ کے اصل موضوع سے نہ بھٹکے۔
بہرحال ہم سب اپنے تجربات کے ساتھ ساتھ اپنےمشاہدات سے سبق سیکھا کرتےہیں ۔
دوسری بات جو میرے لیے اہم ترین ہے وہ یہ ہے کہ ہم سب بلاگ نگار اور تبصرہ نگار ، عالمی اخبار کے ارباب ِ اختیار کے مہمان ہیں ۔ یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ “ نظر ثانی “ کرنے والی ہستی ان تمام تبصروں کو اور بلاگوں کو حذف اور بند کرسکتی ہے ، جو اسکے معیار پر پورے نہ اترتےہوں یا ان کے شایع کرنے پر امن عامہ کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہو۔
اس لیے انیس کا یہ شعر ہمیشہ ذہن میں رکھنا پڑتا ہے کہ:
خیالِ خاطر احباب چاہیے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں میں
۔۔
میں اپنے اس تبصر ے کو یہیں پر ختم کرتا ہوں مگر مجھے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سے یہی عرض کرنا ہے کہ انہوں نے جو بات 21 جنوری کے تبصرے میں ، قادیانیوں کے بارے میں لکھی ہے اس پر وہ ا گر ایک الگ بلاگ شروع کریں تو ممکن ہے کہ ہم سب پڑھنے والے ایسے بلاگ سے کافی معلومات حاصل کرسکینگے ۔
میں اس بلاگ کے اختتام سے پہلے اپنے محترم قارئین و مبصرین کی مندرجہ ذیل نکات پر ان کی قیمتی آراء کا منتظر ہوں :
توہینِ رسالت کی ایک واضح تشریح
توہینِ رسالت کے مقدمے کے اندراج کا طریقہ کار
اشتعال اور الزام تراشی کی سزا
قانونِ توہینِ رسالت کے غلط استعمال کی روک تھام کے لئے اقدامات
پی پی پی کی مجوزہ آئینی ترامیم
عالمی پراپیگنڈے کا مئوثر جواب
آپ سب کا پیشگی شکریہ ۔