لیکن کیا مصر کی نئی تبدیلی واقعی کوئی نئی تاریخ رقم کرےگی؟میرا خیال ہے کہ اگر اس انقلاب نے حکومت کی تشکیل میں بھی حصہ لیا ، یعنی کسی غیر ملک کو مخل ہونے سے دور رکھا تب ہی یہ نئی تاریخ رقم کر سکے گی ۔عالم اسلام میں یہ تبدیلی شاید اور کئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو۔اور یہ بھی ممکن ہو کہ مصر اگر اس تبدیلی کے بعد نہیں سنبھل سکا تو ٹوٹ پھوٹ کر بکھر بھی سکتا ہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہےکہ اس انقلاب میں جو اشتعال اور جذبہ تھا اس کو سنجیدگی میں تبدیل کی جائے اور انتہائی دور اندیشی سے مصر میں نئی حکومت کی تشکیل عمل میں آئے ۔ یہ مصر کی تاریخ میںٕ سب سے اہم موڑ ہے ۔ یہاں سے ترقی کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ غیر ملکی تسلط کے لیے راہیں ہموار ہوں ۔خدا نہ کرے کہ عالمی سطح پر کوئی سازش رچی جائے اور مصر کلو یرغمال بنا لیا جائے ۔
مصر کے عالم اسلام کو بھی چاہیے کہ وہ مصر کی تشکیل نو میں کردار اداد کرے ۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ عالم اسلام کے بیشتر ممالک خود خائف ہیں ۔ لیکن وہ ایسا بھی کر سکتے ہیں کہ خائف ہونے کے بجائے از خود اپنے ممالک میں ایسی تبدیلیوں پر غور کریں کہ ان کے یہاں اس طرح کے انقلاب کی ضرورت پیش نہ آئے ۔
ساتھ ہی حافظ کے اس شعر کو بھی یاد رکھنا ہوگا:
ہر بنائے کہنہ را کہ آباداں کنند
می ندانی اول آن بنیاد را ویراں کنند

اس بات کا قوی امکان ہے کہ مصر میں فوج قابض رہیگی۔
میں اسے انقلاب کا آغاز سمجھتا ہوں ، نہ صرف عرب دنیا میں بلکہ اسلامی دنیا میں بھی ، جہاں اس وقت بے حسی اور بے بسی کا راج ہے ، کیونکہ ان ممالک کی عوام اور حکمران کچھ بھی نہیں کر رہے یا کر پا رہے ، تو قدرت خود ہی وجوہات بنا رہی ہے تاکہ ہم اس راستے پر چل سکیں جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے
مصر اور عرب ممالک میں اب واضح پولرئزیشن ہو جائے گی ، جیسے ہمارے ہاں ہو چکی ہے ، روشن خیالوں اور بنیاد پرستوں میں ، اور اسی وجہ سے وہ ممالک جو اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ، ان تبدیلیوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے
مگر سچی بات تویہ ہی ہے ، کہ جیسا قرآن میں اللہ نے فرمایا(مفہوم) ، کہ تم اپنی چال چلو ہم اپنی چلیں گے ، اور بے شک اللہ بہتر چال چلنے والا ہے
تیس سالہ آمریت کے بعد بالاخر حسنی مبارک اپنا منہ چھپاکر یہ کہتا ہوا شرم الشیخ چلا گیا کہ :
“نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئےتھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے“
اب دیکھتے ہیں کہ مصر کے فوجی افسر کس طرح مصر کے عوام کو جمہوریتی نظام کےلیے تیا ر کرتے ہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ ظفر جعفری صاحب کی قیاس آرائی کہ “ اس بات کا قوی امکان ہے کہ مصر میں فوج قابض رہیگی۔“ صحیح ثابت ہو ۔
میرا جہاں تک خیال ہے کہ مصر کی جمہور، اب کسی صورت میں فوجی آمریت کو برداشت نہیں کرے گی اور اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی جب تک مصر میں صحیح طور پر جمہوریت نہ قائم ہوجائے۔
خدا کرے کہ فلسطین کے عوام کو بھی ان کی آزادی نصیب ہوجائے ۔اور مصر کی نئی جمہوری حکومت ، فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کی ( فلسطینیوں کے خلاف ) جارحانہ پالیسی ختم کرنے میں فلسطینیوں کا ساتھ دے۔ ( افسو س کہ حسنی مبارک نے اس سلسلہ میں کا فی بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ جس کی وجہ سے اسرائیل نے فلسطینیو ں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کردیا ) ۔
خدا کرے کہ مصر کے عوام اس انقلاب کے نتیجہ میں ایک نئی صبح کا آغاز کریں اور مصر سے بد عنوانی ،اور غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کر یں ۔
ایسا نہ ہو کہ مصر بھی “ روشن خیالوں اور بنیاد پرستوں میں “ میں تقسیم ہوکر اپنے آپ کو( پاکستان کی طرح ) ایک نئے گرداب میں پھنسا دے جس کا ذکر اظہرالحق صاحب نےاپنے تبصرےمیں کیا ہے ۔
مشکل یہ ہے کہ وہ مسلم ممالک جو ابھی تک آمریت کے قبضہ میں ہیں وہ ابھی تک شتر مرغ کی طرح اپنے سر کو ریت میں چھپا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ جمہوریت کا طوفان ٹل گیا اور وہ سب اب جو چاہے کرسکتےہیں ۔ آنے والے چند ماہ بتائینگے کہ یہ طوفان اب کس کس ملک کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسوس کہ پاکستان کی جمہوریت ایک بد عنوان رہنما اور اسکی بد عنوان ٹولی کے قبضہ میں ہے ، اس کے علاوہ خود غرض سرمایہ دار اور زردار غریب عوام کا استحصال کررہے ہیں ۔ اور پاکستان کی سیاسی پارٹیوں میں کوئی اتحاد اور اتفاق نہیں کہ اس نظام کو بدل سکے ۔ اور یہاں پر ایسی کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے جو انقلابی صورت اختیار کرسکے۔
ممکن ہے آنے والے انتخابات میں پاکستانی عوام ، اپنا ووٹ صرف ان رہنماوں کو دینگے جو پاکستان کی بے لوث خدمت کرسکینگے ۔
دیکھتےہیں کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہوتا ہے یا تاریک ہی رہتا ہے !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں اظہر الحق صاحب سے عرض ہے کہ وہ اپنے تبصرے کے آخر میں آیت قرانی کا مفہوم لکھتے وقت لفظ اللہ کی “ چال “ کی بجائے کوئی دوسرا لفظ استعمال کریں ۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ کی “حکمت عملی “ کو اللہ کی “چال “ جیسے لفظ سے تعبیر کرنے پر انکے خلاف کوئی فرد کوئی فتویٰ نہ صاد ر کردے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قبلہ قاضی صاحب آپ کی بات درست ہے اور مشورہ بھی صآئب ہے لیکن یہاں تو ملا بھی بے بس ہیں وہ یوں کہ وہ کریں تو کریں کہ جب اللہ خود قرآن میں لفط مکر استعمال کرتا ہے تو ترجمہ چال کے سوا کیا ہو سکتا۔۔۔۔۔چلیں اسکو حیلہ کہ لیتے ہیں۔
واللہ خیر الماکرین۔ اللہ سب سے بہتر (چال چلنے والا) حیلہ گَر ہے۔
السلام علیکم
محترمین ِ محفل خدا کرے کہ یہ تبدیلی مصری عوام اور مسلمانون کے حق میں بہت ہو ورنہ تو یہ محض بین الاقوامی سیاست کی گند ہی نظر آرہا ہے ، حسن مبارک یقینا ایک غاصب اور برا حکمران تھا مگر اب جو آئے گا وہ کون ہوگا ؟ مصری عوام کے پاس یہ سنہری موقع تھا وہ حسن مبارک کے ساتھ ساتھ نظام بھی تبدیل کرتے یا کم از کم مطالبہ کرتے تو پھر یقینا یہ ایک انقلاب کا پیش خیمہ ہوتا ، مگر یہ اب بھی ایک مثبت تبدیلی کا آغاز ہے ، مصر مین نہ سہی باقی ممالک میں ، ممکن ہے خود وطن عزیز میں ہی ایسی تبدیلی آجائے جس میں صرف چہرے ہی نہیں نظام بھی تبدیل ہو، ممکن ہے ، بہت قرین از قیاس ہے ، اور مجھے اُمید بھی ہے کہ تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے مگر انقلاب ؟ انقلاب ابھی بہت دور ہے ، انقلاب میں ہر شے تبدیل ہو جاتی ہے ، انقلاب خود اپنا حصہ بننے والے ہر شخص کو اندر سے تبدیل کر دیتا ہے ، جب تک ہم خود تبدیل نہین ہونگے انقلاب لانا ممکن نہیں ، ہاں کسی حد تک تبدیلی ممکن ہے جو آتی نظر آرہی ہے ، بس دُعا ہے کہ اللہ خیر و عافیت رکھے ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
ہم دیکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
ہم دیکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
ہم دیکھیں گے۔۔۔۔۔
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
( شاعر ۔ فیض احمد فیض )
مگر کیا ہم بھی دیکھنگے ؟
آصف احمد بھٹی
میں سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یہ فرمایا کہ :
“ لیکن یہاں تو ملا بھی بے بس ہیں وہ یوں کہ وہ کریں تو کریں کہ جب اللہ خود قرآن میں لفط مکر استعمال کرتا ہے تو ترجمہ چال کے سوا کیا ہو سکتا۔۔۔۔۔چلیں اسکو حیلہ کہ لیتے ہیں۔
واللہ خیر الماکرین۔ اللہ سب سے بہتر (چال چلنے والا) حیلہ گَر ہے۔“
۔۔۔۔
میں سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مذکورہ آیت کے متعلق یہ بتادیں کہ یہ قرآن کی کس سورت اور کس آیت میں ہے تاکہ میں بھی معلوم کروں کہ تفہیم القرآن میں مودودی مرحوم “واللہ خیر الماکرین۔ “ کا کیا ترجمہ کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
اگر محترمہ عالم آرا صاحبہ ان تبصروں کو پڑھ رہی ہیں تو ا ن سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی اپنی ان کتابوں سے مشورہ لے کر یہ بتادیں کہ دوسرے مفسرین نے “ماکرین “ کا کیا ترجمہ کیا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔
میں اس بلاگ کے اصل موضوع سے ہٹنا نہیں چاہتا تھا مگر بلاگ نویس صاحب کی بات سے بات نکلی ہے تو اس کو تکمیل تک پہنچانا بھی ضروری ہے ۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
عزتمآب قبلہ قاضی صاحب، حسب حکم حوالہ جات حاضر ہیں۔
وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللّہ وَاللّہ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (العمران آیت ٥٤)
وَاذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُتبِتُوكَ اوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللّہ وَاللّہ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ( الانفال آیت٣٠)
تا ہم بعض علماء نے مکر کا ترجمہ تدبیر کیا ہے، جو صرف بخیال احترام ہے، ورنہ مکر کا لفظی ترجمہ چال ہی ہے۔ چال اچھی ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے، اور اگر چال بری ہو تو اس میں بھلائی نہیں ہے۔ اس لئے محض لفظ چال یا مکر میں بذات خود کوئی خیر و شر موجود نہیں ہیں۔ حوالے کے طور پر تفسیر انوار نجف (از رشحات قلم علامہ حسین بخش جاڑا مرحوم و مغفور) کا صفحہ بھی لف ھذا ہے۔

یہ تفاسیرآن لائن دستیاب ہیں اور میری ڈیجیٹل لائبریری میں محفوظ بھی ہیں۔
نا چیز
سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نےاس قرآنی آیت کی دو مستند تفاسیر عطا کیں ۔ ایک میں مٰکرین کا ترجمہ “چال چلنے والا “ ہے اور دوسری میں اس لفظ کا ترجمہ “ تدبیر کرنے والا“ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ان تفاسیر کی روشنی میں اور سید مصباح حسین صاحب کی مزید تشریح کی روشنی میں کسی کو کوئی منفی بات کہنے کی کوئی ضرورت اور گنجائش باقی نہیں رہتی ۔
۔۔۔۔۔۔
یہ قرآن کا معاملہ ہے اس میں کسی کو کچھ کہنے کی مجال نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ فیروز الغات میں“ مکر“ کے معنیٰ ہیں :
1۔ دھوکا ، فریب ، دغا ، چھل ، حیلہ ، بہانہ
2۔ بہروپ ، بھیس
3۔ جھوٹ ۔ خلاف واقع بات
4۔ ریا ،نفاق ، دو رنگی
5۔ چالاکی ، عیاری ، چال
مندرجہ بالا معنیٰ میں صرف “چال “ کے علاوہ تمام معانی “مکر “ کے منفی پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں ،
۔۔۔۔۔
میرا خیال ہےکہ “ چال چلنے والا“ کے مقابلہ میں “ تدبیر کرنے والا “ ترجمہ : اللہ کی مثبت طاقت کی صحیح طور پر عکاسی کرتا ہے۔
یہ میرا اپنا خیال ہے۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو اللہ سےمعافی چاہتا ہوں ۔
اسلام علیکم ساتھیو اللہ آپ سب کو صحت اور خوشیاں عطا کرے ۔
محترم منظور قاضی بھائی اس بات پر روشنی تو ہمارے بزرگ محترم شمس جیلانی بھائی ڈال سکتے ہیں ،لیکن مجھ کم علم نے جو کچھ پڑھا اُسے لکھ رہی ہوں ۔
لفظی ترجمہ ہے کہ ‘ اور مکر کیا اُن کافروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ‘‘
مفتی شفیع صاحب کی تفسیر ہے کہ‘‘ اور اُن لوگوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے خفیہ تدبیر فرمائی جس کی حقیقت کا ان لوگوں کو پتہ بھی نہ چلا کیونکہ ان ہی مخالفین میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل پر بنا دیا اور حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھا لیا جس سے وہ محفوظ رہے اور وہ ہمشکل سولی دیا گیا ۔ان لوگوں کو اس تدبیر کا علم تک نہ ہو سکا اور دفع پر تو کیا قدرت ہوتی ۔اور اللہ تعالیٰ سب تدبیر کرنے والوں سے اچھے ہیں کیونکہ اوروں کی تدبیریں ضعیف ہوتی ہیں اور کبھی قبیح اور بے موقع بھی ہوتی ہیں اور حق تعالیٰ کی تدبیریں قوی بھی ہوتی ہیں اور اور ہمیشہ خیرمحض اور موافقِ حکمت ہوتی ہیں ۔
تفسیرِ عثمانی میں ہے !
لفظ ‘‘مکر ‘‘عربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں ،اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو تو اچھا ہے اور اگر برائی کے لئے ہو تو برا ہے ۔اسی لئے “ ولا یحیق المکر السئی ‘‘میں مکر کے ساتھ ‘سیی‘ کی قید لگائی
اردو زبان کے محاورات میں مکر صرف سازش اور بری تدبیر اور حیلہ کے لئے بولا جاتا ہے ،اس سے عربی محاورات پر شبہ نہ کیا جائے ۔اسی لئے یہاں خدا کو ‘‘خیرا لما کرین ‘‘کہا گیا ۔
تفسیر لمبی ہے اس لئے صرف اس حصے تک ہی لکھا جو ہمیں مطلوب تھا ۔
مجھ ناچیز کی رائے صرف اتنی ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ جو چیز بھی سوچیں وہ ہمیشہ رحم و کرم اور اس کی الہویت کے شایان شان ہی ہونی چاہئے ۔کہ اگر وہ چال چلتا ہے تو وہ بھی بھلی ہوتی ہے اور اگر وہ
تدبیر کرتا ہے تو وہ بھی، کہ بلا شک و شبہ وہ ‘‘ خیرا لماکرین ‘‘‘ہے ۔ اور ہم سب کا اس پر ایمان ہے ۔الحمدُ للہ
اگر کہیں بھی کوئی سہو ہو تو اللہ سے معافی کی خواستگار ہوں ۔
اللہ ہم سب پر اپنا فضل و کرم کرے اور ہمیں علم حاصل کرنے اور کلام پاک کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
دعاؤن کی طالب عالم آرا
ماشااللہ : محترمہ عالم آرا صاحبہ نے اپنے تبصرے میں جو باتیں لکھی ہیں ان سب باتوں سے اور سید مصباح حسین جیلانی صاحب کی باتوں سے اس آیت کو سمجھنے میں کافی مدد ملی : جزاک اللہ
شکریہ:
منظور قاضی
جرمنی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔
حسنی مبارک آیا اور تیس سال کی آمریت کے بعد چلا بھی گیا مگر مصر کے غریب اور مظلوم عوام ابھی تک غریب اور مظلوم ہی ہیں ۔ بڑے بڑے خود غرض سرمایہ دار ابھی تک اپنے اپنے محلوں میں راج کررہے ہیں اور 40 فیصد مصری عوام غربت کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ نا انصافی ، بد عنوانی اور بے ایمانی اب تک ختم نہیں ہوئی اور اس کے ختم ہونے کا امکان بھی نہیں ۔
مصرکے فوجی حاکم جن کو جمہوریت کی کوئی تربیت نہیں وہی اس کو جمہوریت دینے کے منصوبے بنا رہے ہیں مگر وہ اپنے آپ کو شائد کبھی بھی پارلیمانی جمہوریت کی تابع نہ بناسکینگے اور مصر کے داخلی اور خارجی امور پر حاوی رہینگے ۔
فلسطین کے معاملہ میں یہ فوجی افسر اپنی تیس سالہ پالیسی برقرار رکھینگے اور اسرائیل کو تنبیہ کرنےکی کوشش نہیں کرینگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیض نے جو نظم پاکستان کی صبح آزادی 1947 پر جو نظم لکھی ہے اس کےاستعارات توپاکستان پر چسپاں ہوگئے مگر یہی استعارات آج کل مصر کے انقلاب پر چسپاں ہوسکتے ہیں :
یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا ، یہ وہ سحرتو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں ، جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
۔۔۔۔۔۔
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام
بدل چکا ہے بہت اہل درد کا دستور
نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام
جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارہ ء ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہا ںسے آئی نگارِصبا ، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ ء دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام احباب کا بے حد شکریہ کہ آپ نے اس بزم کو پُر نور بنایا اور دیکھئے کہ اس سیاسی بزم میں قرآن کریب کے ترجمے کے حوالے سے کتنی بیش قیمت معلومات احباب نے بہم فرمائی ۔
آزادی مصر کا خواب ابھی ادھورا ہے بس ہم سب دعا کریں کہ اس تاریخٰ ملک میں پھر کوئی اسرائیل نواز نہ آجائے ۔
اس معمولی تحریر کو پُر وقار بنانے کا بے حد شکریہ