آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی

آج میں شرمندہ ہوں ، اپنے سارے مسیحی دوستوں سے ، جو مجھے اپنا اتنا قریبی دوست سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی اور سمجھتا ہو ، میں ان سے بحث کرتا رہا ہوں کہ پاکستان میں جو لڑائی ہے وہ مسلمانوں کے درمیان ہے اور ہم غیر مسلموں کو اپنے آپ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، میں جسٹس کارنیلسن سے لیکر انیل دلپت تک کی مثالیں دیتا کہ دیکھو جسٹس بھگوان داس کو ہم نے کس پوزیشن پر رکھا ہے ، اور میں انہیں بینجمن سسٹرز ، اے نئیر اور سلیم رضا جیسے گلوکار اور شبنم اور روبن جیسے فنکاروں کی مثالیں دیتا ہوں کہ جو ہمارے دلوں میں رہتے ہیں

میں جے سالک جیسے جنونی کو بھی جانتا ہوں میں بشپ آف پاکستان کو بھی پہچانتا ہوں ، شہباز تم بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جسے ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ یہ ہمارا ہم وطن ہے ، ہم لاہور کی یوحنا بستی ہو یا کراچی کی عیسیٰ نگری ، وہ ملتان اور سہون کے جیسی ہی ہیں

پاکستان سب کا ہے ، وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ، ہمیں ہمارا اسلام سیکھاتا ہے کہ اقلیتوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ، بلکہ خود سے بڑھکر انکی حفاظت کرنی ہے ، ان کی عبادت گاہیں اور مذہبی رہنما ، ہمارے لئے بھی محترم ہیں

مگر اب ایسا لگتا نہیں ہے ، کہ ایک مسیحی رہنما کو دن دھاڑے مار دیا گیا اور وہاں پر پمفلٹ پھینکے گئے کہ یہ ناموس رسالت (ص) کے لئے قتل کیا ہے ، کیا واقعٰی ہی ایسا ہے ؟؟؟؟

نہیں بالکل نہیں ، کیونکہ یہ قتل کرنے والے ناموس رسالت کیا جانیں ، انہیں تو اسم محمد(ص) کا احترام تک نہیں ، جسکو انہوں نے کیچڑ میں پھینک دیا ، یہ اسلام کیا جانیں ، جو آیات قرآنی کی بے حرمتی کریں ، ارے یہ تو انسان بھی نہیں کہ ایک بیٹے کو جو ماں سے ملکر آ رہا تھا اسے نہیں بخشا ۔ ۔ ۔۔ خدارا انہیں مسلمان مت کہیں بلکہ انسان بھی مت کہیں ، یہ درندے ہیں ، جنکے لئے انسا ن کی زندگی کی کوئی قدر نہیں ، یہ اسلام کے نام کو نہیں جانتے کہ جس کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے

مگر ہاں شہباز بھٹی میں تم سے شرمندہ ہوں ، کہ میں نے ایسے حاکم منتخب کئے ہیں جو چوہوں کی طرح بِل میں چھُپے ہیں کہ انہیں موت نہیں آئے گی ، یہ خود تو بُلٹ پروف کاروں میں گھومتے ہیں اور باقی سب کو مرنے کے لئے درندوں کے حوالے کر دیا ہے ، انکے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ دھشت گرد یہ سب کر رہے ہیں ، جب کہ سب سے بڑے دھشت گرد یہ خود ہیں ، کہ جن کی دھشت سے ساری عوام کانپ رہی ہے ، یہ کبھی پٹرول بم گراتے ہیں ، کبھی آٹے اورگھی کی قیمتوں کے اضافے کے مزائیل چلاتے ہیں ، اور کبھی گیس اور بجلی کے بلوں سے ہمیں جلا دیتے ہیں ، اور کبھی چینی کے عزاب نازل کرتے ہیں ، یہ سب فرعون ہیں ۔ ۔ ۔ کافر ہیں ۔ ۔ ۔ مُرتد ہیں ۔ ۔ ۔ اور سب سے بڑھکر یہ ان سب دھشت گردوں کے رکھوالے ہیں ۔ ۔ ۔

آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ میرے دیس کے رکھوالے ، تمہاری رکھوالی نہیں کر پائے
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ چند جنونیوں نے تمہیں مار ڈالا ، مگر یقین کرو وہ ہم میں سے نہیں ہیں
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، تم دن دھاڑے ایک ایسے علاقے میں مارے گئے جسکے ہر گھر میں گاڑی ہے مگر وہ بزدل قاتلوں کی گاڑی کا پچھا بھی نہ کر سکے ،
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، کہ ہم بھی کچھ دنوں میں تمہیں ویسے ہی بھول جائیں گے جیسے اپنے ہزاروں ہموطنوں کے قتل کو بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ، تم کو الزام دیتے ہیں کہ تم نے خود ہی سیکیورٹی نہیں لی ، مگر ہم سب عوام تم جیسے ہی ہیں کہ جنکی حفاظت کے لئے معمور سپاہی آج صرف انکی حفاظت کر رہے ہیں ، کہ جن سے اس ملک کو سب سے زیادہ خطرہ ہے
آئی ایم سوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ شہباز بھٹی ، تم سے ہی نہیں بلکہ اپنے تمام اقلیتی ہم وطنوں سے کہ جنہیں ہم وہ تحفظ نہ دے سکے جو ہمیں دینا چاہیے ، مگر کیا کریں ہم کہ مجھے تو تم جیسا بھی تحفظ حاصل نہیں

میں اگر بلوچستان میں ہوں تو مجھے بی این اے مارتی ہے
میں اگر سندھ میں ہوں تو مجھے ٹارگٹ کلر مارتے ہیں
میں اگر سرحد میں ہوں تو مجھے دھشت گرد مارتے ہیں
میں اگر پنجاب میں ہوں تو مجھے طالبان مارتے ہیں
اور اگر میں دارلحکومت میں ہوں تو مجھے کبھی مذھبی جنونی مارتے ہیں تو کبھی روشن خیال
میں پاکستان کے کسی بھی کونے میں جاؤں تو مجھے مہنگائی مارتی ہے ، گیس بجلی اور پانی بھی مارتے ہیں
میں بھوک سے مرتا ہوں میں سیلاب سے مرتا ہوں اور اگر ان سے بچ بھی جاؤں تو سیاست دانوں کی حماقتوں سے مر جاتا ہوں

آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ۔ ۔ ۔ ہم تمہارے قاتل ہیں ، کیونکہ ہم خود اپنے بھی قاتل ہیں ۔ ۔ ۔۔

Published by

اظہر الحق

I am Azhar!

41 thoughts on “آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی”

  1. میں جناب اظہر الحق صاحب کے اظہارِ ندامت ( جو انہوں نے مرحوم شہباز بھٹی سے کیا ہے) کا ہم آواز ہوں ۔
    صرف انکے بلاگ کےتمہیدی مضمون کے آخری جملے :
    “آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی ۔ ۔ ۔ ہم تمہارے قاتل ہیں ، کیونکہ ہم خود اپنے بھی قاتل ہیں ۔ ۔ ۔۔“

    کی بجائے یہ کہنا چاہتا ہوں :
    آئی ایم سوری شہباز بھٹی ۔۔۔ہم بھی تمھاری طرح اس مقتل میں اپنے اپنے قتل کے اندیشے میں مبتلا ہیں ۔ پتہ نہیں یہ تلوار جو ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے کب ہمارا بھی خاتمہ کردے!!!

  2. جب کبھی آندھی چلی پتوں پہ ہی آیا عذاب
    اب درختوں کی گھنی شاخوں کو ہلنا چاہئے
    صفدر ھمدانی
    1975

  3. میں کل بھی کہتا تھا، میں آج بھی کہتا ہوں،
    ہم ایک چکنی پھسلن میں لڑھکتے جا رہے ہیں، اور اہم بات یہ کہ یہ ڈھلان خود ہم نے ہی تجویز کی تھی، جب ملا کو اس ملک کا رکھوالا بنایا تھا۔
    آگے کیا ہوگا؟ دو اور دو جمع چار کا حساب کسے نہیں آتا؟
    ایک مزاحمتی لکھاری
    فیاض امر

  4. اظہر الحق۔ اگر تمہارے جیسی دس آوازیں بھی پاکستان میں ہو جائیں یا دس باضمیر قلم کار بھی ہوں تو بلوں میں چھپے ہوئے حاکموں کو اپنا روز حساب یاد آ جائے۔ میں نے ابھی اپنے دورہ کویت کے دوران ایک مکالمے کی نشست میں یہی بات کی تھی کہ یہ جو لوگ مسیحی برادری کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں یہی تو ہیں جو محمد حسین کو بھی مارتے ہیں اور عمر فاروق کو بھی۔ یہ چودہ سو سال پہلے کے انہی دہشت گردوں کی اولادیں اور نسیلں ہیں جنہوں نے کوفے کی مسجد میں داماد رسول،سرتاج خاتون جنت علی مرتضیٰ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ انہی کی نسلیں ہیں جنہوں نے کربلا میں آل نبی کو اپنی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا۔ ہے کسی میں یہ کہنے کی ہمت یہ سارے کریہہ کام کرنے والے کوئی عیسائی،ہندو یا سکھ تھے؟ نہیں یہ مسلمان تھے اور آج بھی بے گناہوں کو قتل کرنے والے۔مساجد اور عزا خانوں پر بمباری کرنے والے یہ سب جیسے کیسے نام نہاد ہی سہی لیکن مسلمان ہیں۔
    یہ میسحی وہ ہیں جنہوں نے پاکستان میں تعلیم کی روشنی پھیلانے کا وہ بنیادی کام کیا جو مسلمانوں کو کرنا چاہیئے تھا۔ میری اپنی ساری تعلیم رنگ محل مشن ہائی سکول سے لیکر ایف سی کالج تک مسیحی تعلیمی اداروں میں رہی ہے۔ انشااللہ جلد ہی لکھوں گا تفصیل سے اس بارے میں۔ لاہور کا سینٹ انتھونی سکول،کیٹھیڈرل سکول، سیکرڈ ہارٹ، کنیرڈ کالج،ایف سی کالج اور ایس
    کتنے ہی تعلیمی ادارے ہیں جنہوں نے علم کی وہ روشنی پھیلائی جسکے نور کی پہلی کرن نے اللہ کے حبیب ختم المرسلین کے قدم چومے تھے۔ پاکستان میں کتنے ہی ہسپتال ہیں جو مسیحوں نے بنائے ہیں۔
    ہائے یہ علم سے دور رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت۔ان میں سے ایک فیصد بھی نہیں جنہوں نے اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب بائبل پڑھی ہوتی۔انہوں نے قرآن ہی نہیں پڑھا باقی الہامی کتابیں کہاں سے پڑھتے۔
    اظہر الحق لاہور کے دانشور جوشوا فضل دین،کنول فیروز،اعجاز قیصر،نسیرین انجم بھٹی،یوسف نیئر اور ایسے کتنے ہی ناموں کو کون فراموش کر سکتا ہے۔ آپ نے فنکاروں کا ذکر کیا تو اسمیں آئرن پروین کا نام بھی شامل کر لیں۔ اے نیئر ایف سی کالج میں میرا کلاس فیلو رہا ہے اور ابھی تک بہت اچھا دوست ہے۔مسلہ یہ نہیں کہ کون کس کو مار رہا ہے۔ مسلہ یہ کہ علم سے دوری اور جہالت سے قربت نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے اور حکومت برائے نام بھی نہیں ہے۔ایسی حکومت جس میں عوام کی عزت اور جان و مال محفوظ نہ ہوں کیا کوئی بھی اسے حکومت کہہ سکے گا؟
    اظہر الحق ہم سب آپکی آواز میں آواز ملاتے ہیں اور آبدیدہ آنکھوں سے ندامت کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک اسلامی مملکت میں ہم ایک غیر مسلم کی جان کی حفاظت نہیں کر سکے۔ نہیں نہیں یہ ہماری نبی کی تعلیمات نہیں۔یہ قرآن کا درس نہیں۔یہ چودہ سو سال پہلے کی بنو امیہ اور بنو عباس کی دہشت گرد اولادیں ہیں۔
    ایک نظم کوئی دو ماہ پہلے لکھی تھی۔اسوقت یہ نظم آج بھی گزرے دنوں کی طرح تازہ ہے اور نہ جانے کب تک اسی طرح تازہ رہے۔
    اے ارض وطن شرمندہ ہیں۔

  5. کیا کہا جائے صرف آنکھیں نیچی کر کے شرمندہ ھو سکتے ھیں جو ھم بار بار ھوتے ھیں یہ دہشت گردی نئی نہیں اور ان میں ملوث عناصر کا بھی کبھی پتہ نہیں چل سکا لیکن ان دہشت گردوںکی چالوں سے ھر ذی ھوش واقف ضرور ھے ھم شہباز بھٹی کی روح اور لواحقین سے شرمندہ ھیں لیکن یہاں یہ بات غور طلب ھے کہ شہباز بھٹی کا قتل جب ھوا جب ریمنڈڈیوس کا کیس عروج پر ھے اور ھم یہ نہ بھولیں ریمنڈ ڈیوس امریکہ کا آدمی ھے بعض دفعہ مخالف وہ چال چل جاتا ھے جس کا وہم و گمان نہیں ھوتا رات ایک ٹی وی چینل شہباز بھٹی کے پرانے انٹرویو کو دیکھا رھا تھا وہ جتنی پیاری شخصیت تھے اُتنی ھی پیاری باتیں کرتے تھے وہ بار بار یہ کہہ رھے تھے یہاں بسنے والے تمام مسیحی پاکستانی ھیں تو یہ سوچنا چاھیے کہ ایک اقلیتی مسیحی برادری کے فرد کا قتل نہیں ھوا بلکہ ایک سچے اور مخلص پاکستانی کا قتل ھوا ھے جیسے پاکستان میں ھر مسلک کے لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنتے ھیں بس ضرورت اس بات کی ھے کہ یہ سمجھا جائے کہ اس واقعے سے فائدہ کون اٹھائے گا

  6. فاطمہ ابرار جی. ایک ایک فقرہ آپکا مبنی بر حقیقت ہے اور خاص طور پر یہ کہ……..یک اقلیتی مسیحی برادری کے فرد کا قتل نہیں ھوا بلکہ ایک سچے اور مخلص پاکستانی کا قتل ھوا ھے………

  7. میرا انتظار جہنم کرے اگر میں جھوٹ بولوں تو۔ میری چھٹی حس اسی وقت کچھ ابتر ہو رہی تھی جب گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر کا قتل ہوا۔ مین جانتا تھا کہ یہ ایک بھیانک ڈرامے کی شروعات ہو چکی ہے۔ میں نے اپنے سندھی کالم میں لکھا تھا کہ عنقریب اس ملک کے اہم پوزیشن والے بھی اس نرغے میں آسکتے ہیں، کیونکہ ہم پڑھے لکھے لوگوں نے اس قتل کی جیسے حمایت کر دی تھی، اور اس کی وجہ سے ان عناصر کو جیسے ہم نے ایک اخلاقی کمک مہیا کی تھی۔
    بھیا ہم تو اس طرح روءے تھے جیسے اونٹ ساماں دیکھ کر اپنے من میں روتا ہوگا، کہ یہ مجھے ہی اٹھانا ہوگا،
    ذرا تصور کریں، ایک ریاست کے گورنر کا سر عام قاتل ، اور وہ ہیرو بن کر سھ دھج کر عدالت میں آرہا تھا اور ہمارے کچھ وکلاٴ اسے گلاب کے ہار پہنا رہے تھےإ
    وہ قاتل تھا، اور قانون کی آنکھ سے مجرم، اسے کوءی حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے، لیکن ہمارے عدل کے کارندے اسے ہار پہنا رہے تھے، قبل اس کے کہ اس کا کیس چلے، جج حضرات کیا فتوا دیتے ہیں، پھر جو چاہے کرو، لیکن یہاں تو ہم امین بھی خود، قاتل بھی خودإ
    اور ہم نام نہاد انٹکلچول سبحان اللھ جزاک اللہ کے ورد میں گم تھے، اور دور کہیں کسی تاریک کمرے میں نہیں بہت روشن کمروں میں اب ًکس کی باری ہےً پر غور کیا جارہا ہوگاإ
    اور وہ باری اس فقیر طبیعت بھٹی صاحب کی پہنچی۔ خدا وند قدوس اسے پیراڈایز میں بہت ہی اعلیٰ مرتبے والی جگہ پر رکھے، کیونکہ جنت میں تو وہ جا نہیں سکتا، وہاں تو ملاوں نے اپنے داروغے بٹھا رکھے ہونگے۔ ﴿نعوذباللھ﴾
    خدا معاف کرے۔ میں ایک چھوٹی بات کہ دوں یہاں، کہ خدارا، ایک موقف کو ڈٹ کے رکھا جاءے۔ بجاءے اس کے کہ کبھی وہ اچھا، تو اسی اچھے کے پیروکاروں کے اعمال پر لعن طعن شروع کر دیتے ہیں ہم۔ میں اکثر یہ بھی سوچتا ہوں کہ ہم شتر مرغ کی نفسیات کب تک پالے رکھیں گے؟
    خیر اندیش
    فیاض امر

  8. میں ا ظہر الحق بیٹے کے الفاظ میں کچھ تبدیلی کر کے کہوں گی وی آر سوری شہباز بھٹی ،ہم تمام محب وطن پاکستانی تمھارے قتل پر شرمسار و نادم ہیں ، لیکن ہم بہت مجبور ہیں کیونکہ ہماری حکو مت نے اپنے اقتدار کی مسند کو مضبو ط رکھنے کے لئے اور تاج شاہی اپنی نسلوں کو منتقل کرنے کے لئے قاتلوں کی پوری کھیپ خوشی خوشی درآ مد کی ہے ،اور صرف تمھارے نہیں ہم سب پاکستانیوں کے سروں کا سودا کر کے قتل عام کا کھلا لائسنس بھی ان کو عطا کیا ہے ،

    دنیا کی تاریخ دیکھ لو تاج شاہی کی قیمت یہی ہوتی ہے ،پاکستان کی حالیہ تاریخ دیکھ لو ہر ،ہر حاکم وقت ہماری قوم کے لوگوں کو اپنے تاج و تخت کی بقائے دائمی کے عو ض سامرا جی درندوں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہے اور پورے پاکستان میں مختلف ناموں سے ہم کو قتل کروا رہا ہے

    تو آؤ ہم اپنے مقتولوں کے ساتھ، ساتھ تمھارا پرسہ دینے تمھار ی دہلیز پر دید ہء پرنم سے آئے ہیں

    آ عندلیب کریں مل کے کریں آہ و زاریا ں

  9. ’ شہباز ‘ کبھی مرا نہیں کرتے !
    لیکن ، آہ شہباز ہماری گردن ہمیشہ اسی ندامت سے ہی جھکی رہے گی کہ تمھیں ہم سے جدا بھی کیا گیا تو ایک شہباز کے ہی دورِ حکومت میں ۔ لیکن یہاں کون ہے جو اس بربریت کا جوابدہ ہوگا ؟ کون ہے جو اس خون ناحق کو اپنی گردن پہ لے کر کل خدا کے حضور اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرے گا ؟ یہاں کوئی شہباز ہو یا زردار وہ تو کل خدا کے حضور بھی حدود کا جھگڑا ہی کھڑا کرنے والا ہے کہ یہ قتل کس کی قانونی حد میں ہوا تھا ؟

    شہباز میں کل بھی تمھارا ہمخیال تھا ، آج بھی ہوں کہ یہاں قانونِ توہینِ رسالت کا غلط استعمال ہورہا ہے جو میرے وطن کی بدنامی کے علاوہ اس عظیم ہستی کے لئے بھی شرمندگی کا باعث بن رہا ہے کہ جن کی حرمت کے لئے اسے متعارف کروایا گیا تھا ۔ تم نے سچائی کا علم اٹھا کر موت کو گلے لگا لیا جبکہ میں اگر زندہ ہوں تو محض اس وجہ سے کہ میں اس ’ دھشتستان‘ سے ہزاروں میل دور ہوں ورنہ اب تو سلامتی کے پیغام والے مذہب اسلام کو خون میں نہلانے کا بہانا چاہیئے ۔

    یہاں نہ تو کسی کو وطن کی عزت کی پرواہ ہے اور نہ اس پاک ہستی کی حرمت کا خیال کہ ایسے جنونیوں اور سازشیوں کا کھوج لگا کر نہ صرف یہ کہ انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں بلکہ ان سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا پردہ چاک کریں اور مذہبی منافرت کے اس پھیلتے کینسر کو کنٹرول کریں ۔ اسی بات کی نشاندہی محترمہ فاطمہ ابرار نے صاحبہ نے بھی کی ہے کہ :

    ” شہباز بھٹی کا قتل جب ھوا جب ریمنڈڈیوس کا کیس عروج پر ھے اور ھم یہ نہ بھولیں ریمنڈ ڈیوس امریکہ کا آدمی ھے بعض دفعہ مخالف وہ چال چل جاتا ھے جس کا وہم و گمان نہیں ھوتا “

    اور پھر اس کے ساتھ ہی پنجابی طالبان کی رٹ ، جو الطاف حسین اور پرویز مشرف کے بعد اب تواتر سے رحمٰن ملک کی زبان پہ آچکی ہے ، آخر کس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ؟ پہلی بات تو یہی کہ یہ کوئی طالبان ہیں ہی نہیں اور پھر یہ پنجابی ، سندھی یا بلوچی طالبان جیسی اصطلاحات کا مطلب کیا ؟ یہ کام مذہبی جنونیوں کا ہے یا ریمنڈ ڈیوس کے ہی ہمراز بلیک واٹر کے کارندوں کا ، اس سازش کا کھوج لگانا حکومت بالخصوص وزیرِ داخلہ ، کا کام ہے اور وزیرِ داخلہ نے اگر کسی ثبوت کے مدنظر یہ الزام لگایا ہے تو تمام حقائق کو بھی عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیئے ، ورنہ :

    اس رزق سے موت اچھی ، جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

    لیکن یہاں تو سب کرگس ہی بیٹھے ہیں جو ہماری لاشیں نوچ رہے ہیں ، شہباز کو تو ہم سے چھین لیا گیا ہے ۔

    ہم سوگ کی اس گھڑی میں تمام مسیحی برادری ، بالخصوص شہباز مرحوم کی تمام فیملی ، کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔

  10. جانے کب کون مار دے کافر کہہ کر
    شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

  11. “یہ چودہ سو سال پہلے کی بنو امیہ اور بنو عباس کی دہشت گرد اولادیں “ بھی ہوسکتی ہیں مگر میرے خیال میں یہ سب
    “مردود شیطان “کی اولاد ہیں جو تمام مسالک کےمسلمانوں کےعلاوہ عیسائیوں تک کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنارہی ہیں۔

    اللہ تمام پاکستانیوں کو شیطانوں کے شر سے محفوظ رکھے: آمین

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  12. جی محترم قاضی صاحب یہ شیطان مردود کی ہی اولادیں ہیں اور نام تو اسکا ابلیس ہے لیکن اسکی سفلی صفت شیطانیت ہے. جیسے ابلیس کسی بھی نام اور کسی بھی دین، مسلک،قوم.امت،معاشرے اور ملک میں موجود ہو سکتا ہے اسی طرح ابلیسیت بھی شیطانیت کی روپ میں کہیں بھی اور کسی بھی شکل میں موجود ہو سکتی ہے بلکہ ہے.اُن ملاؤں کی شکل میں بھی جو جنت کی لالچ میں ماؤں کے نونہالوں کو خود کش بناتے ہیں. میں حیران ہوں کہ ان اسلام دشمن ملاؤں کو خود جنت میں جانے کی خواہش کیوں نہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ یہ بنو امیہ اور بنو عباس بھی اسی ابلیسیت کی ایک کریہہ شکل تھے اور اب بھی ان کے گماشتے اور باقیات اسی کام میں لگے ہیں. یہ وہی ہیں جنہوں نے سعودی عرب میں آل رسول کی قبروں کو مسمار کیا اور جو آج 2011 میں بھی اللہ کے حبیب کے روضے کو ہاتھ لگانے پر درے مارتے ہیں اور سلام و درود کو بدعت کہتے ہیں. انہی کی اولادیں ہیں جو اپکستان کی دیواروں پر دوسرے مسلک کے لوگوں کو کھلم کھلا کافر لکھتے ہیں. یہ چور اور جابر و ظالم حکومتوں کے قیام کا جواز بنے ہوئے ہیں. آپ نے دیکھا نہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے.

  13. انساں تو قبیلوں میں ھیں تقسیم ازل سے …
    افسوس کہ ھے دین بھی طبقات کی زد میں

  14. جناب صفدر ہمدانی صاحب نے صحیح فرمایا ہے کہ :
    “یہ شیطان مردود کی ہی اولادیں ہیں“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے خیال میں :
    جب انسان شیطان بن جائے تو وہ کسی بھی شکل میں ہو شیطان ہی رہتا ہے ۔۔

    ہٹلر ( جو کہ بنو امیہ اور بنو عباس کی اولاد نہیں تھا ) اس نے نہ صرف مسیحیوں کو بلکہ مسلمانوں کو اور یہودیوں کو اور ہر مذہب ا ور مسلک کے لوگوں کو آگ میں پھینک دیا ۔

    اسٹالن اور ماوزے تنگ ( جو بنو امیہ اور بنو عباس کی اولاد نہیں تھے ) انہوں نے بھی لاکھوں معصوم انسانوں کو ہلاک کردیا ۔

    روانڈا اور برونڈی میں بھی مسیحیوں نے مسیحیوں کو بےدردی سے ماردیا ۔

    کشمیر اور فلسطین میں انسانوں پر شیطانوں ( جو بنو امیہ اور بنو عباس کی اولاد نہیں ہیں) کے مظالم کو دنیا دیکھرہی ہے۔

    دنیا کی تاریخ میں ایسے شیطانوں کے ہزاروں مثالیں ملینگی جن میں انسان نےشیطان بن کر دوسرے انسانوں کو تباہ و برباد کردیا۔
    یہ سب انسان (بنو امیہ اور بنو عباس کے اولاد نہیں تھے )۔

    شہباز بھٹی بھی ایک انسان تھا جس کو ایک شیطان نے بے دردی سے قتل کردیا

    شیطان کے لیے بنو امیہ اور بنو عباس کی اولاد ہونا ضروری نہیں ۔

    ولی کے پیٹ میں شیطان کی مثل تو سب نےسنی ہوگی ۔۔

    اگر شہباز بھٹی کے قاتل کے شجرے کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ اسکے آبا و اجداد شائد غیر مسلم تھے جن کا تعلق بنو امیہ اور بنو عباس کی اولاد سے نہیں تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں جناب صفدر ہمدانی صاحب کی اس بات سے باکل اتفاق کرتا ہوں کہ :

    “یہ شیطان مردود کی ہی اولادیں ہیں اور نام تو اسکا ابلیس ہے لیکن اسکی سفلی صفت شیطانیت ہے. جیسے ابلیس کسی بھی نام اور کسی بھی دین، مسلک،قوم.امت،معاشرے اور ملک میں موجود ہو سکتا ہے اسی طرح ابلیسیت بھی شیطانیت کی روپ میں کہیں بھی اور کسی بھی شکل میں موجود ہو سکتی ہے بلکہ ہے.اُن ملاؤں کی شکل میں بھی جو جنت کی لالچ میں ماؤں کے نونہالوں کو خود کش بناتے ہیں. “

    اللہ تمام معصوم انسانوں کو شیطان کی اولاد کےشر سے محفوظ رکھے آمین

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  15. جناب صفدر ہمدانی صاحب نے اپنا تبصرہ اس جملے پر ختم کیا ہے کہ:
    “آپ نے دیکھا نہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے“

    جناب صفدر ہمدانی صاحب نے اپنے جملے میں جس ملک کو “ سب سے بڑا دہشت گرد “ کہا ہے کیا اسکے قائدین کا تعلق “بنو امیہ اور بنو عباس “ سے ہے ؟

    میرے خیال میں ، ہم استعارہ کےطور پردنیا کے ہر ظالم کو “یزید “ کہ سکتے ہیں مگر ہر ظالم کا بنو امیہ اور بنو عباس کی اولاد ہونا ضروری نہیں۔

    یہ میرا اپنا خیال ہے جس سےکسی کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  16. قاضی صاحب، آپ بار بار اگر بنو امیہ اور بنو عباس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں یہ آپ کے ضمیر کی بات ہے. ہم ظلم اور ظالم دشمنوں کے نزدیک بنو امیہ اور بنو عباس اور ایسے ہی سب خاندان اور ملوکیت کے نمائیندے انسان دشمن ہیں. میرے نزدیک بنو امیہ اور بنو عباس بھی ابلیسیت کی طرح ایک استعارہ ہیں جس کا اطلاق کسی بھی شیطانی قوت پر ہو سکتا ہے.

  17. ایک معصوم آدمی کو سرِ بازار روک کر، اُس کے گھر کی دوخواتین اور ڈرائیور کو گاڑی سے اُتار کر، ایک نہتے انسان پر گولیا ں چلانا مردانگی کہلاتا ہے۔ یہ وہ مردِ مجاہد ہیں جو عین وقتِ شہادت بھی نہیں جاگتے۔ کتنے ہی معصوم اور بے قصور لوگوں کو ساتھ لے مرتے ہیں۔ خد ا غارت کرے ایسے لوگوں کو، ہمارے مذہب کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔

    بھائی شہباز بھٹی، تمھیں مار کر ا ن اسلام دشمنوں کو چین نہیں آیا۔ اصل چین انہیں تب آَئے گا جب کوئی میرا عیسائی پڑوسی یا اُسکی اولاد مجھے گاڑی سے اُتار کرصرف اس لیئے گولی مار دےگی کہ میں ایک مسلمان ہوں۔ اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ دن کوئی بہت ذیادہ دور نہیں ہے۔

  18. اس بلاگ کے ( اور عالمی اخبار کے ) پڑھنےوالے جانتے ہیںکہ میں نے ہر گز “بار بار تو کیا ایک بار بھی بنو امیہ اور بنو عباس کی حمایت نہیں کی ۔“

    اگر بلاگ نویس جناب اظہر الحق صاحب اس بلاگ کی نطامت کررہے ہیںتو انہیں چاہیے کہ وہ اس بلاگ کو اپنے اصلی موضوع
    “ ائی ایم سوری شہباز بھٹی “ سے کسی ذیلی موضوع کی بھول بھلیاں میں بھٹکنے نہ دیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک مسیحی ( شہباز بھٹی ) کی موت ایک یزید ا شیطان کے ہاتھوں ہوئی جس پر ہم سب انسان شرمندہ ہیں۔
    ۔۔۔۔
    فقط
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  19. عجیب مخمصہ ہے کہ انہی صفحات پر ہم (اکثریت) نے سلمان تاثیر کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا اور اسکے قاتل کو غازی علم الدین قرار دیا۔ بیج ہم نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔ اب پودا پھل دینے لگا ہے تو ہمیں کاہے کی پریشانی لاحق ہے؟۔۔۔شاتم رسول کو ہم کسی معافی کے اصولی طور پر قائل نہیں ہیں۔ سو اس لئے ہم نے بھی سلمان تاثیر کی رد ولعن کی قرار دادوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور لیتے رہیں گے۔۔۔۔!
    لیکن ایک حقیقت ان سب سے الگ بھی ہے اور وہ یہ کہ ایسی سزا وہی دے جو خود اس جرم کو مرتکب نہ ہوا ہو۔
    ان سب باتوں کے سوا ایک اور بات بھی ہے اور وہ یہ کہ ہم اس سب پر بیٹھے خود مسلمان ہی کو کوس رہے ہیں کہ سامنے ہاتھ تو اسی کا ہے نہ۔ اور کوسیں بھی کیوں نہ کہ ہتھیار و سازمان کسی کا سہی، ضمیر تو اسی کا خوابیدہ ہے اور جا بجا درہم و دینار کی منڈیوں میں یہی بکتا چلا آتا ہے۔
    ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ کوئی نیا نہیں ہے، چودہ سو برس سے یہی ہو رہا ہے اور ہم پس پردہ عوامل کے اثر میں اس طرح سر گرداں ہیں جیسے موت و حیات کی ڈور انہی کے ہاتھ میں ہو۔ حاکم کوفہ ولید بن عقبہ اموی، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نمائیندہ تھا۔ مسجد و محراب سے لیکر گھر کے خلوت خانے تک ابو زبید نصرانی اس کا ہمدم و مصاحب خاص ہوتا تھا، جس کی شہ پر اس نے مسجد میں جادو گروں کی محفلیں سجائیں اور شراب پی کر نماز فجر بھی پڑھوائی۔ رد عمل کا آغاز کرنے پر، اسی حاکم نے جندب بن زھیر ازدی (صحابی ء رسول) کے قتل کا حکم دیا۔ اہل کوفہ کی خبر ِ اضطرار خلیفہء مسلمین رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو بصد تردد ولید کو ہٹا دیا گیا۔ خلیفہ پر بنی امیہ کا شدید دباؤ تھا کہ بنی امیہ کے شہزادے کو بحال کیا جائے۔ آپ کے داماد مروان بن حکم نے بھی دباؤ ڈال رکھا تھا دوسری طرف مسلمانوں کے مابین شدید شورش برپا تھی۔ سو ولید کو دمشق بھجوا دیا گیا۔ بعد میں یہی ولید خلیفہ کی شہادت پر مدینہ کا حاکم مقرر کردیا گیا، جس نے رجب، ساٹھ ہجری میں امام حسین علیہ السلام سے یزید کی خاطر بیعت طلب کی، اور مجبورا امام علیہ السلام کو مدینہ چھوڑنا پڑا۔
    میں تاریخ میں نہیں جانا چاہتا، لیکن صرف اتنا بتانا تھا کہ کس طرح سے صلیبی نمائندے ہماری صفوں میں موجود رہے ہیں اور کس طرح سے وہ اسلام کی قبائے امن کو تار تار کرتے رہے ہیں۔ صلیبی جنگوں کے عہد کی سازشوں پر کتب بھری پڑی ہیں، لیکن بھلا سبق لیں تو کیوں لیں؟
    واپس آتے ہیں پاکستان کی طرف۔ حقیقت یہی ہے کسی بھی وقوعے کی تفتیش میں بنیادی نکتہ یہی ہوتا ہے کہ اصل فائدہ کس کو ہوا ہے۔ سلمان تاثیر مرے، یا شہباز بھٹی۔گراف تو پی پی پی کا ہی بلند ہو رہا ہے نا کہ ہم دہشت گردوں سے کسطرح نمٹ رہے ہیں۔ کسی کو دہشت گرد پالنے ہیں تو کسی کو ان کو شکار فراھم کرنا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس تو بس اک کل پرزہ ہے۔ وہ چُھٹے نہ چُھٹے، الگ مسئلہ ہے، لیکن اسامی خالی تھوڑی رہے گی۔۔۔۔اسکی توجگہ بھی اب تک پُر ہو چکی ہوگی اور اسکا بگ باس تو خود کہیں وزارت داخلہ کی سیسہ پلائی دیواروں کے تحفظ میں بیٹھتا ہوگا۔۔۔۔۔۔ ۔ سو یہ قتل و غارت گری جب کوئی روکنا ہی نہیں چاہتا تو کیسے رکے گی؟
    بہر کیف ہم شہباز بھٹی سے شرمندہ ہوں نا ہوں، خود اپنے کردار پر خود سے شرمندہ ہیں۔ ہمارے معیار روز بدلتے ہیں اور ہمارے عقائد مسلسل یلغار کا شکار ہیں۔
    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
    =============================
    عزت مآب قاضی صاحب !
    جہاں تک بنی امیہ و بنی عباس کو مطعون کرنے کا سوال ہے تو ہم بطور مسلمان ان کو جبر وستبداد کی علامت اس لئے جانتے ہیں کہ اسلام میں لا اکراہ فی الدین کی دھجیاں انہی نے اڑا کر خلافت کو ملوکیت سے ملبوس کیا، دلیل کے مقابلے میں تلوار لائے، امان کو قتال سے بدلا، اور امن کی جگہ خوف کے پہرے بٹھائے۔ اس لئے عالم اسلام میں جب کبھی اس عمل کی تکرار ہو، ہم اس کو اموی سوچ پر منتج کرتے ہیں۔ ورنہ بحیثیت مجموعی بنی امیہ و بنی عباس میں اچھے برے سبھی لوگ شامل رہے ہیں۔ جیسے حضرت عمر بن عبد العزیز اموی تھے اور جناب عمروبن وہب المعروف بہ بہلول دانا بنی عباس سے تھے۔ لیکن چونکہ انہی قبائل کے افراد نے کم و بیش چھ سو سال مجوعاً حکمرانی کر کے اسلام کے درخشاں عہد کو تاریکیوں کے سفر پر گامزن کیا، اس لئے جب کبھی غیرت اسلام کا سوال آتا ہے تو لا محالہ توجہ ان کر طرف ہو جاتی ہے۔ ورنہ زمانے بھر میں جتنی بھی استبدادی قوتیں گزری ہیں ان کا قبلہ و کعبہ انکی اپنی ذات کے سوا کچھ نہیں رہا۔ یہ استبداد چاہے نمرود یا فراعین مصر کی شکل میں ہویا یزیدِ اموی اور منصور عباسی کی شکل میں ہو۔ نیرو کی شکل میں ہو یا میسو لینی ہو، ہٹلر ہو یا صدام حسین ہو، جنرل ضیاء ہو یا مشرف، اور جمہوریت کے پردے میں چھپے فراعین نواز شریف ہوں یا زرداری ہوں اور چاہے صدر اوباما ہوں یا بُش۔ اس لئے ان میں سے کسی کو ہٹلر کہ لیں یا فرعون کہ لیں، عباسی حکمران کہ لیں یا اموی شہزادہ، کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ نام تو سب استعارے ہیں جو یاد کراتے ہیں پچھلوں کے ظلم و جبر اور انکے انجام کو۔ ورنہ ہر ظالم بہر کیف خود ہی لعن و طعن کے لئے کافی ہوتا ہے۔

  20. جبب کبھی غیرت اسلام کا سوال آتا ہے تو لا محالہ توجہ ان کر طرف ہو جاتی ہے۔ ورنہ زمانے بھر میں جتنی بھی استبدادی قوتیں گزری ہیں ان کا قبلہ و کعبہ انکی اپنی ذات کے سوا کچھ نہیں رہا۔ یہ استبداد چاہے نمرود یا فراعین مصر کی شکل میں ہویا یزیدِ اموی اور منصور عباسی کی شکل میں ہو۔ نیرو کی شکل میں ہو یا میسو لینی ہو، ہٹلر ہو یا صدام حسین ہو، جنرل ضیاء ہو یا مشرف، اور جمہوریت کے پردے میں چھپے فراعین نواز شریف ہوں یا زرداری ہوں اور چاہے صدر اوباما ہوں یا بُش۔ اس لئے ان میں سے کسی کو ہٹلر کہ لیں یا فرعون کہ لیں، عباسی حکمران کہ لیں یا اموی شہزادہ، کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ نام تو سب استعارے ہیں جو یاد کراتے ہیں پچھلوں کے ظلم و جبر اور انکے انجام کو۔ ورنہ ہر ظالم بہر کیف خود ہی لعن و طعن کے لئے کافی ہوتا ہے۔

    جیتے رہو سید مصباح حسین. اس بھاری دلیل کو سمجھنے کے لیئے ذہن بھی بھاری چاہیئے. ہم مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت ایسی ہے جس نے اپنی تاریخ پڑھی ہی نہیں اور اتنی ہی بڑی اکثریت ہے جنہیں ان کے قائدین و اکابرین نے یہ سب بتایا ہی نہیں،اس لیئے انکے لیئے یہ باتیں مسلکی یا فرقہ ورانہ ہیں،حالانکہ ان ابلیس صفت ملوکیت پسندوں نے اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اور آج تک پہنچا رہے ہیں.

  21. منظور بھائی آپ کا مسلہ صرف اتنا سا ہے کہ آپ استعاروں کی بات نہیں سمجھتے .. خدا جانے آپ کو کیوں ہر شعر میں ہر لفظ میں ہر تحریر میں صرف وہ بات ڈھونڈنی ہوتی ہے جس سے لکھنے والے کا اصل مقصد کھو جائے .. میرے محترم بھائی آپ ہم سب میں بڑے ہیں علم اور تجربے میں بھی ہم سب سے بڑے .. ہم تو آپ کی طرف کچھ سیکھنے کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن مجھے اوروں کا تو پتہ نہیں لیکن اپنی بات کرتی ہوں کہ آپ کے تبصرے انتشار پر ختم ہو جاتے ہیں .. اب یہی دیکھئے جس بات پر آپ الجھ رہے ہیں اس بات میں بھی رمز صرف استعاراتی شیطان صفت لوگو کا زکر ہے .. اور یہ بلکل ایسے ہی جیسے دنیا کہہ رہی ہے کہ” مسلمان دہشت گرد ہیں ” .. آپ ہی بتائیں کیا میں اور آپ بھی دہشت گرد ہیں .. نہیں نا لیکن ہم مسلمان ضرور ہیں اور دنیا کے مختلف کونوں میں بستے ہیں اور ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں ہے ..اسی طرح عربی ، عراقی ، تیونس اور ملائیشیا اور جانے کہاں کہاں کس کس کس زبان کے مسلمان موجود ہیں .. کیا وہ سب بھی دہشت گرد ہیں .. نہیں نا ….

    اس لئے جب شیطان صفت لوگو کا زکر ہوتا ہے تو صرف استعاراتی ہوتا ہے وہ چاہے دنیا کے کسی کونے میں ہوں چاہے کسی زبان و نسل کےہوں .. کسی مسلک سے ہوں .. وہ اپنے کرداروں اور کرتوتوں کی بناپر شیطان کہلائےجاتے ہیں اور یہی ان کی سزا ہے کہ رہتی دنیا تک کوئی انہیں اچھے ناموں اور کاموں سے یاد نہیں کرے گا اور ان کے زاد راہ کے لئے بھی صرف برائیاں ہی ان کی ہمسفر ہونگی ..

    منظور بھائی یہ وقت ایک دوسرے کا ہا تھ پکڑ کر مشکلوں میں ساتھ دینے کا ہے ناکہ بکھرنے کا ہے اور وہ بھی اس بات پر جو سرا سر حقیقت ہے کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں نے ملوکیت کی بنیادیں رکھیں تھیں اور انہیں اتنا پائیدار بنایا کہ وہ ابھی تک زردار ، نواز شریف، الطاف حسین ، معمر قذافی توکبھی صدام حسین تو کبھی حسنی مبارک میں پنپی ہیں …دیکھئے بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں بھی ان کی عوام ہی پسی تھی اور آج ہم جیسے نہتے عوام ظلم میں پس رہے ہیں ..اور بنو امیہ اور بنو عباس جیسے حکمران ہمارے مالک و رکھوالے کہلاتے ہیں … کونسی نسل کہاں کہاں بدلی ہے … آنکھیں کھولئے منظور بھائی اور صرف اپنے گھر کی آگ دیکھئے کہ ہم پہلے اس میں جلیں گے پھر پرائی آگ میں ….

    رہی بات اظہر کے بلاگ کی نگرانی کی تو شاید آپ سب بھول رہے ہیں کہ وہ ہمارا بھائی ہے اور بیمار بھائی ہے جس کے پاس اپنے اور اپنی بیوی کے علاج کے پیسے تک نہیں ہے اور جب بھی اس کے پاس کچھ بچ رہتا ہے تو انٹرنیٹ کی قیمت دیتا ہے اور لکھنے چلا آتا ہے … میں ا سکی ہمت اور عظمت کو سلام کرتی ہوں جو ابھی بھی ہمت ہارنے پر تیار نہیں اور خود کو ہر راہ میں گھسیٹتا پھرتا ہے .. لیجئے میں کرتی ہوں اس بلاگ کی نظامت .. مجھ سے کہئے جو کہنا ہے .. مجھ سے پوچھئے جو پوچھنا ہے ..تاہم یہ کوئی اصولی اور قانونی بات نہیں کہ جو بلاگ لکھے وہی اسے چلائے بھی .. ہاں یہ ضروری ضرور ہے کہ بلاگ لکھنے والا اپنے بات کو واضح کرتا جائے ..اور بحث کو آگے بڑھانے میں معاون ضرور رہے لیکن پھر بھی یہی کہونگی کہ یہ معاونت کوئی بھی کر سکتا ہے ..

  22. اس بلاگ میں سلمان تاثیر کا شہباز بھٹی سے موازنہ سمجھ سے بعید ہے ۔ سلمان تاثیر نے مسلمان ، اور وہ بھی ایک عالمِ دین کی اولاد ، ہوتے ہوئے قانونِ توہینِ رسالت کو نہ صرف ایک سے زیادہ بار کالا قانون کہا بلکہ اسے جب اور جہاں موقعہ ملا اس نے اس ہمیشہ اس قانون کا مذاق اڑایا ، اس کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے حتاکہ آسیہ بی بی کی ہائی کورٹ میں اپیل کے فیصلے سے پہلے ہی اس کے ہمراہ جیل میں پریس کانفرنس کے بعد اس کی رحم کی اپیل خود صدر زرداری تک پہنچائی ۔ اگر اس صدی میں ایک نیا غازی علم الدین پیدا نہ ہوتا تو اب تک ایک سلمان تاثیر تو کیا پی پی پی کا پورا ٹولہ ہی قانونِ توہینِ رسالت پہ حملہ آور ہوچکا ہوتا ۔ سلمان تاثیر کے قاتل نے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرتے ہوئے قتل کے تمام محرکات خود بیان کردئیے ہیں ۔

    اس کے بر عکس شہباز بھٹی نے غیر مسلم ہو کر بھی نہ تو کبھی توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا اور نہ ہی اس قانون کے خلاف کبھی توہین آمیز الفاظ استعمال کئے بلکہ ہمیشہ اس قانون کے غلط استعمال کی طرف ہی توجہ دلائی ۔ شہباز بھٹی کا قتل ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد مسیحی برادری میں احساس عدم تحفط اور نفرت کے علاوہ ہمارے ملک اور مذہب دونوں کی بدنامی کی سوا کچھ نہیں ۔ ہماری بدقسمتی محض ہمارے حکمرانوں کی نااہلی ہے ورنہ ہمارے خدشات اور مفروضوں کی بجائے تمام حقائق خود گواہی دے رہے ہوتے ۔

  23. حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہمارا دستور سیکیولر ہو۔ ورنہ مذہبی انتہا پسندی ہمیں کھا جائے گی۔ اسرائیل تک کا دستور (کاغذ پر ہی صحیح) سیکولر ہے۔

  24. جناب محترم کیانی صاحب سلام مسنون۔
    فدوی کا تبصرہ دوبارہ پڑھیں تو شاید بین السطور ما فی الضمیر کو آپ سمجھ جائیں۔ تاہم اگر پھر بھی آپ کو میری نگارشات کا وہی مطلب نظر آئے جو اب تک آیا ہے تو فدوی اپنی کم مائیگی کا اقرار کرتا ہے۔ صرف گرہ کھولنے کے لئے اتنا عرض کردوں کہ یہ قتل کئے نہیں کرائے گئے ہیں۔ آپ فوج میں رہے ہیں اور یہ نا چیز بھی اسی قسم کے اداروں سے کسی نہ کسی طور مربوط رہا ہے۔ آپ جانتے ہونگے کہ کھیل کا مزا تو تبھی آتا ہے جب کھلاڑی نظر نہ آئے۔ اگر آپ اسے دور کی کوڑی سمجھیں تو بندہ بے بس ہے۔
    کالے پانی والے سیاہ بختی کا جو کھیل ہمارے ساتھ رچا رہے ہیں، اسکا منظر نامہ شاید ابھی پوری طرح سجا ہی نہیں ہے، اور خدا نے چاہا تو انکا برنامہ یونہی دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ شاہ محمود قریشی کو اگر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی امید اور زندگی کی وفا نے ساتھ دیا تو ابھی بہت کچھ نکلے گا پنڈورا باکس سے۔ اس پُتلی تماشے میں ڈور جن ہاتھوں میں ہے، انہی ہاتھوں نے بے نظیر بھٹو کی رسی بھی کھینچ لی تھی۔ بس اور کیا کہوں؟؟؟
    خاکسار و مخلص

  25. اللہ اور اسکے رسول کے کم ازکم علم حاصل کرنے کے حکم کو مان لیجئے کیونکہ اسی علم سے ہم اس انتہا پسندی اور جہالت کو شکست دے سکیں گے

  26. محترم جناب سید مصباح حسین صاحب ،

    السلامُ علیکم ،

    قبلہ شاہ صاحب ، بات آپ کے تبصرے کی نہیں تھی بلکہ اس سوچ کی تھی جو سلمان تاثیر کو شہادت کا مرتبہ دلوانے پہ مصر ہے اور جو کبھی کبھی عالمی اخبار کے پلیٹ فارم پہ بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں کسی نہ کسی بلاگ میں سر اٹھانے کی کوشش کرتی ہے ۔ سلمان تاثیر کا قتل ایک سیاسی قتل بھی ہوسکتا ہے لیکن بظاہر اسے مقتول کے اپنے کئے دھرے کے ردِعمل کے طور پر ہی دیکھا گیا ہے ۔ لیکن میں پھر اسی بات کا اعادہ کروں گا کہ ہمارے حکمرانوں کی نااہلی جو لیاقت علی خان سے لیکر آج تک مختلف سیاسی شخصیات کے قاتلوں کے نشان مٹا کر ہمیں مفروضوں کے کھیل میں الجھاتی رہی ۔ ’ کالے پانی والوں ‘ ، آپ کی یہ اصطلاح بہت پسند آئی ، کے اثر و نفوذ سے پاکستان کا ایک ان پڑھ دیہاتی بھی واقف ہے لیکن صاحبان اقتدارا کو پھر بھی اصرار ہے کہ وہ تو یہاں ہیں ہی نہیں ۔

    شاہ محمود قریشی پنجاب کا کھر بننے کے خواب دیکھے یا مرکز میں بھٹو بننے کے ، آپ اہلِ قلم حضرات کا یہ فرض ہے کہ عوام کے ذہنوں سے یہ بات بھی نہ بھولنے دیں کہ جس وزیرِ خارجہ کے دور میں اتنے جاسوس کسی تیسرے ملک سے بغیر سیکورٹی کلیئرنس کے ویزے لے کر ہمارے ملک میں داخل ہوگئے تب اس کی حب الوطنی کہاں تھی ؟ جو شخص آج وزارتِ خارجہ نہ ملنے پہ ملک کے درد میں تڑپتا سر اٹھانے کی باتیں کر رہا ہے عوام کو اس کا ہیلری کلنٹن سے سر جوڑ ے مسکراہٹیں بکھیرنا اب بھی یاد ہے ! اور انہیں متواتر یاد کرانا بھی آپ پہ فرض ہے کہ کہیں بھوک کے ستائے عوام نیند میں ہی اس کی پرچیوں پہ ٹھپے نہ لگاتے رہیں ۔

    آپ نے اپنا ادھورا سا تعارف لکھ کر تجسس بھڑکا دیا ہے ۔ برائے مہربانی اگر یہاں مناسب نہ سمجھیں تو بذریعہ ای میل ہی ذرا کھل کر آئیں ۔

    آپ سے مزید کچھ کریدنے اور سننے کا طالب و آپ کا مخلص

    جاوید کیانی ۔

  27. اسلام علیکم ساتھیو اللہ ہم سب کو خلوص و محبت کی ڈور سے جوڑے رکھے ۔
    میں بہت حیران ہوں نہ تو میری سمجھ میں آرہا ہے کہ کس بات کی تائید کروں اور نہ ہی یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ کس بات پر تنقید کروں ۔کہ بعض حالات دل اور دماغ دونوں کو ماؤف سا کر دیتے ہیں ۔
    تعزیت کے لئے میرے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں ، اور لکھنے کے لئے اتنا ہے کہ دماغ جھماکوں سے بھر جاتا ہے ،اور میں خود کو محسور سمجھنے لگتی ہوں حالات کا ۔
    میں پریشان ہوں کس بات کے حق میں لکھوں کس بات کی مخالفت کروں ۔جو مر رہا ہے وہ میرا ہے پاکستانی ہے اور معصوم ہے ،یہ دکھ ایسا ہے کہ جب میں ھابیل اور قابیل کے بارے میں پڑھتی تھی یا سنتی تھی تو مجھے صرف ایک بات خوفزدہ کر دیتی تھی کہ بھائی نے بھائی کو کیسے مار دیا ؟ میرے بڑے کہتے اللہ کی حکمت تھی تاکہ قبر کھودنا سکھا سکے ۔مگر میں سوچتی تھی کہ میرے بھائی کو زرا سی تکلیف ہو تو میں اس کی تکلیف دور کرنے کو دوڑ پڑتی ہوں تو ھابیل نے قابیل کو کیسے مار دیا ۔ایک بھائی نے بھائی کو اللہ کے حکم اور اس کی رضا سے مار دیا یہ سبق بھی دے دیا کہ مرنے والا معصوم تھا اور مارنے والا ظالم ۔
    آج کل میں دکھی ہوں کہ خودکشی پر کس طرح تعزیت کروں کہ حرام موت ہے چاہے کیسے ہی حالات ہوں اس کی نہ تو تعریف کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس کو بڑھاوا دیا جاسکتا ہے ۔۔پھر کیا کروں ؟
    ایک پولیس والا قانون اپنے ہاتھ میں لے کر ایک گورنر کو مار دیتا ہے قانون کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے ،اور لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ تم بھی قانون کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔۔۔میں کیا کروں ؟
    ایک معصوم بغیر سیکیورٹی کے نکلتا ہے جبکہ اسے پتہ ہے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے وہ کیوں یہ رسک لیتا ہے جب موت اس کے تعاقب میں ہے میری سمجھ مفلوج ہے ۔
    مرنے والے پاکستانی ہیں اور ہر طرح کی موت پھیرے لگا رہی ہے میرے ملک کے ، ۔۔۔۔میں خوفزدہ ہوں ۔تعزیت کرتے کرتے میرے الفاظ ختم ہو گئے ہیں ۔۔۔میں دکھی ہوں ۔۔میں کیا کروں ۔
    دل نے کہا کہ تم آواز اُٹھا سکتی ہو بس آواز اُٹھاؤ ،
    مجھے معلوم ہے کہ میری بات سے اختلاف بہت زیادہ ہوگا مگر کیا کروں کہ جب خود کچھ سمجھ نہ آئے تو اپنے سے ذیادہ علم رکھنے والوں سے مدد لے لینی چاہئے ۔
    اسی لئے میں سمجھتی ہوں کہ یہ سوچنا بہت ضروری ہے کہ ہم کن رویوں کو فروغ دے رہے ہیں ،ہمیں ان باتوں پر بھی توجہ دینی ہوگی جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائے کہ ہم ایک دوسرے کے نظرئے کو سمجھ سکیں ،تاکہ ہم آپس میں متحد ہوں کہ اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے ،اختلاف بھی ایک دوسرے کی بھلائی کے لئے ہونا چاہئے کہ ذندہ لوگ اور ذندہ قومیں حق بات پر اکھٹے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی طاقت بنتے ہیں ۔میری تمام تر کوتاہ بینی کو معاف کرتے ہوئے میری بات پر توجہ ضرور د یں ۔کہ دحماکوں کی شدت اب کان پھاڑے ڈالتی ہے ۔
    پہلی غلطی پر توجہ نہ دینا ہمیشہ بڑے طوفانوں کا پیش خیمہ بنتی ہے ،اس لئے بس اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ ہمیں ایسی آزمائشوں سے بچا لے ۔
    میری بات کسی کے لئے بھی تکلیف کا باعث ہو تو کم علم سمجھ کر در گزر کر دیجئے گا۔

  28. برادر محترم جناب کیانی صاحب سلام مسنون۔
    مجھے تعجب ہے کہ آپ کو کیسے اور کیونکر محسوس ہو گیا ہے کہ فدوی سلمان تاثیر کو شہادت کا درجہ دلوانا چاہتا ہے، جبکہ میری نظر میں اس کی زندگی و موت دونوں مردار کے سوا کچھ نہیں تھیں۔
    تاہم بحث صرف رویوں پر ہو رہی ہے۔ جس قانون کو کالا قانون کہ کر وہ واجب القتل تھا، اسی قانون میں تبدیلی کا خواہاں شہباز بھٹی بھی تھا۔ سلمان تاثیر نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدس میں تو کچھ نہ کہا، لیکن اس قانون کو کالا قانون کہ کر اس میں تبدیلی کا عندیہ دیا اور اس قانون کی شکار ایک ہاتکہ کی اعانت کر کے بالواسطہ اہانت رسول کا مرکب ٹھہرا تھا۔ اب جب باقی کی حکمران جماعت بسبب خوف اپنے منشور سے ہٹنے لگی تو شہباز بھٹی اپنی مسیحیت کا فائدہ اٹھا کر بار بار اس قانون کے خلاف آواز اٹھا رہا تھا۔ اسکو اس سلسلے میں دھمکیاں مل چکی تھیں۔ وہ اضافی سیکورٹی مانگ چکا تھا۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اس کو اسی جرم ِاہانت میں قتل کر کے اس کے پاس فرضی یا اصلی طالبان کی پرچیاں بھی پھینک دی گئیں۔
    اس سے بڑھ کر مضحکہ خیز صورت حال کیا ہوگی۔ باقی جماعت منشور سے ہٹ رہی ہے، اور ایک وزیر نئے بیانات دے رہا ہے۔ یہ کیسا کھیل ہے؟۔۔۔قاتل ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ مقتول کے پاس بٹوا اس کا پھینک جائے جس سے خود قاتل و مقتول دونوں کی دشمنی ہوتی ہے۔
    بھائی صاحب یہ اچانک سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قرعے سر مقتل آخر کون نکال رہا ہے؟ کون انکی حفاظت کا بندوبست نہیں کر رہا ہے؟ آخر کیونکر سلمان تاثیر کے حفاظتی سکواڈ میں ممتاز قادری کو تعینات کیا گیا جبکہ اسکا سابقہ ریکارڈ بھی اچانک ردعمل (ری-ایکٹوؤ ایکشنز) کا گواہ تھا؟ ممتاز قادری اپنے ساتھیوں میں اپنے جذبات کا اظہار بھی کر چکا تھا لیکن پھر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ کیوں؟ بات ساری آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی۔ اس لئے لمبی تفصیل کی ضرورت ہی کیا ہے۔ یہ پنجابی، بلوچی اور سندھی طالبان جیسی اصطلاحات کیوں پیدا کی گئیں؟کچھ عرصہ پہلے ہم نے ایک مضمون میں عرض کیا تھا کہ وزیر داخلہ جنوبی پنجاب میں طالبان کے اکٹھ کی خبریں بتا رہے تھے، جبکہ اس وقت وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ نظریہ ضرورت اس وقت ہی کیوں چھوڑا جا رہا تھا؟ جو نہیں کہنا تھا چلیں آپ کی خاطر وہ بھی کہ دیں کہ پاکستان میں کالے پانیوں کے سرغنہ کا نام بھی سنا ہے کہ اتفاً کچھ مَلک مَلک ہی ہے۔ ایسے میں وزارت داخلہ کیا کرے گی اور کہاں چھُپے گی؟
    جہاں تک شاہ محمود کا تعلق ہے اس میں بھی آپ ہم جذباتیت سے کام لے رہے ہیں ۔۔۔ابھی تماشہ شروع ہوا ہے۔ دیکھ تو لیں اونٹ کہاں کس کل جا بیٹھتا ہے۔۔ ۔ اہل قلم کا کیا کام ہے، آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں اور روزانہ مشق قلم بھی ہم سے بڑھ کر فرماتے ہیں۔ سو ذمہ داری جیسے مناسب سمجھیں ادا کریں۔ لیکن مجھے یہ قلق ضرور ہوا ہے کہ بات ذرا سی اگر پردے میں کر دی جائے توہم سب کی رسائی سے نکل جاتی ہے۔ شاہ محمود کے بارے میں فدوی نے کیا کہا، آپ کو اسکی جو سمجھ لگی، اس میں فرق اتنا ہے کہ وہ کھر بن نہیں رہا، پارٹی اس کو بنا رہی ہے۔ ہمارے لوگوں کی یاد داشت کس قدر مضبوط ہے، آپ سے بہتر کون جانتا ہوگا۔ اسلام کے نفاذ کے لئے ضیاء الحق کو پرچیاں ڈالنے والے وزیر اعظم بے نظیر کے نعرے لگا رہے تھے۔ نواز شریف کی رخصتی پر مٹھائی بانٹنے والا لاھور نواز شریف کا فقید المثال استقبال کر رہا تھا۔۔۔۔ہمیں تو نِت نیا ولولہ چاہیئے۔۔۔۔شہید زندہ ہو یا مردہ، ہم تو بس اسکے ساتھ ہیں۔ بطور ضمیر جعفری مرحوم
    تیرا بھی منائیں گے اس ملک میں ایک دن
    پہلے یہ شرط ہے کہ ترا انتقال ہو۔
    بہرکیف پنجاب میں اگلا دنگل جلد ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ پنجاب کی حکومت کا خواب اور وہاں کے فتن پی پی کو سونے نہیں دیتے۔ سو اس کے لئے ایک پنجابی شہید کی ضرورت ہے۔ جو پوری کی جا رہی ہے۔ اب دنگل جلد ہو یا بدیر، وقت کی ضرورت کے مطابق شاہ محمود کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ اصدار حکم تو پارٹی سربراہ نے ہی کرنا ہے۔ پھر جمہوریت تو ہے ہی بترین انتقام۔ کس سے کیسے بدلہ لیا جاتا ہے، یہ وقت بتائے گا۔
    باقی واللہ اعلم با لصواب۔
    جہاں تک میرے تعارف کا تعلق ہے تو جتنا ہے اسی کو کافی جانیں۔
    کہیں آپ کی بارگاہ میں گستاخی ہو گئی ہو تو معافی چاہوں گا۔
    نا چیز

  29. خواہرِمحترمہ عالم آراء صاحبہ۔
    سلام مسنون۔
    آپکی بات سے صد فیصد اتفاق ہے۔ بہر کیف ایک درستگی املاء کے حوالہ سے ہے کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا نہ کی ہابیل نے قابیل کو۔ شاید روانی میں لکھتے وقت آپ سے کردار ادھر ُادھر ہو گئے ہونگے۔
    نا چیز

  30. اسلام علیکم ساتھیو اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے آمین
    وعلیکم اسلام بھائی سید مصباح حسین اللہ آپ کو زمانے بھر کی خوشیاں عطا کرے ،بہت شکریہ بھائی ۔مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا لیکن اس کی تصیح لکھی تو وہ انگلی کی ایک غلط جنبش سے غا ئب ہوگئی ۔
    کیونکہ سر میں بڑا سخت درد تھا اس لئے دوبارہ لکھنے کی ہمت نہ کر سکی ۔مگر میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میرے بھائی میری چوک کی نشاندہی کر دیتے ہیں ۔جزاک اللہ خیر
    اللہ ہماری آوازوں کو جو حق کے لئے اُٹھتی ہیں طاقت عطا کرے اور ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو ۔
    عالم آرا

  31. آپ سب حضرات کے تبصرے جات کا بہت شکریہ ، جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ میں بہت ہی منہ پھٹ واقعٰی ہوا ہوں ، جیسا کہ باجی نگہت اور بابا نے لکھا کہ میں اکثر اپنے آپ کو بھول کر زمانے کی باتیں کرتا ہوں ، قاضی صاحب اور دوسرے سب ، مجھے خوشی ہے کہ آپ نے میری باتوں کو سچ ثابت کر دیا کہ ہم بٹے ہوئے ہیں ، بات آج کی تھی ، ہم گڑھے مردے اکھاڑنے لگے ، کیوں؟ تاریخ سے سیکھنے کے بجائے ہم اسے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ، کیوں

    جب دیکھو ہم قرون اولٰی کے مسلمانوں کی بات کرتے ہیں ، وہ کیا تھے کیسے تھے ، مگر کیا ہم نے کبھی ان سے کچھ سیکھا ، بابا کی بات بالکل ٹھیک ہے مسلمانوں میں ملوکیت کا آغاز ہی اموی دور سے ہوا اور پھر اسلامی خلفا موروثیت کی طرف چلے گئے ، اور پھر اسلام کا تعلیمات کو آگے بڑھانے کا سہرا کبھی بھی حاکموں کے سر نہ رہا ، بلکہ اللہ کے ولیوں اور نیک بندوں نے یہ فریضہ انجام دیا ، موروثی حاکم جانتے تھے کہ وہ صرف جسموں پر حاکم ہیں دلوں کے حاکم اولیاء کرام تھے اور ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ، کیا ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ کے ان نیک بندوں نے کس طرح سے اسلام کی خدمت کی ، میں بھی تاریخ کا ایک چھوٹا سا طالب علم ہوں ، جسکے سامنے تاریخ کے اوراق خزاں کے پتوں کی طرح بکھرے رہتے ہیں ۔۔ ۔ ۔

    مگر میرا موضوع یہ نہیں ، میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہتا ہوں ، جس کا نام ہے “وفا کا کعبہ“ اسے ضرور پڑھیے اگر کہیں سے مل جائے تو ، اس میں اسلام سے پہلے سے لیکر آج کے پاکستان تک کی تاریخ ہے اور مستقبل بھی ، اور بحث بھی کہ کب اور کیوں ہوا ، خیر کبھی موقع ملا تو اس پر ضرور لکھوں گا

    میں کچھ اور بھی عرض کرتا چلوں کہ جس پر تھوڑی سی بات بابا نے کی ہے ، آپ کو انٹرنیٹ پر مدینہ اور مکہ کی سو سال پرانی تصاویر مل جائیں گیں ، ذرا انہیں غور سے دیکھیے گا ، یہ آل سعود سے پہلے کے دور کی ہیں یعنی عثمانی سلطنت کی ، اور میں ایک پرانا سفرنامہ بھی پڑھنے کے لئے کہوں گا کہ جس میں ان ننگ دھڑنگ قبائیل کا ذکر ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان پائے جاتے تھے اور اکثر لوٹ مار کیا کرتے تھے ، ترکوں نے انہیں ختم کرنے کی کوششیں کیں مگر کامیاب نہیں رہے ، قافلے لٹتے رہے ، خیر یہ ایک لمبی کہانی ہے جس کو کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھنا چاہیے ، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ آل سعود سے پہلے کا حجاز کچھ اور تھا جیسا کہ بابا نے بھی بتایا ہے ، اور موروثی حاکموں نے کبھی بھی ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیا اور ہم سے وہ سب کچھ چھینتے رہے جو ہماری پہچان تھی

    پاکستان مدینہ ثانی تھا ، جسکو بنانے والے اسے اسلام کی وہ مثالی ریاست بنانا چاہتے تھے جو خلفائے راشدین نے بنائی تھی ، مجھے قائد اعظم کا ایک فرمان یاد آتا ہے کہ جس میں کسی نے ان سے پوچھا کہ پاکستان میں کونسا اسلام ہو گا ، شعیہ یا سُنی تو انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا کہ نبی (ص) کیا شعیہ تھے یا سُنی ؟ِ جو ان کا اسلام تھا وہ ہی پاکستان کا نظام ہو گا ، مگر ہم بھول گئے کہ وہ کون سا پاکستان چاہتے تھے ، وہ پاکستان جو عالم اسلام کا رہبر ہو یا وہ جو اسلام کے نام پر دھبہ ؟؟؟؟

    یہاں ایک اور بات بھی ہوئی کہ انہیں بلاگز پر سلمان تاثیر کے قتل کی حمایت کی گئی تھی ، اور اب ایک غیر مسلم کے قتل کی مذمت ، بزبان سہیل وڑائیچ “یہ کھُلا تضاد نہیں؟“ بالکل نہیں ، ہمارا میڈیا بھی یہ تاثر دے رہا ہے کہ ہماری قوم میں یہ باتیں ہیں ، بھائی ، یہ حاکموں کی باتیں ہیں ، عام پاکستانیوں کی نہیں ، عام پاکستانی آج بھی ایک ہی ہے ، اسکی لیڈر شپ اور اسکے مزھبی امام خراب ہیں ، ہم شعیہ ہوں سنی ہوں یا کسی مسلک کے ہوں ، ہم ایک دوسرے سے لنک ہیں ، میری نظر میں آج ہم صرف دو طبقوں میں تقسیم ہیں ایک ایک امیر ایک غریب بس ۔ ۔ ۔ اور یہ امارت اور غربت ہی تمام فساد کی جڑ ہے ،ورنہ آج سے پچیس تیس سال پہلے ایسا کچھ نہیں تھا ، پھر یہ طبقاتی تقسیم ہوئی خاصکر ضیاء دور کی ضیاء نے پاکستان کو اندھیر نگری کی طرف دھکیل دیا ، اسلام کے سپاہی نے ملک کو روشن خیالوں کے سپرد کر دیا ، میں لکھوں گا اس پر بھی ، مگر ابھی صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں

    ہمیں اب بھی سنبھل جانا چاہیے ، یہاں استعاروں کی بات تو چھوڑیں کوئی بھی بات کریں اسکی مخالفت لازمی ہو گی ، ہم آج پھر ایک یزیدی دور میں ہیں اور اسلام کو پھر ایک نئی زندگی مل رہی ہے ، یہ الو کے پٹھے سیاہ ست دان جو کہتے ہیں کہ ان واقعیات کی وجہ سے اسلام بدنام ہو رہا ہے ، بھول جاتےہیں کہ اسلام کی حفاظت تو اللہ خود کرتا ہے ، اصل میں انکے ڈالروں میں کمی آ جاتی ہے ان واقعیات سے اور یہ خون انکو لگ چکا ہے اور ایسے خون لگے درندوں کا انجام ۔ ۔ ۔سب جانتے ہیں

    ایک چھوٹی سی بات آخر میں عرض کردوں ، غیر مسلم پاکستان میں کبھی بھی غیر محفوظ نہیں رہے ، اور پاکستان کی ترقی میں انہوں نے اپنا حصہ ضرور ڈالا ہے ۔ ۔ ۔ ہمیں انکی تعظیم کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔

    اور رہی بات اسلام اور مسلمانوں کی تو اسکا جواب بس یہ ہی ہے ان حالات میں

    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    میں نے جان بھوجہ کہ پہلا مصرعہ نہیں لکھا کیونکہ قتل حسین کو کہیں کسی اور قتل سے نہ ملا دیا جائے
    ویسے ہمارے ایک “معتبر“ اسکالر فرماتے تھے کہ کربلا اصل میں دو شہزادوں کی لڑائی تھی ۔ ۔۔ کہیے کیا کہتے ہیں ۔ ۔ ہے نا ایک “شُرلی“

  32. محترم جناب سید مصباح حسین صاحب ،

    قبلہ شاہ صاحب ، تعجب تو مجھے بھی آپ سے بڑھ کر ہوا کہ چرچا ، بلکہ شکوہ بھی اس بات کا کہ جس کا ذکر سارے فسانے میں ہی نہیں ! حضور ، میں نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ خدانخواستہ آپ سلمان تاثیر کو شہادت کا درجہ دلوانا چاہتے ہیں بلکہ اپنی گرامر سے آزاد کمزور سی عبارت میں صرف اتنا کہا ہے کہ ” بات آپ کے تبصرے کی نہیں تھی بلکہ اس سوچ کی تھی جو سلمان تاثیر کو شہادت کا مرتبہ دلوانے پہ مصر ہے اور جو کبھی کبھی عالمی اخبار کے پلیٹ فارم پہ بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں کسی نہ کسی بلاگ میں سر اٹھانے کی کوشش کرتی ہے “ ۔ اگر آپ ماضی کے کچھ بلاگز کھنگالیں تو شاید بات واضح ہوکر میری گستاخی معاف فرمانے پہ آپ کا دل بآسانی رضامند ہوجائے ۔

    آپ کا بقیہ تبصرہ پڑھ کر لطف آیا لیکن انجانے خوف سے رونگٹے بھی کھڑے ہوتے رہے اور ساتھ پیر پگاڑا صاحب بھی بہت یاد آئے ، آپ اسے میری گستاخی نہ سمجھیں بلکہ پیر پگاڑا میری پسندیدہ ہستی ہیں جن کے رمز و کنایہ سے بھرپور بیانات اور تبصرے میں انتہائی دلجمعی سے پڑھتا ہوں ۔

    اللہ آپ کو خوش و خرم رکھے ، آمین ۔

  33. اظہر الحق آؤ ذرا میرے قریب آؤ کہ میں تمہارے کھلی جبین پر اور دہکتے رخساروں پر ایک بوسہ دوں کہ میری معاشرت میں یہ بوسہ عقیدت کی بھی نشانی ہے۔ میری جان یہ اس لیئے نہیں کہاکہ تم نے میری بات کو سمجھا اور آگے بڑھایا بلکہ اس لیئے کہ تم نے ایک بار پھر حق کی بات کی ضیا الحق کی نہیں۔ ہم کیسے منحوس ترین دور میں خلق کیئے گئے ہیں بس ہماری سزا یہی کافی ہے۔ ہم کن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور کن سے اپنی بات کہتے ہیں بس اسی کو تو جہنم کہتے ہیں۔ ارے بھیا یہ کن لوگوں کو تاریخ اور کتابوں کے نام بتا رہے ہو جن کو اپنے نبی کی تاریخ پیدائش کا ہی علم نہیں۔ بدبخت قوم ہے یہ اگر اسے قوم کہا جائے ۔ ہمیں دین ،مذہب اور مسلک کے درمیان فرق معلوم نہیں۔ ہم اپنا دین ملاں سے لیتے ہیں عالم دین سے نہیں۔ اور یاد رکھیں کہ عالم دین کا مطلب قطعی طور پر فقط فقہ و حدیث و تفسیر کا عالم نہیں بلکہ کفر کے فتوے کے لیئے تیار ہو کر یہ کہہ اور لکھ رہا ہوں کہ میرے نزدیک علم موسیقی،علم شعر،علم مصوری اور علم بشریات سمیت تمام علوم کے ماہرین علمائے دین ہیں کیونکہ اسلام وہ واحد دین ہے جسمیں دینی فرائض کے ساتھ ساتھ دنیا سے بھی مستفیض ہونے کو کہا گیا ہے۔ ورنہ اس ظالم مسلمان نے قرآن میں بھی صرف یہی پڑھا ہے کہ ”عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں”۔ ہم لوگ جس ماحول میں پیدا ہوئے تھے اسی میں مر جاتے ہیں بس یہی ہماری سزا بھی ہے۔ اظہر الحق کیا اچھی بات کہی ہے تم نے۔۔۔۔۔۔۔یہاں استعاروں کی بات تو چھوڑیں کوئی بھی بات کریں اسکی مخالفت لازمی ہو گی ، ہم آج پھر ایک یزیدی دور میں ہیں اور اسلام کو پھر ایک نئی زندگی مل رہی ہے ، یہ الو کے پٹھے سیاہ ست دان جو کہتے ہیں کہ ان واقعیات کی وجہ سے اسلام بدنام ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔
    لو اس یزیدی دور پر میرا ایک قطعہ سنو
    شب ہو تو گئی رخصت سورج نہیں نکلا ہے
    ممکن ہے کہ سورج کو تاریکی نے نگلا ہے
    اس دور یزیدی سے اس عہدِ یزیدی تک
    بدلے ہیں فقط چہرے حاکم نہیں بدلا ہے

  34. اظہر بھائی آپ پر مجھے فخر ہے کہ آپ تمام تر مشکلات کے باوجود بلاگ پر آتے ہیں اور دوسروں کی غلطیاں نکالنے کی بجائے اپنی حق اور سچ بات کو کسی خوف کے بغیر کھل کر کہتے ہیں اور یہی ایک سچے انسان اور مسلمان کی نشانی ہے۔ میں نے انسان اور مسلمان اس لیئے لکھا کہ مسلمان دینی فلسفے کی رو سے عام انسان سے بہت ارفع و اعلیٰ اور بلند ہے، یہ تو آج کا مسلمان ہے جو عام انسان سے بہت کم تر ہے، اور اسکی وجہ اسکی بے عملی اور مطالعے سے دوری ہے۔ اظہر بھائی آپ نے جس طرح سے تاریخ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے بڑے سے بڑا ملاں مولوی بھی یہ کام نہیں کرسکتا کہ ان بے عمل منبر نشینوں نے مسلمانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور یہ مسلمان اس پر راضی برضا ہے۔ یہ ظالم اپنی غلطی کو اللہ کی مرضی کہہ کر خاموش ہو جاتا ہے۔

    بابا نے درست کہا ہے کہ ۔۔۔۔ہم کیسے منحوس ترین دور میں خلق کیئے گئے ہیں بس ہماری سزا یہی کافی ہے۔ ہم کن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور کن سے اپنی بات کہتے ہیں بس اسی کو تو جہنم کہتے ہیں۔ ارے بھیا یہ کن لوگوں کو تاریخ اور کتابوں کے نام بتا رہے ہو جن کو اپنے نبی کی تاریخ پیدائش کا ہی علم نہیں۔ بدبخت قوم ہے یہ اگر اسے قوم کہا جائے ۔ ہمیں دین ،مذہب اور مسلک کے درمیان فرق معلوم نہیں۔ ہم اپنا دین ملاں سے لیتے ہیں عالم دین سے نہیں۔۔۔۔۔

    اظہر بھائی یہ بلاگ اپنے موضوع کے حوالے سے بہت اہم ہے اور اس موضوع پر جتنا لکھاجائے کم ہے ۔ ہمارے جتنے معروف کالم نگار ہیں اور بلاگ میں تبصرہ نگار ہیں وہ بھی اگر اسمیں تواتر سے حصہ لیں تو یہ بلاگ موضوع کے اعتبار سے ایک پوری یونیورسٹی بن سکتا ہے،لیکن یہ بھی ہمارا مسلہ ہے ہم وہ کہنا اور سننا چاہتے ہیں جو صرف ہم کو پسند ہے باقی سب سے ہمیں کیا مطلب نہیں۔

    آپ نے کیا اچھی بات کہی ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان مدینہ ثانی تھا ، جسکو بنانے والے اسے اسلام کی وہ مثالی ریاست بنانا چاہتے تھے جو خلفائے راشدین نے بنائی تھی ، مجھے قائد اعظم کا ایک فرمان یاد آتا ہے کہ جس میں کسی نے ان سے پوچھا کہ پاکستان میں کونسا اسلام ہو گا ، شعیہ یا سُنی تو انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا کہ نبی (ص) کیا شعیہ تھے یا سُنی ؟ِ جو ان کا اسلام تھا وہ ہی پاکستان کا نظام ہو گا ، مگر ہم بھول گئے کہ وہ کون سا پاکستان چاہتے تھے ، وہ پاکستان جو عالم اسلام کا رہبر ہو یا وہ جو اسلام کے نام پر دھبہ ؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔

    اظہر بھائی کوئی سنے یا نہ سنے،پڑھے یا نہ پڑھے،سوچے یا نہ سوچے بس ہمیں اپنے حصے کی روشنی جلائے جانا ہے ۔۔ مجھے آپ کے مزید تبصروں اور حوالوں کا انتظار رہے گا ۔۔

  35. چلیں جی کیانی صاحب اب تعجب تعجب ختم اور بات آگے بڑھاتے ہیں کہ ہم آپ کم و بیش بات ایک ہی تو کر رہے ہیں۔
    سدا خوش رہیئے۔
    نا چیز

  36. آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ کہ کبھی کوشش کے باوجود بروقت تبصرہ کرنے سے محروم رہ جاتی ھوں ،

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ میں شبہاز بھٹی کی موت پر بھی گريئہ نہ کرسکی ۔

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ میں آپ جیسا سچا قلمکار بھی نیہن بن سکی

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ میں آزمائش کی اس گھڑی میں آ پ سب سے بہت پیچھے رہ گی

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ کہ میں اپنے دست بریدہ سے سچ کا پرچم نیہن بلند کرسکی ،

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ کہ میں آپ جیسی بلند نظر اور بلند فکر نیہن بن سکی

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ میں اس سربربدہ قافلے میں دستار کی حفاظت بھی نیہن کرسکی

    ائ ایم سوری اظہر الحق بھائ کہ میں مادر گیتی کی کسی اواز پر لبیک نہ کہہ سکی ۔

    آئ سوری اظہر الحق بھائ کہ میں کسی تحریک کا حصہ نہ بن سکی

    ائ ایم سوری اظہر الحق بھائ میں کسی ظلم کے خلاف آواز نہ بلند کر سکی

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ کہ میں اپنے حصے کی شمع بھی نیہن روشن کرسکی ۔

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ کہ میں شرمندگی میں اپنے غیر مسلم بھائ کے قتل کی مذمت بھی نہ کرسکی

    آئ ایم سوری اظہر الحق بھائ کہ میں اپنی تحریر بھی مکمل نہ کر سکی

  37. جناب اظہر الحق صاحب بلاگ میں دیر سے شمولیت پر معذرت
    پروفیسر طاہر القادری کا ایک معلوماتی مضمون حاضر ہے جو اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ہے ۔

    سلام حقیقی تصور میں اَعلیٰ اِنسانی اَقدار کے حامل معاشرہ کے قیام کا پیغام لے کر آیا۔ اِسلام کی آمد سے قبل معاشرے کا ہر طبقہ طاقت ور کے ظلم و ستم کا شکار تھا۔ دیگر اَفرادِ معاشرہ کی طرح اِسلام سے قبل اَقلیتوں کے حقوق کا بھی کوئی تصور موجود نہ تھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اَقلیتوں کو معاشرے میں وہی مقام عطا کیا جو معاشرے کے بنیادی شہریوں کو حاصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اَقلیتوں کی جان، مال، عزت، آبرو ناموس حتی کہ ان کے مذہبی حقوق کے تحفظ کو بھی ریاست مدینہ کے آئین کا حصہ بنایا۔ آج دنیا بھر میں اَقلتیوں کا مسئلہ ایک اہم سوال بن کر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں اَقلیتیں اِبتلاء و آزمائش کا شکار ہیں۔ ایسے نظائر بمشکل ہی ملیں گے جہاں دنیا میں اَقلتیوں کو ان کے اپنے ثقافتی، مذہبی و سماجی تحفظ کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں بھی برابر سیاسی، انتظامی اور آئینی حقوق حاصل ہوں۔

    یہ اَمر قابل غور ہے کہ اَقلتیوں کا معاملہ صرف اِسلام کے تناظر میں معرضِ تنقید رہا ہے۔ حالاں کہ تاریخ اسلام اس اَمر کی گواہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی مملکت میں اَقلیتوں کو وہ بلند مقام حاصل رہا کہ بغداد و اسپین اور برصغیر میں اقلیتیں ہر سطح کے ریاستی امور میں بھی شریک رہیں اور مملکت کی اعلیٰ ترین ذمہ داریوں پر فائز رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ان تعلیمات کا اثر تھا جو غیر مسلموں کے حقوق کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومنوں کے حقوق آپس میں برابر اور ان کے ذمہ کی ادائیگی کے لیے ان میں سے جو اَدنیٰ ہیں وہ بھی کوشش کریں۔ کسی غیر مسلم کے بدلے کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور کسی معاہد کو اس کی مدتِ معاہدہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ غیر مسلموں کے حقوق کی اَہمیت بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالاں کہ اس کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر مسلموں کے حقوق کی ادائیگی کے اثرات کے دنیا سے آخرت تک کے احاطے کو بیان فرما دیا۔
    اسلام شرفِ اِنسانیت کا علمبردار دین ہے۔ ہر فرد سے حسن سلوک کی تعلیم دینے والے دین میں کوئی ایسا اصول یا ضابطہ روا نہیں رکھا گیا جو شرف انسانیت کے منافی ہو۔ دیگر طبقات معاشرہ کی طرح اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو بھی ان تمام حقوق کا مستحق قرار دیا گیا ہے، جن کا ایک مثالی معاشرے میں تصور کیا جاسکتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کی اساس معاملات دین میں جبر و اکراہ کے عنصر کی نفی کرکے فراہم کی گئی :

    لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌO

    ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں، بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہوچکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطل کا انکار کردے اور اللہ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لیے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اللہ خوب جاننے والا ہےo‘‘

    القرآن، البقرة، 2 : 256

    دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا :

    لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِO

    ’’(سو) تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے ہےo‘‘

    القرآن، الکافرون، 109 : 6

    اسلامی معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کو کتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان مبارک سے ہوتا ہے :

    ألا من ظلم معاهداً او انتقصه او کلفه فوق طاقته او اخذ منه شيئا بغير طيب نفس فانا حجيجه يوم القيامة.

    ’’خبردار! جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اُس کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی یا اس کی رضا کے بغیر اس سے کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے (مسلمان کے خلاف) جھگڑوں گا۔‘‘

    1. ابوداؤد، السنن، کتاب الخراج، باب في تعشير، 3 : 170، رقم : 3052
    2. ابن ابي حاتم، الجرح والتعديل، 1 : 201
    3. منذري، الترغيب والترهيب، 4 : 7، رقم : 4558
    4. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، 8 : 115
    5. عجلوني، کشف الخفاء، 2 : 285، رقم : 2341

    یہ صرف ایک تنبیہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون ہے جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورِ مبارک میں اسلامی مملکت میں جاری تھا، جس پر بعد میں بھی عمل درآمد ہوتا رہا اور اب بھی یہ اسلامی دستورِ مملکت کا ایک حصہ ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے:

    ان رجلا من المسلمين قتل رجلا من أهل الکتاب، فرفع الي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أنا أحق من وفي بذمته، ثم أمر به فقتل.

    ’’ایک مسلمان نے ایک اہل کتاب کو قتل کر دیا اور وہ مقدمہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فیصلہ کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اہل ذمہ کا حق ادا کرنے کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہوں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاتل کے بارے میں قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔‘‘

    1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 30
    2. شافعي، المسند، 1 : 343
    3. ابو نعيم، مسند ابي حنيفه، 1 : 104
    4. شافعي، الام، 7 : 320
    5. شيباني، المسبوط، 4 : 488
    6. ابن رشد، بداية المجتهد، 2 : 299
    7. ابن رجب، جامع العلوم والحکم، 1 : 126
    8. زيلعي، نصب الرايه، 4 : 336
    9. مبارکپوري، تحفة الاحوذي، 4 : 557

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اقلیتوں کے بارے مسلمانوں کو ہمیشہ متنبہ فرماتے تھے، چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاہدین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا :

    من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وان ريحها توجد من مسيرة اربعين عاما.

    ’’جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک پھیلی ہوئی ہے۔‘‘

    1. بخاري، الصحيح، کتاب الجزيه، باب إثم من قتل، 3 : 1154، رقم : 2995
    2. ابن ماجه، السنن، کتاب الديات، باب من قتل معاهدا2 : 896، رقم : 2686
    3. ربيع، المسند، 1 : 367، رقم : 956
    4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 133
    5. منذري، الترغيب والترهيب، 3 : 204، رقم : 3693
    6. صنعاني، سبل السلام، 4 : 69
    7. شوکاني، نيل الاوطار، 7 : 155

    اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ جنت سے بہت دُور رکھا جائے گا دراصل یہ تنبیہات اس قانون پر عمل درآمد کروانے کے لیے ہیں جو اسلام نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عطا کیا۔

    غیر مسلموں کے جو بیرونی وفود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آتے ان کی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود میزبانی فرماتے چنانچہ جب مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حبشہ کے عیسائیوں کا ایک وفد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور ان کی مہمان نوازی خود اپنے ذمہ لی اور فرمایا :

    انهم کانوا لأصحابنا مکرمين، و اني أحب أن أکافئهم.

    ’’یہ لوگ ہمارے ساتھیوں کے لیے ممتاز و منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے میں نے پسند کیا کہ میں بذات خود ان کی تعظیم و تکریم اور مہمان نوازی کروں۔‘‘

    1. بيهقي، شعب الايمان، 6 : 518، رقم : 9125
    2. صيداوي، معجم الشيوخ، 1 : 97
    3. ابن کثير، السيرة النبوية، 2 : 31

    ایک دفعہ نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا۔ آپ نے اس وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور اس وفد میں شامل مسیحیوں کو اجازت دی کہ وہ اپنی نماز اپنے طریقہ پر مسجد نبوی میں ادا کریں چنانچہ یہ مسیحی حضرات مسجد نبوی کی ایک جانب مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔

    1. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 357
    2. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، 4 : 4
    3. ابن قيم، زادالمعاد، 3 : 629

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تعلیمات کی روشنی میں چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے لے کر ہر اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کو حقوق کا تحفظ حاصل رہا۔

    اقلیتوں سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن سلوک کا نتیجہ تھا کہ ان کا برتاؤ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احترام پر مبنی تھا۔ ایک جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیف ایک یہودی جب مرنے لگا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تیری بڑی جائیداد ہے اس کا وارث کون ہو گا؟ تو اس یہودی نے کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری جائیداد کے وارث ہوں گے۔ اسلامی ریاست میں اقلیتوں سے حسن سلوک کا ایک غیر مسلم کی طرف سے اعتراف تھا۔

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہلِ کتاب کے علاوہ مشرکین (بت پرست اقوام) سے بھی جو برتاؤ رہا اس کی بھی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ مشرکین مکہ و طائف نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے شمار مظالم ڈھائے، لیکن جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک انصاری کمانڈر سعد بن عبادۃ نے ابوسفیان سے کہا :

    اليوم يوم الملحمة.

    ’’آج لڑائی کا دن ہے۔‘‘

    یعنی آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے اور ان سے جھنڈا لے کر ان کے بیٹے قیس کے سپرد کر دیا اور ابوسفیان سے فرمایا :

    اليوم يوم المرحمة.

    ’’(آج لڑائی کا نہیں بلکہ) آج رحمت کے عام کرنے (اور معاف کر دینے) کا دن ہے۔‘‘

    1. ابن حجر عسقلاني، فتح الباري، 8 : 9
    2. ابن عبدالبر، الاستيعاب، 2 : 597
    3. حلبي، انسان العيون، 3 : 22
    4. خزاعي، تخريج الدلالات السمعيه، 1 : 345

    پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مخالفین سے پوچھا کہ بتاؤ میں آج تمہارے ساتھ کیا برتاؤ کروں گا؟ تو اُنہوں نے کہا کہ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے خطا کار بھائیوں کے ساتھ برتاؤ کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی وہی توقع ہے۔ اس جواب پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جملہ ارشاد فرمایا جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے لیے فرمایا تھا :

    لا تثريب عليکم اليوم، اذهبوا فانتم الطلقاء

    (یعنی تم سے آج کوئی پوچھ گچھ نہیں تم سب آزاد ہو)۔

    1. سيوطي، الجامع الصغير، 1 : 220، رقم : 368
    2. عسقلاني، فتح الباري، 8 : 18
    3. مناوي، فيض القدير، 5 : 171

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بڑا دُشمن ابوسفیان تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا من دخل دار ابی سفیان فہو آمن (جو ابوسفیان کے گھر میں آج داخل ہوا وہ امن میں ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو اس طرح پورا کیا کہ جو بھی اس دن ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوا اسے امان مل گئی۔

    1. مسلم، الصحيح، کتاب الجهاد، باب فتح مکه3 : 1406، رقم : 1780
    2. ابو داؤد، السنن، کتاب الخراج، باب ماجاء في خبر مکه، 3 : 162، رقم : 3021
    3. ابن ابي شيبه، المصنف، 7 : 398، رقم : 36900
    4. عبدالرزاق، المصنف، 5 : 376
    5. دارقطني، السنن، 3 : 60، رقم : 233
    6. ابو عوانه، المسند، 4 : 290
    7. البزار، المسند، 4 : 122، رقم : 1292
    8. طحاوي، شرح معاني الاثار، 3 : 321
    9. بيهقي، السنن الکبريٰ، 6 : 34، رقم : 10961
    10. طبراني، المعجم الکبير، 8 : 8
    11. هيثمي، مجمع الزوائد، 6 : 175
    12. عسقلاني، فتح الباري، 8 : 12
    13. فاکهي، اخبار مکه، 3 : 277

    مکہ مکرمہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرنے میں سب سے زیادہ دو اشخاص کا دخل تھا وہ ابولہب کے بیٹے تھے جنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذائیں دی تھیں۔ فتح مکہ کے روز یہ دونوں گستاخ کعبۃ اللہ کے پردوں کے پیچھے جا چھپے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو خود کعبۃ اللہ کے پردوں کے پیچھے سے نکالا اور معاف کر دیا۔

    زيلعي، نصب الرايه، 3 : 336

    1۔ قانون کی نظر میں اقلیتوں کا مساوی مقام

    امام ابو یوسف اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھتے ہیں کہ عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں تعزیرات اور دیوانی قانون دونوں میں مسلمان اور غیر مسلم اقلیت کا درجہ مساوی تھا۔

    ابو يوسف، کتاب الخراج : 187

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ ایک مسلمان نے ایک غیر مسلم کو قتل کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قصاص کے طور پر اس مسلمان کے قتل کیے جانے کا حکم دیا اور فرمایا :

    أنا أحق من أوفي بذمته.

    ’’غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت میرا سب سے اہم فرض ہے۔‘‘

    1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 30
    2. شافعي، المسند، 1 : 343
    3. مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 4 : 557
    4. زيلعي، نصب الراية، 4 : 336
    5. ابونعيم، مسند ابي حنيفة، 1 : 104
    6. ابن رجب، جامع العلوم والحکم، 1 : 126
    7. شيباني، المبسوط، 4 : 488
    8. شافعي، الام، 7 : 320
    9. ابن رشد، بداية المجتهد، 2 : 299

    دوسری روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انا اکرم من وفی ذمتہ فرمایا۔

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تعلیم پر عمل درآمد کے بے شمار نظائر دور خلافت راشدہ میں بھی ملتے ہیں :

    1۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مسلمان کو پکڑ کر لایا گیا جس نے ایک غیر مسلم کو قتل کیا تھا۔ پورا ثبوت موجود تھا۔ اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قصاص میں اس مسلمان کو قتل کیے جانے کا حکم دیا۔ قاتل کے ورثاء نے مقتول کے بھائی کو معاوضہ دے کر معاف کرنے پر راضی کر لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے اسے فرمایا :

    لعلهم فزعوک او هددوک.

    ’’شاید ان لوگوں نے تجھے ڈرا دھمکا کر تجھ سے یہ کہلوایا ہو۔‘‘

    1. دار قطني، السنن، 3 : 134
    2. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 30
    3. عسقلاني، 2 : 262، رقم : 1009
    4. صنعاني، سبل السلام، 3 : 235
    5. شوکاني، نيل الاوطار، 7 : 153

    اس نے کہا نہیں بات دراصل یہ ہے کہ قتل کیے جانے سے میرا بھائی تو واپس آنے سے رہا اور اب یہ مجھے اس کی دیت دے رہے ہیں، جو پسماندگان کے لیے کسی حد تک کفایت کرے گی۔ اس لیے خود اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے میں معافی دے رہا ہوں۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا تمہاری مرضی۔ تم زیادہ بہتر سمجھتے ہو۔ لیکن بہرحال ہماری حکومت کا اُصول یہی ہے کہ:

    من کان له ذمتنا فدمه، کدمنا، و ديته، کديتنا.

    ’’جو ہماری غیر مسلم رعایا میں سے ہے اس کا خون اور ہمارا خون برابر ہے اور اس کی دیت ہماری دیت ہی کی طرح ہے‘‘

    1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 34
    2. ابويوسف، کتاب الخراج : 187
    3. شافعي، المسند : 344
    4. شافعي، الام، 7 : 321
    5. شيباني، الحجه، 4 : 355
    6. زيلعي، نصب الرايه، 4 : 337
    7. عسقلاني، الدرايه، 2 : 263
    8. شوکاني، نيل الاوطار، 7 : 154

    2۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

    إذا قتل المسلم النصراني قتل به.

    ’’اگر کسی مسلمان نے عیسائی کو قتل کیا تو مسلمان (عوضاً) قتل کیا جائے گا۔‘‘

    1. شيباني، الحجة، 4 : 349
    2. شافعي، الام، 7 : 320

    3۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

    دية اليهودي والنصراني والمجوسي مثل دية الحر المسلم.

    ’’یہودی، عیسائی اور مجوسی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کے برابر ہے۔‘‘

    1. شيباني، الحجة، 4 : 322
    2. ابن ابي شيبة، المصنف، 5 : 407، رقم : 27448
    3. عبدالرزاق، المصنف، 10 : 95، 97، 99
    4. ابن رشد، بداية المجتهد، 2 : 310
    5. صنعاني، سبل السلام، 3 : 251
    6. زيلعي، نصب الراية، 4 : 368
    7. عسقلاني، الدراية في تخريج احاديث الهداية، 2 : 276

    اسی قول کی بنا پر فقہا نے یہ اصول تشکیل دیا کہ اگر مسلمان کسی ذمی کو بلا ارادہ قتل کر دے تو اس کی دیت بھی وہی ہوگی جو مسلمان کو بلا ارادہ قتل کرنے سے لازم آتی ہے۔

    1. حصکفي، در المختار، 2 : 223
    2. ابن عابدين شامي، رد المحتار، 3 : 273

    4۔ ایک دفعہ حضرت عمرو بن عاص والی مصر کے بیٹے نے ایک غیر مسلم کو ناحق سزا دی۔ خلیفۂ وقت امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب اس کی شکایت ہوئی تو اُنہوں نے سرعام گورنر مصر کے بیٹے کو اس غیر مسلم مصری سے سزا دلوائی اور ساتھ ہی فرمایا :

    متی استعبدتم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احرارا.

    ’’تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔‘‘

    1. حسام الدين، کنز العمال، 2 : 455
    2. اسماعيل محمد ميقا، مبادي اسلام ومنهجه : 27

    5۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک ذمی کو قتل کر دیا، اس پر :

    فکتب فيه عمر بن الخطاب رضي الله عنه ان يدفع الي اولياء المقتول فان شاؤوا قتلوا و ان شاؤوا اعفوا فدفع الرجل إلي ولي المقتول إلي رجل فقتله.

    ’’آپ نے حکم دیا کہ قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کیا جائے۔ اگر وہ چاہیں قتل کر دیں ورنہ معاف کر دیں۔ چنانچہ وہ مقتول کے وارث کو دے دیا گیا اور اس نے اسے قتل کر دیا۔‘‘

    1. بيهقي، السنن الکبري، 8 : 32
    2. شافعي، الام، 7 : 321
    3. شيباني، الحجة، 4 : 335
    4. زيلعي، نصب الراية، 4 : 337

    6۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں عبیداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے قتل کا فتویٰ دے دیا گیا تھا، کیونکہ انہوں نے ہر مزان، جفینہ اور ابو لولو کی بیٹی کو اس شبہ میں قتل کر دیا تھا کہ شاید وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش میں شریک تھے۔

    1. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 5 : 17
    2. عسقلاني، الدرايه، 2 : 263

    7۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ابن شاس جذامی نے شام کے کسی علاقے میں ایک شخص کو قتل کر دیا، معاملہ حضرت عثمان تک پہنچنے پر آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی مداخلت پر آپ نے ایک ہزار دینار دیت مقرر کی۔

    شافعي، المسند، 1 : 344

    8۔ عظیم محدث ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ان دية المعاهد في عهد ابي بکر و عمر و عثمان رضي اﷲ عنهم مثل دية الحر المسلم.

    ’’بے شک ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کے دور میں ذمی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کے برابر تھی۔‘‘

    1. شيبانی، الحجة، 4 : 351
    2. شافعی، الام، 7 : 321

    2۔ قانون کے نفاذ میں مساوات کا حق

    اسلامی ریاست میں تعزیرات میں ذمی اور مسلمان کا درجہ مساوی ہے۔ جرائم کی جو سزا مسلمان کو دی جائے گی وہی ذمی کو بھی دی جائے گی۔ ذمی کا مال مسلمان چرائے یا مسلمان کا مال ذمی چرائے دونوں صورتوں میں سزا یکساں ہوگی۔

    ابويوسف، کتاب الخراج : 108، 109

    دیوانی قانون میں بھی ذمی اور مسلمان کے درمیان کامل مساوات ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشاد اموالھم کاموالنا (1) کے معنی ہی یہ ہیں کہ ان کے مال کی ویسی ہی حفاظت ہونی چاہیے جیسی مسلمانوں کے مال کی ہوتی ہے۔ اس باب میں ذمیوں کے حقوق کا اتنا لحاظ رکھا گیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ان کی شراب یا ان کے خنزیر کو بھی تلف کر دے تو اس پر ضمان لازم آئے گا۔ در المختار میں ہے:

    و يضمن المسلم قيمة خمره و خنزيره اذا اتلفه.(2)

    ’’مسلمان اس کی شراب اور اس کے سور کی قیمت ادا کرے گا اگر وہ اسے تلف کر دے۔‘‘

    (1) ابن قدامه، المغني، 9 : 289

    (2) 1. حصکفي، الدرالمختار، 2 : 223
    2. ابن عابدين شامي، رد المحتار، 3 : 273

    ذمی کو زبان یا ہاتھ پاؤں سے تکلیف پہنچانا، اس کو گالی دینا، مارنا پیٹنا یا اس کی غیبت کرنا، اسی طرح ناجائز ہے جس طرح مسلمان کے حق میں ناجائز ہے۔ :

    و يجب کف الاذي عنه و تحرم غيبته کالمسلم.

    ’’غیر مسلم سے اذیت کو روکنا اسی طرح واجب ہے جس طرح مسلمان سے اور اس کی غیبت کرنا بھی اسی طرح حرام ہے۔‘‘

    1. حصکفي، الدرالمختار، 2 : 223
    2. ابن عابدين شامي، الدالمحتار، 3 : 273. 274

    3۔ نجی زندگی اور شخصی رازداری کا حق

    مملکت اسلامیہ میں ہر فرد کو نجی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے کہ کوئی شخص بغیر اس کی اجازت اور رضا مندی کے اس کے گھر میں داخل نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ ہر شخص کا مکان نجی اور پرائیویٹ معاملات کا مرکز اور اس کے بال بچوں کا مستقر ہوتا ہے۔ اس حق پر دست درازی خود فرد کی شخصیت پر دست درازی ہے اور یہ کسی طرح جائز نہیں۔ گھروں میں بغیر اجازت داخل ہونے کی صریح ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَO فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌO

    ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو۔ یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے، توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گےo پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو وہاں داخل نہ ہو جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جاؤ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہےo‘‘

    القرآن، النور، 24 : 27، 28

    اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو بھی نجی زندگی اور شخصی رازداری کا حق اسی طرح حاصل ہے جس طرح مسلمانوں کو؛ اس لیے کہ اسلامی قانون نے ان کے لیے یہ اُصول طے کیا ہے کہ جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہ ان کو بھی حاصل ہوں گے اور جو ذمہ داریاں مسلمانوں پر ڈالی گئی ہیں وہ ان پر بھی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بقول ان سے جزیہ اس لیے لیا جاتا ہے تاکہ ان کے جان و مال کی اسی طرح حفاظت کی جاسکے جس طرح ہمارے جان و مال کی حفاظت ہوتی ہے۔

    ابن قدامه، المغنی، 9 : 289

    4۔ مذہبی آزادی کا حق

    اسلام خدائے واحد کی بندگی کی دعوت دیتا ہے لیکن دوسرے مذاہب کے لوگوں پر اپنے عقائد بدلنے اور اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالتا، نہ کسی جبر و اکراہ سے کام لیتا ہے۔ دعوتِ حق اور جبر و اکراہ بالکل الگ حقیقتیں ہیں۔ اسلام کے پیغام حق کے ابلاغ کا قرآنِ حکیم نے یوں بیان کیا :

    اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَO

    ’’(اے رسول معظم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو بے شک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہےo‘‘

    القرآن، النحل، 16 : 125

    اسلام نے ایسے طریق دعوت سے منع کیا جس سے کسی فریق کی مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہو، دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا :

    لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ.

    ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہوچکی ہے۔‘‘

    القرآن، البقره، 2 : 256

    شریعت کی یہ حکمت عملی ہے کہ غیر مسلموں کو ان کے مذہب و مسلک پر برقرار رہنے کی پوری آزادی ہوگی۔ اسلامی مملکت ان کے عقیدہ و عبادت سے تعرض نہ کرے گی۔ اہلِ نجران کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خط لکھا تھا اس میں یہ جملہ بھی درج تھا :

    ولنجران وحاشيتهم جوار اﷲ و ذمة محمد النبي رسول اﷲ علي انفسهم وملتهم و ارضهم و اموالهم و غائبهم و شاهدهم و بيعهم و صلواتهم لا يغيروا اسقفاعن اسقفيته ولا راهبا عن رهبانية ولا و اقفا عن و قفانيته وکل ما تحت ايديهم من قليل اوکثير.

    ’’نجران اور ان کے حلیفوں کو اللہ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ حاصل ہے۔ ان کی جانیں، ان کی شریعت، زمین، اموال، حاضر و غائب اشخاص، ان کی عبادت گاہوں اور ان کے گرجا گھروں کی حفاظت کی جائے گی۔ کسی پادری کو اس کے مذہبی مرتبے، کسی راہب کو اس کی رہبانیت اور کسی صاحب منصب کو اس کے منصب سے ہٹایا نہیں جائے گا اور ان کی زیر ملکیت ہر چیز کی حفاظت کی جائے گی۔‘‘

    1. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 228، 358
    2. ابويوسف، کتاب الخراج : 78

    مختلف ادوار میں گرجا گھر اور کلیسے اسلامی حکومت میں موجود رہے ہیں۔ کبھی بھی انہیں ادنیٰ گزند تک نہیں پہنچائی گئی بلکہ حکومت نے ان کی حفاظت کی ہے اور غیر مسلموں کو ان میں عبادات کی انجام دہی کے لیے سہولیات فراہم کی ہیں۔

    اقلیتوں کے شخصی معاملات بھی ان کی شریعت (personal law) کے مطابق طے کیے جائیں گے، اسلامی قانون ان پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔ جن افعال کی حرمت ان کے مذہب میں بھی ثابت ہے ان سے تو وہ ہر حال میں منع کیے جائیں گے، البتہ جو افعال ان کے ہاں جائز اور اسلام میں ممنوع ہیں انہیں وہ اپنی بستیوں میں آزادی کے ساتھ کرسکیں گے اور خالص اسلامی آبادیوں میں حکومت اسلامیہ کو اختیار ہوگا کہ انہیں آزادی دے یا نہ دے :

    ولا يمنعون من اظهار شيئ مما ذکرنا من بيع الخمر والخنزير والصليب وضرب الناقوس في قرية او موضع ليس من امصار المسلمين ولو کان فيه عدد کثير من أهل الاسلام وانما يکره ذلک في امصار المسلمين و هي التي يقام فيها الجمع والاعياد و الحدود، و اما اظهار فسق يعتقدون حرمته کا لزنا و سائر الفواحش التي هي حرام في دينهم فانهم يمنعون من ذلک سواء کانوا في امصار المسلمين او في امصارهم.

    ’’جو بستیاں اور مقامات مسلمانوں کے شہروں میں سے نہیں ہیں ان میں ذمیوں کو شراب و خنزیر بیچنے اور صلیب نکالنے اور ناقوس بجانے سے نہیں روکا جائے گا خواہ وہاں مسلمانوں کی کتنی ہی کثیر تعداد آباد ہو۔ البتہ یہ افعال مسلمان آبادی کے شہر میں مکروہ ہیں جہاں جمعہ وعیدین اور حدود قائم کی جاتی ہوں۔ رہا وہ فسق جس کی حرمت کے وہ بھی قائل ہیں، مثلا زنا اور دوسرے تمام فواحش جو ان کے دین میں بھی حرام ہیں تو اس کے اظہار سے ان کو ہرحال میں روکا جائیگا خواہ مسلمانوں کے شہر میں ہوں یا خود ان کے اپنے شہر میں۔‘‘

    کاسانی، بدائع الصنائع، 7 : 113

    یعنی اقلیتیں اپنی قدیم عبادت گاہوں کے اندر رہ کر اپنے تمام مذہبی اُمور بجا لا سکتے ہیں، حکومتِ اسلامیہ اس میں دخل دینے کی مجاز نہیں ہے۔ تاہم اس ذیل میں اقلیتوں کو مسلمانوں کے شعائر مذہبی کے احترام کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ :

    أيما مصر مصرته العرب فليس للعجم ان يبنوا فيه بناء بيعة ولا يضربوا فيه ناقوسا ولا يشربوا فيه خمراً ولا يتخذوا فيه خنزيراً أيما مصر کانت العجم مصرته يفتحه اﷲ علي العرب فنزلوا علي حکمهم فللعجم ما في عهدهم وللعجم علي العرب ان يوفوا بعهدهم.

    ’’جن شہروں کو مسلمانوں نے آباد کیا ہے ان میں ذمیوں کو یہ حق نہیں ہے کہ نئی عبادت گاہیں اور کنائس تعمیر کریں، یا ناقوس بجائیں، شرابیں پئیں اور سور پالیں۔ باقی رہے وہ شہر جو عجمیوں کے آباد کیے ہوئے ہیں اور جن کو اللہ نے عربوں (یعنی مسلمانوں) کے ہاتھ پر فتحیاب کیا اور انہوں نے مسلمانوں کے حکم پر اطاعت قبول کر لی تو عجم کے لیے وہی حقوق ہیں جو ان کے معاہدے میں طے ہو جائیں اور عرب پر ان کا ادا کرنا لازم ہے۔‘‘

    1. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 467، رقم : 32982
    2. بيهقي، السنن الکبريٰ، 9 : 202
    3. ابن قدامه، المغني، 9 : 283
    4. زرعي، احکام اهل الذمه، 3 : 1181، 1195، 1235
    5. ابن ضويان، منار السبيل، 1 : 283

    مرتد کی سزا اور آزادیء عقیدہ

    وہ مسلمان جو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے اس کا معاملہ اقلیتوں سے مختلف ہو گا۔ اگر کوئی مسلمان احکام اسلام کا پابند ہونے اور اس کے عقیدہ پر ایمان لانے کے بعد اگر اس سے پلٹتا ہے تو وہ گویا اس ارتداد سے فتنہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور مملکت سے بغاوت کرتا ہے جو موجب سزا ہے اس لیے کہ وفائے عہد سے برگشتگی ملکی قانون سے بغاوت اور بہت بڑا جرم ہے اور یہ امردورِ جدید کے قانون میں بھی معروف و متعین ہے۔ جسکی سزا اکثر ریاستی قوانین میں موت مقررکی گئی ہے۔

    ارتداد کی سزا کے نظائر دنیا کے اکثر آئینی و دساتیری قوانین میں موجود ہیں۔ اسلام نے مرتد کو بھی سزا دینے سے قبل راہ راست کی قبولیت کا موقع پانے کا حق عطا کیا ہے۔ حضرت امام محمد بن حسن شیبانی فرماتے ہیں :

    و اذا ارتد المسلم عن الاسلام عرض عليه الاسلام فان اسلم والا قتل مکانه الا ان يطلب ان يوجله، فان طلب ذلک اجل ثلاثة ايام.

    ’’اگر کوئی مسلمان اسلام سے برگشتہ ہوجائے تو اسے دوبارہ اسلام کی دعوت دی جائے گی۔ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو خوب، بصورت دیگر اسے فوراً قتل کردیا جائے گا، تاہم اگر وہ غور و فکر کے لیے کچھ مہلت طلب کرے تو اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی۔‘‘

    شيباني، السيرالصغير : 38

    اگر ارتداد کا ارتکاب عورت نے کیا ہو تو اسے مرد مرتد کی نسبت رجوع الی الحق کے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں گے :

    ولا تقتل المرتدة ولکنها تحبس ابدا حتي تسلم بلعنا عن ابن عباس انه قال : اذا ارتدت المرأة عن الاسلام حبست ولم تقتل و بلغنا عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم انه نهي عن قتل نساء المشرکين في الحرب فادر ألقتل عنها بهذا ومالها و کسوتها کله لها. وافعالها في البيع والشريٰ والعتق والهبة کلها جائزة.

    ’’مرتد ہوجانے والی عورت کو سزائے موت نہیں دی جائے گی بلکہ اسے عمر قید کی سزا دی جائے گی یا اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک وہ دوبارہ اسلام قبول نہ کرلے۔ ہم تک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فرماں پہنچا ہے کہ جب کوئی عورت ارتداد اختیار کرے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ قید کیا جائے گا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی میدان جنگ میں مشرکین کی عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ اس معاملے میں بھی میں انہیں قتل سے بچانا چاہوں گا۔ اس کی املاک و اموال اس کی ملکیت رہیں گے۔ اور اس کے خرید و فروخت، غلاموں کی آزادی، اور ہدیہ سے متعلق معاہدے و افعال معتبر ہوں گے۔‘‘

    شيباني، السير الصغير : 41

    واذا رفعت المرتدة الي الامام فقالت : ما ارتددت، و انا اشهد ان لا اله الا اﷲ و ان محمد رسول اﷲ کان هذا توبة منها.

    ’’جب کسی مرتدہ کو حاکم کے سامنے پیش کیا جائے اور وہ اپنے ارتداد کا انکار کرتے ہوئے کہے میں اس کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں تو یہ اس کی توبہ تصور کی جائے گی (اور اسے سزا نہیں ہوگی)۔‘‘

    شيباني، السير الصغير : 42

    5۔ اِقتصادی اور معاشی آزادی کا حق

    غیر مسلم پر اسلامی حکومت میں کسب معاش کے سلسلہ میں کسی قسم کی پابندی نہیں ہے، وہ ہر کاروبار کر سکتا ہے جو مسلمان کرتے ہوں۔ سوائے اس کاروبار کے جو ریاست کے لیے اجتماعی طور پر نقصان کا سبب ہو۔ وہ جس طرح مسلمانوں کے لیے ممنوع ہوگا، اُسی طرح ان کے لیے بھی ممنوع ہوگا، مثلاً سودی کاروبار، جو بالآخر پوری سوسائٹی کے لیے ہلاکت کا باعث بنتا ہے یا دیگر اس نوعیت کے کام وغیرہ۔

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجران کو لکھا :

    إما أن تذروا الربا و إما أن تأذنوا بحرب من اﷲ ورسوله.

    ’’سود چھوڑ دو یا اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘

    1. جصاص، احکام القرآن، 4 : 89
    2. جصاص، الفصول في الاصول، 2 : 37

    احکام القرآن میں آیت وأخذهم الربا و قد نهوا عنه و اکلهم اموال الناس بالباطل اور يايها الذين امنوا لا تکلوا اموالکم بينکم بالباطل کے تحت امام جصاص فرماتے ہیں :

    فسوي بينهم و بين المسلمين في المنع من الربا.

    ’’اللہ تعالیٰ نے ان (ذمیوں) اور مسلمانوں کے درمیان سود کی ممانعت کو برابر قرار دیا ہے۔‘‘

    جصاص، احکام القرآن، 4 : 89

    اس اُصول کے علاوہ جو تجارت ان کو پسند ہوا کریں، یہاں تک کہ وہ اپنے محلوں اور شہروں میں خنزیر اور شراب بھی رکھ سکتے ہیں، ان کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔ درِ مختار میں ہے :

    ويضمن المسلم قيمة خمره و خنزير اذا اتلفه.

    ’’ یعنی اگر کوئی مسلمان غیر مسلم اقلیتی فرد کی شراب یا خنزیر کو نقصان پہنچائے گا تو اسے اس کا تاوان ادا کرنا پڑے گا۔‘‘

    1. علاؤ الدين حصکفي، الدر المختار، 2 : 223
    2. ابن عابدين شامي، رد المحتار، 3 : 273

    لیکن یہ چیزیں وہ مسلمانوں کے شہروں میں نہ لائیں گے اور نہ ہی مسلمانوں کے ہاتھ بیچیں گے۔

    کاساني، بدائع الصنائع، 7 : 113

    پیشوں کے اعتبار سے وہ کوئی بھی پیشہ اختیار کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کو اُجرت پر ان سے کام کروانے کی کسی قسم کی ممانعت نہیں ہے۔ اسلام میں کسی پیشہ کی وجہ سے کسی غیر مسلم سے کسی بھی نوعیت کی کوئی دوری رکھنے کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا، تجارتی معاملات میں جو ٹیکس مسلمان دیتے ہیں وہ ان کو بھی دینا ہو گا۔

    6۔ اِجتماعی کفالت میں اقلیتوں کا حق

    جس طرح اسلامی بیت المال کسی مسلمان کے معذور ہو جانے یا بوجہ عمر رسیدگی اور غربت کے محتاج ہو جانے پر کفالت کی ذمہ داری لیتا ہے اسی طرح اسلامی بیت المال پر ایک غیر مسلم کے معذور ہونے یا عاجز ہونے کی صورت میں اس کی کفالت لازم ہے۔

    کتاب الاموال میں ابوعبید نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے :

    أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم تصدق صدقه علي اهل بيت من اليهود فهي تجري عليهم.

    ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کے ایک گھرانہ کو صدقہ دیا اور (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد بھی) وہ انہیں دیا جارہا ہے۔‘‘

    1. ابو عبيد، کتاب الاموال : 1992
    2. زيلعي، نصب الرايه، 2 : 398
    3. سيواسي، شرح فتح القدير، 2 : 267
    4. عسقلاني، الدرايه في تخريج احاديث الهدايه، 1 : 266

    حضرت زید بن ہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

    إن صفية زوج النبي صلي الله عليه وآله وسلم، تصدقت علي ذوي قرابة لها، فهما يهوديان، فبيع ذلک بثلاثين الفا.

    ’’بے شک ام المومنین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرۃ حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے رشتہ داروں کو صدقہ دیا حالانکہ وہ دونوں یہودی تھے جو تیس ہزار (درہم) کے عوض فروخت کیا گیا۔‘‘

    ابوعبيد، کتاب الاموال، 1993

    عمرو بن میمون، عمرو بن شرجیل اور مرۃ ہمذانی سے روایت کیا گیا ہے کہ :

    انهم کانوا يعطون الرهبان من صدقة الفطر.

    ابوعبيد، کتاب الاموال : 1996

    اسی طرح کتاب الخراج ابو یوسف میں ہے :

    وجعلت لهم ايما شيخ ضعف عن العمل او اصابته افة من الافات او کان غنيا فافتقر وصار اهل دينه يتصدقون عليه طرحت جزيته و عيل من بيت مال المسلمين و عياله ما اقام بدار الهجرة و دارالاسلام.

    ’’وہ راہبوں کو صدقہ فطر میں سے دیتے تھے۔‘‘

    ’’ اگر ان کے ضعیف العمر اور ناکارہ لوگوں یا آفت رسیدہ یا بعد ازغنی فقیر ہو جانے والوں، کہ ان کے مذہب کے لوگ ان کو خیرات دینے لگیں، سے جزیہ ہٹا لیا جائے گا اور مسلمانوں کے بیت المال سے ان کے نان و نفقہ کا بندوبست کیا جائے گا جب تک وہ اسلامی ملک میں رہیں۔‘‘

    1. ابو يوسف، کتاب الخراج : 155
    2. محمد حميد الله، الوثائق السياسية : 317، وثيقه : 291

    عملی طور پر اس کی تاریخ اسلامی میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ غیر مسلم اقلیتوں کے معذور افراد کو اسلامی بیت المال سے باقاعدہ الاؤنس ملتا رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک یہودی کو دیکھا جو اندھا ہو چکا تھا تو آپ نے اس کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر فرما دیا۔ اجتماعی کفالت کے حق اور حقوق عامہ میں اسلامی حکومت کی نگاہ میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں ہے بلکہ وہ بالکل برابر کے شہری ہیں۔

    7۔ روزگار کی آزادی کا حق

    اسلام میں ہر جائز ذریعہ روزگار کو مستحسن قرار دیا گیا ہے حدیث مبارکہ ہے :

    ما أکل أحد طعاما قط، خيرا من أن يأکل من عمل يديه، و إن نبي اﷲ داؤد عليه السلام کان يأکل من عمل يديه.

    ’’کوئی بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر اور کوئی کھانا نہیں کھا سکتا اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔‘‘

    محمد حسين هيکل، الفاروق عمر، 2 : 202

    اسلامی مملکت میں اقلیتوں سمیت ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ تجارت، صنعت و زراعت غرضیکہ جو کام بھی وہ کرنا چاہے کر سکتا ہے، بشرطیکہ ان چیزوں کے قریب نہ جائے، جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے، جیسے سودی معاملات ہیں اور جائز حدود میں بھی اخلاقی قدروں کا لحاظ رکھے، اپنے کام کی وجہ سے کسی دوسرے کی تجارت یا صنعت کے درپے آزار نہ ہو۔ یہ اسلامی شریعت میں ناجائز ہے۔ جب فرد جائز کام کرے گا تو اس کا حاصل اور ثمر اس کا حق ہو گا، اس لیے کہ یہ اس کی محنت اور پسینہ کی کمائی ہے۔ ارشاد ربانی ہے :

    وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىO

    ’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہےo‘‘

    القرآن، النَّجْم، 53 : 39

    حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی فرد کو جائز کاموں کے کرنے سے روک دے، البتہ اگر کوئی شرعی ضرورت ہو تو ایسا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ اپنے ملازمین کو تجارت اور کمائی کرنے سے روک سکتی ہے، تاکہ وہ اپنے اثر و نفوذ اور منصب کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔ اس لیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کی مالیت کا محاسبہ کرتے تھے، اگر ان میں سے کوئی یہ جواز پیش کرتا کہ میں نے تجارت سے نفع کما کر یہ دولت اکٹھی کی ہے تو آپ فرماتے :

    نحن انما بعثناکم ولاة ولم نبعثکم تجارا.

    ’’ہم تمہیں والی بنا کر بھیجتے ہیں تاجر بنا کر نہیں۔‘‘

    محمد حسين هيکل، الفاروق عمر، 2 : 202

    8۔ تحفظ اور سلامتی کا حق

    اسلامی ریاست اقلیتوں کے تحفظ اور سلامتی کی ذمہ دار ہے۔ اگر اسلامی ریاست کا کسی دوسری قوم سے معاہدہ ہو تو اس قوم کے تحفظ و سلامتی کی ذمہ داری بھی اسلامی ریاست پر ہوگی :

    وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ.

    ’’اور اگر وہ (مقتول) تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مومن (بھی) ہو تو (صرف) ایک غلام/ باندی کا آزاد کرنا (ہی لازم) ہے اور اگر وہ (مقتول) اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان (صلح کا) معاہدہ ہے تو خون بہا (بھی) جو اس کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے اور اور ایک مسلمان غلام/ باندی کا آزاد کرنا (بھی لازم) ہے۔‘‘

    القرآن، النساء، 4 : 92

    اقلیتوں کی جان کی حرمت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتی ہے :

    دية اليهودي والنصراني وکل ذمي مثل دية المسلم.

    ’’یہودی، عیسائی اور ہر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کی طرح ہے۔‘‘

    1. عبدالرزاق، المصنف، 10 : 97، 98
    2. ابن رشد، بداية المجتهد، 2 : 310

    خلفائے راشدین کے دور میں اس اصول پر عمل کیا جاتا رہا اور ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کے برابر ادا کی جاتی تھی۔

    دورانِ فتوحات غیر مسلم اقوام سے جو معاہدات ہوئے ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ غیر مسلم رعایا کے تحفظ، سلامتی اور بنیادی ضروریات کی حکومت ذمہ دار ہو گی۔ چنانچہ حیرہ کے باشندوں کو جو پروانہ امان دیا گیا اس کا ایک حصہ یہ ہے :

    ’’جو غیر مسلم بوڑھا ہو جائے اور کام نہ کر سکے یا کوئی ناگہانی آفت اسے ناکارہ بنا دے یا پہلے دولتمند ہو، بعد میں کسی حادثہ کی وجہ سے غریب ہو جائے تو ایسے آفت رسیدہ لوگوں سے نہ صرف یہ کہ حکومت کوئی ٹیکس وصول نہیں کرے گی بلکہ ان کو اور ان کی اہل و عیال کو سرکاری خزانہ سے گزارہ الاؤنس بھی مہیا کیا جائے گا۔‘‘

    ابويوسف، کتاب الخراج : 155

    تاریخِ اسلام میں اس اُصول کی متعدد عملی مثالیں ملتی ہیں ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بوڑھے یہودی کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم! یہ انصاف کا تقاضا نہیں کہ ہم اس کی جوانی میں تو اس سے فائدہ اُٹھائیں اور اُسے بڑھاپے میں اس طرح رسوا ہونے دیں چنانچہ آپ نے حکم صادر فرمایا کہ اس بوڑھے کو زندگی بھر اس کی ضرورت کے مطابق بیت المال سے وظیفہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے ملک کے گورنروں کو لکھا کہ وہ غیر مسلم کے رعایا کے مستحق اور غریب افراد کو بیت المال سے پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ تنخواہیں دیں۔

    ابويوسف، کتاب الخراج : 150

    اسی طرح غیر مسلموں کو وظائف دینے کی کئی مثالیں تاریخِ اسلام میں موجود ہیں۔ ہر دور میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلام کے قوانین پر عمل کیا جاتا رہا اور جب کبھی سرکش امراء نے اس کے خلاف عمل کیا ہے تو علماء و فقہا نے انہیں اس سے باز رکھنے یا کم از کم ان سے اس کی تلافی کرانے کی کوشش کی ہے۔ تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ ولید بن عبدالملک اموی نے دمشق کے کنیسہ یوحنا کو زبردستی عیسائیوں سے چھین کر مسجد میں شامل کر لیا۔ بلاذری کے مطابق :

    فلما استخلف عمر بن عبدالعزيز شکي النصاري إليه ما فعل الوليد بهم في کنيستهم فکتب الي عامله يامره برد ما زاده في المسجد.

    ’’جب حضرت عمر بن عبدالعزیز تختِ خلافت پر متمکن ہوئے اور عیسائیوں نے ان سے ولید کے کنیسہ پر کیے گئے ظلم کی شکایت کی تو انہوں نے اپنے عامل کو حکم دیا کہ مسجد کا جتنا حصہ گرجا کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے اسے منہدم کرکے عیسائیوں کے حوالہ کر دو۔‘‘

    بلاذري، فتوح البلدان : 150

    جب ولید بن یزید نے رومی حملہ کے خوف سے قبرص کے ذمی باشندوں کو جلا وطن کر کے شام میں آباد کیا تو اس پر فقہائے اسلام اور عام مسلمان سخت ناراض ہوئے اور اسے گناہ عظیم سمجھا۔ پھر جب یزید بن ولید نے ان کو دوبارہ قبرص میں لے جا کر آباد کر دیا تو اسے عوام الناس نے بنظر احسن دیکھا اور کہا کہ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ اسماعیل بن عیاش کا بیان ہے کہ :

    فاستقطع ذلک المسلمون واستعظمه الفقهاء فلما ولي يزيد بن الوليد بن عبدالملک ردهم الي قبرس فاستحسن المسلمون ذلک من فعله و رأوه عدلا.

    ’’اس فعل کو عام مسلمانوں اور فقہا نے غلط قرار دیا اور جب یزید بن الولید بن عبدالملک آیا تو اس نے قبرص کے باشندوں کو واپس کردیا اس کے اس عمل کی عام مسلمانوں نے تعریف کی اور اسے عدل و انصاف پر مبنی قرار دیا۔‘‘

    بلاذري، فتوح البلدان : 180

    بلاذری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ جبلِ لبنان کے باشندوں میں سے ایک گروہ نے بغاوت کر دی۔ اس پر صالح بن علی بن عبداللہ نے ان کی سرکوبی کے لیے ایک فوج بھیجی، جس نے ان کے ہتھیار اُٹھانے والے مردوں کو قتل کر دیا اور باقی لوگوں میں سے ایک جماعت کو جلا وطن کیا اور ایک جماعت کو وہیں آباد رہنے دیا۔ امام اَوزاعی رحمۃ اللہ علیہ اس زمانہ میں زندہ تھے۔ اُنہوں نے صالح کو اس ظلم پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے بغاوت میں حصہ نہ لینے والوں کو قتل کرنے اور گھروں سے نکالنے کی مذمت کی اور ایک طویل خط لکھا، جس کے چند فقرے یہ ہیں :

    ما قدمت علمت فکيف تؤخذ عامة بذنوب خاصة حتي يخرجوا من ديارهم واموالهم. وحکم اﷲ تعالي : ﴿لاتزر وازرة وزر اخري﴾. وأحق الوصايا أن تحفظ و ترعي وصية رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’من ظلم معاهدا وکلفه فوق طاقته فأنا حجيه.‘‘

    ’’میں نہیں سمجھ سکتا کہ عام لوگوں کو بعض خاص لوگوں کے جرم کی سزا کیوں کر دی جاسکتی ہے۔ اور کس بنا پر انہیں ان کے گھروں اور انکی جائیدادوں سے بے دخل کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اللہ کا یہ حکم ہے کہ لا تزر وازرۃ وزر اخری اور یہ ایک واجب التعمیل حکم ہے۔ تمہارے لیے بہترین نصیحت یہ ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کو یاد رکھو کہ ’’جو کوئی کسی معاہد پر ظلم کرے گا اور اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا اس کے خلاف میں خود مدعی بنوں گا۔‘‘

    بلاذري، فتوح البلدان : 186

    9۔ تمدنی اور معاشرتی آزادی کا حق

    اسلامی ریاست میں اقلیتیں اپنی قومی اور تہذیبی روایات کے مطابق رہ سکیں گی یہاں تک کہ ان کے شخصی معاملات یعنی نکاح طلاق بایں حد کہ نکاح محرمات بھی اگر ان کے تہذیبی شعائر میں رائج ہو تو اس سے بھی کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔

    ایک دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت فرمایا کہ خلفائے راشدین نے اہل ذمہ کو نکاح محرمات کی کیوں اجازت دے دی تھی اور شاید آپ اس پر پابندی لگانا چاہتے تھے کیونکہ یہ فعل شناعت کے اعتبار اس قدر شنیع ہے کہ فطرت سلیمہ اسے ہرگز قبول نہیں کرتی۔ جواب میں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا :

    انما بذلوا الجزية ليترکوا علي ما يعتقدون و انما انت متبع ولا مبتدع والسلام.

    ’’انہوں نے جزیہ اس لیے دیا ہے کہ انہیں ان کے اعتقادات پر چھوڑ دیا جائے اور آپ تو خلفائے راشدین کی پیروی کرنے والے ہیں نہ کہ نئی راہ بنانے والے۔‘‘

    1. سيواسي، شرح فتح القدير، 3 : 417
    2. سرخسي، المبسوط، 5 : 39

    اسلامی ریاست میں اندر سوائے حرم کے وہ جہاں چاہیں سکونت اختیار کر سکتے ہیں اور اسی طرح ترک سکونت کا بھی انہیں اختیار ہے۔ حرم سے مراد مکہ مکرمہ ہے اور اس میں مشرک کے داخلہ پر پابندی نص سے ثابت ہے اس لیے وہ وہاں نہ رہ سکیں گے۔

    اسلامی معاشرے میں مسلمانوں پر بھی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اقلیتوں سے نیکی، انصاف اور حسن سلوک پر مبنی رویہ اختیار کریں

    لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَO

    ’’(اے مسلمانو!) اللہ تم کو ان لوگوں کے ساتھ نیکی کا برتاؤ اور انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہ لڑے اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکالا (بلکہ) اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہےo‘‘

    القرآن، الممتحنة، 60 : 8

    10۔ اقلیتوں کی حفاظت اِسلامی رِیا

  38. 10۔ اقلیتوں کی حفاظت اِسلامی رِیاست کی ذِمّہ داری ہے

    اِسلامی ریاست میں اقلیتوں کو دفاعی ذمہ داریاں ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کا دفاع اِسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسلامی حکومت غیر مسلموں کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت کرے گی۔

    1. کاساني، بدائع الصنائع، 7 : 111
    2. شربيني، مغني المحتاج، 4 : 243
    3. منصور بن يونس، کشاف القناع، 3 : 92
    4. زحيلي، الفقه الاسلامي و ادلته، 6 : 446

    چونکہ اسلامی ریاست اقلیتوں کو جان و مال اور آبرو کا تحفظ فراہم کرتے ہے اور ان پر کوئی دفاعی ذمہ داری بھی عائد نہیں کرتی لہٰذا اس کے عوض اقلیتیں اسلامی ریاست کو مالیاتی طور پر contribute کرتے ہیں جسے اسلامی قانون میں جزیہ کہا گیا ہے۔ اسلامی ریاست میں اقلیتوں پر جزیہ عائد کرنے کے معاملے میں بھی عدل و انصاف اور حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امرائے لشکر کو لکھا :

    ألا يضربوا الجزية علي النساء ولا علي الصبيان وأن يضربوا الجزية علي من جرت عليه الموسي من الرجال.

    ’’عورتوں اور بچوں پر جزیہ عاید نہ کریں اور صرف ان مردوں پر جزیہ عاید کریں، جن کے بال اگ آئے ہوں (بالغ ہوگئے ہوں)۔‘‘

    1. عبدالرزاق، المصنف، 10 : 331، رقم : 19273
    2. عبدالرزاق، المصنف، 6 : 85، رقم : 10090
    3. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 428، 429، رقم : 32636، 32640
    4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 9 : 195، 198
    5. ابن حزم، المحلي، 7 : 247
    6. ابن قدامه، المغني، 8 : 476، 507
    7. عسقلاني، تلخيص الحبير، 4 : 123

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مقام سے گزر ہوا تو آپ نے ایک بوڑھے نابینا یہودی بھیک مانگتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اس سے پوچھا :

    فما ألجأک الي ما اري؟ قال : أسأل الجزية والحاجة والسن. فأخذ عمر بيده و ذهب به الي منزله فرضخ له بشئ من المنزل. ثم ارسل الي خازن بيت المال فقال : انظر هذا و ضرباء ه، فو اﷲ! ما أنصفناه أن أکلنا شبيبته ثم نخذله عندالهرم.

    تمہیں اس پر کس بات نے مجبور کیا؟اس نے کہا کہ بوڑھا ضرورت مند ہوں اور جزیہ بھی دینا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور گھر لائے اور اسے اپنے گھر سے کچھ دیا، پھر اسے بیت المال کے خازن کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ اس کا اور اس جیسے اور لوگوں کا خیال رکھو اور ان سے جزیہ لینا موقوف کردو۔ کیونکہ یہ کوئی انصاف کی بات نہیں ہے کہ ہم نے ان کی جوانی میں ان سے جزیہ وصول کیا اور اب بڑھاپے میں ان کو اس طرح رسوا کریں۔‘‘

    1. ابن قدامه، المغني، 8 : 509
    2. ابو يوسف، کتاب الخراج : 150

    جزیہ کی مقدار مقرر کرنے میں بھی ذمیوں پر تشدد کرنا ممنوع ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت ہے کہ لا یکلفوا فوق طاقتھم جتنا مال دینا ان کی طاقت سے باہر ہو انہیں اس کے ادا کرنے کی تکلیف نہ دو۔

    بيهقي، السنن الکبريٰ، 9 : 206

    جزیہ کے عوض ان کی املاک کا نیلام نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حکم ہے :

    لا تبيعن لهم في خراجهم حماراً ولا بقرة ولاکسوة شتاء ولا صيف.

    ’’خراج میں ان کا گدھا یا ان کی گائے یا ان کے سردی و گرمی سے بچانے والے کپڑے نہ بیچنا۔‘‘

    ابن قدامه، المغني، 9 : 291

    ایک اور موقع پر اپنے عامل کو بھیجتے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

    لا تبيعن لهم کسوة شتاء ولا صيفا، ولا رزقا ياکلونه، ولا دابة يعملون عليها، ولا تضربن أحدا منهم سوطا و احدا في درهم ولا تقمه علي رجله في طلب درهم، ولا تبع لأحد منهم عرضا في شيئ من الخراج، فإنا انما أمرنا أن ناخذ منهم العفو، فإن انت خالفت ما أمرتک به ياخذک اﷲ به دوني، و إن بلغني عنک خلاف ذلک عزلتک.

    ’’ان کے جاڑے گرمی کے کپڑے اور ان کے کھانے کا سامان اور ان کے جانور جن سے وہ کھیتی باڑی کرتے ہیں خراج وصول کرنے کی خاطر نہ بیچنا نہ کسی کو درہم وصول کرنے کے لیے کوڑے مارنا، نہ کسی کو کھڑا رکھنے کی سزا دینا اورنہ خراج کے عوض کسی چیز کا نیلام کرنا کیوں کہ ہم، جو ان کے حاکم بنائے گئے ہیں، ہمارا کام نرمی سے وصول کرنا ہے۔ اگر تم نے میرے حکم کے خلاف عمل کیا تو اللہ میرے بجائے تمہیں سزا دے گا اور اگر مجھے تمہاری خلاف ورزی کی خبر پہنچی تو میں تمہیں معزول کر دوں گا۔‘‘

    ابويوسف، کتاب الخراج : 17

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے گورنر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو فرمان لکھا تھا اس میں منجملہ اور احکام کے ایک یہ بھی تھا کہ :

    وامنع المسلمين من ظلمهم والإضراربهم واکل اموالهم إلا بحلها.

    ’’مسلمانوں کو ان پر ظلم کرنے اور انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کے مال کھانے سے منع کرنا۔‘‘

    ابويوسف، کتاب الخراج : 152

    شام کے سفر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے عامل جزیہ وصول کرنے کے لیے ذمیوں کو دھوپ میں کھڑا کر کے اور ان کے سروں پر تیل ڈال کر سزائیں دے رہے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا :

    فرعوهم، لا تکلفوهم مالا يطيقون، فاني سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : لا تعذبوا الناس فان الذين يعذبون الناس في الدنيا يعذبهم اﷲ يوم القيامة و أمربهم فخلي سبيلهم.

    ’’ان کو چھوڑ دو، تم ان کو تکلیف نہ دو جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے، میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کو عذاب نہ دو بے شک وہ لوگ جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں اللہ انہیں قیامت کے دن عذاب دے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے حکم پر انہیں چھوڑ دیا گیا۔‘‘

    امام ابويوسف، کتاب الخراج : 135

    ہشام بن حکم نے حمص کے ایک سرکاری افسر عیاض بن غنم کو دیکھا کہ وہ ایک قبطی کو جزیہ وصول کرنے کے لیے دھوپ میں کھڑا کر رہا ہے۔ اس پر انہوں نے اسے ملامت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے :

    ان اﷲ يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا.

    ’’اﷲ عزوجل ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔‘‘

    1. مسلم، الصحيح، کتاب البر، باب الوعيد الشديد، 4 : 2018، رقم : 2613
    2. ابوداؤد، السنن، کتاب الخراج، باب في التشديد، 3 : 106، رقم : 3045
    3. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 236، رقم : 8771
    4. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 403، 404، 468
    5. ابن حبان، الصحيح، 12 : 426، 427، 429، رقم : 5612، 5613
    6. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 171، رقم : 441
    7. بيهقي، السنن الکبريٰ، 9 : 205
    8. هيثمي، موارد الظمآن : 377، رقم : 1567

    فقہائے اسلام نے نادہندگان کے حق میں صرف اتنی اجازت دی ہے کہ انہیں تادیباً قید بے مشقت کی سزا دی جاسکتی ہے۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے :

    ولکن يرفق بهم و يحبسون حتي يؤدوا ما عليهم.

    ’’اور ان سے نرمی سے پیش آیا جائے گا اور ادائیگی جزیہ تک انہیں قید کیا جائے گا۔‘‘

    ابويوسف، کتاب الخراج : 133

    جو ذمی محتاج اور فقیر ہو جائیں انہیں صرف جزیہ ہی معاف نہیں کیا جائیگا بلکہ ان کے لیے اسلامی خزانہ سے وظائف بھی مقرر کیے جائیں گے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اہل حیرہ کوجو امان نامہ لکھ کر دیا تھا اس میں لکھتے ہیں :

    وجعلت لهم ايما شيخ ضعف عن العمل او اصابته آفة من آلآفات اوکان غنياً فافتقروصارا هل دينه يتصدقون عليه طرحت جزيته و عيل من بيت مال المسلمين وعياله.

    ’’میں نے ان کے لیے یہ حق بھی رکھا ہے کہ جو کوئی شخص بڑھاپے کے سبب ازکار رفتہ ہو جائے یا اس پر کوئی آفت نازل ہو جائے، یا وہ پہلے مال دار تھا پھر فقیر ہو گیا یہاں تک کہ اس کے ہم مذہب لوگ اس کو صدقہ و خیرات دینے لگے، تو اس کاجزیہ معاف کر دیا جائیگا اور اسے اور اس کے بال بچوں کو ریاست کے بیت المال سے خرچ دیا جائے گا۔‘‘

    1. محمد حميد الله، الوثائق السياسة : 317، وثيقه : 291
    2. ابويوسف، کتاب الخراج : 155

    اگرکوئی ذمی مرجائے اور اس کے حساب میں مکمل جزیہ یا جزیہ کا بقایا واجب الادا ہو تو وہ اس کے ترکہ سے وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے ورثا پر اس کا بار ڈالا جائے گا۔ کیونکہ یہ اس پر قرض نہیں ہے۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

    إن وجبت عليه الجزية فمات قبل ان تؤخذ منه اوأخذ بعضها وبقي البعض لم يوخذ بذلک ورثته ولم توخذ من ترکته لإن ذلک ليس بدين عليه.

    ’’اگر اس پر جذیہ واجب ہو تو اس کی کل یا کچھ ادائیگی سے قبل وہ مرجائے تو اس پر بقیہ واجب الادا جزیہ وارثوں سے وصول نہیں کیا جائیگا کیونکہ یہ اس پر قرض نہیں ہے۔‘‘

    ابويوسف، کتاب الخراج : 132

    11۔ عسکری خدمات سے اِستثناء کا حق

    اسلامی ریاست میں ذمی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہیں اور دشمن سے ملک کی حفاظت تنہا مسلمانوں کے فرائض میں شامل ہے چونکہ ان سے جزیہ اسی حفاظت کے معاوضہ میں وصول کیا جاتا ہے، اس لیے اسلام نہ تو ان کو فوجی خدمت کی تکلیف دینا جائز سمجھتا ہے اور نہ ان کی حفاظت سے عاجز ہونے کی صورت میں جزیہ وصول کرنا۔ اگر مسلمان ان کی حفاظت نہ کرسکیں توانہیں ذمیوں کے اموال جزیہ سے فائدہ اٹھانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ جنگ یرموک کے موقع پر رومیوں نے مسلمانوں کے مقابلہ پر ایک زبردست فوج جمع کی اور مسلمانوں کو شام کے تمام مفتوح علاقے چھوڑ کر ایک مرکز پر جمع ہونے کی ضرورت پیش آئی تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے امراء کو لکھا کہ :

    ’’ جو کچھ جزیہ و خراج تم نے ذمیوں سے وصول کیا ہے انہیں واپس کردو اور ان سے کہو کہ اب ہم تمہاری حفاظت سے عاجز ہیں اس لیے تم اپنے معاملے کے لحاظ سے آزاد ہو۔ اس لیے ہم نے جو مال تمہاری حفاظت کے معاوضہ میں وصول کیا تھا اسے واپس کرتے ہیں۔‘‘

    اس حکم کے مطابق تمام لشکروں کے امراء نے جمع شدہ رقم واپس کر دی۔

    1. ابويوسف، کتاب الخراج : 150
    2. بلاذري، فتوح البلدان : 161

    12۔ اقلیتوں سے معاہدے کی پاسداری اِسلامی رِیاست کا فرض ہے

    اگر اقلیتوں نے اسلامی ریاست سے کوئی معاہدہ کیا ہو تو اسلامی ریاست اسے ہر حال میں پورا کرنے کی پابند ہوگی :

    العقد فهو انه لازم في حقنا حتي لايملک المسلمون نقضه بحال من الاحوال واما في حقهم فغير لازم.

    ’’عقد ذمہ مسلمانوں کی جانب ابدی لزوم رکھتا ہے، یعنی وہ میثاق کرنے کے بعد پھر توڑ دینے کے مختار نہیں ہیں۔ لیکن دوسری جانب ذمیوں کو اختیار ہے کہ جب تک چاہیں اس پر قائم رہیں اور جب چاہیں توڑ دیں۔‘‘

    کاسانی، بدائع الصنائع، 7 : 112

    ذمی خواہ کیسے ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتی کہ جزیہ بند کر دینا، مسلمان کو قتل کرنا، یا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنا بھی اس کے حق میں ناقض ذمہ نہیں ہے البتہ صرف تین صورتیں ایسی ہیں جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا، ایک یہ کہ وہ مسلمان ہو جائے دوسری یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکل کر دشمنوں سے جا ملے، تیسری یہ کہ حکومتِ اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کر دے۔

    کاساني، بدائع الصنائع، 7 : 113

    13۔ جنگی قیدیوں کے حقوق

    اسلام نے جنگی قیدیوں سے حسن سلوک کی تعلیم دی ہے۔ جنگ بدر کے ایک قیدی کا بیان ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر رحم کرے، یہ اپنے اہل و عیال سے اچھا کھانا ہمیں کھلاتے تھے اور اپنے گھر کے لوگوں سے کہیں زیادہ ہماری آسائش کا خیال رکھتے تھے۔ مخالفین سے یہ سلوک اس لیے کیا جاتا تھا کہ اسلام دُشمن کو بھی تکریم انسانیت کا مستحق سمجھتا ہے اور کسی کے فکر اور عقیدے میں جبر و جور کے ذریعے تبدیلی پسند نہیں کرتا، اس کا واضح ارشاد ہے :

    لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ.

    ’’دین کے معاملہ میں جبر روا نہیں۔‘‘

    القرآن، البقرة، 2 : 256

    جب دین کے معاملے میں جبر روا نہیں تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ غیر مسلموں کو انسانی حقوق سے محروم کر دیا جائے؟

    14۔ معاہداتِ نبوی اور اقلیتوں کے حقوق

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جن غیر مسلم قبائل نے غیر مسلم ہوتے ہوئے جزیرۃ العرب میں اسلامی حکومت کی رعایا کے طور پر رہنا پسند کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن سے کئی معاہدے کیے جو اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کی مختلف جہات کا اظہار کرتے ہیں ان میں سے چند معاہدات حسب ذیل ہیں :

    نجران کے عیسائیوں سے معاہدہ

    بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔

    یہ معاہدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اہلِ نجران کے لیے ہے۔

    ان کے پھلوں، سونے چاندی، غلام اور اُن اشیاء کے ساتھ ہر قسم کے مال کے عوض میں ان پر مندرجہ ذیل خراج عائد کیا جاتا ہے۔
    ا) دو ہزار یمنی حلے (دو قسطوں میں) ماہ رجب میں ایک ہزار، ماہ صفر میں ایک ہزار۔
    ب) اور ایک حلہ کے ساتھ ایک اوقیہ چاندی۔
    مقررہ مقدار خراج میں کسی شے کی کمی اور دوسری شے کی بیشی پر جمع و منہا لازم ہو گا۔
    اگر اہلِ نجران عائد شدہ نصاب (حلہ جات اور چاندی) کے عوض میں اجناس داخل کرنا چاہئیں۔ تو بدل مبدل منہ دونوں کی قیمت میں کمی بیشی کا لحاظ ضرور ہو گا۔
    اہلِ نجران پر میرے تحصیلدارو ں کی مہمان نوازی اور تکریم بیس سے لے کر تیس دن تک واجب ہے۔ اس کے بعد اُنہیں اپنے ہاں روکا نہ جائے۔
    ہماری طرف سے یمن اور معرہ پر حملہ کے وقت اُنہیں ہم کو :
    الف۔ تیس گھوڑے
    ب۔ 30 زرہیں عاریتہ دینا ہوں گی۔
    جن کے اتلاف پر ان کی قیمت اور شکست و ریخت کے ہمارے تحصیل دار ذمہ دار ہوں گے۔

    اہلِ نجران کے ساتھ ان کے ہمسایہ حلیفوں کے لیے بھی محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی طرف سے مندرجہ ذیل اشیاء میں تلافی کے ذمہ دار ہیں۔
    الف۔ وطن اور وطن کے باہر ہر دو جگہوں میں ان کے اموال و نفوس کے اتلاف پر۔
    ب۔ ان کے مذہب اور ان کے قرابت داروں کی تذلیل و تحقیر پر۔
    ان کے پادری، گوشہ نشینوں اور کاہنوں پر گرفت نہ ہو گی۔
    ان کی ماتحتی کی وجہ سے ان پر کسی قسم کی کہتری عائد نہ ہوگی۔
    وہ قبل از اسلام کے قتل کے مواخذہ سے بری ہیں۔
    وہ ہماری جنگوں میں شرکت سے مستثنیٰ ہیں۔
    ہمارا لشکر ان پر حملہ نہ کرے گا۔
    ہماری عدالت میں دعوے پیش کرنے پر ان سے انصاف کیا جائے گا۔
    ان میں سے جو شخص اپنے خاندان سے سود لے گا وہ ہماری ذمہ داری سے محروم ہے۔
    کسی فرد کی دوسرے فرد کے عوض میں گرفت نہ ہو گی۔
    1. بلاذري : فتوح البلدان : 89 – 90
    2. محمد حميد اﷲ، الوثائق السياسة : 140، وثيقه : 94

    بالکل اسی طرح کا ایک عہد نامہ اہلِ نجران سے ہوا کہ جس میں مذہبی آزادی کی اس سے بھی زیادہ وضاحت کی گئی ہے۔ جس کو بلاذری نے فتوح البلدان میں تحریر کیا ہے۔ جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ لکھ کر دیا :

    ولنجران و حاشيتها جوار اﷲ و ذمة محمد النبي رسول اﷲ (صلي الله عليه وآله وسلم) علي انفسهم و ملتهم و ارضهم و اموالهم و غائبهم و شاهدهم و غيرهم و بعثهم و أمثلتهم لا يغير ما کانوا عليه ولا يغير حق من حقوقهم و امثلتهم لا يفتن اسقف من اسقفيته ولا راهب من رهبانيته ولا واقه من وقاهيته علي ما تحت ايديهم من قليل او کثير وليس عليهم رهق.

    ’’اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کے لیے اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی جانوں ان کے مذہب ان کی زمینوں ان کے اموال۔ ان کے موجود اور غیر موجود، ان کے مواشی اور قافلے اور اُن کے استہان وغیرہ کے ذمہ دار ہیں اور جس دین پر وہ ہیں اس سے ان کو نہ پھیرا جائے گا۔ ان کے حقوق اور اُن کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔ کسی پادری، راہب یا سردار کو اس کے عہدے سے نہ ہٹایا جائے اور ان کو کوئی خوف نہ ہو گا۔‘‘

    بلاذري، فتوح البلدان : 90

    ان معاہدات سے اقلیتوں کے حقوق کا جو خاکہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ :

    ا) اسلامی حکومت کے ماتحت رہنے والی غیر مسلم رعایا کو مساوی قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔
    ب) ان کے مذہب سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جا سکتا۔
    ج) ان کے اموال، ان کی جان اوران کی عزت و آبرو کی حفاظت اسلامی حکومت کے ذمہ ہوتی ہے۔
    د) اسلامی حکومت کے اندرونی استحکام کی خاطر خلیفہ یا سربراہ مملکت لا یفتن واقہ من واقھیۃ کے ماتحت انہیں انتظامی اُمور کے عہدے جس حد تک مناسب سمجھے تفویض کر سکتا ہے۔
    ہ) اپنے مذہبی عہدے دار وہ خود متعین کرنے کے مجاز ہیں اور ان کی عبادت گاہیں قابلِ احترام ہیں۔
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ لا یغیر حق من حقوقھم و امثلتھم۔ تو اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ان کی عبادت گاہوں میں کسی قسم کا تغیر نہ کیا جائے اور ان کا احترام بہر حال قائم رکھا جائے گا۔

    ان سب چیزوں کے عوض غیر مسلم رعایا اسلامی حکومت کو کیا دے گی؟ وہی کچھ جو مسلم رعایا دیتی ہے۔ جو محاصل مسلم دے گا اس کا نام زکوٰۃ و عشر ہو گا اور جو محاصل غیر مسلم رعایا دے گی وہ جزیہ یا خراج کہلائے گا۔ یہ اسلامی بیت المال میں جمع ہونے والی رقوم کی الگ الگ دو مدوں کے نام ہیں، اس میں کسی کہتری یا برتری کا کوئی تصور نہیں ہے، جزیہ محافظت کی جزا ہے جسے ادا کرنے کے بعد غیر مسلم رعایا جنگی خدمات سے مستثنیٰ ہو جاتی ہے اور اسلامی حکومت ان کے مال، جان اور آبرو کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

    15۔ خلافتِ صدیقی اور اقلیتوں کے حقوق

    وہ معاہدات جو دورِ صدیقی میں ہوئے اگرچہ ان کی تعداد کثیر ہے۔ یہاں ان میں سے چند ایسے معاہدے نقل کیے جاتے ہیں جن میں تمام کا خلاصہ آجاتا ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب حسبِ فرمان خلیفۂ اوّل دمشق اور شام کی سرحدوں سے عراق اور ایران کی طرف لوٹے تو راستے میں باشندگان عانات کے ساتھ یہ معاہدہ کیا :

    (1) اہلِ عانات سے معاہدہ

    ان کے گرجے اور خانقاہیں منہدم نہیں کی جائیں گی۔
    وہ ہماری نماز پنجگانہ کے سوا ہر وقت اپنا ناقوس بجاسکتے ہیں ان پر کوئی پابندی نہیں۔
    وہ اپنی عید پر صلیب نکال سکتے ہیں۔
    مسلمان مسافر کی تین دن ضیافت کریں اور
    وقت پڑنے پر مسلمانوں کی جان و مال کی نگہداشت کریں.
    1. محمد حميد اﷲ، الوثائق السياسة، 323، وثيقه : 298
    2. امام ابو يوسف، کتاب الخراج : 145

    (2) اہلِ حیرہ سے معاہدہ

    اہلِ حیرہ سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جو معاہدہ کیا اس کی دفعات حسبِ ذیل ہیں :

    کسی کافر کی مسلمانوں کے خلاف اعانت مت کرو۔
    مسلمانوں کی مخالفت نہ کرو۔
    ہمارے دُشمن کو ہمارے خفیہ راز مت بتاؤ۔
    اگر وہ ان دفعات کی پابندی نہ کریں گے تو ہماری طرف سے بھی ان کی امان دہی کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔
    اور ایفائے عہد کی صورت میں جس میںادائے ٹیکس (جزیہ) بھی شامل ہے۔ ہم ان کی کسی بھی وقت امانت اور حمایت میں سبقت کرنے سے دریغ نہ کریں گے۔
    اگر وہ ہمارے ماتحت رہے تو ان کے لیے جملہ مراعات ہوں گی، جو اہلِ ذمہ کے لیے ہیں۔
    درج ذیل اشخاص کا جزیہ (محاصل) معاف ہے :

    ان بوڑھوں کا جو کام کاج نہیں کر سکتے۔
    آسمانی آفات کے ہاتھوں تباہ شدگان کا۔
    اس فقیر کا جو خیرات پر گذر اوقات کرتا ہے۔
    متذکرہ بالا تین قسم کے اشخاص کو اسلامی بیت المال سے وظیفہ ملے گا، بشرطیکہ وہ مفتوحہ علاقے سے کسی غیر جگہ منتقل نہ ہوں (اگرچہ وہ غیر مسلم ہی رہیں)۔
    لباس میں ذمی لوگ فوجی لباس کے سوا جو چاہیں پہنیں۔
    فوجی لباس پہننے کی صورت میں مقدمہ چلے گا اگر وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو جرم کے مطابق ان کو سزا دی جائے گی۔
    اگر وہ مسلمانوں سے کسی قسم کی اعانت کے طلب گار ہوں، خواہ مال ہی ہو اس سے دریغ نہ کیا جائے گا۔
    1. محمد حميد اﷲ، الوثائق السياسة، 316، وثيقه : 291
    2. ابويوسف، کتاب الخراج : 155

    (3) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہدایات

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہت سی ہدایات ہمیں ملتی ہیں جو آپ نے لشکر اسلام کے سپہ سالاروں کو تحریری طور پر یا زبانی دیں۔ ان میں سب سے جامع ہدایات وہ ہیں جو آپ نے شام بھیجی جانے والی فوج کے سالاروں کو دی تھیں۔ آپ نے فرمایا تھا :

    أوصيکم بتقوي اﷲ اغزوا في سبيل اﷲ فقاتلوا من کفر باﷲ فإن اﷲ ناصردينه ولا تغلوا ولا تغدروا ولا تجبنوا ولا تفسدوا في الارض ولا تعصوا ماتؤمرون. . . ولا تغرقن نخلا ولا تحرقنها ولا تعقروا بهيمة ولا شجرة تثمر ولا تهدموا بيعة ولا تقتلوا الولدان ولا الشيوخ ولا النساء وستجدون اقواما حبسوا انفسهم في الصوامع فدعو هم وما حبسوا انفسهم له وستجدون آخرين اتخذ الشيطان في رؤوسهم أفحاصا فإذا وجدتم اولئک فاضربوا اعناقهم.

    ’’میں تمہیں اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اللہ کے راستے میں جہاد کرو جن لوگوں نے خدا کو ماننے سے انکار کردیا ہے ان سے جنگ کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے دین کی نصرت فرمائے گا غلول (مال غنیمت میں چوری کرنا) نہ کرنا، غداری نہ کرنا، بزدلی نہ دکھانا زمین میں فساد نہ مچانا اور احکامات کی خلاف ورزی نہ کرنا، ۔ ۔ ۔ کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ انہیں جلانا چوپایوں کو ہلاک نہ کرنا اور نہ پھلدار درخت کو کاٹنا، کسی عبادت گاہ کو مت گرانا اور نہ ہی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا، تمہیں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جنہوں نے گرجا گھروں میں اپنے آپ کو محبوس کر رکھا ہے اور دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا۔ ان کے علاوہ تمہیں کچھ دوسرے لوگ ملیں گے جو شیطانی سوچ کے حامل ہیں (یہ لوگ گرجا گھروں کے خدام کہلاتے ہیں لیکن لوگ جنگ میں ان کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں) جب تمہیں ایسے لوگ ملیں تو ان کی گردنیں اڑا دو۔‘‘

    1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 9 : 85
    2. مالک، موطا، 2 : 247
    3. عبدالرزاق، المصنف، 5 : 199
    4. سعيد بن منصور، السنن، 2. 3 : 5800
    5. حسام الدين، کنزالعمال، 1 : 296
    6. ابن قدامه، المغني، 8 : 451. 452، 477
    7. ابن حزم : المحلي، 7 : 294، 296، 297

    ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

    لا تخربوا عامرا ولا تذبحوا بعيرا ولا بقرة إلا لمأکل.

    ’’کسی آباد جگہ کو مت اجاڑو اور کسی گائے یا اونٹ کو ہلاک نہ کرو سوائے اسکے کہ اس کے گوشت کی تمہیں ضرورت ہو‘‘۔

    1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 9 : 90
    2. ابن حزم، المحلي، 7 : 294، 296، 297
    3. حسام الدين، کنز العمال، 1 : 296

    16۔ خلافتِ فاروقی اور اقلیتوں کے حقوق

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں بھی اقلیتوں کے حقوق کا قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق تحفظ کیا گیا۔ آپ کے دور خلافت میں بھی اقلیتوں سے کئی معاہدے ہوئے جن میں سے اہم اہلِ ماہ بہر اذان سے معاہدہ ہے :

    اہلِ ماہ بہر اذان سے معاہدہ

    حضرت نعمان بن مقرن نے اہلِ ماہ بہر اذان سے سیدنا حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں معاہدہ کیا، جس کی توثیق آپ نے فرمائی۔ اس معاہدے میں اقلیتوں کے متعلق درج ذیل دفعات شامل تھیں :

    ان کے اموال، نفوس اور اراضی ہر ایک پر ان کا قبضہ بدستور تسلیم کیا جاتا ہے۔
    انہیں نہ تو ان کے دین سے ہٹایا جائے گا اور نہ ان کی شریعت سے تعرض کیا جائے گا۔
    اُنہیں ہر سال ایک مرتبہ جزیہ (حکومتی محاصل) ادا کرنا ہو گا، یہ جزیہ ہمارے مقرر کردہ امیر کو دینا ہو گا۔ جزیہ کے عوض ان کی حمایت و حفاظت کی جائے گی۔
    جزیہ ہر شخص کی وسعت مالی کے مطابق ہو گا۔
    جزیہ کے مکلّف صرف بالغ مرد ہوں گے۔
    اُنہیں نووارد مسافروں کی رہنمائی کرنا ہو گی۔
    گذر گاہوں کی حفاظت ان کے ذمہ ہو گی۔
    مسلمان فوجی دستوں کی ایک دن کی مہمانی اور قیام کا انتظام کرنا ہو گا۔
    اگر اُنہوں نے کسی معاملہ میں دھوکا دیا یا اُن شرائط میں کمی کی تو امان کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔
    محمد حميد اﷲ، الوثائق السياسة : 358، وثيقه : 331

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آخری لمحے تک اقلیتوں کا خیال تھا۔ حالانکہ ایک اقلیتی فرقہ ہی کے فرد نے آپ کو شہید کیا۔ اس کے باوجود آخری وقت ارشاد فرمایا :

    اوصي الخليفة من بعدي بذمة اﷲ و ذمة رسوله صلي الله عليه وآله وسلم أن يوفي لهم بعهدهم و أن يقاتل من ورائهم و أن لا يکلفوا فوق طاقتهم.

    ’’یعنی میں اپنے بعد والے خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ میں آنیوالوں (اقلیتوں) کے بارے میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان سے کیے ہوئے وعدے پورے کرے اور ان کی حفاظت کے لیے لڑے اور اُن کو اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے۔‘‘

    1. بخاري، الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 1 : 469، رقم : 1328
    2. بخاري، الصحيح، کتاب المناقب، باب قصة البيعة، 3 : 1356، رقم : 3497
    3. ابن ابي شيبه، المصنف، 7 : 436، رقم : 37059
    4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 150
    5. بيهقي، السنن الکبريٰ، 9 : 206
    6. ازدي، الجامع، 11 : 109
    7. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 339
    8. خلال، السنه، 1 : 116، رقم : 62
    9. شوکاني، نيل الاوطار، 6 : 159، 160

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر سے آنے والے لوگوں سے وہاں کی اقلیتوں کے بارے میں برابر پوچھتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ بصرہ سے آنے والے اقلیتوں کے ایک وفد سے دریافت فرمایا :

    لعل المسلمين يفضون الي اهل الذمة بأذي. . . فقالوا : ما نعلم الا وفاء.

    ’’شاید مسلمان اقلیتوں کو کچھ تکالیف دیتے ہیں۔ ۔ ۔ (تو اہلِ ذمہ نے) کہا ہم نے عہد کی پابندی کے علاوہ ان میں کچھ نہیں دیکھا۔‘‘

    طبري، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 503

    یعنی مسلمانوں نے ہم سے جو معاہدہ کیا ہے اُسے پورا کر رہے ہیں۔

    17۔ خلافتِ عثمانی اور اقلیتوں کے حقوق

    خلافتِ راشدہ کا تیسرا دور شروع ہی ایک ایسے المناک حادثہ سے ہوا کہ ایک غیر مسلم نے خلیفۂ وقت پر قاتلانہ حملہ کیا اور خلیفہ جانبر نہ ہو سکے، آپ کے صاحبزادے حضرت عبید اللہ نے غصہ میں آ کر قتل کی سازش میں ملوث تین آدمیوں کو قتل کر دیا، جن میں سے ایک مسلمان اور دو غیر مسلم عیسائی تھے، حضرت عبید اللہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ خلیفہ ثالث نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی سب سے پہلے اس معاملہ کے بارے میں صحابہ کرام سے رائے لی، تمام صحابہ کی رائے یہ تھی کہ عبید اللہ کو قتل کر دیا جائے۔ لیکن بعد میں خون بہا پر مصالحت ہو گئی اور خون بہا (دیت) کی رقم تینوں مقتولین کے لیے برابر برابر مقرر کی گئی۔

    ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 5 : 17

    اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی ریاست میں مسلمانوں اور غیر مسلم اقلیتوں کے خون کی حرمت برابر ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانۂ خلافت بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے شاندار ریکارڈ کا حامل ہے۔ آپ کے زمانہ خلافت میں کوفہ کے گورنر ولید بن عقبہ کے دربار میں ایک یہودی شعبدہ بازی کے کرتب دکھا رہا تھا، حضرت جندب بن کعب ازدی بھی تماشائیوں میں تھے، آپ کا شمار کبار تابعین میں ہوتا تھا، آپ نے ان شعبدوں کو شیطانی اثر سمجھا اور یہودی کو قتل کر دیا۔ ولید نے اسی وقت آپ کو گرفتار کر لیا اور قصاص میں قتل کرنے کے لیے جیل بھیج دیا۔ آپ نے داروغہ جیل ابوسنان سے پوچھا کہ کیا تو بھاگنے میں میری مدد کرے گا۔ اس نے کہا : ہاں اور پھر حضرت جندب کو جیل سے بھاگنے میں مدد دیتے ہوئے کہا : یہاں سے بھاگ جا اللہ تعالیٰ تیرے بارے مجھ سے کچھ نہ پوچھے گا۔

    جب ولید نے آپ کو قتل کرنے کے لیے طلب کیا تو معلوم ہوا کہ آپ تو بھاگ گئے ہیں۔ ولید نے داروغہ کو نگرانی میں کوتاہی کرنے کے جرم میں قتل کر دیا۔

    1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 136
    2. مزي، تهذيب الکمال، 5 : 146

    18۔ خلافتِ مرتضوی اور اقلیتوں کے حقوق

    حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا دور بہت پر آشوب تھا۔ مگر اس کے باوجود آپ کے دور خلافت میں اقلیتوں کے حقوق کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دی گئی۔ ایک دفعہ آپ کے پاس ایک مقدمہ آیا جس میں قاتل مسلمان تھا اور مقتول غیر مسلم تھا۔ آپ نے قاتل کو مقتول کے وارثوں کے سپرد کر دینے کا حکم دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فتویٰ پر فیصلہ کیا۔ مگر مقتول کے وارثوں نے دیت لے کر قاتل کو چھوڑ دینا چاہا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے مقتول کے ورثاء کو بلا کر پوچھا کہ تمہارے اُوپر کوئی دباؤ تو نہیں ڈالا گیا، تو اُنہوں نے عرض کیا کہ نہیں ہم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ تب آپ نے وہ دیت دلا دی جو مسلمانوں کی دیت کے برابر تھی اور فرمایا :

    من کان له ذمتنا فدمه کدمنا و ديته کديتنا.

    ’’یعنی جو غیر مسلم ہماری ذمہ داری میں ہے اس کا خون ہمارے خون جیسا ہے اور اس کی دیت بھی ہماری یعنی مسلمانوں کی دیت کے برابر ہے۔‘‘

    1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 34
    2. شافعي، المسند، 1 : 344
    3. شيباني، الحجة، 4 : 355
    4. زيلعي، نصب الراية، 4 : 337
    5. شافعي، الام، 7 : 321
    6. عسقلاني، الدرايه في تخريج احاديث الهدايه، 2 : 263

    اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں قرآن و سنت کی عطا کی گئی تعلیمات اور دور نبوت و دور خلافت راشدہ میں اقلیتوں کے حقوق کے احترام و تحفظ کے ان روشن نظائر سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مسلم ریاست میں اقلیتوں کو وہ تحفظ اور حقوق حاصل ہیں جن کا تصور بھی کسی دوسرے معاشرے میں نہیں کیا جا سکتا۔ معروف مستشرق واٹ اس کا اعتراف یوں کرتا ہے :

    The Christian were probably better off as Dhimis under Muslim Arab rulers than they had been under the Byzantine Greek.(1)

    ’’(مسلمانوں کے دور اقتدار میں) عیسائی، عرب مسلم حکمرانوں کے اقتدار میں بطور ذمی اپنے آپ کو یونانی بازنطینی حکمرانوں کی رعیت میں رہنے سے زیادہ محفوظ اور بہتر سمجھتے تھے۔‘‘
    1۔ القرآن الحکیم

    2۔ بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ (194۔ 256ھ / 810۔ 870ء)۔ الادب المفرد۔ بیروت، لبنان : دار البشائر الاسلامیہ، 1409ھ / 1989ء۔

    3۔ بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ (194۔ 256ھ / 810۔ 870ء)۔ التاریخ الکبیر۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ۔

    4۔ بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ (194۔ 256ھ / 810۔ 870ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان + دمشق، شام : دار القلم، 1401ھ / 1981ء۔

    5۔ بزار، ابو بکر احمد بن عمرو بن عبد الخالق بصری (210۔ 292ھ / 825۔ 905ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان : 1409ھ۔

    6۔ بلاذری، احمد بن یحیی بلاذری۔ انساب الاشراف۔ مصر : دار المعارف۔

    7۔ بلاذری، احمد بن یحیی بلاذری۔ فتوح البلدان۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ۔

    8۔ بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ (384۔ 458ھ / 994۔ 1066ء)۔ دلائل النبوہ۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ، 1405ھ / 1985ء۔

    9۔ بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ (384۔ 458ھ / 994۔ 1066ء)۔ السنن الصغیر۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، 1412ھ / 1992ء۔

    10۔ بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ (384۔ 458ھ / 994۔ 1066ء)۔ السنن الکبریٰ۔ مکہ مکرمہ، سعودی عرب : مکتبہ دار الباز، 1414ھ / 1994ء۔

    11۔ بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ (384۔ 458ھ / 994۔ 1066ء)۔ شعب الایمان۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ، 1410ھ / 1990ء۔

    12۔ جصاص، ابو بکر احمد بن علی رازی حنفی (305۔ 370ھ)۔ احکام القرآن۔ بیروت، لبنان : دار اِحیاء التراث العربی، 1405ھ۔

    13۔ جصاص، ابو بکر احمد بن علی رازی حنفی (305۔ 370ھ)۔ احکام القرآن۔ لاہور، پاکستان : اسمٰعیل اکیڈمی، 1980ء۔

    14۔ ابن ابی حاتم رازی، ابو محمد عبد الرحمن (240۔ 327ھ / 854۔ 938ء)۔ الثقات۔

    15۔ ابن ابی حاتم رازی، ابو محمد عبد الرحمن (240۔ 327ھ / 854۔ 938ء)۔ الجرح والتعدیل۔ بیروت، لبنان : دار اِحیاء التراث العربی، 1371ھ / 1952ء۔

    16۔ ابن حزم، قرطبی۔ حجۃ الوداع۔ ریاض، سعودی عرب : بیت الافکار الادلۃ للنشر و التوزیع، 1998ء۔

    17۔ حصکفی۔ الدر المختار۔ بیروت، لبنان : دار الفکر، 1386ھ۔

    18۔ حلبی، علی بن برھان الدین (م1404ھ)۔ اِنسان العیون۔ بیروت، لبنان : دارالمعرفہ، 1400ھ۔

    19۔ حمید اللہ، ڈاکٹر محمد (1326۔ 1423ھ / 1908۔ 2001ء)۔ عہد نبوی میں نظام حکمرانی۔ کراچی، پاکستان : اردو اکیڈمی، 1987ء۔

    20۔ حمید اللہ، ڈاکٹر محمد (1326۔ 1423ھ / 1908۔ 2001ء)۔ الوثائق السیاسیہ۔ بیروت، لبنان : دار الارشاد، 1389ھ / 1969ء۔

    21۔ خلال، ابو بکر احمد بن محمد بن ہارون بن یزید (334۔ 311ھ)۔ السنۃ۔ ریاض، سعودی عرب : 1410ھ۔

    22۔ ابو داؤد، سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد ازدی سبحستانی (202۔ 275ھ / 817۔ 889ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان : دار الفکر، 1414ھ / 1994ء۔

    23۔ ابو داؤد، سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد ازدی سبحستانی (202۔ 275ھ / 817۔ 889ء)۔ کتاب المراسیل۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، 1408ھ۔

    24۔ دار قطنی، ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان (306۔ 385ھ / 918۔ 995ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ، 1386ھ / 1966ء۔

    25۔ ربیع، ابن حبیب بن عمر بصری ازدی۔ المسند۔ بیروت، لبنان، دارالحکمۃ، 1415ھ۔

    26۔ ابن رجب حنبلی، ابو الفرج عبد الرحمن بن احمد (736۔ 795ھ)۔ جامع العلوم و الحکم فی شرح خمسین حدیثا من جوامع الکلم۔ بیروت، لبنان : دارالمعرفہ، 1408ھ۔

    27۔ ابن رُشد، ابو ولید محمد بن احمد بن محمد قرطبی (م 595ھ)۔ بدایۃ المجتہد۔ قاہرہ، مصر : مکتبۃ الکلیات الازہریہ، 1974ء۔

    28۔ ابن رُشد، ابو ولید محمد بن احمد بن محمد قرطبی (م595ھ)۔ بدایۃ المجتہد۔ بیروت، لبنان : دار الفکر۔

    29۔ زرعی، ابو عبد اﷲ محمد ابو بکر بن قیم (691۔ 751ھ)۔ احکام اہل الذمہ۔ بیروت، لبنان : دار ابن حزم، 1418ھ / 1997ء۔

    30۔ زرعی، ابو عبد اﷲ محمد ابو بکر بن قیم (691۔ 751ھ)۔ حاشیہ ابن قیم۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ، 1415ھ / 1995ء۔

    31۔ زیلعی، ابو محمد عبداﷲ بن یوسف حنفی (م762ھ)۔ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ۔ مصر : دارالحدیث، 1357ھ۔

    32۔ سرخسی، شمس الدین ابو بکر محمد بن اسماعیل۔ المبسوط۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ للطباعہ و النشر، 1406ھ۔

    33۔ ابن سعد، ابو عبد اللہ محمد (168۔ 230ھ / 784۔ 845ء)۔ الطبقات الکبریٰ۔ بیروت، لبنان : دار بیروت للطباعہ و النشر، 1398ھ / 1978ء۔

    34۔ سعید بن منصور، ابو عثمان خراسانی (م227ھ)۔ السنن۔ انڈیا : دار سلفیہ، 1982ء۔

    35۔ سیواسی، محمد بن عبد الواحد (م 681ھ)۔ شرح فتح القدیر۔ بیروت، لبنان : دار الفکر۔

    36۔ سیوطی، جلال الدین ابو الفضل عبد الرحمن بن ابی بکر بن محمد بن ابی بکر بن عثمان (849۔ 911ھ / 1445۔ 1505ء)۔ الدر المنثور فی التفسیر بالماثور۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ۔

    37۔ شافعی، ابو عبد اللہ محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان قرشی (150۔ 204ھ / 767۔ 819ء)۔ اَلاُمّ۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ، 1393ھ۔

    38۔ شافعی، ابو عبد اللہ محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان قرشی (150۔ 204ھ / 767۔ 819ء)۔ السنن الماثورہ۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ، 1406ھ۔

    39۔ شافعی، ابو عبد اللہ محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع قرشی (150۔ 204ھ / 767۔ 819ء)۔ المسند۔ بیروت لبنان : دار الکتب العلمیہ

    40۔ شامی، محمد بن محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین دمشقی (1244۔ 1306ھ)۔ رد المحتار علی الدرالمختار۔ کوئٹہ، پاکستان : مکتبہ ماجدیہ : 1399ھ۔

    41۔ شوکانی، محمد بن علی بن محمد (1173۔ 1250ھ / 1760۔ 1834ء)۔ اِرشاد الفحول۔ بیروت، لبنان : دار الفکر، 1412ھ / 1992ء۔

    42۔ شوکانی، محمد بن علی بن محمد (1173۔ 1250ھ / 1760۔ 1834ء)۔ فتح القدیر۔ مصر : مطبع مصطفی البابی الحلبی و اولادہ، 1383ھ / 1964ء۔

    43۔ شوکانی، محمد بن علی بن محمد (1173۔ 1250ھ / 1760۔ 1834ء)۔ نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار۔ بیروت، لبنان : دار الفکر، 1402ھ / 1982ء۔

    44۔ شیبانی، ابوبکر احمد بن عمرو بن ضحاک بن مخلد (206۔ 287ھ / 822۔ 900ء)۔ الآحاد و المثانی۔ ریاض، سعودی عرب : دار الرایہ، 1411ھ / 1991ء۔

    45۔ شیبانی، ابوبکر احمد بن عمرو بن ضحاک بن مخلد (206۔ 287ھ / 822۔ 900ء)۔ الزہد۔ قاہرہ، مصر : دار الریان للتراث، 1408ھ۔

    46۔ شیبانی، ابو عبد اﷲ محمد بن حسن (123۔ 189ھ)۔ الحجہ۔ بیروت، لبنان : عالم الکتب، 1403ھ۔

    47۔ شیبانی، ابو عبد اﷲ محمد بن حسن (132۔ 189ھ)۔ الحجہ۔ لاہور، پاکستان : دار المعارف نعمانیہ۔

    48۔ شیبانی، ابو عبد اﷲ محمد بن حسن (132۔ 189ھ)۔ المبسوط۔ کراچی، پاکستان : ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ۔

    49۔ ابن ابی شیبہ، ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابراہیم بن عثمان کوفی (159۔ 235ھ / 776۔ 849ء)۔ المصنف۔ ریاض، سعودی عرب : مکتبۃ الرشد، 1409ھ۔

    50۔ ابن ضویان، ابراہیم بن محمد بن سالم (1275۔ 1353ھ)۔ منار السبیل۔ ریاض، سعودی عرب : مکتبۃ المعارف، 1405ھ۔

    51۔ طبرانی، سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر اللخمی(260۔ 360ھ / 873۔ 971ء)۔ مسند الشامیین۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، 1405ھ / 1984ء۔

    52۔ طبرانی، سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر اللخمی(260۔ 360ھ / 873۔ 971ء)۔ المعجم الاوسط۔ ریاض، سعودی عرب : مکتبۃ المعارف، 1405ھ / 1985ء۔

    53۔ طبرانی، سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر اللخمی(260۔ 360ھ / 873۔ 971ء)۔ المعجم الصغیر۔ بیروت، لبنان : دار الفکر، 1418ھ / 1997ء۔

    54۔ طبرانی، سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر اللخمی(260۔ 360ھ / 873۔ 971ء)۔ المعجم الکبیر۔ موصل، عراق : مطبعۃ الزہراء الحدیثہ۔

    55۔ طبرانی، سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر اللخمی(260۔ 360ھ / 873۔ 971ء)۔ المعجم الکبیر۔ قاہرہ، مصر : مکتبہ ابن تیمیہ۔

    56۔ طحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن سلمہ بن عبد الملک بن سلمہ (229۔ 321ھ / 853۔ 933ء)۔ شرح معانی الآثار۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، 1399ھ۔

    57۔ طحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن سلمہ بن عبد الملک بن سلمہ (229۔ 321ھ / 853۔ 933ء)۔ مشکل الآثار۔ بیروت، لبنان : دار صادر۔

    58۔ ابن عبد البر، ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد (368۔ 463ھ / 979۔ 1071ء)۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ بیروت، لبنان : دار الجیل، 1412ھ۔

    59۔ ابن عبد البر، ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد (368۔ 463ھ / 979۔ 1071ء)۔ التمہید۔ مغرب (مراکش) : وزات عموم الاوقاف و الشؤون الاسلامیہ، 1387ھ۔

    60۔ عبد الرزاق، ابو بکر بن ہمام بن نافع صنعانی (126۔ 211ھ / 744۔ 826ء)۔ المصنف۔ بیروت، لبنان : المکتب الاسلامی، 1403ھ۔

    61۔ عجلونی، ابو الفداء اسماعیل بن محمد بن عبد الہادی بن عبد الغنی جراحی (1087۔ 1162ھ / 1676۔ 1749ء)۔ کشف الخفا و مزیل الالباس۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، 1405ھ / 1985ء۔

    62۔ عسقلانی، احمد بن علی بن حجر بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (773۔ 852ھ / 1372۔ 1449ء)۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔ بیروت، لبنان : دار الجیل، 1412ھ / 1992ء۔

    63۔ عسقلانی، احمد بن علی بن حجر بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (773۔ 852ھ / 1372۔ 1449ء)۔ تغلیق التعلیق علی صحیح البخاری۔ بیروت، لبنان : المکتب الاسلامی + عمان + اُردن : دار عمار، 1405ھ۔

    64۔ عسقلانی، احمد بن علی بن حجر بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (773۔ 852ھ / 1372۔ 1449ء)۔ تلخیص الحبیر۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب : 1384ھ / 1964ء۔

    65۔ عسقلانی، احمد بن علی بن حجر بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (773۔ 852ھ / 1372۔ 1449ء)۔ تہذیب التہذیب۔ بیروت، لبنان : دار الفکر، 1404ھ / 1984ء۔

    66۔ عسقلانی، احمد بن علی بن حجر بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (773۔ 852ھ / 1372۔ 1449ء)۔ الدرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ۔

    67۔ عسقلانی، احمد بن علی بن حجر بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (773۔ 852ھ / 1372۔ 1449ء)۔ فتح الباری۔ لاہور، پاکستان : دار نشر الکتب الاسلامیہ، 1401ھ / 1981ء۔

    68۔ عسقلانی، احمد بن علی بن حجر بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (773۔ 852ھ / 1372۔ 1449ء)۔ ہدی الساری مقدمہ فتح الباری۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ، 1379ھ۔

    69۔ ابو عوانہ، یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم بن زید نیشاپوری (230۔ 316ھ / 845۔ 928ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ، 1998ء۔

    70۔ فاکہی، ابو عبد اللہ محمد بن اسحاق بن عباس مکی (م 272ھ / 885ء)۔ اخبار مکہ فی قدیم الدہر و حدیثہ۔ بیروت، لبنان : دار خضر، 1414ھ۔

    71۔ ابن قدامہ، ابو محمد عبداﷲ بن احمد مقدسی (م620ھ)۔ المغنی فی فقہ الامام احمد بن حنبل الشیبانی۔ بیروت، لبنان : دارالفکر، 1405ھ۔

    72۔ ابن قدامہ، ابو محمد عبداﷲ بن احمد مقدسی (م620ھ)۔ المقنع۔ المطبعۃ السلفیہ۔

    73۔ قرطبی، ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن محمد بن یحییٰ بن مفرج اُموی (284۔ 380ھ / 897۔ 990ء)۔ الجامع لاحکام القرآن۔ بیروت، لبنان : دار احیاء التراث العربی۔

    74۔ ابن قیم، ابو عبد اﷲ محمد ابو بکر زرعی (691۔ 751ھ)۔ زاد المعاد فی ہدی خیر العباد۔ کویت : مکتبۃ المنار الاسلامیہ، 1986ء۔

    75۔ کاسانی، علاؤ الدین ابو بکر (م 587ھ)۔ بدائع الصنائع۔ بیروت، لبنان : دار الکتاب العربی، 1982ء۔

    76۔ کاسانی، علاؤ الدین ابو بکر (م 587ھ)۔ بدائع الصنائع۔ کراچی، پاکستان : ایچ ایم سعید کمپنی۔

    77۔ ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر بن ضوء بن کثیر بن زرع بصروی (701۔ 774ھ / 1301۔ 1373ء)۔ البدایہ و النہایہ۔ بیروت، لبنان : دار الفکر، 1419ھ / 1998ء۔

    78۔ ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر بن ضوء بن کثیر بن زرع بصروی (701۔ 774ھ / 1301۔ 1373ء)۔ تفیسر القرآن العظیم۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ، 1400ھ / 1980ء۔

    79۔ مالک، ابن انس بن مالک رضی اللہ عنہ بن ابی عامر بن عمرو بن حارث اصبحی (93۔ 179ھ / 712۔ 795ء)۔ المدونۃ الکبریٰ۔ بیروت، لبنان : دار الفکر للطباعہ و النشر والتوزیع، 1980ء۔

    80۔ مالک، ابن انس بن مالک رضی اللہ عنہ بن ابی عامر بن عمرو بن حارث اصبحی (93۔ 179ھ / 712۔ 795ء)۔ الموطا۔ بیروت، لبنان : دار احیاء التراث العربی، 1406ھ / 1985ء۔

    81۔ ابن ماجہ، ابو عبد اﷲ محمد بن یزید قزوینی (209۔ 273ھ / 824۔ 887ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ، 1419ھ / 1998ء۔

    82۔ مبارک پوری، ابو العلاء محمد عبد الرحمن بن عبد الرحیم (1283۔ 1353ھ)۔ تحفۃ الاحوذی۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ۔

    83۔ مسلم، ابو الحسین ابن الحجاج بن مسلم بن ورد قشیری نیشاپوری (206۔ 261ھ / 821۔ 875ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان : دار احیاء التراث العربی۔

    84۔ مقدسی، ابو عبد اﷲ بن محمد بن مفلح (717۔ 762ھ)۔ الفروع۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ، 1418ھ۔

    85۔ مقدسی، محمد بن عبد الواحد بن احمد بن عبدالرحمن بن اسماعیل بن منصور سعدی حنبلی (م 569۔ 643ھ1173۔ 1245ء)۔ الاحادیث المختارہ۔ مکہ مکرمہ، سعودی عرب : مکتبۃ النہضۃ الحدیثہ، 1410ھ / 1990ء۔

    86۔ منذری، ابو محمد عبد العظیم بن عبد القوی بن عبد اللہ بن سلامہ بن سعد (581۔ 656ھ / 1185۔ 1258ء)۔ الترغیب و الترہیب۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، 1417ھ۔

    87۔ ابو نعیم، احمد بن عبد اﷲ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن مہران اصبہانی (336۔ 430ھ / 948۔ 1038ء)۔ حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء۔ بیروت، لبنان : دار الکتاب العربی، 1400ھ / 1980ء۔

    88۔ ابو نعیم، احمد بن عبد اﷲ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن مہران اصبہانی (336۔ 430ھ / 948۔ 1038ء)۔ مسند الامام ابی حنیفہ۔ ریاض، سعودی عرب : مکتبۃ الکوثر، 1415ھ۔

    89۔ نووی، ابو زکریا یحییٰ بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن محمد بن جمعہ بن حزام (631۔ 677ھ / 1233۔ 1278ء)۔ تہذیب الاسماء و اللغات۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ۔

    90۔ نووی، ابو عبد المعطی محمد بن عمر بن علی جاوی۔ نہایۃ الزین۔ بیروت، لبنان : دار الفکر۔

    91۔ ہندی، علاء الدین علی متقی حسام الدین (م 975ھ)۔ کنز العمال۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، 1399ھ / 1979ء۔

    92۔ ہیکل، محمد حسین، الفاروق عمر رضی اللہ عنہ۔ مصر : دار المعارف۔

    93۔ ابو یوسف، یعقوب بن ابراہیم (م 182ھ)۔ کتاب الخراج۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ۔

  39. اطہر الحق صاحب کی یہ بات ( جسے محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے بھی دہرای ہے ) غور طلب ہے کہ :

    “پاکستان مدینہ ثانی تھا ، جسکو بنانے والے اسے اسلام کی وہ مثالی ریاست بنانا چاہتے تھے جو خلفائے راشدین نے بنائی تھی ۔۔۔۔۔۔“

    ۔۔۔۔۔
    اظہر الحق
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:

    منظور قاضی
    جرمنی سے

  40. گذشتہ سے پیوستہ:

    اظہر الحق صاحب کی یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ :

    “عام پاکستانی آج بھی ایک ہی ہے ، اسکی لیڈر شپ اور اسکے مزھبی امام خراب ہیں ، ہم شعیہ ہوں سنی ہوں یا کسی مسلک کے ہوں ، ہم ایک دوسرے سے لنک ہیں ، میری نظر میں آج ہم صرف دو طبقوں میں تقسیم ہیں ایک ایک امیر ایک غریب بس ۔ ۔ ۔ اور یہ امارت اور غربت ہی تمام فساد کی جڑ ہے ،ورنہ آج سے پچیس تیس سال پہلے ایسا کچھ نہیں تھا ، پھر یہ طبقاتی تقسیم ہوئی خاصکر ضیاء دور کی ضیاء نے پاکستان کو اندھیر نگری کی طرف دھکیل دیا ، اسلام کے سپاہی نے ملک کو روشن خیالوں کے سپرد کر دیا ،“

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ سے دعا ہے کہ اظہر الحق صاحب کو جلد مکمل صحت عطا کردے تاکہ وہ اپنے بے باک خیالات کو اسی طرح عطا کرتے رہیں۔

    جزاک اللہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *