کیا اسلام آباد محفوظ دارلحکومت ہے

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مرکز میں ایک پارٹی کی حکومت ہو اور پنجاب میں مخالفین کی تو صوبائ حکومت پولس کی مدد سے اسلام آباد کا گھراؤ کرنے کیلئے اُسکی جانب لانگ مارچ شروع کردیتی ہے۔ پولیس کیونکہ صوبائ حکومت کی ماتحت ہوتی ہے اسلئے پولس لانگ مارچ کو بجائے روکنے کے لانگ مارچ کی مدد کرتی ہے۔ فوج یہ بات سمجھتے ہوئے کہ مرکزی حکومت اُس سے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے کہے گی جو فوج کے لئے مشکل ہوگا وہ خاموشی سے وزیرِ اعظم سے استعفےٰ دلوادیتی ہے۔ ظاہر ہے فوج عوام پر گولی نہیں چلانا چاہتی۔ 1993 میں منظور اور بے نظیر نے مرکزی حکومت کے خلاف یہ حربہ استعمال کیا اور اُسوقت کے فوجی سربراہ جنرل رفیق کاکڑ نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے مُستعفی کرودیا۔ چچوں کی بحالی کیلئے میاں نواز شریف نے لانگ مارچ کا حربہ پپلز پارٹی کے خلاف استعمال کیا۔ اب موجودہ حکومت کو گرانے کیلئے پھر نواز شریف لانگ مارچ کیلئے پر تول رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر فوج کو مداخلت کرنی پڑیگی۔ نواز شریف ہوں یا پپلز پاٹی دونوں ہی مگر مچھ ہیں جنکی غذا غریب اور متوسط طبقہ ہے۔ لیکن اس عذاب اور قہر کے سب سے زیادہ مستحق بھی عوام ھی ہیں کیونکہ یہی عوام بار بار ان دو مگر مچھوں کو منتخب کرتے رہے ہیں اور مستفبل میں بھی یہی نظر آرہا ہے۔

11 thoughts on “کیا اسلام آباد محفوظ دارلحکومت ہے”

  1. اسّلام علیکم ،

    میں خانہ نشین عورت ہوں سیاست کی الف ب بھی نہیں جانتی لیکن اتنا تو یاد ہے کوئ زمانہ تھا جب کراچی یونیورسٹی سے سیاست داں تیّار ہو کر نکل رہے تھے ،جاگیردار طبقے نے اپنی جدّی پشتی سیاست کی مسند کے لئے اس کو خطرہ سمجھ کر بالآخر سیاست کی اس پھلتی پھولتی نرسری کو اجاڑ کر ہی دم لیا اب آپ سیاست کے بنجر اور ویران کھیت کھلیان سے کیا امّید رکھتے ہیں کہ کوئ سیاست داں پیدا ہو گا ؟عوام کس کو منتخب کریں؟ ہئ کوئ ؟ نہین ،،،نہین ،، چند چہرے ہیں جو الٹ کے پلٹ کے تخت طا ؤس پر قابض ہیں

    اب لانگ مارچ ہو یا کچھ کم یا کچھ زیادہ بیچارے عوام کے پاس کوئ دوسرا آپشن تو ہے ہی نہیں ،ہونا یہ چاہئے کہ عوام اب ا ٹھ کھڑے ہوں کہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہی ہماری منزل ہے تب ہم کو ایک شفّاف سیاست کا میدان ہاتھ آئے گا ورنہ تو یہی سلسلہ دراز ہوتا رہے گا ،اللہ ہما ری قوم کے حال اور مستقبل پر اب خاص کرم کر دے آمین

  2. سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ

    ملک میں مسلم لیگ، نواز لیگ اور پپلز پارٹی کے علاوہ دوسری ایسی جماعتیں موجود ہیں جو پڑھے لکھے غریب اور متوسط طبقے پر مشتمل ہیں اور جنکے ووٹرز اُنکی کارکردی سے خوش ہیں۔ لیکن جاگیر دار وڈیروں اور بے ایمان سرمایہ داروں نے خود کو بچانے کیلئے اپنی دولت کے زور سے ایسی جماعتوں کے خلاف صحافیوں کے ذریعہ پروپیگنڈ ا کرواکر عوام کو ہر قسم کی عصبیت کے نام پر گمراہ کیا ہے۔ لیکن عوام اب جاگتے جارہے ہیں۔ وہ ان جاگیر دار وڈیروں اور بے ایمان سرمایہ داروں سے چھٹکارا ضرور حاصل کریں گے۔ خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔

  3. ًمحترم جناب ظفر جعفری صاحب نے فرمایا ہے کہ :
    “ 1993 میں منظور اور بے نظیر نے مرکزی حکومت کے خلاف یہ حربہ استعمال کیا “

    پتہ نہیں وہ کس منظور کی بات کررہے ہیں ؟

    شائد ظفر جعفری صاحب نواز شریف اور بے نظیر لکھنا چاہتے تھے مگر لکھ گئے منظور اور بے نظیر !!!
    ۔۔۔۔۔۔
    کیا وہ جنرل رفیق کاکڑ تھا یا جنزل وحید کاکڑ تھا جس نے نواز شریف کو وزارت عظمی سے مستعفی کروادیا ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    ویسے میں ظفر جعفری صاحب کی اس بات سے اتفاق کرتاہوں کہ :
    “ نواز شریف ہوں یا پپلز پاٹی دونوں ہی مگر مچھ ہیں جنکی غذا غریب اور متوسط طبقہ ہے۔ لیکن اس عذاب اور قہر کے سب سے زیادہ مستحق بھی عوام ھی ہیں کیونکہ یہی عوام بار بار ان دو مگر مچھوں کو منتخب کرتے رہے ہیں اور مستفبل میں بھی یہی نظر آرہا ہے۔“

  4. مکرمی ظفر جعفری صاحب.آپ نے اسلام آباد کے محفوظ ہونے کا استفسار کیا تو عرض کرؤں کہ ایک اسلام آباد کیا پورے کا پورا ملک غیر محفوظ ہے اور فصیلوں کے پرے جو خود کو بہت محفوظ سمجھتے ہیں وہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں.آپ کا کہان بجا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نواز شریف ہوں یا پپلز پاٹی دونوں ہی مگر مچھ ہیں جنکی غذا غریب اور متوسط طبقہ ہے،،،،،،مجھے صرف یہ کہنے کی اجازت دیجئے اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی بالاستثنا یہی خواراک ہے۔

  5. ہمدانی صاحب

    اسلام آباد کے غیر محفوظ ہونے کا مطلب ہی سارے ملک کا غیر محفوظ ہونا ہے۔

    قاضی صاحب

    1993میں منظور وٹو صاحب کی پنجاب اسمبلی میں صرف 12 سیٹ تھیں مگر پپلز پارٹی نے اُنہیں پنجاب کا وزیرِ اعلیٰٰ بن وادیا تھا۔
    جنرل کاکڑ رفیق تھے یا وحید یہ مجھے یاد نہیں ۔

  6. اسلام آباد کے غیر محفوظ ہونے کا مطلب ہی سارے ملک کا غیر محفوظ ہونا ہے۔ نواز شریف ہوں یا پپلز پاٹی دونوں ہی مگر مچھ ہیں جنکی غذا غریب اور متوسط طبقہ ہے خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ہے

  7. جناب ظفر جعفری صاحب سلامت رھیں۔

    کیا اسلام آباد محفوظ دارلحکومت ہے
    اگر اسلام آباد محفوظ دارالحکومت نیہن رھا تو پھر

    عراق افغانستان ، پاکستان اور اب
    مصر تیونس یمن لیبا، کے بعد

    اوماں بحرین کویت سعودیہ بھی
    محفوظ نیہن رھے ، یہود اور نصارہ یہی تو برسوں سے چاھتے تھے ، یہ سب انکی برسوں کی شب وروز محنت کا ثمر ھے اور ھم سے جو امید وہ رکتھے تھے ھم نے وھی کیا۔ آگۓ آگے دیکھیۓ ھوتا ھے کیا

  8. میری بیٹی جیتی رہو ،مجھے تمھارے ساتھ اپنی بہن کی میل مل گئ ہے میں اچانک فیمیلی کے کچھ اہم کاموں میں مصروف ہو گئ ،اور یہ میری زمّہ داری ہے کہ میں سب کو مطمئن رکھّوں اس لئے غیر حاضری کے بعد میں نے آج پہلے اخبار پر حاضری دی ہے ،پھر تم کو میل لکھ رہی ہوں ،عجیب و غریب مصروفیتیں آجاتی ہیں کہ سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے ،

    اب مدرسے کے لئے تیّار ہونے جا رہی ہوں تفصیلی میل انشاللہ آج واپسی پر لکھوں گی ،تم بے فکر ہو جاؤہمارا رشتہ اللہ پاک کی زات نے قائم کیا ہے اب یہ رشتہ اسی کی حفاظت میں ہے ، میری بہن کو میری دعائیں کہنا اور بتا دینا کہ انشاللہ اب ان فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں برابر سے ان کا ساتھ دوں گی ،

    فی امان اللہ
    تمھاری آنٹی جو تم سے بہت دور ہے لیکن تمھارے دل سے بہت قریب ہے

  9. جناب ظفر جعفری صاحب،
    اسلام اور مسلمان کا جو حشر اس دھرتی میں ہورہا ہے ، میں اکثر سوچتا ہوں کہ پاکستان کے دارلخلافے ، ، کا نام ’ اسلام ۔آباد ‘ ہی صحیح نہیں ہے ، کیونکہ یہ تو نہ اسلام نہ آباد ہے ۔

  10. میری میل میری اپنی غلطی سے ہی بلاگ پر پبلش ہو گئ ہے معزرت قبول کی جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *