عالمی اخبار کا روحانی شفا خانہ۔۔۔۔سیدہ زائرہ عابدی (تیسری قسط)

زائرہ باجی کا روحانی شفا خانہ دین و دنیا کے کئی مسائل کے لئے نایاب تحفے لے کر ایک بار پھر سر فہرست حاضر ہے۔ دیگر مضامین کے علاوہ یہاں خاص طور پر بچیوں کی شادی اور روز مرہ مشکلات کے حل کے لئے تسبیحات مذکور ہیں۔ یقیناَ اس مصائب بھرے عرصے میں جہاں بلیات نا گہانی زندگی کا دائرہ مختصر کر رہی ہیں، وہاں یہ ادعیہ اور وظائف ہی انسان کو پناہ بھی دلاتے ہیں اور تقرب الٰہی بھی۔ اس بے لوث خدمت پر ہم زائرہ باجی کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔

20 thoughts on “عالمی اخبار کا روحانی شفا خانہ۔۔۔۔سیدہ زائرہ عابدی (تیسری قسط)”

  1. March 9, 2011 بوقت 9:30 am ایڈٹ
    اب میں بیٹیو ں کی شادی کے لئے ایک قرانی و ظیفہ درج کر رہی ہوں

    بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ

    چاند کی چڑھتی ہوئ تاریخوں میں شب جمعرات یا شب جمعہ دو رکعات نماز برائے کامیاب شادی کی غرض سے پڑھی جائے ،نماز کے ختم پر ،جاءنماز پر ہی قران مجید سے دیکھ کر سورہ طہٰ پڑھ کر سجدے میں جا کر دعاء کریں ،اس کے بعد اگلے دن سے نماز عشاء کے فوری بعد سورہ طہٰ اوّل وآ خر گیارہ مرتبہ درود ابرا براہیمی کے ہمراہ پڑھنا ہے

    یہ عمل مائیں بھی کر سکتی ہیں اور بیٹیا ں خود بھی کر سکتی ہیں

    یہ عمل 90 دن چلے گا ، نا غے بعد میں پورے کر لیے جائیں ،اور ہر جمعرات کو حسب توفیق زکوٰا ۃ کسی سائل کو دے دیجئے ،

    دعاگو زائرہ بجّو

    سّیدہ زائرہ عا بدی نے کہا ہے:
    March 9, 2011 بوقت 3:25 pm ایڈٹ
    اگر سہوا ًکہیں پر درود لکھنے سے رہ جائے تو یہ نہیں سمجھئے کہ درود نہیں پڑھنا ہے ،درود تو پہلے اور آخر میں لازم ہے

    دعاگو زائرہ بجّو

    سّیدہ زائرہ عا بدی نے کہا ہے:
    March 10, 2011 بوقت 12:56 am ایڈٹ
    جو مائیں اپنی بیٹیوں کی شادی چاہتی ہیں وہ اپنی بیٹیو ں کے ہاتھ سے روزانہ کچھ نقد رقم( چاہے وہ چھوٹی سے چھوٹی رقم ہو)

    شادی کے صدقے کی نیّت سے ضرور نکال کر کسی سائل کو دیں ،،،،چاہےمہینے میں ایک بار ہی اکھٹی دیں یا روزانہ دیں ،،،اس

    صدقے سے شادی کی رکاوٹ دور ہو جاتی ہے ،اور جب شادی کی بات چیت چلے تو اس کی تشہیر نا کریں اس طرح تشہیر سے

    ہوتے ہوئے کام میں رکاوٹ آ جاتی ہے ،تمام معا ملات طے ہو جائیں تب تو ٹھیک ہے ،لیکن اپنے مہربان د وستو ں سے مشورہ ضرور کر لیں

    دعا گو بجّو

    سّیدہ زائرہ عا بدی نے کہا ہے:
    March 10, 2011 بوقت 7:56 am ایڈٹ
    ویسے بھی مو لائے کائنات حضرت علی علیہ السّلام کا ارشاد ہے کہ نعمتوں کو دوستوں اور دشمنوں سے چھپاؤ ،بیٹوں کی مائیں بھی بعض اوقات ان کی شادی کے سلسلے سے تگ ودو کرتی نظر آتی ہیں چنانچہ صدقہ بیٹو ں کی شادی کا بھی دیا جائے ،

    سّیدہ زائرہ عا بدی نے کہا ہے:
    March 10, 2011 بوقت 9:10 pm ایڈٹ
    بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ

    آئتہ الکرسی 41 مرتبہ بعد نماز عشاء پڑھ کر ( اوّل و آخر 11 مرتبہ ) درود ابراہیمی پڑھ کر دسجدے میں جا کر دعاء کرنے سے تمام بڑے اور چھوٹے مسائل بتد ریج حل ہو نے لگتے ہیں

    اور دن بھریا حئ یا قیّوم کا وردکرنے سے گھر میں بڑے بڑے کام تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں یعنی رات کو آ ئتہ الکرسی پڑنی ہے اور دن میں یا یا حئ یا قیّوم کا ورد

    طریقہ کار وہی ہے چاند کی چڑھتی تاری خو ں میں جمعرات یا جمعہ سے ابتدا ء کی جائے اور زکوٰ ۃ کو فراموش نا کیا جائے

    دعا ئے خیر کے ساتھ آ پ کی بجّو

    یقین کو مستحکم رکھّا جائے کہ اللہ تعالٰی ہمارے تمام مسائل کو اپنے محترم وسیلوں کے طفیل ضرو ر ،ضرور سنے گا

    یہ عمل بیٹے ، بیٹیوں کی شادی میں در پیش تمام مالی مسائل کو بھی حل کر دیتا ہے

    ثمرین بخاری نے کہا ہے:
    March 11, 2011 بوقت 1:15 pm ایڈٹ
    اسلام و علیکم

    بہت ہی قابل احترام اور پیاری آنٹی

    آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اتنی محبت سے مُجھے جواب دیا . اور اتنی ساری اچھی اچھی باتیں بتائیں میں شرمندہ ہوں کہ اتنے دنوں کے بعد جواب دے پا رہی ہوں میری اس غلطی کو مُعاف کیجئے گا . آپ جس محبت سے یہاں پر اپنا اتنا قیمتی وقت دیتی ہیں اور ہم سب پڑھنے والوں کے لئے خدا کے کلام کو اس صورت میں بیان کرتیں ہیں کہ یقین خود با خود مستحکم ہو جاتا ہے ، آپ کا بہت شکریہ خدا پاک آپ کی نیت توفیقات میں اضافہ فرمائے اور ہم چھوٹوں کو آپ سب بڑون کا فرمابردار بننے کی توفیق عطا کرے الہی آمین .

    آپ کی اس محبت کا اجرِ عظیم خدائے کریم کی ہی ذات دے سکتی ہے وہ آپ کی ہر دلی تمنا اپوری کرے اور آپ کو آپکے تمام اہل ِ خانہ کو جزائے کثیر عطا کرے الہی آمین

    آپ سب کی دُعا کی محتاج
    ثمرین بخاری

    سّیدہ زائرہ عا بدی نے کہا ہے:
    March 12, 2011 بوقت 2:35 am ایڈٹ
    پیاری بیٹی ثمرین

    جگ جگ جیو،شاد و آباد رہو، آمین

    میری بیٹی میں جو کچھ بھی تحریر کرتی ہوں اس میں میری مرضی کا کوئ دخل نہیں ہوتا ہے ،یہ سب کام اللہ تعا لٰی کے ہوتے ہیں

    نا ہی مجھے کسی کے جواب کا انتظار رہتا ہے ،اگر میں اپنے کسی بھی عمل کے بارے میں ستائش کی تمنّا یا کوئ اور ہی مطلب رکھّوں گی تو یہ میرے اللہ کے نزدیک میری توقّعا ت میں شمار ہو گا اور اللہ کو میرا یہ عمل نا پسند بھی ہو سکتا ہے

    اس لئے بلکل آ رام سے جوابدو جب بھی بن پڑے ،کیو نکہ تم طالب علم ہو اس لئے تمھارا وقت مجھ سے کہیں زیادہ قیمتی ہے اور نہیںبھی دے سکو تو فکر مند نہیں ہو

    میں جو کچھ تحریر کرتی ہوں برائے خوشنودئ ء پروردگار ،اور حبیب خدا حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم ، چہاردہ معصومین علیہم اسّلام ،،اللہ تعا لٰکی مخلوق کی بھلائ کے لئے صدق دل سے لکھتی ہوں اور اگر اللہ تعا لٰی میرے اس عمل کو اچھّا سمجھتا ہے تو اس کو بطور ثواب میرے والدین مرحومین اور میرے مرحوم شوہر کی خدمت میں اس کی جزاء کی شکل میں ان کو عطا کردے

    میںوہ خوش نصیب ماں ہوں جس کو اللہ نے دعائیں دینے کو تم جیسی پیاری ببیٹیا ں عطا کی ہیں

    پرور دگار عالم تم کو بھی ا پنے گھر والو ں کے ہمراہ بہت سی خوشیاں عطا کرے آمین

    تمھاری آنٹی

    سّیدہ زائرہ عا بدی نے کہا ہے:
    March 12, 2011 بوقت 2:47 am ایڈٹ
    بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ

    میری یہ تحریر اوپر تیسرے کالم کے ساتھ تاریخ 10 مارچ جوڑ لی جائے ،شکریہ ،

    آ ئتہ الکرسی کا عمل بھی90 دن کا ہوتا ہے یہ گھمبیر مسائل کو حل کرنے کے لئے لاجواب عمل ہے اور کو شش کی جائے کہ یا حئ یا قیّو م کی 10 تسبیحات روزانہ ہو جائیں کیونکہ جب ہم کسی بھی اسم کی مطلوبہ تعداد کا ورد کرتے ہیں تب اللہ پاک ان اسما ء کے موکلین کو ہمارا مددگار بنا کر کھڑا کر دیتا ہے اور ہمارے مسائل حل ہونے لگتے ہیں ،مثا ل کے طور پر اگر کوئ نوجوان باہر جانے کا خوہشمند ہے تو وہ بھی یہ عمل کر سکتا ہے ،لیکن اس کے لئے پہلے استخارہ دیکھا جائے کہ باہر جانا کیسا رہے گا جب جواب مثبت میں ہو تب عمل کیا جائے

    اگر کوئ اپنے حالات کی بہتری چاہتا ہے تو وہ بغیر استخارے کے یہ عمل کر سکتا ہے

    پروردگار عالم سب کا حامئ و ناصر ہو

    زائرہ بجّو

    جواب لکھیں

  2. مصباح بھائ دلی دعائیں قبول کیجئے ،اور ساتھ ہی آپ سب ساتھیوں کی دعائیں بھی مجھ کو چاہئے کہ اللہ تعا لٰی ہمار ے اس کام میں برکت عطا کرےاور اس کو اپنی مخلوق کی بھلائ کا بہترین زریعہ قرار دے آمین

    آ پ کا بھی شکریہ اور صفدر بھیّا کا اپنی مسیحا بیٹی نگہت نسیم کا جنہو ں نے اپنی کھیتی میں ہمارا بھی حصّہ رکھّا ،خدا وند کریم آپ سب کو اس درخت کے میو ے سے فیضیاب ہونا نصیب کرے آمین

    فی امان اللہ

    نیازمند زائرہ بجّو

  3. اسلام علیکم محترمہ بجو
    اللہ آپ کو صحت اور تندرستی کے ساتھ ذندگی عطا کرے ۔اور ہم سب آپ کے علم سے فائدہ اُٹھاتے رہیں آمین
    دعاؤں کی طالب
    عالم آرا

  4. وعلیکم والسّلام بہن عا لم آرا ،

    آ پ کی یاد ہی آرہی تھی کہ خیر سے آپ بلاگ پر تشریف لے آئیں ،اللہ پاک آ پ کو مع اہل خانہ شادو آ باد رکھّے آمین ،

    اور یہ آ پ کی محبّت ہے کہ آ پ مجھ کو تعلیم یافتہ سمجھیں ورنہ میں تو ابھی ابھی کچّی پہلی کی کتابیں اپنے علم کے بہت ہی

    چھوٹے سے بستے میں رکھ کر مکتب آ ل محمّد کے در پر کھڑی ہوں اذ ن ملے گا تو داخلہ بھی ملے گا

    آ پ سب ساتھیوں کی حوصلہ افزائ کا بہت بہت شکریہ

    اللہ نگہبان

    آ پ کی زائرہ بجّو

  5. بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ

    اسّلام علیکم میرے معزّز ہم نشینوں، بیٹوں بیٹیوں ،

    میں اس بلاگ میں ا پنے نزدیک ایک اہم مو ضو ع پر بات کرنا چاہتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ آج کا دور جہاں اور برائیوں سے بھرا ہوا ہے وہاں شادی جیسا مقدّس تریں فریضہ بھی بد دیانتی کا شکار ہو چلا ہے

    اس کی مثال یہ ہے کہ آ ج کے دور میں میں نے بزات خود ایسے گھرانے دیکھے جن میں نو جوان لڑکوں کو مختلف بہانوں سے گھیر کرگھر بلایا گیا اور دعوتیں کی گئیں ان کی خاطریں بھی ہوئیں اور ساتھ میں اپنی بیٹیا ں بہت خلوص کے ساتھ مہمانداری کے لئےپیش کی گئیں ،جب وہ معصو م نوجوان پوری طرح پھندے میں آگیا ،(لیکن اس کے ساتھ ہی کوئ دوسرا اس نوجوان سے بہتر رشتہ مل گیا )تو اس معصوم نوجوان کو دھتکار دیا گیا ،

    گو کہ ایسے گھرانوں کا انجام بھی اللہ تعا لٰی بہت بہت معاف کرے اچھّا نہیں ہو ا بلکہ عبرت انگیز ہوا( بے شک انہوں نے وقتی فائدہ اٹھایا ) لیکن وہ وقت جو اس نوجوان پر جزباتی اذیّت کا گزرا وہ ناقابل بیان تھا لڑکی زات پر سے اس کا اعتماد اٹھ گیا اور وہ شادی کے نام سے ہی بیزار نظر آتا تھا ،،اس مکروہ عمل میں لڑکیوں کی ماؤں کو میں نے پوری طرح شریک کار دیکھا ،لڑکی نے کہا امّی ان کے گھر سے تو مٹھائ آ چکی ہے تو ماں نے کہا پاگل ہو رہی کیا ؟ آئ باراتیں لوٹ جاتی ہیں منگنی کی اہمیت کیا ہے

    اس لئے میں اپنے بیٹوں سے خاص گزارش کروں گی کہ اس طرح کسی کے بچھائے ہوئے کانٹوں بھرے جال میں نہیں آئیں یہ ان کے اور ان کے گھر والوں دونو ں کے حق میں بہتر ہو گا ،،جاری ہے

  6. میری یہ بھی گزارش ہے کہ وہ گھر بساتے ہوئے آ ج کل کی وباء کا شکار ناہوں جس میں لڑکی کے انتخاب میں بے شمار ناروا باتوں کا شرائط نامہ ہوتا ہے ،وہ اللہ سے لو لگاتے ہوئے اچھّی اور نیک شریک حیات کی تمنّا کریں گے تو ان کو سب کچھ ملے گا ،انشاللہ

    ہمارے پیارے نبئ اکرم حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کا فرمان مبارک ہے کہ جس نے سیرت چاہی اس کو سب کچھ ملا ،جس نے صورت چاہی اس کو کچھ بھی نہیں ملا ،اس لئے آج کل کی وبا ء یعنی ظاہری حسن کا شاہکارڈ ھو نڈ نے کے بجائے اچھّی سیرت دیکھئے تعلیم کو فوقیت دیجئے شعوری علم سے بہرہ مند شریک حیات کی تمنّا کیجئے اللہ آ پ کا حامئ و ناصر ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ

    میرے جو بیٹے سمجھتے ہیں کہ اب وہ اپنی شادی شدہ زندگی کی زمّہ داری اٹھانے کے قابل ہو گئے ہیں اور پھر بھی ان کی شادی کے اسباب پیدا نہیں ہو رہے ہیں انہیں چاہئے کہ پارہ 19 کے سورہ فرقان کی آئت 74،،75،،76،،کسی جمعے یا جمعرات کو آیات مذکورہ عرق گلاب اور زردے کے رنگ کی روشنائ سے یا زعفران کی روشنائ سے لکھ کر بطور تعویذ پہن لیں تعویذ کی زکوٰۃ بھی نکالنا نا بھولیں اور کسی سائل کو حسب توفیق اپنی کامیاب شادی کی نیت سے صدقہ دیا کریں تو ان کی شادی کی جلد سبیل پیدا ہوگی انشاللہ
    لیکن امامیہ جنتری سے وہ یہ دیکھنے کی ذحمت ضرور کر لیں کہ ان کی شادی کے لئے کون سا وقت بہتر بتایا جارہا ہے جنتری خالصتا آئمّہ طاہرین کے علوم پر مبنی ہوتی ہے

    دعاگو

  7. اسلام علیکم بجو اللہ آپ کو خوش و خرم رکھے آمین
    یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے اخلاقی کمزوریوں کی آخری سیڑھی بھی پھلانگ لی ہے ۔جو بات آپ نے لڑکوں کے پھنسانے سے متعلق لکھی یہ حرف بہ حرف ٹھیک ہے ۔ ہم نے یہ سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے کہ بد دیانتی پر رکھی گئی بنیاد کبھی بار آور نہیں ہوتی ۔میں بھی یہاں لڑکی والوں سے زیادہ لڑکے والوں کو پریشان دیکھ رہی ہوں ۔
    دوسری ایک اخلاقی کمزوری یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ بچیوں کو فلیٹ دے دیا جاتا ہے اور ہنی مون سے واپسی پر ہی وہ بہو اپنے فلیٹ میں شفٹ ہوجاتی ہے اور ماں با پ بھائی بہن ایک جھٹکے میں ٹوٹ جاتے ہیں ۔ماں تڑپتی رہ جاتی ہے کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ فلیٹ دے رہے ہیں ۔یہ اور ایسی کئی اخلاقی کمزوریاں
    اس مقدس رشتے کو کمزور کر رہی ہیں ،جن پر توجہ دینی چاہئے ۔
    اللہ ہمارے بچوں کا مقدر اچھا کرے اور انہیں ایسی ازیتوں سے بھی بچاتا رکھے آمین ۔
    عالم آرا

  8. وعلیکم واسّلام ،بہن عالم آرا ،آپ کے بلاگ پر آنے سے دلی خوشی ہوئ ، زند گی تو پل پل کہانیا ں رقم کرتی ہے ان کہانیو ں کا پلاٹ اور پھر انجام اچھّا ہو تو دل کو راحت ملتی ہے اور اگر کسی بھی وجہ سے المناک ہو تو انسانی مزاج کے تحت رنج وملا ل ضرور ہوتا ہے

    آ ج کے انسان کے پاس آ سائشوں کی بھر مار ہے ،مگر وہ پھر بھی غیر مطمئن ہے ،بلا تخصیص لڑکی اور لڑکے کے لالچ بری بلا ہے معلوم ہوتے ہوئے بھی مال دنیا کی لالچ نے آ نکھوں پر ایسی پٹّی باندھی ہے کہ سوا ئے پیسے کے باقی کچھ نظر نہیں آ رہا ہے

    لڑکی کو اپنی رہائش دیکر اسے والدین سے بلاسبب جدا کرنا بھی لالچ کے زمرے میں ہی آئے گا کیونکہ آنے والی بہو اگر کوئ تقاضہ نہیں بھی کرتی ہے تو اس کی ڈور میکے سے ہلا کر اس سے کہا جاتا ہے کہ تم اس طرح سے کرو،

    بہر حال اللہ تعا لٰی سے ہی لو لگا کر بہو یں اور داماد دونوں کی جانب سے بھلائ ملنے کی توقّع رکھ سکتے ہیں ،

    ایک گزارش ہے کہ اگر ممکن ہوتو بلاگ پر آتی رہئے گا ،مجھے سپورٹ ملتی ہے بلاگی ساتھیوں کے حصّہ لینے سے شکرئیے کے ساتھ

    اللہ حافظ

    دعاگو زائرہ بجّو

  9. پیاری اور قابل احترام آنٹی

    اسلام و علیکم

    ماشا اللہ سے بہت اچھا لگا کہ پھر سے یہ بلاگ نئے سرے سے شروع ہو گیا . آپ جس محبت سے اتنی محنت سے سب کی بھلائی کے لئے اتنی تحقیق کے بعد
    اتنے قیمتی وظیفے بیان کرتی ہیں اور لوگوں کا بھلا کرتی ہیں خدا اس کے بدلے جزائے کثیر عطا کرے الہی آمین .. ابھی میں نے بلاگ پر لکھا مگر شاید نیٹ میں کویہ سمئلہ آ گیا تو شاید ابھی جو تبصرہ کیا وہ شالم نہیں ہوا پھر سے یہ لکھ رہی ہوں .

    خدا ہر دل کو سب کا درد عطا نہیں کرتا اور جن کو کرتا ہے وہ خود اس کا گھر ہوا کرتے ہیں اور ماشا اللہ سے آپکا دل اُن دلوں میں سے ایک ہے جس میں سارے جہاں کا دُکھ سمایا ہوا ہے .

    خدا آپکا مہربان شایہ ہم پر ہمیشہ بنائے رکھے الہی آمین

    طالب دُعا آپکی بیٹی

    ثمرین بخاری

  10. جیتی رہو میری پیاری سی،، بہت ہی لائق بیٹی
    یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ شفا ء خا نہ پھر سے کھل گیا لیکن بس مجھ سے کچھ نالائقی سرزد ہو گئ کہ میں شفاء خانہ چھوڑ کر کچھ دیر کے لئے سیاست کی دلدل میں اتر گئ ،چلو یہ اچھّا ہوا کہ جلدی نکلنا ہو گیا ،ورنہ عالمی اخبار کی انتظامیہ خفا ہو کر شفاء خانے کا قبضہ مجھ سے خالی بھی کرا سکتی تھی
    میں آج کل ان پیچ سیکھ رہی ہوں ،تم بھی ہو سکے تو سافٹوئر خرید کر ڈا ؤن لوڈ کر لو ،کافی سہولت ہو جائے گی ،عالمی اخبار کا کام اسی طرح کرتی رہنا،اس جگہ لکھنے کے لئے دماغ کو پوری طرح حاضر رکھنا ہوتا ہے ورنہ زرا سی غلطی ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہے ،میں پہلے کافی غلطیاں کر جاتی تھی اب مسلسل کام کرنے سے غلطیا ں کم ہو رہی ہیں الحمد للہ

    انشاللہ اگلے بلاگ تک لئے اجازت

    اللہ نگہبان

  11. بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ
    اب میں اپنے بیٹوں سے یہ بات کہوں گی کہ شادی ہو جانے کے بعد بیٹو ں کی زمۃ داری پہلے سے کئ گنا بڑھ جا تی ہے اب ایک طرف بیوی اور دوسری طرف ماں جیسا حسّاس رشتہ ہوتا ہے اس لئے آپ کو تدبّر سے کام لے کر ماں کو بھی مطمئن رکھنا ہو گا اور آنے والی ہستی کو بھی خوش رکھنا ہو گا ،،
    اب بیوی تو آ پ اپنی زندگی کی پھلواری سجانے اور سکھ چین حاصل کرنے کے لئے لائے ہیں اور گھر کی بے سکونی سے آ پکی یہ پھلوا ری خزاں رسید بھی ہو سکتی ہے اس لئے بہت سمجھداری سے اپنی پھلواری کو گھریلو جھگڑوں کے کچرے سے نہیں بھرنے دینا ہے ،
    بعض گھرانوں میں شادی ہوتے ہی بہوؤں پر حد سے بڑھ کر کا م کا دباؤ ڈال دیا جاتا ہے ،اور لڑکے بھی ماؤں کے کے ہی ساتھ اس کار خیر میں شامل ہو جاتے ہیں اس لئے کسی بھی بے رحمانہ سلوک سے لڑکیوں کو بد ظن بھی نہیں کیا جانا چاہئے
    یہ میری اپنی آنکھوں دیکھی بات ہے کہ بہو کے آنے پر گھر سے جھاڑو پونچھا کرنے والی ماسی ہٹا دی گئ اور یہ کام گھر کے تمام کاموں کے ساتھ بہو کو ہی کرنا تھا ،بس ایک روز فرش کا پونچھا لگاتے ہوئے لڑکی نے درد کی شکائت کی اور چند گھنٹے کے اندر اس لڑکی کا پانچ ماہ کے حمل کا پہلا بچّہ ضائع ہو گیا ،یاد رہے کہ اس لڑکی کا شو ہر جب وہ پونچھا لگارہی ہوتی تھی تو فرش کو رگڑ رگڑ کر صاف کرواتا تھا ،اس کی ڈیوٹی رات کی ہوتی تھی دن میں وہ گھر پر ہوتا تھا
    ایک لڑکی ہاسپٹل میں لائ گئ اس کا دوسرا بچّہ تھا اور ساس کا حکم تھا کہ دھلے کپڑے چھت پر سکھاؤ چنا نچہ اس لڑکی نے اپنی دوسری اولاد کا نقصان کپڑوں سے بھری بالٹی اٹھانے کے سبب اٹھایا ،ڈاکٹر نے میرے سا منے کہا کہ وزن کی وجہ سے سب کچھ ہوا ہے
    ایک لڑکی کی سسرال میں جنون کی حد تک صفائ کا شوق تھا جس میں چھت کے پنکھے بھی بہو کو صاف کرنا ہوتے تھے
    اس گھر میں تو اس قدر ظالمانہ گھریلو نظام تھا کہ کئ نقصان اٹھا کے بھی ہوش نہیں تھا اور لڑکا اس ظلم میں برابر شریک تھا کیونکہ لڑکی کا کوئ بھی پوچھنے والا نہیں تھا
    میں نے یہ باتیں اس لئے لکھی ہیں کہ بہت سے شادی کرنے والے لڑکے ان باتوں سے لا علم ہوتے ہیں ان کو ان نزاکتوں کے لئے کوئ بھی سمجھانے والا نہیں ہوتا ہے ،
    میری لکھی ہوئ باتوں سے اگر کہیں کسی کا کوئ زرا سا بھی بھلا ہو جائے تو میں سمجھوں گی کہ اللہ نے میری خدمت کو قبول کرلیا
    اللہ نگہبان

  12. بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ
    اس تحریر کو شفاء خانے کی دوسری قسط سے جوڑ کر پڑھا جائے ،شکریہ اور زحمت کی معافی چاہتی ہوں ،طبّی شعبہ نظر انداز ہو رہا تھا اس لئے یہ قدم اٹھا یا ہے ،
    تو ہم اس مقام پر آئے تھے کہ عقلی فیصلہ اور جزباتی فیصلہ کیا ہوتا ہئے ان کے درمیان ٹکراؤ کیوں ہوتا ہے کس کی جیت ہوتی اور کس کی ہار ہوتی ہے
    ایک مثال،میں نے دیکھا غور کیا اور اس نتیجے پر آئ کہ
    لڑکے جب نو جوانی کی حدود میں ہوتے ہیں وہ زندگی کے ہر معاملے میں بہت مخلص ہوتے ہیں ،ان کو دھوکہ دینا بہت آسان ہوتا ہے ،،،ایک لڑکی نے باہر کے ایک نوجوان کو جب پوری طرح اپنے چنگل میں لے لیا اور جی بھر کر اس کا پیسہ بھی بٹور لیا تب ایک ایسے لڑکے کی اس سے ملاقات ہوئ جس جو اس سے واقف نہیں تھا وہ لڑکا پہلے والے لڑکے سے زیادہ امیر تھا ،لڑکی کی ماں اور لڑکی نے پلان بنایا اور دوسرے لڑکے کو بھی اپنے داؤ میں لے لیا ،پہلے والے کو بھی جیب میں دلاسے دے کر رکھّا ،چھوڑا نہیں
    پہلے والا شادی کے لئے آگیا تو اس سے کہا ابھی ٹھرو ،لیکن پہلے والے کو سارا کچھ معاملہ معلوم ہو گیا اب ایک جانب اس نے لڑکی کو سات سلام کئے تو دوسرے کو نا جانےکیا ہوا کہ وہ بھی رفو چکّر ہو گیا اور اس لڑکی کی شادی ایک بوڑھے شخص کے ساتھ ہوئ

  13. یہا ں دونوں لڑ کوں نے عقل کے مطابق فیصلے کئے اور دھو کہ دہی میں نہیں آئے میرے دل پر اس واقعے کا اتنا اثر ہوا تھا کہ میں کئ دن تک گم سم سی رہی تھی کہ دنیا کیسے کیسے دھوکے بازوں سے بھری ہوئ ہے کسی کے ارمانوں کا خون کرنا کتنا آسان سمجھا جاتا ہے صرف پیسے کی لالچ انسان کو کس طرح اسفل السّافلین تک پہنچاتی ہے اور انسان شیطان کا ہمراہی کتنی خوشی سے بن جاتاہے
    اللہ پاک ایسے لوگوں سے ہمیشہ ہر ایماندار نوجوان کو بچائے آمین

  14. میں بہت بہت معزرت کے ساتھ اپنے معاشرے کی ان لا لچی ما ؤں کی بات کرنا چاہوں گی ،یہ ہمارے معاشرے کہ عمومی بات ہے کہ ادھر ان کو بہو لانے کی آرزو ہوئ ادھر انہوں نے لڑکیو ں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے گھر کے درودیوار سے اس کی مالی حالت کابھی اندازہ لگانا شروع کیا،کوئ نازنین اب انکی نظر میں جچ ہی نہیں رہی ہے ،کیونکہ ان کی جہا ں دیدہ نگاہیں صرف لڑکی نہیں ڈھونڈ رہی ہیں بلکہ لڑکی کے ساتھ مال وزر کے خزانے بھی ڈھونڈ رہی ہیں ،
    اس صورتحال نے ہمارے معاشرے کی اکثر لڑکیوں کو کافی بیزار بھی کیا ،،لیکن بھلا ہو لالچ کا کہ وہ دامن چھوڑے تو پھر کچھ مناسب نظر آئے ،اس لالچ کے میں نے دو نتائج بہت واضح دیکھے لڑکوں نے دیکھا کہ مائیں ان کی شریک حیات کے انتخاب میں پریشان ہو رہی ہیں تو انہوں نے اپنے طور پر خاموشی سے اپنی شادی رچا لی
    دوسرا نتیجہ یہ دیکھا کہ لڑکی مال و زر والی مل گئ ،،لیکن بہت جلد وہ لالچی ماں کے لاڈلے بیٹے کو ساتھ لے کر الگ ہو گئ ،
    اب ماں ہاتھ مل رہی ہے کہ میں نے تو دیکھ بھال کر اتنے ارمان سے شادی رچائ تھی پھر بھی بہو کیسی بری نکلی ،
    جاری ہے

  15. اب گھر آباد کرنے کے لئے لڑکوں کی زہنی سطح کا یہ حال ہو گیا ہے کہ ان کو تو بیوی کے روپ میں مادھوری چاہئے ،اور ماؤں کا یہ حال ہے کہ ان کو لڑکی کے گھر سے ٹرک بھر کر جہیز چاہئے ،میرے سامنے کی ہی بات ہے اسی لالچ کے سبب عین اگلے دن ہونے والی ایک لڑکے کی شادی سے لڑکی کے گھر والوں نے اس لئے انکار کر دیا کہ لڑکے کے گھر سے جہیز کےمطالبات کی لسٹ آگئ تھی ،حالانکہ لڑکی والے اتنے صاحب حیثیت تھے کہ وہ انکا مطلوبہ جہیز دے سکتے تھے لیکن انہوں نے کہا کہ جب ابھی ہماری بیٹی ان کے گھر گئ نہیں ہے تو یہ حال ہے چلی جائے گی تو کیا ہو گا اس لئے ہم ایسے لالچی لوگو ں سے رشتہ نہیں کریں گے ،،
    جب لڑکے کے علم میں یہ بات آئ کہ اس کی ماں نے یہ قدم اس کے علم میں لائے بغیر اٹھایا ہے تو وہ لڑکی کے گھر پہنچ گیا اور اس نے ان لوگوں سے معزرت بھی کی،، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس کو لڑکی کے علاوہ کچھ نہیں درکار ہے تب جا کر وہ شادی انجام پائ ،

    اس لئے میں اپنے معاشرے کی ایسی خواتین سے جن کو مال وزر کی لالچ ہےگزارش کرونگی کہ وہ اپنے نور نظر کے سر پر سہرا دیکھنے کی خواہشمند ہیں تو صرف شرافت اور حسب نسب کو معیار بنا کر اپنے ہم پلّہ لوگوں سے لڑکی کا انتخاب کریں اس طرح انکا بیٹا بھی خوش رہے گا اور وہ بھی اللہ کی رضا حاصل کر سکیں گی ،اور ساتھ ہی لڑکی کے گھر والوں کی دعائیں لیں گی

  16. نیٹ کہانیاں ،
    میری بیٹیوں دھو کے سے ہوشیار،

    جیسا کہ میں نے کہا کہ جب لڑکے گھر بسانے کا ارادہ کرتے ہیں تو ایماندار ہوتے ہیں ،بلکل اسی طرح لڑکیاں بھی گھر بسانے کے معاملے میں ایماندار ہوتی ہیں لیکن آ ج کے جدید دور نے اس نوجوان نسل کو گمراہی کی ان راہوں پر لگا دیا ہے کہ والدین کی زمّہ داری دوگنا ہو گئ ہے کہ وہ اپنی جوان اولاد کو اپنے سے اس قدر قریب کر کے رکھیّں کہ دنیا والے ان معصو موں کو آسانی سے اپنا شکار نا بنا لیں
    جب بیٹی کے ہاتھ میں دن میں موبائل ہے رات کو نیٹ کی سہولت ہے ،اور ماں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی ہیں تو پھر ،،آگے کیا ہوتا ،،مو بائل اور نیٹ سے پروان چڑھنے والے عشق نے زور کیا تو گھر سے شادی کی اجازت نہیں ملی،تب بنائے ہوئے پلان کے مطابق
    لڑکی نے گھر سے ماں کا زیور لیا اور لڑکے کی بتائ ہوئ جگہ پر پہنچ گئ ،لڑکا گاڑی لئے تیّار کھڑاتھا ،ور لڑکی کو بٹھا کر گاڑی چل پڑی ،شہر کی حدود ختم ہونے سے پہلے لڑکے نے ایک جگہ گاڑی روکی یہ گاڑیوں کی ایک ورک شاپ تھی ،لڑکے نے کہا زرا ٹہرو مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے یہ میرے دوستو ں کی جگہ ہے ،تم پریشان مت ہونا میں ابھی آتا ہوں لڑکی کو گاڑی سے اتار کر ورکشاپ پر بٹھایا اور اپنے دوستوں سے کچھ کہ کر لڑکا زیور سمیت چلا گیا دو پہر جب سہ پہر ہو گئ تب لڑکی کو معلوم ہوا کہ وہ اپنے گھر سے کتنی دور نکل آئ ہے کہ اب واپسی ناممکن ہے
    اورپھر جب لڑ کی کی آنکھ کھلی تو وہ بازار حسن میں ایک ایسی فروخت شدہ لڑکی تھی جس کو اپنی ہر رات اجنبی مہمانوں کو فروخت کرنا تھی ،اس لڑکی نے وہیں سے اپنے معاشرے کی لڑکیوں کو پیغام دیا تھا کہ خدارا شادی کا فیصلہ اپنے ماںباپ پر چھوڑ کر انتظار کریں اور محبّت کے دھوکے میں نا آ ئیں ورنہ میری طرح بازار حسن کی زینت بن کر زندگی گزارنی ہوگی،،،،
    میری سمجھ کے مطابق،یہ لڑکا اگر شادی کر بھی لیتا تو بھی لڑکی کو فروخت لازمی کرتا کیونکہ اس کا پیشہ ہی یہی تھا کہ لڑکیوں کو جال میں پھانس کر ان کو فروخت کر دینا یہ کاروبار پورے پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ،
    صادق آباد کے چنگی ناکے سے گزر کر گھوٹکی شہر میں آ نے والی ایسی انگنت کاریں ہوتی ہیں جن میں فروخت شدہ لڑکیا ں ہوتی ہیں ،ان میں کچھ اپنے ہوش و حواس میں ہوتی اور کچھ بے ہوش بھی ہوتی ہیں پولس کو معلوم ہوتا ہے کہ اندر کون ہے اس لئے مسکراتے ہوئے جانے کی اجا زت چند ہزار نوٹوں کے عوض مل جاتی ہے وہ اجازت نہیں دیں گے تو ان کی روزی چلی جائے گی کیو نکہ گاڑیا ں بہت اعلٰی درجے کے افراد سے وابستہ ہوتی ہیں
    کراچی میں عا ئشہ منزل پر طاہر ولا کے پیچھے بلاک ڈ ی فیڈرل بی ایریا سے متصل علاقے میں ایک چھو ٹی سی کچّی بستی میں ،میں نے خود اپنی آنکھوں سے پولس موبائل کی سرپرستی میں لڑکیوں کی خرید و فروخت ہوتے دیکھی ہے ،خدا ہمارے معاشرے پر رحم کرے
    میں نے یہ تحریر صدق دل سے بچیّوں کی بھلائ کے لئے لکھی ہے گھوٹکی شہر کی تو پوری تفصیل ایک موقر روزنامے میں آ چکی ہے اور کراچی کا تو کہنا ہی کیا ،بحر زخّار شہر میں جرائم کی سر پرستی کرنے والوں کو کون پوچھنے والا ہے جس کا جو جی چاہے کرے ،یہ محض ایک جگہ میری نظر میں آ گئ وہ بھی اتنے خوشحال علاقے میں ورنہ تو آج کی مضافاتی بستیاں تو ایسے جرائم کے دم سے لہلہا رہی ہیں ،
    بس ا للہ ہر دم محفوظ و ما مون رکھّے
    اللہ نگہبان

  17. بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ
    اسّلام علیکم ،مکرّم ساتھیوں ،بیٹیوں کی شادی کا ایک عمل
    ،دو نفل برائے کامیاب شادی ہونے کے پڑھ کر جائے نما ز پر ہی سورہ طہٰ پڑھی کر پانی پر دم کریں اور یہ پڑھا ہوا پانی کنواری لڑکی کے سر پر اور دائیں بائیں شانوں پر چھڑک دیا جائے تو بہت جلد پیغام سلام کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں ،
    اس عمل کی زکوٰۃ حسب تو فیق کسی بھی سائل کو دے دی جائے ،باوضو ہو کر آیات قرانی جو بھی یاد ہوں پڑھتے ہوئے سونے سے سچّے خواب سے شادی کے متعلّق من جانب اللہ ہدائت بھی مل سکتی ہے
    دعاگو

  18. ان لڑکیوں کے لئے جن کے پیغام آتے ہیں لیکن کسی بھی وجہ سے رشتہ تکمیل کو نہیں پہنچتا ہے
    90 دن تک سورہ ممتحنہ کی تلاوت بعد نماز عشاء کریں ،اور بعد از تلاوت 3 تسبیحیں اوّل و آخر 11 مر تبہ درود ابراہیمی کے ساتھ یا غنئ المغنئ پڑھ کر سجدے میں جا کر کامیاب شادی کی دعاء کریں اللہ کی نظر کرم ہو گی انشاللہ
    ناغے کے دن بعد میں شمار کر لیں

  19. بیٹو ں کی شادی کے لئے سورہ ا حزاب بھی اسی طرح سے ماؤں کو پڑھنا ہے یعنی 90 دن ،،ان اعمال کے ہمراہ دعاؤں کو خاص حیثیت حاصل ہے ،اور ماں کی دعاء بیٹے یا بیٹی کے لئے بہت ہی بڑا درجہ رکھتی ہے ،
    دعاگو
    زائرہ بجّو

  20. بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم ہ
    اللہ عزّو جل کی شان کتنی نرالی ہے کہ جب ہم کوئ گناہ ،یا گناہ پر گناہ کرتے ہیں تو وہ ستّا رالعیب ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے ایک جانب ہم کو سنبھلنے کا موقع دیتا ہے تو دوسری جانب ہمار ے ماتھے پر کوئ داغ نہیں لگاتا ہے جب کہ ہم گناہ گار انسان اس کے حضور صرف چند سجدے ہی زیا دہ کر لیں تو وہ ہمارے ماتھے پر ایک دمکتا ہو ا ایسا نورانی داغ عطا کرتا ہے کہ جسے دیکھ کر لوگ بے ا ختیار کہ اٹھتے ہیں سبحا ن اللہ کیسا سجدہ گزار انسان ہے
    جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *