انقلاب کی بے یقینی

!٢٣ مارچ ، یوم پاکستان کا دن، مگر کیا کہوں یہ پاکستان کا ہی دن ہے ؟ نہیں آج ایسا لگتا ہے کہ ہمارے اباء و اجداد نے اس پاکستان کا خواب نہیں دیکھا تھا جو قرضوں میج جکڑا ہوا ہو ، جس نے اپنی ڈوریں غیروں کے ہاتھوں میں دے دیں ہوں ، جس ملک کے عوام اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کی جگہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں ، کتنا اچھا وقت تھا آج سے دس سال پہلے ، جب نائن الیون نہیں ہوا تھا ، ہم اپنے آپ پر فخر کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ میں سوچ ہی رہا تھا ، کہ ایسا لگا کہ ایک زلزلہ سا آ گیا ۔ ۔ ۔ میری آنکھوں میں اندھیرا آ گیا ۔ ۔ ۔ اور پھر جیسے روشنی کا ایک گولا سا میرے سامنے آ گیا اور آہستہ آہستہ منظر واضح ہونے لگا ۔ ۔ ۔ میں ایک روڈ پر کھڑا تھا جس کے ساتھ والی دکان پر لوگ جمع تھے اور ٹی وی پر ایک آواز گونج رہی تھی ، سب سے پہلے پاکستان ۔ ۔۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا ارے میں کہاں آ گیا ، یہ تو پرویز مشرف ہے ، جو قوم سے خطاب کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ لوگ آپس مین کھسر پھُسر کر رہے تھے ، ایک صاحب کہ رہے تھے ، یار پاکستان کا تو اللہ ہی حافظ ہے ہر ایک اسکے نام پر کیا کیا کرتا ہے ، اب دیکھو یہ ایل ایف او کیا ہے ۔ ۔ ۔ سب سیاست دان اس پر متفق ہیں ۔ ۔ ۔ ہاں یار جو بھی آتا ہے اپنا قانون لے کر آتا ہے ، کیوں بھائی صاحب اب کیا ہو گا ؟ ہونا کیا ہے ، یہ لندن جائے گا اور کبھی نہیں آئے گا ۔ ۔ ۔ وہ کیسے ؟ یہ کوئی الطاف حسین ہے ، اور اب تو سیاہ سفید کا مالک ہے ۔ ۔ ۔۔ کچھ عرصے بعد ۔ ۔ مگر یہ تو پرانی تقریر ہے ، یہ تو لندن میں ہے ، لندن میں یار یہ براہ راست تھی نا تقریر ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ مگر ۔۔ ۔ میں یہاں کیسے آیا ۔ ۔ میں بڑبڑایا ، کھسکا ہوا لگتا ہے ، کسی نے کہا اور میں سڑک پر چل دیا ۔ ۔ ۔ رات کا وقت تھا ۔ ۔ ۔ ایک ہوٹل نظر آیا ، میں نے چائے کا آرڈر دیا اور ، اخبار لے کر بیٹھ گیا ، ارے یہ اتنا پرانا اخبار ، میں نے چائے والے کو نیا اخبار لانے کو کہا ، ارے بابو جی ، نیا اخبار تو کل آئےگا ۔ ۔ یہ تو آج کا ہے ۔ ۔ ۔ آج کا ۔۔ ۔ مگر اس پر تو یہ تو ٢٠٠٣ کا ہے ، تو آپ کی طرف کونسا سال چل رہا ہے ۔ ۔ ۔
اوہ تو میں ماضی میں ہوں ، میں بُڑبڑایا ۔ ۔۔ میری ساتھ والی میز پر دو جوان بیٹھے تھے ، یار چھوڑ نا سب ٹھیک ہو جائے گا ، اب دیکھو نا ملک کے حالات ایسے ہی ہیں ، یار اب تو امریکہ والے بھی ہم پر چڑہ آے ہیں تو کیا ہوا ، ہم تو امریکہ کے ساتھ ہیں نا ، پاکستان اگر امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو افغانستان کے بعد اگلی باری پاکستان کی تھی ۔ ۔۔ ارے ہر بار کہتے ہیں مگر ، اب انقلاب ضرور آئے گا ۔ ۔ ۔ ۔ میں آگے کچھ سن نہ سکا ۔ ۔ ۔کچھ اور لاؤں صاحب جی ، اوہ نہیں ، میں نے جیب سے پچاس کا نوٹ نکال کر کاؤنٹر پر دیا ، ارے بابو جی یہ نوٹ کب آیا ، نیا نوٹ ہے ، نہیں یہ تو پرانا ہے ۔ ۔ ۔ مگر صاحب ہم نے نہیں دیکھا ، اچھا ۔ ۔ ۔ مگر میرے پاس سارے یہ ہی ہیں ۔۔ ۔ ۔ میں نے اسے بٹوے سے دیکھاتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ اچھا میں رکھ لوں گا اس نے مجھے پینتالیس روپے واپس دئیے ۔ ۔۔ چائے کتنے کی ؟ پانچ کی صاحب ، مہنگی ہے دوسروں سے مگر چائے کی پتی مہنگی ہو گئی ہے نا ۔ ۔۔ اوہ اچھا ۔ ۔۔ میں ہنس دیا کہ پندرہ روپے کا کپ پانچ روپے میں ۔ ۔۔ میں نے پیسے بٹوے میں ڈالے اور جیسے چکر سا آیا ، اور میں پاس کی کرسی پر بیٹھ گیا ، میری آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا تھا ۔ اور جب روشنی ہوئی تو میرے کانوں میں ایک شور کی آواز تھی ، یہ وہ ہی ہوٹل تھا جس کے ٹی وی پر نواز شریف کا خطاب آ رہا تھا ، ہم نے ایک نہیں دو نہیں پورے پانچ دھماکے کئے ہیں ، اور اب ہم بھی ایٹمی قوت ہیں ، ہوٹل میں جیسے جنونی گھس آئے تھے ، پاکستان زندہ باد ، نعرہ تکبیر اللہ اکبر ۔ ۔ ۔۔ ، بھائ ان دھماکوں سے کیا ہو گا ، پاکستان اب ایٹمی طاقت ہے کوئی ہماری طرف آنکھ بھی اٹھا سکے گا اب ہمارے سب مسلے ختم ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مگر ہم پر پابندیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ارے آپ کو خوشی نہیں ہوئی ، پابندیاں تو ہمیشہ سے لگتیں رہیں ہیں ، کیا اب ہمارے مسلے ختم ہو جائیں گے ، کیوں نہیں ، ہمارے پاس اب جدید ٹیکنالوجی ہے ، ہم دنیاکے آٹھ ملکوں میں ہیں جو یہ قوت رکھتے ہیں اب ہمیں کوئ آئے گا ، اب ہمارے ہاں انقلاب آئے گا
میں ابھی اسکا جواب دینے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ، پھر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ، اور اب جب میں ہوش میں آیا تو میرے کانوں میں گو بابا گو ، گو بابا گو کی آوازیں گونجنے لگیں میں اسمبلی ہال کی گیلری میں بیٹھا تھا ، سامنے اسمبلی ممبر چیخ رہے تھے ، جن میں ایک زنانہ آواز واضح تھی ۔۔ ۔ ۔ اور بابا ایسے بنے تھے کہ جیسے کچھ ہو ہی نہ رہا ہو ، ہم انقلابی اقدامات کر رہے ہیں ، اب انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے آنکھیں بند کیں تھیں کہ منظر بدل گیا ، میرے کانوں میں ، آوازیں آنے لگیں مرد مومن مرد حق ضیاء الحق ضیاالحق ، میرے سامنے ٹھاٹھیں مارتا انسانوں کا ہجوم تھا ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ ایک جنازے پر نعرے لگا رہے تھے ، اس تابوت کو چوم رہے تھے ۔ ۔۔ ۔ ضیاء تیری شہادت سے انقلاب آئے گا ۔ ۔ ۔ میں بے اختیار ہنس پڑا ، لوگوں نے مجھے بڑے غصے سے دیکھا اور کچھ تو میری طرف بڑھے ہی تھے کہ منظر پھر بدل گیا ۔ ۔ ۔ میں چلتے ہوئے ایک اخبار والے سے ٹکرایا جو آوازیں لگا رہا تھا ، بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ، بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ۔ ۔۔ ۔ ۔ میں نے ایک شخص کو ضمیمے پر جھکے دیکھا ، جو بڑبڑا رہے تھے ، اب اس ملک میں انقلاب آنے سے کوئی نہیں روک سکتا ، اتنے بڑے لیڈر کو مار دیا گیا ۔ ۔ ۔ اب بہت خونی انقلاب آئے گا ۔ ۔ ۔ ۔ انقلاب مگر کیسے ۔ ۔ ۔ دیکھنا لوگ اس اینکو جنرل کو مار دیں گے ۔ ۔ ۔ اور گلی گلی بھٹو کے لئے جنگ ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر مارشل لاء لگا ہوا ہے میں نے کہا ، انقلاب کسی مارشل لاء کی پرواہ نہیں کرتا ، اور میں سامنے سے آنے والے ہجوم کو دیکھ رہا تھا ، بھٹؤ تیری موت سے انقلاب آئے گا ۔ ۔۔ ۔۔
میں ایک بار پھر اندھیروں میں کھو گیا تھا ، اب جب روشنی ہوئی ، تو میرے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز گونجی ، یہ لئیق احمد کی آواز تھی ، جو لاہور کی شاہی مسجد میں مسلم ممالک کے سربراہوں کی ایک ساتھ جماعت میں کھڑے ہونے بات کر رہے تھے ، لوگ شاہ فیصل کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب ہو رہے ہیں ، ایسا لگتا ہے سارا لاہور باہر نکل آیا ہے ۔ ۔ ۔ ہر چہرے پر خوشی ہے ، اور اپنے محبوب رہنماؤں کے ساتھ سجدہ ریز ہونے کو بے قرار ۔ ۔ ۔ آج پاکستان سے ایک نئے انقلاب کا آغاز ہے ۔ ۔ ۔۔ جو ساری اسلامی دنیا کو بدل دے گا ۔ ۔ ۔ میرے کانوں میں انقلاب انقلاب کی آوازیں گونجنے لگیں ۔ ۔ ۔ اور پھر اندھیرا چھا گیا

اب میرے اردگرد ایک سناٹا تھا ، ایک شخص کے رونے کی آواز آ رہی تھی ، میں قائد اعظم کے مزار پر تھا ، جس پر ایک بوڑھا ، رو رہا تھا ، بابا ، ہم غدار نہیں ، میں اس کے بنگالی لہجے سے پہچان گیا ، یہ نور الامین تھے ، بابا ہم گدار نہیں ، ہم کو مجبور کیا گیا ، بابا ہماری کسی نے نہیں سنی بابا ، چٹاگانگ ، سلہٹ کو خون سے نہلا دیا گیا ، ڈھاکہ میں لاشیں بے گور و کفن پڑیں ہیں بابا ، بابا ہمارا کوئی دوش نہیں ، اب کوئی انقلاب ہی ہمیں ایک کرے گا ۔ ۔ ۔ میں کچھ نہ سن سکا ۔ ۔ ۔ اور پھر اندھیروں میں ڈوب گیا

بزدل دشمن نے رات کے اندھیرے میں ہم پر حملہ کیا ، مگر وہ نہیں جانتے کہ کس قوم کو للکارا ہے ، ایوب خان کی تقریر گونج رہی تھی ، اور ساتھ ساتھ نعرے لگ رہے تھے ، چلو چلو بارڈر کی طرف چلو ، یہ سیالکوٹ کا شہر تھا ، جہاں سے جوانوں کے جتھے نعرے لگاتے سرحد کی طرف جا رہے تھے ، ایک بزرگ میرے پاس کھڑے تھے ، پتر یہ انقلاب ہے ، اب ہم دوبارہ سے سارے ہندوستان پر حکومت کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ریڈیو پر گیت لگا تھا ، لالہ جی جان دیو لڑنا کی جانو تُسی مرلی بجاون والے اے گل توڈے وس دی نئیں ۔ ۔ ۔ ساتھ ہی دھماکوں کی آواز ہر سو گونجنے لگی ۔۔ اور میں ایک بار پھر اپنے حواس کھو چکا تھا

یہ ریڈیو پاکستان ہے ، صدر پاکستان نے آج سے نئے آئین کے نفاذ پر دستخط کردئیے ہیں ، جس کے مطابق بنگالی زبان کو اردو کے مطابق مساوی قوم زبان کا درجہ دیا گیا ہے ، یاد رہے مشرقی پاکستان کے عوام اس مطالبے کے حق میں تواتر سے مانگ کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ صدر پاکستان نے ڈھاکہ کے مظاہروں کے دوران طالب علموں کے لواحقین کو گورنمنٹ میں نوکری دینے کا اعلان بھی کیا ہے ، اور اس انقلابی قدم سے پاکستان کے مستقبل کو بدلنے میں مدد ملے گی ۔ ۔۔ ۔

میری آنکھوں میں جانے کیوں آنسو بھر آئے اور منظر بدل گیا ، میرے سامنے شیروانی میں لپٹا ہوا ایک خون میں لت پت شخص گرا ہوا تھا ، اسکی شیروانی کو کھولا جا رہا تھا ، اور اس شخص کی زبان پر تھا ، اللہ پاکستان کی حفاظت کرے اور وہ خاموش ہو گیا ، ساتھ ہی شور مچا ہوا تھا جس میں گولیاں چلیں تھیں ، میں نے اس شخص کی شیروانی پر لگا پیوند دیکھا اور ۔۔۔۔۔ ابھی آگے بڑھا ہی تھا ، کہ کسی نے مجھے دھکیل دیا ، اور ایک شخص نے مجھے سہارا دیا ، جو کہ رہا تھا ، اب انقلاب آئے گا ۔ ۔ ۔۔ ۔ اسی دوران سپاہیوں نے عوام کو ہٹانا شروع کیا تھا اور کسی نے مجھے دھکا دیا اور میرا سر زمین پر لگا اور پھر وہی اندھیرا

مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا ، قائد کی آواز کو کیسے نہ پہچانتا ، جلسے میں لوگ ایسے اسٹیج کو دیکھ رہے تھے ، کہ جیسے وہاں نظریں چپک گئی ہوں ، بابا کتنا سچا ہے ، کھرا ہے ، رہبر ہے ۔ ۔ ۔ ۔ انقلاب آ چکا ہے ، اب ہم آزاد ہیں ، اب ہماری پچان پاکستان ہے ، پاکستان زندہ باد ۔ ۔ ۔۔ کے نعروں نے زمین دہلا دی تھی ، میں نے اسٹیج کی طرف دیکھا جہاں ایک کمزور نحیف انسان ایک مضبوط آواز میں ٹوٹی پھوٹی اردو بول رہا تھا ، ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ ہم پیدا ہوتے ہی فنا ہو جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ، میں نعرہ لگانا چاہ رہا تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ مگر آواز جیسے گھُٹ کہ رہ گئی

اور منظر اب بدلا تو سامنے ایک بھاری جسم والا انسان کھڑا تھا اسٹیج پر ، اور اپنی بھاری آواز میں شعر پڑھ رہا تھا ، صد شکر پھر سے گرم سفر اپنا کارواں ، اور میر کارواں ہے محمد علی جناح ، ایک ایک شعر پر لوگ اس نورانی مسکراتے چہرے کو دیکھتے ۔ ۔ ۔۔ جو اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے سردار نشتر اور دوسری طرف قاضی عیسٰی جو ابھی انکے پاس آئے تھے بیٹھے تھے ، بات کر رہے تھے ، اور ساتھ ساتھ مجمے کو دیکھتے ، اور چہرے پر ایسا اطمنان ۔ ۔ ۔ کہ جیسے سکون کا سمندر ۔۔ ۔ یہ ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کا دن تھا ، ہوا چلتی تھی رکتی تھی ۔ ۔ ۔ اور آواز جیسے لہراتی تھی ۔ ۔ ۔۔ مجمعے سے ایک بار پھر پوچھا جا رہا تھا آپ اس قراداد کے حق میں ہیں ، مجمے سے حق میں ہونے کی آوازیں اٹھ رہیں تھیں ، کیا اس قرارداد سے وطن مل جائے ، میں نے اپنے ساتھ کھڑے ایک دیہاتی سے پوچھا ، کیا تمہیں قائد اعظم پر یقین نہیں ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ اس نے الٹا سوال کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ میں جیسے گھبرا گیا ، پھر وہ دیہاتی مجھے سمجھانے لگا ، یہ کانگرس والوں کو پتا ہے کہ اب وہ ہار جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج سے ہمارا خواب حقیت ہے ۔ ۔ ۔ میں حیرت سے اس دیہاتی کو دیکھنے لگا ، اور پوچھا کیا اب انقلاب آئے گا ، انقلاب ؟ وہ ہنس دیا ، انقلاب میں یقین نہیں ہوتا ، اور اب ہمیں یقین ہے کہ لے کہ رہیں گے پاکستان بٹ کہ رہے گا ہندوستان ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا ، اسکے چہرے پر یقین تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میرے سامنے سے جیسے پردہ ہٹ گیا ہو ، میں واپس آ گیا اور میرے سامنے جیسے سارے پاکستانی کھڑے تھے اور انکے چہرے پر بے یقینی تھی ، انقلاب آنے کی بے یقینی اور بے یقینی کا انقلاب ۔ ۔۔ ۔
اور اب میری آنکھیں واقعی ہی اندھیرے میں ڈوب رہیں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

Published by

اظہر الحق

I am Azhar!

9 thoughts on “انقلاب کی بے یقینی”

  1. السلام علیکم
    سب پاکستانی بھائیوں کو یوم پاکستان مبارک ہو ۔
    آصف احمد بھٹی

  2. السلام علیکم
    محترم جناب اظہر الحق صاحب ، آپ کی ہر ہر بات سے اتفاق ہے ، یقینا ہم خود ہی اِس سب کے ذمہ دار ہیں ، غلطیوں سے سیکھا بھی تو جاتا ہے ، اگر ہم سب عہد کر لیں کہ جو بیت گیا اُس سے سبق لینگے اور آئیندہ کسی ظالم کا ساتھ نہیں دینگے ، اگر کچھ کر نہیں سکتے تو کم از کم برائی کو برا تو جانتے ہیں ۔ اللہ ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنے اور اپنی غلطیوں کو دہرانے سے بچائے ، اور ہم سب کو باہم اتفاق دے ۔ آمین ثمہ آمین ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. اب میرے اردگرد ایک سناٹا تھا ، ایک شخص کے رونے کی آواز آ رہی تھی ، میں قائد اعظم کے مزار پر تھا ، جس پر ایک بوڑھا ، رو رہا تھا ، بابا ، ہم غدار نہیں ، میں اس کے بنگالی لہجے سے پہچان گیا ، یہ نور الامین تھے ، بابا ہم گدار نہیں ، ہم کو مجبور کیا گیا ، بابا ہماری کسی نے نہیں سنی بابا ، چٹاگانگ ، سلہٹ کو خون سے نہلا دیا گیا ، ڈھاکہ میں لاشیں بے گور و کفن پڑیں ہیں بابا ، بابا ہمارا کوئی دوش نہیں ، اب کوئی انقلاب ہی ہمیں ایک کرے گا ۔ ۔ ۔ میں کچھ نہ سن سکا ۔ ۔ ۔ اور پھر اندھیروں میں ڈوب گیا۔۔۔۔
    اظہر بھائی یہ آوازیں آپ ہی نے نہیں ہم سب نے سنیں ہیں۔ لیکن صم’‘ بکم’‘ والی صورت حال ہے۔ کاش ان آہوں، سسکیوں اور بموں کی آوازیں ہمیں خواب غفلت سے جگا بھی دیں۔
    کوئی دس بارہ برس پہلے میں نے ایک دن خواب میں حضرت قائد علیہ الرحمہ کو دیکھا۔ میں آپ سے ملا تو آپ بڑے ناخوش تھے۔ میں نے کہا کہ قائد اعظم آپ تو بانیء پاکستان ہیں، میں آپ سے ملنےآیا ہوں، کتنی بڑی خوش قسمتی ہے، تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ ملنے کب آتے ہو؟ یہاں دن رات بوٹوں والے پریڈ کر کے مجھے تنگ کرتے ہیں لوگ پکنک منا کر نہ صرف مجھے بھولتے ہیں، بلکہ اپنی آخرت کو بھی فراموش کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اچھا تم آئے ہو تو میرے لئے ایک فاتحہ ہی پڑھ دو۔ اس دن سے میں آپ علیہ الرحمہ کا فاتحہ ضرور پڑھتا ہوں اور جب کبھی مزار قائد پر گارڈ کی تبدیلی کی بات ہوتی ہے، مجھے وہ نحیف چہرہ یاد آ جاتا ہے جو ان بوٹوں کی آواز سے بیزار تھا۔ ہم نے اپنی ظاہری شان و شوکت کے لئے کیا کچھ نہیں کر رکھا، لیکن جس کا مرقد ہے اسے تو بھلا رکھا ہے۔
    یہ خواب نجانے کیوں آج یہاں بیان کر دیا۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ حضرت قائد کے لئے ایک بار سورہء فاتحہ پڑھ کر ایصال ثواب کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ ہمارے قائد کی محنت کو رائیگاں نہ جانے دے۔ آمین

  4. اظہر الحق صاحب کے اس بلاگ کے تمہیدی مضمون پر میں ان کے انداز بیاں اور انکی منظر کشی کے کمال پر انکو دل سے داد دیتا ہوں ۔
    اظہر الحق صاحب نے جیسے ایک فلم دکھاکر پاکستان کی تاریخ کے اہم واقعات کو ہم سب کے سامنے پیش کردیا ۔

    ایسی ٹیکنیک اور ایسی مہارت میں نے بہت ہی کم لوگوں کے مضامین میں دیکھی ہے۔

    اس مضمون کو پاکستان کے مدرسوں کے نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔ اس کے ہر ایک منظر پر طلبا اور طالبات پاکستان کی تاریخ کی جھلک دیکھ سکتے ہیں اور مزید معلومات کے لیے لائبریری جاکر پاکستان کی تاریخ پر تحقیق کرسکتے ہیں۔

    یہ مضمون دریا کو کوزے میں بند کردینےکے مترادف ہے ۔

    کسی نےسچ کہا ہے کہ عقلمندوں کے لیے ایسے اشارے کافی ہوتے ہیں۔

    “انقلاب کی بے یقینی“ پاکستان کی قسمت میں ہے۔ یہ ایک سراب کی طرح پاکستانیوں کو انقلاب کے خواب دکھاتی رہتی ہے۔

    پاکستان کے عوام “ یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر“ سے بہلتے رہینگے ۔

    یوم قرارداد پاکستان مبارک ہو ۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  5. اظہر بھائی ، آپ کی آنسوؤں میں ڈوبی تحریر پڑھ کے بھی کوئی انقلاب نہیں بلکہ مزید عذاب ہی عذاب نظر آرہا ہے ۔پرویزی عذاب ختم ہوا تو غداری عذاب شروع ۔ یہ ختم ہوگا تو شریفوں کے عذاب کا نقارہ بج رہا ہے ! پتہ نہیں ابھی کن کن عذابوں سے گذر کر انقلاب کی منزل پائیں گے ۔
    قائد مرحوم کو سورۃ فاتحہ کے ایصال کے بعد اللہ سے دعا ہے کہ وہ انہیں قبر میں کروٹ کروٹ چین اور روزِ جزا جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے ، آمین اور ۔۔۔

    اسلامی جمہوریہء پاکستان کی غیور عوام کو یومِ جمہوریہ پہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا تحفہ مبارک ہو !

  6. اسلام و علیکم

    میں نہیں بتا سکتی کہ ابھی یہ بلاگ پڑھ کر کیا محسوس کر رہی ہوں ۔۔ میں بس ابھی میلز چیک کرنے کے ساتھ ساتھ سوچا ایک نظر اخبار پر بھی ڈالوں سب سے اوپر یہ بلاگ نظر آیا سوچا بس تھوڑا سا دیکھ لوں کس موضوع پر ہے ۔۔ پڑھنے کے بعد ہر چیز سے دل بیزار ہوتا محسوس ہو رہا ہے ۔۔

    میں آج کے دن کی مبارک باد دوں یا اپنی خطاؤں کا حساب کروں ۔۔ بہتر ہے کہ اس دن کی مبارک باد سمبھال رکھوں اس دن کے حقیقی معانی پورے ہونے تک اور آج صرف دُعا کروں خدا سے کہ وہ پاکستان کو برقرار رکھے تا قیامت ۔ اور ہمیں اپنے وطن سے مخلص رہنے کی توفیق عطا کرے الہی آمین ۔

    اظہر سر آپ نے بہت خوبصورتی اور دل کو چھوتی ہوئی تحریر لکھی ہے ۔

    انقلاب مُلک کو وجود میں لانے کا سبب ہوتا ہے مگر مُلک کو وجود میں لانے والے انقلاب سے بڑا انقلاب درکار ہوتا ہے اس ملک کو چلانے کے لئے ۔۔ افسوس کے ہم نے ایک عظیم انقلاب کے بدلے اپنا پیارا وطن پاکستان حاصل تو کر لیا مگر اپنے سینوں میں انقلاب کی اس آگ کو جلائے نہیں رکھ پائے اور جیسے ہی ملک حاصل کیا انقلاب کی آگ سرد پڑنے لگی اور ہم نے سمجھا کہ بس وطن کو پا لیا کافی ہے مگر فراموش کر گئے کہ اصل امتحان ہم لوگوں کا اب شروع ہوا ہے ۔۔

    خدا پاکستان پر رحم کرے ہمارے کرداروں اور ہماری روح کو بیداری عطا کر دے تاکہ ہم اس وطن کے لئے کُچھ کر پائیں ۔ الہی آمین ۔

    یا خدا میرے مُلک پر اور اس کے لوگوں پر اپنی رحمت کا سایہ تا قیامت قائم رکھ ۔
    الہی آمین ۔

  7. اسلام علیکم بھائیو اور بہن نگہت نسیم خوش رہو
    بھائی اظہر یہ کیفیتیں تو ہم ملک سے محبت کرنے والوں پر نہ جانے کتنی دفعہ گزری ہیں اور ہم ہر دفعہ دھوکا کھا کر ایک نئے دھوکے مکے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔
    اور یہ جب تک رہیگا جب تک ہم خود کو ان اندھیروں سے نکالینگے نہیں ، لوگ ماضی سے سبق سیکھتے ہیں ہم ماضی میں زندہ رہتے ہیں ،عقل مند وہ ہوتا ہے جو ماضی سے سبق لے کر حال اور مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے ،ہم تو مردوں کو بھی ذندہ ہی کرتے رہتے ہیں ،اور زندوں کو مارنے کی سوچتے رہتے ہیں ،کہان ہے روٹی کہاں ہے کپڑا اور کہاں ہے مکان ؟ اب ان نعروں سے نکل آنا چاہئے ۔ قائد نے پاکستان بنایا تو اس کا ساتھ دینے والے حق کے لئے نکلے تھے ۔اپنا سب کچھ چھوڑ کر ۔ایک آزاد وطن کی چاہ میں جہاں وہ آزادی سے اپنے دین اور ایمان پر چل کر اپنے اللہ کی رضا حا صل کرنا چاہتے تھے ۔جب تک وہ سب ذندہ رہے انہوں نے صرف پاکستان کے لئے سوچا اُن کی اپنی ذات اور مفاد بیچ میں نہ آئے ۔لیکن جیسے جیسے ہم نے اپنے ذاتی مفادات اور خود غرضی کو پروان چڑھایا ہم کمزور ہو گئے اور سب کچھ پیچھے چھوٹ گیا ۔
    اب بھی اگر ہم حق کا ساتھ دینے لگیں اپنی انا اپنی ذات سے ہٹ کر صرف پاکستان کے لئے سوچیں تو شاید ہمارے زخم مند مل ہو جائیں ۔کہ میرے ضمیر نے مجھ سے کہا کہ اب بھی نہ جاگے تو کب جاگینگے ۔اور میں ادہر ادہر دیکھ رہی ہوں کہ کیا جواب دوں ۔ کیا 23 مارچ صرف جلسوں کے لئے ہے کسی عہد کے لئے نہیں ؟
    اللہ میرے ملک کو بری نظروں سے بچاتا رکھے ۔
    عالم آرا

  8. صرف پاکستان ،میرا پاکستان ،ہم سب کا پاکستان ،
    جیوے پاکستان جیوے پاکستان ،جیوے جیوے پاکستان
    ایک خوشنما ترانہ ،ایک دلربا ءفسانہ
    ،ا یسا سنے زمانہ مجھ کو جو ہے سنانا
    آؤرقم کریں ہم ،تاریخ پھر لکھیں ہم
    دوجے کے دکھ کو بانٹیں
    دنیا کو پھر دکھا دیں
    یہ ہے پاکستان ،میرا پاکستان ،ہم سب کا پاکستان
    پاکستان پائندہ باد
    اپنے وطن سے بہت دور مگر وطن کی محبّت میں مہجور ایک دور افتا دہ مسافر
    سیّدہ زائرہ عابدی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *