دُم لوٹا دو ورنہ۔۔۔۔

کسی شخصیت کی تصویر کشی میں اس کی ’ ناک ‘ کا بڑا نام اور مقام ہوتا ہے جو کہ ناک سے وابسطہ مختلف محاوروں کی مدد سے بیان کیا جاتا ہے جیسے ناک کی خاطر ، ناک کا بال ہونا ، ناک پہ مکھی نہ بیٹھنے دینا ، ناک کے نیچے وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن کیا ’ ناک ‘ کی طرح ’ دُم ‘ بھی کسی کی تصویر کشی میں اتنی ہی اہم ہے ؟ مجھے اس کا خیال یوں آیا کہ ابامہ سرکار نے اپنے اسامہ یار ڈرامے میں اپنے بغلچی زردار سے اپنے تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کی دُم واپس لوٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔

چھپکلی کے بارے میں تو اکثر سنا ہے کہ اس کی جان اس کی دُم میں ہوتی ہے اور مشاہدہ بھی کیا ہے کہ اگر چھپکلی کی دُم کاٹ دی جائے تو وہ کٹی ہوئی دُم کافی دیر اچھل کُود اور بھنگڑا ، امریکہ کی طرح ، ڈالتی رہتی ہے جبکہ اس کا باقی دھڑ بالکل ساکت ، پاکستان ہی کی طرح ، پڑا رہتا ہے ۔ لیکن امریکی ہیلی کاپٹر کی دُم میں کیا راز تھا جو وہ پہلے تو دُم کٹوا کر جلدی جلدی میں بھاگ گئے لیکن اب دُم پہ پاؤں آنے کے خوف سے اس کی واپسی کا مطالبہ کربیٹھے ہیں ، بلکہ اپنے جان کیری تک کو بھیج دیا ہے ۔ اِدھر ہم بھی دَم سادھے ، ان کی دُم سے لپٹے ، اپنی دُم دبائے ان کی دُم کو دھوم دھام سے واپسی پہ رضامند ہوچکے ہیں ۔ تو گویا ان کی دُم کے دم سے ہمارے دم میں دم ہے !

24 thoughts on “دُم لوٹا دو ورنہ۔۔۔۔”

  1. ایک دُم وہ بھی ہوتی ہے جسے چاہے کتنے برس کسی بھی طرح رکھو وہ ٹیڑھی ہی رہتی ہے.
    پھر
    اُلو کی دُم فاختہ
    دُم سے ملا کے دُم پیار کیجئے، کوئی سہانا اقرار کیجئے…
    چرا لیا ہے تم نے جو دُم کو، نظر نہیں چرانا صنم…

  2. مرشدِ محترم ،
    بلاگ میں افتتاحی تبصرے کا بے حد شکریہ ۔
    اب یہ ٹیڑھی دُم والے حشرات کہاں کہاں ، کس کس ملک کی کن کن جگہوں پہ پائے جاتے ہیں ذرا یہ بھی تو ہمارے قارئین گنوا دیں ۔

    اب پتہ نہیں ہم ’ اُلو کی دُم فاختہ ‘ پہ ہی ڈٹے رہیں گے یا ’ بخشو بھی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا ‘ پہ عمل پیرا ہوں گے یا پھر سو سال بعد بھی ۔۔۔۔۔۔۔

    اس دُم پہ قربان ، سب زردار ہیں صدقے
    جس نے ہے یہ مانگی ، اُس دلدار پہ صدقے

  3. جاوید بھیّا،اور ساتھیوں اسّلام علیکم ،
    یہ کیا بات ہوئ ایبٹ آباد والے واقعہ میں وہ بینڈ باجا بجاتے آئے ،اور بھنگڑا ڈالتے اپنا شکار لے گئے ،
    تو اب یہ دم اگر دھوم دھام سے دلہن کی طرح رخصت کی جائے گی تو کیا ہوا یہ کوئ عام دُ م نہیں ہے ،،بلکہ ایوان صدر+ حکومت + آرمی کے متبرّک آنگن میں اتری ان سب کے دلدار کی دُ م ہے ،اس لئے اس کا دیدار عام کروانے کے بجائے جلد از جلد واپس کرنے کی کوشش کی جائے گی بلکہ دلہن کی طرح سجا کے اپنے دلدار کے حوالے کی جائے گی اور عوام سے کہا جائے گا کہ پاکستان کا مردہ جسد خاکی اپنا ناتواں وجود سنبھالنے سے قاصر ہے ،بھلا اتنی بھاری دم کہاں سے سنبھالتا پھر ےگا ،،
    اور اگر ہماری اشرافیہ نے ان کی یہ اسٹیلتھ دُ م دبانے کا حوصلہ کر لیا تو کسی رات اسلام آباد کے ا یوانوں کے حاکم دُ م دار ستارے کی ذد میں آچکے ہوں گے
    اس لئے اس وقت اس دُ م سے خلاصی میں ہی ان کی حکومت کی بقاء کاراز مضمر ہے ،

  4. ’ اپنی ‘ سی آئی اے اور ’ ا نکی ‘ آئی ایس آئی میں کئی ماہ سے ، بالخصوص ریمنڈ ڈیوس کیس سے موجودہ ابامہ اسامہ ڈرامے تک ، جاری سرد جنگ اور اب امریکی ہیلی کاپٹر کی دُم کے مطالبے پہ پہلی جماعت کی ایک نظم پھر سے یاد آگئی جو کچھ یوں تھی :

    ایک تھا تیتر ایک بٹیر
    لڑنے میں تھے دونوں شیر
    لڑتے لڑتے ہوگئی گم
    ایک کی چونچ
    اور ایک کی دُم

  5. محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ،

    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ،

    کاش ہم ” ایوان صدر+ حکومت + آرمی کے متبرّک آنگن میں اتری اپنے دلدار کی دُ م “ کی ملکیت پہ ڈٹ جائیں اور اسے اپنے ’ جبڑہ چوک ‘ کے نزدیک ’ وفاقی عجائب گھر ‘ میں اپنی آئیندہ آنے والی نسلوں کی عبرت اور راہنمائی کے لئے محفوط کر لیں اور پھر اس کا دیدار عام کرواتے وقت یہ ’ ریکارڈڈ بڑھکیں ‘ بھی سنائیں کہ یہ ہے اس ظالم کی دُم جس نے ہماری دُم مروڑی ۔ اگر اس نے آئیندہ بھی ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا یا ایسی حرکت دوبارہ کی تو تو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ہم آئیندہ بھی ان کی دُم واپس نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔جب تک کہ ہماری اپنی دُم سیدھی نہیں ہوجاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    آپ کا بہت شکریہ ۔

  6. کافی ُدم دار قسم کی بحث چل رہی ہے ،سبحان اللہ ۔

  7. اسلام علیکم دوستو
    کافی دلچسپ بحث ہے ،اور پر تکلف بھی کہ بات ہے دم کی (جہاں بھی دم پڑھیں پیش کے ساتھ پڑھئے گا )اور یقینا سب کو اپنی دم پیاری ہوتی ہے ۔اور یہ تو امریکہ کی دم ہے جن کے ہاتھ میں سب کی دم ہے ۔دم کسی کی بھی ہو اور کیسی بھی ہو دم دم ہی ہوتی ہے – دم کے بغیر تو کوئی بھی لنڈورا ہی کہلاتا ہے ۔حقیقت یہ بھی ہے کہ خوبصورتی بھی ساری دم ہی مین ہوتی ہے جو اللہ نے انسان کو نہیں دی شکر الحمد للہ اور یہ تو امریکہ کی دم ہے بھلا اسے رکھنے کا حوصلہ ہمارے لیڈروںکی دم میں کہاں ؟ جب ہی فورا واپس کر دی گئی ۔ہمیں بہت اچھا لگتا اگر اس میں نمدا باندھ کر بھیجا جاتا لیکن یہ تو ہمارے جیسے بے وقوف ہی سوچ سکتے ہیں ،کیونکہ ہمارے بڑوں کی دم تو صرف ہلانے کے لئے ہے اور وہ اس سے صرف یہ ہی کام لیتے ہیں ۔
    ہم نے دم پر ایک شعر بھی سنا تھا جو ہم اکّثر بیت بازی میں استعمال کرتے تھے سب کو ہنسانے کے لئے ۔
    بہت شور سنتے تھے ہاتھی کی دم کا
    جو دیکھا تو اس کے تو ستلی بندھی تھی
    اور دم کی اس بے قدری پر ہمارے ساتھی ہاتھ جھاڑ ہمارے پیچھے پڑ جاتے تھے ،افسوس کہ ہم دم رکھنے کے بھی قابل نہیں ہیں ۔اور یہ تو ہے سپر پاور دم ۔ اسے تو ہر حال میں واپس کرنا ہے ۔
    کیونکہ امریکہ اپنی دم کسی کے پاس نہیں چھوڑتا بلکہ سب کی دمیں اپنے پاس رکھتا ہے ،
    اس سے زیادہ ہم اس دم پر کچھ نہیں لکھ سکتے ۔
    اللہ ہم سب پر کرم کرے ، اور میرا ملک سدا سلامت رہے آمین
    عالم آرا
    وینکور

  8. روبینہ فیصل کا قول فیصل مختصر سہی لیکن اس لیئے اہم ہے کہ انہوں نے بلاگ پر قدم رنجہ فرمایا. روبینہ ایک اچھی افسانہ نگار اور کالم نگار اور پر مغز شاعرہ ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ وہ عالمی اخبار کے قافلے میں ٹورنٹو کی بیورو چیف کے طور پر شریک ہیں. جلد ہی وہ ٹورنٹو بلکہ پورے کینیڈا بلکہ شمالی امریکہ کے ادبی نقصان دہ دھڑوں اور مافیاؤں کے بارے میں لکھیں گی. ہم ابھی سے ان کے لیئے دعا گو ہیں.

  9. دُم دُم دُم دُم کردی نی میں آپے ہی دُم ہوئی
    …..
    دُم شُم دُم شُم میں کیا جانوں رے.جانوں تو میں بس اتنا کہ میں تمہیں موتی جانوں رے
    …….
    اک تری دُم کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
    ……
    ہزار بار منع کیا دُم کو نہ دُم سے تم لڑانا ۔ہزار بار منع کیا
    ۔۔۔۔۔
    دل چیز کیا ہے آپ میری دُم بھی لیجئے۔اک بار دُم کو میری ذرا چوم لیجئے
    ۔۔۔۔۔۔
    ہو میرا بابو ہے دُم والا میں تو ناچوں گی
    ۔۔۔۔۔
    تم ضد تو کر رہے۔پھر کیسے دُم ہلائیں۔نغمے جو کھو گئے ہیں انکو کہاں سے لائیں
    ۔۔۔۔۔
    دُم کے بدلے دردِ دُم لیا کرتے ہیں۔ جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں
    ۔۔۔۔
    تم جیسا دُم شناس میں نے دیکھا نہیں رے،صورت سے تو ایسا مجھ کو لگتا نہیں رے
    ۔۔۔۔۔
    دُم کی باتیں تم ہی جانو اور نہ جانے کوئی
    ۔۔۔۔
    دُم بہت اداس ہے۔وہ پیار گزرے ہی وقت کا نظر کے آس پاس ہے۔دُم بہت اداس ہے
    ۔۔۔۔۔
    پائل میں گیت ہیں دُم دُم کے۔تو لاکھ چلے رے گوری چُم چُم کے
    ۔۔۔۔۔
    میں نے دُم دار ستاروں کی تمنا کی تھی
    مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں دو دُم والا شاعر ہوں
    پل دو پل مری کہانی ہے
    پل دو پل میری ہستی ہے
    پل دو پل مری جوانی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
    اجنبی سی ہو مگر دُم دار نہیں لگتی ہو
    ۔۔۔۔۔
    جانے وہ کیسے دُم والے تھے جنکی دُم کو پیار ملا۔ہم نے تو جب خوشیاں مانگیں کانٹوں کا ہار ملا

  10. بابا نہ چھیڑیں مجھے ۔۔۔بھری پڑی ہوں ۔اڑا کر رکھ دوں گی سب کو ۔۔ +تش فشاں دبا ہی رہنے دیں ۔

  11. پہلی بات تو یہ کہ اللہ نہ کرے کہ میں آپکو چھیڑوں
    دوسری بات یہ کہ ماشااللہ آپ بھری ہوئی ہیں کوئی خالی برتن نہیں
    تیسری بات اڑا کے رکھ دینے والی….تو کس نے منع کیا ہے.ہم حاضر،اخبار حاضر. قارئین حاضر.بس کردو بسم اللہ
    اور آخری بات….آتش فشاں دبا ہی رہنے دیں….. نہ بچہ نا. جو دبا رہے وہ آتش فشاں نہیں. قلم حق اور سچ ہی تو سکھاتا ہے اور جہاں حق سچ ہو وہاں کوئی ڈر،خوف اور مصلحت نہیں ہوتی
    مری لغت میں کہیں مصلحت کا نام نہیں
    مرے قلم نے یہ صفدر مجھے سکھایا ہے

  12. قبلہ ھمدانی صاحب ،بھاءی کیانی نے اچھا ٹاپک چھیڑا ہے۔ اور آپ نے اس پر افتتا حی گرہ بھی خوب لگا ءی اور اب روبینہ صاحبہ کو لکھنے کی یہ کہہ کر دعوت دی کہ ً مری لغت میں مصلحت کا نام نہیں “میں نے سوچا کے میں بھی اپنا کچھ حصہ ڈالدوں ۔ بھاءی ایک مخلوق ایسی بھی ہے کہ اگر پاوں اس کی دم پر پڑ جا ءے تو وہ کیں ،کیں توکرتی ہے مگر بھاگ جا تی ہے۔ اس لیءے کہ عافیت وہ بھاگنے میں سمجھتی ہے؟
    اصولی سیا ست۔۔۔شمس جیلانی
    بنانے لوگ سبھی گھر کواس میں آتے ہیں
    تمہاری جیسی صحافت جہاں میں عام نہیں
    یوںمصلحت بیں ہیں سب جہاں والے
    جو با اصول ہیںً تم سے ً یہ ان کا کام نہیں

  13. میرے انتہائی معزز و محترم مبصرین و قارئین ساتھیو ،

    آپ سب کی شرکت اور دلچسپ تبصروں کا بے حد شکریہ ۔ ایک دن کی مہلت چاہتاہوں ، فرداً فرداً ہر ایک کے ہاتھ چوموں گا ، خواتین اس بات کا بُرا نہ منائیں ، فی الحال ’ میری اپنی دُم ‘ بری طرح پھنسی ہوئی ہے ، باقی سب خیریت ہے !

  14. محترم قمر رضوی صاحب ،
    بلاگ میں خوش آمدید ۔

    ” تیری دم کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے “

    واقعی اس دُم کے سوا دنیا میں کیا رکھا ہوتا جو انسانوں کی بھی دُم ہوتی ، اور جب عاشق معشوق دونوں دُم والے ہوتے تو کچھ ایسی صورتحال ہوتی :

    حسیں لوگوں کی دُم پھولوں سے ڈھکی ہوتی
    کہ پھُلجڑی سی فضاؤں میں چھُپ گئی ہوتی

    دُموں سے یہ قد زیبا کچھ اور سج جاتے
    کہاں کی زلف کہ دُم ہی میں الجھ جاتے

    یہ افتخار جو ہم عاشقوں کو مل جاتا
    ہر ایک غنچہ امید کا کھِل جاتا

    کسی کی بزم میں ہم اپنا یوں پتہ دیتے
    بجائے پاؤں دبانے کے دُم دبا دیتے

    کبھی کمند کا جو کام دُم سے ہو جاتا
    ہم عاشقوں کا بڑا نام دُم سے ہو جاتا

    اشارہ کرکے ہمیں دُم وہ اپنی لٹکاتے
    ہم ان کے کوٹھے پہ دُم کو پکڑ کے چڑھ جاتے

    اور بھائی صاحب اب نیچے اتر آئیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ کا بہت شکریہ ۔

  15. محترمہ روبینہ فیصل صاحبہ ،

    آپ آئیں ، بہار آئی ۔ یہ بڑے نصیبوں کی بات ہے جو آپ نے اس بلاگ کو عزت بخشی ۔ لیکن اس ’ ُدم دار قسم کی بحث ‘ میں فقط حاضری سے کام نہیں چلے گا کیونکہ یہاں ’ سلامی شلامی ‘ کا بھی رواج ہے لہذا کچھ نہ کچھ ضرور اڑانا پڑے گا ۔ اور ویسے بھی بقول جناب ھمٰدانی صاحب آپ کوئی خالی برتن تو ہیں نہیں ۔ آپ کے پُر مغز اور سبق آموز کالم پڑھنے اور سمجھنے سے تعلق رکھتے ہیں ، ماشاء اللہ ، چشمِ بد دور ، آمین ۔

    آپ کا بے حد شکریہ ۔

  16. محترمہ عالم آراء صاحبہ ،

    ” یقینا سب کو اپنی دم پیاری ہوتی ہے ۔اور یہ تو امریکہ کی دم ہے جن کے ہاتھ میں سب کی دم ہے ۔دم کسی کی بھی ہو اور کیسی بھی ہو دم دم ہی ہوتی ہے “

    بالکل صحیح فرمایا آپ نے کہ دُم کیسی بھی ہو دَم دَم ہی ہوتی ہے بلکہ دما دَم ہوتی ہے ۔

    ” دُم کے بغیر تو کوئی بھی لنڈورا ہی کہلاتا ہے ۔حقیقت یہ بھی ہے کہ خوبصورتی بھی ساری دُم ہی میں ہوتی ہے “

    اور اگر انسان دُمدار ہوتا تو ابامہ اور زرداری کیسے ہوتے یا دنیا کے باقی امیر اور غریب کیسے ہوتے :

    کسی پہ دھونس جماتا تو دُم اُٹھا لیتا
    کسی سے دھونس کھاتا تو دُم گرادیتا

    کہیں کوئی جو فاتح آدم کھڑا ہوتا
    میرے خیال میں یوں پوز دے رہا ہوتا

    بڑے غرور سے لہراتا دُم اپنی
    بجائے مونچھوں کے سہلاتا دُم اپنی

    امیر لوگوں کی دُم میں انگوٹھیاں ہوتیں
    اور انگوٹھیوں میں نگینوں کی بُوٹیاں ہوتیں

    گھمنڈ اور بھی بڑھ جاتا اور اِتراتے
    یہ لوگ جیب گھڑی اپنی دُم پہ لٹکاتے

    غریب لوگ کسی طرح سے نبھا لیتے
    نہ ملتا کچھ تو فقط دُموں کو رنگا لیتے

    جو مفلسی سے کوئی اپنی جھراتا
    تو ہسپتال میں لے جا کے دُم اپنی کٹا آتا

    وزیر لوگ یہ کہتے عوام دُم کو کٹائیں
    ہماری دُم کے برابر وہ دُم کو نہ لائیں

    عوام سارے اسی ضد پہ اپنی دُم کو اٹھا لیتے
    وہ انقلاب کا پرچم اسے بنا لیتے

    اور ہمارے ہاں بھی انقلاب شاید اب دُمیں اٹھانے سے ہی آئے ورنہ اور تو کچھ نظر نہیں آرہا !

    آپ کا بہت شکریہ ۔

  17. محترم جناب شمس جیلانی صاحب ،

    بلاگ کو عزت بخشنے اور اپنا حصہ ڈالنے کا بے حد شکریہ ۔آپ حضرات کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی ہی نئے لوگوں میں نئے جذبے پیدا کرتی ہے ۔

    آپ کا دوبارہ سے شکریہ

  18. جناب صفدر ھمٰدانی صاحب ،

    مرشدِ محترم ، بلاگ میں قوس قزح جیسے رنگ بکھیرنے کا بہت شکریہ ۔ آپ کی تقلید میں کچھ ڈائیلاگز پیش خدمت ہیں :

    ” نواں آیا ایں سوہنیاں ، پر دُم کتھے چھڈ آیا ایں ؟ “

    ۔۔

    ” جج صاحب ، اگر آپ میری زندگی کے قیمتی دس سال نہیں لوٹا سکتے تو کم از کم مجھے میری دُم تو لوٹا دیں ، جج ساحب !“

    ۔۔

    ” کھبر دار جو کسی نے حرکت کی یا اپنی دُم اٹھائی ورنہ گھبر سنگھ کچا کھاجائے گا “

    ۔۔۔

    ” اوئے جاگیر دارا ، کن کھول کے سُن لے اوئے ، تُوں آپنی دُم سنبھال کے رکھ اوئے جاگیر دارا ۔۔۔۔“

    ۔۔۔

    ” دُم کھپے ، کھپے ، کھپے ۔۔۔۔۔۔۔“

  19. بھئ واہ ،
    اس بلاگ پر کیا دُ م دار ستارے اترے ہیں ،عالمی اخبار کا سارا آسمان ہی جگر جگر کر رہا ہے ماشاللہ ،اور میں لکھنے کی پینک کے درمیان ان ستاروں کو دیکھنے آتی ہوں ،جی بھر کر بے اختیار قہقے لگاتی ہوں ،،اور ابھی میرے زہن میں خیال آرہا ہے کہ اگر واقعی
    حضرت انسان کی دم ہوتی تو اس کے بکھیڑے بھی کتنے ہوتے جب وہ بیمار ہوتی تو کیاہوتا؟ یا کسی بھی طور وہ کٹ گئ ہوتی تو اس کے لگوانے کے لئے اس کے اپنے شفاء خانے جانا ہوتا ،
    شفاءخانے کے باہر کیا تحریر ہوتا
    کیا آپ دُ م کٹے ہیں؟ گھبرائے نہیں ،ہم آپ کو نئ د م بہت معقول قیمت پر لگا دیں گے ،نیز ہمارے یہاں دُ موں کے تمام امراض کا شافی علاج رازداری سے ہوتا ہے
    پہلے آئے پہلے پائے کی بنیاد پر امپو رٹڈ دمیں بھی مل سکتی ہیں
    کتنا اچھّا ہوا کہ اللہ میاں نے انسان کو بنا دُ م پیدا کیا
    البتّہ جو یہ کہتے ہیں کہ انسان کے پہلے دُ م تھی تو وہی آج اپنی دُ میں دوسروں کے آنگن میں پھینکتے پھر رہے ہیں

  20. اسلام علیکم
    سب سے پہلے میں بھی شمس جیلانی بھائ کی لمبی عمر اور صحت کی دعا کروں گی اللہ ان کا شفیق اور محبت بھرا سایہ ہم سب پر سلامت رکھے آمین
    اب آتی ہوں دـم کی طرف جو آج کل بہت ڈیمانڈ میں ہے ( پیش اور زبر کچھ ناراض ہے اس لئے آپ خود ہی لگا لیجئے گا بہت شکریہ)
    بجو سلامت رہیں خوش رہیں آپ نے یہاں بھی ایک اہم نشاندہی کر دی اور دم کے لئے شفا خانے کی تجویز دے دی جس کا دل چاہے فائدہ اٹھا لے ۔
    اقبال کیانی بھائی بہت خوب کہ آپ نے ہنسنے کا کچھ زریعہ فراہم کیا خوش رہئے اور چمکتے رہئے ۔
    کچھ تک بندی مجھ سے بھی ہوگئی پڑھ کر دیکھیں
    دم تیری ہو یا میری ہو
    اس دم میں دم بہت سا ہے
    نہ دیکھ تو لیڈر کی دم کو
    اس دم میں بندھا اک نمدا ہے
    گر اس نمدے کو کھینچ سکے
    تو اس کو کھینچ لے ہمت کر
    بس بات یہیں آ ٹوٹتی ہے
    کہ د’م میں ہماری دم ہی نہیں
    بس اپنی اپنی د’م دیکھو
    کہ سارا فساو ہی د’م کا ہے
    جس کی د’م ہے دمدار بہت
    وہ د’م کو اٹھا کر اتراتا
    اور جس کی د’م کمزور ہوئی
    وہ کیسے پھرے گا اتراتا
    سب ٹھاٹ پڑا رہ جائیگا
    جب د’م مارے گا پاکستان (معزرت کے ساتھ)
    اللہ ہم سب کو خوش وخرم رکھے ۔اور جو لوگ بلاگ پر نہیں آ پا رہے اللہ ان سب کو صحت اور خوشیاں دے ان کی تحریریں بھی ہمیں پڑھغے کو ملیں ۔
    اللہ سب کا حامی و ناصر ہو
    عالم آرا

  21. محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ،

    آپ ہی کی تحریر سے متاثر و ماخوذ :

    ۔۔۔۔

    نقد بڑے شوق سے ، اُدھار اگلے چوک سے !
    لمبی ، چھوٹی ، موٹی ، پتلی ، دیسی ، ولائیتی ، اصلی ، نقلی ، دُمیں بازار سے بارعائیت خریدیں ۔
    دُمچُو دُم سٹور
    گئی گزری انار کلی ، ایبٹ آباد

    ۔۔۔۔۔

    دُموں کے میدان میں ایک نئی دھوم !
    امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں سے اعٰلی تعلیم یافتہ ’ ماہرینِ دُمیات ‘ سے فوری رابطہ کریں اور دُموں کے بارے میں مفید مشورے مفت حاصل کریں ۔

    پتہ برائے رابطہ :
    ڈاکٹر دُم چھلہ
    دُم نگر ، محلہ دُمچی ، اندرون وزیرستان ۔

    ۔۔۔۔

    دُموں کی ہر قسم کی بیماریوں کا دیسی جڑی بوٹیوں سے ، بغیر آپریشن ، شرطیہ علاج !
    حکیم باوا دُماں والا
    دُمچھُو گلی ، لنڈورا بازار ، جلال آباد ، افغانستان

  22. محترمہ عالم آ را صاحبہ ،

    تازہ تازہ خبر یہ ہے کہ دُموں کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک میلنگ کی وجہ سے دُموں کی بازار میں سخت قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ جناب رحمان ملک کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ہفتے کے اندر اندر اپنی رپورٹ ’ صدر جورداری ‘ کو پیش کرے گی ۔ حالات کی سنگینی کے تحت ملکی و غیر ملکی تاجروں کو امریکی دُموں کے امپورٹ آرڈر جاری کر دئے گئے ہیں ۔

  23. ہاہاہاہاہا،،ہاہاہاہا،،
    کیا بتائیں ،دل کے پھپھولے کس طرح سے درد دیتے ہیں ،بہر حال دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھّا ہے
    پچھلے زمانے میں بادشاہوں تک عوا م کی فریاد پہنچانے والا ایک پیغام رساں ہوا کرتا تھا ،اس حکومت کا ہر ہر فرد خود اپنی زات میں بادشاہ بنا بیٹھا ہے
    اس لئے نا کہیں ہماری داد ہے نا فریاد ہے ،زرا دیکھئے پورا ملک اندھیروں میں ڈوب رہا ہے ،اور ہمارے بادشاہان وقت بلبلاتے عوام کو بلبلاتا چھوڑ کر پیرس کے عشرت کدوں کی لندن کی خنک فضاؤں کی سیر سپاٹے کو نکل جاتے یا ابامہ کی بارگاہ میں ہاتھ باندھ کر ان کے قدموں پر سر رکھ کر انہیں منانے بیٹھ جاتے ہیں ،،زرا سی نظر ڈالئے کراچی میں، لاہور میں جوئے کے اڈّے پولس کی سرپرستی میں کس حساب سے چل رہے ہیں ،موبائل قحبۃ خانے پولس کی سرپرستی میں کس طرح چل رہے ہیں اور حکومت مست ہے
    پٹرول پر 23 روپئے فی لیٹر حکومت کی اندھی عیّاشیو ں کے لئے لیا جا رہا ہے ،کوئ پوچھ ہے نا گچھ ہے یہ جو پٹرول مہنگا کرنے کے لئے حکومت کا واویلا ہے نا ،یہ سب ڈھکوسلہ ہے ،عوام اندھیروں میں ڈوب رہے ہیں اور بجلی آئے دن مہنگی کی جا رہی ہے ،کیا پاکستان ان عیّاش بادشاہوں کے لئے تخلیق ہوا تھا ؟
    کس سے سوال کریں بتائے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *