اے وطن کے رنگیلے جوانوں ۔ ۔ ۔۔

میں نے اپنی فوج کے افسران کی محافل میں شراب کباب اور شباب کو مچلتے دیکھا ہے ، نشے میں دھت یہ جنرل جب اپنی اپنی میسوں میں ناچتے ہیں اور اپنی ہی قوم کو گالیاں دیتے ہیں تو کیا کہوں کیا کیا دل کرتا ہے کہنے کو ، میں نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا اس پر ، ایک بہت ہی پرانی کہاوت ہے ہماری افواج کے بارے میں بلکہ ایک انڈین جنرل نے یہ کہا تھا کہ ، اگر میرے پاس پاکستانی سپاہی ہوں اور انڈین افسر تو میں ساری دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہوں

پاکستان کی قسمت ہی عجیب ہے ، اس کی فوج کے افسر ہمیشہ سے ہی پاکستان کو نقصان پہنچاتے آئے ہیں ، جنرل گریسی سے لیکر جنرل کیانی تک سب ہی قوم کے خرچے پر چرچے کرتے رہے اور حرام کھاتے رہے ، آج ایسے ہی رنگیلے افسروں کے لیے دل سے نکلے الفاظ ۔ ۔ ۔۔

اے وطن کے رنگیلے جوانوں ، میرے پیسے تمہارے لئے ہیں

اب تم اپنی حفاظت نہیں کر پائے ، سرحدوں کی نہیں کر پائے ، تو ہماری حفاظت کیا کرو گے ؟؟؟؟

میرے سیاہ ست دانوں اور جنرلوں ،خدا کے لئے اب ہماری جان چھوڑ دو ، اور یہ ملک اس کے خیر خواہوں کے حوالے کر دو ۔ ۔ ۔ ایسا نہ ہو کہ اب یہ حملے عوام کریں ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری بیرکوں پر اور تمہارے محلوں پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

Published by

اظہر الحق

I am Azhar!

11 thoughts on “اے وطن کے رنگیلے جوانوں ۔ ۔ ۔۔”

  1. پاکستان کی قسمت ہی عجیب ہے ، اس کی فوج کے افسر ہمیشہ سے ہی پاکستان کو نقصان پہنچاتے آئے ہیں ، جنرل گریسی سے لیکر جنرل کیانی تک سب ہی قوم کے خرچے پر چرچے کرتے رہے اور حرام کھاتے رہے ، آج ایسے ہی رنگیلے افسروں کے لیے دل سے نکلے الفاظ ۔ ۔ ۔۔

    اے وطن کے رنگیلے جوانوں ، میرے پیسے تمہارے لئے ہیں

    واہ واہ جیو میرے ویر … ہو جائے ان بے غیرتوں پر ایک دھواں دھار کالم ..

  2. امر فیاض نے پاکستان سے اس موضوع پر لکھتے ہوئے کہا …

    بات یہ ہے نگہت کہ ہم جو نام نہاد لکھنے لکھانے سے واسطہ رکھنے والے لوگ ہیں ان میں ننانوے فیصد جو بھی لکھتے ہیں وہ اثرات اور واقعاتی تناظر میں لکھتے ہیں، کوئی اکا دکا سر پھرا اسباب پر لکھتا ہے… اب یہ اسباب پر کیوں نہیں لکھا جاتا، اس کو سمجھنا ہوگا.
    باہر رہنے والے پاکستانی لوگوں کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جب وہ پاکستان کی کوئی گندی خبر سنتے ہیں، جیسے کسی کو پتہ چلے کہ اس کی بیوی بھاگ گئی کسی اور کے ساتھ، یا اس کا بچہ خراب لچھنوں کی وجہ سے جیل میں ڈالا گیا… اس وقت اس پر کیا گذرتی ہوگی؟ ٹھیک اسی طرح آپ تمام لوگ پاکستان کے لیے فکر میں ہیں… لیکن یہ تو نہیں جانتے کہ یہاں پاکستان مین پاکستانیوں کے ساتھ کیا کیا گذرتی ہے…
    دوسری بات: میرا خیال ہے پہلی بار آپ کے ہاں مجھے پاکستان کے تناظر میں اسباب پر پڑھنے کو ملا ہے. آپ کیا سمجھتی ہیں کہ یہ ملک کوئی (عوام کا چنا ہوا) وزیر اعظم یا صدر چلاتا ہے؟ قطعی نہیں…
    اس بات سے آپ اندازہ لگائیں کہ کارگل والے واقعے میں اٹل بہاری واجپائی اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ایک سی ڈی بھیجتا ہے جس میں اس وقت کے چیف آف آرمی پرویز مشرف اور اس کے ماتحت اول کی ٹیلیفون پر بات رکارڈ کی گئی تھی… کہاں رکارڈ ہوئی تھی؟ انڈیا کی خفیہ ایجنسی میں، اور کس کی بات؟ پرویز مشرف اور کوئی کرنل ورنل تھا کوئی، جس میں پرویز مشرف نواز شریف کو گالیاں دیتا ہوا کہ رہا تھا کہ “اس گنجے کا کیا خیال کرنا…. جو ہے ہی بدھو” اور یہ تمام تر باتیں وزیر اعظم کو کچھ پتہ نہ تھی کہ کارگل میں کیا ہورہا ہے….
    آپ کو پتہ ہے کہ اسامہ کے ڈراپ سین (ایبٹ آباد) کا پہلا امریکی فون کسے ہوا؟ جناب کیانی صاحب کو، رات کے شاید دو یا تین بجے کے درمیاں، جبکہ صدر صاحب کو اس تمام عمل سے لاعلم رکھا گیا، اور بعد میں دوسری صبح زرداری کو اوبامہ فون کر کے بتا رہا تھا کہ ہم نے یہ رات تیر مارا ہے……
    ہم آخر کیوں نہیں سوچتے کہ چوبیس گھنٹے اٹھتے بیٹھتے ہم جو ملک کے سیاستدانوں پر تبرہ کرتے اور انہین کوستے رہتے ہیں، کہ وہ ملک کو کھا گئے، اور وہ اول نمبر کے کرپٹ ہیں تو کبھی سوچا کہ ملک کی بجیٹ کے کس حصے کے وہ کرپٹ ہیں؟
    ذرا دیکھیے:
    صرف دفاع پر خرچ ہوتا ہے: 74 فیصد
    باقی تمام امور پر خرچ ہوتا ہے: 26 فیصد
    ہم نے آج تک چھبیس فیصد پر بات کی ہے… کیوں کہ وہ سب کے سامنے ہے… آج تک کسی مائی کے لال کی یہ جرئت ہوئی ہے کہ بقیہ 74 فیصد کے احتساب کرے کہ میاں ذرا دکھاؤ، آپ لوگ؟ کیا حساب کتاب کر رہے ہو؟ نہیں! کبھی نہیں… وہ تو ہمارے محافظ ہیں، وہ تو مقدس گائے ہے… اسے کون پوچھے….
    اس ملک پہ نہ تو کسی منتخب نمائندے نے حکومت کی ہے اب تک نہ دکھائی دے رہا ہے…. یہاں ٹوپی والے ہیں… جو عوام کو تو اب تک ٹوپی پہنا کر، کبھی نظام مصطفیٰ کی بات کر کے تو کبھی ماڈرن انلائینٹنمینٹ کے واہیات نعرے پر زلیل کر رہے تھے اور ساتھ میں ضیاء کی باقیاتی ادارے نے امریکہ کے ساتھ بھی ڈبل کراس کھیلنا شروع کیا تھا، جو آج تک تھا، کہ اسامہ مہرے پر امریکا بازی لے گیا…
    اس ملک میں اب بچا کیا ہے کہ اس کو رفو کروا کر کام چلایا جائے؟
    دوستی ٹوٹنے کا رنج نہ کر
    جڑ جو ہوتی تو پیڑ اکھڑتا کیوں…

  3. یہ فوج پہلے کم از کم ہر چند سال بعد خود اپنے ہی ملک کو فتح کر لیا کرتی تھی.اب اس قابل بھی نہیں رہی،اب نچلے درجے کے دس بیس دہشت گرد اس فوج کو یرغمال بنا لیتے ہیں
    یہ اوقات ہو گئی ہے ہماری.

  4. اے وطن کے رنگیلے جوانوں ۔ ۔ ۔اور ان سے بھائ اظہر الحق کا خطاب ،۔ آج فوج سے عقیدت کے بت ٹوٹ گۓ ۔ ھم ان کو اپنا نگہبان تصور کرتے تھے ، اور یہ تو اپنی بھی حفاظت نہ کرسکے ، اللہ جانے یہ ھسنے کا مقام ھے یا رونے کا یا صرف تماشہ دیکھنے کا

    چند دن پہلے ایک موقر جریدے میں پاکستان کے دفاعی بجٹ کی تفصیل پڑھ کر آنکیھں کھل گیں تھیں

    پاکستا نکا دفاعی بجٹ 500 ارب سے تجاوز کر گیا ،،اعلی فوج عہدہ داروں کی گرومنگ میں ھی اتنا خرچ ھوجاتا ھے پھر ان رنگیلے جرنیل کرنیل کی رنگین داستانیں ۔ ۔ پاک فوج کی بہادری کی داستانیں تو خواب وخیال ھويئں

    جب کبھی آندھی چلی پتوں پہ ہی آیا عذاب
    اب درختوں کی گھنی شاخوں کو ہلنا چاہیئے

  5. دنیا کی سب سے مہنگی شراب کے کریٹ ہماری فوج کے لئے درآمد کئے جاتے ہیں

  6. یاد کریں ریمنڈ ڈیوس کی با عزّت رہائ سے قبل ہمارے کیانی بھائ نے سعودی عرب کا چکّر لگایا تھا اور شنید یہی ہے کہ انہی کے دست شفقت کے سائے تلے ہمارا دشمن آنکھوں پے بٹھا کے رہا بھی کیا گیا اور رخصت بھی کیا گیا جو اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کی سرحد کے قریب افغانستان میں بیٹھ کر ہمارے گھر کی دہشتگردی کو کمانڈکر رہا ہے

  7. سچ کہا آپ نے ، یہ آل سعود بھی اب آل یہود کا ہی دوسرا نام لگتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

  8. مجھے آج بیگم نصرت بھٹو کی یاد بہت ستا رہی ہے جنھوں نے سیاچین پہ انڈیا کے قبضے کے بعد قوم کو ایک نئی ضیاء الحقی کہ ” سیاچین میں تو ’ گھانس ‘ بھی نہیں اُگتی “ کے جواب میں فرمایا تھا کہ سیاچین کی پلاٹنگ کر دی جائے ، ہمارے جرنیل ایک ہفتے میں پورا گلیشئیر چھڑا لیں گے ۔ یہی بات آج مجھے بھی دہرانی پڑ رہی ہے کہ اگر پورا ملک ان جرنیلوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا جائے تو یہ اپنی اپنی الاٹمنٹ کو بچانے جان کی بازی لگا دیں گے ۔

    مجھے آج ’ جنرل رانی ‘ بھی بڑی یاد آرہی ہے جو ہمارے بڈھے جرنیلوں کو سولہ سال کا گبھرُو جوان بنا کر ان کی رگوں میں وطن کی محبت کا نیا جذبہ اجاگر کر دیا کرتی تھی اور اسی بے موسمی جوانی میں ڈوبے وہ اندھا دھند ہتھیار پھینک دیا کرتے تھے !

    مجھے آج صوفی تبسم مرحوم بھی بہت یاد آرہے ہیں جن کی روح کو تڑپانے کی یوں گستاخی کر رہا ہوں :

    ایہہ پُتر پلاٹوں نئیں ہٹدے
    نہ ایویں ٹکراں مار کُڑے
    ایہہ ڈالراں دے وچ تُلدے نیں
    تُوں لبھدی پھریں اُدھار کُڑے
    ایہہ لاڈلے پیارے ’ بُش بامہ ‘ دے
    جہیڑے ساڈھے سپہ سالار کُڑے

    اور مجھے آج ملکہ ترنم بھی بڑی یاد آرہی ہیں کہ جن کا ترنم ان کے جسم میں ایسی بجلیاں دوڑا دیا کرتا تھا کہ ’ محمد شاہ رنگیلوں ‘ کو یہ تک بھی یاد نہیں رہا کرتا تھا آیا کہ وہ ٹائیلٹ میں ہیں یا کھڑے کھڑے اپنی پتلونوں میں ہی ۔۔۔۔۔۔؟

    اے وطن کے سجیلے جرنیلو
    میرے لہو کے چھینٹے تمھارے لئے ہیں

    میری دھرتی کے رنگیلے جرنیلو
    اس بدن کے چھیتڑے تمھارے لئے ہیں

    خودی کو اپنی خود ڈبونے والو
    ڈالروں کے ذخیرے تمھارے لئے ہیں

  9. ساتھیوں اس وقت شائد میں رنجیدہ جذ بات کے سبب پاکستانی فوج کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکی ہوں ، ہماری فوج کا بڑا حصّہ ان تمام مراعات سے محروم ہے جن سے دو فیصد اعلٰی فوجی مستفید ہوتے ہیں باقی کا حال تو پاکستان کے کچلے ہوئے عوام کی ہی طرح ھے ،تو یہ جو آئ ایم ایف کا اور ورلڈ بنک کا ڈالر ڈھونگ ہے تو یہ بھی اسی دو فیصد مراعات یافتہ فوجیوں کی جیب میں جاتا ہے جنہیں اب صرف امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک کر بھیک مانگ کر اپنے اکاؤنٹ بھرنے ہیں ،
    ایبٹ آباد کا کمیشن بنتا تو کیسے اسامہ بن لا دن کی لاش تو تربیلا میں فریز کی رکھّی تھی ،امریکہ کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کی دھمکی کے بعد وہ لاش ایبٹ آباد پاکستانی ہیلی کاپٹر میں لائ گئ اور پھر سارا ڈرامہ کھیلا گیا ،اس ڈرامے کی اجازت بھی ہمارے فوجی سرخیل نے مرحمت فرمائ
    بیچارے صدر کو اپنے ایوا ن مدہوشی میں صبح معلوم ہوا کہ اسامہ ڈرامہ ڈراپ سین ہو چکا ہے ،،اور مہنگے سوٹ پہننے والے وزیر اعظم اس ڈرامے کو عظیم فتح قرار دے کر پیرس کی سیاحی کو نکل گئے

  10. بات ہر پھر کے دو فیصد عیّا شوں پر آجاتی ہے ،جنرل رانی کتنے فوجیوں کی شب بسری میں حصّےدار ہوتی تھی اس زمانے کے تمام اخبارات میں تفصیل شائع ہو چکی ہے ،صرف گنے چنے چند اعلٰی فوجی ہی تھے ناں !
    جسوقت 71 کی جنگ میں پاکستانی فوجیوں کو احکامات ملے کہ ہتھیار ڈانے کے لئے آجاؤ تو بعض سپاہیوں نے اپنے ہتھیاروں سے خود اپنے آپ کو یہ کہ کر ختم کر لیا کہ ہم ہتھیار ڈانے کے بجائے موت کو گلے لگانا پسند کریں گے
    کارگل فتح کرنے کے بعد جب ہمارے غدّاروں نے پاکستانی سپاہیوں سے کہا کارگل خالی کر دو تو انہوں نے اپنی فتح سے دست بردار ہونے سے انکار کر دیا تھا اب کس طرح ان جری فاتحین سے ہمارے سیاسی ظالمین یا اونچے درجے کے فوجی ظالمین نے کارگل خالی کروایا
    مجھے اس کا علم نہیں ہے لیکن جسم کو گلا دینے والی سردی والے گلیشییئر کو ہمارے غیرت مند سپاہی فتح کر چکے تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور اب یہ نیوی پر حملے میں بیان بازی کہ دہشت گرد اتنے تھے اور اتنے تھے ،سب سے پہلی خبر مع تصاویر کے حملہ آوروں کی جو گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے لی گئ تھی وہ یہ تھی حملہ آور بائس کی تعداد میں تھے اور کئ مظبوط سیاہ گاڑیوں میں جدید اسلحے سے لیس فوجی وردیوں میں ملبوس تھے تین نے مکمّل سیاہ لباس پہنا ہوا تھااور خبر کے ساتھ درج تھا کہ گیٹ کے راستے گاڑیاں داخل ہوئیں ،میں نے خود دیکھیں تھیں تصاویر وہ جوان اور نوجوان تھے اور گاڑیوں میں مستعدی سے اپنا اسلحہ لے کر اندر جارہے تھے اب نالے کا ڈرامہ بنانے والے جانیں کہ کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *