ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہیئے ۔۔۔۔ از۔۔۔ زرقا مفتی

زرقا مفتی میری بہت ہی پسندیدہ شاعرہ ہے .. اورمجھے اس سے بہت پیار ہے کہ میری وہ بہت ہی مخلص دوست ہے اور میرے دل میں اس کے لئے بے حد عزت اور احترام ہے کہ اس کا مشورہ نہایت ہی صائب ہوتا ہے .. بھلا ایسے دلدار اور ایماندار کہاں نصیب ہوتے ہیں .. ایسے بے لوث دوست جو مل جائیں تو ان کی قدر دل سے کرنی چاہیئے .. زرقا تم نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر انتہائی حسب حال اور خوبصورت ترین غزل کہی ہے … داد لو .. اور مبارکباد بھی ..

ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہیئے
پُر خار حسرتوں کو جلا دینا چاہئیے

جب عشق کا نصاب ہی تبدیل ہو گیا
تو نام بھی وفا کا مٹا دینا چاہیئے

ہر شخص ہے غلام یہاں اپنے نفس کا
اخلاص کی روش کو بُھلا دینا چاہیئے

برباد ہو چکا ہے مرے دل کا یہ چمن
خوابوں کی تتلیوں کو اُڑا دینا چاہیئے

مانوس ہو چکے ہیں اندھیروں سے اس قدر
تاروں کو اور قمر کو بجھا دینا چاہیئے

اس دیس میں ٹھکانے کے دن بیت ہی گئے
موسم ہے ہجرتوں کا بتا دینا چاہیئے

پندار کی شکست نے بےحال کر دیا
اپنی انا کے بُت کو گرا دینا چاہیئے

آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک
اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیئے

23 thoughts on “ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہیئے ۔۔۔۔ از۔۔۔ زرقا مفتی”

  1. اس دیس میں ٹھکانے کے دن بیت ہی گئے
    موسم ہے ہجرتوں کا بتا دینا چاہیئے

    خدایا اتنا بڑا سچ کیسے لکھ دیا .. یہی سچ ہے یہی ہو رہا ہے .. میں تو رو ہی پڑی ہوں یہ پڑھ کر میری دوست ..

  2. آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
    احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

    یہ شعر شاعرہ کے با ضمیر ہونے کی علامت ہے … اور اسے وہی محسوس کر سکتا ہے جو ضمیر کی چھبن صبح سے شام تک سہتا ہو … جیو میری دوست

  3. ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

    اوہ! کتنی دلسوز پکار ہے .. کتنی بےقرار سی دعا ہے .. .. یوں لگ رہا ہے جیسے ہر صاحب دل کی پکار ہو ..

  4. ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک
    اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیئے

    آہ ! کیسا نوحہ ہے جو دل کے آر پار ہو رہا ہے .. بےبسی کی ایسی تشبیہ وللہ جواب نہیں ..

  5. اسلام علیکم

    بہت خوبصورت بلکہ شاید بقول نگہت ہر دل کی آوا‍ز، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
    احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے
    اللہ آپ کو خوش رکھے۔
    عالم آرا

  6. ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خدا کو اٹھا دینا چاہیئے
    زرقا جی بس اس ایک شعر کے پہلے مصرعےکا ادراک اگر ہوجائے تو آپ سمجھیں کہ کوئی اسی فیصد مسائل حل ہو جائیں۔ پوری کی پوری غزل فکر و شعور کی نشاندہی کرتی ہے

  7. السلام علیکم
    نگہت جی غزل کی پذیرائی کے لئے آپ کی بے حد ممنون ہوں۔ یہ آپ کا حسن نظر ہے جو اسے بلاگ کا موضوع بنا دیا۔
    سچ پوچھیئے تو میں آپ کی محبت و عنایت کا حق ادا نہیں کر سکتی
    سدا خوش رہیئے
    والسلام
    زرقا

  8. السلام علیکم
    محترم ھمدانی صاحب آپ کی توجہ کے لئے ممنون ہوں۔
    اللہ آپ کو سلامت رکھے
    والسلام
    زرقا

  9. زرقا بیٹی ،سلامت رہو ،
    بہترین فکر اور شعو ر و آگہی کی دعوت دیتی ہوئ شاعری ہے ،کاش ہمارے زہنوں کی گرۃ کو ، کوئ تو چیز کھول دے
    برباد ہو چکا ہے میرے دل کا یہ چمن
    خوابوں کی تتلیوں کو اڑا دینا چاہئے
    حقیقت میں دل آج کل انہی جزبات کا مسکن بنا ہوا ہے

  10. پیاری زرقا
    میں آپ کی بہت سی صلاحیّتوں کی پہلے ہی معترف تھی اب آپ کی اتنی بہترین غزل پڑھ کر دل سے
    بے ساختہ یہی صدا نکلتی ہے

    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

    بہت ہی پیاری غزل ہے . نبضِ دوراں پر ہاتھ رکھتی اور دل میں اُترتی ہوئی.
    بہت سی داد قبول کیجےء.

    نگہت آپی اتنی اچھی غزل آپ کی بدولت پڑھنے کو ملی .
    میں اسی لیےء تو کہتی ہوں
    نگہت آپی زندہ باد

  11. ارے واہ ! یہاں تو رونق لگی ہوئی ہے .. ماشاللہ ..
    سائرہ تمہاری نگہت آپی بلاگ فیملی کے بغیر ادھوری ہے .. اس لئے ہم سب زندہ باد
    خوش اور خوشحال رہو .. تمہارے آنے سے ایک حوصلہ سا ہو جاتا ہے …

  12. برباد ہو چکا ہے میرے دل کا یہ چمن
    خوابوں کی تتلیوں کو اڑا دینا چاہئے

    زائرہ بجو واقعی زرقا نے یہ شعر بہت ہی دل سے لکھا ہے .. اس شعر کی خوبی ” چمن” کا لفظ ہے جو دل کی خوبصورتی کے ساتھ باندھا گیا ہے اور چمن کے ساتھ تتلی کا استعارہ خواب کے لئے بہت ہی برمحل اور کمال خوبی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے .. جس سے ایک منظر کا سا سماں پیدا ہوا ہے جس میں پڑھنے والا اپنے اپنے خوابوں کو چلتا پھرتا دیکھ سکتا ہے اور بربادی کا اپنا معیار رکھتا ہے … شعر کا اصل حسن ہی یہی ہوتا ہے کہ تخلیق کار اسے اتنا وسیع تر تخلیق کرے کہ ہر پڑھنے والے کو اپنی بات ہی لگے .. زرقا بجا طور پر اس میں کامیاب نظر آتی ہے .

  13. پیاری زرقا تمہاری محبت سر آنکھوں پر .. اللہ کریم میری عزت دل ونظر میں بنائے رکھے ..آمین

  14. پیاری مسیحا بیٹی ،
    سلامت رہو خوش رہو ،
    واقعی زرقا نے دل کی اداسی دور کرنے کا ایک سبق کے ساتھ ا ہتمام کردیا،ورنہ تو آج کل ، میں تم اور ہم سب جس کیفیت سے گزر رہے ہیں زرقا خود بھی اسی کیفیت سے گزر رہی ہے لیکن اس نے اس کیفیت کو دلی جذبات کی ایک دھیمی دھیمی لو جو دی ہے وہ بہت پر اثر ہے ،اللہ تعالٰ اس کی مشق سخن کو اور بھی چار چاند لگائے آمین ،
    دعاگو
    زائرہ بجّو

  15. السلام علیکم
    عالم آرا بہن، سائرہ بہن اور زائرہ آنٹی میں آپ سب کی ممنون ہوں
    والسلام
    زرقا

  16. بہت خوب زرقا جی ۔۔

    جب عشق کا نصاب ہی تبدیل ہو گیا
    تو نام بھی وفا کا مٹا دینا چاہیئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوریہ اشعارتوکمال ہیں ۔۔۔
    آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
    احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

    ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

  17. بہت بہت خوب۔۔۔

    آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
    احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

    ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

  18. اسلام و علیکم

    بے حد خوبصورت غزل ایک ایک شعر اپنے مطالب و معنی میں لا جواب ہے .. آپی جان بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اتنی خوبصورت غزل کو یہاں بلاگ میں لگایا جیس کی وجہ سے مُجھے اتنی اچھی شاعری کو پڑھنے کا موقع ملا . ایک تو پڑھائی اور دوسرا گرمی سے بےحال ہوں . .. پھر جو حالات ہیں ملک و قوم کے تو بس پر سانس ہی جیسے خود پر بھاری ہے ..

    اس غزل کو پڑھ کر دل کے احساسات بہت عجیب سے ہو گئے ہر شعر جیسے آج کے دور کی صورت کو مکمل طور سے عیاں کیئے ہوئے ہے ..

    ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

    روز ہی ایک حشت برپا رہتا ہے آس پاس .. بلکل سہی کہا زرقا آپی نے اب سچ میں ہی حشر اُتھا دینا چاہئے خدا کو . وہ ایک حشر ان روز روز کے محشروں سے نجات دے دیں گے .. بہت بہت خوب ..

    ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک
    اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیئے

    واہ واہ .. کیا بات ہے .. اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیئے بےشک ..

    خدا کرے زور ِ قلم اور زیادہ …

  19. بہت پیاری اور بہت عزيز بہن اور بہت خاص دوست ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو، سب سے پہلے تو خوبصورت لب ولہجے کی منفرد انداز میں شعر کہنے والی زرقا مفتی کی اتنی عمدہ شاعری ھم تک پہچانے پر بہت سارا پیار اور بہت ساری مبارکباد قبول کرو،

    زرقا مفتی جی بھر کر داد لو، دل ودماغ صبح صادق کے لطیف اور زندگی بخش جھونکوں کی طرح تروتازہ ھوگیا ھے
    …
    ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہیئے
    پُر خار حسرتوں کو جلا دینا چاہئیے

    جب عشق کا نصاب ہی تبدیل ہو گیا
    تو نام بھی وفا کا مٹا دینا چاہیئے

    ہر شخص ہے غلام یہاں اپنے نفس کا
    اخلاص کی روش کو بُھلا دینا چاہیئے

    برباد ہو چکا ہے مرے دل کا یہ چمن
    خوابوں کی تتلیوں کو اُڑا دینا چاہیئے

    مانوس ہو چکے ہیں اندھیروں سے اس قدر
    تاروں کو اور قمر کو بجھا دینا چاہیئے

    اس دیس میں ٹھکانے کے دن بیت ہی گئے
    موسم ہے ہجرتوں کا بتا دینا چاہیئے

    پندار کی شکست نے بےحال کر دیا
    اپنی انا کے بُت کو گرا دینا چاہیئے

    آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
    احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

    ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

    ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک
    اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیئے

    ساری غزل بہت آچھی ھے ھر شعر پر صف اول سے آخری نشت پر بیھٹے سخن شناس واہ واہ کررھے ھيں زبردست دوست

    شکریہ میری بہت پیاری دوست ڈاکٹر نگہت نسیم اتنے خوبصورت انتخاب کا سلامت رھو

  20. السلام علیکم
    ناصر صاحب غزل کی پذیرائی کے لئے ممنون ہوں
    والسلام
    زرقا

  21. السلام علیکم
    ثمرین پڑھائی سے وقت نکال کر اس غزل پڑھنے کے لئے شکریہ
    اللہ آپ کو ہر امتحان میں کامیاب کرے
    والسلام
    زرقا

  22. السلام علیکم
    شاہین جی
    آپ کی داد میرے لئے بہت معنی رکھتی ہے
    غزل پڑھنے اوراسے سراہنے کے لئے آپ کا شکریہ
    اللہ آپ کو سلامت رکھے
    والسلام
    زرقا

  23. بہت خوب۔۔۔
    ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

    اتنا ذو معنی ہے یہ شعر کے الفاظ نہیں ہیں میرے پاس اسکی تشریع کے۔۔۔۔

    اکژ مصیبت ذدہ لوگ یہی دعا مانگتے ہیں اب
    الفاظ میں معاشرےسے فنا مانگتے ہیں اب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *