عالمی اخبار کی بلاگ فیملی کا ایک معتبر نام فاطمہ ابرار جنہیں میں اپنے دل کی بات اپنا غمگسار سمجھ کر بتا دیاکرتی ہوں ۔۔انہوں نے ہر موقع پر میری دلجوئی کی ، میری ہمت بندھائی ہے ۔ میں اکثر سوچا کرتی ہوں کہ واقعی فاطمہ اللہ کا انعام ہے ۔۔ فاطمہ جہاں جس گھر میں ہو جس کے ساتھ ہو وہ خوش نصیب ہو جاتا ہے ۔۔ نام کی نسبتوں پر میر ایقین ہمیشہ سے ہے اور فاطمہ انہیں اور بھی تقویت دیتی ہیں ۔۔ آج ان سے حسب معمول اپنے لئے دعا کا کہہ رہی تھی اور وہ ہمیشہ کی طرح اپنایت بھرے انداز میں میر احوصلہ بڑھاتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ “ جی ضرور خدا اپنا فضل وکرم کرے وہ بہترین شفا دینے والا ھے اور وھی ھر حاجت مند کا حاجت روا ھے ۔ آپ ھر وقت اپنے ساتھ دعاؤں میں شامل پائیں گی“ ۔۔
میں نے دل سے کہا .. بے شک وہی ہمارا حاجت روا اور شفا دینے والا ہے ۔۔
پھر باتوں باتوں میں فاطمہ بہن نے ایک بہت اچھی تجویز دی ۔۔ کہنے لگی کہ “ نگہت بہن میں کچھ دنوں سے غیر حاضر تھی لیکن ھم وہ ھیں جن کے ھونے یا نہ ھونے سے فرق نہیں پڑتا۔ خیر میں کہہ رھی ھوں عالمی اخبار کے بلاگ میں تبصرے کے لیئے اپنی ذات کی ایک اچھائی اور ایک برائی سب بیان کریں اور پوری سچائی کے ساتھ اپنی ایک اچھائی برائی کو بلاگ میں شامل کریں اگر آئیڈیا پسند آئے توعمل کر ڈالئے ۔۔ اپنی ذات سے ملنا اچھا ہے کھبی کھبی “
میری اچھی بہن فاطمہ آپ سے دل کی جولگن لگی ہے وہ آپ کا یوں مجھ سے اتنی محبت کرنا ہے ۔۔ آپ کی کمی بہت رہتی ہے ۔۔ یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں اور میں کوشش نہ کروں ۔۔ فاطمہ آپ اتنی اچھی شاعرہ ہیں ۔۔ اتنی اچھی نثر نگار ہیں ۔۔ اتنی بہترین سوچوں کی مالک ہیں ۔۔
میں بتاؤں آپ کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے ۔۔ آپ کبھی مایوس نہیں ہوتی اور نہ مجھے ہونے دیتی ہیں ۔۔ مجھے ناز ہے کہ آپ میری دوست ہیں ۔۔ میری دینی بہن ہیں ۔۔ واقعی فاطمہ خود سے بھی ضرور ملنا چاہئے ۔۔ آئے ہم سب اس بار خود سے ملتے ہیں ..

فاطمہ جوکام مجھے سب سے مشکل لگا کرتا ہے آپ نے اسی کا حکم دے دیا ۔۔اور وہ بات ہے اپنی ذات کو سچائی کے آئینہے میں دیکھنا ۔۔ اتنا بد رونق چہرہ دیکھنا کہاں اپنے بس میں ۔۔ لیکن جیسا کہ آپ نے کہا کہ کبھی کبھی اپنے آپ سے ملنا چاہیئے ۔۔ لیجئے ملتے ہیں .. یوں تو میں بحثیت انسان کچھ اچھائیوں اور کچھ برائیوں کا مجموعہ ہوں لیکن وہ برائیاں جو مجھے ہر وقت مشکل میں رکھتی ہیں وہ کچھ یوں ہیں ..
میری برا ئیوں میں سب بڑی برائی جو مجھے ہمیشہ مشکل میں رکھتی ہے وہ ہے میرا ہر کسی پر یقین کر لینا ہے .. کبھی کبھی مجھے سچ اور جھوٹ میں اتنی پہچان نہیں ہو پاتی جتنی ہونی چاہیئے .. جس کی وجہ سے ہر طرح کا نقصان اٹھانا پڑ جاتا ہے ..
دوسروں کے حق کے لئے بولنا مجھے مشکل میں رکھتا ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات دشمنوں میں رہتی ہوں .. اور لوگ مجھے نیچا دکھانے کے لئے میرے نام سے وہ بات بھی منسوب کر دیتے ہیں جو میں نے کی تو کیاسوچی بھی نہیں ہوتی .. اور جب مجھے اپنے حق کے لئے ایک گواہی چاہیئے ہوتی ہے تو وہ بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتی .. …
پھر ایک بات جو مجھے اپنی بلکل پسند نہیں وہ ہے کسی بڑے کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کا ہوم ورک نہ کرنا جس کی وجہ سے ناکامی اکثر مہنہ کھولے کھڑی رہتی ہے . ..
فیصلہ کرتے وقت اکثر خود سے زیادہ لوگوں کے مشوروں پر اعتبار کرنا ..
کتابیں پڑھنا اور ٹی وی دیکھنابہت پسند ہے جس کی وجہ سے میرے ساتھ رہنے والوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے ..
اپنے دین کی معلومات میں کمی اور اپنی بے عملی مجھے اکثر تکلیف اور شرمندہ رکھتی ہے ..
بچوں کو اپنے جیسے بچپن میں دیکھنا چاہتی ہوں یعنی آج کی حقیقت سے واقف نہیں رہنا چاہتی ..
جب کوئی بات بس میں نہیں رہتی تو اپنا سر ریت کے اندر رکھ دیتی ہوں اور خود کوسب اچھا ہے کی گولی دے کر سلا دیتی ہوں .. یعنی فرار ..
مستقبل کی پلاننگ اور بجٹ بنانے سے میر ادور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے .. جس پر ہر وقت سب کی سنتی رہتی ہوں اور خود کو کوستی رہتی ہوں کہ آخر میرا کیا ہو گا ؟
اپنی بے بسی اور عمومی بے حسی مجھے انتہائی بدتمیز بنانے کے لئے کافی ہوتی ہے . پھر میں صرف ہذیان کہتی ہوں جس پر مجھے شرمندہ ہونا پڑتا ہے .. یعنی غصہ کسی کا نکلتا کسی پر ہے
میری اچھی عادت یہ ہے کہ باوجود دکھ اور تکلیف کے ہر ایک کے کام آنے کی کوشش کرتی ہوں اور بلا مفاد سب کا بھلا چاہتی ہوں .. اور اپنی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے انتہائی سنجیدہ رہتی ہوں اور اللہ کریم سے عاجزی سے خود کو سدھارنے کی دعا کرتی رہتی ہوں اور ہر ممکن اپنی برائیوں پر قابو پانے کی کوشش بھی کرتی رہتی ہوں ..اور چھوٹی موٹی کامیابی کبھی مل بھی جاتی ہے .. الحمدو للہ
اپنے آپ سے ملنا مشکل مرحلہ ھے ذات کی آگہی وعرفان گو اللہ کے نیک بندوں کا خاصہ ھے اولیاء اللہ کی راہ ھے
لیکن ھمیں بھی اندازہ ھونا چاھیئے کہ ھماری کون سی بات ذات کو نامکمل کر دیتی ھے
میری سب بڑی برائی میرا غصہ ھے جو مجھے اکثر آ جاتا ھے اور جب یہ غصہ ختم ھوتا ھے تو پھر پتہ چلتا ھے کہ بے بات غصہ کیا اتنی بڑی بات تو نہ تھی
اور میری اچھائی یہ ھے کہ گو کہ بڑی نہیں کہ میں ھر حال میں دوسروں کام آنا چاھتی ھوں کسی لائق تو نہیں لیکن پھر بھی دوسروں کے لیئے بہت کچھ کرنا چاھتی ھوں جس کا جو کام میری دسترس میں ھو ضرور کرتی ھوں
”یوں تو میں صرف برائیوں ہی کا مجموعہ ہوں” ڈاکٹر نگہت صاحبہ آپ کی مندرجہ بالا تحریر میں بس یہی ایک جملہ قابل گرفت بھی ہے اور کفران نعمت بھی.
دراصل خود کو اپنی ہی عینک سے دیکھنا اور اپنے ہی قد میں رہنا بہت بڑا وصف ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ خود کو میری طرح فرقہ ملامتیہ کا فرد بنا لیا جائے. ڈاکٹر صاحبہ آپ تو کیا کوئی ایک فرد بھی اس روئے زمین پر ”صرف برائیوں کا مجموعہ” نہیں ہے کیونکہ یہ اس خالق و مالک کے عدل اور ذات کے خلاف ہے.
دراصل سوائے معصومین کے ہم سب برائیوں اور اچھائیوں کا مجموعہ ہیں اور یہی اس فانی دنیا میں ہمارا امتحان ہے.
تاریک سے تاریک کونے میں بھی ایک روشنی کی کرن کی جگہ ہوتی ہے. بڑے سے بڑے قاتل کی حیات میں بھی بہت سے لمحات نیکیوں کے ہوتے ہیں. بس کسی نابینا کو سڑک پار کروا دینا،کسی روتے بچے کو چپ کروا دینا،کسی چڑیا کے بچے کو زمین سے اٹھا کر گھونسلے میں رکھ دینا.ایسی معمولی نیکیاں بھی بعض اوقات عشروں کی عبادات پر حاوی ہو جاتی ہیں.
ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دور حاضر ایسا بے بصر اور بے دید ہے کہ آپ نے تو کوئی بات اپنے بارے میں کسر نفسی سے کہی لیکن اس عہد کے لوگوں نے اسے آپ سے ہی منسوب کر کے کہہ دیا کہ وہ تو خود کہتی ہیں کہ میں ”صرف برائیوں کا مجموعہ ہوں.” یہ ظاہر پسند دنیا الفاظ اور بیان کو بھی ظاہر کی آنکھ سے دیکھتی ہے باطن تو اتنے میلے ہیں کہ خود اپنے کو دیکھنے کے لیئے بھی ذاتی تقطیر کا عمل درکار ہے
ویسے فاطمہ ابرار ہیں رابعہ بصری کی فکری فیملی کی خاتون اور بلاگ کا یہ موضوع ہے بھی کمال کا.
مجھے زرا سا وقت درکار ہے کہ اس موضوع پر نہایت ایمانداری سے کھُل کر لکھوں.
میں اپنے آپ سے ملنے چلا ہوں…………….پہلی قسط
…………………………………………………….
میں جانتا ہوں چلنا ہے تلوار پہ مجھے
صفدر میں اپنے آپ سے ملنے چلا ہوں آج
…….
نکلا تھا گھر سے ڈھونڈنے منزل کا راستہ
رستے میں خود سے اپنی ملاقات ہو گئی
…..
کل رات کرنے بیٹھا تھا خود اپنااحتساب
اک لمحہ کر سکا نہیں خود کو معاف میں
……
شہتیر میں نے دیکھا نہ تھا اپنی آنکھ کا
اسکو سزا سناتا بھلا کس طرح سے میں
……
افسوس اک ذرا سا نہیں ہے اگرچہ آج
سچ بولنے نے کر دیا اپنوں سے دور دور
……
کہنے پہ اسکے خود سے ملاقات کی مگر
صفدر میں اپنے آپ سے مل کر اداس ہوں
…..
مری ناکامیوں کا مجھ کو یہ باعث نظر آیا
کسی کی بے وجہ تعریف کی عادت نہیں مجھ میں
……….
صفدر مری نظر سے نقائص پہ غور کر
پہلو ضرور خوبی کا ہوتا ہے نقص میں
…..
نفرت منافقت سے رہی عمر بھر مجھے
صفدر میں چل سکا نہ زمانے کے ساتھ ساتھ
……
صفدر مری رگوں میں لہو کربلا کا ہے
بیعت یزید وقت کی کرنا محال ہے
…..
تعریف اپنی سن کے میں ہوتا نہیں ہوں خوش
میں خود سے آشنا ہوں یہی وصف ہے مرا
……
فقط تمہی سے نہیں اختلاف کی باتیں
خود اپنے آپ سے صفدر ہے اختلاف مرا
….
سوچو کہ کس عذاب سے گزرا مرا وجود
خود آئینہ شکستہ ہوا مجھ کو دیکھ کر
……
حصے میں کوئی اور وراثت نہ آسکی
سچائیوں کا درس ملا باپ سے مجھے
…..
گناہ گاروں کی فہرست میں ہے نام مرا
خدا کا شکر کہ درباریوں میں نام نہیں
لیجئے بابا میں اپنے الفاظ درست کئے لیتی ہوں … کفران نعمت کا تومیں سوچ بھی نہیں سکتی .. آپ کی توجہ کے لئے ممنون ہوں .. آپ کی سر پرستی اور راہبری میری خوش نصیبی کے سوا کچھ اور نہیں .. سلامت رہیں
میں اپنے آپ سے ملنے چلا ھوں کی دوسری قسط کا انتظار رھے گا سرا اور آپکے بلکہ تمام بلاگ فیملی اس موضوع میں شریک ھوں ھو سکتا ھے آپ اچھائی ھماری ذات کاحصہ بن جائے آمین
نفرت منافقت سے رہی عمر بھر مجھے
صفدر میں چل سکا نہ زمانے کے ساتھ ساتھ
السلام علیکم
میری سب سے بڑی کمزوری غصہ ہے. غلط بات پر غصہ آ جاتا ہے اور پھر سامنے والے کی شامت. مگر یہ شامت صرف اُن کی آتی ہے جن پر میں اپنا حق سمجھتی ہوں . میرے بچے میرے شوہر اور میرے بہن بھائی میرے غصے کی زد میں آ جاتے ہیں.
ایک اچھی بات شاید یہ ہے کہ میں ہر کسی کی مدد کرنے کو تیار رہتی ہوں لیکن جھوٹا وعدہ نہیں کرتی.
والسلام
زرقا
میری بہت پیاری بہن اور بہت عزيز دوست ۔ھم سب کی مسیحاء اور بہترین راہنمائ کرنے والی معالج ڈاکٹر ںکہت نسیم ، سلامت رھو خوش رھو۔ خوش حال رھو نیکی اور خود احتسابی کی جو شمع تم نے روش کی ھے اللہ پاک اسکی پاکیزہ روشنی سے ھمارے سئیات کو حسنات میں تبدیل فرما دے آمین ثمہ آمین
اس سے پہلے کہ میں اپنی خامیوں کی ڈکشنری کھولوں پہلے اپنے طرز کے ممتاز ومنفرد قلم کار فکر وفراست کا سرچشمہ محترم المقام جناب صفدر رضا ھمدانی صاحب نے
کس قدر خوش اسلوبی سے اپنے احساسات کو شعری قالب میں ڈھالا ھے۔ خاص کر یہ شعر تو انکا نمائندہ شعر ھے، اللہ کرے زروقلم اور زیادہ
صفدر مری رگوں میں لہو کربلا کا ہے
بیعت یزید وقت کی کرنا محال ہے
….
سوچو کہ کس عذاب سے گزرا مرا وجود
خود آئینہ شکستہ ہوا مجھ کو دیکھ کر
……
حصے میں کوئی اور وراثت نہ آسکی
سچائیوں کا درس ملا باپ سے مجھے
اسّلام علیکم محترم ہم نشینوں ،اللہ تبارک و تعالٰی تم سب کواپنے ،اپنے آشیانوں میں شادو آباد رکھّے
اور فاطمہ ابرار اتنا اچھا شعوری بلاگ دینے پر بہت سی دلی دعائیں قبول کرو ،
اس میں کوئ شک نہیں ہے کہ انسان اگر واقعی اپنی زات کے عرفان کو پہچان لے تو وہ خود اپنی نظروں میں گر جاتا ہے لیکن اپنی زات میں زمانے سے ماورا ہو جاتا ہے ،پھر اس کا جینا اس کا مرنا ،اس کی ہر،ہر سانس اس کے خالق کے نام ہو جاتی ہے ،پہلے زمانے میں جب خانقاہی نظام رائج تھا اسوقت پھر بھی اپنی زات کے عرفان کے لئے مدرسہ تھا آج کا انسان اس نعمت سے محروم ہو چکا ہے
بہر حال تمہارے شعور ی بلاگ کے مطابق جب میں نے اپنے آپ سے ملاقات کی تو اپنے اندر ناقابل بیان حد تک ساری برائیا ں ،کچھ کچھ اچھائیوں کے ہمراہ موجود پائیں میری پہلی برائ ہے کہ ،میں انقلابی فطرت لے کر پیدا ہوئ ہوں اس لئے حالات کو جو ں کا توں دیکھنا میری فطرت کے خلاف ہے ،اس لئے جب بھی زمانے کی پرواہ کئے بغیر انقلابی کام کئے زمانہ میرے اوپر سنگ باری کو تیّار ملا
میری اچھّائ یہ ہے کہ چاہے میرا کوئ کام کتنا ہی ضروری ہو اور ایسے میں کوئ مجھ سے اپنا کام کہ دے تو میں اپنا کام چھوڑکر اس کاکام پہلے کرتی ہوں ،میں نے ایسے کام کر کے اپنے اللہ کے گھر سے بہت منافع کمایا ہے الحمد للہ ،باقی میرے اندر وہ تمام خامیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جن کا زکر مسیحا بیٹی نے اپنے بلاگ میں کیا ہے
میں بھی ہر کس و ناکس پر اعتبار کرلیتی ہوں ،یہاں تک کہ اللہ تعالٰی کی جانب سے سرزنش نا ہو جائے کہ میں غلطی پر ہوں ،
جیسا کہ صفدر بھیّا کہنا ہے کہ ،انسان برائیوں اور اچھائیوں کا مجموعہ ہے
مجھے اپنی شعوری عمر کے ہر دور کی کوئ نا کوئ چھوٹی چھوٹی کی ہوئ نیکیا ں بھی یاد ہیں اور غلطیاں بھی یاد ہیں ،صرف غلطیا ں نہیں سنگین غلطیاں جو سر زد ہوئیں ،جن کے عذاب بھی میں نے ہی اپنی کم فہمی کے سبب بھگتے ،لیکن جیسے ہی مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے آپ کو سدھار سکتی ہوں میں نے اللہ پاک سے گڑگڑا کر کہا اے اللہ مجھے ایسا بنادے کہ میں تجھے پسند آجاؤں ،پاؤں قبر میں آگئے مگر ابھی تک تو آثار نظر نہیں آ رہے ہیں ،یہ فکری بلاگ ہے اور وقت کی تنگی درپیش ہے ،اس لئے دوبارہ حاضر ہونے کی کوشش کروں گی ،لیکن
آج کے تمھارے بلاگ سے یقین جانو دل کو بے حد راحت ملی ہے
زائرہ بجّو
ایڈمنٹن ،کینیڈا
فاطمہ ابرار خوش رھیں آپ واقعی بہت خوش بخت ھیں ۔کہ آپ کو ڈاکٹر نگہت نسیم جیسی بے لوث اور پرخلوص دوست ملی ھے ، ایک ایسی دوست جس کا خمیر صرف محبت سے گندھا ھے ، اور جو تھکن سے چور مایوس انسانوں کو اتنا تروتازہ اور پرعزم بنا دیتی ھے کہ وہ آسمان سے ستارے توڑ لانے کی ھمت کر بیھٹتا ھے،
لیجے اب آپ سب تیار ھوجایئۓ کہ ھماری خامیوں کی ڈکشنری کھلتی ھے۔ مجھہ میں بہت ساری بشری کمزوریاں ھیں جو مجھہ پر اکثر غالب رھتی ھیں میں بھی اپنی نرم دلی کے باعث بہت نقصان اثھاتی ھوں مگر کبھی خسارے میں نیہں رھتی ،
میں نے کبھی نیہن سوچاتھا کہ کھبی اتنی خاص باتیں کسی سے شيئر کرونگی ۔ میرے شوھر مجھہ سے عمر میں بہت بڑے تھے ، اور وہ غصے کے بہت تیز تھے ، ان کے سارے گھر والے انکے غصے سے بہت ڈرتے تھے مگر میں نے کھبی ان سے بدتمیزی نیہن کی کھبی پلٹ کر ان کو جواب نیہن دیا، ھم 24سال ساتھہ رھے، اور بہت مشکل اور تکلیف دہ وقت گذرا مگر اللہ پر توکل کی وجہ سے میں کھبی نیہن گبھرائ اور میں نے بہت ایثار کیا، یہاں تک کہ اپنی رحمدلی کے باعث قاھرہ میں اپنا گھر بھی بہت ھنسی خوشی عادل بے بچوں کو دیدیا، اور اس کے بدلے میں اللہ پاک نے مجھے بے پناہ صبر وسکون کی دولت عنایت کی ، اب بھی لوگ مجھے کہتے ھیں کہ اپنے شوھر کی اتنی خدمت کی اور کچھہ نہ ملا، مگر میں ان کو بتا ھی نیہن سکتی کہ مجھے اس کے بدلے اللہ پاک نےکن نعمتوں سےنوازہ میری جاب، میرا کویت میں کرایہ کا سہی مگر ایک بہت پرسکون گھر جہاں بہت ساری کتابوں کی رفاقت میں زندگی بہت اچھی لگتی ھے اور مجھے اللہ پاک نے قناعت کی دولت عطا کی ، مجھے لوگوں کی خدمت کرکے بہت زیادہ خوشی ملتی ھے، اور مجھے اپنے غصے پر بہت قابو ھے، میری جاب بھی ایسی ھی ھے جہاں میری صبر والی عادت بہت کام آتی ھے،میری بري عادت یہ ھے کہ میں کھبی مستقبل کی پلاننک نیہن کرتی ھوں ۔ میرا ایمان ھے کہ جو شے میری قسمت میں ھے اس کو مجھہ سے کوئ نیہن چھین سکتا ھے، ۔ میری ایک ھی دعا ھوتی ھے کہ اللہ پاک مجھے ایسے لوگوں سے دوستی کرنے کی توفیق عطا فرماۓ جو مجھہ سے مل کر خوش ھوں اور میں انکے کسی کام آسکوں ،
واہ واہ شاہین تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی .. یہ جو نقصان اور خسارے کا فرق تم نے سمجھایا ہے نا وللہ جواب نہیں .. اور سنو جو تم نے ابھی خوشخبری بھیجی ہے اس پر تو واری صدقے ہو رہی ہوں .. تم اللہ میاں کی لاڈلی ہوتی جا رہی ہو دوست .. اس بار سفارش کر دو میری کہ ان کے حضور میری بھی حاضری ہو جائے …
شاہین نے لکھا ہے کہ …
میری بہت پیاری بہن اور بہت عزيز دوست ۔ھم سب کی مسیحاء اور بہترین راہنمائ کرنے والی معالج ڈاکٹر ںکہت نسیم ، سلامت رھو خوش رھو۔ خوش حال رھو نیکی اور خود احتسابی کی جو شمع تم نے روش کی ھے اللہ پاک اسکی پاکیزہ روشنی سے ھمارے سئیات کو حسنات میں تبدیل فرما دے آمین ثمہ آمین
اس سے پہلے کہ میں اپنی خامیوں کی ڈکشنری کھولوں ، پہلے ایک معجزہ سن لو ، تم کو یاد ھوگا کہ میں نے اپنے سفرنامے حجاز کی ابتداء میں اس خواھش کا ذکر کیا تھا کہ میں امی کا ھاتھہ پکڑ کر عمرے کے دوان انکی اتنی خدمت کروں کہ میرا رب مجھہ سے راضی ھوجاۓ ،ھمارے ٹايمنگ ھی ایسے تھے کہ ھم بیک وقت ایک جگہ پر یکجاء نیہن ھوپاء رھے تھے اسی وجہ سے یہ خواھش پوری نیہن ھورھی تھی ۔ میں سفرنامہ لکھتے ھوۓ رو روپڑتی تھی کہ اے میرے مالک کیا میری نیت صاف نیہن ھے میں دل سے دعا نیہن کررھی ھوں کیہں کچھہ نہ کچھہ کمی ضرور ھے جو میری دعا قبول نیہن ھورھی ھے۔
دو دن پہلے صفدر رضا بھائ ،جو کہ مجھے اتنا ھی عزیز ھے جتنا کسی بھی ماں کو اس کا سب سے لائق اور قابل بیٹا ھوتا ھے اللہ پاک میرے بھايئوں کو سلامت رکھنا اور ساری بہنوں کے بھايئوں کو بھی اپنے حفظ واماں میں رکھنا آمین ثمہ آمین ،بھائ نے فون پر خوش خبری سنائ کہ امی 18 جون کو عمرے کے لیے جارھی ھیں ۔ بس ھم نے اپنی دعاوں سے عرش ھلادیا کہ جس ماں کے قدموں تلے میرے رب آپ نے جنت رکھہ دی ھے اسکی خدمت کا موقعہ عطا فرماء ور مجھے اس سفر میں انکے ھمراہ کردے۔ تو جناب میرے رب نے میری دعا قبول کرلی ھے اور والدہ ماجدہ پاکستان سے اور محترمہ شاھین رضوی کویت سے 23جون کو دوبارہ عمرے کے لیے جارھی ھیں اور اس سفر کا سارا اھتمام و انتظام میرے بہت اچھے بھائ سید صفدر رضا رضوی نے کیا ھے،
میری حالت کا تم اندازہ کرو کہ میں کن آسمانوں پر پرواز کررھی ھوں ۔ باربار اللہ کا گھر میری نظروں کے سامنے آتا ھے مجھے یقین ھی نیہن آرھا ھے ، بس دعا کرنا کہ اللہ پاک میری دعاوں کو قبول فرماۓ اور مجھے نیکی اور سچائ کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ امین
میری دوست میری بہن تمہارا خط پڑھ کر دل خوشی سے جھوم رہا ہے اور یقین کرو رونگھٹے بھی کھڑے ہو گئے یہ سوچ کر اللہ کریم و رحیم اتنا قریب رہتا ہے ہم سے .. میرے خدا تو ہم سب کو اپنے در پر بلانا اور ہماری ساری خطائیں معاف فرما دینا .. ہم سب کوروز حشر خوشخبری عطا کرنا اور اپنے سائے الفت میں جگہ عطا کرنا .. آمین الہی آمین
میری بہت پیاری دوست بہت اچھی بہن اور دنیا کی سب سے بہترین معالج ڈاکٹر نگہت نسیم ،میری چاند ستاروں جیسی ساتھی ۔یہ تو تمھاری دوستی کی کرامات ھیں ۔اور میں تو ھمشیہ یہی کہتی ھوں کہ ھم جیسے گناہ گاروں پر وہ اتنا کرم کرتا ھے نعمتوں سے دامن بھرتا ھے اور ھماری آزمائشوں کو آسائشوں میں تبدیل کرتا ھے تو یہ جو ساری دنیا سے منہ موڑ کر اللہ والے لوگ اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو کرتے ھوۓ جنگلوں بیابانوں میں نکل جاتے ھیں ان پر کیسی برکتوں کا نزول ھوتا ھوگا مجھے تو ان لوگوں پر رشک آتا ھے،
میری نظر جیسے ھی کعبہ پر پڑی تھی تو میں نے اپنی ایک دوست کا گھر آباد رھنے کی بہت دعا کی تھی ، اللہ پاک بحق محمدًُ وآلً محمد ان ساری دعاوں کو قبول فرماء اور اللہ پاک سب کے گھروں کو آیاد رکھنا،سب اپنے گھروں میں شاد و آباد رھیں سکھہ چین سے رھیں آمین ثمہ آمین
اللہ پاک تمھارے قلم سے نکلے ھر لفظ کو شرف قبولیت عطا فرماۓ آمیں یا ارحم الرحمین آمین
میرے خدا تو ہم سب کو اپنے در پر بلانا اور ہماری ساری خطائیں معاف فرما دینا .. ہم سب کوروز حشر خوشخبری عطا کرنا اور اپنے سائے الفت میں جگہ عطا کرنا .. آمین الہی آمین
ژائرہ بجّو السلام علیکُم خدا آپ پر اپنا فضل و کرم قائم رکھے آمین بلاگ کی پسندیدگی میری حوصلہ افزائی ھے شکریہ بہن زرقا مفتی بہن شاھین رضوی میں آپ کی بھی مشکور ھوں کیوں کے پہلی بار عنوانِ بلاگ تجویز کیا اور بہن نگہت نے آپ بلاگ فیملی کے سامنے پیش کر دیا
عزيز بہن فاطمہ ابرار سلامت رھو عالمی آخبار کی فیملی کے روح رواں اور ھماری بہت عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم سب کی حوصلہ افزائ کرتیں ھیں ،ھر ایک کو اتنی محبت اور بہت خاص طریقے سے امتیازي طور پر پیش کرتی ھیں ،میں نے خود اتنے برسوں بعد قلم اٹھایا اور مجھے حوصلہ دینے والی ھم سب بہت عزيز بہن اور دوست ڈاکٹر نگہت نسیم ھی ھیں
واقعی بہت اچھا بلاگ ھے ھم سب پر مختلف کیفیات مختلف اوقات میں طاری ھوتی ھیں کھبی خوشی کا موسم کھبی غم واندوہ کی وحشت ھم سب رنج والم کی ان کیفیات میں مختلف طریقے سے اظہار کرتے ھیں ،اور خوشی و نشاط کی کیفیات کا اثر الگ ھوتا ھے ، ایک کیفیت ھم کو مضمحل کرتی ھے دوسری جوش و مسرت سے ھمکنار کرتی ھے ھم سب کو اپنی خامیوں اور کسی حد تک خوبیوں کا بھی علم ھوتا ھے۔ اور ھم ب انسان ھیں فرشتہ نیہن ، رات کو بستر پر جانے سے پہلے اپنے دن بھر کیے جانے والے کاموں کی قلم ریوائنڈ کرکے دیکھیے آگر تویہ اور استغفار کرتے اسی کیفیت میں بھرپور اور چین سے نیند آجاۓ تو سمجیھں رب نے آپ پر کرم کیا
اللہ پاک کو توبہ استشفار کرتا بشر بہت پسند ھے ، وہ سب کو معاف کرنے والا ھے سب کا پردہ رکھنے والا۔، فاطمہ آپ سے مل کر آچھا لگا ، اللہ پاک آپ کو سب کو ھمشیہ خوش رکھے آمین ثمہ امین
شاہین جی السلام علیکم
آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے ولیوں جیسا صبر عطا کیا ہے. آپ کا دل کسی بچے کی طرح معصوم اور پاک ہے.
میرے لئے بھی دُعا کیجئے
والسلام
زرقا
زرقا تم نے کتنی سچی بات کہی ہے کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے ولیوں جیسا صبر عطا کیا ہے. آپ کا دل کسی بچے کی طرح معصوم اور پاک ہے. .. اللہ کریم نے ہم سب کو کتنا خوش نصیب بنایا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں …
میں نے یہ جانا ہے کہ اگر غصہ پر قابو ہو تو اچھے فیصلے ہو سکتے ہیں .. آپس کے فاصلے کم ہو جاتے ہیں .. اللہ کی خوشنودی دونوں صورتوں میں ساتھ رہتی ہے .. میں پہلے سے بہت زیادہ بدل چکی ہوں لیکن مجھے اور زیادہ نرم خو ہونا ہے ..انشاللہ آج سے پورہی کوشش کرونگی کہ شاہین کی طرح اپنی اس عادت پر بھی قابو پالوں ..
ایک وقت تھا جب مجھے لوگوں کو معاف کرنا کٹھن لگتا تھا جو ہر کسی منٹ پر مجھے رنجیدہ کر دیا کرتے تھے .. میں نے بہت دعائیں کی اور اپنی کوششوں میں برکت کی دعا کی اور اب اللہ کی خصوصی مہربانی سے معاف کر دینا مشکل نہیں لگتا .. ایسا کرتے وقت یہی سوچتی ہوں کہ اگر میں کسی کو معاف نہ کر پائی تو میرا پاک مالک و خالق مجھے کیونکر معاف فرما سکتا ہے .. اللہ کریم و رحیم نے مجھے اس کے صدقے بہت کچھ عطا کیا .. مجھےمحبت عطا کی .. مجھے نظرو دل میں رہنے کا ہنر دیا .. مجھے وہ سب کچھ عطا کیا جس کے بارے مجھ جیسی گنہگار سوچ بھی نہیں سکتی تھی .
یری بہت عزيز اور دل سے بہت قریب دوست ڈاکٹر نگہت نسیم خوش رھو سلامت رھو۔ مجھے تو ایسا لگ رھا ھے کہ ھم سب ایک آرام دہ دوستی اور خلوص کی خوشبو سے معطر سیٹنگ روم میں ایک دوسرے کی قربت میں مسرور اپنے دکھہ سکھہ شيئر کر رھے ھیں۔ مجھے جو بات بہت اچھی لگتی ھے وہ محبت میں اپنے قریبی دوستوں اور بہن ـبھايئوں کو نت نئے القابات سے مخاطب کرنا۔اور میرے پاس بہت بڑا ذخیرہ موجود ھے ،یہ سب میں نے بہت جدوجہد کے بعد سیکھا ھے ، اب تو یہ عالم کے اگر زبان سے کوئ ایسی بات نکل بھی جاۓ تو جب تک دونوں ھاتھہ جوڑ کر معافی نہ مانگ لوں میں خود بے چین رھتی ھوں
درگاہ کی سیڑھی کوگویا پلکوں سے میں نے صاف کیا
جب عرصہ محشر سے پہلے دشمن کو میں نے معاف کیا
شاداب جزیروں کا منظر ھے مسند دل پر اویزاں
مجذوب کی انکھون نے گویا پھتر کو کوہ قاف کیا
ھم لوگ جب عمرے کے بعد طواف وداع کررھے تھے تو میں دعا پڑھتی ھوئ یہ دیکھہ کر حیران ھورھی تھی کہ لوگ کس طرح ایک دوسرے کو دھکا دیتے ھوۓ طواف کررھے تھے ۔ افریقہ کے قوی القامت مضبوط لوگ تو بہت خاص ٹرینگ لے کر آتے ھیں کہ کس طرح ھزاروں کے ھجوم میں سب کو دھکا دیکر راستہ بنانا ھے اور میرا ایمان ھے کہ اللہ پاک نے یہ دینا اسی لیے خلق کی ھے کہ ھم کس طرح ایک دوسرے کا خیال رکتھے ھیں کیسے ایک دوسرے کو سہارا دیتے ھیں ۔یہ دینا تو امحتان گاہ ھے اور ھم سے سب سے زیادہ پوچھہ گوچھہ بھی اسی لیے ھوگی
میری بہت عزيز دوست اور بہت پیاری بہن اکٹر نگہت نسیم ۔ تمھاری یہ باتیں تو آب زر سے لکھنے کے قابل ھیں وا ہ واہ دل جھوم آٹھا یہ سطور پڑھ کر سلامت رھو
ایک وقت تھا جب مجھے لوگوں کو معاف کرنا کٹھن لگتا تھا جو ہر کسی منٹ پر مجھے رنجیدہ کر دیا کرتے تھے .. میں نے بہت دعائیں کی اور اپنی کوششوں میں برکت کی دعا کی اور اب اللہ کی خصوصی مہربانی سے معاف کر دینا مشکل نہیں لگتا .. ایسا کرتے وقت یہی سوچتی ہوں کہ اگر میں کسی کو معاف نہ کر پائی تو میرا پاک مالک و خالق مجھے کیونکر معاف فرما سکتا ہے .. اللہ کریم و رحیم نے مجھے اس کے صدقے بہت کچھ عطا کیا .. مجھےمحبت عطا کی .. مجھے نظرو دل میں رہنے کا ہنر دیا .. مجھے وہ سب کچھ عطا کیا جس کے بارے مجھ جیسی گنہگار سوچ بھی نہیں سکتی تھی .
شفاف آيئنے جیسی پیاری بہن زرقا مفتی اللہ پاک تم کو ھمشیہ اپنے حفظ و آمان میں رکھے بہت خوش رکھے اور بچوں کو اتنا لائق وفائق بناۓ کہ تمھارے سر ھمشیہ فخر سے تشکر سے بلند رھیں آمیں الہی آمین
میں تو بہت عام سی بنت حوا ھوں جو دن بھر میں انگنت غلطیاں کرتی ھے اپنی بے پناہ کمزوریوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتی ھے اچھی بات بھی صدقہ جاریہ ھے۔ میرے نزدیک آدمی کا علاج ھی آدمی ھے ، یقین کرو زوقا مجھے تو بلاگ میں شریک ھوکر تم لوگوں کے تبصرے پڑھ کر تم لوگوں سے اتنا سکیھنے کو ملتا ھے علم کی دولت سے اپنا خالی دامن بھر کر لے جاتی ھون ۔ یہ سب تم سب اجھے دوستوں کی سوغات ھے ،اور اچھا دوست رب کی جانب سے سب سےبہترین تحفہ ھے میری اتنی تعریف کردی ھے کہ مانو پاوں زمیں پر نیہن خوش رھو۔
شاھین حیدر رضوی۔۔۔کیا اچھا اور منفرد فقرہ لکھا ہے آپ نے۔ شاید لکھتے ہوئے آپکو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ آپ ایک نئی اور منفرد بات کر رہی ہیں۔
”تمھارا سر ھمیشہ فخر سے تشکر سے بلند رھے”۔
شاہین جی برسہا برس سے فخر سے سر بلند ہونا سنتے،لکھتے اور پڑھتے آ رہے تھے لیکن آج سر بلندی کا ایک اور رخ سامنے آیا کہ سر تشکر میں بلند ہونا۔ واہ۔ماشااللہ۔ تشکر میں عمومی طور پر سر جھکتا ہے۔ درست ہے۔ لیکن اب آپ نے یہ فکر دی کہ جھکا ہوا سر تو جھکا ہوا ہوتا ہے۔ سوائے اللہ کے حضور کے۔ یہ تشکر سے بلند سر بھی تو اس پاک پروردگار کی سر بلندی کی دلیل ہے۔
سر جھکانا بھی عبادت ہے یہ میں جانتا ہوں
اب ”تشکر” میں بلند ہو گا مرا سر لوگو
وہ سرجو اللہ کے حضوراحساس شکر کی خلعت کی بدولت جھکتے ھیں اس میں عاجزی کی دستار اور سربلندی بھی تو اللہ کے لیے ھی ھوتی ھے، جو سراللہ کے لیے جھکتا ھے، وہ ھمشیہ سربلند ھی رھتا ھے۔
ماں باپ کے لیے تو اس سے بڑھ کر سربلندی کی کیا بات ھوگی کہ دلشاد کرنے والی اولاد نے ان کا مان بڑھایا ھے،
محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب، آپ جانتے تو ھیں کہ میں کتنا بولتی ھون وہ جو سیانے کہتے ھیں کہ پہلے تولو پھر بولو، اب تو تیر کمان سے نکل چکا ھے میرا مقصد تو صرف ایک اچھی سی دعا سے زرقا مفتی جیسی آچھی قلمکار کا دل شاد کرنا تھا مجھے تو بس اتنا پتہ ھے کہ عاجزی ، تشکر کی بدولت اللہ انسان کا سر اتنا بلند کردیتا ھے کہ بندہ جب چاھے ساتوں آسماں چوم لے ،
اسلام علیکم پیا ری بہنو اور محترم بھائیو
بہت محنت سے سب کے ناموں سے مزین تبصرہ لکھا تھا مگر انگلی کی ایک غلط جنبش سب بہا لے گئی ۔آپ سب کے تبصرے انتہا ئی جامع اور دل میں اتر جانے والے ہیں ۔
میری سوچ ہے کہ بہت بہادر ہوتے ہیں وہ لوگ جو خود کو اپنے آئینے میں دیکھتے ہیں اور اپنی زات کے عیب تلاش کر انہیں دور کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں ۔
جب بھی نظر کی خود پر لگا کچھ نہیں ہوں میں
اپنی زات کے سحر سے نکلنا ہی معراج ہے زندگی کی ۔کہیں ایک جملہ پڑھا تھا کہ جب تمہیں اپنی غلطی یا خامی کا احساس ہو تو سمجھو کہ تم میں ایمان ہے اور یہ خوش نصیبوں کوعطا ہوتا ہے ۔
اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ ہم سب کو اپنی رحمت اور فضل سے نوازتا رہے ۔ اور ہماری ان کوششوں کو قبول فرمائے جو ہم خود کو سنوارنے اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے میں استعمال کرتے ہیں ۔
اللہ ہمیں اپنے نیک اور مجاہد بندوں میں شامل رکہے کہ خود سے لڑنا سب سے بڑا جہاد ہے ۔
اللہ آپ سب کو خوش و خرم اور صحت مند رکھے ۔ آمین
دعائوں کی طا لب
عالم آرا
السلام علیکُم پیاری عالم آرا آپا کیا خوب صورت بات کہی ھے اپنی زات کے سحر سے نکلنا ہی معراج ہے زندگی کی ۔کہیں ایک جملہ پڑھا تھا کہ جب تمہیں اپنی غلطی یا خامی کا احساس ہو تو سمجھو کہ تم میں ایمان ہے اور یہ خوش نصیبوں کوعطا ہوتا ہے خوب
بلاگ میں کئی تبصرہ نگار معتبر ناموں کو آنکھیں تلاش کر رھی ھیں
لو بھئ فاطمہ ابرار میں نے کہا تھا کہ میں بلاگ پر دوبارہ آ گئ ،دراصل یہ بلاگ ایک آئینہ ہے جس میں ہر اس شخص کو اپنا چہرہ ضرور دیکھنا چاہئے جن کے ظرف کے پیمانے چھوٹے ہوں تو اس بلاگ کی تحریریں پڑھ کر خود بہ خود بڑے ہو جائیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہین بیٹی تمھاری تحریر کی سچّائ بہت پسند آئ کہ تم نے اپنے شوہر کا وہی احترام کیا جو ہماری تہذیب و اقدار کا تقاضہ ہے آج کل کی لڑکیوں میں یہ صبر تحمّل ہی تو ختم ہو گیا ہے جو ازدواجی زندگی کو استحکام بخشتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسیحا بیٹی ،تھا ر ی عاجزانہ انکسار کی فطرت ہی تم کو سماج میں ممتاز کرتی ہے ،اور پھر اس کے باوجود بھی تم اپنی مزید اصلاح کے لئے سوچتی ہو تو سمجھ لو کہ یہی من جانب اللہ تمھارے لئے ایک اعزاز کی بات ہے ماشاللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہن عالم آرا ،میرے ساتھ بھی اکثر یہی مسئلہ ہو جاتا تھا ،اب ہاتھو ں کو زرا کنٹرول کر کے کام کرتی ہو ں تو کافی بہتری ہے
آپ کا بلاگ تو مجھے ویسے بھی پسند ہے ،اور اس تحریر میں بھی آپ نے خوبصو رت باتیں لکھی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر بھیّا کی شاعری میں نے بار بار پڑھی اور ان کے الفاظ میں اپنا بھی احتساب کیا یہی اچھّی شاعری کا کمال ہے کہ اس کو جو بھی پڑھے اس کو اس میں اپنا ہی عکس نظر آئے ،میں نے اس شاعری کے آئینے میں جب اپنے آپ سے ملاقات کی تو دل چاہا ایک مرتبہ پھر سے توبہ کا عمل کر لوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرقا بیٹی میں تمھارے علم سے بہت متاثّر ہوں ،مجھے دنیاکی کوئ دولت حسن وجاہت امارت متا ثّر نہیں کرتی ہے لیکن میں علم سے مرعوب ہو جاتی ہوں ،اور تمھارا باوقار علم تمھاری تحریروں میں جھلکتا ہے ،ماشاللہ
اسلام علیکم بہن فاطمہ ابرار اللہ آپ کو بہت خوشیوں سے مالا مال کرے آمین
آپ نے میرے دل کی بات کر دی واقعہی بہت سے معتبر ناموں کو آنکھیں تلاش کر رہی ہیں ۔
اللہ ان سب کو صحت اور تندرستی کے ساتھ خوش رکھے ۔اور ہم پھر ان کی تحربریں پڑھیں ۔
عالم آرا
اسلام علیکم محترم بجو اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔
آپ کی ہمت افزائی میرے لئے اعزاز ہوتا ہے ۔ آپ کی دعاؤں کی طلبگار ہوں ۔
آپ نے صحیح فرمایا احتیاط لازم ہے ۔مگر بجو بعض اوقات کچھ باتبں شاید کسی درس کے لئے ہوتی ہیں جیسا میرے ساتھ ہوا ۔ جب میرا لکھا سب کچھ میری ہی انگلی کی جنبش سے ختم ہوگیا تو مجھے لگا کہ اسی طرح ہماری خطاؤں سے ہماری نیکیاں بھی دھل جاتی ہیں ، اور میں اور زیادہ محتاط ہو گئی ۔مجھے لگا کہ یہ بھی میرے لئے ایک سبق تھا بس فائدہ اٹھانا میرا کام ہے ۔
اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین
عالم آرا
بہن عالم آرا ،جیتی رہئے
آ پ کی دعائیں ہی تو ہیں جو میری ہمّت بندھی رہتی ہے ،بلکل درست کہا آپ نے کہ کچھ باتیں شا ئد کسی درس کے لئے ہوتی ہیں ،میں خود بھی یہی کہتی ہوں
گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں ،
زندگی ایک میدان جنگ ہی تو ہے لیکن گر جانے کے بعد جو اٹھنے کا یارا نہیں رکھتے ،دنیا ا نکو اپنے پیروں تلے روند کر گزر جاتی ہے اور جو گرتے ہی سنبھل کر کھڑے ہوجاتے ہیں ،اللہ ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو کھڑا کر دیتا ہے میں بھی اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں
آ پ کا انداز تخاطب بہت اچھّا لگا
دعاؤں کی طلبگار
آپ کی زائرہ بجّو
عژیژ دوستوں اسلام علکیم ،
اللہ پاک آپ سب کو ھمشیہ اپنے حفظ وامان ومیں رکھے، امین ثمہ آمین
میری نظریں بھی بہت سارے معتبر ناموں کو ڈھونڈ رھی ھیں ۔امید ھے کچھہ ھماری آواز پر ابھی آجايئنگے اور کچھہ تھوڑی دیر بعد ۔ اس موضوع پر انکی بیش قیمت راۓ کا بھی انتظار رھے گا،
زائرہ بجو اور آچھی بہن عالم آراء آپکی دعايئں حوصلہ بڑھاتی ھیں اور باتیں دل بڑھاتیں
ابھی تو اس بلاگ میں محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی میں اپنے آپ سے ملنے چلا ھوں کی دوسری قسط کا بھی انتظار ھے،
بہت اچھے اور خوشگوار دنوں کی دعاوں کے ساتھہ
اسلام علیکم
پیاری بہن شاھین سلامت رہو سکھی رہو
صفدر ھمدا نی بھائی کی تحریر کا انتظار ہے ۔
آپ جیسی بہنیں اچھی باتیں کرنے کی طرف مٹوجہ کرتی ہیں ، عیں بھی آج کل ان ناموں کو تلاش کر رہی ہوں ہر بلاگ پر ،جن کے تبصرے رونق بخشتے تھے ۔
ساتھ ہی اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ سب بخیر و عافیت ہوں صحت اور تندرستی کے ساتھ آمین
بجو آپ کی محبت اور دعا کا شکریہ بس مجہے دعا ؤن میں باد رکھئے گا ۔میں بھی آپ سب کے لئے دعا کرتی ہوں ۔کہ یہ ایک ایسی نیکی ہے جس پر کچھ خرچ نہیں ہوتا ۔
جزاک اللہ خیر
اللہ ہم سب کو نیکیاں کرنا آسان کر دے آمین
عالم آرا