پاکستانی عوام شاید دنیا کی سب سے بڑی بے وقوف قوم ہے ، جو جذباتی تو ہے ہی ، مگر عقل سے بالکل پیدال ہے ، ججوں کو بحال کرانے کے لیے سارا پاکستان سڑکوں پر نکل آیا ، اور پھر ایسا لگا کہ جسٹس چوہدری کے بحال ہوتے ہی انصاف کا دور دورہ ہونا شروع ہو جائے گا ، مگر ہوا کیا ، ادھر عوامی عدلیہ بحال ہوئی ، ادھر جج بک گئے ، شاید میری بھلکڑ قوم کو یہ بھی یاد نہ ہو کہ بحالی کے چند دن بعد ہی ججوں کی تنخواہوں میں تاریخی اضافہ کیا گیا ، اور خاص کر اعلٰی عدلیہ کے عملے کی تنخواہیں دو گنا بڑھا دی گئیں ، کیوں ۔ ۔ ۔ اسلیے کہ سب کو پتہ ہے کہ جب وکیل نہ بکے گواہ نہ بکے تو جج کو خرید لینا چاہیے ، سو جج بک گئے ، اب جب جج بکے تو ماتحت ججوں نے تو بکنا ہی تھا ، کونسی بھوکی ننگی عوام ، ان محلوں میں بیٹھ کہ نظر آتی ہے ، سب جج اور ہمارے حکمران تو وہاں رہتے ہیں ، جہاں پر جانے والوں کے پر جلتے ہیں ۔ ۔
عدلیہ بحال ہوئی ، عوام نے سوچا کہ چیف نے چار پانچ سو موٹو لیے ، عوام نے کہا لو بھئی اب تو انصاف ملے گا ، مگر یہ تو ڈھکوسلہ تھا ، عدلیہ کو عوام کے مسائیل کی جگہ حکمرانوں کے مسائیل بہت ہی زیادہ ضروری لگے ، سو بڑی عدالتوں نے بڑے لوگوں کے بڑے بڑے کیس پکڑ لیے ، آخر وکیلوں کو بھی تو حق دلوانا تھا ، جو کروڑوں میں کیس کو لے رہے تھے ، اب بھوکے ننگوں کے کیس کو کوئی کیا ہے ، جو ہر پل یہ ہی کہتے ہیں کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
اعلٰی عدالت کو این آر او برا لگا ، سو مہینوں اس پر گزار دیے ، شریف سیاست دانوں کی دُم پر کوئی پاؤں نہ رکھے یہ کیس ضروری تھا ، سب سے ضروری کیس تو دیکھیں ، بھٹو کا کیس ، عوام تو اس کے کیس کے بنا زندہ نہیں رہیں گے ، صدر کے دو عہدوں کا کیس ، اس کے بنا تو عوام کو روٹی کا مسلہ حل ہی نہیں ہو سکتا ، ارے ہاں یاد آیا عدلیہ کو آئین کا تحفظ بھی تو کرنا ہے ، اس آئین کی وجہ سے پاکستان میں دودھ کی نہریں بہ رہی ہیں ، اگر یہ کیس عدلیہ نہیں کرے گی ، تو اسمبلی کیسے پیدا ہو گی؟
اب آپ نے کہنا ہے کتنا بے وقوف ہے اظہر یہ بھی کوئی بات ہے ، بھئی اعلٰی عدلیہ کا کام اعلٰی لوگوں کے کام کرنا ہے ، چھوٹے ، کمی کمینوں کے کام کرنے کے لیے ضلعی سطع سے لیکر شہری سطح تک عدالتیں موجود ہیں ، جی ہاں موجود ہیں ، اور انصاف کا بول بالا بھی کر رہیں ہیں ، سچ کہا ہے میں نے ؟ ارے نہیں ، نہیں نہیں اب جج بھی پیٹ رکھتے ہیں ، فیملی رکھتے ہیں ، اور جیسے ہمارے ملک کے صدر کی وجہ سے ہر جیالا خود کو زرداری سے کم نہیں سمجھتا تو ایک سیشن جج اپنے آپ کو جسٹس چوہدری سے نیچے کیسے سمجھے ، اور اعتزاز اگر ایک کیس کے کروڑوں لیتا ہے تو ایک چھوٹا وکیل تو لاکھ سے کچھ کم لینا حق سمجھتا ہے ۔ ۔ ۔ اب انصاف تو خریدنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں
اب تو یہ حشر ہو گیا ہے کہ طاقتور اگر کوئی جرم کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جائے ، تو وہ سب سے پہلے عدالت سے رجوع کرتا ہے کہ اسے پتہ ہے کہ عدالت کبھی بھی اس کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکے گی ، اور کیس اتنا طویل ہو جائے گا کہ سب ہی بھول جائیں گے اور یا پھر کوئی اور واقعٰی ہو جائے گا جس کا کیس اس کا ٹائم پاس کروا دے گا، میرا ایک بہت پرانا اسٹیج ڈرامہ تھا اس کا ایک ڈائلاگ آج بھی یاد آتا ہے ، جو ایک برسوں کی مقدمے میں خوار شخص کے ہیں
کالے کوٹ (وکیل) ، کالی وردی (پولیس) اور کالے کرتوتوں (مجرم) والے سب ایک جیسے ہیں ، کالے کرتوت کالی وردی کی آڑ میں کیے جاتے ہیں ، اور اگر کوئی پکڑا جائے تو کالا کوٹ اسے بچا لیتا ہے اور کالا کوٹ بھی نہ بچا سکے تو کالا قانون انکا محافظ بن جاتا ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔ سب کالا ہے ، سب اندھیرا ہے ، یہ کیسی رات جو ختم ہی نہیں ہوتی ، کالی رات ، کالا اندھیرا کالا کوٹ کالا قانون سب کچھ کالا ۔ ۔ ۔ ۔ سب کالا
اور آج جب ایک مجبور آدمی نے خود کو اس کالی عدالت کے احاطے میں کالے اندھیرے کو دن کی کالی روشنی میں جلا کہ اندھیرا ختم کرنے کی کوشش کی تو جانے کیوں ایسا لگا کہ اس عدالت میں انصاف بھی کالا ہو گیا ، اور سب کالوں نے بھی اپنے منہ پر کالک مل دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور اب انصاف بھی کالا ہو گا ۔ ۔ ۔ کالا انصاف

کالا انصاف،کالی عینک اور کالا قانون
جہاں دل سیاہ ہو جائیں وہاں روشنی بھی تاریکی بن جاتی ہے اور جہاں بجلی سمیت عوام کو میسر آنے والی بنیادی سہولتیں صرف اشرافیہ کو ہی میسر ہوں وہاں سیاہ شیشے والی گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے کالے دلوں والے لوگ،کالی عینکیں لگا کر کالے قانون بناتے ہیں اور انہی کالے قوانین کا نتیجہ کالا انصاف ہے
ھم محترم صفدر ھمدانی صاحب کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتے ہیں
مثال مشہور ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے اندھے کو صرف اندھیرے کی عادت ہوتی ہے اور کالے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور جب منصف ہی کالا عینک لگا کر انصاف بانٹے گا تو دن کی روشنی بھی کالی لگے گی سیاہ شیشے بھی صرف سیاہ کارنامے سر انجام دینے والوں تک محدود ہو گئے ہیں ، ایم ان اے، ایم پی اے، منسٹر ، جیالے اور ۔۔۔۔۔ اور تو اور اب تو بلدیہ کا اڈمنسٹریٹر بھی کالے شیشوں کی گاڑی میں گھومتا ہے اور اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ! اسی کو کہتے ہیں اندھا بانٹے ریوڑی اپنوں اپنوں کو دے!!!!!!!!!!!!
اطہر صاحب ابھی ایک بلاگ میں آپ نے پوری شد و مد سے ثابت کیا کہ پاکستان تو دنیا کی بہترین مملکت ہے، یہاں ٹیلنٹد لوگوں کی بھر مار ہے، ہم کسی سے کم نہیں، کہیں مار کھانے والے نہیں، پھر اسطرح کی باتوں کی کیا فائدہ؟۔۔۔۔شو مئی قسمت
مصباح بھائی ہمارا مسلہء ہی یہ ہے کہ ہم ہر لحاظ سے ٹاپ پر ہیں
مثبت ٹیلنٹ میں بھی اور منفی قابلیت میں بھی
اصل میں ہم میں اعتدال نہیں
میں جب تنقید کرتا ہوں تو بھی اسکا ہدف ہمارے وہ لوگ ہوتے ہیں جو طاقت کے نشے میں ہمارے ٹیلنٹ کو تباہ کرتے ہیں، ناانصافی اس میں سر فہرست ہے
اور رہی بات کہ میں شد و مد سے ثابت کرتا ہوں کہ میرے ملک میں ٹیلنٹ ہے تو وہ بھی اظہر من الشمس ہے ، قسمت کا کوئی قصور نہیں ، کہ کچھ قسمت ہمارے ہاتھ میں ہے
میرا مسلہ یہ ہے کہ میں قوم کا نوحہ بھی پڑھتا ہوں اور طربیہ گیت بھی گاتا ہوں ، یہ ہی میرا مشاہدہ ہے ، اور میرا فرض ہے کہ تصویر کے دونوں رُخ دکھاؤں . . . اب دیکھنا قاری کا کام ہے کہ اس میں کالا کتنا ہے اور سفید کتنا ہے . . .
اظہر میں حیران ہوں کہ تمہیں کیوں دکھ ہوتا ہے کالے قانون اور کالے انصاف پر .. اللہ گواہ ہے اس پوری کائینات میں جس قدر ظلم ، تششدد اور بے حرمتی کوئی کر سکتا ہے تو مسلمان ہے اور جن کی بے حرمتی اور تذلیل دل سے کر کے خوش ہوتا ہے وہ بھی مسلمان ہی ہے … آؤ زرا یک بار پھر بھائی مصباح حسین جیلانی کا لکھا ہوا مضمون ” تاریخ امام جعفر الصادق علیہ السلام” پڑھتے ہیں .. اور مل کر سوچتے ہیں کیا جو کل ہوا وہ گزر گیا تھا یا چہروں کی فرق کے ساتھ اسی کا تسلسل باقی ہے .. یا پھر ہم ان یزید حاکموں اور بنو امیہ اور بنو عباسی سے بھی گر گئے …
ظالم ظالم ہے .. اس کا ساتھ دینا بھی ظلم کی حمایت ہے … لیکن سبحان اللہ … جب سیدنا حسن ظالم کو ظالم کہتے ہیں تو صبر اور ضبط سے زہر کو منہ لگا لیتے ہیں .. وہیں جب سیدنا حسین ظالم کو ظالم کہتے ہیں تو کربلا بپا کر دیتے ہیں .. آج ہمارے پاس دونوں ہی مثالیں ہیں .. حالات نہیں بدلے .. صرف انسان اور اس کی جذبہ حمیت و غیرت بدل گیا ہے .. اسی بات کا فائدہ ہمیشہ سے اغیار اٹھاتے آئے ہیں … اسی لئے تو مسلمان کو تھورا سا آرام کر کے اعلی صادق جاگنے کو فضیلت ہے کہ جب اغیار سویا کریں مسلمان اپنا منصب ادا کریں .. اظہر بھائی وقت یہ ہے کہ مسلمان دن چڑھے تک سوتا ہے اور اغیار سوتے ہی نہیں …
لیجئے مصباح حسین جیلانی کا لکھا ہوا مضمون ” تاریخ امام جعفر الصادق علیہ السلام” سے چند اقتباس حاضر ہیں .. شاید کالے انصاف کا اس سے واضح تشریح میں نے دے سکونگی
1.ولید بن عبد الملک امام سید الساجدین علیہ السلام کا قاتل تھا جس نے زہر دے کر امام علیہ السلام کو شہید کروایا ( بحوالہ نور الابصار و صواعق محرقہ)۔ اسی شخص نے مدینہ آمد پر حضرت حسن مثنیٰ بن امام حسن علیہ السلام سے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کا گھر زبردستی خالی کرایا اور انہیں مدینے سے باہر رہنے پر مجبور کر دیا
2.ہشام نے امام باقر علیہ السلام کو قتل کروایا اور امام سجاد علیہ السلام کا قصیدہ گو مشہور شاعر فرزدق بھی اسی کے دور میں فوت ہوا جو ممکنہ طور پر اسی کی زہر کا اثر تھا
3.ہشام نے اپنا جا نشین ولید کو بنایا جو یزید بن معاویہ کی تصویر تھا۔ اس شخص نے خانہ کعبہ کی چھت پر بیٹھ کر قرآن پاک کو پھار ڈالا اور کہا کہ جا اپنے خدا سے میری شکایت کر لینا۔ اسی نے اپی کنیز کو حالت جنابت میں لباس خلافت پہنا کر نماز کی جماعت اس سے کراوئی۔ اس نے حضرت یحیٰ بن زید بن علی زین العابدین کو انتہائی بے دردی سے شہد کروایا۔ ولید کو اس کے بھائی یزید نے اسکے فسق و فجور کے سبب قتل کروا کر خلافت پر قبضہ کر لیا۔
4.زید علیہ السلام کے ساتھ کوفیوں نے حسب دستور دغا کیا اور آپ 122کو یا 123 ہجری میں نہایت بے دردی سے اسی ساتھیوں کے ساتھ شہید کر دئیے گئےاور آپکی نعش مبارک چار سال تک کوفے میں یوسف بن عمر سقفی حاکم شہر نے لٹکائی رکھی۔
5.منصور نے جہاں سادات کے ساتھ محبت کرنے والوں پر مظالم ڈھائے وہیں سادات کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ۔ اس نے حسنی و حسینی سادات کو چن چن کر قتل کروایا اور ان کے خون سے گارا بنا کر دیوارین تعمیر کیں
کیا بدلا ہے .. ..کوئی مجھے بتائے کیا بدلا ہے ..؟