خونچکاں ہے دل مرا

خونچکاں ہے دل مرا
یہ کربلا ہے کربلا
وہ راکھ راکھ ہوگیا
گھروندہ اک غریب کا
دھماکہ جس جگہ ہوا
تھا کل وہاں پہ گھر مرا
یہ ڈیھیر سارا راکھ کا
جلا ہوا ہے دل مرا
وہ رونقیں کہاں گئیں
وہ میکدہ کدھر گیا
چراغ سارے بجھ گئے
جو دیس تھا وہ جل گیا
نہ کارگر ہوا وہاں
اثر کسی کی آہ کا
لہو کی بارشیں ہوئیں
کہ دیس سارا دُھل گیا
عجیب لوٹ مار ہے
عجیب ہے یہ ولولہ
عجیب تاج پوش ہیں
عجیب ہے یہ ماجرا
یذید شرمسار ہے
کہ پیچھے وہ تو رہ گیا
رُکے گا کیا ظفر کبھی
یہ کُشت وخوں کا سلسلہ

9 thoughts on “خونچکاں ہے دل مرا”

  1. بہت خوب۔ا ٓپ کی نظم میں قلم پر آپکی گرفت کیا خوب طریقے سے عیاں ہے اور جسطرح سے موضوع کو مسلسل منظر کشی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے وہ نہایت مشاق شاعر کا ہی کام ہے۔ چھوٹی بحر میں نظم کہنا از خود ایک کمال ہے۔
    خدا کرے زور قلم اور بھی بڑھے۔

  2. مصباح صاحب

    آپ کا تبصرہ میرے لئے باعثِ ہمت ہے۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس نظم کی اتنی تعریف ہوسکتی ہے۔

  3. خونچکاں ہے دل مرا
    یہ کربلا ہے کربلا
    وہ راکھ راکھ ہوگیا
    گھروندہ اک غریب کا
    دھماکہ جس جگہ ہوا
    تھا کل وہاں پہ گھر مرا
    یہ ڈھیر سارا راکھ کا
    جلا ہوا ہے دل مرا
    وہ رونقیں کہاں گئیں
    وہ میکدہ کدھر گیا
    چراغ سارے بجھ گئے
    جو دیس تھا وہ جل گیا
    نہ کارگر ہوا وہاں
    اثر کسی کی آہ کا
    لہو کی بارشیں ہوئیں
    کہ دیس سارا دُھل گیا

    امن کے جو سفیر ہیں
    وہ کہہ رہے ہیں برملا
    کہ آن کر پڑوس میں
    تمہارے قتل کردیا
    تمہاری آستین کا
    جو سانپ تھا وہ مرگیا

    کہاں کہاں پہ بم گرے
    عجیب ہے یہ حادثہ
    کہ بستیاں اُجڑ گئیں
    عجیب ہے یہ سانحہ
    پیاس تھی بجھا گئے
    سوا سو تیرِ حُرملہ

    عجیب لوٹ مار ہے
    عجیب ہے یہ ولولہ
    عجیب تاج پوش ہیں
    عجیب ہے یہ ماجرا
    یذید شرمسار ہے
    کہ پیچھے وہ تو رہ گیا
    رُکے گا کیا ظفر کبھی
    یہ کُشت وخوں کا سلسلہ

    اس نیم آزاد نظم میں میں نے کچھ اور اشعار شامل کردئے۔ آپ کی تنقید اور تبصرے میری مدد کریں گے۔

  4. تصحیح

    ٰٰ سانپٰٰ کی جگہ ٰٰ مار ٰٰٰ ہونا چاہئے۔

  5. اسلام علیکم ‎‎ظفر جعفری بھائ
    بہت اچھی اور پر اثر کوشش ہے ،
    اللہ کرے زوربیاں اور زیادہ ،
    میرا خیال ہے کہ سانپ زیادہ مناسب ہے ، کیونکہ آستین کے ساتھ زیادہ تر بولا جاتا ہے ،
    ویسے تو مار آستین بھی کہا جاتا ہے مگر میری راۓ ہے کہ سانپ ہی رہنے دیں ۔
    عالم آرا

  6. اس ہی زمین میں ایک غزل جو دس منٹ پہلے ہوئ۔

    غزل

    آپ جو جلوہ گر ہوگئے
    چاند تارے مفر ہوگئے
    فاصلے مختصر ہوگئے
    آپ جو ہمسفر ہوگئے
    شوق پھر سے جواں ہوگیا
    آپ نورِ نظر ہو گئے
    کھوکے بینائ اہلِ نظر
    پھر سے اہلِ نظر ہوگئے
    اُن کی آمد کی سُن کر خبر
    راستے نغمہ گر ہوگئے
    حُسن آراء سے حُسنِ صبیح
    جب ملے تو قمر ہوگئے
    چاند بدلی میں چُھپنے لگا
    آپ رشکِ قمر ہوگئے
    ذرّے قطرے جو کچھ بھی نہ تھے
    جب ملے بحر وبر ہوگئے
    ہے کرامت اک انسان کی
    ہم سے وحشی بشر ہوگئے
    اے مری جاں، اے جانِ غزل
    تو ملی ہم ظفر ہوگئے

  7. معذرت خواہ ہوں کہ غزل یہاں غلطی سے چسپاں ہوگئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *