آم ثمر بہشت اور بانسری روح کی سوئیٹ ڈش

قتل غارت گری کے اس خونی عہد میں ایک خبر نظروں سے گذری ۔جو ھمارے خوش لباس اور ھم حال میں خوش خرم وزیر اعظم گیلانی صاحب کے متعلق تھی کہ انکے چہرے سے مسکراھٹ اس وقت بھی نیہن ختم ھوتی جب وہ کسی سانحے پر بات کرتے ھیں ، انکے کردار پر شکن ھوسکتی ھے مگر لباس پر نیہن ، وزیراعظم ملتان کے بہت معتبر گھرانے سے تعلق رکھتے ھیں پیری فقیری سے بھی لگاو ھے انکے بہت سارے احباب ھیں جن کو وہ اپنی زرعی زمینوں پر کثرت سے آگنے والے پھل بھی تحفتا بھیجتے ھیں ۔

موسم گرما کا خوش ذائقہ اور خوش شکل اور خوش رنگ پھل آم
غالب و اقبال کامن پسند پھل

ھر خاص وعام کا پسندیدہ پھل

وزیراعظم ان دنوں اسی ثمر بہشت کے ذریعے سفارت کاری میں مصروف ھیں پلہے تو انھوں نے اسلام آباد مںموجود سارے سفارت خانوں کو دو دو کارٹن آم بھیجے ھیں

اور اب دینا بھر کے سیاست دانوں سربراھان مملکت۔ بادشاھوں کو یہ خوش ذائقہ پھل بھیج رھے ھیں

ان خوش نصیبوں میں بھارتی وزیراعظم من موھن ، امریکی صدر اوباما۔ھینلیری کیلنٹن، سعودی شاھی خاندان ،برطانوی شاھی خاندان ترکی کے صدر اور وزیراعظم فرانسسی صدر، چینی صدر برطانوی وزیراعظم ایرانی صدر اور روسی صدر ملتان اور سندہ کے بہترین خوش ذائقہ اور خوشبودار چونسا اور انوررٹول اور ثمر بہشت کے تحائف پاکر پاکستان سے متعلق انپی پالیسی تبدیل کرلینگے ۔اور رھا سوال بانسری کا تو مجھے بانسری کا خیال تاریخ کے بدترین حاکم نیرو کی موسیقی سے بے پناہ لگن سے آیا۔ کہ اس بدبخت حاکم نے پورا روم سپرد آگ کردیا اور وہ اپنے محفوظ محل سے آگ کے شعلوں میں گھرے روم کو جلتا دیھکہ کر اپنی بانسری بجاتا رھا ۔ ھمارے سیاست دان بھی تو یہی کر رھے ھیں ۔پاکستان جل رھا ھے مگر ھمارے صدر اور وزیر اعظم کی مصروفیات اور شوق دیکھیے ،

19 thoughts on “آم ثمر بہشت اور بانسری روح کی سوئیٹ ڈش”

  1. ، نیرو کے فرسٹ کزن ھمارے صدر اور وزیراعظم تو اتنے خوش حال ھیں کہ چاھیں تو یورپی ممالک کے پورے پورے جزیرے خرید لیں ، انھوں نے یہ دولت بہت محنت سے جمع کی ھے، اسی لیے اس کو انھوں نے اپنی آنے واالی نسلوں کے لیے غیر ملکی بنیکوں میں چور ڈاکووں کی پہچ سے دور رکھا ھے اور پاکستانی عوام سے بہت دور بہت محفوظ رکھی ھے ان کے پاس اتنی دولت ھے کہ قومی خزانے کو جس طرح چاھیں سیاہ وسفید کریں کوئ پوچیھنے والا نیہں ، جیسے نیرو کو روم کی تعمیر کا شوق آٹھا ، آلات موسیقی اور رقص سے لطف اندوز ھوتے ھوۓ اس نے حکم صادر کیا کہ روم کو تعمیر کرنا چاھتا ھے ،کسی درباری نے کہا کہ روم کی تعمیر تو مکمل ھوچکی ھے ، مگر اس نے آگ لگانے کا حکم دیا ایک ھفتے تک یہ آگ پورے روم کو خاکستر کرتی رھی 14 خوبصورت شہرون میں سے 10خوبصورت ترین شہر اپنے حاکم کے ھاتھوں لگائ آگ کے نذر ھوگے اور نیرو خود ایک محفوظ جگہ بیھٹا بانسری بجاتا رھا ،

    میں سوچتی تھی کہ وہ لوگ وہ بے رحم حاکم کیسے ھونگے ، انکے پھتر یلے اور سفاک دل کھبی نرم نیہن ھوتے ،

    آج زرپرست ، شرپسند حاکموںاور نیرو میں مجھے بہت ساری باتیں مشترک نظر آيئن ۔ اب اس سے زیادہ کوئ پاکستان کو کیا نقصان پہنچاۓ گا جنتا نیرو کے فرسٹ کزن پہچا چکے ھیں
    میرا پیارا وطن شدید ترین خطرات سے ھوچار ھے 70کڑور لوگوں کا پاکستان دھشت گردی کی لپیٹ میں آچکا ھے معاشی بوجھہ تلے ادھ مرے لوگ ۔ھر روز مر رھے ھیں ، کبھی اپنوں کے ھاتھوں کھبی امریکا کے ھاتھوں کھبی دشمن کے ھاتھوں کھبی دوستوں کے ھاتھوں ۔کھبی آفات کے ھاتھوں ۔کھبی ایم کیو ایم کے ھاتھوں کبھی پی پی کے ھاتھوں کھبی خوکش حملوں کے ذریعے کھبی ڈرون حملوں کے ذریعے کھبی مہنگائ کے ھاتھوں ۔ کھبی سخت ترین گرمی میں بجلی کی کم یابی کے باعث ۔۔۔

    موت آگر مفدر ھے تو کیوں نہ بہادروں کی موت مرنے کی تمنا کی جاۓ ۔نہ کہ بگھوڑے سیاست دانوں کی طرح ۔

  2. سید یوسف رضا گیلانی 9جون 1952 کو جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان میں پیدا ھوۓ گیلانی ملتان کے بہت بااثر پیر وجاگیر دار گھرانے سے تعلق رکھتے ھیں 1974 میں پنجاب یونیورسٹی سےصحافت میں ایم اے کرنے والے پاکستان کے 24ویں وزیراعظم ھیں ،ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کی گدی نشین ھونے کی وجہ سے ملتان میں انکے گھرانے کی بہت عزت کی جاتی ھے ، ملتان پیروں فقیروں اور گدی نشینوں کا شہر ھے ، ملتان کی گرمی ، گدا ، اور گرد ضرب المثال ھیں اور اسی طرح سید یوسف رضا گیلانی کی موسم گرما کے مشہور پھل جنت کا میوہ آم کے حوالے سے روائتی مہمان نوازی کے بھی چرچے ھیں ، جب گیلانی آڈیالہ جیل میں تھے تو انھوں نے اپنی کتاب” چاہ یوسف سے صدا بھی تھی “ کاش ھمارے سب سیاست دان جیل جايئں اور پھر اپنی سوانح عمری احاطہ تحریر میں لايئں ۔ اس طرح عام لوگ بھی قومی خزانے کو کیسے لوٹا جا‎ۓ اور کس طرح مللک وقوم کی امانت کو میں کس طرح خیانت کی جاۓ ، جیسے طریقوں سے عام لوگ بھی خواص کی طرح روشناس ھوسکیں گے ۔ ھمارے ملک میں پڑھے لکھے سیاست دانوں کی بہت کمی ھے پرانے زمانے میں جب حاکم پڑھے لکھے ھوتے تھے اور جعلی ڈگریوں کا فیشن عام نہ ھوا تھا تو رعایا اور بادشاہ دونوں کیابیں لکھتے ، بابر نے بھی اپنی کتاب تزک بابری میں تاریخی واقعات کے ساتھہ ثمر بہشت آم کا تذکرہ کیا ھے اردو فارسی کے بڑے شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب بھی آم کے انتہائ شوقین تھے ، آم کی تعریف اس سے بڑھ کر کیا ھوگی کہ آم ھوں اورخوب ھوں ،موسم گرما کا یہ خوش ذائقہ پھل مئي سے ستمبر تک مارکیٹ میں رھتا ھے آم کی 125 سے زائد اقسام ھیں اور ھمارا پیارا وطن پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ آم پیدا کرنے والا تیسرا مللک ھے پکا ھوا رسیلا آم اپنی تاثیر کی بدولت انسانی صحت پر بہت خوشگوار اثر ڈالتا ھے زود ہضم ھونے کی وجہ سے یہ بہت جلد جزو بدن بنتا ھے

    آم کا استعمال دل دماغ اور جگر کے لیے بہت مفید ھے

    آم کولون اور بریسٹ کینسر میں بہت فائدہ مند ھے ٹیومر میں بھی استعمال کیا جا تا ھے اس میں کیلشیم ۔ گلوکوز پوٹاشیم فولاد پایا جاتا ھے یہ حافظے کو قوی تر کرتا ھے ،سخت ترین گرمی میں کیری پر نمک لگا کر کھا نے سے پیاس کی شدت کم ھوجاتی ھے
    آم کا گودا، چھال ، تخم ، پتے ، پھل گھٹلی سب دوا ھیں ذیابیطیس کے مرض میں وہ سوکھے پتے جو خودبخود زمین پر گر جاتے ھیں
    ان کو خشک کرکے ان کاسفوف بنایا جاۓ اور پھر اس سفوف کو صبح وشام دوگرام پانی کے ساتھہ استمعال کرنے سے بہت فائدہ ھوتا ھے

    آم جس قدر میٹھا اور رسیلا ھوگا اسی قدر گرم ھوگا ، یہ چہرے کی رنگت کو نکھارتا ھے اس میں حیاتین الف اور ج ديکر پھلوں سے بہت زیادہ ھوتے ھیں ،

    آم حاملہ عورتوں اور بچوں کے لیے بہت مفید ھوتے ھیں ،
    آم ھوں اور خوب ھون ،بارش کے موسم میں گرماگرم پراٹھوں ،اور ام کے آچار کے ساتھہ دیر سے ٹھنڈے پانی میں بھیگے ھوۓ ام کھانے کا لطف ھی کچھہ اور ھے ، آم کے آم گھٹلیوں کے دام ، یہ ضرب المثال بھی آم ھی پر صادق آتی ھے ۔گرمیوں میں کیری کا شربت ، مینگو شیک ، کچے ام یا کیری کا آچار ھر دسترخوان کی زینت بنتے ھیں ، آم گرمیوں میں خوب کھاۓ جاتے ھیں او رآم روٹھے ھوۓ دوستوں کو منانے کابھی بہت خوبصورت ذریعہ ھے ، یہ دوریوں کو مٹاتا ھے ، اپنی خوشبو اور ذایقہ کی وجہ سے یہ سب کا دل جیت لیتا ھے ، سو آم کی کامیاب سفارت کاری کا موسم ھے اور اس محدو مدت میں جی بھر کر کے اس ثمر بہشت کے ذریعے اپنے روٹھے ھوۓ احباب کو منايئۓ

    آم کی سیکنڑوں اقسام ھیں

    دسہری ، چونسا ،الفوسو، انوررٹول ، لنگڑا ، فجری ، سنڈھری ، غلام محمد والا۔ مالرا، نیلم ، سہارنی

    کے علاوہ لاتعداد اقسام کے آم مارکیٹ میں موجود ھیں ، اس سال سے پاکستانی آم امریکی مارکیٹ میں بھی دستیاب ھونگے

  3. کہتے ھیں کہ موسیقی روح کی غذا ھے ۔موسیقی انسان پربہت دیرپا اور گہرے طریقے سے اثر انداز ھوتی ھے۔

    میں اس سلسلے میں اپنی بہت پیاری دوست اور بہت عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم سے بھی مدد کی خواھاں ھوں کہ ھماری راہ نمائ فرمايئں کہ موسیقی کیسے نفیساتی طور پر مریضوں پر اثر ھوتی ھے ، ؟

    کیا واقعی موسیقی نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کی جاتی ھے؟

    الات موسیقی میں مجھے بانسری بہت پسند ھے ۔لکین مجھے بانسری کی وہ لے پسند ھے جس سے جلتے ھو‎ ۓ شہروں کی آگ بجھہ ھوجاۓ ھر حزین دل میں خوشی بھر جاۓ ، چند سال پیشتر جب مجھے عادل کی بیماری کے باعث ھسپتال میں انکے ساتھہ رھنا ھوتا تھا تو میں راتوں کو سونے سے قاصر تھی ۔ میرے انکل جو صباح ھسپتال میں کام کرتے تھے انھوں نے مجھے ایک ڈیو کیسٹ لا کردی ھے کہ اسکو واک مین میں لگا کر سننا ،

    میں نے فوار ھی وہ آڈیو کیسٹ ایک ایسی دوست کو گفٹ کردیا جس کو نیند نہ آنے کی شکایت تھی اس کے بعد میں نے اسی موسیقی ڈھونڈنے کی مشق شروع کردی جو کسی نہ کسی طرح سے کسی کے لیے پرسکون نیند لانے کا وسیلہ بن جاۓ اور میں اپنی ان دوستوں کی مدد کرسکوں جن کو نیند نہ آنے کی شکایت تھی ، ۔ سچ پوچیھں تو مجھے سونے کے لیے کسی موسیقی کی ضرورت کھبی نیہن پڑی ،میں بستر پر اسی وقت جاتی ھون جب نیند کی دیوی مجھہ سے مایوس ھونے کے بعد اپنے دیوتا کے پاس جانے کی تیاری کرتی ھے اور میں رات کے کسی پہر تسبح پڑھتے ھوۓ بہت اطمینان سے سوجاتی ھوں ،

    موسیقی کیا ھے ؟

    خوشبو اور موسیقی کی تعریف کیسے کی جاۓ

    یہ انسان کے دل ودماغ پر براہ راست اثر انگیزی کی بھرپور صلاحیت رکتھی ھے ۔

    کھبی کھبی بانسری آپ کو حزن اور گہرے دکھہ کے احساس میں مبتلا کردیتی ھے

    موسیقی کی بھی اقسام ھوتی ھیں

    قومی اور علاقائ موسیقی ،قوالی اور مذھبی اشعار پر مبنی موسیقی انسان کی روح کو مسرور کرتی ھے

    آپ سب احباب کی کیا راۓ ھے ، میں تو اکیلے بولتے ھوۓ تھک گی ، ؟

  4. آپکا بولنا اچھا لگ رہا تھا اس لئے میں سن کر انجوائے کر رہا تھا ۔ کچھ لکھنے سے پہلے کسی بھی وقت لائٹ جا سکتی ہے اس لیئے باقی بات بعد میں۔

  5. شاہین بہن احباب کی رائے کی تاخیر نے ھماری معلومات میں بہت اضافہ کیا ھے آم کی اقسام سے لیکر اسکی افادیت اور استمال سب کچھ پڑھنے کو مل گیا
    لیکن
    اس کا مطلب یہ نہیں کہ احباب رائے نہ تحریر کریں
    آم اور بانسری شاید ھی کسی کو نا پسند ھو
    ھاں بلاگ صدر اور وزیر اعظم بھی ھیں جو شاید ھی کسی کو پسند ھوں
    کیوں کے ان کا ذکر کیا تو بانسری کی جگہ بین کا ذکر کرنا پڑے گا

  6. واہ آپی ! آپ جب بھی بولتی ہیں تو کمال کا بولتی ہیں ۔

  7. محترم دوستوں بلاگ میں تشریف لانے اور اسکی رونق بڑھانے کا شکریہ ۔ لیکن مجھے پتہ ھے کہ آپ سب کو میری لکھی ھوئ کسی سطور نے نیہن بلکہ ّ ساری دینا کے پھلوں کے بادشاہ کی میھٹی ،رسیلی منفرد اور لذت بخش خوشبوکھبچ کر لائ ھے ، اب مزہ آۓ گا ناں جب میں آپ سے یہ آچھی خبر شیئر کرونگی کہ اس سال امریکہ میں بھی پاکستانی آم دستیاب ھونگے ،شکاگو آیئرپورٹ پر انکی آمد سے پاکستانی آموں کے لیے ایک بہت بڑی مارکیٹ بھی مل جاۓ گی
    ،پاکستان سے آۓ ھوۓ سنہری رنگت والے یہ خوش ذائقہ صحت بخش اور غذايئت کے لحاظ سے بے مثال پھل امریکہ میں 30ڈالر میں تقریبا 6 آموں کے پیک دستیاب ھونگے ،اس کے برعکس ھندوستانی آم الفانسو لوس انجلس اور شکاگو کے علاوہ ديگر ریاستوں میں بھی دستیاب ھیں ۔ ثمر بہشت اور ّپھلوں کے بادشاہ آم کی کاشت دینا کے 40 سے زائد ممالک میں کی جاتی ھے یہ خوش نظر اور خوش ذائقہ پھل اپنی لاتعداد خصوصیات کی بناء پر ھر خاص وعام میں بہت مقبول ھے ایشیا تو اس مذیدار پھل کا گھر ھے

    آم کی کاشت کرنے والے ٹاپ ٹین ممالک میں ھندوستان اور پاکستان سرفہرست ھیں

    چائنا،میکسیکو، ھايئٹی ، برازیل ، تھائ لینڈ،نائيجریا۔ انڈیا ، فلپائن پاکستان مصر شامل ھیں۔ مگر سچ پوچھیں جو خوشبو مزہ اور دلفریبی پاکستانی آموں مین ھے اسکی نظیر نیہن ملتی ،سندھ اور پنجاب میں کثرت سے پیدا ھونے والا یہ پھل جس کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ ھورھا ھے

    پاکستان کی آب وھوا اور ماشا اللہ زرخیز زمین بے شمار اقسام کے پھلوں کےلیے بہت موزوں ھے ۔ وادی مہران سندھ کا چوتھا بڑا شہر میر پور خاص کا پھل سندھڑی اور پنجاب کا چونسا ،جس کے بازار میں آتے ھی جیسے ھر طرف بہار آجاتی ھے

    آم کی دو اقسام ھیں قلمی اور دیسی
    قلمی آموں میں بھورا ۔سندھڑی کالا ، ثمربہشت ، طوطا ھری ، سبز ، بادام ، ّثریا ، دل آرام ، پونی ، بیگن بھلی گلاب خاصہ ،سرولی ، زعفران گلاب جامن ۔بھر گڑی سفید الماس ، جاگیر دار شہنشاہ بہت مشہور ھیں

    خوشی کی ایک خبر یہ بھی ھے کہ سندھ کے ایک بہت مشہور کاشت کار حاجی محمد خیر بھر گھڑی نے کچھہ ایسے درخت کاشت کیے ھیں جو سال میں دو بار سے زائد فصل دینگے اور اس سلسلے میں بہت ریسرچ کی جارھی ھے انشااللہ وہ وقت دور نیہن جب جنت کا میوہ پورے سال دستیاب ھوگا

    ھر خاص وعام ، غریب وامیر ، شاہ وفقیر کا دل پسند پھل اور اس سے بنائ گی خاص آس کریم ، مینگو آ‎ئس کریم ۔ مینگو شیک ، مینگو موس ، مینگو سرپرآئز ، مینگو سرپرائز ۔
    اس کے علاوہ مینکو جام ، جیلی ، مربے چٹنی آچار ھر گھر کے دسترخوان کی زینت بنتے ھیں

    آپکی فرمائش اور خواھش پر ام سے بنی ھوئ انسٹنٹ ڈرنک کی ترکیب بھی پیش کی جاسکتی ھیں ،

    اس معیاری اور جنت کا میوہ تعنی ام میں فائبر آئرن شوگر فیٹ وٹامن اے بی اور سی پایا جاتا ھے
    اسکی خاص بات یہ ھے کہ اس کو کھا کر طبعیت خوش گوار ھوجاتی ھے ، کم سے کم موسم گرما میں ھماری خوش مزاجی کا بڑا سبب مینگو بادشاہ ھی ھیں ،

  8. ّڈيئر فاطمہ ابرار اسلام علیکم ۔جیسی خوشبو سنہری معیاری،خوش تاثیر اور خوش نظر و خوش ذائقہ پھلوں کے بادشاہ آم سے آتی ھے ،اور ھرطرف جشن بہاراں کا سماں ھوتا ھے ایسی ھی خوشی آپکے بلاگ میں آنے سے ھوتی ھے

    آم پسند کرنے معاف کیجے گا بلاگ پسند کرنے کے لیے آپ کی ممنون ھوں

    ۔ آم کے بہت فوائد ھیں اس سے خوبصورتی ـبڑھائ اوررنگت نکھاری جاسکتی ھے ۔

    پھلوں کے بادشاہ جنت کے میوے میں موجود وٹامن اے اور اینٹی آکسائیڈ جلد کو داغ دھبوں سے بچاتے ہیں اور بیٹا کیرون سے بینائی تیز ہوتی ہے، روزانہ استعمال جھریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے

    جدید تحقیق کے مطابق آم میں موجود وٹامن اے اور اینٹی آکسائیڈ جلد کو داغ دھبوں سے بچاتے ہیں اور بیٹا کیرون سے بینائی تیز ہوتی ہے۔ ما ہرین کے مطابق اس کا روزانہ استعمال جلد کو صاف، چمک دار بنانے کے ساتھ جھریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

    آم کے گودے میں تھوڑا سا شہد اور روغن گلاب شامل کرکے استعمال کرنے سے آپکی جلد پھلوں کی طرح کھل جاۓ گی ، اور اس کے چھلکے سے بھی فیس واش بنایا جاسکتا ھے

  9. اچھے بھائ قمر رضوی سلامت رھیں ، آم کا موسم ھے اور بجلی کی بندش سے جو پریشانی اٹھانی پڑتی ھے اس مجھے خوب انداذہ ھے ، انشا اللہ بہت جلد ھم کو بجلی کی آنکھہ مچولی والے کھیل سے نجات مل جاۓ گی ، اللہ کرے ھمارے حاکم چین کی بات مان لیں اور چین پاکستان کا دوست ھم کو کم قیمت پر بجلی فراھم کرنے کو تیار ھے ، اللہ بہتری کریگا ،

    ایک دلچسپ بات آپ سے شيئر کرتی ھون کہ جب تک میرے محترم دادا سید علی حیدر رضوی مرحوم ومغفور حیات تھے ھمارے گھر میں ٹنوں کے حساب سے آم آتا ھے کیونکہ خیر ّپور میں دادا جان کی زمینیں تھیں ھمارے گھر میں بھی آم کے بارہ پندرہ درخت لگے ھوۓ تھے مئي کے موسم میں جب آم کے درختوں پر بور لگتا تو درجنوں چڑیاں آجاتیں تھیں تو ھم والد صاحب کی گن لے کر دن بھر گن سے چڑیوں کا شکار کرتے تھے بچپن کی پریکٹس کا کمال ھی ھے ھمارا نشانہ بہت بہترین ھے ،تو جناب ھم سب بہن بھائ سارا وقت ام کے درختوں پر آنے والی چڑیوں کا شکار کرتے اور پھر ان چڑیوں کو بھون کر کھاتے تھے ،
    اب تو یہ سطور لکھتے ھوۓ دل کانپ جاتاھے کہ اللہ معاف کرے کتنے معصوم پرندوں کو مار ڈالا اپنے شوق میں ،

    ھمارے گھر میں سب کو شکار کا بہت شوق تھا والد صاحب سید علی رضا رضوی بھی بہت آچھے شکاری تھے ، وہ دینا کے مختلف ممالک میں شکار کھلنے جاتے تھے یہ آچھے وقتوں کا ذکر ھے جب درخت پھلوں سے لدے رھتے تھے وقت پر بارشش ھوتی تھیں ، مللک میں امن وامان تھا ، حاکم بھی اتنا بے ایمان نہ تھا ، سب کے دلوں میں ایمان تھا ، خوف خدا تھا، بجلی کا توانائ کا کوئ بجران نہ تھا ، سب چین واطمینان سے رھتے تھے کیونکہ ھمارا رب ھم سے راضی تھا،اللہ پاک سے دعا کرتے ھیں کہ وہ آچھا وقت پھر سے آجاۓ ھمارے شہروں میں امن وامان قائم ھوجاۓ آمین

  10. محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب اسلام علیکم ، بہت دن کے بعد آپ سے گفتگو کا شرف حاصل ھورھا ھے ، آپ جسے منفرد اور بے مثال وبے بظیر لوگ کھبی عام نیہن ھوسکتے ھیں ، یہ آپکی انکساری ھی تو ھے آپ ھم سب کے قلوب میں رھتے ھیں ، اللہ پاک آپ کو ھمشیہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثمہ آمین

  11. ّڈیئر قاطمہ ابرار سلامت رھیں اور اللہ پاک آپ کو دارین کی ھر خوشی عطا فرماۓ آمین

    آپکی تحریر کردہ ان سطور نے بہت لطف دیا۔

    صدر اور وزیر اعظم بھی ھیں جو شاید ھی کسی کو پسند ھوں
    کیوں کے ان کا ذکر کیا تو بانسری کی جگہ بین کا ذکر کرنا پڑے گا

  12. نہیں سر، یہاں تو یہ عام نہیں۔ خریدنے جاؤ تو چھونے کے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ اپنی جگہ آپ خاص ہیں اور یہ تو ہے ہی شہنشاہِ اثمار۔

  13. میرا مسلہ یہ ہے کہ مجھے پھلوں میں آم بے حد پسند ہیں اور بانسری میرا فیورٹ میوزک انسٹومنٹ ہے ۔۔ شاہین تم بھی نہ ریگستان میں نخلستان بنالیا کرو ۔۔ میرے پاس رات کے گیارہ بجنے والے ہیں اور میں اس وقت بھی اپنی ڈیوٹی پر ہوں ۔۔ بھوک اتنی لگی ہوئی ہے کہ بلاگ کھولتے ہیں ہر طرف صرف آم ہی نظر آرہے ہیں اور چاروں طرف اس کی مہک ۔۔ اور مدھر بانسری کی دھن کانوں میں رس گھول رہی ہے ۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے جنت زمین پر اتر آئی ہو ۔۔۔ میرا خیال ہے مشکل ڈیوٹی کی وجہ سے میرا دماغ ۔۔ او مائی گوڈ ۔۔۔ شاہین اب کبھی دسترخوان سجاؤ تو پلیز آم نہ رکھنا ۔۔ مجھ جیسے لوگوں کو گھر بھی واپس جانا ہوتا ہے ۔۔ اب بھلا بتاؤں کیسے ڈرائیو کرونگی ۔۔

  14. ڈیر فاطمہ “ بین “ کرنا پڑ جائے گایا “ بین “ بجانی پڑے گی ۔۔۔ واللہ مزہ دے گیا آپ کا ایک ہی جملہ ۔۔ صدر اور وزیر اعظم کا ذکر کیا تو بانسری کی جگہ “ بین “ کا ذکر کرنا پڑے گا

  15. اب بس غالب کا کہنا مجھے پڑ رہا ہے
    کہ آم ہو اور بہت سے ہوں
    اور بانسری ، یعنی ونجلی ہو ، اور رانجھا بمعہ ہیر ہو
    اور
    اس سارے ماحول میں ، کیدو جیسا کوئی نہ ہو ، نہ حاکم اور نہ ہی کھیڑے
    کہ
    لگ گئے نین آویڑے

  16. نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری
    بَین اور بِین میں زیر و زبر کا فرق ھے
    پوری پاکستانی قوم بَین کررھی ھے
    اور اگر
    پوری پاکستانی بِین بجانے لگے توبھی
    ان ملتانی اور سندھی بھینسوں پر اثر ھونے والا نہیں

  17. آم پھلوں کا بادشاہ رسیلا روح پرور مہک اور سنہری رنگت والا بے پناہ خاصیت رکھنے والا پاکستان کا یہ ھر دل عزیز پھل آم اس کے درخت کی لمبائ 60 سے 70 فٹ تک ھوتی ھے یہ منفرد پھل جو اپنی بہشتی خوشبو کی بناء پر ھر خاص وعام کا پسندیدہ ترین پھل ھے ،اپنی حلاوت لذت اور ذائقہ کی بدولت ساری دنیا مین مقبول ھے اور اس کی سب سے زیادہ کاشت برصغیر پاک وھند میں ھی کی جاتی ھے ، اور پاکستان کا ام دنیا کا بہترین ام مانا جاتا ھے اج دنیا کا 75٪ ام ھندوستان اور پاکستان میں پیدا ھوتا ھے ۔ اپنی اقسام رنگت اور ذائقے کی بدولت پاکستانی آم ھی پہلے نمبر پر ھے ،آم بہت جلد خراب ھونے والا پھل ھے سب سے بہترین شیریں ام وہ ھوتا ھے جو خودبخود پک کر درخت سے گر جاتا ھے اس کو ٹپکا آم کہتے ھیں ۔آم کو تجارت کی غرض سے پال میں رکھا جاتا ھے ، آم شناسی کے ماھرین کا کہنا ھے کہ پاکستانی اموں سے زیادہ مٹھاس والا کوئ اور پھل نیہن ھے ، چونسا اور ثمر بہشت سنذھڑی ام بہت شوق اور رغبت سے کھایا جاتا ھے ،

    آموں کی مشہوری کے سلسلے میں ھم مرزا غالب کی خدمات کو کھبی نیہں بھلا سکتے ھیں ۔ انھون نے اموں کا بار بار تذکرہ کیا ، اور وہ یہ پھل جس کو جنت کا میوہ بھی کہتے ھیں بڑے شوق سے کھاتے تھے ، ایام اسیری میں ان کو اس غم نے بھی ادھ موا کردیا کہ اپنی مرضی اور خواھش کے ام نیہن کھا سکتے ۔ ان کو صرف چار ھی چیژوں سے عشق تھا ،
    ایک ڈومنی سے
    شاعری سے
    شراب سے

    آم سے ۔ آم مرزا بہت رغبت سے`تناول فرماتے تھے اور میٹھے آموں کو جب تک ھاتھہ نہ لگاتے تھ ےجب تک بہت سارے نہ ھوں
    وہ کم سے کم 9یا دس ام ضرور کھاتے تھے ۔اور اگر پیوندی آم ھوتا تو جوکہ عام، ام سے کافی بڑا ھوتا تھا تو صرف 5 یا 7 ھی کھاتے تھے ۔ غالب کی طرح میری طبعیت بھی کھبی اموں سے سیر نیہن ھوتی ھے ۔ میں توآم کو کھانے پینے کی ھر چیز پر فوقیت دیتی ھوں اور
    اپنی اس کمزوری کا برملا اعتراف بھی کرتی ھوں ۔کہ میں بھی عالب کی طرح جی بھر کر آم کھاتی ھوں اور خوب اھتمام سے کھاتی ھوں آج بھی چھٹی والے دن ھمارے گھر میں روغنی پراٹھے اور آم ھی کھاۓ گیۓ ھیں ، غالب بھی تو دس بارہ آم سے کم نیہن کھا تے تھے ۔

    ایک بار مرزا غالب گلی میں بیھٹے آم کھارھے تھے انکے ساتھہ ایک ایسے دوست بھی بیھٹے تھے جن کو آموں سے ذرہ برابر بھی ر‏غبت نیہن تھی اتنے میں ایک گدھا ایا ، مرزا غالب نے آم کے چھلکے اس کے سامنے رکھہ ديئے مگر اس ناممقول نے صرف ان کو سونگھا اور آگۓ بڑھ گیا ، مزرا غالب کے دوست نے بھپتی کسی ، دیھکہ لو گدھا بھی ایسی چیزوں کو نیہن کھاتا

    مرزا غالب نے ھاتھہ میں پکڑے آم کو مزے سے چونسا اور بڑے اطمعنان سے جواب دیا ،،
    جی ھاں گدھے ھیں جو آم نیہن کھا تے

    ایک بار مرزا غالب بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ديگر مصاحبوں کے ساتھہ شاھی باغ کی سیر کررھے تھے اس وقت موسم گرما تھا اور باغ میں ایک سے ایک عمدہ آم اپنی خوشبو اور انفرادیت کے باعث مرزا کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے ھوۓ تھا مزے کی بات یہ تھی کہ اس باغ کے پھل صرف شاھی خاندان کے افراد ھی تناول فرماتے تھے ۔، مرزا غالب ان اثمار جنتہ کو ایک نظر دیکھتے اور پھر نظریں جھکا لیتے ، بادشاہ نے پوجھا کہ مرزا اس قدر غور سے کیا دیکھہ رھے ھو ؟

    مرزا غالب نے کہا کہ سنا ھے کہ دانے دانے پر کھانے والے کا نام لکھا ھے میں دیکھہ رھا ھوں کہ میرا نام کس دانے پر تحریر ھے بادشاہ نے مسکراتے ھوۓ اس باغ کے باغبانوں کو پھلوں سے بھری ھوئ ٹوکری مرزا غالب کو دینے کا حکم دیا

    سنا ھے کہ مرزا غالب آم سے خمار شکنی کرتے تھے

    واقعی آم ھوں اور خوب ھوں اور خوب میٹھے ھوں باھر بارش ھورھی ھوں گھر کے سب افراد کھانے کے یکجاء ھوتو واقعی لطف اتا ھے حوش حال لوگ اموں سے مہمانوں کی تواضع کرتے ھیں ، ایک دوسرے کے گھر بھجیتے ھیں ،

    سنا ھے کہ شوگر کے مریض اس معصوم میٹھے رسلیے پھل کو آچھی نظر سے نیہن دیکھتے

    ام شناسی کے ماھرین کی نظر میں آم کی افادیت بہت زیادہ ھے اسکے سیاسی فوائد بھی بے شما رھیں ، جن سیاست دانوں کے آموں کے باغات ھیں وہ اس مینگو سیزن کو سفارتی تعلقات کی بہتری کے لیے استعمال کرتے ھیں ،

    ھیر رانجھا عشق و محبت کی داستانوں کے لازوال کردار ھیں ۔ میں تصور میں دیکھہ رھی ھوں انھوں نے کیدو کو گاوں سے کیہں دور آم لان ےکو بھیجا ھے اور خود ونجلی کی تان پر مست ھیر کو آم کھلا رھا ھے ، مورخین نے بہت ساری باتیں ھم سے پوشیدہ رکھیں جیسے ھیر اور رانجھے کا پسندیدہ پھل بھی آم ھی تھا ، اور سنا ھے کہ سندھ اور پنجاب کی بھینسں وزن بڑھنے کے خوف سے آم تو نییہں کھاتیں مگر اب بین پر سر دھنے کے بجاۓ

  18. ّڈیئر فاطمہ ابرار اسلام علیکم
    ۔
    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری
    بَین اور بِین میں زیر و زبر کا فرق ھے
    پوری پاکستانی قوم بَین کررھی ھے
    اور اگر
    پوری پاکستانی بِین بجانے لگے توبھی
    ان ملتانی اور سندھی بھینسوں پر اثر ھونے والا نہیں،،
    جیسے زیر زبر لگانے سے لفظوں کا مفہوم بدل جاتا ھے خوشی ، غم میں بدل جاتی ھے بین ، بین میں بدل جاتی ھے ، بھینس کو اپنی کیفیات پر بہت کنٹرول ھوتا ھے ، آپ کو کھبی علم نیہن ھوگا کہ یہ کب خوش ھیں اور کب ناراض ،،،،

    میں نے کیہں پڑھا تھا کہ بھینس کے آگے بین بجانے والا محاورہ اس لیے بہت مقبول ھوا کہ خود بھینس کو خبر نہ تھی کہ اس کے آگے جو میوزیکل انسٹرومنٹ بجایا جارھا ھے وہ کیا ھے ، دراصل بھینس بہت گھریلو اور معصوم جانور ھے ،نہ آپ نے بھینس کو خوشی سے جھومتے دیکھا ھوگا نہ غصے میں اشتعال میں آتا دیکھا ھوگا

    ، اسی ضمن میں مین نے ایک اور محاورہ بھی سنا کہ بھیڑ کے آگے رباب بجانے سے کوئ فائدہ نیہن ۔ یہ بھیڑ وہ ھے جس کی کھال اتاری جاسکتی ھے ۔ اور کھال کے لاتعداد فوائد ھیں سیاسی جماعتیں انکو طاقت کے زور پر حاصل کرکے بیچتی ھیں اور پھر اسلحہ خرید کر اپنے لوگوں کو ھی گولی ماری جاتی ھے ۔،طاوس رباب کی شوقین قومیں جب پستی میں گرتی ھیں تو پھر صرف اور صرف بے گناہ لوگوں کا قتل وعام ھی ھوتا ھے۔ ،،، ارے معاف کیجیے گا ھم تو آم کی بات کر رھے تھے اور بات کہاں سے کہاں نکل گی ، مگر آپ اور ھم جو کچھہ آجکل ھورھا ھے اس سے بھی بے خبر نیہن رہ سکتے اور اس کا اّثر بھی ھماری تحریروں میں ضرور آۓ گا

    آيئے پھر ھم کو آم کنگ آف فروٹس کی دلربا مہک اپنی گرفت میں لے رھی ھے ۔ میں نے چند سال مصر میں بھی گذارے ھیں اور مجھے حیرت ھوتی تھی کیسے مصر کے زرعی ماھرین نے ریگستان کو سرسبز و شاداب جزیرے میں بدل ڈالا ھے آم کی کاشت مصر میں 7 ھزار سال قبل کی گی ۔ مصر میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والی قسم البلدی ھے اس کے علاوہ ۔ التوفی ، ھندی ، المصری ،شوشا،زبدہ ، رقبہ اللوز ، الفونسی ، عویسی ، سکری اور تیمور نامی مینگو کی کاشت کی جاتی ھے ، مجھے کسی مصری آم ذائقہ آچھا نیہں لگا ،مصری احباب میری اس بات سے بہت چڑتے تھے ، اور جب میں ایک بار پاکستان سے انوررٹول اور چونسا لائ اور اپنے مصری دوستوں کی ضیافت کی اور انکو بتایا کہ اس کو آم کہتے ھیں اور جو تم آگاتے ھو وہ تو بس عام ھی ھیں ،کھبی آم نیہن بن سکتے ، کیونکہ نہ ان میں کو‏ ئ غیرمعمولی خوشبو ھے اور نہ ھی کوئ خاص ذائقہ ،،،،، اس بلاگ کے دوران بھی میں نے اپنے مصری، لبنانی ،سوری فلسطینی ۔ارمینی ،مراکشی ، اردنی کولیگز کی پاکستانی آموں سے تواضع کی تھی اور ان سے یہ جملہ سن کر بہت خوشی ھو‎ ئ کہ یہ آم نیہن ھے اس میں شہد اور شکر ملائ گی ھے پاکستان زندہ باد ، یہ آم پاک اسٹور پر ھنی مینگو کے نام سے فروخت ھوتے ھیں بہت ھی مذیدار اور یمی مینگوز ھیں آپ جب بھی کویت تشریف لايئں ھم آپ کی خدمت میں یہ انمول تحفہ ضرور پیش کرینگے کیونکہ یہ فا‎ ئنیسٹ ایکسپورٹ کوالٹی کے آم ھیں

    امریکہ کی سکریڑی آف اسٹیٹ ھینری کیلنٹن کی کوششوں سے امریکہ نے اب پاکستانی آموں پر سے پابندی اٹھا لی ھے ٹرایئل شپمنٹ کے ذریعے پہلی بار دینا کے بہترین آم پاکستانی آم امریکہ میں دستیاب ھونگے ، کینڈا یمن تو پاکستانی ام باآسانی مل جاتے ھیں مگر امریکہ میں ان کو لیکر جانا بھی بہت مشکل ھے ، بش کی وجہ سے ھندوستانی آموں کو امریکہ آنے کا موقعہ ملا تھا یہی وجہ ھے کہ الفانسو آپ کو باآسانی مل جاۓ گا ، جنت کا میوہ نامی سارے پھلوں کا استاد اور سردار ، آم واقعی پسندیدہ ترین پھل ھے ، اللہ کرے پاکستان میں بھی یہ پھل ھر خاص وعام کی دسترس میں ھو، اور پاکستان میں موجود پاکستانی بھی ان بے مثال رسیلے میٹھے خوش ذائقہ اور سنہری معیاری فوائد سے بھرپور آم سے موسم گرما میں جشن منایا کریں ، اللہ کرے ھمارے مللک میں امن وامان قائم ھوجاۓ ھم آپس میں لڑنے مرنے کے بجاۓ جب بھی باھم ھوں تو ھمارے دل صرف اور صرف پاکستان کے لیے دھڑکتے ھوں ، کیونکہ اس سے ھماری پہجان ھے ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *