ادبی افق پر دیر تک روشنی پھیلانے والے شکاگو کے مشہور ومعروف مختلف ادبی شخصیت افتخار نسیم افتی کی وفات کی خبر پڑھ کر بہت افسوس ھوا۔ اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرماۓ اور انکو اپنے جوار رحمت میں جگہ ديئے ، آمین ثمہ آمین
چراغ ھوں میں اگر بجھہ گیا تو کیا غم ھے
کہ جتنی دیر جلا روشنی تو کی میں نے
خدا مغفرت فرمائے۔
مجھے تو وہ مشاعرہ یاد آراہا ہے جب دو ہزار سات میں افتخار نسیم افتی بھی آسٹریلیا تشریف لائے تھے جس میں محترم المقام جناب صفدر ہمدانی نے ان کےساتھ شرکت کی تھی ۔۔ ویسا مشاعرہ ابھی تک سڈنی کی تاریخ میں نہیں ہوا ۔ اس وقت ریڈیو دوستی کی میزبانی میرے زمہ ہوا کرتی تھی اور اس یاد گار مشاعرے کی آغاز سے لے کر شاعروں کے واپس لوٹنے تک سب کچھ ہم لوگ کور کر رہے تھے ۔۔
اس وقت کے افتخار نسیم افتی میری آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔۔ وہ کبھی تصویریں کھنچوا رہے ہیں توکبھی انکار کر رہے ہیں ۔۔ انٹرویو کی توبات مت کریں ۔۔ مشاعرہ لوٹنے کے ہنر سے آباد افتی اس بات سے خفا ہو کر اسٹیج سے اتر آئے کہ انہیں صرف ایک غزل سنانے کو کیوں کہا گیا ۔۔ پھر اس ماحول کو اور سر پھرے سے افتی کو سنبھالنا صرف جناب صفدر ہمدانی کا ہی ہنر کام آیا ۔۔ اور افتی کہہ رہے تھے “ صفدر جانی یہ کوئی بات ہوئی انہیں شاعروں سے بات کرنے کے آداب نہیں آتے “ ۔۔ ہمیں اپنے رویوں اور باتوں سے اتناکچھ سمجھانے والا اب ہم میں نہیں رہا ۔۔ ۔۔ اللہ کریم افتخار نسیم افتی کو اپنی خاص رحمتوں میں رکھے ۔۔ بے حد بیباک اور سچے ترین انسان تھے ۔۔ ۔۔
میں افتی صاحب کو نہیں جانتا تھا مجھے انکا تعارف بی بی سی نے کروایا ، ان دنوں جب پاکستان میں مغربی قوتیں ، اور اندرونی لبرل طاقتیں ، پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہیں ہیں اور کھلم کھلا اسکی حمایت کر رہیں ہیں ، ایک ایسے شخص کو جو خود کو ببانگ دہل مسلمان بھی کہتا تھا اور ہم جنس پرست بھی ، تو مجھے بہت عجیب لگا ، میں خود کو اتنا مذہبی نہیں سمجھتا ، کہ مجھے بھی “رنگینیاں“ اچھی لگتیں ہیں ، مگر میرے اندر چُھپا ہوا “ملا“ مجھے ان رنگینیوں سے کبھی بھی لُطف اندوز نہیں ہونے دیتا ، مگر دنیا کا ادب پڑھنے کے بعد مجھے بہت عجیب لگا کہ جو کچھ بین الاقوامی ادب میں لکھا تھا ویسا ہی ہمارے ادب میں بھی موجود تھا ، منٹو ، عصمت چغتائی اور پھر نہ جانے کتنے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات پڑھیں ، حیران ہوتا رہا ، یا میرا ذھن محدود تھا کہ انکو صرف فکشن سمجھتا رہا ، مگر وقت نے سمجھایا نہیں یہ فکشن بھی حقیقتوں سے جنم لیتا ہے ، میں نے بولڈ نیس کو سمجھا اور یہ بھی سمجھا کہ ہم مختلف ضرور ہیں مگر وہ لوگ بہت آگے ہیں جو سچ بولتے ہیں اور خود کو کسی خول میں بند نہیں کرتے ، اور ایسے ہی لوگوں کے لیے سکائی از لمٹ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ، اور ایسے ہی بولڈ اور ان لمیٹڈ لوگوں میں افتی کا شمار ہوتا تھا ، جس نے خود کو چھپایا نہیں اور جب اسنے اپنے اوپر سے خول اتار پھینکے تو وہ ہی لوگ جو اسکے تنقید نگار تھے اسکے دلدار بن گئے ، لوگوں کا خیال ہے کہ اسکی وجہ اسکی شاعری اسکا نبا خول کے ہونا تھا ، مگر میرا خیال کچھ اور ہے ، آج کے دور میں ہم جس مادہ پرست معاشرے میں موجود ہیں ، اس میں یہ بات جھوٹ ہے کہ کوئی کسی کو اسکے خیالات کی وجہ سے کوئی مقام دیتا ہے ، اسکا مقام بنتا ہے اسکے معاشی حالات سے ، جو جتنا مادی طور پر مضبوط ہو گا اتنا ہی معاشرے میں مقام رکھے گا ، اسی لیے تو ساحر نے کہا تھا ، کہ ہر دل میں تاج محل ہوتے ہوتے ہیں ۔
افتی ہمارے دوغلے معاشرے میں ضم نہ ہو سکا ، اور ایک کھلے معاشرے میں جا بسا مگر انہیں کے مطابق ، پاکستان میں مسجد کا ملا تھا اور امریکہ میں ملا بُش سے انکا پالا پڑا ۔ ۔ ۔ مگر اس معاشرے نے انہیں انکو جیسا ہے کی بنیاد پر قبول کیا اور ۔ ۔ ۔۔ وہ اس معاشرے میں ضم ہو گئے ۔ ۔ ۔ مگر وہ انسان ہی کیا دیس کو بھول جائے ، وہ رہے تو امریکہ مگر رابطہ اپنی بنیاد سے رکھا ، انگریزی بولی مگر اردو کے شاعر بنے ، اور پھر انہیں اپنے جیسے لوگ وہاں مل گے ، شراب، شباب اور احباب اور وہ بھی سب بے نقاب ۔ ۔ ۔ افتی کووہ ہی ملا جو انہوں نے چاہا ۔ ۔ ۔ میرے جیسے دقیانوسی بندے کو یہ سمجھنا بڑا مشکل تھا ، مگر مجھے اتنا ضرور پتا چلا کہ نہیں ۔ ۔ ۔ ہم ہی شاید کنوئں کے مینڈک ہیں ، ہمیں سمندر ملا نہیں اور جنہیں ملا وہ اسی سمندر میں موج بنتے بھی رہے اور بناتے بھی رہے ۔ ۔ ۔ ۔اللہ افتی کو اپنے جوار میں جگہ دے ، کہ اور سب گناہ اپنی جگہ ۔ ۔ ۔ مگر وہ ایک سچے انسان تھے جو سچ بولتے بھی تھے اور سچ سمجھتے بھی تھی ، شاید ہم میں یہ ہی کمی ہے ۔ سچ کی ۔ ۔ ۔ اور افتی ایک سچ کی علامت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے ۔
ڈر لگتا ہے۔۔۔۔اپنے رب سے۔ افتی کتنا بڑا شاعر تھا، مجھے نہیں معلوم۔ اس لئے کہ میں متعصب ہوں اور اس کسی کو نہیں پڑھتا جس کے افکار میرے عقائد و افکار سے متصادم ہوں۔ اسکی چند غزلیات و نظمات ملی تھیں، جن میں ادبی رچاوٗ خوب نظر آتا تھا۔ لیکن اسکی ذاتی زندگی کے حوالہ سے آج کسی رسم کا شکار ہونگا نہ خراج تحسین پیش کروں گا۔برائی کرنا اور بات ہے اور اسکی تشہیر و ترویج میں سرگرم رہنا اور بات۔
بس اتنا کہوں گا کہ شکر کریں کہ افتی جناب لوط علیہ السلام کے دور میں نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے، سو فیصلہ کرنے کا حق اسی کو ہے۔ اگر دشمن رسول و آل رسول نہ تھا، تو باقی سب تو قابل مغفرت ہے۔ اللہ کریم ستار العیوب سے دعا ہے کہ ہم سب کے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے ، ہمیں گناہوں کو عام و آشکار کرنے سے بچائےاور اپنی عفو و در گزر سے ہم سمیت سبھی گناہ گاروں کو معاف فرما دے۔ آمین۔
افتی کی ذاتی زندگی سے میرے خیال میں ہمارا کوئی سروکار نہیں یہ میری قطعی ذاتی رائے ہے اور کسی کو بھی اس سے اسی طرح اختلاف کا حق ہے جیسے اسے اپنے خیال اور اظہار کا حق۔ افتی کے بارے میں نوے فیصد سے زیادہ باتیں پھیلائی گئی ہوئی ہیں جنکی تفصیل میں جانے کا یہ وقت نہیں۔ ایک بات بہت کھل کر اپنے اس مرحوم دوست کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی چار عشروں سے جو میں افتی کو جانتا ہوں وہ کتنے ہی نام نہاد “”مصلحین اور اخلاق کا درس دینے والوں”” سے اچھا انسان تھا۔ وہ انسان دوست تھا۔محبت فاتح عالم پر یقین رکھتا تھا۔میں نے اسے غیبت کرتے کبھی نہیں سنا تھا۔وہ دشمن کی بھی تعریف کرنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔اسکا تعلق ایک ایسے عاشق محمد و آل محمد گھرانے سے تھا جنکے دو فرزند منقبت،سلام اور رباعی کے علاوہ شان اہلبیت لکھنے میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ افتی کے دونوں بھائی خرم خلیق اور انجم خلیق ثنا خوان اہلبیت ہیں اور خود افتی سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں کہ وہ کربلا کی روشنی کو قلب و نظر کی روشنی کہتا اور اس پر عمل بھی کرتا تھا۔ رہا اسکی زندگی کا کوئی متنازعہ پہلو تو یہ اب اسکا اسکے رب کا معاملہ ہے کہ جہاں وہ جا چکا اور ہم سبکو جانا ہے۔
افتی میرا دوست تھا۔ مجھے اسکے ساتھ کئ مشاعرہ پڑھنے پر فخر ہے۔ اس کا کلام اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ اس کے سارے دوست اسے ہمیشہ یاد کریں گے۔ وہ جانِ محفل تھا۔ ہمیشہ ہنستا ہنساتا رہتا تھا۔ اس کی اپنی کوئ فیملی نہ تھی لیکن بذاتِ خود وہ ہم سب کی فیملی تھا ۔
خدا مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اس کے عزیز واقارب بالخصوص خرّم کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
تین چہروں والا رقّاص
میں جس لمحے اس دنیا میں آیا تھا
رات اس لمحے کڑوے لڈ ّو
تھال میں رکھ کر
گھر گھر بانٹنے نکلی تھی
میں تو رات کا لے پالک ہوں
رات کے سایوں نے
میری پہچان کو ڈھانپ رکھا ہے
میری خواہش کے استھان پہ
دیوی نہیں ہے، دیوتا ہے
جس کے سامنے میں صدیوں سے وصل کا پیاسا
تیسرے روپ میں ناچ رہا ہوں۔
افتی نسیم کی کتاب ‘نرمان’ سے انتخاب
یہ تعزیتی وڈیو جناب امجد شیخ نے کل بنائی تھی … بہت ہی عمدہ امجد .. سلامت رہیں
ظہرالحق صاحب
آپ کا تبصرہ دل کو چھوتا ہے۔ میں نے آپ کے تبصرے سے بہت کچھ سیکھا۔ ہمارا مذہب بھی یہی سکھاتا ہے آدمی کے مرجانے کے بعد صرف مرحوم کی اچھی باتوں کا ذکر کرنا چاہئے۔ افتی مرحوم کے نیک اعمال پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک حدیث ہے کہ وہ شخص جس کی معلومات سے دوسروں کو فائدہ ہو ستّر ہزار عبادت کرنے والوں سے بہتر ہے۔
بھائی ظفر جعفری۔ماشااللہ۔نہایت عمدہ بات کی ہے آپ نے اظہر الحق کے خیالات کی تصدقی میں۔ حوالہ آپ نے باقر العلوم کا دیا ہے لیکن کیا کریں کہ ہم نے ان ناموں کو مسلکوں میں تقسیم کی بھینٹ چڑھا کر سمندر سے ایک چھوٹی سی آبی گزرگاہ بنا دیا ہے۔ مسلمانوں کی ایک غالب تعداد کو ایسے آئمہ کے نام بھی معلوم نہیں اور اسمیں غیروں سے زیادہ قصور اپنوں کا ہے۔ اسلام بیچارے کے ساتھ اس عہد میں خاص طور پر ظلم یہ ہوا ہے کہ ہر شخص جیسے مجتہد بن گیا ہے اور دین کو موم کی ناک کی طرح جس سمت چاہتا ہے موڑ لیتا ہے اجتہاد کے نام پر۔ افتی سے میری ستر کے عشرے کی دوستی ہے اور ایک بڑی تعداد افتی کے بارے میں ”سینہ گزٹ” والی معلومات کے طور پر باتیں کرتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے کیونکہ قرآن بار بار کہتا ہے کہ کوئی بھی بات بلا تحقیق نہ کرؤ
آپ ہمارے ادبی قبیلے کی بے حسی تو دیکھیں کہ ہمارے درمیان سے ہمارے گھر کا ایک فرد اٹھ جاتا ہے اور بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر کام کرنے والے شاعروں ادیبوں کو اس فرد پر بات کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ افتی پاکستان کا بیٹا تھا اور اس نے بڑے بڑے صدور و وزرائے اعظم سے زیادہ کاپاکستان کا نام روشن کیا شکاگو میں رہ کر۔ لیکن وائے حسرتا کیا کوئی بتا سکے گا کہ کسی پاکستانی اخبار نے اسکے انتقال کی خبر صفحہ اول پر شائع کی ہو یا پھر کسی ہلال پاکستان اور تمغہ پاکستان لینے والے ادیب شاعر نے افتی کے بارے میں فوری تاثر کے طور پر کچھ لکھکر شائع کروایا ہو یا ٹی وی ریڈیو پر نشر کیا ہو۔ وہ شاعر ادیب،ڈرامہ نگار،گلوکار اور نام نہاد فنکار سب کہاں ہیں جو شکاگو میں افتی کے مہمان رہتے تھے۔ ارے اللہ کے لیئے اپنی موت کو یاد رکھو
محترم المقام صفدر ھمدانی صاحب سب سے پہلے تو اپنے اچھے دوست، بہترین شاعر ، ادیب ، کالم نگار صحافی کی رحلت پر ھم سب کی جانب سے تعزیت قبول کیجیے
افتخار نسیم افتی نے اپنی زندگی کیسے گذاری کتنے زخم سمیٹے وہ اپنی گلیاں اور وطن چھوڑ کر گیا ،
فیصل آباد سے شکاگو کے سفر میں کیا گذری؟ اس شاعر پر کیا بیتی ۔؟ ھمارے مللک میں تو ایسے لوگوں کو ھی مار دیا جاتا ھے کتن
میں مرحوم افتخار نسیم افتی کے بارے میں نیہن جانتی ۔،مگر میرے اورافتخار نسیم افتی کے درمیان ایک اور بھی رشتہ تھا ، انسانیت کا رشتہ، کسی کی مغفرت کی دعاۓ کے لیے یہ رشتہ کافی نیہن ھے
میں دعا کرتی ھوں کہ اس سچے شاعر اور محبت کے خمیر سے کندھے اچھے انسان کو اللہ پاک مغفرت فرماۓ آمین ثمہ آمین عالمی اخبار میں جب سے انکے انتقال کی خبرلگي ھے فوار مغفرت کی دعا کے لیے ھاتھہ اٹھہ گۓ اور عجیب دکہھ بھری کیفیت کا شکار ھو ئ
محترم دوستوں جو ھماری بدی بھری اس دنیا سے چلا گیا ، بس اسکی مغفرت کی دعا کريں 65سال کی عمر میں اتنے سارے کام کرگيۓ ۔اللہ پاک مرحوم کے گناھان کیبرہ و صغیرہ کو معاف فرماۓ امین ثمہ آمین
افتحار نسیم
آنسوں کے کفن دے گیا
پیار کا آسمان تھا
اک داستان تھا
آنسوں کے کفن دے گیا
اک احساس لٹ گیا
اک کرن لٹ گئی
اک روشنی بجھ گئی
سینہ میں ڈھڑکن نہ رہی
ادب خاموش ہو گیا
ہر یاد اک امتحان ہے
دُکھ بھری اس کی داستان ہے
وہ غم پانٹ کر چل پڑا
میرے راہوں کو خاموش کر گیا
قلم کا ساتھ چھوٹ گیا
اک قلم دوست تھا
ایسا ویران کر گیا
قرطاس خاموش ہو گیا
ہر آنکھ پر نم ہے
افتی خاموش ہے
بڑئے ادب سے جیا رہا تھا دنیا میں
محبتوں کی فضا میں بکھر گیا افتی
قلم سوکھ گیا قرطاس پہ اُدسی ہے
ادب چیخ رہا ہے کہ مر گیا افتی
خدا مرحوم افتخار نسیم کی مغفرت فرمائے ان کو اپنی جوار رحمت میں بہترین جگہ عطا فرمائے آمین
ان کے یوں چلے جانے پر دل کی کیفیت بہت عجیب ھے میں ان کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھی لیکن شاعر ادیب یا کسی بھی قلمکار کو ھم ان کی
تخلیقات کے حوالے جانتے پہچانتے ھیں اور یہی ھماری ان سے پہچان ھوتی ھے
اور افتخار نسیم کی ذات تو دوستی زندگی کی علامت تھی
تمام دوست احباب و متعلقین سے سے دلی تعزیت ھے
موت کیا ھے درحقیقت زندگی کا اختتام
زندگی فانی ھے لیکن موت کو حاصل دوام
سچ تو یہ ھے موت کی منزل ھے اصلی زندگی
زندگی کرتی ھے خود یاں پہچنے کا انتظام
صفدرھمدانی
انااللہ وانا الیہ راجعون
لندن سے امجد مرزا کی ایمیل آئ اور اس میں بھی مرحوم افتخار نسیم افتی کی وفات کی خبر تھی امجد مرزا لند ن میں رھتے ھیںمرحوم افتخار امریکہ میں مقیم تھے مگر سب سے پہلے اس خبر کو عالمی اخبار نے انکی وفات کی خبر لگائ ،انکے دوستوں نے انکو خراج تحسین پیش کرتے ھوۓ انکی ادبی خدمات کا ذکر کیا اور دعاۓ مغفرت کی المتاس کی
افتخار نسیم افتی بہت دوست نواز تھے ، ادب پرور شخصیت تھے دینا بھر میں انکی رحلت کی خبر بہت دکھہ سے سنی گی ،وہ واقعی بہت قابل انسان تھے ، ؎ محبت کے سارے دل فریب رنگوں سے سجی شخصیت ، مختلف طرز زندگی کی بدولت جن تجربات وسانحات سے گذرے ھونگے اور جن غموں سے آشنائ ھوئ ھوگی اسی احساس نے انکی شاعری میں حزنیہ کیفیت کو اجاگر کیا، اسی لیے دنیا بھر کی یونیورسٹیز میں ان کو لیکچر کے لیے مدعو کیا جاتا تھا ،ا۔ ۔افتی شاعر تھے، ادیب تھے، فنکار تھے رقاص تھے ، عام لوگو ں سے مختلف ایک ایسے انسان تھے جس نے اپنے اوپر کبھی خول نیہن چڑھایا، کھبی اپنے آپ کو پس پردہ نیہن رکھا ،۔ زندگی نے ان کو دکھہ زیادہ دیئے اور سکھہ کم ، وہ بہروپ بدل بدل کر ھر روپ میں سب کو حیران کرتے تھے ، جس ماحول میں انکی پرورش ھوئ تھی ۔کیا افتی نے اپنی خوشی اور رضامندی سے اس مختلف ماحول کو اپنایا ،
بلاگ میں ھم سب کی بہت عزیز اور بہت اچھی بہن ڈاکٹر نگہت نسیم نے انکی کتاب سے ایک نظم منتخب کی ھے ، کتنے کم قلمکار ھونگے جو اس شدت سے کسی کے دکھہ کو محسوس کرتے ھونگے
تین چہروں والا رقّاص
میں جس لمحے اس دنیا میں آیا تھا
رات اس لمحے کڑوے لڈ ّو
تھال میں رکھ کر
گھر گھر بانٹنے نکلی تھی
میں تو رات کا لے پالک ہوں
رات کے سایوں نے
میری پہچان کو ڈھانپ رکھا ہے
میری خواہش کے استھان پہ
دیوی نہیں ہے، دیوتا ہے
جس کے سامنے میں صدیوں سے وصل کا پیاسا
تیسرے روپ میں ناچ رہا ہوں۔
کل نفس ذائقہ الموت
زندگی کیا ھے عناصر میں پرظہور ترتیب
موت کیا ھے انھی اجزاء کا پریشاں ھونا
اللہ پاک مرحوم کی معفرت فرماۓ آمیں ثمہ آمین
زندگی کیا ھے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ھے انھی اجزاء کا پریشاں ھونا
کافی پہلے میں نے شعر کیہں پڑھا تھا ، اور اس شعر نے مجھے بہت متاثر کیا تھا ۔ میں سوجتی تھی جن آچھی ماوں کے لخت جگر نور نظر پردیس جاتے ھونگے اور پھر کھبی واپس نہ آتے ھونگے ان ماوں اک انکھوں تو ھمیشہ ھی سمندر بن جاتی ھوں غزيز امجد شیخ بھائ کی بنائ ھوئ تعزیتی وڈیو دیکھی تو ایک دم میری انکھوں سے اشک جاری ھوگے ، افتخار نسیم افتی کتنا بڑا شاعر تھا ،کاش ھم اپنے قلم کاروں کو انکی زندگی میں سراھنے کا چلن اپنا لیں، اللہ مغفرت فرماۓ آمین
طاق پر جزدان میں لپٹی دعايئں رہ گيئں
چل دیئۓ بیٹے سفر پر اور مايئں رہ گیئں
ادبی افق پر دیر تک روشنی پھیلانے والے شکاگو کے مشہور ومعروف مختلف ادبی شخصیت افتخار نسیم افتی کی وفات کی خبر پڑھ کر بہت افسوس ھوا۔ اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرماۓ اور انکو اپنے جوار رحمت میں جگہ ديئے ، آمین ثمہ آمین
چراغ ھوں میں اگر بجھہ گیا تو کیا غم ھے
کہ جتنی دیر جلا روشنی تو کی میں نے
خدا مغفرت فرمائے۔
مجھے تو وہ مشاعرہ یاد آراہا ہے جب دو ہزار سات میں افتخار نسیم افتی بھی آسٹریلیا تشریف لائے تھے جس میں محترم المقام جناب صفدر ہمدانی نے ان کےساتھ شرکت کی تھی ۔۔ ویسا مشاعرہ ابھی تک سڈنی کی تاریخ میں نہیں ہوا ۔ اس وقت ریڈیو دوستی کی میزبانی میرے زمہ ہوا کرتی تھی اور اس یاد گار مشاعرے کی آغاز سے لے کر شاعروں کے واپس لوٹنے تک سب کچھ ہم لوگ کور کر رہے تھے ۔۔
اس وقت کے افتخار نسیم افتی میری آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔۔ وہ کبھی تصویریں کھنچوا رہے ہیں توکبھی انکار کر رہے ہیں ۔۔ انٹرویو کی توبات مت کریں ۔۔ مشاعرہ لوٹنے کے ہنر سے آباد افتی اس بات سے خفا ہو کر اسٹیج سے اتر آئے کہ انہیں صرف ایک غزل سنانے کو کیوں کہا گیا ۔۔ پھر اس ماحول کو اور سر پھرے سے افتی کو سنبھالنا صرف جناب صفدر ہمدانی کا ہی ہنر کام آیا ۔۔ اور افتی کہہ رہے تھے “ صفدر جانی یہ کوئی بات ہوئی انہیں شاعروں سے بات کرنے کے آداب نہیں آتے “ ۔۔ ہمیں اپنے رویوں اور باتوں سے اتناکچھ سمجھانے والا اب ہم میں نہیں رہا ۔۔ ۔۔ اللہ کریم افتخار نسیم افتی کو اپنی خاص رحمتوں میں رکھے ۔۔ بے حد بیباک اور سچے ترین انسان تھے ۔۔ ۔۔
میں افتی صاحب کو نہیں جانتا تھا مجھے انکا تعارف بی بی سی نے کروایا ، ان دنوں جب پاکستان میں مغربی قوتیں ، اور اندرونی لبرل طاقتیں ، پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہیں ہیں اور کھلم کھلا اسکی حمایت کر رہیں ہیں ، ایک ایسے شخص کو جو خود کو ببانگ دہل مسلمان بھی کہتا تھا اور ہم جنس پرست بھی ، تو مجھے بہت عجیب لگا ، میں خود کو اتنا مذہبی نہیں سمجھتا ، کہ مجھے بھی “رنگینیاں“ اچھی لگتیں ہیں ، مگر میرے اندر چُھپا ہوا “ملا“ مجھے ان رنگینیوں سے کبھی بھی لُطف اندوز نہیں ہونے دیتا ، مگر دنیا کا ادب پڑھنے کے بعد مجھے بہت عجیب لگا کہ جو کچھ بین الاقوامی ادب میں لکھا تھا ویسا ہی ہمارے ادب میں بھی موجود تھا ، منٹو ، عصمت چغتائی اور پھر نہ جانے کتنے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات پڑھیں ، حیران ہوتا رہا ، یا میرا ذھن محدود تھا کہ انکو صرف فکشن سمجھتا رہا ، مگر وقت نے سمجھایا نہیں یہ فکشن بھی حقیقتوں سے جنم لیتا ہے ، میں نے بولڈ نیس کو سمجھا اور یہ بھی سمجھا کہ ہم مختلف ضرور ہیں مگر وہ لوگ بہت آگے ہیں جو سچ بولتے ہیں اور خود کو کسی خول میں بند نہیں کرتے ، اور ایسے ہی لوگوں کے لیے سکائی از لمٹ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ، اور ایسے ہی بولڈ اور ان لمیٹڈ لوگوں میں افتی کا شمار ہوتا تھا ، جس نے خود کو چھپایا نہیں اور جب اسنے اپنے اوپر سے خول اتار پھینکے تو وہ ہی لوگ جو اسکے تنقید نگار تھے اسکے دلدار بن گئے ، لوگوں کا خیال ہے کہ اسکی وجہ اسکی شاعری اسکا نبا خول کے ہونا تھا ، مگر میرا خیال کچھ اور ہے ، آج کے دور میں ہم جس مادہ پرست معاشرے میں موجود ہیں ، اس میں یہ بات جھوٹ ہے کہ کوئی کسی کو اسکے خیالات کی وجہ سے کوئی مقام دیتا ہے ، اسکا مقام بنتا ہے اسکے معاشی حالات سے ، جو جتنا مادی طور پر مضبوط ہو گا اتنا ہی معاشرے میں مقام رکھے گا ، اسی لیے تو ساحر نے کہا تھا ، کہ ہر دل میں تاج محل ہوتے ہوتے ہیں ۔
افتی ہمارے دوغلے معاشرے میں ضم نہ ہو سکا ، اور ایک کھلے معاشرے میں جا بسا مگر انہیں کے مطابق ، پاکستان میں مسجد کا ملا تھا اور امریکہ میں ملا بُش سے انکا پالا پڑا ۔ ۔ ۔ مگر اس معاشرے نے انہیں انکو جیسا ہے کی بنیاد پر قبول کیا اور ۔ ۔ ۔۔ وہ اس معاشرے میں ضم ہو گئے ۔ ۔ ۔ مگر وہ انسان ہی کیا دیس کو بھول جائے ، وہ رہے تو امریکہ مگر رابطہ اپنی بنیاد سے رکھا ، انگریزی بولی مگر اردو کے شاعر بنے ، اور پھر انہیں اپنے جیسے لوگ وہاں مل گے ، شراب، شباب اور احباب اور وہ بھی سب بے نقاب ۔ ۔ ۔ افتی کووہ ہی ملا جو انہوں نے چاہا ۔ ۔ ۔ میرے جیسے دقیانوسی بندے کو یہ سمجھنا بڑا مشکل تھا ، مگر مجھے اتنا ضرور پتا چلا کہ نہیں ۔ ۔ ۔ ہم ہی شاید کنوئں کے مینڈک ہیں ، ہمیں سمندر ملا نہیں اور جنہیں ملا وہ اسی سمندر میں موج بنتے بھی رہے اور بناتے بھی رہے ۔ ۔ ۔ ۔اللہ افتی کو اپنے جوار میں جگہ دے ، کہ اور سب گناہ اپنی جگہ ۔ ۔ ۔ مگر وہ ایک سچے انسان تھے جو سچ بولتے بھی تھے اور سچ سمجھتے بھی تھی ، شاید ہم میں یہ ہی کمی ہے ۔ سچ کی ۔ ۔ ۔ اور افتی ایک سچ کی علامت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے ۔
ڈر لگتا ہے۔۔۔۔اپنے رب سے۔ افتی کتنا بڑا شاعر تھا، مجھے نہیں معلوم۔ اس لئے کہ میں متعصب ہوں اور اس کسی کو نہیں پڑھتا جس کے افکار میرے عقائد و افکار سے متصادم ہوں۔ اسکی چند غزلیات و نظمات ملی تھیں، جن میں ادبی رچاوٗ خوب نظر آتا تھا۔ لیکن اسکی ذاتی زندگی کے حوالہ سے آج کسی رسم کا شکار ہونگا نہ خراج تحسین پیش کروں گا۔برائی کرنا اور بات ہے اور اسکی تشہیر و ترویج میں سرگرم رہنا اور بات۔
بس اتنا کہوں گا کہ شکر کریں کہ افتی جناب لوط علیہ السلام کے دور میں نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے، سو فیصلہ کرنے کا حق اسی کو ہے۔ اگر دشمن رسول و آل رسول نہ تھا، تو باقی سب تو قابل مغفرت ہے۔ اللہ کریم ستار العیوب سے دعا ہے کہ ہم سب کے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے ، ہمیں گناہوں کو عام و آشکار کرنے سے بچائےاور اپنی عفو و در گزر سے ہم سمیت سبھی گناہ گاروں کو معاف فرما دے۔ آمین۔
افتی کی ذاتی زندگی سے میرے خیال میں ہمارا کوئی سروکار نہیں یہ میری قطعی ذاتی رائے ہے اور کسی کو بھی اس سے اسی طرح اختلاف کا حق ہے جیسے اسے اپنے خیال اور اظہار کا حق۔ افتی کے بارے میں نوے فیصد سے زیادہ باتیں پھیلائی گئی ہوئی ہیں جنکی تفصیل میں جانے کا یہ وقت نہیں۔ ایک بات بہت کھل کر اپنے اس مرحوم دوست کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی چار عشروں سے جو میں افتی کو جانتا ہوں وہ کتنے ہی نام نہاد “”مصلحین اور اخلاق کا درس دینے والوں”” سے اچھا انسان تھا۔ وہ انسان دوست تھا۔محبت فاتح عالم پر یقین رکھتا تھا۔میں نے اسے غیبت کرتے کبھی نہیں سنا تھا۔وہ دشمن کی بھی تعریف کرنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔اسکا تعلق ایک ایسے عاشق محمد و آل محمد گھرانے سے تھا جنکے دو فرزند منقبت،سلام اور رباعی کے علاوہ شان اہلبیت لکھنے میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ افتی کے دونوں بھائی خرم خلیق اور انجم خلیق ثنا خوان اہلبیت ہیں اور خود افتی سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں کہ وہ کربلا کی روشنی کو قلب و نظر کی روشنی کہتا اور اس پر عمل بھی کرتا تھا۔ رہا اسکی زندگی کا کوئی متنازعہ پہلو تو یہ اب اسکا اسکے رب کا معاملہ ہے کہ جہاں وہ جا چکا اور ہم سبکو جانا ہے۔
افتی میرا دوست تھا۔ مجھے اسکے ساتھ کئ مشاعرہ پڑھنے پر فخر ہے۔ اس کا کلام اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ اس کے سارے دوست اسے ہمیشہ یاد کریں گے۔ وہ جانِ محفل تھا۔ ہمیشہ ہنستا ہنساتا رہتا تھا۔ اس کی اپنی کوئ فیملی نہ تھی لیکن بذاتِ خود وہ ہم سب کی فیملی تھا ۔
خدا مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اس کے عزیز واقارب بالخصوص خرّم کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
تین چہروں والا رقّاص
میں جس لمحے اس دنیا میں آیا تھا
رات اس لمحے کڑوے لڈ ّو
تھال میں رکھ کر
گھر گھر بانٹنے نکلی تھی
میں تو رات کا لے پالک ہوں
رات کے سایوں نے
میری پہچان کو ڈھانپ رکھا ہے
میری خواہش کے استھان پہ
دیوی نہیں ہے، دیوتا ہے
جس کے سامنے میں صدیوں سے وصل کا پیاسا
تیسرے روپ میں ناچ رہا ہوں۔
افتی نسیم کی کتاب ‘نرمان’ سے انتخاب
یہ تعزیتی وڈیو جناب امجد شیخ نے کل بنائی تھی … بہت ہی عمدہ امجد .. سلامت رہیں
ظہرالحق صاحب
آپ کا تبصرہ دل کو چھوتا ہے۔ میں نے آپ کے تبصرے سے بہت کچھ سیکھا۔ ہمارا مذہب بھی یہی سکھاتا ہے آدمی کے مرجانے کے بعد صرف مرحوم کی اچھی باتوں کا ذکر کرنا چاہئے۔ افتی مرحوم کے نیک اعمال پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک حدیث ہے کہ وہ شخص جس کی معلومات سے دوسروں کو فائدہ ہو ستّر ہزار عبادت کرنے والوں سے بہتر ہے۔
بھائی ظفر جعفری۔ماشااللہ۔نہایت عمدہ بات کی ہے آپ نے اظہر الحق کے خیالات کی تصدقی میں۔ حوالہ آپ نے باقر العلوم کا دیا ہے لیکن کیا کریں کہ ہم نے ان ناموں کو مسلکوں میں تقسیم کی بھینٹ چڑھا کر سمندر سے ایک چھوٹی سی آبی گزرگاہ بنا دیا ہے۔ مسلمانوں کی ایک غالب تعداد کو ایسے آئمہ کے نام بھی معلوم نہیں اور اسمیں غیروں سے زیادہ قصور اپنوں کا ہے۔ اسلام بیچارے کے ساتھ اس عہد میں خاص طور پر ظلم یہ ہوا ہے کہ ہر شخص جیسے مجتہد بن گیا ہے اور دین کو موم کی ناک کی طرح جس سمت چاہتا ہے موڑ لیتا ہے اجتہاد کے نام پر۔ افتی سے میری ستر کے عشرے کی دوستی ہے اور ایک بڑی تعداد افتی کے بارے میں ”سینہ گزٹ” والی معلومات کے طور پر باتیں کرتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے کیونکہ قرآن بار بار کہتا ہے کہ کوئی بھی بات بلا تحقیق نہ کرؤ
آپ ہمارے ادبی قبیلے کی بے حسی تو دیکھیں کہ ہمارے درمیان سے ہمارے گھر کا ایک فرد اٹھ جاتا ہے اور بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر کام کرنے والے شاعروں ادیبوں کو اس فرد پر بات کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ افتی پاکستان کا بیٹا تھا اور اس نے بڑے بڑے صدور و وزرائے اعظم سے زیادہ کاپاکستان کا نام روشن کیا شکاگو میں رہ کر۔ لیکن وائے حسرتا کیا کوئی بتا سکے گا کہ کسی پاکستانی اخبار نے اسکے انتقال کی خبر صفحہ اول پر شائع کی ہو یا پھر کسی ہلال پاکستان اور تمغہ پاکستان لینے والے ادیب شاعر نے افتی کے بارے میں فوری تاثر کے طور پر کچھ لکھکر شائع کروایا ہو یا ٹی وی ریڈیو پر نشر کیا ہو۔ وہ شاعر ادیب،ڈرامہ نگار،گلوکار اور نام نہاد فنکار سب کہاں ہیں جو شکاگو میں افتی کے مہمان رہتے تھے۔ ارے اللہ کے لیئے اپنی موت کو یاد رکھو
محترم المقام صفدر ھمدانی صاحب سب سے پہلے تو اپنے اچھے دوست، بہترین شاعر ، ادیب ، کالم نگار صحافی کی رحلت پر ھم سب کی جانب سے تعزیت قبول کیجیے
افتخار نسیم افتی نے اپنی زندگی کیسے گذاری کتنے زخم سمیٹے وہ اپنی گلیاں اور وطن چھوڑ کر گیا ،
فیصل آباد سے شکاگو کے سفر میں کیا گذری؟ اس شاعر پر کیا بیتی ۔؟ ھمارے مللک میں تو ایسے لوگوں کو ھی مار دیا جاتا ھے کتن
میں مرحوم افتخار نسیم افتی کے بارے میں نیہن جانتی ۔،مگر میرے اورافتخار نسیم افتی کے درمیان ایک اور بھی رشتہ تھا ، انسانیت کا رشتہ، کسی کی مغفرت کی دعاۓ کے لیے یہ رشتہ کافی نیہن ھے
میں دعا کرتی ھوں کہ اس سچے شاعر اور محبت کے خمیر سے کندھے اچھے انسان کو اللہ پاک مغفرت فرماۓ آمین ثمہ آمین عالمی اخبار میں جب سے انکے انتقال کی خبرلگي ھے فوار مغفرت کی دعا کے لیے ھاتھہ اٹھہ گۓ اور عجیب دکہھ بھری کیفیت کا شکار ھو ئ
محترم دوستوں جو ھماری بدی بھری اس دنیا سے چلا گیا ، بس اسکی مغفرت کی دعا کريں 65سال کی عمر میں اتنے سارے کام کرگيۓ ۔اللہ پاک مرحوم کے گناھان کیبرہ و صغیرہ کو معاف فرماۓ امین ثمہ آمین
افتحار نسیم
آنسوں کے کفن دے گیا
پیار کا آسمان تھا
اک داستان تھا
آنسوں کے کفن دے گیا
اک احساس لٹ گیا
اک کرن لٹ گئی
اک روشنی بجھ گئی
سینہ میں ڈھڑکن نہ رہی
ادب خاموش ہو گیا
ہر یاد اک امتحان ہے
دُکھ بھری اس کی داستان ہے
وہ غم پانٹ کر چل پڑا
میرے راہوں کو خاموش کر گیا
قلم کا ساتھ چھوٹ گیا
اک قلم دوست تھا
ایسا ویران کر گیا
قرطاس خاموش ہو گیا
ہر آنکھ پر نم ہے
افتی خاموش ہے
بڑئے ادب سے جیا رہا تھا دنیا میں
محبتوں کی فضا میں بکھر گیا افتی
قلم سوکھ گیا قرطاس پہ اُدسی ہے
ادب چیخ رہا ہے کہ مر گیا افتی
خدا مرحوم افتخار نسیم کی مغفرت فرمائے ان کو اپنی جوار رحمت میں بہترین جگہ عطا فرمائے آمین
ان کے یوں چلے جانے پر دل کی کیفیت بہت عجیب ھے میں ان کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھی لیکن شاعر ادیب یا کسی بھی قلمکار کو ھم ان کی
تخلیقات کے حوالے جانتے پہچانتے ھیں اور یہی ھماری ان سے پہچان ھوتی ھے
اور افتخار نسیم کی ذات تو دوستی زندگی کی علامت تھی
تمام دوست احباب و متعلقین سے سے دلی تعزیت ھے
موت کیا ھے درحقیقت زندگی کا اختتام
زندگی فانی ھے لیکن موت کو حاصل دوام
سچ تو یہ ھے موت کی منزل ھے اصلی زندگی
زندگی کرتی ھے خود یاں پہچنے کا انتظام
صفدرھمدانی
انااللہ وانا الیہ راجعون
لندن سے امجد مرزا کی ایمیل آئ اور اس میں بھی مرحوم افتخار نسیم افتی کی وفات کی خبر تھی امجد مرزا لند ن میں رھتے ھیںمرحوم افتخار امریکہ میں مقیم تھے مگر سب سے پہلے اس خبر کو عالمی اخبار نے انکی وفات کی خبر لگائ ،انکے دوستوں نے انکو خراج تحسین پیش کرتے ھوۓ انکی ادبی خدمات کا ذکر کیا اور دعاۓ مغفرت کی المتاس کی
افتخار نسیم افتی بہت دوست نواز تھے ، ادب پرور شخصیت تھے دینا بھر میں انکی رحلت کی خبر بہت دکھہ سے سنی گی ،وہ واقعی بہت قابل انسان تھے ، ؎ محبت کے سارے دل فریب رنگوں سے سجی شخصیت ، مختلف طرز زندگی کی بدولت جن تجربات وسانحات سے گذرے ھونگے اور جن غموں سے آشنائ ھوئ ھوگی اسی احساس نے انکی شاعری میں حزنیہ کیفیت کو اجاگر کیا، اسی لیے دنیا بھر کی یونیورسٹیز میں ان کو لیکچر کے لیے مدعو کیا جاتا تھا ،ا۔ ۔افتی شاعر تھے، ادیب تھے، فنکار تھے رقاص تھے ، عام لوگو ں سے مختلف ایک ایسے انسان تھے جس نے اپنے اوپر کبھی خول نیہن چڑھایا، کھبی اپنے آپ کو پس پردہ نیہن رکھا ،۔ زندگی نے ان کو دکھہ زیادہ دیئے اور سکھہ کم ، وہ بہروپ بدل بدل کر ھر روپ میں سب کو حیران کرتے تھے ، جس ماحول میں انکی پرورش ھوئ تھی ۔کیا افتی نے اپنی خوشی اور رضامندی سے اس مختلف ماحول کو اپنایا ،
بلاگ میں ھم سب کی بہت عزیز اور بہت اچھی بہن ڈاکٹر نگہت نسیم نے انکی کتاب سے ایک نظم منتخب کی ھے ، کتنے کم قلمکار ھونگے جو اس شدت سے کسی کے دکھہ کو محسوس کرتے ھونگے
تین چہروں والا رقّاص
میں جس لمحے اس دنیا میں آیا تھا
رات اس لمحے کڑوے لڈ ّو
تھال میں رکھ کر
گھر گھر بانٹنے نکلی تھی
میں تو رات کا لے پالک ہوں
رات کے سایوں نے
میری پہچان کو ڈھانپ رکھا ہے
میری خواہش کے استھان پہ
دیوی نہیں ہے، دیوتا ہے
جس کے سامنے میں صدیوں سے وصل کا پیاسا
تیسرے روپ میں ناچ رہا ہوں۔
کل نفس ذائقہ الموت
زندگی کیا ھے عناصر میں پرظہور ترتیب
موت کیا ھے انھی اجزاء کا پریشاں ھونا
اللہ پاک مرحوم کی معفرت فرماۓ آمیں ثمہ آمین
زندگی کیا ھے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ھے انھی اجزاء کا پریشاں ھونا
کافی پہلے میں نے شعر کیہں پڑھا تھا ، اور اس شعر نے مجھے بہت متاثر کیا تھا ۔ میں سوجتی تھی جن آچھی ماوں کے لخت جگر نور نظر پردیس جاتے ھونگے اور پھر کھبی واپس نہ آتے ھونگے ان ماوں اک انکھوں تو ھمیشہ ھی سمندر بن جاتی ھوں غزيز امجد شیخ بھائ کی بنائ ھوئ تعزیتی وڈیو دیکھی تو ایک دم میری انکھوں سے اشک جاری ھوگے ، افتخار نسیم افتی کتنا بڑا شاعر تھا ،کاش ھم اپنے قلم کاروں کو انکی زندگی میں سراھنے کا چلن اپنا لیں، اللہ مغفرت فرماۓ آمین
طاق پر جزدان میں لپٹی دعايئں رہ گيئں
چل دیئۓ بیٹے سفر پر اور مايئں رہ گیئں