موت روزازل سے روزابد تک سب سےبڑی حقیقت
موت سے ھر زندہ آدمی بھاگتا ھے موت کے تذکرے سے ڈرتا ھے ، قبر کے ذکر سے بھاگتا ھے ، آخرت کے بارے میں کم دینا کے بارے میں زیادہ سوچتا ھے ، وہ خسارے کا سودا کرتا ھے اور سمجھتا ھےکہ وہ فائدے میں ھے۔
دینا بھر میں ھر مرض کا علاج اور دوا ایجاد ھوگی مگر موت سے فرار ممکن نیہن ۔ موت کا کوئ علاج نیہن ، کوئ موت سے بچ نیہن سکتا ، کوئ موت کو شکت نیہن دے سکتا ،
موت کی کوکھہ سے زندگی جنم لیتی ھے ۔موت مومن کے لیے باعث نجات ھے ، کافر کے لیے باعث زحمت ،موت معصوم کے لیے بخشش ھے گناہ گار کے لیے سخت ترین سزا ۔موت اپنے پیاروں سے ابدی جدائ کا نام ھے ،
موت فنا اور منتقل ھونے کا نام ھے
موت ایک عالم سے عالم بالا جانے کا نام ھے
موت کے معنی توفی کے بھی ھیں قراں کریم کی 14 آیتوں میں موت کے لیے توفی کا لفظ استعال ھوا ھے ۔ اللہ تعالی کے نیک بندوں کے لیے موت سے خوبصورت چیز کوئ نیہن ، مومن کے لیے موت ایک بھرپور نیند ھے ،
میں نے موت کو بارھا بہت قریب سے دیکھا ھے ۔ ایک بار تو اتنے قریب تھی کہ موت نے مجھے بھی نظر بھر دیکھا ھوگا ،جب وہ میرے بابا سید علی رضا رضوی مرحوم ومغفور کی روح قبض کررھی تھی ، بابا اشاروں میں بتا رھے تھے اٹھنا چاہ رھے تھے تعظیما، کوئ ھے جو ان کو لینے آیا ھے وہ خود اس شخصیت کے ساتھہ جانا چاہ رھے ، بابا اپنے تمام مرحوم رشتے داروں کو دیکھہ رھے تھے ، شايد مرنے سے قبل اسی لیے گویائ سلب کرلی جاتی ھے کہ اس وقت کی کیفقیت اور حالات کسی اور کو نہ بتايئں جایئں میں موت سے التجاء کررھی تھی میرے بابا کو نہ لیکر جاوھم سب انکے بغیر مرجایئنگے ، مجھے لے جاو میرے بابا کو چھوڑ دو، میرے بہن بھائ میری ماں ھم سب بابا کے بغیر زندگی کا تصور نیہن کرسکتے مگر بابا کو بھی بہت جلدی تھی وھاں جانے کی ، جہاں جاکر کوئ نیہن آتا ، والدہ نے اسی رات خواب دیکھا تھا کہ چند سیاہ ّپوش بیبیاں آئ ھیں اور گریئہ کررھی ھیں کہ آج ھمارا علمدار چلاگیا ، اللہ پاک میرے والد کی قبر کو نور سے بھر دے، انکو جنت الفردوس میں مقام الخاص عطا فرماۓ ، آمین مجھے یقین ھے کہ میرے بابا بہت اچھی جگہ ھیں وہ سب کے کام آتے تھے ، انکی وفات سے کچھہ عرصہ قبل میرے چھوٹے چچا کا انتقال ھوا تھا جب سے بابا کا یہ معمول تھا کہ پہلے چچا کے گھر جاتے اور ھر روز ناشتے کے لیے بچوں کی پسندیدہ چیزوں لیکر جاتے ، بابا کی وفات پر میرے چچا زاد بہن بھائ روتے تھے کہ ھم تو آج یتیم ھوگے ھیں،انکی قبر ھمشیہ پھولوں سے ڈھکی رھتی ھے ، آج 24 سال ھوگے ھیں مگریتیمی کے زخم سے آج بھی لہو رستا ھے
اللہ تعالی جب چاھتا ھے روح کو اپنی طرف بلا لیتا ھے ،
اللهُ یَتَوَفَّی الْاٴَنْفُسَ حِینَ مَوْتِہَا وَالَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضَی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاٴُخْرَی إِلَی اٴَجَلٍ مُسَمًّی”
خدا ھی ان لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں (اپنی طرف) کھینچ کر بلاتا ھے اور جو لوگ نھیں مرے (ان کی روحیں) ان کی نیندمیں (کھینچ لی جاتی ھے )بس جن کے بارے میں خدا موت کا حکم دے چکا ھے ان کی روحوں کو روکے رکھتا ھے اور باقی (سونے والوں کی روحوںکو)پھر ایک مقرر وقت کے واسطے بھیج دیتا ھے “۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ انسان روح اور جسم کا نام ھے، اور روح حکم خدا سے بدن پر حکومت اور اس میں تدبیر کرتی ھے ،اور موت روح و بدن کے درمیان موجود رابطہ کے ختم ھوجانے کانام ھے، اور یہ روح موت کے بعد اپنے خالق کی طرف پلٹ جاتی ھے، اور خداوندعالم اس روح کو سوتے وقت اور موت کے وقت قبض کرلیتا ھے اور اگر کسی کی موت آجاتی ھے تو وہ روز قیامت تک خدا کے پاس باقی رہتی ھے، اور پھر روز قیامت اس کے جسم میں واپس چلی جائے گی۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا گیا یا امام علیہ اسلام موت کیا ھے؟
آپ نے فرمایا:
ھو النوم الذی یاٴتیکم فی کل لیلة الا انہ طویل مدتہ
؟موت وھی نیند ھے جو روزانہ رات میں طاری ھوتی ھے بس اس فرق کے ساتھ کہ اسکی مدت طولانی ھوتی ھے۔ (۵)
موت ، نیند کے جیسی ایک حالت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ھونا، بیداری کی حالت جیسا ھے۔ نیند ، موت کے ادنیٰ درجہ کا نام اور موت، نیند کے اعلیٰ درجہ کا نام ھے اور ان دونوں مرحلوں میں روح انسان ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقل ھو جاتی ھے صرف اس فرق کے ساتھ کہ نیند کی حالت میں انسان معمولاً متوجہ نھیں ھوتا اور جب بیدا ر ہوتا ھے تونھیں جانتا کہ درحقیقت ایک دوسری دنیا کا سفر کرکے آیا ھے جب کہ حالت موت میں وہ تمام رونما ھونے والی حالتوں سے آگاہ رھتا ھے۔
قال الامام الحسین علیہ السلام
” موت فی عز خیر من حیات فی ذل “
ترجمہ
حضرت امام حسین علیہ السلام فرماتے ھیں
” ذلت کی زندگی سے عزت کی موت کھیں بہتر ھے “ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قال الامام الحسین علیہ السلام
” انی لا اری الموت الا سعادہ ولا الحیاة مع الظالمیں الابرما “
ترجمہ
حضرت امام حسین علیہ السلام فرماتے ھیں
” میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو لائق ملامت سمجھتا ھوں
باب شہر علم مولائے متقیان علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا
۱الدین یعصم (دین انسان کو حفاظت میں رکھتا ہے )
۲ الدنیا تسئلم (دنیا خوار کرتی ہے )
۳ الدین یجل‘ الدنیا تذل (دین جلالت اور بزرگی عطا کرتا ہے دنیا ذلیل کرتی ہے )
۴ الدنیا امر ‘الاخرۃابد(دنیا ایک گزرتا ہوا لمحہ ہے اور آخرت ایک ابدی منزل ہے)
۵ العلم ینجدہ ‘الحکمت ترشد (علم رتبے ک و بلند کرتا ہے اورحکمت راہ راست دکھا تی ہے )
۶ العدل محلوق ‘الجور عسوف (عدل قابل الفت ہوتا ہے جوروستم انسانیت کی رہگزر ہے )
۷ الصرق وسیلۃ العفو فضیلۃ (سچائی ایک وسیلہ ہے معافی باعث فضیلت ہے
میں نے بارھا احادیث میں پڑھا کہ جب عالم غربت میں کوئ مسافر مرجاۓ تو اسکو کفن دفن دینے میں مد د کرنا بھی ایک اچھا اور نیک عمل ھے
گذشتہ دنوں جب میں والدہ کے ساتھہ عمرے اورخدمت الخلق کی نیت سے مکہ المکرمہ گی تو ایک اور عجیب تجربے سے روشناس ھوئ ۔ امی پاکستان سے قافلے کے ساھتہ تشریف لايئں تھیں انکے قافلے میں اندورن سندھ سے بھی بہت سارے زائرین آۓ تھے ، ایک سندھی خاتوں جن کی دوچھوٹی بچیاں وطن میں انکی منتظر تھیں اانکی اچانک طبعیت خراب ھوئ ، وہ حالت احرام میں تھیں ، مگر عمرے کرنے سے قبل بھی انکا انتقال ھوگیا ، سب لوگ ھی انکی وفات کی خبر سنکر اداس ھوگے ، مدینے میں انھوں نے قرآن مجید ختم کیا تھا ۔اور بہت خاموش بھی تھیں مکہ میں عمرے کی نیت کی احرام باندھا اور اسی حالت میں انکی وفات ھوئ ، مجھے پتہ چلا تو میں نے انکے لواحقین سے اپنی اس خواھش کا اظہار کیا کہ میں انکے غسل وکفن میں شریک ھونا چاھتی ھوں ، ، ھم سعودیہ میں تھے جہاں کے رسم ورواج ھی مختلف ھیں ،زبان مختلف ،اور وہ وھابی لوگ ھیں رونے کی اجازت بھی نیہن دتیے ، بھلا کوئ پیارا مرجاۓ تو کیسے کوئ اپنے اشکوں پر قابو رکھہ سکتا ھے ۔ میں نے کہا کہ مجھے عربی زبان آتی ھے کاش میں اس مسافر خاتون کے کسی کام آسکوں ۔ ۔میری خواھش پر مجھےالھجرہ مسجد میں لے کر آۓ ۔جہاں دو سعودی خاتون کے ھمراہ میں انکے غسل وکفن میں شامل ھوئ
مجھے اس نیک خاتوں سے کوئ ڈرنیہن لگا میت کو کوئ خوشبو نیہن لگآئ گی کہ انکو قبر میں بہشتی خوشبووں سےمعطر کیا جا ۓ گا ،میں بہت دیر اس میت کے ساتھہ اکیلی کمرے میں رھی اور دعايئں پڑھتی رھی انکے ساتھہ اپنے لیے بھی دعا کرتی رھی کہ مجھے بھی اسی موت نصیب ھو اور مکہ میں میرا مدفن بنے آمین ثمہ آمین
ان نیک بی بی کے غسل وکفن کے دوران ایسا ھی لگا جیسے یہ مسکراتی ھوي خاتوں گہری نیند میں ھیں ،مجھے پتہ ھے بہت کم ایسے مردے ھوتے ھیں جن کے چہرے پر اتنی خوبصورت مسکراھٹ ھوتی ھے، اس کمرے پر کسی آپریشن تھیڑ کا گمان ھورھا تھا ، چارون طرف کیبنٹ میں ھر طرح کی خوشبويئں ، کاٹن پٹیاں ، مختلف قسم کے کفن رکھے ھوۓ
جب ھم اس کام سے فارغ ھوگے تو ھم کو ایک ایسے کمرے میں بھیجاگیا جہاں دیگر مسافر مرحومیں کے لواحقین اوراعزاء اداس بیھٹے ھوۓ تھے اس بہت صاف ستھرے کمرے میں بڑي آرام دہ چمڑے کی نشستیں تھیں وھاں ھم لوگوں کو کافی چاۓ اور بسکٹ اور کھجوریں پیش کی گیں ، ظاھر ھے کسی کا دل بھی کھانے پینے پر آمادہ نیہن تھا ھم سب نے صرف ٹھنڈے پانی کی بوتل سے تھوڑا سا پانی پیاء بہت اچھا انتظام تھا ۔،عصر کے دوران ھم نے غسل وکفن کی تیاری کی اور مغرب کی نماز کے بعد انکی خانہ کعبہ میں نماز جنازہ ادا کی گی ، کتنے خوش نصیب ھوتے ھیں جھینیں جنت المعلی اور جنت البقیع میں دفن ھونے کی سعادت ملتی ھے ۔ کاش میرا شمار بھی ان خوش نصیبوں میں ھو، آمین
دنیا بھی عجب گھر ہے کہ راحت نہیں جس میں
وہ گُل ہے یہ گل، بوئے محبّت نہیں جس iiمیں
وہ دوست ہے یہ دوست، مرّوت نہیں جس iiمیں
وہ شہد ہے یہ شہد، حلاوت نہیں جس iiمیں
بے درد و الم شامِ غریباں نہیں iiگزری
دنیا میں کسی کی کبھی یکساں نہیں گزری
گودی ہے کبھی ماں کی، کبھی قبر کا iiآغوش
گُل پیرہن اکثر نظر آتے ہیں کفن iiپوش
سرگرمِ سخن ہے کبھی انساں، کبھی خاموش
گہ تخت ہے اور گاہ جنازہ بہ سرِ iiدوش
اک طور پہ دیکھا نہ جواں کو نہ مُسِن iiکو
شب کو تو چھپر کھٹ میں ہیں، تابوت میں دن iiکو
شادی ہو کہ اندوہ ہو، آرام ہو یا iiجَور
دنیا میں گزر جاتی ہے انساں کی بہر iiطَور
ماتم کی کبھی فصل ہے، عشرت کا کبھی iiدَور
ہے شادی و ماتم کا مرقع جو کرو iiغور
کس باغ پہ آسیبِ خزاں آ نہیں iiجاتا
گل کون سا کھلتا ہے جو مرجھا نہیں iiجاتا
ہے عالمِ فانی کی عجب صبح، عجب iiشام
گہ غم، کبھی شادی، کبھی ایذا، کبھی iiآرام
نازوں سے پلا فاطمہ زہرا کا گل iiاندام
وا حسرت و دردا، کہ وہ آغاز یہ iiانجام
راحت نہ ملی گھر کے تلاطم سے دہم iiتک
مظلوم نے فاقے کئے ہفتم سے دہم iiتک
ریتی پہ عزیزوں کا مرقع تو ہے ابتر
شہ کا ہے یہ نقشہ کہ ہیں تصویر سے iiششدر
فرزند نہ مسلم کے، نہ ہمشیر کے دلبر
قاسم ہیں، نہ عبّاس، نہ اکبر ہیں نہ iiاصغر
سب نذر کو دربارِ پیمبر میں گئے iiہیں
رخصت کو اکیلے شہِ دیں گھر میں گئے iiہیں
منظور ہے پھر دیکھ لیں ہمشیر کی iiصورت
پھر لے گئی ہے گھر میں سکینہ کی iiمحبّت
سجّاد سے کچھ کہنے ہیں اسرارِ iiامامت
بانوئے دو عالم سے بھی ہے آخری iiرخصت
مطلوب یہ ہے، زیبِ بدن رختِ کہن ہو
تا بعدِ شہادت وہی ملبوسِ بدن ہو
خیمے میں مسافر کا وہ آنا تھا iiقیامت
اِک ایک کو چھاتی سے لگانا تھا iiقیامت
آنا تو غنیمت تھا، پہ جانا تھا قیامت
تھوڑا سا وہ رخصت کا زمانا تھا قیامت
واں بَین، اِدھر صبر و شکیبائی کی iiباتیں
افسانۂ ماتم تھیں بہن بھائی کی iiباتیں
حضرت کا وہ کہنا کہ بہن صبر کرو iiصبر
امت کے لیے والدہ صاحب نے سہے iiجبر
وہ کہتی تھی کیونکر نہ میں روؤں صفتِ iiابر
تم پہنو کفن اور نہ بنے ہائے مری iiقبر
لٹتے ہوئے امّاں کا گھر ان آنکھوں سے دیکھوں
ہے ہے تہہِ خنجر تمھیں کن آنکھوں سے iiدیکھوں
اس عمر میں ٹھوڑے غمِ جانکاہ iiاٹھائے
اشک آنکھوں سے امّاں کے جنازے پہ iiبہائے
آنسو نہ تھمے تھے کہ پدر خوں میں iiنہائے
ٹکڑے دلِ شبّر کے لگن میں نظر iiآئے
حضرت کے سوا اب کوئی سر پر نہیں iiبھائی
انساں ہوں، کلیجا مرا پتھر نہیں iiبھائی
ہر شخص کو ہے یوں تو سفر خلق سے کرنا
دشوار ہے اِک آن مسافر کا iiٹھہرنا
ان آنکھوں سے دیکھا ہے بزرگوں کا iiگزرنا
ہے سب سے سوا ہائے یہ مظلومی کا iiمرنا
صدقے گئی، یوں رن کبھی پڑتے نہیں دیکھا
اِک دن میں بھرے گھر کو اجڑتے نہیں iiدیکھا
ہے ہے تمھیں میں لے کے کہاں چھپ رہوں iiبھائی
لٹتی ہے مرے چار بزرگوں کی iiکمائی
کس دشتِ پر آشوب میں قسمت مجھے iiلائی
یا رب، کہیں مر جائے یداللہ کی iiجائی
زہرا کا پسر وقتِ جدائی مجھے iiروئے
سب کو تو میں روئی ہوں، یہ بھائی مجھے iiروئے
زینب کی وہ زاری، وہ سکینہ کا iiبلکنا
وہ ننھی سی چھاتی میں کلیجے کا iiدھڑکنا
وہ چاند سا منہ اور وہ بُندے کا iiجمکنا
حضرت کا وہ بیٹی کی طرف یاس سے iiتکنا
حسرت سے یہ ظاہر تھا کہ معذور ہیں بی iiبی
پیدا تھا نگاہوں سے کہ مجبور ہیں بی iiبی
وہ کہتی تھی، بابا ہمیں چھاتی سے iiلگاؤ
فرماتے تھے شہ، آؤ نا، جانِ پدر iiآؤ
ہم کڑھتے ہیں، تم آنکھوں سے آنسو نہ iiبہاؤ
خوشبو تو ذرا گیسوئے مشکیں کی iiسنگھاؤ
کوثر پہ بھی تم بِن نہیں آرام چچا iiکو
ہم جاتے ہیں کچھ دیتی ہو پیغام چچا کو
بی بی، کہو کیا حال ہے اب ماں کا iiتمھاری
کس گوشے میں بیٹھی ہیں، کہاں کرتی ہیں iiزاری
جب سے سوئے جنّت گئی اکبر کی سواری
دیکھا نہ انھیں، گھر میں ہم آئے کئی iiباری
تھی سب کی محبّت انھیں بیٹے ہی کے دم iiتک؟
کیا آخری رخصت کو بھی آئیں گی نہ ہم iiتک؟
کس جا ہیں، طلب ہم کو کریں، یاد ہی آئیں
ممکن نہیں اب وہ ہمیں یا ہم انہیں iiپائیں
کچھ ہم سے سنیں، کچھ ہمیں حال اپنا iiسنائیں
اک دم کے مسافر ہیں، ہمیں دیکھ تو iiجائیں
بعد اپنے یہ لُوٹا ہوا گھر اور لُٹے iiگا
افسوس کہ اک عمر کا ساتھ آج چھٹے iiگا
غش میں جو سنی بانوئے مضطر نے یہ iiتقریر
ثابت ہوا مرنے کو چلے حضرتِ iiشبیر
سر ننگے اٹھی چھوڑ کے گہوارۂ بے شیر
چلّائی مجھے ہوش نہ تھا، یا شہِ iiدلگیر
جاں تن سے کوئی آن میں اب جاتی ہے iiآقا
یہ خادمہ رخصت کے لیے آتی ہے iiآقا
یہ سن کے بڑھے چند قدم شاہِ خوش iiاقبال
قدموں پہ گری دوڑ کے وہ کھولے ہوئے iiبال
تھا قبلۂ عالم کا بھی اس وقت عجب حال
روتے تھے غضب، آنکھوں پہ رکھّے ہوئے رومال
فرماتے تھے جاں کاہ جدائی کا الم iiہے
اٹھو تمھیں روحِ علی اکبر کی قسم ہے
وہ کہتی تھی کیوں کر میں اٹھوں اے مرے iiسرتاج
والی، انہی قدموں کی بدولت ہے مرا iiراج
سر پر جو نہ ہوگا پسرِ صاحبِ iiمعراج
چادر کے لیے خلق میں ہو جاؤں گی iiمحتاج
چُھوٹے جو قدم، مرتبہ گھٹ جائے گا iiمیرا
قربان گئی، تخت الٹ جائے گا iiمیرا
یاں آئی میں، جب خانۂ کسرٰی ہوا iiبرباد
وہ پہلی اسیری کی اذیّت ہے مجھے یاد
کی عقدہ کشائے دو جہاں نے مری iiامداد
حضرت کے تصدّق میں ہوئی قید سے iiآزاد
لونڈی سے بہو ہو گئی زہرا و علی iiکی
قسمت نے بٹھایا مجھے مسند پہ نبی iiکی
چھبیس برس تک نہ چھٹا آپ کا iiپہلو
اب ہجر ہے تقدیر میں یا سیّدِ خوش iiخو
ہر شب رہے تکیہ سرِ اقدس کا جو iiبازو
ہے ہے اسے اب رسّی سے باندھیں گے جفا جو
سر پر نہ ردا ہوگی تو مر جاؤں گی iiصاحب
چھپنے کو میں جنگل میں کدھر جاؤں گی iiصاحب
حضرت نے کہا کس کا سدا ساتھ رہا iiہے
ہر عاشق و معشوق نے یہ داغ سہا iiہے
دارِ محن اس دار کو داور نے کہا iiہے
ہر چشم سے خونِ جگر اس غم میں بہا ہے
فرقت میں عجب حال تھا خالق کے ولی iiکا
ساتھ آٹھ برس تک رہا زہرا و علی iiکا
سو سو برس اک گھر میں مَحبّت سے رہے iiجو
بس موت نے دم بھر میں جدا کر دیا ان کو
کچھ مرگ سے چارہ نہیں اے بانوئے خوش iiخو
ہے شاق فلک پر کہ رہیں ایک جگہ iiدو
کس کس پہ زمانے نے جفا کی نہیں صاحب
اچھوں سے کبھی اس نے وفا کی نہیں iiصاحب
لازم ہے خدا سے طلبِ خیر بشر iiکو
تھامے گا تباہی میں وہی رانڈ کے گھر iiکو
آنا ہے تمھیں بھی وہیں جاتے ہیں جدھر iiکو
وارث کی جدائی میں پٹکتے نہیں سر iiکو
کھولے گا وہ رسّی سے بندھے ہاتھ iiتمھارے
سجّاد سا بیٹا ہے جواں ساتھ iiتمھارے
زینب کو تو دیکھو کہ ہیں کس دکھ میں گرفتار
ایسا کوئی اس گھر میں نہیں بے کس و iiناچار
تنہا ہیں کہ بے جاں ہوئے دو چاند سے iiدلدار
دنیا سے گیا اکبرِ ناشاد سا غم iiخوار
بیٹے بھی نہیں گود کا پالا بھی نہیں iiہے
ان کا تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے
یہ کہہ کے کچھ ارشاد کیا گوشِ پسر iiمیں
بیمار کے رونے سے قیامت ہوئی گھر iiمیں
اندھیر زمانہ ہوا بانو کی نظر iiمیں
غش ہوگئی زینب، یہ اٹھا درد جگر میں
ٹھہرا نہ گیا پھر شہِ والا نکل iiآئے
تنہا گئے روتے ہوئے تنہا نکل iiآئے
کچھ بڑھ کر پھرے جانبِ قبلہ شہِ بے iiپر
کج کی طرفِ دوشِ یمیں گردنِ انور
تھرّاے ہوئے ہاتھوں پہ عمّامے کو رکھ iiکر
کی حق سے مناجات کہ اے خالقِ اکبر
حرمت ترے محبوب کی دنیا میں بڑی iiہے
کر رحم کہ آل ان کی تباہی میں پڑی iiہے
یا رب، یہ ہے سادات کا گھر تیرے iiحوالے
رانڈیں ہیں کئی خستہ جگر تیرے iiحوالے
بیکس کا ہے بیمار پسر تیرے iiحوالے
سب ہیں ترے دریا کے گہر تیرے iiحوالے
عالم ہے کہ غربت میں گرفتارِ بلا iiہوں
میں تیری حمایت میں انھیں چھوڑ چلا iiہوں
میرے نہیں، بندے ہیں ترے اے مرے iiخالق
بستی ہو کہ جنگل تُو ہی حافظ، تو ہی رازق
باندھے ہیں کمر ظلم و تعدّی پہ منافق
یہ دوست ہے دنیا، نہ زمانہ ہے موافق
حرمت ہے ترے ہاتھ امامِ اَزَلی iiکی
دو بیٹیاں، دو بہویں ہیں اس گھر میں علی کی
میں یہ نہیں کہتا کہ اذیّت نہ iiاٹھائیں
یا اہلِ ستم آگ سے خیمے نہ iiجلائیں
ناموس لٹیں، قید ہوں اور شام میں iiجائیں
مہلت مرے لاشے پہ بھی رونے کی نہ iiپائیں
بیڑی میں قدم، طوق میں عابد کا گلا ہو
جس میں ترے محبوب کی امّت کا بھلا iiہو
یہ کہہ کے گریبانِ مبارک کو کیا iiچاک
اور ڈال لی پیراہنِ پُر نور پہ کچھ خاک
میّت ہوئے شبّیر، کفن بن گئی iiپوشاک
بس فاتحۂ خیر پڑھا با دلِ iiغمناک
مڑ کر نہ کسی دوست، نہ غم خوار کو iiدیکھا
پاس آئے تو روتے ہوئے رہوار کو iiدیکھا
گردان کے دامن علی اکبر کو iiپکارے
تھامو مرے گھوڑے کی رکاب، اے مرے iiپیارے
لختِ دلِ شبّر، کدھر اس وقت سدھارے
بھائی ہیں کہاں، ہاتھ میں دیں ہاتھ ہمارے
آتے نہیں، مسلم کے جگر بند کہاں iiہیں
دونوں مری ہمشیر کے فرزند کہاں iiہیں
تنہائی میں اک ایک کو حضرت نے پکارا
کون آئے کہ فردوس میں تھا قافلہ iiسارا
گھوڑے پہ چڑھا خود اسداللہ کا iiپیارا
اونچا ہوا افلاکِ امامت کا iiستارا
شوخی سے فَرَس پاؤں نہ رکھتا تھا زمیں iiپر
غل تھا کہ چلا قطبِ زماں عرشِ بریں iiپر
شبدیز نے چھل بل میں عجب ناز iiدکھایا
ہر گام پہ طاؤس کا انداز iiدکھایا
زیور نے عجب حُسنِ خدا ساز iiدکھایا
فتراک نے اوجِ پرِ پرواز iiدکھایا
تھا خاک پہ اک پاؤں تو اک چرخِ بریں iiپر
غل تھا کہ پھر اترا ہے براق آج زمیں iiپر
بجلی کو نہ تھا اس کی جلو لینے کا یارا
رہوار کو دُلدل کا چلن یاد تھا iiسارا
اڑنے میں نہ آہُو کبھی جیتا، نہ iiچکارا
شہباز بھی بازی اسی جانباز سے iiہارا
طاؤس کا کیا ذکر، پری سے بھی حَسیں iiتھا
سایہ تھا کہیں دھوپ میں اور آپ کہیں iiتھا
جانباز نے طے کی عجب انداز سے وہ iiراہ
لے آئی سلیماں کو ہوا تا صفِ جنگاہ
وہ رعب، وہ شوکت وہ نہیبِ شہِ ذی iiجاہ
دلدل کو اڑاتے ہوئے آئے اسد iiاللہ
غل تھا یہ محمد ہیں کہ خالق کے ولی iiہیں
اقبال پکارا کہ حسین ابنِ علی iiہیں
شاہین اس جنتی خاتون کے آخری سفر کی تیاری میں تمہاری کوششیں دیکھ کر تم پر رشک آیا اور تمہاری بہن ہونے پر خود سے محبت ہونے لگی ہے … اللہ کریم اس محبت اور محنت کو قبول فرمائے ..آمین . .. مجھے یاد ہے جب میں پاکستان میں ہاؤس جاب کر رہی تھی تو میری مرحومہ چچہی جان کی والدہ کا انتقال میرے ہی ہوسپٹل میں میرے ہی سامنے ہوا .. میں نے ان کو نہانے دھلانے سے لے کر کفن پہنانے تک دو عورتوں کے ساتھ ہر ممکن مدد کی تھی .. یقین کرو مجھے بھی قطعی کوئی خوف محسوس نہیں ہوا تھا بلکہ ایک انتہائی الگ سا تجربہ اور کیفیات سے آشنائی ہوئی تھی جو ناقابل بیان ہے .. بس یہی احساس رہا کہ اللہ ہمارے اتنے قریب ہے اور ہم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے سو جب اس کا جی چاہتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے ہمیں اپنے پاس بلا لیتا ہے اور اس کا یوں بلا لینا ہی اس کی محبت کی انتہا ہے .. اس دن مجھے اپنے خدا سے ایک عجیب طرح کی محبت اور نزدیکی کا احساس ہوا ..
آج وہی محبت تمہارے لفظوں سے جھلکتی دیکھی تو رہ نہ سکی اور تمہاری دعاؤں کے ساتھ صدق دل سے رو رو کر اپنے لئے بھی تھوڑی سی جگہ جنت المعلی اور جنت البقیع میں دفن ہونے کو مانگتی ہوں ..اور اتنی خوش نصیب موت کی آرزو دن رات کرتی ہوں ..آمین ثمہ آمین
میری بہت پیاری دوست اور بہت ھی عزيز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ۔اللہ پاک تم کو ھمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثمہ آمین
میری روحانی رفیق ۔ تم کو یاد ھوگا جب میں اپریل میں سفر حجاز میں گی تو سب سے پہلے آتے ھی سفرنامہ حجاز لبیک اللھم لبیک شروع کیا ، ان کی ابتدائ سطور ھی میں، میں نے اپنی اور اپنے عزيز ازجان اور بیٹوں جیسے بھائ صفدررضا رضوی کی اس خواھش کا بھی ذکر کیا تھا کہ کاش ھم والدہ کے ساتھہ بیت العتیق جاء سکیں ۔ پھر پتہ نیہن ؛کیسے اس کی دوسری قسط تحریر کرتے ھوۓ پھر وھاں سے بلاوا آگیا اور والدہ محترمہ کے ساتھہ جانے کی خواھش بھی پوری ھوگی ،اور سفر نامہ بھی مکمل ھوگیا کیونکہ وہ سفر ابن بطوطہ کے ذکر سے شروع ھوا تھاتاریخ میں روحانی آسودگی حاصل کرنے والا 29 سالہ پہلا حاجی تھا جس نے اپنے بے پناہ روحانی مذھبی جذبات عقیدت اور محبت کی بدولت یہ ناقابل فراموش سفر کیا تھا چودھویں صدی کے اس عظیم مسلمان مورخ نے طنجہ سے مکہ تک کا سفر عظیم صحرآئ راستوں سمندروں اور پہاڑی راستوں کو صرف اپنی ایمانی طاقت کی بدولت طے کیا ،اس نے 28سال کی عمر میں 75ھزار میل کا سقر طے کیا انوکھے بصری تجربات پر مشتمل مشہور معروف آئ میکس فلم جرنی ٹو مکہ جس کو جوناتھن پارکر نے انتہائ خوبصورتی سے پیش کیا اس میں ابن بطوطہ کا کردار ادا کرنے والے مراکشی اداکار شمس الدین بھی فلم کے ریلیز ھونے سے دو ھفتے قبل ھی انتقال کرگۓ ،
ابن بطوطہ کی خواھش تھی کہ اس کو مکہ کے سفر کے دوران موت آۓ ،تو میری دوست میری بھی یہی خواھش ھے کہ موت آۓ تو ھیں کی خاک کا پیوند بنوں اپنے سفر نامے کا اختتام بھی میں نے اسی خواھش اور دعا پر کیا ھے
عقیدت اور محبت کی انوکھی خوشبو والی مٹی سے جنم لینے والی بہت عزیز دوست اور پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ، تھمارا اپنے رب سے اور اسکی مخلوق سےمحبت و مدد کرنے والا جذیہ ھی تمھارے لیے جنت کی کنجی ھے جنت المعلی اور جنت البقیع میں مدفون ھونے کی خواھش کو بھی وہ پوری کریگا مگر بعد العمر الطویل
اللہ پاک تم کو عمر خضر عطا فرماۓ اور لاکھوں مریضوں کو تمھارے ھاتھوں مکمل شفاء ملے دنیا میں ھر جگہ تمھارے کام اور قلم ،کتابوں کا ، محنت کا علم کا شہرہ ھو، الہی آمین ثمہ امین
سچ پوچھو تو میری بھی یہی کیفیت تھی میں بار بار ان نیک خاتون کے کانوں میں کلمہ پڑھتی اور اللہ سے مغفرت کی دعا کرتی اور اس سے کہتی کہ میرے لیے اپنے قرب میں دوگز زمین رکھنا ۔
اور میری امی جو مجھے بہت ماڈرن شوڈرن سمجھتی ھیں بار بار کہتیں کہ تم کو ڈر تو نیہن لگے گا ،، جانے سے قبل باربار مجھے ھدایت کررھی تھیں کہ غسل کے بعد معافی مانگنا، اور اسکی بخشش کی دعا کے ساتھہ اپنے لیے بھی ستر اور گناھوں کی توبہ کرتی رھنا میری والدہ نے بھی بہت ساری خواتین کو غسل و کفن دیا ، بلکہ انکے پاس تو جب بھی بردہ یمنی آتی ھے کسی نہ کسی مرحوم کے کفن پر ڈال دیتی ھیں ، میری ایک بہت آچھی اور بہت نزدیکی رشتے دار ھیں انھوں نے وصیت کر رکھی ھے کہ سردار دلھن انکا غسل وکفن کرینگیں ، امی ھفتے بھر کے لیے شہر سے کیہں جاتیں تو انکے فون آجاتے ھیں کہ سردار دلھن جلدی سے آجاو، امی کو میرے دھیال والے سردار دلھن کہتے ھیں ۔ امی سے چھوٹی چچی ماھتاب دلھن جن کا تھوڑے عرصے قبل انتقال ھوا تھا ، امی کہتیں ھیںماھتاب دلھن بہت خوبصورت اور نورانی لگ رھی تھیں اللہ پاک ھمارے مرحوم عزيز واقارب کی معفرت فرماۓ انکی قبور کو نور اور جنت کی جانب کھلنے والی کھڑکی میں تبدیل کردے آمین ثمہ آمین
میں بھی تو سب سے یہہی کہیتں ھوں کہ اللہ سے محبت کرو ، اللہ کے بندوں کی مدد اور انکی عزت اور ایمان اور اھل بیت علیہ اسلام کی مودت ومحبت ، کرو جن کی مودت اور محبت کو قرآن میں اجر رسالت قرار دیاگیا ،جنت البقیع میں مدفون آل محمد کی بے سقف وجدار بے بام و گمنام قبریں ،
جنت البقیع میں حضرت امام حسن محتبی علیہ اسلام مدفون ھیں
حضرت زین العابدین علیہ اسلام
جضرت امام باقر علیہ اسلام
حضرت امام جعفر علیہ اسلام
جضرت فاطمہ بنت اسد علیہ اسلام
حضرت عقیل ابن ابی طالب علیہ اسلام
حضرب عبداللہ ابن جعفر
حضرت ام البنین والدہ حضرت عباس علیہ اسلام
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب
حضرت حلمیہ سعدیہ اور ديگر نورانی قبروں کے ھمراہ
ھزاروں گم نام قبریں موجود ھیں ،
اللہ پاک تو سب سے مہربان ھے بہت رحیم وکریم ھے ھم گناھ گاروں کی سچے دل سے کی گی تویہ کو قبول کرنے والا ھمارے گناھوں پر پردہ ڈالنے والا، ابوالبشر حضرت آدم کی توبہ قبول کرنے والا ھمارا رب ،حضرت اابراھیم کو 90برس کی عمر میں اولاد عطا کرنے والا معبود ۔ان کو حضرت اسمعاعیل کی شکل میں سب سےخوبصورت ھدیہ دینے والا ارض وسماء کا مالک
اسمع اور ایل طبرانی میں ایل اللہ کے مترادف ھے اور اسمع کے مغنی ھیں سن یعنی اللہ نے دعا سن لی اور قبول فرمائ ، حضرت آبراھیم کی تین نسلیں لگا تار پیغمبری کا لقب حاصل کرتی رھیں حضرت ابراھیم کی ذریت میں ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب وحضرت یوسف علیہ اسلام شامل ھیں مکہ میں اس جلیل القدر بنی کے قدموں کا خالص سونے سے بنا ھوا نشان جہاں سب دو رکعت نماز پڑھتے ھیں اور ان عبادت کا اجر وثواب بے شمار ھے ،ھرجگہ نماز پڑھنے کا بے حد ثواب ھے وہ جب چاھیے ایک عبادت کا لاکھوں سالوں کی عبادت کے برابر ثواب دیتا ھے اللہ پاک ھم سب کو ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ امین
موت ایک نئي زندگی کی ابتداءھے
ابھی تو ھم اسی پربات کررھے ھیں ۔
بے شک موت سے بڑی حقیقت نہیں کوئی
پھر بھی زندگی سے بڑی چاہت نہیں کوئی
اس در پہ جا کہ سجدے میں نکل جائے دم
مسلماں کی اور بڑی حسرت نہیں کوئی
آپ کے رپلائی پڑھ کہ . . .. کانپ کہ رہ گیا ، کہ کیا تیاری ہے میری ، اس مقام کے لیے ، اور شاہین باجی اور نگہت باجی کو پڑھ کر اپنی ایک نعت یاد آئی (گو میں کوئی باقاعدہ شاعر نہیں ، اور نعت لکھنا تو نعمت ہے ، سو اس نعمت سے سرفراز ہوا ہوں)
کم تو نہیں ہیں تیرے خزینے
بلا لو بُلا لو ہمیں اب مدینے
موت بھی آئی کہوں گا میں اس سے
میری شام جیون کی ہو گی مدینے
پوچھا تھا اس نے کہ جنت کہاں ہے
کہا تھا اظہر نے مدینے مدینے
اجھے عزیز بھائ اظہر نسیم ۔سلامت رھو ،اللہ پاک تم کو شفاۓ عاجل اور صحت کامل عطا فرماۓ ۔۔ اللہ بہت کرم کرنے والا ھے بہت ھی زیادہ رحم کرنے والا،بہت مہربان تمھاری نعت نے گنبد خضراء اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان یاد دلائ
میری خوش بختی تھی کہ ۔ اسراء و معراج کی رات روضہ رسول پر حاضری مفدر میں لکھی تھی
کیا روح پرور نظارہ تھا ، سامنے روضے کی جالی اور دل کا عجب حال تھا، ۔آپ کی نعت نے اس منظر کی یاد دلائ جزاک اللہ مسلمان کا سب سے قیمتی آثاثہ ایمان ، اور عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم ھی ھے، بہت اچھی نعت ھے ۔بلالو بلالو ھمیں اب مدینہ ۔سبحان اللہ
کم تو نہیں ہیں تیرے خزینے
بلا لو بُلا لو ہمیں اب مدینے
موت بھی آئی کہوں گا میں اس سے
میری شام جیون کی ہو گی مدینے
پوچھا تھا اس نے کہ جنت کہاں ہے
کہا تھا اظہر نے مدینے مدینے
سلامت رھو بھائ خوشی صحت کامل اور مال و اجھے اعمال کی دعا کے ساتھہ اللہ پاک تم کو ھمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثمہ آمین
فرمانِ صادق
چھٹےامام محمد جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص زباني كلامي همارے شيعه هونے کا دعویٰ کرے اور اپنے عمل سے ہمارے اعمال اور آثار کی مخالفت کرے، وہ ہمارا نہیں ہے۔ہمارا وہ ہے جس کی زبان، اس کے دل کے موافق ہو اور وہ ہماری پیروی کرے اور ہماری سیرت پر عمل کرے۔ایسے لوگ ہمارےنہیں ہیں۔
بحارالانوار،جلد۶۵،صفحہ۱۶۴