تیسرا اور آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے ۔۔ 19 سے 21 رمضان کے یہ تین دن مولائے کائنات علی ابن ابی طالب کی شہادت سے موسوم ہیں


تیسرا اور آخری عشرہ بھی اب اپنے اختتام کی طرف رواں ہے. رمضان کو الوداع کہنے کا وقت آرہا ہے. کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ جنکو اس رمضان کی فیوض و برکات سے دامن و دل بھرنے کا موقع ملا اور نہ جانے اگلے برس ہم میں سے کتنے ہوں جن کی قسمت میں اگلا رمضان ہو گا. کیوں نہ پھر اس مبارک مہینے کے آخری دنوں اور آخری لمحات کو ضائع نہ کریں اور اپنے خالق و مالک سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور اپنی اور اپنے چاہنے اور نہ چاہنے والوں کی مغفرت کی بھیک مانگیں۔

آئیے ہاتھ اٹھا کر،آنکھوں میں آنسو بھر اور دل کو نرم کر کے التجا کریں اپنے پاک پروردگار سے
” اے اللہ ہم تیرے سامنے نادم اور شرمسار کھڑے ہیں.سر جھکائے ہوئے،ہمیں اللہ جی تیری رحمت کی وسعت کا مکمل اندازہ نہیں لیکن اپنے گناہوں کی شدت آگاہیں. اے پاک پروردگار ہم عاصیوں پر رحم کر،ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہ معاف کر،ہم خطا کار ہیں ہماری خطائیں معاف کر دے. اے اللہ تو بس رحیم ہی رحیم ہے،کریم ہی کریم ہے،عفو ہی عفو ہے. اللہ جی مسلمان دنیا بھر میں زوال پزیر ہیں ان کی خطائیں معاف کر دے اور اسلام کو باوقار بنا دے.

اے رب العالمین ہمارے گناہ صرف تیری رحیم ذات ہی معاف کر سکتی ہے. ہمیں دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھنا .ہمیں محشر میں نبی کے امتی ہونے پر شرمندہ نہ ہونا پڑے. یا رب مسلم ملکوں کے حاکموں کے دلوں میں اپنے عوام کے لیئے رحم ڈال د ے. اے اللہ اپنے بندوں پر رحم کر. پاکستان میں جہاں بڑی تعداد میں عوام دہشت گردی کی نظرہو رہے ہیں ان پر رحم کر.

اے پاک پروردگار ہماری عبادات جیسی بھی ہیں انکو قبول کر لے.
اے اللہ جی ہمیں اپنے حبیب،انکی آل اور انکے محبوں کے صدقے میں معاف کر دے.

یہ آخری دن دوزخ سے نجات کے ہیں جن میں نجات مانگنے والوں کو آتشِ دوزخ سے نجات ملتی ہےلیکن 19 سے 21 رمضان کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ تین دن مولائے کائنات علی ابن ابی طالب کی شہادت سے موسوم ہیں

19 رمضان سنہ 40 ھ ق کو سحر کے وقت رسول اکرم (ص) کے داماد اور چچا زاد بھائی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عبدالرحمٰن ابن ملجم مرادی نے کوفے کی مسجد میں نماز کے دوران زہر آلود تلوار سے زخمی کردیا ۔ اور 20 رمضان کو مولا علی نے زخمی حالت میں گزاری اور 21 رمضان کو شہادت پائی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ رسول اکرم (ص) کے بعد پہلی شخصیت ہیں جن کو تاریخ اسلام تقویٰ ، ایمان ،اخلاق ، شجاعت ،علم اور انصاف کے مظہر کی حیثیت سے یاد کرتی ہے ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اکرم (ص) کی آغوش میں تربیت پائي اور معارف الٰہی کے اعلیٰ ترین مدارج طے کئے ۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے رسول اکرم (ص) کی دعوت اسلام پر لبیک کہی ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہر مرحلے ہیں رسول اکرم (ص) کے سچے وفادار اور یارو مددگار رہے اور آپ (ص) کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا ۔یہاں تک کہ رسول اکرم (ص) کی جان اور دین اسلام کی حفاظت کی خاطر بارہا اپنی جان کو خطرے میں ڈالا ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ باطل کے خلاف حق کی جنگ میں ہمیشہ مرد میدان رہے ۔اسی کے ساتھ آپ بہت مہربان اور نرم دل بھی تھے اور کسی یتیم کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر بہت زيادہ متاثر اور غمگین ہوجایا کرتے تھے ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تقاریر ، خطبوں اور احکام و فرامین نیز خطوط کا مجموعہ ” نہج البلاغہ ” جس کو ایک بڑے عالم و دانشور سید رضي علیہ الرحمہ نے جمع کیا ہے آج بھی عالم بشریت کی ہدایت و رہبری کے لئے قرآن حکیم کے بعد سب سے عظیم اور مفید مجموعہ سمجھا جاتا ہے اور ایک دنیا اس گرانقدر کتاب سے فیضياب ہورہی ہے

شب قدر کوآخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیجئے (سید مصباح جیلانی )

رسول اللہ نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ امت کی اکثریت رمضان المبارک کی آخری طاق راتوں کی گنتی اکیس رمضان المبارک کی رات سے شروع کرتی ہے تاہم بعض علماء کا خیال ہے کہ ہے اگر مہینہ انتیس دنوں کا ہو تو انیسویں رمضان کی رات آخری عشرے کی پہلی طاق رات کے طور پر لی جا سکتی ہے اس لئے اہل احتیاط اسی رات سے شب بیداری شروع کر دیتی اور اعمال و اوراد کی کثرت میں مصروف ہوجاتی ہے.

رمضان المبارک میں آیک آیہء قرآنی کی تلاوت کا ثواب ختم قرآن کے برابر بتا یا گیا ہے اور جو شخص کم از کم ایک قرآن ختم کر لے اس کی قسمت پر کیا رشک ممکن ہے۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ قرآن کی ایک آیت پر غور ستر سال کی عبادت سے افضل ہے، اس لئے ہمیں کوشش کرنا چاہیئے کہ رمضان الکریم میں قرآن مجید کو بمعہ ترجمہ و تفسیر پڑھیں تاکہ ہم اسکے مفاہیم سمجھ کر اپنی زندگییوں کو سنوار سکیں اور ثواب کے درجات کو مزید سترسال کی عبادت کی تعدداد سے اِسی طرح بڑھا سکیں۔

8 thoughts on “تیسرا اور آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے ۔۔ 19 سے 21 رمضان کے یہ تین دن مولائے کائنات علی ابن ابی طالب کی شہادت سے موسوم ہیں”

  1. کوءی مانگے تو سہی در وہ کحلا رہتا ہے
    بندہ مایوس نہ ہو رب تو یہ ہی کہتا ہے
    ہیں بلا ءیں یہ سبھی اپنی کماءی اس کی
    چھوڑکر راہ٫ خدا خود ہی سزا سہتا ہے

  2. اسلام علیکم
    میں شمس جیلانی بھائی کی بات ہی دہرا ؤنگی

    کوءی مانگے تو سہی در وہ کحلا رہتا ہے
    بندہ مایوس نہ ہو رب تو یہ ہی کہتا ہے
    ہیں بلا ءیں یہ سبھی اپنی کماءی اس کی
    چھوڑکر راہ٫ خدا خود ہی سزا سہتا ہے
    اللہ ہماری توبہ اور عبادات کو قبول فرمائے آمین ثمہ آمین

  3. آمین۔

    خوش قسمت وہ شخص ہے جو اپنی اولاد دنیا میں پھلتا پھولتا چھوڑ کر چلا جائے۔

  4. خدا مولا علی (ع) کے صدقے ہم سبکو معاف فرمائے۔ ہمارے مرحومین کے درجات بلند فرمائے اور ہمارا سفر بھی آسان فرمائے۔
    شب ہائے قدر بھی شروع ہو چکی ہیں۔ اپنے دوستوں سے التماس ہے کہ اس حقیر کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔ یہ راتیں قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہیں کہ جسکے خزانے میں کوئی کمی نہیں اس نے ایک رات کی برکات کو 83 سال کے برابر یعنی ایک پوری زندگی کی عبادات کے مساوی قرار دے کر ہم گناہگاروں کے لیے پیش کردیا۔ یہ رحمت اور مغفرت کے بہانے عطا کرنا بھی اسی کا کمال ہے۔
    یا اللہ۔ میرے اجداد، میرے بہن بھائیوں، میرے دوستوں اور بزرگوں اور مجھے ان کریم لمحات میں بخش دے اور آنیوالے وقت کو ہم سبکے لیئے آسان فرما دے۔ دنیا جہان میں جہاں کہیں مظلومین ہیں، انکی حمایت فرما اور ظالم کو دردناک عذاب سے دوچار فرما۔
    مہدیءبرحق (عج) کو اذن ظہور عطا فرما اور آپ کے زریعے اس زمین کو عدل و انصاف سے پر فرما کہ جس طرح سے یہ ظلم سے بھری ہوئی ہے۔ آمین۔

  5. ایک مہینے میں صرف 30 دن شب وروز تم عبادت کی عادت ڈالو ، بقیہ سال ہم توفیقِ اہتما م دیں گے۔اللہ تعالیٰ نے اسی لیے رمضان کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے ، اللہ کے بندے گیارہ ماہ غفلت شعاری میں پڑے رہے ، نماز وعبادت کا اہتمام نہ کر سکے ، حلا ل وحرام کی تمیز میں کوتاہی کرتے رہے ، غیبت و چغل خوری جیسی دین خوری کا شکار رہے ، فضول گوئی اور بکواس اور وقت کے ضیاع میں انہماک کے ساتھ لگے رہے ،
    لیکن اب رمضان ہے، یہ اللہ کا مہینہ ہے ،اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ، اب میرے مہینے میں تمہاری زندگی آ گئی ہے، اب تو قرب پیدا کر لو ، اب تو لو لگا لو، اب تو اپنے بن جاوٴ ، آوٴ میر ے پاس چل کر آوٴ، میں دوڑ کر آوٴں گا، تمہارے ہاتھ پاوٴں سب بن جاوٴں گا

    تو من شدی من تو شدم

    کا نظارہ ہو گا ۔ میرے اس مہینے کی قدر کر لو ، بقیہ سال دیکھنا ، تمہارے پاوٴں بد دینی کے اڈوں کی طرف نہ چلیں گے ،تمہاری آنکھیں برائیاں نہ دیکھیں گی ، تمہارے ہاتھ رشوت وسود کے مہلک مال کی طرف نہ بڑھیں گے، تمہاری زبان جھوٹ، کذب گوئی ، غیبت، عیب جوئی اور نااتفاقی پیدا کر نے کے لیے نہ کھلے گی۔
    تمہارا پیٹ حرام مال کا مخزن نہ بنے گا ، تم عفت و پاک دامنی کے پیکر بن جاوٴ گے ۔ تم نے بڑے علاج کیے، اب رمضان میں میرے احکام کے ذریعے بھی علاج کر لو، سکون وآرام کی دوائیں بہت کھائیں، اب اپنے مولیٰ کی بتا ئی ہوئی سکون کی دوائیں بھی لے لو۔ تم سال بھر عفت وپاک دامنی، عدل وانصاف ،سلامتی وتقویٰ، توکل وایثار ، شکر ورضا اور صبر واستقامت کا پہاڑ بن جاوٴ گے ۔
    لیکن افسوس !خدا کاغلام خواہشات کا غلام بن گیاہے، اللہ کا بندہ شیطان کابندہ بن گیا ہے۔ رمضان کا مہینہ ہزار برکتوں کا اعلان کرتاہے، لیکن مسلمان کے گھر میں رمضان کے مہینے میں، دن میں چولھا جلتاہے۔
    پہلے90فیصد مسلمان روزے دارہواکرتے تھے اور اب 90 فیصد مسلمان روزہ خور ہوا کرتے ہیں ، پہلے غیر مسلم گواہی دیتے تھے کہ مسلمان دین دار ہے ، اب غیر مسلم گواہی دیتے ہیں کہ مسلمان بد دین ہے ۔
    زندگی کو اجیرن بنا نے والی ہر طرح کی خرافات مسلمان رمضان ہی میں کرتا ہے ، کیرم بورڈ ، تاش کے پتے ، کرکٹ ، والی بال، کبڈی اور کھیل کی تمام مروجہ قسمیں رمضان کے لیل ونہار میں رُوبہ عمل لائی جا تی ہیں ۔
    دن میں بے محابا ، بے حیائی اور بے شرمی کے ساتھ شہروں کی شاہ راہوں اور محلوں کی گلیوں میں گٹکا، پان، سگریٹ ، تمباکو اور آئس کریم تک کھاتے ہو ئے مسلمان نوجوانوں کو دیکھا گیا ہے ۔ اور رات میں مختلف چوراہوں اور راستوں کے کناروں پر بیٹھ کر اور ہوٹلوں میں جلوہ افروز ہو کر ، امریکہ، ایران ،عراق ، فلسطین اور اسرائیل کی ظالمانہ جنگوں کا ایسا تفصیلی تذکرہ ہو تا ہے جیسے کہ جناب اس میں شرکت کرکے گھر واپس لوٹے ہیں۔
    اب یہ سب حرکات ہم کر تے ہیں تو کس کے حکم سے ؟ اپنے نفس کے حکم سے ، جس نے ابلیس کو بھی بہکایا تھا ، اپنے رب کے حکم سے تو کر تے نہیں، ہمیں اپنے رب کا حکم بجا لانا چاہیے تھا جس نے ہم کو پیدا کیا، اعضا درست کیے، آنکھیں اور دل بنایا اور ذہن و دماغ کی مشین تیار کی، پھر گویائی عطا کی ۔
    لہٰذا اللہ کی نعمتوں کا احسان بجا لاوٴ ، رمضان آگیا ہے ، اس کی قدر کر و، اپنے رب کے چہیتے بن جاوٴگے ، دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی ۔ خدا مجھے ، آپ کو اور تمام لوگوں کو توفیق دے۔ آمین!

  6. میری آپ سب سے درخواست ہے کہ مجھے اپنی رائے سے مطلع فرمائے کہ ” یوم توبہ ” کے لئے کونسا دن مخصوص کی جائے تاکہ اس دن اپنے رب کے حضور صرف توبہ استغفار کی جائے .. شاید کہ اللہ کریم ہم پر رحم و کرم کر دے .. آمین

  7. کوئی مانگے تو سہی در وہ کھلا رہتا ہے
    بندہ مایوس نہ ہو رب تو یہی کہتا ہے
    ہیں بلا ئیں یہ سبھی اپنی کمائی اس کی
    چھوڑکر راہ٫ خدا خود ہی سزا سہتا ہے

    اللہ ہماری توبہ اور عبادات کو قبول فرمائے آمین ، ثمہ آمین یا رب العالمین ۔

    ڈاکٹر صاحبہ ، میرے خیال میں یوم توبہ کے لئے لیلۃ القدر کی رات بہترین وقت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *