اسلام آبادسے ہمارے نوجوان ساتھی افضال خان نے ایک منفرد سا خط مجھے ارسال کیا ہے جس کے مندرجات توجہ طلب ہیں۔ سوچا کہ آپ بھی ان خیالات کو پڑھیں۔ افضال خان عالمی اخبار کے لیئے بہت خوبصورت انٹرویو کرتے ہیں جو آپکی نظروں سے بھی گزرے ہوں گے۔ افضال لکھتے ہیں
بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔سر
آپ نے کمال کردیا، ریڈیوشروع کرکے۔اب صرف تحریرنہیںبلکہ آوازکارشتہ بھی دنیاسے قائم ہوگیاہے۔
کبھی کبھی میںسوچتاہوںکہ انسان آج سے ہزاروںسال پہلے کی آوازکوواپس لے سکے توکیاہو؟لوگ کیابولتے تھے، کیوںبولتے تھے اورکیاسوچتے تھے ،اورکیوںسوچتے تھے، کیاسوچتے تھے ۔ یہ بات کسی کتاب ، کسی گمشدہ تحریرکی بازیابی، کسی کھنڈرکے ملنے سے سمجھ نہیںآسکتی۔ لہجہ بہت بڑی چیز ہے ، آوازکااتارچڑھائوبہت اہم ہوتاہے، سوچوںکاجواندازلہجے اورآوازکے زیروبم سے معلوم ہوتاہے وہ کبھی کسی تحریرسے شایدہی معلوم ہوتا ہو۔آپ میری اس خواہش اوراس بات اوراس دلیل سے اختلاف کرسکتےہیںلیکن نجانے کیوںمیںاکثریہ خواہش کرتاہوں۔کبھی کبھی اس خواہش میں اتنی شدت آتی ہے کہ سردکھنے لگتاہے، اورمجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن تاریخ میںگمشدہ آوازیں اسی دنیاکے انسانوںکوسننے کوملیں گی۔
پھرمیں یہ بھی سوچتاہوں،کہ فرعون کی آوازسنوں!
جب وہ لوگوں کوسجدے کاحکم دیتاہے ،
جب وہ موسیٰسے بات کرتاہے
جب وہ ظلم کیلئے احکامات جاری کرتاہے
جب وہ گھرمیں بات کرتاہےتوکیسے بولتاہے ، جب دربارسجاتاہے توکیا بولتاہے ،میں سناہے کہ فلاںکے لہجے میں فرعونیت ہے ،لیکن میںدونمبرنہی ایک نمبرفرعون کی فرعونیت کالہجہ سنناچاہتاہوں۔
میں نمرود کوسننا چاہتاہوں،میں ابراہیم کالہجہ سنناچاہتاہوں،
میں نوح کی وہ باتیں سننا چاہتاہوںجووہ اپنی قوم سے کرتے ہیں،
میںشعیب وعیسیٰ کی باتیںسنناچاہتاہوں، لہجہ سنناچاہتاہوں
سب سے بڑھ کرمیں حضرت محمدعلیہ السلام کی آوازسنناچاہتاہوں۔میں سنناچاہتاہوں جب قرآن اترتاہے ، جب صحابہ تک پہنچتاہے ، جب کسی غزوہ میںجاتے ہیں توکیابولتے ہیں، جب طائف میں جاتے ہیںاورانہیں پتھرمارے جاتے ہیں اورفرشتہ آتاہے تووہ کیسے بولتے ہیں، ان کالہجہ کیاتھا۔ میںخطبہ حجۃ الوداع سننا چاہتاہوں۔
میں بہت کچھ سنناچاہتاہوں۔
کبھی کبھی میں سوچتاہوں کہ یہ سب کچھ میں نہ سن سکاتوپاگل ہوجائوںگا۔
افضال خان

انسانوں نے چند سو سال کی آوازوں کو محفوظ تو کرلیا ، شاید سائنس کی مدد سے چند ہزار سال پہلے کی آوازوں کو بھی کسی نہ کسی طرح محفو ظ کرلے۔ اس لیے کہ ڈی این اے کی طرح ہر آواز دوسری آواز سے مختلف ہوتی ہے ۔
مگر مشکل یہ ہے کہ فرعونوں اور نمرودوں کی آوازوں کو انکے ہزاروں ،لاکھوں بلکہ کڑوڑوں مظلوموں کی آوازوں کے درمیان شناخت کرنا مشکل ہوجاے گا ۔
یقینی طور پر نبیوں اور پیغمبروں کی آوازیں باعثِ رحمت ضرور ثابت ہونگی مگر ان آوازوں کو سننے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت بھی چاہیے۔ افسوس کہ یہ صلاحیت ختم ہوچکی ہے۔
بہتر یہ ہے کہ لوح وقلم کی طاقت ہی کو استعمال کیا جائے تاکہ تاریخ اس کو ہمیشہ زندہ رکھ سکے۔
جو اثر تحریر میں ہے وہ تقریر میں شاید کم ہی ہے۔ قوتِ تقریر سے فوری طور پر انسانوں کے دماغوں کو متاثر کیا جاسکتا ہے مگر قوتِ تحریر دلوں پر اثر کرتی ہے۔
اردو زبان ( دنیا کی دوسری زبانوں کی طرح ) زبانی جمع خرچ سے دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتی اس کے لیے اردو الفاظ میں لکھنا یا اردو فانٹ میں کمپوز کرنا ضروری ہے ۔ اردو اس دنیا میں صرف اور صرف تحریر کی قوت سے زندہ رہ سکتی ہے ۔دنیا کے لاکھو ں انسانوں کو اردو بولنا تو آتا ہے مگر اردو حروف اور فانٹ میں لکھنا نہیں آتا ۔
۔۔۔۔۔
اللہ عالمی اخبار کی صوتی قوت کو کامیاب اور موثر بنائے اور اسکو قبولیت عام اور حیات دوام عطا کرے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ اسکی تحریری قوت کو بھی مضبوط اور موثر بنا تا رہے ۔ آمین
۔۔
فقط:
ایک مبصر
منظور قاضی از جرمنی
اس بلاگ میں چھپنے والی ایک تحریر ( اےسوات وادئ حسیں والے بلاگ میں غطی سے منتقل ہو گئی انتظامیہ اسے یہاں پیسٹ کردے شکریہ
افضال یوں بھی مجھے بہت عزیز ھے کہ اس کا نام میرے بھائی کے نام افضال نسیم پر ھے ۔۔ نام کو اب اگر میں ایک طرف رکھ بھی دوں تو افضال مجھے ایک خدا کی طرف سے بھیجی ھوئی ایک مدد لگتا ھے ۔ مجھے یاد ھے ابھی تک کہ کئی مہنے پہلے کی بات ھے کہ بابا مجھ سے پوچھ رھے تھے کہ این این تمھارے پاس کو ئی انٹرویو ھے تو بھیج دو ۔۔ میں نے فورا اپنی ای میل کو دیکھا کہ شائد وہاں کوئی انٹرویو پڑا ھو ، جس کامجھے قطعا یقین نہیں تھا کہ ھو گا پر دوستو واقعی وہاں ایک نہیں دو انٹرویو تھے جو افضال خان نے بھیجے تھے ۔۔ اور یہ میرے بھائی نے اس وقت بھیجے تھے جب ھمارا آپس میں کوئی تعارف بھی نہیں تھ ا۔۔ بس جب سے افضال سے ایک تعلق سا بن گیا ھے جس میں صرف خلوص بے اور وہ بھی بہت بے لوث سا ۔۔ مجھے اتنی خوشی ھے افضال تمھارے اس طرح بلاگ میں آنے کی کیابتاؤں ۔۔ جی چاھتاھے کہ اتنی منفرد سوچ رکھنے والے بھائی کو میں عالمی اخبار کے کسی کونے میں ھمیشہ کے لیئے سجا دوں اور بس پھر باتیں کروں اور سنوں ۔۔ سلامت رھو میرے بھائی ۔۔ اور ھر اس خواش کے آزار سے محفوظ رھو جس کا پورا ھونا ممکن نہ ھو ۔ آمین
ڈاکٹراین این نے کہاکہ’’افضال یوں بھی مجھے بہت عزیز ھے کہ اس کا نام میرے بھائی کے نام افضال نسیم پر ھے ‘‘ اب مجھے یہ نہیںمعلوم کہ بھائی افضال نسیم کیسے ہیں؟ مجھے توڈر لگ رہا ہے کہ کہیں وہ غصے میںآکر یہ نہ کہہ دیںکہ ’’کوئی مجھ ساہوتونام بھی مجھ سارکھے‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (معذرت کے ساتھ حسب ضرورت تھوڑی ترمیم کردی ہے )
ویسے ڈاکٹراین این آپ نے تومجھے بہت قریب کرلیاہے،بھائی، بہن سے بڑھ کرکیاکوئی رشتہ ہوگا۔
اورہاںآپ نے کہاکہ ’جی چاہتا کہ افضال کوعالمی اخبارکےکسی کونے میںسجاد دوںاوربس پھر باتیںکروںاورسنوں‘۔ یہ بھی مجھے بہت اچھا لگا۔ لیکن ایک کونے میں کب تک پڑارہوں گا۔ یہ سوچاآپ نے ۔اورویسے بھی میںباتیںتوبہت کم کرتاہوں میری تویہ حالت ہے کہ ۔۔۔’’دوچارلفظ کہہ کے میں خاموش ہوگیا۔۔۔وہ مسکراکے بولے بہت بولتے ہوتم ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔اورجناب منظورقاضی صاحب آپ نے فرمایاکہ ۔۔’’مشکل یہ ہے کہ فرعونوں اور نمرودوں کی آوازوں کو انکے ہزاروں ،لاکھوں بلکہ کڑوڑوں مظلوموں کی آوازوں کے درمیان شناخت کرنا مشکل ہوجاے گا ۔یقینی طور پر نبیوں اور پیغمبروں کی آوازیں باعثِ رحمت ضرور ثابت ہونگی مگر ان آوازوں کو سننے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت بھی چاہیے۔ افسوس کہ یہ صلاحیت ختم ہوچکی ہے۔۔۔۔۔‘‘
آپ نے اچھی بات کی ۔لیکن میںسمجھتاہوںکہ جوخدایہ ہنردے گاوہ اتنافہم بھی دے گاکہ انسان پہچان سکے کہ کون بول رہاہے خداکےلہجے میں‘‘اورکون سی آوازکسی مظلوم کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔‘ مجھے امید ہے کہ انسان اس مقام تک پہنچے گا۔ کیاآ پ یہ محسوس نہیں کرتے کہ چندہزارسال تودورکی بات ایک دوصدی پہلے کے لوگوں کوآج کی ٹیکنالوجی دکھائی جائے اوراس کے کمالات سے آگاہ کیاجائے توہرموبائل اٹھائے شخص کوکوئی ولی سمجھ لیں۔ ہرکمپیوٹر پرییٹھے شخص کوکوئی بزرگ۔ اورانہیں خلاکاایک چکرلگوایاجائے تووہ پتانہیں اسے معراج سمجھیں یاکچھ اور۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ آپ خو د آگے سوچ سکتے ہیں۔
مجھے یقین کہ وہ وقت آئے گاجب یہ ’’معجزہ ‘‘ ہوگا۔ہاں یہ اوربات ہے کہ ہم نہ ہوں۔۔۔۔لیکن کوئی ہم ساہی ہوگا۔۔۔۔
افضال خان صاحب کی تحریر میں جن Èوازوں کو سننے کی خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے یہ نا ممکن ہے لیکن کائنات میں تاریخ کا تسلسل چل رہا ہے اور اس تسلسل میں ماضی کا عکس ضرور ہوتا ہے یہ تسلسل ایسے ہی ہے جیسے کہ بنی نوع انسان کہ Èدمی کی شکل حضرت Èدم علیہ السلام سے ملتی ہے جن Èوازوں کی سننے کی خواہش کا اظہار افضال خان نے کیا ہے گوکہ Èج فرعون موجود نہیں لیکن اس کے پیروکار موجود ہیں جو اس سے زیادہ برے کام کر رہے ہیں اور اس سے زیادہ بری Èوازیں نکال رہے ہیں اور یہ Èوازیں دنیا کی اکثریت کو سنائی جارہی ہیں کبھی پروپیگنڈے کے سہارے اور کبھی اس کلےے کہ سہارے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ وہ سچ دکھائی دے ‘اس حقیقت سے انکار نا ممکن ہے کہ Èج کے فرعونوں کے پاس میڈیا کا مضبوط سہارا ہے ‘میڈیا کی کالی بھیڑیں ان فرعونوں کو دکھاتی بھی ہیں سناتی بھی ہیں ‘اور اسی میڈیا میں حق پرست بھی ہیں جو کمزور ہیں ‘ اس وقت طاقت برائی کے پاس ہے ہر پستی کو سرپرستی حاصل ہے کوئی بدی دبے پائوں Èگے نہیں بڑھ رہی ہر بدی کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے ۔واقفان حال کیاجواب دو گے ؟کیا دلیل لائو گے؟ کہ جانتے نہ تھے ۔
افضال خان نے کہا کہ وہ موسیٰ کی Èواز سننا چاہتے ہیں لیکن Èج موسیٰ علیہ السلام نہیں لیکن ان کے پیروکار تو موجود ہیں کمزورسہی گنتی میں چند سہی لیکن موجود تو ہیں گوکہ ان میں بھرپور موسایت بھی نہیں لیکن کوشش ضرور کر رہے ہیں جدوجہد ضرور کر رہے ہیں انہیں سنا جائے ۔دیکھیں جب Èدمی اپنے وطن سے دور ہو تو اسے دیار غیر میں وطن کے غیر بھی اپنے لگتے ہیں اسی طرح اب ہم اس دور سے دور ہیں لیکن موسیٰ کے فلسفے کو ماننے والوں کو مل کر عارضی تسلی تو دل کو دی جاسکتی ہے ‘میں الفاظ کے گورکھ دھندوں سے زیادہ واقف نہیں جو ذہن میں Èیا لکھ دیا یہی کہوں گا کہ افضال نے بہترین الفاظ رقم کئے ہیں ۔اور دوسری بات کہ Èپ نے ریڈیو سروس شروع کی ہے خدا کرے کہ Èپ فرعونیت کا سہارا نہ بنیں بلکہ خدا Èپ کو موسیٰ کے کمزور پیروکاروں کا سہارا بنائے یہ دنیا ہر دور میں نیکی اور بدی کے مابین جنگ کا اکھاڑا بنی رہی ۔خیرو شر کے علمبردار اپنے اپنے انداز سے سامنے Èتے رہے ‘چونکہ ہم دنیا میں بے مقصد نہیں Èئے ہمارا کوئی مقصد ہے گوکہ ہم جیسے کمزور لوگ خیروشر کے مابین جنگ میں نہ جنرل بننے کی اہلیت رکھتے ہیں اور نہ ہی عام سپاہی، لیکن ہم خیر کے لئے نعرے تو لگا سکتے ہیں ہم ان کے لئے دعائیں تو کرسکتے ہیں۔اوران کی آوازتوسنا سکتے ہیں۔
حبیب شاہ ، اسلام آباد
افضال خان صاحب
حبیب شاہ صاحب، اسلام آباد
آپ دانوں کو عالمی بلاگ کی اس خوبصورت محفل میں بہت بہت خوش آمدید !
جزاک اللہ
ثنا بہت شکریہ کہ آپ نے خوش آمدید کہا۔ اب میں اکثردکھائی دیتا رہوں گا۔ تنگ نہ ہوجائیگا آپ لوگ؟
اور جب تنگ ہوجائیں تو چپکے سے مجھے بتا دیجئے گا۔ کہ اب عالمی اخبارکے قارئین اوراراکین مزید برداشت کرنے کوتیار نہیںہیں۔
بہت شکریہ ایک بار پھر
افضال خان صاحب : آپ کے منہ میں گھی شکر : آپ کی مثبت باتین پڑھکر خوشی ہوتی ہے۔
آپ کی یہ پیشن گوئی کہ ہزاروں سالپہلے کے تمرودوں اور فرعونوں کی آوازوں کا ان کے لاکھوں کڑوڑوں مظلوموں کے درمیان شناخت کرنا ممکن ہوگا ، یقینی طور پر درست ہے ۔ مگر آپ کے اور میرے کانوں میں کیا انکے لاکھوں کڑوڑوں مظلوموں کی آہ و فغاں سننے کی طاقت ہے؟ ہٹلرکی آواز تو ہم سائینس کے ” معجزہ ” کے باعث سن تو سکتے ہیں مگر ہٹلر کے ہاتھوں مرنے والے لاکھوں مرد اور عورتوں کی آہ و فغاں اس لیے سن نہیں سکتے کہ سائنس نے اپنا ” معجزہ ” دکھا کر ان آوازوں کو ہمیشہ کہ لیے غائب کردیا ۔
اسی پر تو شاید اختر انصاری اکبرآبادی نے کہا ہے کہ:
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب ۔ چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
ماضی کی آوازیں باعث رحمت کے ساتھ ساتھ باعث عذاب بھی ثابت ہوتی ہیں ۔
نبیوں کی باتیں سننا ایک نعمت کے برابر ہیں مگر کیا ان باتوں پر عمل کرنے کی صلاحیت ہم سب میں موجود ہے۔؟
دور کیوں جائیے: قاید اعظم کی آواز اور اس میں اتحاد تنظیم اور عمل وغیرہ وغیرہ جیسی نصیحتیں ہم ساینس کے ” معجزہ ” کے باعث سن تو سکتے ہیں مگر کیا ان پر عمل کرنے کی صلاحیت ہم میں ہے ؟ اگر ہے تو پاکستان دو ٹکڑوں میں ہمیشہ کےلیے کیوں بٹ گیا؟ اور اب کیوں اس کا ( خدا نخواستہ ) شیرازہ بکھرنے کو ہے ؟ ۔
۔۔۔۔
فقط :
ایک دکھی دل انسان جس کے بھتیجے کو کراچی میں 15 نومبر 08 کو طالبان کے بھیس میں ایک شیطان نے شہید کرڈا لا ( یہ صرف ایک حقیقت ہے اس کے لکھنے کا ممقصد آپ کے موضوع کو بدلنا نہیں ہے )
منظور قاضی از جرمنی
افضال مجھے تمھارا ڈاکٹر این این کہنا بہت اچھا لگا ۔۔خوش رھو ۔۔