بھا ئیوں اور بہنو ں۔ آپ نے عالمی اخبار میں کل کیا کوئی تبدیلی محسوس کی ؟ اگر کی ہے تو اسی کے لیئے میں آپ سب لوگوں کو مبارکباد دے رہا ہوں اور آپ سے در خواست ہے کہ سب مل کربھائی صفدر ھمدانی صاحب کو مبارکباد دیں۔ ؟
چلیئے میں آپ کو سسپینس میں نہیں رکھنا چاہتا۔ آپکو یہ تو یاد ہوگا کہ ابھی عالمی اخبار خیر سے صرف سات مہینے کا ہی ہواہے اور ابھی سے بچے کے پیر پالنے میں نظرآنے لگے ہیں ۔ اس نے عام پر چوں کے بر عکس پیدا ہو تے ہی ایک انگڑائی لی اور بجائے گھٹنوں کے بل چلنے کے سر پٹ دوڑنے لگا ۔ اور اب کل سے تو ما شا اللہ بولنے بھی لگا ہے ۔یعنی اب ہم صحیح معنوں میں اس کا تقابل بی بی سی سے کر سکتے ہیں ۔کیونکہ اب آپ تازہ ترین خبریں بھی بھائی صفدر ھمدانی صاحب کی آواز میں ہر وقت سن سکتے ہیں ۔ جس کےلیئے وہ قابلِ مبارکباد ہیں۔ کہ انہوں نے عالمی اخبار کے لیئے انتھک محنت کی اور بہت ہی جلدی اس کا شمار درجہ اول کے پر چوں میں کرالیا۔اور ہاں! وہ تو بقول ان کے جن ہیں ہی جس کے ہم خود بھی گواہ ہیں کہ ہم نے انکو یہاں قیام کے دوران خود بھی دیکھا جنوں کی طرح کام کرتے ؟
سوائے گھاس کاٹنے ، کھانا بنا نے اور نیوز پڑھنے کے۔ جبکہ لندن میں وہ یہ بھی کرتے ہیں اور اخبار بھی چلاتے ہیں۔مگر اس کے علاوہ ان میں ایک وصف اور ہے کہ وہ نئے ہیرے بھی تلاش کر تے رہتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ جب پر نکل آتے ہیں تو وہ اڑجاتے ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے اپنے کسی سابقہ دورہ آسٹریلیا کے موقعہ پر ایک جننی بھی تلاش کرلی۔ جو بظاہر تو دماغی امراض کی ڈاکٹر ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ گھر گھرست خاتون بھی ہیں۔ اسپتال میں بھی جاکرذہنی مریضوں سے سر کھپاتی ہیں۔ صبح اٹھ کر گروسری بھی کرتی ہیں اور بچوں اور شوہر کوکھانا بھی پکاکر کھلاتی ہیں ۔اور پھر اس اخبار کو بھی چلانے میں صفدر بھائی کی معاونت کرتی ہیں۔ جتنا کام یہ دونوں کر رہے ہیں۔ اتنا کام انسان کے بس کی بات تو نہیں اگر کسی میں جنوں جیسی خصوصیات نہ ہوں !

بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔سر
آپ نے کمال کردیا، ریڈیوشروع کرکے۔اب صرف تحریرنہیںبلکہ آوازکارشتہ بھی دنیاسے قائم ہوگیاہے۔
کبھی کبھی میںسوچتاہوںکہ انسان آج سے ہزاروںسال پہلے کی آوازکوواپس لے سکے توکیاہو؟لوگ کیابولتے تھے، کیوںبولتے تھے اورکیاسوچتے تھے ،اورکیوںسوچتے تھے، کیاسوچتے تھے ۔ یہ بات کسی کتاب ، کسی گمشدہ تحریرکی بازیابی، کسی کھنڈرکے ملنے سے سمجھ نہیںآسکتی۔ لہجہ بہت بڑی چیز ہے ، آوازکااتارچڑھائوبہت اہم ہوتاہے
افضال خان
شمس بھائی ۔ یہ تمغہ خدمت اس دور میں کام کرنے والوں کو تو نہیں ملتا لیکن معجزے تو اس عہد میں بھی ہوتے ہیں۔ آپ نے ہمیں تمغہ خدمت دیکر سبکسار کر دیا ہے۔ اس قافلے میں آپ جیسے کرمفرما بھی شامل ہیں اور بہت سے ادارتی عملے کے ایسے افراد بھی جنہوں نے کچھ نہ لکھنے اور بولنے کی پکی قسم کھا رکھی ہے۔ شاید انکے نزدیک خاموشی نصف ایمان ہے اور وہ اپنا نصف ایمان ہی بچائے ہوئے ہیں۔ میں نے ہمیشہ اسی بات کی تشہیر کی ہے کہ ”کرنے والوں” کا ذکر کیا جائے کیونکہ وہی قابل تکریم ہیں۔ یہی تو ایک معیار ہے کہ کرنے والا اور نہ کرنے والا برابر نہیں۔ میں آپ کے علاوہ ڈاکٹر نگہت صاحبہ، آصف جیلانی، زرقا مفتی کا بے حد ممنون ہوں ہی لیکن خاموش دوستوں کا آپ سب سے زیادہ ممنون ہوں کہ اچھا ہے کہ وہ خاموش ہیں۔
صفدر بھائی ۔ عزت افزائی کا بہت بہت شکریہ ! آپ نے نہ بولنے والوں کو سرا ہا کر اچھا کیا؟ کیونکہ جنہیں آپ بو لنا سکھاتے ہیں یا تو وہ ا ُڑجاتے ہیں یا پھر اَڑ جاتے ہیں ۔یہ ہی خراب عادت ہماری بھی ہے کہ عادتین بدلا نہیں کرتیں ۔ ایک تجربہ حاضر ہے۔ ایوب خان کا دور تھا ایک خانصا حب نئے ، نئے سیا ست میں دا خل ہو ئے۔وہ ہمارے ساتھ جہاں کہیں بھی جاتے جھینپے رہتے ۔ انکا احساس ِ کمتری دور کر نے کے لیئے ، ہم نے انہیں یہ گر سکھایا کہ جب کہیں جاؤ یا تقریر کر نے لگو تو سمجھا کرو کہ میرے علاوہ سب گدھے ہیں۔ انہوں نے یہ بات گرہ باندھ لی اور اس کے بعد یہ عالم ہوا کہ وہ ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے سلسلہ میں بھی یہ ہی فارمولہ اختیار کر گئے اور جہاں جاتے وہاں اَ ڑ جاتے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہم سے ہمارے ساتھی شاکی ہو گئے کہ آپ نے یہ خانصا حب کو کیا سکھادیا؟ اب ان کو قابو میں کون کرے گا۔ مگر ہم مجبور تھے کہ اس کا ہمارے پاس کوئی حل نہیں تھا۔اب یہیں دیکھ لیجئے کہ ہم پھر مجبور ہوگئے،کہ کتنے بولے ہماری اپیل پر!
یہ واقعی اک منفرد کام کیا ھے ھمدانی صا حب نے۔ مبارک ھو۔داکتر نیگھت اور ساری تیم کو بھی مبارک ھو۔ ایسا کام ھونا ھی چاھے تھا۔ ھمدانی صاحب کا یھ اک ‘ اور کارنامھ ‘ ھے۔امید ھے یھ عالمی اخبار کی پھچان بن جاءے گا۔
توبہ شمس بھائی آپ بھی کمال کرتے ھیں ۔۔ ایک تو آپ نے اتنی تعریف کر دی کہ میں تو کچھ بول ھی نہ پائی ۔۔لیکن سچ پوچھے تو ایوب خان نے مجھے بھی بلوا ھی لیا ۔۔ شمس بھائی آپ کی دعا اور راہنمائی ساتھ ھو تو کون نہ اڑے لیکن یہ وہ اڑنا نہیں ھے جو آپ نے اور بابا نے لکھا ھے ۔۔ یہ ھے اللہ پاک کے فضل سے اس کی دی ھوئی صلاحتیوں سے آگے بڑھنا ۔۔ میں اس وقت ہوسپٹل میں ھوں اور ساتھ ساتھ آپ سے باتیں بھی ھو رھی ھیں اور لنچ بھی ۔۔ کوشش میں ھوں کہ کسی طرح سے مصباح بھائی سے فون پر بات بھی ھو جائے ۔۔ بہت دنوں سے ان سے بات نہیں ھوئی ھے ۔۔ اللہ پاک ھم سب پر اپنا فضل رکھے ۔۔۔ یقین کریں کہ اگر میری یہ باتیں میری بیٹی آمنہ سن لیتی تو اس نے کہان تھا کہ اماں آپ کا GOD Stuff ھر وقت on کیوں رھتا ھے ۔۔ کاش میں اسے بتا سکوں کہ ھم سب کا سہارا اور آسرا یہی ھے ۔۔ میں تو شمس بھائی بس آپ سب کے نقش قدم پر چلتے ھوئے اسی آسرے پر سارے کام نبھاھنے کی دعا اور کوشش کرتی ھوں ۔۔
شاکر بھائی آپ کو بلاگ کی محفل میں ھم سب کی طرف سے خوش آمدید ۔۔یقین جانئے مجھے یقین نہیں ھو رھا کہ آپ نے نیٹ پر پہلی بار اردولکھی ھے ۔۔ بہت ھی عمدہ ۔۔ آپ سے لندن میں اپنی کتاب “مٹی کا سفر” کی رونمائی پرھوئی چھوٹی سی ملاقات انتہائی یاد گار تھی ۔۔ اور آپ نے جس طرح سے عالمی آخبار کو عزت اور محبت دی ھے ۔۔ اس کے لیئے ھم سب آپ کے ممنون ھیں ۔
Shakir Qureshi – London آپ کو عالمی بلاگ کی اس خوبصورت محفل میں بہت بہت خوش آمدید !
ماشااللہ عالمی اخبار میں اب نیوز وہ بھی آواز میں سننے کو ملیں گی یہ حقیقت میں ایک بہت بڑا تحفہ ہے ہم سب کے لئے ۔
میں اس بات پر ہمدانی صاحب اور نگھت باجی کو بہت بہت مبارک باد دیتی ہوں کے جس طرح آپ لوگ اس عالمی اخبار کے لئئے محنت کر رہے ہیں یہ قابل تعریف ہے ۔
عالمی اخبار کا تمام کے لئیے وہ تمام حضرات جو کے اس کو آسمان کی بلندیون تک لے کر جا رہے ہیں ان سب کی محنت سے آج عالمی اخبار پر وزٹ کرنے والون کی تعداد بڑھ ہی رہی ہے اور یہ ایک معجزہ ہی ہے ۔
میری تمام کی تمام دعائیں عالمی اخبار کے ساتھ ہیں اور میں امید کرتی ہوں کے صحافت میں عالمی اخبار کا ہمیشہ اپنا ایک منفرد معیار رہے گا ۔
ماریہ بی بی بہت شکریہ۔ یہ میری نہیں ہم سبکی کامیابی اور محنت ہے۔ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ صرف وہ دو چار لوگ نہیں جو اپنا وقت اور صلاحیت اس اخبار کو دے رہے ہیں بلکہ خاموش ساتھیوں کی بڑی تعداد بھی قابل مبارکباد ہے۔ اب آپ بھی خبریں پڑھنے کے لیئے تیار ہو جائیں۔ آئیندہ کوشش یہ ہے کہ تما ساتھی اپنے اپنے ملک سے ہفتے میں کم از کم ایک بار کوئی نہ کوئی صوتی رپورٹ ارسال کریں جسے صوتی خبرنامے میں انکے نام اور آواز کے ساتھ لگایا جائے گا۔ دیکھتے ہیں کہ اس رضاکارانہ کام میں کون سب سے پہلے آگے بڑھتا ہے۔
السلام علیکم ہمدانی صاحب !
آپکی محبت اور شفقت ہے ہم سب پر کے آپ مجھ سمیت یہاں آنے والوں کو اتنا خلوص اور پیار دیتے ہیں اور ہماری کہی ہوئی ہر بات پر توجہ دیتے ہیں ۔
جہاں تک آپ خبر پڑھنے کی بات کر رہے ہیں اگر ایک دفعہ آپ مجھے اردو بولتے ہوئے دیکھ لیں تو آپ کبھی ایسا نہیں کہیں گے 🙁
اور اگر پھر بھی آپ مجھے موقع فراہم کرتے ہیں تو ایک فعہ علی اجازت دے دیں تو میں خوشی سے یہ فرض ادا کرونگی اور سچ پوچھئیے تو مجھے بے حد خوشی ہوگی اگر مجھے اجازت مل جائے 🙂
مگر یہ اجازت میں اگر خود علی سے مانگوں تو مجھے معلوم ہے کے وہ بنا کچھ سنے مجھے سنا دیں گے :(لہزا اسکے لئیے میری نظریں آپ کی طرف ہیں ۔۔
افسوس کہ میرا کمپیوٹر یہ صوتی خبر سنا نہیں سکتا اس لیے کہ : HTTP Error 404 نے اس صوتی سافٹ ویر external player کو کھولنےسے باز رکھا ِ
شاید ظہور احمد سولنگی صاحب ا س سلسلے میں میری مدد کریں۔۔
بھیا ایکسٹرنل پلیئر میں مسئلہ ہے، بہرحال میں نے وہ ٹھیک کرکہ دیا تھا صفدر بھائی کو۔ میں ان کو ایک بار پھر وہ میل کرتا ہوں۔
جناب ھمٰدانی صاحب
ماشااللہ بھت خوب ۔ اس جادہ پیمائی پر دلی مبارک باد قبول فرمائیے۔
احقر ۔ ۔ ۔ پنہاںؔ
ڈاکٹر پنہاں صاحبہ ۔ اگر آپکی مبارکباد نہ آتی تو افسوس ہوتا کہ آپ ہی تو پہناں ہو کر عیاں ہیں۔سلامت باشد