ملک میں ان دنوں عجیب افراتفری پھیلی ھوئ ھے۔ اس کا ایک سبب پی پی پی کے مشتعل مزاج اور آتشی زبان کے حامل ذوالفقعار مرزا کا سر پر قراں رکھہ کر آگ لگانے والا بیان ، ھر سال کی طرح لاکھوں افراد کو بے گھر اور بے زمین کرنے والا سیلاب ، جو ھمارے بے ضمیر حکمرانوں کی نا اھلیت کے باعث صرف غریب تر عوام کے سر سے سائبان کے ساتھہ۔انکے بے ضرر خواب ۔اور انکی زندگی بھر کی کمائ بھی چھین لیتا ھے ۔اور ان دنوں سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں اور پبجاب میں ڈنگی وائرس نے تباھی مچا دی ھے ۔
ڈینگی وائرس سے بچاو اور اسکا آسان علاج ، اور احتیاطی تدابیر اور بچاو کے ساتھہ ڈنيگی کے بارے میں اگاھی ۔
ڈنيگی وائرس کی بدولت ھر سال دینا میں 5 کڑور افراد اس بیماری کا شکار ھوتے ھیں اور یہ ایک مخصوص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے پیدا ھوتی ھے یہ مرض دوسری جنگ عظیم کے بعد منتشر ھوا دنیا کے 110ملکوں میں ڈنیگی وائرس پھیلانے والا مچھر پوری توانائ سے سرگرم ھے ۔یہ مچھر شام کے بجاۓ صبح کو اپنے شکار کے جسم پر کاٹتا ھے اور یہ مچھر کسی گندی جگہ پر نیہن بلکہ صاف جگہوں پر ھوتا ھے اس کو Break bone feverبھی کہتے ھیں
ڈینگی کی کم از کم تین اقسام ہیں جن کی علامات میں سر ،جسم اور ہڈیوں میں درد، جسم کے مختلف حصوں سے خون آنا ، خون کا دباؤ متاثر ہونا اور بے ہوشی شامل ہیں۔
بخار کے ساتھ ساتھ مریض کے سر اور جسم، آنکھوں کے ڈلوں میں شدید درد ہوتا ہے، اچانک بلڈپریشرمیں کمی، جسم ٹھنڈا ہو جانا اور شدید کمزوری محسوس ہونا مرض کی علامات ہیں۔ بخار کی شدت سے جسم پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں جو اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ جسم میں پلیٹ لیٹ کی کمی ہو گئی ہے۔ پلیٹ لیٹ کی اس کمی کے سبب متاثرہ شخص کے جسم کے مختلف حصوں سے خون کا اخراج شروع ہوجاتا ہے جس سے متاثرہ شخص کی جان کو ، اگر اسے فوری طور پر پلیٹ لیٹ نہ چڑھائے جائیں، تو شدید خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں 1994 مین پہلی بار ڈنیگی وائرس کا مرض سامنے آیا اس بیماری کی ابتدائ علامات میں بخار ،کمزوری ،پسینہ آنا ، اور بلڈ پریشر کا کم ھونا ، آھستہ آھستہ یہ جسم کے نظام پر اّثر کرتی ھے خون کی باریک نالیاں پھٹنا شروع دوجاتیں ھیں جب یہ بیماری دماغ اور جرام مغز پر حملہ کرتی ھے تو مریض کی موت بھی واقع ھوسکتی ھے ۔ ھمارے مللک میں تو ویسے بھی موت کا منافع بخش کاروبار عام ھے ، اگر آپ سیاست دانوں سے بچ جاتے ھیں تو پھر انکے بناۓ اور پناء میں آۓ ھوۓ دھشت گردوں کے ھاتھوں مرجاتے ھیں اور کھبی غیرملکی خاص کر اقغانی خود کش حملہ آورں کا شکار ھوجاتے ھیں ھمارے مللک میں کسی غریب کی جان ومال محفوظ نیہن ۔ یہ دینا کا تسیرا غیر محفوظ ترین مللک ھے ۔اسی لیے یہاں خوب خوب تباھی مچتی ھے،
ان دنوں سیلاب نے سندہ میں اور دینگی وائرس نے پنجاب میں تباھی مچائ ھے
’’ جن لوگوں میں ڈینگی بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، ان میں 95 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جنہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا اور اگر وہ مکمل آرام کریں اورصرف پیراسیٹامول دوا کھا لیں تو بغیر کسی معالج کے تین سے چار روز میں صحت یاب ہو سکتے ہیں۔‘‘

قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک مایئکروبیالوجسٹ ڈاکٹر ندیم نے ڈنيگی وائرس کا آسان ترین علاج دریافت کرلیا ھے انکی ریسرچ کے مطابق سیب کے جوس میں لمین کے چند قطرے ڈال کر اس مرض کا شکار ھونے افراد کو پلا دیا جاۓ تو یہ پیلیٹس کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ کرتا ھے ،
ڈینگی فیور کے لیے ایک بہترین علاج ش شہد ہے۔ایک چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر و رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرنا چاہئے حفظ ماتقدم کے طور پر بھی مفید ہے۔پروپولس(رائل جیلی)جو کہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے ایک طاقتوراینٹی انفیکشن‘ اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ہے ۔یورپ میں یہ عام دستیاب ہے لیکن وطن عزیز میں ہم اسے شہدنکالے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح دوپہر شام اور رات ‘دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں ۔پروپولس کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی ۔اس سے قوت مدافعت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ڈینگی وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافی علاج ہیں پپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے سے ”پلیٹلٹس“Plateletsحیران کن طور پرچند گھنٹوں میں بہتر ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ کالی مرچ ‘کلو نجی‘ چرائتہ ‘افسنتین ہر ایک دس گرام باریک پیس لیں اور ایک گرام دن میں تین مرتبہ صبح دوپہر شام اجوائن و پودینے کے قہوے سے ڈینگی بخار کے مریض استعمال کریں۔بخار کم کرنے کیلئے تین گرام چھوٹی الائچی کا پاوٴڈر‘بارہ گرام برگ تلسی کے قہوے سے دینا بھی فوری اثر کرتا ہے۔ڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے‘ وٹامن بی اور وٹامن سی پر مشتمل خوراک کا استعمال کریں۔چاول مونگ کی دال کھچڑ ی ‘شلجم ‘چقندر‘گاجر‘بند گوبھی ‘پپیتہ ‘انگور‘انار‘کنّو اورمیٹھااس مرض میں مفید غذا ہے۔احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا احتیاطی تدابیر کے طور پر سرکہ اور پیاز کا استعمال کر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ کا فور گھر میں مختلف جگہوں پر رکھیں نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کر کے جسم پر لگائیں مچھر قریب نہیں آئیں گے۔ اس کے علاوہ ڈینگی مچھروں سے بچاوٴ کیلئے لیمن گراس کو گھروں میں رکھا جائے ۔یہ پودا سنگاپورسمیت دیگر ممالک میں ڈینگی وائرس سے بچا وٴکے طور پرموثر ثابت ہوچکا ہے۔
اللہ تعالی بحق محمّد آِل محمّد علیہ السلام آفات ارض وسماوی سے محفوظ رکھے آمین
آچھی فاطمہ ابرار آّّپکے دعايئہ کلمات پر آمین ثمہ آمین کہتے ھیں ۔
میں تو یہی سوچ رھی تھی کہ کیسے ایک معمولی سا مچھر اتنی بڑے پیمانے پر تباھی مچاتا ھے 4 ھزار 3سو 63سے زائد افراد اس کا شکار ھوچکے ھیں اور تعداد میں تیزي سے اضافہ ھورھا ھے ۔۔پنجاب میں سارے تعلمیمی ادارے بند ھیں ،اس وقت بارشوں کا موسم ھے ، معتدد وبائ امراض سیلاب اوراس موسم میں پھلتے ھیں عام لوگوں کی طرح امریکی قونصل خانے کے ملازمین بھی اس مرض کا شکار ھو ۓ ۔ یہ مچھر کیہں نمردو کی ناک ميں گھسنے والے مچھر کا رشتہ تو نیہن ۔
جدید طبی تحقیقات کے مطابق عام ڈینگی فیور خطرناک نہیں اور کم و بیش ایک سے دو ہفتے میں مناسب دیکھ بھال وعلاج سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ڈینگی فیور کے پچیدہ کیسزیعنی ڈینگی ہیمرجک فیور اور ڈینگی شاک فیور کی شرح ڈینگی پازیٹو مریضوں میںتین سے پانچ فیصد تک ہے تاہم خوف و ہراس کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیربھی انتہائی ضروری ہں ہ طب یونانی و اسلامی اور ہربل سسٹم آف میڈیسن کے مطابق شہدڈینگی فیور کے لیے ایک بہترین علاج ہے۔ایک چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر و رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرنا چاہئے حفظ ماتقدم کے طور پر بھی مفید ہے۔ پروپولس(رائل جیلی)جو کہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے ایک طاقتوراینٹی انفیکشن‘ اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ہے ۔یورپ میں یہ عام دستیاب ہے لیکن وطن عزیز میں ہم اسے شہدنکالے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح دوپہر شام اور رات ‘دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں ۔پروپولس کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی ۔اس سے قوت مدافعت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ڈینگی وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافی علاج ہیںپپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے سے پلیٹ لیٹس حیران کن طور پرچند گھنٹوں میں بہتر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کالی مرچ‘ کلونجی‘ چرائتہ ‘افسنتین ہر ایک دس گرام باریک پیس لیںاور ایک گرام دن میں تین مرتبہ صبح دوپہر شام اجوائن و پودینے کے قہوے سے ڈینگی بخار کے مریض استعمال کریں۔بخار کم کرنے کیلئے تین گرام چھوٹی الائچی کا پاوڈر‘بارہ گرام برگ تلسی کے قہوے سے دینا بھی فوری اثر کرتا ہے۔ ڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے‘ وٹامن بی اور وٹامن سی پر مشتمل خوراک کا استعمال کریں۔چاول مونگ کی دال کھچڑ ی ‘شلجم ‘چقندر‘گاجر‘بند گوبھی ‘پپیتہ ‘انگور‘انار‘کنّو اورمیٹھااس مرض میں مفید غذا ہے۔احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا احتیاطی تدابیر کے طور پر سرکہ اور پیاز کا استعمال کر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔
کا فور گھر میں مختلف جگہوں پر رکھیں نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کر کے جسم پر لگائیں مچھر قریب نہیں آئیں گے۔ اس کے علاوہ ڈینگی مچھروںسے بچاو کیلئے لیمن گراس کو گھروں میں رکھا جائے ۔یہ پودا سنگاپورسمیت دیگر ممالک میں ڈینگی وائرس سے بچاو کے طور پرموثر ثابت ہوچکا ہے۔
تلسی (نیازبو)کے پتے ڈینگی بخار کا بہترین علاج ہیں :حکیم قاضی خالد
لاہور (ثناء نیوز )طب یونانی اور ہربل سسٹم آف میڈیسن کی جدید تحقیقات کے حوالے سے ڈینگی بخار میں تلسی جسے نیاز بواور ریحان بھی کہا جاتا ہے‘کے پتوں کے انتہائی مفید نتائج ملے ہیں۔اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے’’ ہیلتھ پاک‘‘ کے زیراہتمام’’ ڈینگی وائرس اور جدید طبی تحقیقات‘‘ کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیں۔ انہوں نے کہا کہ’’یونیورسٹی آف دہلی انسٹیٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل سائنسزاینڈ ریسرچ ‘‘میں ہونے والی یہ تحقیق ’’انڈین جرنل آف ایکسپیری مینٹل بیالوجی‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔اس تحقیق کے مطابق تلسی اینٹی بیکٹریل‘اینٹی فنگل اور اینٹی وائرل خصوصیات کا پودا ہے۔تلسی نہ صرف ڈینگی فیور بلکہ ہر قسم کے موسمی اور ملیریا بخار‘برونکائٹس ‘گلے کی سوزش اور کھانسی میں مفید ہے بلکہ اس مفید پودے سے وائرل ہیپاٹائٹس کی علامات بھی کم کرنے میں مدد ملی ہے اس کے علاہ ایچ آئی وی ایڈز اور ٹی بی میں بھی موثر پایا گیا ہے۔ تلسی کے پتوں کی ہربل ٹی ڈینگی فیور میں مبتلا افراد کے علاوہ حفظ صحت کے طور پر بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔علاوہ ازیںکرنجوہ ‘افسنتین اور چرائتہ ہمورزن باریک سفوف بنا لیں اور برگ تلسی کے قہوہ کے ہمرا ہ صبح و شام خالی پیٹ ایک چمچ ڈینگی بخار میں فائدہ مند ہے۔قدیم قرابادینی مرکب حب شفا دو عددشربت دینار کے ہمراہ صبح و شام کھانے کے بعد انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں حکیم خالد نے کہا کہ عوام الناس کو ڈینگی فیور سے گھبرانا نہیں چاہئے جدید طبی تحقیقات کے مطابق عام ڈینگی فیور خطرناک نہیں اور کم و بیش ایک سے دو ہفتے میں مناسب دیکھ بھال وعلاج سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ڈینگی فیور کے پچیدہ کیسزیعنی ڈینگی ہیمرجک فیور اور ڈینگی شاک فیور کی شرح ڈینگی پازیٹو مریضوں میںتین سے پانچ فیصد تک ہے تاہم خوف و ہراس کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیربھی انتہائی ضروری ہیںڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے‘ وٹامن بی اور وٹامن سی پر مشتمل خوراک کا استعمال کریں۔چاول مونگ کی دال کھچڑ ی ‘شلجم ‘چقندر‘گاجر‘بند گوبھی ‘لیموںپپیتہ ‘انگور‘انار‘سیب ‘کنّو اورمیٹھااس مرض میں مفید غذا ہے۔یونانی میڈیکل آفیسر نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا احتیاطی تدابیر کے طور پر سرکہ اور پیاز کا استعمال کر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ کا فور گھر میں مختلف جگہوں پر رکھیں نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کر کے جسم پر لگائیں مچھر قریب نہیں آئیں گے۔ اس کے علاوہ ڈینگی مچھروںسے بچاؤ کیلئے لیمن گراس اور تلسی کے پودوں کو گھروں میں رکھا جائے ۔یہ پودے سنگاپورسمیت دیگر ممالک میں ڈینگی وائرس سے بچا ؤکے طور پرموثر ثابت ہوچکے ہیں۔
انٹر نیٹ میٹیرئیل
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے متنبی کیاہے کہ ایشیا میں ڈینگی فیور کاخطرہ بڑھ رہاہے۔ ڈینگی فیور سے بچاﺅ کی نہ تو کوئی دوا ہے اورنہ ہی کوئی ٹیکہ ہے جبکہ ہسپتالوں میں ڈینگی فیور سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔دنیا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے اس انفکیشن سے متاثرہ افرادکی تعداد ڈھائی ارب ہے جن میں سے70 فیصد سے زائدایشیا ءمیں موجود ہیں جن میں لاﺅس، ایشیاء،فلپائین اور ویت نا م شامل ہیں جو اس بیماری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ سنگاپورمیں اِس بیماری کی شرح میں کمی آئی ہے۔یہ بیماری اُن رہائشی علاقوں میں پھیلتی ہے جہاں افزان صحت کی صورتحال ناقص ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہناہے کہ ایشیاءمیں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ، کئی علاقوں میں شدیدبارشیں اور بڑھتی ہوئی آباد ی ہے۔ڈینگی فیور کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، سر او رجسم میں شدید درد اور ناک سے خون کا آنا شامل ہے۔ جبکہ کئی کیسز میں ڈینگی سے اموات بھی واقع ہوئی ہیں۔ڈبلیو ایچ اونے لوگوں پر زوردیا ہے کہ وہ خود کو مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رکھیںکیونکہ یہ بیماری ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔
ڈینگی بخار ایک واٹرل بیماری ہے جو مچھر کی ایک خاص قسم کے کاٹنے سے پھیلتی ہے، ڈینگی وائرس کی 4 اقسام ہیں اور یہ ایک سے دوسرے انسان تک بذریعہ مچھر ہی پہنچتی ہیں۔ ڈاکٹر نذیر احمدکاخصوصی انٹرویو
قصور اپ ڈیٹس.انٹر نیٹ میٹیریل
کھڈیاں خاص (عبدالقیوم ضیاءسے )دیہی مرکز صحت کھڈیاں ڈینگی بخار کی تشخیص اور علاج معالجہ کی تمام سہولیات موجود میں، الحمداللہ ۔علاقہ کھڈیاں تاحال ڈینگی بخار سے بالکل محفوظ ہے۔ عوام الناس اختیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔ ان خیالات کا اظہار رورل ہیلتھ سینٹر کھڈیاں میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نذیر احمد نے قصوراپ ڈیٹس ڈاٹ کام سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈینگی بخار ایک واٹرل بیماری ہے جو مچھر کی ایک خاص قسم کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ ڈینگی وائرس کی 4 اقسام ہیں اور یہ ایک سے دوسرے انسان تک بذریعہ مچھر ہی پہنچتی ہیں۔ ڈاکٹر نذیر احمد نے بتایا کہ ڈینگی فیور اور ڈینگی ہمر چک فیور دو مختلف بیماریاں ہیں لیکن ڈینگی فیور کی نسبت ڈینگی ہمر چک فیور زیادہ خطرناک ہوتی ہےجو اس طرح کے اس طرح کے وائرس سے ہی پھیلتی ہے۔ ڈینگی بخار کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر نذیر احمد نے بتایا کہ اس میں اچانک بہت تیز بخار ہوتا ہے جو کہ 104 Fتا 105 F تک ہو سکتا ہے۔ دو سے پانچ دن تک جلد پر ایک سرخ نشان بنتا ہے۔ دوسرے سرخ نشان جو خسرہ کے نشانات سے ملتا جلتا ہے بعد میں بنتا ہے۔ تیسری علامت یہ ہے کہ جلد کی احساسیت بڑھ جاتی ہے اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ چوتھی علامت سردرد خاص کر آنکھوں کے پیچھے سر کا درد ، تھکاوٹ ، جوڑوں اور پٹھوں کی درد ، جی متلانا، قے آنا اور غدودوں کی سوزش وغیرہ سب ڈینگی بخار کی علامات ہیں۔ ڈینگی ہمرچک بخار چار مختلف وائرس سے ہوتا ہے اور یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب ایک شخص کو پہلے ڈینگی بخار ہو چکا ہو اور اس کے اندر وائرسز کے خلاف بد اہت پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر نذیر احمد نے بتایا کہ پوری دنیا میں ہر سال 100 ملئن سے زیادہ لوگوں کو ڈینگی بخار ہوتا ہے اور ان میں سے چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ڈینگی ہمر چک فیور ہوتا ہے۔ ڈینگی ہمر چک فیور کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی علامات ڈینگی بخار جیسی ہوتی ہیں لیکن کچھ دنوں بعد مریض بے چینی محسوس کرتا ہے۔ اسے پسینے آنا شروع ہو جاتے ہیں اور مریض بعد میں سکتے میں چلا جاتا ہے۔ اس وائرس کے علاج سے متعلق ڈاکٹر نذیر احمد نے بتایا کہ اسکا کوئی خاص علاج نہیں ہے ۔ پانی کی کمی سے بچاﺅ کےلئے مائعات ، مشروبات زیادہ استعمال کریں۔ بخار کم کرنے کےلئے ٹیلینول استعمال کریں ۔ ڈسپرین ہرگز نہ لیں۔ اس مرض سے بچاﺅ کےلئے احتیاتی تدابیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایسے ایسے کپڑے پہنیں کہ مچھر سے بچا جا سکے مچھر کاٹنے سے بچاﺅ کےلئے بوسپل استعمال کریں ۔ مچھر دانیاں لگائیں۔ مچھر مار ادویات استعمال کریں۔ پانی کھڑا نہ ہونے دیں ۔ خاص کر صبح اور شام کے اوقات میں مچھر سے بچیں۔
عبدالقیوم ضیاءکرائم رپورٹر قصور اپڈیٹس کھڈیاں خاص
محترم المقام صفدر ھمدانی صاحب ۔ متشکر و ممنون ھوں ڈینگی وائرس پر اتنی اھم اور مفید معلومات بروقت بہم پہچانے کا شکریہ ، اور آپ تو ھمیشہ ھی سے یہ علمی اور قلمی جہاد سر انجام دے رھے ھیں یہ انسانی اور قومی خدمت ھے۔ دراصل جب کوئ بیماری بچوں کو ھماری گودوں سے چھین کر گھر اور گود کو خالی کردیتی ھے تو مجھے اپنی بے بسی پر غصہ آتا ھے ۔ ھم بہت کچھہ کرسکتے تھے مگر کسی وجہ سے نہ کرسکے۔ ۔کم سے کم ھم ان بیماریوں کے بارے میں عام فہم معلومات اورگھریلو مجرب نسخہ تو عام لوگوں تک پہنچا سکتے ھیں ۔آيئے اس جہاد میں ھم سب شانہ بشانہ شریک ھوتے ھیں ۔ جو کچھہ ھم نے سنا ھے، پڑھا ھے اس بیماری کے بارے میں ، سب کے ساتھہ شيئر کرتے ھیں ۔ ان دنوں گھروں میں سوتے ھوۓ مچھر دانی کا استمعال کریں خاص کر جن جگہوں پر یہ مرض بہت تیزی سے پھیل رھا ھے ۔ جسم کے کھلے حصوں کو ڈھانپ کررکھیں ۔اللہ پاک ھم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور تمام امراض سے محفوظ رکھے خاص کر ھمارے معصوم بچوں کو ،الہی آمین
1775کے عشرے میں جب ایشیاء ،افریقہ اور شمالی امریکہ میں ایک ایسی بیماری پھیلی کہ جس میں مریض کو یکدم تیز بخار ہو جاتا اور ساتھ ہی س میں درد اور جوڑوں میں درد شروع ہو جاتاجبکہ بعض مریضوں کے پیٹ میں درد ،خونی الٹیاں اورخونی پیچس کی بھی شکایت ہو گئی۔یہ مریض سات سے دس دن تک اسی بیماری میں مبتلا رہے اور آخر کار مر گئے۔لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ان علاقوں سے لوگوں نے ہجرت کرنا شروع کر دی ۔جب اس وقت کے طبیبوں اور ڈاکٹروں نے اس بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ ایک خاص قسم کا مچھر ہے جس سے کے کاٹنے سے یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔1979میں اس بیماری کی شناخت ہوئی اور اسے ڈینگو بخار(Dengue fever) کا نام دیا گیا۔ڈینگو “dengue”سپینی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی cramp یا seizure کے ہیں جبکہ اسے گندی روح کی بیماری بھی کہا جاتا تھا ۔1950میں یہ بیماری جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک میں ایک وبا کی صورت میں نمودار ہوئی جس سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ خصوصاً بچے ہلاک ہو گئے ۔1990کے آخر تک اس بیماری سے ایک اندازے کے مطابق 40 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔1975سے1980تک یہ بیماری عام ہو گئی۔2002میں برازیل کے جنوب مشرق میںواقع ریاست Rio de Janeiro میں یہ بیماری وبا کی صورت اختیار کر گئی اور اس سے دس لاکھ سے زائد افراد جن میں 16سال سے کم عمر کے بچے زیادہ تھے ہلاک ہو گئے۔ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ یہ بیماری تقریباً ہر پانچ سے چھ سال میں پھیلتی رہتی ہے۔سنگا پور میں ہر سال چار ہزار سے پانچ ہزار افراد اس وائرس کا شکار ہو تے ہیںجبکہ 2003میں سنگاپور میں اس بیماری سے چھ افراد کی ہلاکت بھی ہوئی۔ اور جو افراد ایک مرتبہ اس بیماری میں مبتلا ہو جائیں وہ اگلی مرتبہ بھی اس بیماری کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی ملیریا نامی بیماری کی اگلی صورت کہی جا سکتی ہے اس بیماری کے مچھر کی ٹانگین عام مچھروں سے لمبی ہوتی ہیں اور یہ مچھر قدرے رنگین سا ہوتا ہے۔یہ بھی دیگر مچھروں کی طرح گندی جگہوں اور کھڑے پانی میں پیدا ہوتا ہے۔ابھی تک اس بیماری کی کوئی پیٹنٹ دوا یا ویکسین ایجاد نہیں ہوئی تاہم2003سے( Pediatric Dengue Vaccine Initiative (PDVI) پروگرام کے تحت اس کی ویکسین تیار کی جانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔تھائی لینڈ کے سائنسدانوں نے ڈینگو وائرس کی ایک ویکسین تیار کی ہے جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اگرچہ اس ویکسین کے تین ہزار سے پانچ ہزار افراد اور مختلف جانوروں پر تجربے کیے جا چکے ہے جس کے ابھی تک قدرے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔2002 میں سوئس فارما کمپنی اورSingapore Economic Development board نے مشترکہ طور پر اس وائرس کے خاتمے کی دوا تیار کرنے پر کام شروع کیا ہوا ہے ۔ اس وبا سے نجات کا واحد حل یہی ہے کہ صفائی کا خیال رکھا جائے اور گندے پانی کے جوہڑوں ، گلی کوچوں میں جراثیم کش ادویات کا مسلسل سپرے کیا جائے تاکہ ڈینگو مچھر کی افزائش گاہیں ختم ہو جائے۔جبکہ انفرادی طور پر رات کو مچھر دانی کا استعمال کیا جائے اور گھروں میںمچھر کش ادویات سپرے کی جائے۔
حال ہی میں یہ بیماری ایک مرتبہ پھر وبا کی صورت میں دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہے۔میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اگست سے اکتوبر 2006میں Dominican Republic میں ڈینگو بخار پھیلا جس سے44سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ستمبر سے اکتوبر 2006میں کیوبا میں اس بیماری سے اموات ہوئیں۔جبکہ ساوتھ ایسٹ ایشیاءمیں بھی یہ وائرس پھیل رہا ہے۔فلپائن میں جنوری سے اگست2006کے دوران اس مرض کے13468مریض پائے گئے جن میں 167افراد ہلاک ہو گئے۔مئی2005میں تھائی لینڈ میں اس وائرس سے 7200افراد بیمار ہو گئے جن میں 21سے زائد ہلاک ہو گئے۔2004میں انڈونیشیا میں 80000افراد ڈینگو کا شکار ہو ئے جن میں800سے زائد ہلاک ہو گئے۔جنوری2005میں ملائیشیا میں33203افراد اس بیماری کا شکار ہوئے۔سنگا پور میں 2003میں4788افراد اس مرض کا شکار ہوئے جبکہ2004میں9400افراد اور2005اس مرض سے 13افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی گئیں۔15مارچ2006کو آسٹریلیا میں اس مرض کے پھیلنے کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی۔ستمبر2006میں چین میں اس مرض میں70افراد مبتلا ہوئے۔ستمبر2005میں کمبوڈیا میںڈینگو سے38افراد ہلاک ہوئے۔ 2005میںکوسٹا ریکا میں19000افراد اس مرض میں مبتلا ہوئے جن میں سے ایک فرد کی موت ریکارڈ ہوئی۔2005میں بھارت کے صوبے بنگال میں900افراد بیمار ہوئے جبکہ15افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔2005میں انڈونیشیا میں80837افراد اس بخار میں مبتلا ہوئے جبکہ1099افراد کے مرنے کی تصدیق ہوئی۔2005میں ملائشیا میں32950افراد اس بیماری کا شکار ہوئے اور83افرادہلاک ہو گئے۔2005میں Martinique میں6000افراد ڈینگو کا شکار ہوئے جبکہ2ستمبر کو اس مرض سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔2005میں ہی فلپائن میں 21537افراد اس بیماری کا شکار ہوئے جن میں سے280افراد ہلاک ہو گئے۔2005میں سنگاپور میں12700افراد اس بیماری کا شکار ہوئے جبکہ19افراد کی اس مرض کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔2005میں سری لنکا میں 3000سے زائد افراد اس موذی مرض کا شکار ہوئے ۔2005میں تھائی لینڈ میں 31000افراد اس بیماری میں مبتلا ہوئے جبکہ58کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی جبکہ2005میں ویتنام میں اس مرض کا شکار 20000سے زائد افراد پائے گئے جن میں28افراد ہلاک ہو گئے۔
8اکتوبر 2006تک بھارت کے شہر دہلی میں اس مرض کے886مریض پائے گئے جبکہ کیرالہ میں713،گجرات میں424،راجستھان میں326،مغربی بنگال میں 314،تامل ناڈو میں 306،مہارشٹر میں226،اترپردیش میں79،ہریانہ میں 65کرناٹک میں59اور اندھیراپردیش میں 70افراد اس مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔جبکہ بھارت کی حکومت نے ڈینگو کو وباءقرار دینے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری پر پوری طرح سے قابو پانے کے لیئے تمام ترضروری اقدامات کر رہی ہے۔ صحت کے مرکزی وزیر امبو منی رام دوس کا کہنا ہے کہ اب تک ڈینگو وائرس سے ہندوستان بھر میں 38 اموات واقع ہوئی ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ ملک میں دو ہزار نوسو افراد ڈینگو وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 673 افراد کا تعلق دلی سے ہے۔ ان کے مطابق ڈینگو سے ہونے والی 38 میں سے پندرہ اموات دارالحکومت دلی میں ہوئیں جبکہ گجرات میں تین ، راجستھان میں سات، مغربی بنگال میں تین اور کیرلا میں چار اموات ہوئی ہیںاور ملک میں دو ہزار نوسو افراد ڈینگو وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 673 افراد کا تعلق دلی سے ہے جبکہ بھارت کی حکومت کے بقول گزشتہ برس پورے ملک میں ڈینگو وائرس کے گیارہ ہزار نو سو کیس سامنے آئے تھے اور اس بیماری نے 157 افراد کی جانیں لیں تھیں۔بھارت میں ڈینگو بخار کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ہسپتالوں میں روز نئے مریض داخل ہو رہے ہیں۔ اب تک اس وائرل بخار سے کم از کم پچیس افراد کے ہلاک ہو نے کی خبر ہے۔اس دوران متاثرہ ریاستوں میں اس بیماری پر قابو پانے کے لیئے ہنگامی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ تجزیے اور جانچ کے لیئے متعدد طبی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔بھارت کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈینگو بخار ایک خاص طرح کے ایڈیز نامی مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے اور اس کی علامتوں میں تیز بخار، متلی ، جسم میں اینٹھن اور پیٹھ میں درد جیسی شکایات شامل ہیں۔بخار کی تیزی کی وجہ سے بعض معاملات میں دماغ کی رگ پھٹنے یعنی برین ہیمرج کا بھی خطرہ رہتا ہے۔
جبکہ پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے بتایا ہے کہ سفید مچھر یعنی ڈینگو مچھرکے کاٹنے سے ہونے والے ہیمرجک فیور سے گزشتہ تین ماہ کے دوران تئیس افراد ہلاک جبکہ گیارہ سو سے زائد متاثر ہوئے ہیں ، جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے مریضوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔محکمہ صحت کا کہنا ہے اس کا بیماری کا اثر خشک موسم تک جاری رہے گا۔سندھ کے صوبائی وزیر صحت سردار احمد کا کہنا ہے کہ اس سال مئی کے مہینے کے بعد ہیمرجک فیور کے مریضوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے اور یہوائرس مزید پھیل رہا ہے۔ صوبائی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر کے مختلف ہسپتالوں میں ایک سو ستر سے زائد مریض زیر علاج ہیں جبکہ کراچی میں بیس اور اندرون سندھ میں تین مریض فوت ہوچکے ہیں۔ڈاکٹروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس درست اعداد و شمار نہیں ہیں مریضوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کراچی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ تمام اعداد شہر کے چند سرکاری ہسپتالوں سے لیکر بتائے جارہے ہیں جبکہ اس وقت شہر میں چار سو سے زائد نجی ہسپتال اور چھ ہزار سے زائد کلینک ہیں۔ اگر ہر نجی ہسپتال میں روزانہ ایک مریض آرہا ہے تو چار سو مریض بنتے ہیں۔
عام طور پر لوگ مقامی ڈاکٹروں کے کلینک سے دوائی لینے کو ترجیح دیتے ہیں جو مرض کی تشخیص نہیں کر پاتے ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سے مرض بگڑ جاتا ہے۔ جناح ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ جب مریضں کے منہ سے خون بہنا شروع ہوتا ہے اس وقت اسے ہسپتال لایا جاتا ہے، پرائیوٹ ڈاکٹر ان کو طرح طرح کی دوائیں دیتے ہیں جس میں ائنٹی ملیریا ڈرگ شامل ہے، جو کہ اس بیماری میں بالکل نہیں دینی چاہیئے۔اس طرح سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر کلیم بٹ کا کہنا ہے کہ لوگوں میں یہ خوف ہے کہ ڈینگی بخار میں موت واقع ہوجاتی ہے اس لئے مریض کے رشتے دار پریشان ہوجاتے ہیں لیکن ڈینگی میں شرح اموات چار فیصد ہے جو بہت کم ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس بیماری میں ایک بڑے عرصے تک تیز بخار ہوتا ہے، جسم میں درد رہتا ہے اور جسم کے کسی حصہ سے خون بہتا ہے۔ ان مریضوں کا علاج کا کیا جاسکتا ہے مگر یہ علاج گھر میں نہیں ہوسکتا ہے۔ صوبائی وزیر کے مطابق شہر میں اب یہ ٹیسٹ دو نجی اور ایک سرکاری ہسپتال میں کیے جارہے ہیں۔ اس ٹیسٹ کی کم سے کم فیس چھ سو روپے بنتی ہے۔ مگر اب اس کی آدھی رقم سٹی حکومت ادا کریگی۔ اس طرح پلیٹ لیٹس کی ساڑھے سات ہزار فیس میں سے پانچ سو رپے تمام بلڈ ٹرانسفیوڑن ایجنسیز رعایت کرینگی جبکہ پچاس فیصد فیس سٹی حکومت ادا کریگی۔پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کا مطالبہ ہے کہ وائرس کے ٹیسٹ اور پلیٹ لیٹس کی فراہمی مفت ہونی چاہیئے اور یہ سہولت سرکاری ہسپتالوں میں دی جائے۔صوبائی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں اور عوام کو اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لئے شہری حکومت کی جانب سے سپرے بھی کروایا جارہا ہے۔ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے مطابق اٹھارہ ٹاو�¿ن کی تمام یونین کاو�¿نسلوں میں یہ سپرے کیا گیا ہے اور کافی علاقوں میں دوبارہ بھی کیا جائیگا جبکہ کینٹونمینٹ کے علاقوں میں وہاں کے حکام کی جانب سے یہ انتظامات کیے گئے ہیں۔کراچی شہر کے ایک نجی ہسپتال میں جمعہ کو ڈینگو وائرس میں مبتلا ایک اور مریض ہلاک ہوگیا جبکہ ہیمرجک فیور میں مبتلا مریضوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس کے لیئے سرویلنس کمیٹی بھی بنائی ہے، کمیٹی کے سربراہ کیپٹن ماجد کے مطابق جمع کے روز ضیاالدین ہسپتال میں ایک اٹھائیس سالہ مریض کو لایا گیا تھا جو جانبر نہ ہوسکا۔انہوں نے بتایا اس وقت شہر کی سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ایک سو پچپن مریض زیر علاج ہیں جن میں اکتالیس کو سنیچر کے دن داخل کیا گیا ہے۔ سیکریٹری صحت پروفیسر نوشاد شیخ نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ چار ماہ میں اٹھارہ مریض ڈینگو وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق اندرون سندھ سے اس بخار کی علامات ظاہر ہوئی ہیں مگر کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق ڈینگو وائرس کا شکار مریض کے خون سے سرخ خلیے ختم ہوجاتے ہیں، اس لیئے انہیں سرخ خلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہر میں خون میں سے سرخ خلیے الگ کرنے کی مشینوں کی کمی اور فوری طور پر خون کی دستیابی کے مسائل نے جنم لیا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چار بوتل خون میں سے سرخ خلیوں کی ایک بوتل بنتی ہے، اس لیئے زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق ڈینگو وائرس کا شکار مریض کے خون سے سرخ خلیے ختم ہوجاتے ہیں، اس لیئے انہیں سرخ خلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہر میں خون میں سے سرخ خلیے الگ کرنے کی مشینوں کی کمی اور فوری طور پر خون کی دستیابی کے مسائل نے جنم لیا ہے۔
ملیریا سے متعلق ادارے میں تحقیقات کرنے والے ایک افسر ڈاکٹر محمد مختار کے مطابق کہ ڈینگو وائرس پھیلانے والا مچھر گندگی میں نہیں بلکہ گھروں میں رہتا ہے۔ ان کے بقول گھر کے اندر پانی کے ٹینک، غسلخانوں اور جہاں بھی پانی کسی بالٹی ، ڈرم یا گھڑوں میں رکھا جاتا ہے وہاں یہ مچھر پایا جاتا ہے۔ ڈینگو وائرس پھیلانے والا مچھر سورج طلوع ہونے سے چند گھنٹے قبل اور غروب ہونے کے چند گھنٹے بعد اپنی خوراک کی تلاش میں نکلتا ہے۔ ان کے مطابق ڈینگووائرس کے جسم میں داخل ہونے کی علامات میں نزلہ زکام، بخار، سر درد، منہ اور ناک سے خون آنا، پیٹ کے پیچھے کمر میں درد ہونا اور جسم پر سرخ دانے وغیرہ نکلنا شامل ہیں اور اسے اگر فوری طور پر کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر ’ڈینگو ہیمرج فیور‘ شروع ہوتا ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک میں ڈینگو وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں جس میں سے پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے۔ دنیا کی چالیس فیصد آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے اور ہر سال پانچ کروڑ کیسزسامنے آتے ہیں جس میں سے پوری دنیا میں سالانہ پندرہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیا میں پہلی بار1949میں اس بیماری کے بارے میں علم ہوا اور اس خطے میں پوری شدت کے ساتھ پہلی بار1989 سری لنکا میں یہ ایک وبا کی صورت میں پھیلی۔جبکہ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پہلی بار ڈینگو وائرس کراچی میں 1995 میں ریکارڈ ہوئی اور145 مریض متاثر ہوئے اور ہلاکت صرف ایک کی ہوئی۔پاکستان میں ڈینگو وائرس کی تاریخ کے مطابق اکتوبر 1995 میں جنوبی بلوچستان اور 2003 میں صوبہ سرحد کے ضلع ہری پور اور پنجاب کے ضلع چکوال میں میں پھیلی۔ ان دونوں اضلاع میں ترتیب وار 300 اور700 کیسز ریکارڈ ہوئے۔
گوگل سرچ کی مدد سے یہ مضمون وکیپیڈیا سے یہاں پیسٹ کیا گیا ھے
سربن ہومیو پیتھک کالج کے اساتذہ اور طلباء نے ڈینگی بخار سے بچاؤ کی دوا تیار کرلی:
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین08نومبر2006 ) سربن ہومیو پیتھک میڈیکل کالج کے اساتذہ اور طلباء کی ٹیم نے دینگی بخار سے بچاؤ کیلئے دوا تیار کر لی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو ڈینگی وائرس فیور سے حفظ ماتقدم اور نجات دلانے کیلئے قریبی ہومیو پیتھک فزیشن یا سربن ہومیو پیتھک میڈیکل کالج ‘ منڈیاں ‘ ایبٹ آباد سے رابطہ کریں۔ سربن ہومیو پیتھک میڈیکل کالج کے تحقیقاتی بورڈ کے مطابق تقریباً 170 سال پہلے ہومیو پیتھی کے موجد ڈاکٹر ہاینمن نے اس طریقہ علاج میں ڈینگی فیور کا علاج دریافت کیا تھا۔ اس مرض کیلئے علامات کے مطابق ادویہ سے استفادہ حاصل کیاجا سکتا ہے یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ ایک خاندان کے تمام افراد اس مرض کا شکار نہیں ہوتے۔ وہی انسان بیمار ہوتے ہیں جن کی قوت حیات کمزور ہوتی ہے۔ کسی بھی عمر کا فرد جب ڈینگی بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کو صبح 7 سے 9 بجے تک بخار شروع ہو جاتا ہے اور سردی کے ساتھ پیاس بھی شروع ہو جاتی ہے۔ بدن کے جوڑوں اور ہڈیوں میں شدید درد ‘ جسم کے مختلف مخارج سے خون کا اخراج ‘ نزلہ ‘ کھانسی اور تکلیف کے دوران جھکنے سے آرام ملتا ہے کبھی کبھار جسم پر سرخ دھبے بھی نمودار ہو جاتے ہیں ۔ علاج کیلئے چند دوائیاں علامات کے مطابق دی جا سکتی ہیں۔
ان علامات کے لئے Eupatorium Perf 30 ہر چار گھنٹے بعد لیں ۔ اس دوران کے مریض کو دوپہر کے بعد سردی کے ساتھ بخار شروع ہوتا ہے جسم کے مختلف مخارج سے خوج کا اخراج ‘ پیاس سردی شروع ہونے سے پہلے لگتی ہے۔ اور تمام تکالیف مقررہ وقت پر دوبارہ شروع ہوتی ہیں ۔ ان علامات کیلئے China Off30 ہر چار گھنٹے بعد دیں۔
بس جی اللہ جی نے ” بیڈ گورنس” کی شکل میں ایک عذاب آیا ہے .. ڈینگی اتنی قیامت کبھی نہ ڈھاتا جو احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جاتی .. اب بھی آنکھیں کھل جائیں تو مستقبل کی تکلیفوں سے تو بچا جا ہی سکتا ہے
میری ارضِ پاک کے بیکس عوام
ہیں کہانی مصر کے بازار کی
صفدر ہمدانی
اسلام علیکم ساتھیو
اللہ آپ سب کو اس کار خیر کی جزا دے ۔آپ سب نے اتنی مفید معلوعات دی ہیں کہ اگر لوگ ان پر عمل کر لیں تو یقینا اس موزی مرض اور موزی مچھر سے بچا جا سکتا ہے ۔
مگر ایک بات جو بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم ہر آفت ہر مصیبت میں صرف حکومت کی طرف دیکھتے ہیں جو کسی بھی صورت ٹھبک بات نہیں ہے ۔ہمیں احتیاطی تدابیر تو خود بھی کرنی چاہیئں ۔
مثلا اگر گھروں کے باہر پانی کھڑا ہے تو اس پر اگر مٹی کا تیل (کیروسین آئل ) ڈال دیا جائے تو مچھروں کی افزائش رک جاتی ہے ۔کم از کم اپنے اپنے گھروں کے سامنے یہ احتیاط کی جا سکتی ہے ۔
آپ سب نے جو احتیاطی تدابیر اور علاج بتائے ہیں اگر ان سے استفادہ کیا جائے تو ضرور جانیں بچائی جا سکتی ہیں ۔
جیسا کہ شاھین بہن نے لکھا پپیتے کے پتے بڑی آسانی سے ہر محلے ہر دوسرے گھر میں دستیاب ہیں ۔ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔
سب سے بڑی دوا ہے توبہ ۔ہم سب کو ہی اجتماعی توبہ کرنی چاہئے کہ ہم ہر طرف سے آفات میں گھرےہوئے ہیں ۔سیلاب کی آفت ،بخار کی آفت قتل و غارت کی آفت ۔دھماکوں کی آفت جو چھوٹے چھوٹےمعصوم بچوں کی بھی جانیں لینے سے گریز نہیں کر رہی ۔اور دھڑلے سے اپنے نام بھی بتا رہی ہے کہ یہ ہم کم ہمتوں کا کام ہے ،میں تو اسے کم ہمتی ہی کہوں گی کہ یہ تو بزدلی ہے کہ دھماکہ کرو اور جانیں لے لو ۔اگر دم ہے تو سب کو سنوارو راہ راست پر لاو اور پھر جنت میں جگہ بناو ،
اللہ میرے ملک کا اور میرے ملک میں رہنے والوں کا اور سب کا محافظ ہو ۔
اللہ آپ سب کی نیکیاں قبول فرمائے ۔
اور ہمیں ان آفات سے نجات دے ،آمین
اللہ سب بیماروں کو صحت دے ،اور ان تمام چیزوں سے شفا دے جو لکھی گئیں ۔آمین
عالم آرا
یا اللہ رحم فرما
اسلام و علیکم
عظیم ہے وہ ذات کے جس کہ قبضہ قدرت میں تمام تر نظام ہے ۔۔ ہمیں ان حالات میں جو کام کثرت سے کرنا چاہئے وہ ہے خدا کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرنا ۔ یہ سب جو کُچھ ہمارے اردگرد ہو رہا ہے یہ جو پانی آسمانوں سے برس رہا ہے جو مچھر زندگی کو عذاب بنائے ہوئے ہے یہ تو سب میرے رب کی طرف سے ہمیں اشارہ ہے کہ ہم سب جھوٹ مکاری دھوکہ دہی نفسا نفسی غیبت اور انسانوں کے حقوق غضب کرنا چھوڑ کر اس کی بارگاہ میں جھک جائیں اور اپنی اور اپنوں کے ساتھ ساتھ تمام اہل ِ وطن کی خیر طلب کریں اپنے خدا سے درخواست کرٰں کہ ہمارے گناہوں کی سزا ہمیں نہ دے اور ہماری توبہ قبول فرما لے اور ہمارے مُلک سمیعت ساری دُنیا میں لوگوں پر رحم کر جو تیری سب سے افضل ترین صفت ہے ۔۔
آپ تمام احباب سے گزارش ہے کہ مبجھ سے کبھی بھی کسی کی بھی دل آزاری ہوئی ہو تو مُجھے معاف کر دیں میں آپ تمام احباب سے مُعافی کی درخواست کرتی ہوں اور میرا خدا بھی مُجھے معاف کرے ۔
آپ سب سے بس یہ ہی بات کہوں گی کہ ہر ایک سے ملتے ہوئے فون پر بات کریں یا میلز پر سب کو کہیں کہ خدا کہ حضور معافی مانگیں اپنے لئے اور تمام تر انسانیت کے لئے رحم کی اپیل کریں خدا جانے کس کو زبان وہ زبان ہو جس کی بات رب رد نہ کرے کون سی گھڑی کون سا لمحہ ہو جب ہم سب کی توبہ خدا کے حضور مقبول ہو جائے ۔
خدا آپ کو ہم سب کو سارے ملک کو ہر انسان کو اپنی امان میں رکھے اور ہمارے گناہوں سے درگزر فرما کے ہمیں ان تمام عذابوں سے نجات عطا کر دے جو ہمیں جگانے کے لئے صرف اس کی طرف سے اشارہ ہیں اور اگر ہم ابھی بھی متوجہ نہ ہوئے تو یقینا پھر اس کی پکڑ سے کوئی نہ بچ سکے گا ۔
ڑھم کر مالک و ملک ہم سب پر الہی آمین
اللہ تعالی بحق محمّد آِل محمّد علیہ السلام آفات ارض وسماوی سے محفوظ رکھے آمین
رحم کر مالک و مُلک ہم سب پر رحم کر الہی آمین
آچھے دوستوں ایک زمانہ تھا کہ لوگ رو روکر بارش ھونے کی دعا مانگتے تھے ۔آج سندھ اور ملک کے ديگر حصوں میں اتنا پانی آگیا ھے کہ لاکھوں لوگ بے گھر اور بے آسراء ھوگے ھیں
لاکھوں ایکٹر پر کھڑی قصلیں برباد ھوچیکں ھیں ۔ دکھہ بیماریاں اور ان پر سب سے خوفناک نام ڈینگی وائرس ۔ اور ھمارے فرعون صفت حکمران ۔ اللہ رحم فرماۓ
۔۔میرے بھائ اور بہنیں حیدرآباد میں رھتی ھیں ۔ ان دنوں روزآنہ ان سے بات ھوتی ھے بارش نے بہت تباھی مچائ ھے گھروں میں پانی بھرا ھوا ھے ،
گھروں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی بھرا ھوا ھے ،فرنیچر برباد ھوگیا زندگی عذاب ھوگی خاص کر بہت چھوٹوں بچوں کے ساتھہ تو اور بھی پریشانی ھوتی ھے۔ پھر بارشوں کے موسم میں وبائ امراض پھوٹتنے ھیں ۔ اور انکا شکار زیادہ تر بچے اور عمر رسیدہ افراد ھوتے ھیں ۔ دونوں کی تکلیف نیہن دیکھی جاتی ۔
بچوں سے پوچھوں کہ کیسے ھو؟ کیا ھورھا ھے تو اجتماعی جواب آتا ھے گھر میں جمع ھونے والا پانی نکال رھے ھیں ۔۔مجھے انکی پریشانی اور دیکھہ کا اندازہ ھے مگر مجھے ان لاکھوں افراد کے دکھہ کا بھی اندازہ ھے جن کے سروں پر اب چھت بھی نیہن باقی ۔جن کا سب کچھہ پانی کی نذر ھوگیا ھے ۔ سندھ میں اابھی مذیذ بارش کی پیشنگوئ کی گی ھے ۔ اللہ رحم فرماۓ ۔ اور دکھہ اس وقت اور سواء ھوجاتاھے جب یہ دیکھتی ھوں کہ ماں تو بجے کے منہ پربھیٹی مکھی بھی نیہن بھگاتی مظلوم بنے کے چکر میں نہ اپنے آپ کو صاف رکھتے ھیں نہ اپنے گرد وپیش کو ۔ ۔ ھم تو اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوئ جدوجہد نیہن کرتے ۔ نہ احتجاج نہ سخت محنت ۔ ھم نہ چینی بن سکتے ھیں اور نہ ویٹ نام ۔ نہ جاپان اور نہ اچھے پاکستانی اور نہ اچھے مسلمان ۔ پھر رب کی طرف سے سزا تو ملے گی ناں ۔
ali-oad بھائ سلامت رھیں
یا اللہ رحم فرما، یہ دعا کلمہ نجات بھی ھے اور باعث راحت قلب بھی ھے ۔ھر مصیبت میں ھر مشکل میں ھر امحتان میں اللہ رحم فرماۓ اور ھم سب کو اللہ پاک ان مشکل حالات میں متحد کردے۔ ھم کو پھر سبز ھلالی پرچم کے ساۓ تلے ایک کردے ، آمین ثمہ آمین
اچھی بہن عالم آراء اسلا علکیم ۔ مجھے احساس ھے کہ آپ کا دررمند دل سیلاب اور ڈینگی سے متاّّثرین کے دکھہ سے افسردہ ھے ۔اور مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ھے
کہ ہم ہر آفت ہر مصیبت میں صرف حکومت کی طرف دیکھتے ہیں جو کسی بھی صورت ٹھبک بات نہیں ہے ۔ہمیں احتیاطی تدابیر تو خود بھی کرنی چاہیئں ۔
اللہ میرے ملک کا اور میرے ملک میں رہنے والوں کا اور سب کا محافظ ہو ۔
اللہ آپ سب کی نیکیاں قبول فرمائے ۔
اور ہمیں ان آفات سے نجات دے ،آمین
ھماری گڑیا سیدہ ثمرین بخاری اللہ پاک ھمشیہ تم کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اللہ تعالی سے بہتری کی امید رکھو ،وھی ھم سب کو گرداب سے نکالنے والا ھے وھی سب کی بگڑی بنانے والا۔تویہ کو قبول کرنے والا ۔ اور شب کو سحر میں بتدیل کرنے والا ۔
اور تم نے کتنی پیاری باتیں کیں ھیں ۔مگر عموما دیکھا گیا ھے کہ لوگ دل دکھانے میں خوشی محسوس کرتے ھیں ، معافی مانگنا اور دلجوئ کرنا کیونکہ نیکی کے کام ھیں اس لیے بہت سارے بدقسمت ساری زندگی یہ کام نیہن کرتے ھیں، اللہ بھی ایسے لوگوں کو معاف
نیہن کرتا ،میری گڑیا تم اپنا جہاد جاری رکھو، اللہ پاک تم کو تمھاری تمام نیکیوں کا اجر دینا اور آخرت میں عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین
بات ڈنیگی وائرس سے شروع ھوئ تھی ۔ دینا بھر میں بینائ اور روشنی کی تقیسم کرنے سری لنکن ڈاکٹرز کی ٹیم پاکستان پہنچ گی ھے سری لنکن آئ اسپشلسٹ جو انکھوں کی پیوند کاری کے لیے مشہور ھیں اب ڈنیگی مچھروں سے بچاو اور اس مشکل وقت میں ھماری طبی مدد کے لیے آ ۓ ھیں
ڈنیگی مچھر کا گھر تو افریقہ ھے یہ پاکستان کیسے آگۓ ؟
دراصل یہ افریقہ سے منگوآۓ گیے ٹایئروں کے ھمراہ پاکستان آۓ ، انکی پرواز ایک سو کیلو میٹر تک ھوتی ھے اور یہ صاف پانی میں پلنے والا مچھر ھے ۔ ڈنیگی وائرس اگر کسی مچھر میں موجود ھوگا تو اس کے انڈے کے ذریعے اگلی نسل میں منتقل ھوجاتاھے اس لیے جب تک ڈنیگی مچھر کی دو تین نسلیں ختم نہ کی جايئں تب تک یہ کنٹرول میں نیہن ھوگا ،اس لیے کیے اطباء حکماء پیرامیڈیکل اسٹاف حکومت ، این جی اویز، سوشل ورکرز، الیکٹرونک میڈیا ، اور معاشرے کے دیگر افراد کو مل جل کر اس بیماری کا مقابلہ کرنا ھوگا ۔ڈنیگی کے لفظی معنی جسم کا توزنا پھوٹنا ھے ۔ اور یہ واقعی ھفتوں کے لیے انسانوں کو توڑپھوڑ کر رکھہ دیتا ھے ، ديگر وبائ امراض کے برعکس ڈینگی مچھر کوینکہ صاف جگہ پر ھوتاھ ے اس لیے صاف جگہ کی صفائ بذات خود ایک بڑا مسلہ ھے ۔ لوگ پینے کے پانی اور کھانے پینے کی اشیاء پر اسپرے نیہن کرنے دیتے ۔ صبح سویرے اور غروب آفتاب کے وقت فوگنگ اور اسپرے کرنے سے ڈینگی وائرس کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی ۔
میں اس پر صرف اتنا کہنا چاہوں گا
کہ ہماری قوم اب وہ قوم ہے جو ہر حادثے اور آفت کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے ہیں
اور شکر ادا کرتے ہیں اللہ کا کہ اس نے کمائی کا نیا ذریعہ دیا
اب نیا ذریعہ یہ ہے کہ گورنمنٹ جو اسپرے فراہم کر رہی ہے ، ہمارے گورنمنٹ کے ملازمین اسے امیر لوگوں کو بیچ رہے ہیں ، اور گھٹیا فیومنگ کر رہے ہیں ،سندھ کے سیلاب والے علاقوں میں وڈیرے اور سیاسی لوگ اپنی زمینیں بچانے کے لیے شہر کے شہر ڈبو رہے ہیں
مگر پتہ نہیں لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ اللہ میاں نے یہ دکھ درد اور آفات سماوی و فرشی ، صرف غریبوں کے لیے کیوں رکھی ہیں ، ایک طرف انہیں طاقتور لوگ مار رہے ہیں دوسری طرف قدرتی آفات . .. . . اور امراء اور رؤسا . .. اپنے محلوں میں عیاشیاں کر رہے ہین
کب ان پر عذاب آئے گا ، یا کبھی نہیں آئے گا . . . .. . . .
ہر دعا میری کسی دیوار سے ٹکرا گئی
بے اثر ہو کر میر فریاد واپس آ گئی
اس زمیں سے آسماں شاید بہت ہی دور ہے
سامنے تیرے ترا بندہ بہت مجبور ہے . . . .
اسلام علیکم ساتھیو
اللہ آپ سب کو اور آپ سب کے رشتے داورں کو اپنی عافبت میں رکھے ۔ ہم سب ہی کے رشتے دار بہن بھائی ان تمام ازیتوں کو جھیل رہے ہیں ۔اللہ سب پر کرم کردے ۔
محترم اظہر بھائی بات ہے کردار کی ۔جس کے بنانے کی طرف توجہ دینا ہم سب نے چھوڑ دیا ہے ۔ ہمارے جزبے وہ نہیں رہے ،ہماری سوچ وہ نہیں رہی جو قناعت کی طرف راغب کرتی تھی ۔
جو خوف خدا کی ترغیب دیتی تھی ۔ہم تو اب بھی سارا بار دوسروں ہی پر ڈالتے نظر آتے ہیں میں عام بات کر رہی ہوں ۔اور شابد عمر میں آپ سب سے بڑی بھی ہوں اس لئے اقدار کی جو تنزلی دیکھ رہی ہوں وہ خوفزدہ کر رہی ہے ۔دنیا کی طلب نے آخرت کا خوف مٹا دیا ہے ۔اللہ سے عافیت طلب کرنی چاہئے ۔اس کے حضور توبہ کی ضرورت ہے ۔ بس اللہ رب العزت ہم سب کی توبہ کو قبول فرمائے ۔
محترم بھائی ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں کسی پر بھی عزاب آنے کی بات نہیں کرنی چاہئے ۔ اللہ سب کو محفوظ رکھے اور معاف کر دے ۔
یہ آز مائش ہے جو اللہ کے بندوں پر آتی ہے ،تو پھر اللہ سے ہی پناہ مانگنی چاہئے ، کہ وہ ہی ہم سب کو ان ازیتوں سے نکال سکتا ہے انشا ء اللہ
پیاری بہن ثمرین بخاری اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے ۔
بالکل پیاری بہن ہمیں ایک دوسرے سے ضرور معافی مانگتے رہنا چاہئے ۔ میں ہمیشہ اللہ حافظ کہنے کے بعد کہا سنا سب معاف کہا کرتی تھی کہ یہ میرے بڑوں کی ایک روایت تھی مگر مجھے اس بات پر لوگوں نے اتنا ٹوکا کہ اب میں ایسا کہتے ہوئے جھجکتی ہوں ۔لیکن کہتی ضرور ہوں ۔میرا خیال ہے کہ اچھی باتوں کو جتنا پھیلایا جائے اتنا ہی جائے اتنا ہی ثواب ہے ۔
اللہ ہم سب کی اچھائیوں کو قائم رکھے اور ان میں اضافہ فرمائے آمین
اگر کچھ بھی بار خاطر ہوا ہو تو معافی کی درخواست ہے ۔
اللہ سب کی پریشانیاں دور کر دے آمین
دعا کی طالب
عالم آرا
محترم المقام صفدر ہمدانی کا کلام انہیں کی زبانی
محترم ھمدانی صاحب کی نظم ایک تلخ حقیقت اور موجوہ پاکستانی حالات کی سچی منظر کشی ھے ھر وہ جو اس کھٹن وقت کے کرب کو اپنے
اندر محسوس کر رھا ھے اس کے احساس کی ترجمانی کردی ھے سر نے
یہ سیل آب کتنے ھی طوفاں نگل گیا
پانی تھا اتنا سرد کہ ھر جسم جل گیا
ٹوٹے مکان چیختے بچوں کا شورشین
یہ سوچتے ھی جیسے میرا دم نکل گیا
لاشیں تڑپتے بچے مکینوں کی بے بسی
دیکھی جو یہ تباھی تو سورج پگھل گیا
ھر سمت وحشتوں نے بنائے ھیں اپنے گھر
اے شہر زندگی تیرا نقشہ بدل گیا
چاندی کے جسم شربتی آنکھیں زمیں کے چاند
سیلاب اپنی رو میں سبھی کچھ مسل گیا
اے ربِ جہاں پنجتنِ پاک کا صدقہ
اس قوم کے گناہوں کو معاف فرما
اور
ڈینگی بخار سمیت تمام امراضِ ارض و سماوی سے نجات دے
سیلاب کی تباہ کاریوں کو ختم کردے
اے اللہ اے اللہ
رحم کر رحم کر
اے کریم
اپنے کرم کی انتہا کردے
ہر دعا میری کسی دیوار سے ٹکرا گئی
بے اثر ہو کر میر فریاد واپس آ گئی
میرے اچھے بھائ اظہر الحق سلامت رھو ، تم چونکہ ایک درد مند انسان ھو، اس لیے یہ دوسرں کا دکھہ درد بھی اپنے کاندھے پر اٹھاتے ھو،اور سب کی تکلیفوں کو راحت میں بدلنے کی دعا مانگتے ھو، تبیدیلی اور تغیر کی شدید خواھش ھے ، 70کروڑ کی آبادی والا میرا پاک وطن ۔ سیلاب تو اب ھر سال ھی تباھی مچاتا ھے کتنی قمیتی جانوں کا ضیاع ھوتا ھے لاکھون لوگ بے گھر و بے آسراء ھوجاتے ھیں ۔ جو سیلاب میں بہنے سے بچ جاتے ھیں انھیں بے گھری اور اتنا بڑا نقصان ھی ّپاگل بنا دیتا ھے ۔ھمارے حکمران تو کچھہ نیہن کرینگے ۔ بھیک مانگنے اور اپنا علاج کرانے زرداری لند ن گۓ ھیں ، گیلانی بھی کیہں جانے کی تیاری کررھے ھیں ، نواز شریف ان دنوں سارے ناکام سیاست دانوں پر شدید قسم کی تنقید کرنے پر تلے ھوۓ ھیں ، کوئ ان پانی میں گھرے لوگوں کی زندگی گھر بار مویشی اور ساری عمر کی پونچی ختم ھونے پر نوحہ کناں نیہن ھے ؟
، سیاسی مدداری تو سیلاب کو بھی امریکا ،اسرايئل اور بھارت کی سازش کہہ کر بیرونی دوروں پر نکل جاينگے
پاکستان گندم پیدا کرنے والا تیسرا بڑا مللک ھے ، سیلاب کی وجہ سے زراعت کے شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ھے 40|50ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ھوچکا ھے پچھلے برس بھی زرعی شعبے کو بہت نفصان پہنچا تھا ۔
بدترین معاشی حالات
بدترین سیلاب
بدترین اور غیر مخلص حکمران
دھشت گرد ۔ خراب ترین امن وعامہ کی صورت حال ، سیلاب کے بعد معتدد وبائ امراض بھی پھوٹ پڑے ھیں ۔،Cholera ھیضہ ڈنيگی وائرس اب پورے ملک میں پھیل رھا ھے سندھ میں بھی کئی اموات ھوئ ھیں ۔ 5 ملین بچوں اس امراض کا شکار ھوسکتے ھیں ۔ اور کسی کو رحم نیہن آرھا ، کون ھے جو غریبوں کےلیے سیلاب سے محفوظ بستیاں آباد کریگا ؟ کون ایسا وطن پرست انجينئر ھے جو بارش اور سیلاب کے پانی کو سالوں تک محفوظ رھنے کے لیے ڈیم بناۓ گا ، ؟ کوئ نئی ایجاد کوئ نئ دوا۔ ،
اس زمیں سے آسماں شاید بہت ہی دور ہے
سامنے تیرے ترا بندہ بہت مجبور ہے . . . .
مجھے تو رونا آجاتاھے ، رونا بے بسی اور کم زوری کی علامت ھے ۔،ھم تو بے عمل قوم بن چکے ھیں اللہ پاک سے دن رات دعا ھے کہ کاش میری جان میرے ملک کے کام آۓ ۔ کسی انسان کے کام آۓ ۔ اردگرد اتنے دکھہ اور آزار میں مبتلا لوگوں کو دیکھہ کر اپنے دکھہ بھول گۓ ، اللہ پاک سے دعا ھے کہ اس برے وقت میں ھم کو اچھے اور مخلص حکمران عطا کردے ۔ اور ان سب بے ایمان اور وطن فروش حکمرانوں کو موت آجاۓ جو اللہ تعالی کی بے گناہ مخلوق ، اشراف المخلوق کو کیڑوں مکوڑوں کی طرح مار رھے ھیں ۔ ان پر عذاب کب آۓ گا ، زدرادی کے بچے ڈنيگی وائرس کا کب شکار ھونگے ۔ گیلانی کی ساری زرعی زمینیں کب پانی کی نذر ھونگی ، شریف بردارن کی شوگر ملز اور فیکٹریز میں کب آگ لگے گی ۔
یہ سیل آب کتنے ھی طوفاں نگل گیا
پانی تھا اتنا سرد کہ ھر جسم جل گیا
ٹوٹے مکان چیختے بچوں کا شورشین
یہ سوچتے ھی جیسے میرا دم نکل گیا
لاشیں تڑپتے بچے مکینوں کی بے بسی
دیکھی جو یہ تباھی تو سورج پگھل گیا
ھر سمت وحشتوں نے بنائے ھیں اپنے گھر
اے شہر زندگی تیرا نقشہ بدل گیا
چاندی کے جسم شربتی آنکھیں زمیں کے چاند
سیلاب اپنی رو میں سبھی کچھ مسل گیا
آچھی بہن عالم آراء اسلام علیکم ۔ اللہ پاک آپ کو ھمشیہ اپنے حفظ واماں میں رکھے آمین آپ کی اچھی اور خوبصورت باتوں کو پڑھ کر میرا مایوس دل امید کی روشنی سے منور ھوجاتا ھے ۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا ، دوستوں اور اپنے پیاروں سے سوری کہنا اس سے آچھی تو کوئ بات ھی نیہن ھے ،اور اس سے بڑھ کر کوئ دوا ھی نیہن ھے ، ، میں بھی فوار معافی مانگتی ھوں اور مجھے کوئ ايگو پرابلم نیہن ھے ، مجھے جاب بھی اسی بات پر ملی تھی کہ میں نے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر مجھے اپنی غلطی کا احساس ھوجاۓ تو میں فوار معافی مانگتی ھوں ۔اپنے پیاروں کو اور دوستوں کو کسی تکلیف میں دیکھنا تو میرے لیے بہت اذیت کا باعث ھوتا ھے ، کھبی نا دانستگی میں کوئ ایسی بات ھوجاۓ تو ان سے زیادہ تکلیف مجھے ھوتی ھے ۔ اور بہت جلد ھم دونوں معافی اور سوری پر ایک بلاگ بھی لگايئنگے ۔ سوری کہہ کر جودل کو سکون ملتا ھے ، ھم سب میں بہت ساری باتیں مشترک ھے اور میں تقریبا ھر روز آپ اچھے لوگوں سے بہت ساری باتیں سکیھتی ھوں ، بہت شکریہ اچھی دوست ، آپ ایک بہت پرخلوض اور مخلص خاتون ھیں ، ایثار کرنے والی ۔ دوسرں کا خیال رکھنے والی ، یہی بات آپکی تحریروں اور اشعار میں بھی نظر آتی ھے ،سلامت رھیں
شکر اللہ کا شاہین میری دلاری تمہیں گھر تمہاری پسند کا مل گیا .. باقی مسلے تو جان کے ساتھ ہر وقت لگے ہوتے ہیں .انہیں خاطر میں لاتا کون ہے . تم گھر بدل بھی لو گی تمہیں پتہ ہی نہیں چلنا .. مجھے توخوشی اس بات کی ہے کہ تم نیٹ سے مالا مال ہو جاؤں گی ..این این مطلبی نہ ہو تو ہاہاہاہاہااہا ..
ویسے قسم سے جتنی معلومات تم نے مجھے ڈینگی پر دی ہے جی میں ہے کہ تمیں اپنی ڈاکٹری کی ڈگری کچھ دنوں کے لئے اعزازی طور پر دیدوں … واہ .. میں سوچ رہی تھی کہ اس پورے مضمون کو ایک جگہ کر کے کہیں لگا دوں .. ویسے تم خود اگر لکھ کر کسی کالم کی شکل دے دو تو تم پریشان مت ہونا میں اس کام کو اپنے نام سے لگا لوں گی کہ تمہیں تو شوق نہیں ہے اپنا نام عالمی اخبار میں دیکھنے کا .. کیسا ہاہاہاہااہا ..
اچھا سنو میری آپا کو پٹانے کی ضرورت نہیں وہ جانتی ہیں کہ وہ کتنی اچھی ہیں .. باقی تھوڑا بہت میں نے انہیں پہلے ہی سے پٹا رکھا ہے .. ویسے تمہارے پاس کوئی ” تیسری آنکھ” ہے جس سے سب کچھ جان لیتی ہو .. اچھا اب مجھے اور آپا کو جلدی سے نئے گھر کی تصویریں بھیجو .. تاکہ ہم دونوں اسے سجانے میں تمہاری مدد کردیں .. تم بھی کیا یاد کرو گی .. ہاہاہاہا ..
اچھا اب بتاؤ کیسی ہو ..ا داسی بھاگی کہ نہیں .. بھلا اداسی سے تمہارا کیا تعلق .. سنو میری بہن اسے اسی پرانے گھر میں چھوڑ کر جانا .. اچھا ..
میری جان سے پیاری دوست اور دل سے قریب تر بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ تسلیم وسلامات ۔ ھاں جی آپ سب کی دعاوں سے گھر مل گیا ھے مگر ابھی شفٹنگ باقی ھے۔ مگر اس گھر میں بہت سارا سامان چھوڑ دونگی ،اس میں اداسی ۔ ناامیدی اور دل گرفتگی بھی شامل ھوگی ۔اور دعا کرونگی یہ دینا سے اداسی اور ناامیدی کا خاتمہ ھوجاۓ امین دکھہ بیماریوں کا بھی ۔ برے انسانوں کا بھی ، اور سارے دھشت گرد خودکش حملہ آور وں کا بھی۔ کرپٹ اور بے ضمیر وطن فروش سیاست دانوں کا بھی شارع بیلاجات پر واقع جس پرسکون اورآچھی کتابوں سے سجے گھر میں میں رھتی تھی اس گھر میں امی کی خوشبو بھی ھمہ وقت میرے ساتھہ ھی رھتی ھے ۔ وہ خوشبو میں تتلی کے پروں میں محفوظ کرکے اپنے ساتھہ لے جاونگی، ۔ میری امی میری سب سے گہری دوست ھیں ، مین ان سے ھر بات شيئر کرتی ھوں ، اور اپنے عزيز بھائ صفدر رضا سے بھی میری بہت گہری دوستی ھے ۔ ھم ایک دوسرے کے مزاج شناس بھی ھیں اور نبض شناس بھی ،ھفتے میں چار بار صفی اور امی سے بات ھوتی ھے۔ موبايئل فونز ، انٹر نیٹ تو عصر حاضر کی سب سے اچھی ایجادات ھیں اور کویت میں بنے والے ھر نئي بلڈنگ میں سینٹرل اے سی کے ساتھہ ، انٹر نٹ اور سینٹرل ڈش بھی شامل ھے اور مجھے پتہ ھے کہ یہ سب تمھاری دعا کا نتجیہ ھے ۔بہت جلد تم کو نيے اپارٹمنٹ کی تصاویر بھیجونگی ۔ ۔ ھم اپنا اسکائپ کا پاس ورڈ بھول گۓ ھیں ، کون میری مدد کریگا ؟
ڈنیگی پر کالم بھی لکھتے ھیں،
اور براۓکرم آپ مجھے اپنی میڈیکل کی ڈگری نہ دیں
ھم تو نیم حکیم خطرہ جان ھیں ، آپکے مریضوں کے لیے ڈینگی سے زیادہ ھم خطرناک ثابت ھونگے ھاھاھاھاھاھا،
کیونکہ اللہ تعالی آپ جیسے اپنے خاص اور بہت نصیب والے بندوں کے ھاتھہ میں شفاء رکھتا ھے ۔ یہ کام تم کتنی خوش اسلوبی سے کرتی ھو۔ تمھارے نزیک تو انسانیت کی خدمت ھی سب سے بڑی معراج ھے۔ ۔ھم سب تمھاری مزیذ کامیابیوں کے لیے ھمشیہ دعاگو رھتے ھیں
اور سنو میں عالم آرآء بہن کو مکھن نیہن لگا رھی تھی مگر ۔ کبھی کبھی ایک دوسرے کی سچی تعریف کرنا ،، کتنا آچھا لگتا ھے ۔ اور دل کو خوشی جو ملتی ھے ، واہ جی واہ ۔اللہ پاک ھمارے عالمی اخبار کے اس کنبے کے ھر فرد کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اورآپ سب کا دامن ھر خوشی ،مسرت اور کامیابیوں سے بھر دے ، کوئ غم آپ لوگوں کے قریب نہ آۓ ، ،
عالمی اخبار نے مجھےبہت عزت اور نام دیا ھے ، مجھہ جیسی بہت کم لکھنے والی عام سے افسانہ نگا ر کو کیا سے کیا بنا دیا۔ میری بہت پیاری اور بہت عزيز این این ۔ تم کو یاد ھوگا پہلے تو میں بلاگ ھی سے غائب ھوجاتی تھی کہ مجھے بولنا ھی ینہن آتا تھا ۔ میں لکھتے ھوۓ بولتے ھوۓ ڈرتی تھی ۔ اور اسی پلیٹ فارم سے میری اواز سنی گی ، بہت شکریہ دوستوں ۔اور میں نے آپ سب سے کتنا سکیھا ھے ، پہلے کلاس میں سب سے آخر میں بیٹھتی تھی ، اور بولتے ھوۓ ڈرتی تھی ۔ براہ راست دوستوں سے مکالمہ رھتا ھے ، اور ھر لمحہ سیکھنے کی خواھش مجھے بیقرار رکھتی ھے ۔ ۔ اور عالمی اخبار میری درس گاہ ھے جہاں میں ھر روز اپنا دامن علم کے جواھر سے بھر کر لے جاتی ھوں ۔ ،
آج شام وزیراعظم یوسف گیلانی حیدرآباد آرھےھیں ، پتہ نیہن اب کیا کرنے آرھے ھیں ، لوگوں میں ایک کیلو آٹا تقسیم کرنے ، انکا تماشہ دیکھنے ۔ اپنی ناکام حکومت کی کارکردگی دیکھنے ۔ پانی میں ڈوبے اور پانی سے اجڑے گھر دیکھنے ۔ لاکھوں بے گھر افراد کی بددعا لینے ؟ وبائ امراض کا شکار ھونے والوں کے ساتھہ تصویر اتروانے ۔ بارشوں سے ھونے والے نقصان پر خوشی منانے کیونکہ پھر ان لوگون نے کشکول اٹھا کر بیرونی امداد اکھٹا کرکے اپنی تجوریاں بھرنی ھیں ، اور خاص کر ڈاکو نمبر 1 جن کا دل کسی طور لوٹ کھسوٹ سے بھر ھی نیہن رھا ھے ، حالیہ بارش اور سیلاب اور پھر اس کے نتیجے میں ھونے والی تباھی نے تو انکی چاندی کردی ۔ اب پھر سیلاب زدگان کے نام پر دینا بھر سے بھیک مانگنے نکلیے گے ۔ حیدرآباد 9 نمبر سادات کالونی سب پانی میں ڈوبے ھوۓ ھیں سب کہہ رھے ھیں کہ پانی کو جان بوجھہ کر چھوڑا گیا ھے ، اس میں بھی ایک ھی جماعت کا ھاتھہ ھے ۔ جس نے 1947 میں فربانی دینے والوں کو پاکستانی کے بجاۓ مہاجر کہلانا شروع کیا، لاکھوں لوگون کو بے گھر کرنے والی جماعت ، بھتہ۔ لینڈ مافیا قتل وغارت گری ،کرنے والی جماعت جس کا قائد اب بھائ سے بائ ھوگیا ھے دیگر جماعتوں نے جو ان جرائم میں شامل تھیں انتا نقصان کم سے کم اپنے لوگوں کو نیہن پہچایا تھا جتنا نقصان اردو بولنے والوں کی مائ باپ کہلانے والی جماعت نے کو پہنچایا ، ،اس جماعت نے پاکستان کو کم زور کردیا ،ھم سب کے حوصلے پست کرديئے یہ جماعت تو ڈنیگی وائرس سے زیادہ خطرناک ۔ جس کے ڈنگ مارا وہ زندگی سے ھاتھہ دھو بیھٹا ۔
سیلاب مین ڈوبے ھوۓ گھر دیکھتی ھوں میں ۔
مٹی میں ملے لعل وگہر دیکھتی ھوں میں
پانی کبھی بریاد نہ کرپاۓ گا جس کو
بنتے ھوۓ مضبوظ شہر دیکھتی ھوں میں