نظم … ” پر تم کہیں نہیں ہو تیں ” ۔۔از؛ ڈاکٹرنگہت نسیم

میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہم سب اس دور میں ہیں جہاں ایک دوسرے کی سکون سے بات سننا تو درکنار ڈھنگ سے بات کرنے کا وقت تک نہیں بچتا .. شائد ہم نے ضرورتوں کے پر زیادہ پھیلا لئے ہیں یا پھر ہمیں اپنے تن کی چادر کی لمبائی کا احساس نہیں رہا .. پیسیوں اور اسٹیٹس کی اندھی دوڑ نے ہمیں قناعت جیسی حسین دولت سے محروم کر دیا ہے ..

میں جب بھی کوئی پرانی کتاب پڑھتی ہوں اور اس میں کسی پرانے کرداروں سے راز و نیاز کرتی ہوں تو مجھے اپنا آپ بہت بونا لگتا ہے .. .. مجھے یوں لگتا ہے جیسے وہ عورت جو عجز و انکسار کا پیکر ہوا کرتی تھی .. جو وفا اور ایثار کی مورت ہوا کرتی تھی .. وہ عورت جس کے گرد پورا گھر گھوما کرتا تھا .. وہ عورت جو ” گزارا ” کرنے کے تمام ہنر سے آباد تھی .. وہ اصل عورت مجھ سے کہی بچھڑ گئی ہے …. سچ تو یہ ہے کہ وہ ہم سب سے بچھڑ گئی ہے … اس اصل عورت کا ہم سب سے یوں دور ہوجانا دراصل ہم سب کا مشترکہ نقصان ہے …

اسی زیاں کو محسوس کرتے ہوئے … ایک تازہ نظم آپ سب کی خدمت میں … توجہ چاہتی ہوں

نظم … ” پر تم کہیں نہیں ہو تیں ” ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

سنو جی
میں اس جھیل کنارے ایک گھر بناؤں گی
گھر چھوٹا سا ہوگا ۔۔یہی کوئی پانچ مرلے کا
میں جانتی ہوں میں مکان کو گھر بنا لونگی
گھر کے ارد گرد ہم ساری سبزیاں اگائیں گے
تم تصویریں بنانا اورمیں پھول کاڑھا کرونگی
سنو
جب
رہن سہن سادہ ہو
کھانا پینا گھر کا ہو
تو بوجھ بھلا کیسے ہو
تم دیکھنا ۔۔اتنا سارا وقت ہو گا
شام ڈھلے ۔۔روزانہ
ہم اسی جھیل کنارے آیا کریں گے
ایک دوسرے کو بس دیکھا کریں گے
پھر ڈھیروں اپنی باتیں کیا کریں گے
اور ۔۔۔ یوں ہم دونوں
خوشی خوشی عمر ساری گزار دیں گے
میری ہمراز ۔۔میری دمساز ..میری ہمسفر
میں ہر روز اسی جھیل کنارے آتا ہوں
ہر سو تمہاری سرگوشیاں سنتا ہوں
پر
تم کہیں نہیں ہو تیں

16 thoughts on “نظم … ” پر تم کہیں نہیں ہو تیں ” ۔۔از؛ ڈاکٹرنگہت نسیم”

  1. بہت اچھا واقعی انتہائی شاندار کام کیا ہے .. یعنی احساس دلایا ہے

  2. میری ہمراز ۔۔میری دمساز ..میری ہمسفر
    میں ہر روز اسی جھیل کنارے آتا ہوں
    ہر سو تمہاری سرگوشیاں سنتا ہوں
    پر
    تم کہیں نہیں ہو تیں
    …………………………
    بہت خوب.شاعری میں نظم خاص طور پر مصرعوں کو جوڑنے کا نام نہیں بلکہ بکھری ہوئی کہانی کو تسبیح میں پرونے کا نام ہے اور میں نے بہت عرصے پہلے کہا بھی تھا اور لکھا بھی تھا کہ ڈاکٹر نگہت نسیم نظم کی منفرد اور مستند شاعرہ ہیں. میں کہ جس نے ساری عمر غزل لکھی ہے کہہ سکتا ہوں کہ نعض مقامات پر کسی ایسے موضوع پر نظم کہنا غزل کہنے سے زیادہ مشکل کام ہے اور ڈاکٹر نگہت شاید زندگی بھر مشکل کام کرنے کی عادی رہی ہیں

  3. اتنے منفرد احساس کو اتنی خوبصورتی سے لفظوں کے پیراھن پہنانا واقعی صرف اور صرف ھم سب کی بہت عزیز بہت پیاری بہت خاص دوست اور میرے دل سے بہت قریب بہن ڈاکٹر نگہت نسیم کا ھی خاصہ ھے ،اس پر محترم المقام جناب صفدر ھمدانی کے بیش قیمت نقري سند کہ

    ڈاکٹر نگہت نسیم نظم کی منفرد اور مستند شاعرہ ہیں.

    ان پر اللہ کا خاص کرم ھے ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم جیسےبے حد خوبصورت دل و نظروالے انتہائ حساس قلمکاروں کو لفظوں کی نعمت کے ساتھہ ایسی فکری پروازعطا کرتا ھے جو ھر نئےادبی آکاش تک پہنچنے کی طاقت رکھتی ھے
    سنو جی
    میں اس جھیل کنارے ایک گھر بناؤں گی
    گھر چھوٹا سا ہوگا ۔۔یہی کوئی پانچ مرلے کا
    میں جانتی ہوں میں مکان کو گھر بنا لونگی
    گھر کے ارد گرد ہم ساری سبزیاں اگائیں گے
    تم تصویریں بنانا اورمیں پھول کاڑھا کرونگی
    سنو
    جب
    رہن سہن سادہ ہو
    کھانا پینا گھر کا ہو
    تو بوجھ بھلا کیسے ہو
    تم دیکھنا ۔۔اتنا سارا وقت ہو گا
    شام ڈھلے ۔۔روزانہ
    ہم اسی جھیل کنارے آیا کریں گے
    ایک دوسرے کو بس دیکھا کریں گے
    پھر ڈھیروں اپنی باتیں کیا کریں گے
    اور ۔۔۔ یوں ہم دونوں
    خوشی خوشی عمر ساری گزار دیں گے
    میری ہمراز ۔۔میری دمساز ..میری ہمسفر
    میں ہر روز اسی جھیل کنارے آتا ہوں
    ہر سو تمہاری سرگوشیاں سنتا ہوں
    پر
    تم کہیں نہیں ہو تیں

    اختتامیہ تو بہت یونیک ھے ۔

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ خوش رھو سلامت رھو آمین

  4. بہت شکریہ احمد خوش رہو ..امتحانات میں شاندار کامیابی بہت بہت مبارک ہو ..اور پہلی بار بلاگ فیملی میں آنے کے لئے مبارکباد لو .. اللہ کریم تمہیں اپنی ماں کا تابعدار رکھے اور ہمت و طاقت دے کہ اپنی دین و دنیا ان کی دعاؤں سے بنائے رکھو .آمین

  5. محترم المقام صفدر ہمدانی جو اپنی ذات میں ایک درسگاہ ہیں … ان کی تعریف و تنقید خود ایک طرح کی ڈگری ہے .. میں نے ان ہی زیر شفقت اپنا نظمی سفر شروع کیا تھا .. انہی نے مجھ میں نغمگی اور ربط کو پایا ورنہ میں تو بے خبر تھی اپنے ہی شور سے … کہتے ہیں کہ جو استاد جوہر شناس ہوتے ہیں وہی راہنما بنتے ہیں .. مجھے یاد ہے کہ میں جب نویں میں تھی میری فزکس کی ٹیچر “مس خالدہ قادری ” ..اللہ کریم انہیں اپنے جوار رحمت میں رکھے (آمین ) .انہوں نے مجھے کہا تھا کہ مجھے ڈاکڑ بننا چاہئے یا سائیسداں .. مجھے اس وقت سمجھ نہیں آتی تھی لیکن مجھے ان کی محبت اور شفقت پر بڑا مان تھا .. میں ہرروز ان کے معیار پر پورا اترنے کے لئے جی جان سے محنت کرتی تھی .. اور یوں ہوا کہ پورے اسکول میں فزکس میں میری پہلی پوزیشن آ گئی … میں نے دیکھا مس خالدہ قادری کی آنکھوں کی چمک بہت انوکھی سی تھی .. جیت کی چمک تھی یا ان کے اپنے ہی کسی خواب کو پورا جانے کی خوشی … انہوں نے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا .. اور کہا کہ تمہارا سفر اب شروع ہوتا ہے .. تھکنا نہیں بڑھتے چلے جانا ہے … اور میں بڑھتی چلی گئی …

    جب میں محترم المقام صفدر ہمدانی سے پہلی بار ملی تو جانے کیوں مجھے لگا جیسے اللہ کریم ایکبار پھر مجھ پر مہربان ہوا ہے … مجھے وہ استاد محترم مل گئے ہیں جو راہنما ہوتے ہیں .. ان کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو میں نے نویں جماعت میں مس خالدہ قادری کی آنکھوں میں دیکھی تھی … میری پہلی نظم ” بارش” کو سننے کے بعد وہ مجھ سے یہی کہہ رہے تھے ” این این تمہارا سفر اب شروع ہوتا ہے ..تھکنا نہیں بڑھتے چلے جانا ہے … میں جانتی ہوں کہ مجھے اپنے استاد محترم کے معیار تک پہنچنے کے لئے سو نہیں بلکہ کئی سو برس چاہئے ہوتے ہیں … پر مجھے تھکنا نہیں بڑھتے چلے جانا ہے … اور میں اب … اب اشکبار ہو رہی ہوں ..

    استاد جب تک جوہر شناس نہ ہو وہ صرف پڑھانے کی نوکری کرتے ہیں ” راہنمائی ” کی ڈگری انہیں نہیں دی جا سکتی .. میں ان چند خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہیں اللہ کریم نے کبھی تنہا نہیں رکھا .. میری مسیحائی کی اساس میں مس خالدہ قادری کی تعلیم و تربیت اور میری ادبی و فکری اساس میں محترم المقام صفدر ہمدانی کا فلسفہ حیات ، ان کے اصول اور اور ان کی تعلیم و تربیت کا احسان شامل ہے .

    میں دن رات اپنے رب کریم سے عاجزی سے دعا کرتی رہتی ہوں کہ وہ مجھے آخری سانس تک احسنانمندوں میں رکھے ….آمین

  6. بہت ہی پیاری اور میری دلاری شاہین جگ جگ جیو .. خوشیوں میں رہو .. اس پاک ذات کی امان میں رہو ..

    تمہارا پیار اور مان میرے لئے ایک آسمانی تحفہ ہے .. جس کے بارے میں صرف سنا کرتی تھی لیکن مجھے یوں بیٹھے بیٹھائے مل جائے گا یہ نہیں جانتی تھی .. تمہارے عمیق مطالعے تک میری رسائی کہاں جان عزیز .. یہ تو یونہی کبھی کبھی اپنوں کے سامنے دل کھول کر رکھ دیتی ہوں .. تمہیں چونکہ مجھ سے ” اللہ واسطے ” کی محبت ہے اس لئے تم کو میری ہر بات اپنی ہی لگتی ہے .. یہ بھی میری ہی خوش نصیبی ہے کہ تم مجھے ہر جگہ ہر پل ساتھ رکھتی ہو .. میں تمہاری احسانمند ہوں میری دوست کہ تم نے مجھے سفر حجاز میں بھی ساتھ رکھا .. میرے حصے کی حاضری مجھ سے کہیں زیادہ محبت اور کیف سے نبھائی .. لیکن یقین کرو میری پیاری بہن میں بھی ان دنوں اسی کیفیت میں تھی جیسے درپاک پر کھڑی ہوں اور اپنے دامن کو پھیلائے بخشش کی بھیک مانگ رہی ہوں .. اپنے پیاروں کی صحت و سلامتی کے لئے بے چین ہوں .. میرا دل کہتا ہے کہ یہ اذن صرف محبت کو ملا ہے کہ وہ کبھی اکیلی نہیں رہتی ..وہ جہاں رہے ایک جہاں بسا لیتی ہے …

    جگ جگ جیو .. سلامت رہو

  7. باجی ، بے شک وہ عورت جو پہچان تھی گھر کی ، جو گھر بناتی تھی ، جو گھر سجاتی تھی ، جو بیٹی ہوتی تھی تو رحمت تھی ، وہ بیوی بن کہ سکون تھی ، وہ بہن بن کہ مان تھی اور وہ ماں بن کہ جنت تھی
    بے شک وہ عورت اب بھی کہیں موجود ہے ، بس ہم تلاش نہیں کر پاتے ، بلکہ میں یہ کہوں گا کرنا ہی نہیں چاہتے

    آپ نے ہمیشہ اپنے افسانوں اور نظموں میں ہمیشہ اس معاشرے کی بات کی ہے جو شاید اب فیڈ آف ہوتا جا رہا ہے ، اور یہ نظم اگر کسی کو جھنجوڑتی نہیں تو کم سے کم چونکا ضرور دیتی ہے ، ایک لمحے کے لیے ہی ہم سوچتے ضرور ہیں . .. . اور یہ سوچ دینا ہی ایک کامیاب لکھاری کی نشانی ہے

    ثناء خوان تقدیس مشرق یہاں ہیں
    مگر وہ مشرق کی دختر کہاں ہے ؟؟

  8. کسی نے کیا خوب کہا ھے شاعری اظہار کی ارفع اور خوب صورت ترین شکل ھے اور ھر شاعر اپنے مشاھدے جذبات و احسات کے ذریعے ا
    کے امتزاج کو لفظوں کے پیرہن پہنا دیتا ھے
    نگہت نسیم کی نظم ” پر تم کہیں نہیں ہو تیں ” جس کے شروع میں امید آرزو جستجو ھے
    میں اس جھیل کنارے ایک گھر بناؤں گی
    گھر چھوٹا سا ہوگا ۔۔یہی کوئی پانچ مرلے کا
    میں جانتی ہوں میں مکان کو گھر بنا لونگی
    گھر کے ارد گرد ہم ساری سبزیاں اگائیں گے
    تم تصویریں بنانا اورمیں پھول کاڑھا کرونگی

    لیکن وہیں آخر میں ایک پہلو شکوے کی ثنہائ کی اور گزرے وقت کی یاد کا ھے
    میری ہمراز ۔۔میری دمساز ..میری ہمسفر
    میں ہر روز اسی جھیل کنارے آتا ہوں
    ہر سو تمہاری سرگوشیاں سنتا ہوں
    پر
    تم کہیں نہیں ہو تیں
    نگہت نے بہت خوبصورتی سے ایک اطمینان بخش زندگی اور بعد کے منظر کو بیان کر دیا
    بہت خوب نگہت کیا کہنے

  9. اسلام علیکم ساتھیو
    جیتی رہئے بہن نگہت
    بہت ہی خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی نظم ہے ۔
    بات ساری یہ ہی ہے کہ عورت جس کے گرد ساری خوشیاں ساری حلاوتیں اور ساری آسودگی گھومتی ہے ۔وہ نہ جانے کہاں کھو گئی ہے ۔
    میری ہمراز ۔۔میری دمساز ..میری ہمسفر
    میں ہر روز اسی جھیل کنارے آتا ہوں
    ہر سو تمہاری سرگوشیاں سنتا ہوں
    پر
    تم کہیں نہیں ہوتیں
    اللہ آپ سب کو خوش و خرم رکھے ۔
    عالم آرا

  10. آپی بہت پیاری نظم ہے
    اتنی اچھی کہ میں نے اپنی خاتون خانہ کو باقاعدہ اپنے پاس بٹھاکریہ نظم سنائی
    وہ جذبات، خیالات اور محسوسات جو شاید گردش زمانہ کی وجہ سے
    مانند پڑتے جارہےتھے
    ایک بارپھر زندہ ہوتے دکھائی دئیے۔۔دونوں میں ۔۔۔
    روحانی بیداری کا شکریہ ۔۔۔إ

  11. بہت بہت شکریہ اظہر .. واقعی یہ نظم اگر کسی کو جھنجوڑتی نہیں تو کم سے کم چونکا ضرور دیتی ہے ، ایک لمحے کے لیے ہی ہم سوچتے ضرور ہیں . .. . اور یہ سوچ دینا ہی ایک کامیاب لکھاری کی نشانی ہے .. یہ سوچ جہاں لکھاری کی پہنچان بناتی ہے بلکہ قارئین کی اعلی زوق کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے .. پسندیدگی اور تبصرے پر بے حد ممنون ہوں

  12. فاطمہ بہن بجلی کی آنکھ مچولی کے ساتھ ساتھ تبصرہ واقعی کمال کی بات ہے ..دہرا شکریہ

  13. آپا آپ کہاں ہیں دنوں میں دکھائی پڑتی ہیں .. شکریہ جب کہونگی جو روز آیا کریں گی ….. ٹائم اسٹارٹ …. جی .. ناؤ

  14. ناصر بھائی آپ کاشکریہ اپنی جگہ لیکن اصل شکریہ بھابھی جی کو پہنچا دیجئے .. ان کی زرہ نوازی ہے جو انہوں نے اتنی اپنایت سے نظم کو سنا اور محسوس بھی کیا .. بس ایسے سامع ہوں تو کون نہ اپنا کلام سنائے .. آپ دونوں کی محبت اور توجہ کا بہت بہت شکریہ

  15. ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں
    میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں

    ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
    ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں

    زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

    میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے
    میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

    کیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیں
    کیسے تھرائی ستاروں کی ضیا یاد نہیں

    صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے
    کب ہوا کون ہوا مجھ سے خفا یاد نہیں

    آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
    لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *