سوچ کو بد لئے ستارے بد ل جائیں گے ۔اچاری روپ چندرا ۔دلی

میری ملاقات سویڈن میں ایک اچاری جی سے ہوئی۔انہوں نے عالمی اخبار کے لیئے ایک تحفہ دیا جو آپ سب کو پیش کر رہی ہوں۔ اچاری روپ چندرا نے یہ فکری شعر خود لکھ کر دیئے ہیں۔
۔۔۔۔۔
نظر کو بد لئے نظارے بدل جائیں گے – سوچ کو بد لئے ستارے بدل جائیں گے
کشتیاں بد لنے کی ضرورت ہی نہیں – دھا رے کو بد لئے کنارے بدل جائیں گے
اس من کو ذرا خالی بنا ئیں – پھر چا ہے روز دیوالی منائیں
اندھیروں سے لڑ نے کی ضرورت نہیں – صرف ایک چھوٹا سا دیا جلا ئیں
پہلے تو ہم پتھر کو ترا شتے ہیں – پھر اس میں پر ماتما تلاشتے ہیں
لیکن جس نے ترا شا اپنےآپ کو -اس کو خود پراتما تلا شتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

6 thoughts on “سوچ کو بد لئے ستارے بد ل جائیں گے ۔اچاری روپ چندرا ۔دلی”

  1. بہن عابدہ مظفر اسلام علیکم خوش رہئے ۔
    سوچ سب کی یہ ہی ہے کہ اپنے اندر موجود بت کو اگر تراش لیا جائے تو سب کچھ بدل جائیگا ، حکمت سب سے بڑی سچائی ہے ۔
    لیکن سب سے افسوس والی بات یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی نہ کوئی سوچ بدلنے کو تیار ہے نہ دھارے ۔
    جب تک سب مل کر چاہے کسی مزہب سے ہوں کسی ملت سے ہوں انسانیت کا درس نہیں دینگے اور خود ان باتوں پر عمل نہیں کرینگے کچھ بھی نہیں بدلے گا ۔
    دعا ہے کہ اچھی باتوں پر عمل بھی کیا جائے ۔
    عالم آرا

  2. علم بھی ایک شہر نایاب کی طرح ہے جس تک پہنچنے کے کئی دروازے ہیں اور ہر دروازے پر کنڈی لگی ہوئی ہے .. جب تک ہم دستک نہیں دیتے اسے کھلنے کا اذن خداواندی نہیں ملتا .. ہم جتنے صدق دل سے .. محبوبیت سے .. عاجزی اور لگن سے دستک دیتے ہیں بند دروازے اسی محبت اور وارفتگی سے کھلتے جاتے ہیں … پھردیکھئے آپ اس کائینات کے رنگ .. نور کی برسات .. سوچ کی اڑان اور فکر کی بلندی … یہی سچ ہے کہ علم کے تبرکات ان کے لئے ہیں جن کے صادق دل کے اندر تلاش حق کی دہائی مچی ہو اور وہ اپنے خدا کی طرف کشش ثقل کی طرح کھچے جاتے ہو .. اسی کی پناہ اور اماں کو آخرہ پناہ مانتے ہوں … اپنے علم کے اضافے لئے کشادہ دل اور ذہن مانگتے ہوں ..”رب ذدنی علماً ” کا ورد کرتے ہوں
    میرے افسانے “روشنی“ سے اقتباس

  3. اچاری جی.اگر وقت ملے تو اس بلاگ میں اپنے وچار بھی ہم لوگوں تک پہنچائیں. پیدا کرنے والے نے یہ دنیا ہر ذی روح کے لیئے بنائی ہے اور بنیادی پیغام ہر دین ہر مذہب اور ہر مکتب کا ایک ہی ہے.امن اور محبت. واقعی یہ سچ ہے کہ سوچ بدل جائے تو دنیا بدل جاتی ہے مگر مورکھ اسی سوچ کو ہی تو نہیں بدلتا. ابھی دیکھیں مستونگ میں کیا ہوا ہے. زیارات کے لیئے جانے والے ان بے گناہ لوگوں کو ایک لائن میں کھڑا کر کے اس لیئے بھون دیا گیا کہ ہمیں تمہارا مسلک درست نہیں لگتا،ہمیں تمہارا عقیدہ غلط لگتا ہے. اچاری جی….ہم جو بھی ہوں ہم آئے سب ایک ہی بھگوان کی طرف سے ہیں اور اسی بھگوان کی طرف سب نے واپس لوٹ کر جانا ہے.

  4. اچاری جی نے بالکل درست کہا ہے کہ

    اندھیروں سے لڑ نے کی ضرورت نہیں – صرف ایک چھوٹا سا دیا جلا ئیں
    ہر شخص اگر اپنی ذات کے بت کو تراش لے اور اپنے اندر چھپے انسان کو شعور دے دے تو ہر سمت امن و شانتی ہو جائے گی
    اللہ ہو یا بھگوان یا ایشور یا گاڈ سب ہی بھائی جارہ کا درس دیتے ہیں گیتا ہو یا انجیل ہو یا قرآن جب تک انسان اپنے من کو پاک نہیں کرے گا اس وقت تک کچھ حاصل نہیں کر سکتا

  5. نظر کو بد لئے نظارے بدل جائیں گے – سوچ کو بد لئے ستارے بدل جائیں گے
    کشتیاں بد لنے کی ضرورت ہی نہیں – دھا رے کو بد لئے کنارے بدل جائیں گے
    اس من کو ذرا خالی بنا ئیں – پھر چا ہے روز دیوالی منائیں
    اندھیروں سے لڑ نے کی ضرورت نہیں – صرف ایک چھوٹا سا دیا جلا ئیں
    پہلے تو ہم پتھر کو ترا شتے ہیں – پھر اس میں پر ماتما تلاشتے ہیں
    لیکن جس نے ترا شا اپنےآپ کو -اس کو خود پراتما تلا شتے ہیں

    عابدہ مظفر کیسی ھو، بہت دنوں بعد تم سے تحریری ملاقات ھورھی ھے ۔بہت اچھا پیغام ھے

    حالات دیکھہ کر لگتا ھے اب اتنی خرابی اور بگاڑ پیدا ھوچکا ھے کہ جس کو سدھارنے اور صحیع کرنے کے لیے صدیاں درکا رھیں اور ایک پوری نسل کی قربانی ۔ دینی ھوگی ۔ اور یہ اسی لیے کہ نہ ھم نظر کو بدلتے ھیں نہ نفطہ نظر تبدیل کرنے پر زضا مند ھوتے ھیں ، نہ پس نظر کو دھیان میں رکھتے ھیں اور نہ کسی مثبت تبدیلی کےلیے تیار ھیں ۔ نہ سمندر کو بدلنے ھیں نہ دھارے کو نہ آسمان کو نہ چمکتے تاروں کو ، نہ نہ سنگ دل کافری لشکروں کے دلوں کی سیاھی کو دور کرسکتے ھیں وہ اسی لیے کہ ھم خوف دھشت ، ظلم ، ظا لم ، نمرود ، شداد فرعون کے عہد بے مہر میں آگۓ ھیں اور اسکے نت نئے اذیت دینے والے طریقوں کے
    ڈرنے لگے ھیں کہ آگ کے شعلوں کی حدت سے حشر کی ساعتوں کی آھٹ کو محسوس کر کے الاماں الاماں کی صدا کو بلند کر رھے ھیں

  6. صفدر صاحب!اچاری جی نے یہ کویتا فیلبدہے کہی تھی مجھے اچھی لگی مہینے اسی وقت لکھ لی . ان کا مجموعہ چھپ چکا ہے ہندی میں ہے کسی سے درخواست کروں گی کہ پڑھنے میں مدد کریں تو ان کے مزید وچار سے ہم استفادہ حاصل کر سکیں گے -عالم آر ا صا حبہ نگہت جی شاہین جی ! بھی ٹھیک کھ رہی ہیں مگر آپ سب سے یہ سوال پوچھنا چا رہی ہوں کہ اگر ہم سب سے پہلے اپنے سے شروۓ شرو کریں تو زیادہ اچھا نہیں ہو گا قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے کیا خیال ہے ،
    اچھا تو شاہین پیاری جی آپ کی نظروں میں میرا 28 اگست والا بلا گ نہیں گزرا وہ صرف چندہفتے پہلے ہی تو لکھا تھا چند الفاظ اس پہ لکھ دن پھر” ملتی میڈیا” میں جا کر سویڈن میں نمائش کہ بارے میں پڑیں جو مہینے عابدہ سال کے نام سے لکھی ہے یہ نمائش سویڈن کے مختلف شیروں من دو سال لگی رہے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *