آپ اس وقت کیا کرتے ہیں ..؟

جب دل خالی اور زہن کچھ بھی سوچنے پر آمادہ نہ ہو
جب آپ شعر پڑھتے پڑھتے تھک جائیں
جب خیالات پریشان ہوں
جب گیت سنیں جا رہے ہوں
جب آپ چھٹی پر ہوں اور اپنی پسند کی کتاب پڑھتے ہوں
جب بھیگے بھیگے موسم میں آپ محو گفتگو ہوں
جب کوئی موسیقی بجا رہا ہو
جب سامنے کھڑکھی کھلی ہو اور باہر پھول مہکتے ہوں
جب آپ دلنواز دوستوں کے درمیاں ہوں
جب روشن سا دن ہو اور ہلکی ہلکی سبک ہوا ہو
جب بہت ہلکی ہلکی پھواریں چہرے پر پڑتی ہوں
جب ایک خوبصورت عمارت کے سامنے ہوں
جب آپ ہرے پتوں کے جھنڈ میں ہوں
جب دعوت ختم ہو جائے اور مہمان جا چکیں ہوں
جب بچے سکول جا چکے ہوں
جب آپ تنہا اور خاموش ہوں
آپ
اس وقت
کیا
کرتے ہیں .. ؟

32 thoughts on “آپ اس وقت کیا کرتے ہیں ..؟”

  1. عجیب سوالات ہیں یہ۔ ایسے سوالات پر بھی بس خود کو ہی کوستا ہوں کہ کیوں پڑھے۔ ویسے میرا خیال ہے کہ یہ کوئی سوالات نہیں ہیں۔ڈاکٹر نگہت صاحبہ کی کوئی تازہ نظم ہے؟

  2. جی نہیں ..بابا جی .. یہ سوال ہیں .. جواب دیجئے نہ کہ آپ کیا کرتے ہیں … دیکھا آپ نے بھی کبھی خیال نہیں کیا کہ آپ ان اس وقت کیا کرتے ہیں .. چلئے زرا سوچئے تو ..

  3. جب دل خالی اور زہن کچھ بھی سوچنے پر آمادہ نہ ہو
    جب آپ شعر پڑھتے پڑھتے تھک جائیں
    جب خیالات پریشان ہوں
    جب گیت سنیں جا رہے ہوں
    جب آپ چھٹی پر ہوں اور اپنی پسند کی کتاب پڑھتے ہوں
    جب بھیگے بھیگے موسم میں آپ محو گفتگو ہوں
    جب کوئی موسیقی بجا رہا ہو
    جب سامنے کھڑکھی کھلی ہو اور باہر پھول مہکتے ہوں
    جب آپ دلنواز دوستوں کے درمیاں ہوں
    جب روشن سا دن ہو اور ہلکی ہلکی سبک ہوا ہو
    جب بہت ہلکی ہلکی پھواریں چہرے پر پڑتی ہوں
    جب ایک خوبصورت عمارت کے سامنے ہوں
    جب آپ ہرے پتوں کے جھنڈ میں ہوں
    جب دعوت ختم ہو جائے اور مہمان جا چکیں ہوں
    جب بچے سکول جا چکے ہوں
    جب آپ تنہا اور خاموش ہوں
    آپ
    اس وقت
    کیا
    کرتے ہیں

    سارے رنگ تو نظم کے ھیں اس لحاظ سے یہ سوالیہ نظم بھی ھو سکتی ھے ۔

    اور ھماری عزيز بہت ھی پیاری دوست اور بہن ڈاکٹر نگہت نسیم چونکہ ھمہ صفت قلم کار ھیں اس لیے ایسے خوبصورت اور انوکھے رنگوں سے سجی شاعری کرکے وہ چونکا دیتیں ھیں ۔

    ھم کیا لکیھں ؟

    صدحیف ھم تو اکیلے ھی ھیں ھجوم دوستاں میں بھی
    ھجوم بدگماں میں بھی
    اپنوں کی سگنت میں بھی اور غیروں کی محفل میں بھی ۔

    ھم تو ایسے بدنصیب کے اپنے کاندھے پر ھی سر رکھہ کر روتے ھیں اور خود ھی اپنے آنسو پوچھتے ھیں

  4. صدقے جاؤں .. میری دلاری ایسا نہیں کہتے .. انسان خود اپنا سب اچھا دوست اور سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے … اب یہ انسان پر ہے کہ وہ خود کو کیا سمجھتا ہے . یار غمگسار آج دل بہت اداس ہے میرا ایک اکیس سالہ مریض اپنے کمرے میں ساکت اور بے ہوش پایا گیا . اس کی ماں نے امبیولینس بلوائی تو اس نوجوان کو صرف اس کی ماں کی دعائیں ہی واپس لا سکیں . آج میں اسے آئی سی یو میں جب دیکھنے گئی تو وہ چھ فٹ کا لمبا چوڑا جوان کومے میں تھا .. میں نے اسے پکارا تو اس نے مجھے یقیننا دھندلی آنکھوں سے دیکھا ہو گا لیکن یہ بھی جانتی ہوں کہ اسے کوئی لمحہ یاد نہیں ہو گا …

    میں جب سے سوچ رہی ہوں کہ مجھے اس لمحے کس لمحے کی قدر کرنی چاہئے .. اس ایک لمحے کی ازیت نے مجھ سے یہ سب لکھوایا کہ ہم سب سے زیادہ بے خبر ہیں تو صرف اپنی ذات سے بے خبر ہیں .. حتی کہ خود غرض سے خود غرض انسان بھی اپنے بارے میں نہیں جانتا … سو میری جان عزیز بس اتنی سی خواہش ہے کہ میرے ساتھ ساتھ میرے ساتھی بھی اس بلاگ میں خود سے ملیں اور خوش ہوں کہ وہ کتنے حسین انسان ہیں اور کتنے خوبصور ت لمحوں میں دن رات رہتے ہیں …تاکہ ہم اپنے خدا کے اور بھی قریب ہو جائیں ..

    اچھا اب مجھے اچھی اچھی باتیں بتاؤ کہ اس وقت کیا کرتی ہو .. ؟

  5. ایک جنون تھا کہ آباد ہو شہر ِ جاں، اور آباد جب شہر جاں ہو گیا
    ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو، تم کہاں جائو گے ہم کہاں جائیں گے

    دشت میں رقصِ شوق ِ بہار اب کہاں، باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں
    بس گزرنے کو ہے موسم ہا و ہو۔ تم کہاں جائو گے ہم کہاں جائیں گے

    ہم ہیں رسوا کن ِ دلی و لکھنو، اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو
    میر دلی سے نکلے گئے لکھنو، تم کہاں جائو گے ہم کہاں جائیں گے۔۔۔
    (جون ایلیا)

  6. مجھے کہنے دو تم بہت اچھی اور بہت عزيز دوست ھو ، مگر اس میں نیا کیا ھے ؟

    یہ تو میں روز ھی تم کو کہتی ھوں اور I really mean it

    اپنی پہلے تحریر کردہ الفاظ واپس لیتی ھوں ۔ اور واقعی میں تنہا کب رھتی ھوں ۔ میرا دل بہت ساری پیاری اچھی یادوں سے آباد رھتاھے اور گھر میں 550کتابیں اور ڈھیر سارے سربسز پودے جن کو بڑھتا دیکھہ کر میں سب سے یہہی کہتی ھون یہ میں ھوں ۔

    پہلے یہ پودے بہت چھوٹے تھے بالکل معصوم بچوں کی طرح میں نے ان کو محبت سے زندہ رکھا ھے ۔ اور نئے گھر میں بہت سارے پرندے خرید کر لاونگی سردیوں میں ان کو ایک ایک کرکے آزاد کردونگی جو میں پہلے بھی سرد موسم میں کرتی تھی ۔ ورنہ یہاں کی 50ٹمپرچر والی گرمی میں تو کوئ مچھر مکھی پرندہ زندہ ھی نیہن رھتا ھے، نہ دن میں لاکھوں درخت ھیں کبھی ان پر چڑیا گیت گاتی ھیں اور نہ سرشام پرندے آشیانے کی طرف لوٹتے نظر آتے ھیں ، میں نے بہت ساری جگہ یہ بات کہی ھے اور اپنے ریڈیو انٹر ویو میں بھی کہی تھی کہ سرشام کتابیں میرا ھاتھہ پکڑ کر ایک ایسے سنہرے جزیرے میں لے جاتیں ھیں جہاں ھر ایک میرا منتظر رھتا ھے۔ سمندر، سرسبز درخت طوطے، سنہری مچھلیاں ، نیلگوں آسماں ،اور بہت ساری خوبصورت یادیں ساحل پر ایک جگہ سرنہوڑاۓ میرا انتظار کرتی ھیں ، میں بہت خوش نصیب ھوں ۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی نیکی کے عوض اللہ تعالی مجھے ضرورت سے زیادہ نوازتا ھے۔ تم جیسی دوست کے ملنے پر جتنا شکر کروں کم ھے ۔ تم کامیاب سايکالوجسٹ ھو ، سرجری میڈیسن اور گاينی اسپیشلسٹ ۔ دینا کے مختلف ممالک میں گی ھو ھالینڈ ، کینڈا سڈنی سنگاپور ۔بلجیم لندن پیرس ملايشیا بنکاک پاکستان اور انشا اللہ دنیا کے ديگر ممالک کی سیر بھی کروگی تمھارا مطالعہ مشاھدہ اور نرم دلی اپنے مریضوں کے لیے اکثر تمھاری انکھیں نم ھوجاتی ھیں تمھاری کتنی ساری کہانیاں اسی پس منظر مین لکھی ھوئ ھیں ، تم کو اللہ تعالی نے اسی لیے بہت خاص مٹی سے بنایا ھے کہ تم سب کا دکھہ اپنے ساتھہ لیکر جیتی ھو، مجھے بھی یہی لگتا ھے کہ میری تمھاری دوستی کو 7 صدیاں ھوگی ھیں ، تمھارا ھاتھہ پکڑ کر میں آزمائشوں کے گرداب سے بہت آسانی سے نکل جاتی ھوں ۔ اللہ کا لاکھہ لاکھہ شکر ھے۔
    اللہ پاک اپنے اچھے بندوں کو کھبی تنہا نیہن چھوڑتا ھے ، مجھے اکثر شکر ادا کرنے کےلیے آسمان چھونے کی خواھش میں ایک عحیب سا خواب دیکھتی ھوں
    ابھی تو آفس میں ھوں مگر اب کسی بھی وقت میرے ٹرانسپورٹر کی کال آجاۓ گی ۔ میں 45 منٹ میں گھر پہنچ جاونگی ۔ میری دوست ترنم پاکستان سے کل ھی واپس آئ ھے اس کا فون آیا تھا کہ آپکے میکے سے آپکا جہیز آیا ھے ، صفدر شبر اور امی نے تحائف بیھجے ھیں ۔ وہ لوگ رات کو آیئنگے ، ان کے لیے کباب اور چنے کی دال کا حلوہ تیار کرنا ھے ، میں کھانا بھی اچھا پکا لیتی ھوں مگر باتیں بہت کرتی ھوں ۔اپنے آپ سے بھی ، کتابوں سے بھی اور دوستوں سے بھی ، میں چلی گاڑی آگی ھے ۔ مع سلامہ صدیقی حبیبتی

  7. او میرے اللہ. کباب اور چنے کی دال کا حلوہ. مجھ سے زیادہ کس نے کھایا ہو گا جب میں شاہین کا مہمان ہوا تھا. سارا دن کھانا اور کھانا.لسی.لسی اور لسی. کباب اور حلوہ. ناشتے سے رات کے کھانے تک شاہین کے بنائے ہوئے انواع و اقسام کے کھانے. اے اہل ایمان یقین کریں ہماری شاہین بڑے غضب کی میزبان ہیں. اس شاہین کے اندر ایک چوزے کا دل ہے جو پر ٹوٹی چڑیا کو دیکھ کر بھی رو پڑتا ہے.کسی دن لکھوں کا اس شاہین کا خاکہ…انشااللہ

  8. السلام علیکم
    نگہت جی مجھے نہیں معلوم تھا کہ تھیسس لکھتے وقت ایسے خیالات دماغ میں آتے ہیں .
    آپ کے شاعرانہ سوالات کے قطعی غیر شاعرانہ جوابات حاضر ہیں
    جب دل خالی اور ذہن کچھ بھی سوچنے پر آمادہ نہ ہو
    تو رونا آتا ہے
    جب آپ شعر پڑھتے پڑھتے تھک جائیں
    تو تکیے کے ساتھ سائڈ ٹیبل پر کتاب رکھ کر سو جاتی ہوں
    جب خیالات پریشان ہوں
    تو کوئی الماری صاف کرنا شروع کر دیتی ہوں

    جب گیت سنیں جا رہے ہوں
    جب آپ چھٹی پر ہوں اور اپنی پسند کی کتاب پڑھتے ہوں
    جب بھیگے بھیگے موسم میں آپ محو گفتگو ہوں
    جب کوئی موسیقی بجا رہا ہو
    جب سامنے کھڑکھی کھلی ہو اور باہر پھول مہکتے ہوں
    جب آپ دلنواز دوستوں کے درمیاں ہوں

    تو شکر ادا کرتی ہوں کہ فرصت کے کچھ لمحے میسر ہیں

    جب روشن سا دن ہو اور ہلکی ہلکی سبک ہوا ہو
    جب بہت ہلکی ہلکی پھواریں چہرے پر پڑتی ہوں
    جب آپ ہرے پتوں کے جھنڈ میں ہوں

    تو اللہ کی حمد کرتی ہوں کیونکہ اُسی نے یہ خوبصورت کائنات بنائی

    جب ایک خوبصورت عمارت کے سامنے ہوں

    تو اس کے تخلیق کار کی تعریف کرتی ہوں

    جب دعوت ختم ہو جائے اور مہمان جا چکیں ہوں

    دعوت کے بعد برتن سمیٹنا اور گھر صاف کرنا اصل کام ہے

    جب بچے سکول جا چکے ہوں

    تو اپنی روٹین پر آ جاتی ہوں فون گھُمائیں یا کچن کو جائیں

    جب آپ تنہا اور خاموش ہوں
    رو سکتے ہیں سو سکتے ہیں زبردستی کچھ کھا سکتے ہیں کچھ پڑھنا شروع کر سکتے ہیں یا پھر کسی اچھے دوست کو فون کر لیں
    خوش رہیں
    والسلام
    زرقا

  9. عزیز بہن نگہت سکھی رہو خوش رہو اور یوں ہی ہم سب کے امتحان لیتی رہو ۔
    پیاری بہن میں کچھ ہفتوں کے لئے اجازت چاہتی ہوں اگر سہولت ملی تو ضرور تحریری ملاقات ہوتی رہے گی ۔ اللہ تم سب کو خوش رکھے اور میری مشکلیں بھی آسان کردے آمین
    سب نے اپنی اپنی بساط بھر جواب دئے اور شاید سب ہی فرسٹ کلاس پوزیشن لے بیٹھے ہوں ۔
    لیکن تمہاری آپا کچھ کمزور ہے اور جب سے سوالات پڑھے سوچ رہی ہوں کیا لکھوں ۔
    میری عادت ہے کہ جب میں ایسی کسی کیفیت سے گزر رہی ہوں جو مجھے دکھ دیتی ہے تو سب سے پہلے مجھے ایک آیت یاد آتی ہے ۔مفہوم ہے ۔اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔۔
    اور میں اللہ پر سب کچھ چھوڑ کر بے فکر ہو جاتی ہوں ۔
    اول تو فرصت ملتی نہیں لیکن اگر فارغ ہوں تو کتاب سب سے بہترین دوست ہے جو مجھے دنیا اور ما فیہا سے بے خبر کر دیتی ہے اور میں اس میں گم ہو جاتی ہوں ۔جب تک کہ کوئی کام یاد آئے۔
    اچھی موسیقی کا شوق ہے اس وقت چائے کا کپ سامنے ضرور ہوتا ہے ۔
    سب سے زیادہ محظوظ اس وقت ہوتی ہوں جب کام کرتے ہوئے بلاگ پر تبصرہ لکھتی ہوں ۔
    سارا ون میں اپنی پسند کے کام یعنی لکھنے کے لئے وقت ضرور نکالتی ہوں ۔انتہائی مصروفیت میں بھی لکھ لیتی ہوں پھر اللہ کا شکر اوا کرتی ہوں کہ میں اس قابل کہاں ۔اور جیسے ہی یہ سوچ آتی ہے کہ میں اس قابل کہاں کہ کچھ لکھ سکوں تو اس زات باری کے شکر کی توفیق عطا ہوتی ہے ۔ اور میری پوری ہستی اس پاک زات کے حضور سجدہ شکر بجا لاتی ہے ۔
    جب میری کھڑکی کھلی ہو تو سامنے کا منظر ایسا حسین ہوتا ہے کہ سوائے اس پاک زات کی تعربف کے کچھ منہ سے نہیں نکلتا ۔
    اب آپ سے کچھ ہفتوں کی اجازت چاہتی ہوں ۔
    دعاؤں کی طالب ہوں ۔
    کچھ بھی بار خاطر ہوا ہو تو در گزر کی درخواست ہے ۔
    عالم آرا

  10. باجی ! جب یہ سب کچھ نہ ہو سکے تو رزآئی لے کے سو جائیں. اگر نیند نہ بھی آئے تو سو جائیں. اور پھر اتنا سوئیں کہ سوتے سوتے تھک جائیں. اور جب تھکاوٹ ہو جائے تو پھر سو جائیں. میں تو اتنا سوتا ہوں کہ بس سوتا ہی ریتا ہوں. میں یہ سوچ کہ سوتا ہوں کہ تھک جاؤں مگر تھکاوٹ نہیں ہوتی. اگر آئیندہ آپ کو ایسا مسئلہ ہو تو مجھے ضرور بتائیں.

  11. یہ تو اس فتنہ انگیز دور میں مشکل ھے کہ دل خالی اور ذہن کچھ سوچنے پر آمادہ نہ ھو
    ایک ہنگامہ ھائے ھمارے جلو میں ھے
    لیکن چونکہ سوالات کے جوابات ایک جملے دینے ھیں چناچہ میں کفیت پڑھنے کی ھو موسیقی سے لطف اندوز ھونے کی ھو یا کوئی نظارہ
    آنکھوں میں سمو لینا چاھوں یا مہمان آئیں یا جائیں یا بہت پریشان ھوںیا محفل ھو کہ تنہائی
    اگر میں کچھ اور کہوں تو جھوٹ ھو گا
    اور سچ بتاؤں تو میں پان کھاتی ھوں

  12. شاہین تمہارے نئے گھر “ کاشانہ نجف “ پر پندوں اور پودوں کے ساتھ باد نسیم بھی آئے گی ۔۔ جو تم تک بہت سارے دوستوں کے پیام کے ساتھ خوشیوں کے پیغام بھی لائے گی ۔۔انشاللہ

    اچھا یہ تو بتاؤ یار جہیز میں کیا کیا آیا

  13. بابا جس طرح آپ ہم سب کو شاہین کی مہمناداری کا بتا بتا کر جیلیس کر رہے ہیں ۔۔ ہم سب بھی باری باری کاشانہ نجف پر جا جا کر آپ کو جیلیس کریں گے ۔۔ آپ دیکھ لیجئے گا

  14. زرقا میری دوست واہ واہ ۔۔۔ کیا خوبصورت جوابات دئے ۔۔ مزہ آگیا ۔۔

    جب بچے سکول جا چکے ہوں

    تو اپنی روٹین پر آ جاتی ہوں فون گھُمائیں یا کچن کو جائیں ۔۔ بے حد مزہ آیا

    تم کہاں رہ جاتی ہو ۔۔ ہم سب تمہیں بہت یاد کر رہے تھے ۔۔ اب غائب نہیں ہونا اب کسی نے بھی بتائے دے رہی ہوں ۔۔

  15. آپا میری اچھی آپا کہاں جا رہی ہیں ۔۔ خیر ہے نا ۔۔۔ بہت ساری دعائیں ۔۔ نہیں بھئی یہ بات اچھی نہیں کہ آپ کچھ عرصہ غیر حاضر رہے گی ۔۔ ہم کیا کریں گے آپ کے بغیر یہ بھی بتا جائیں نہ

  16. سائیں جی ۔۔ یہ تو آپ کو معلوم ہے نہ جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے ۔۔۔ ہاہاہاہا

  17. ارے فاطمہ کیایاد دلا دیا آپ نے “ پان “ ۔۔ بابا پلیز ہو جائے ایک غزل “ پان پر ۔۔ آپ کو نہ اچھی لگے تو میرے نام سے یا فاطمہ کے نام سے لکھ دیجئے ۔۔ ہم دونوں اسے آپ کی طرف سے تحفہ سمجھ کر ہر جگہ اپنے نام سے لگایا کریں گے ۔۔ وعدہ ۔۔ کیوں فاطمہ اچھی ڈیل ہے نا ۔۔

  18. باجی میں وہ والا کھوتا نہیں جو گدھا ہوتا ہے۔ میں وہ والا کھوتا ہوں جس کی آنکھیں خوبصورت ہوتی ہیں۔ ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی۔

    آغا جی اور باجی ! آج میں نے اخبار کی سالگرہ کے متعلق کچھ پڑھا تھا۔ لیکن دوبارہ نظر نہیں‌آیا۔ میں اس پہ کچھ لکھنا چاہتا تھا۔ اخبار کی پہلی سالگرہ ہمارے ہاں ہوئی تھی۔

  19. میں بس اب لکھنے ہی والی تھی کہ عالمی اخبار کی “ تیسری سالگرہ“ یکم نومبر 2011 کو ہے ۔ آپ سب جلد از جلد اپنی تخلیقات ، تاثرات اور آراء ہم تک پہنچا دیں تاکہ بروقت اخبار کی زینت بن سکیں ۔۔

    جی سائیں جی بسم اللہ ۔۔ میرا انتظار شروع ہو چکاہے

  20. اچھی بہن عالم آراء اسلام علیکم ۔ آللہ پاک آپ کو ھمشیہ اپنے حفظ وامان مین رکھے آمین
    اللہ تعالی سے دعاکرتے ھیں کہ آپ کو ھر آزمائش سے محفوظ رکھے ، آپ کی ھر مشکل کو آسانی میں تبدیل فرماۓ ۔ اور آپ پر اپنی بے ّپایاں رحمت کا سائبان اور آپکےدل میں ھمشیہ یہ قوی احساس قائم رکھے کہ اللہ پاک آپکی خاص طو ر پر حفاظت فرماء رھا ھے اور آپ ھمشیہ کی طرح کھبی اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہ ھوں

    اللہ پاک آپ کی ھر آزمائش کو آسائش میں تبدیل فرماۓ ۔ آمین ثمہ آمین ۔

    ،یہ خیال ھی دل کو ملول کر گیا کہ آپ کسی وجہ سے چند دنون کےلیے غیرحاضر ھونگی ۔ مگر قوی امید ھے کہ جیسے ھم سب دوست آپکے بغیر نیہن رھ سکتے اسی طرح آپ بھی ھم سب کس بغیر نیہن رھ سکتیں ھیں ۔اور اـھی تو پان پر آپ کو مضامین اور محترم المقام صفدر ھمدانی صاحب کی نظم بھی پڑھنے کو ملے گی ۔ الل کرے آپ ھمشیہ خوش رھیں ۔آمین ثمہ آمین

  21. ھماری بہت محترم بہت ھی نفیس اور بہت عمدہ قلم کار اور بہت کم گو دوست زوقا مفتی کو اتنے دنوں کے بعد یہاں دیکھہ کر بہت خوشی ھوئ ۔

    جب روشن سا دن ہو اور ہلکی ہلکی سبک ہوا ہو
    جب بہت ہلکی ہلکی پھواریں چہرے پر پڑتی ہوں
    جب آپ ہرے پتوں کے جھنڈ میں ہوں

    تو اللہ کی حمد کرتی ہوں کیونکہ اُسی نے یہ خوبصورت کائنات بنائی
    زرقا تمھاری لکھی ھوئ یہ سطور تو آب زر سے لکھنے کے قابل ھیں

    اللہ کی حمد کرتی ہوں کیونکہ اُسی نے یہ خوبصورت کائنات بنائی

    سب سے خوبصورت وقت وھی ھوتا ھے جب بندہ شکر ادا کرتا ھے اور حمد کرتا ھے ثنا کرتا ھے اللہ کی بنائ ھوئ اس خوبصورت دینا کے دلکش رنگوں سے سجی سنوری کائنات کا حسن دیھکہ کر جب شکر ادا کرتا ھے تو اللہ تعالی اس بندے خاص کے لیے رنگوں اور فدرت کے حسین ترین مناظر سے سجی ایک اور دینا کے در وا کردیتا ھے ، انسان سارا ملال بھول کر شکر ادا کرتا ھوا ایک اسی سحر انگیز کیفیت کا شکا رھوجاتا ھے

    نیہن صحرا میں آج کوئ غزال
    گنگناو غزل شکار کرو

  22. خزاں نے شام گذاری ھے ِمیرے منظر میں

    میرے تمام پرندے ، تمام ھرکارے

    مرے گمان کی سمتوں سے لوٹ آۓ ھیں

    میرے خیال ،مرے خواب کے دیاروں کا

    ھواۓ سبز کے نمناک مرغزاروں کا

    سراغ آج کی سمتوں میں بھی کیہن نہ ملا
    خزاں نے شام گذاری ھے ،میرے منظر میں

    شب سیاہ اترتی ھے ،میرے پیکر میں

    جون ایلیا

  23. میری بہت عزيز بور بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم

    سلامت رھو۔

    گھر کے لیے

    کا شانہ نجف جیسا یونیک

    اور خوبصورت نام تجویز
    کرنے پر بہت ممنون ھوں ۔

    اگے بات کرنے سے پہلے بتادوں کہ کویت میں چاھے آپ 40_

    35 سال بھی

    سے زیادہ بھی رہ رھے ھوں پھر بھی کسی کو کویت کی نیشلٹی نیہن ملتی ھے کوئ اپنا گھر نیہن خرید سکتا ،

    کوئ ایک خاص وقت سے زیادہ یہاں رہ نیہن سکتا ۔ ھرکام کے لیے کویتی کفیل کے محتاج

    اس قدد سختی کہ ایک پولیس کی گاڑی دیکھہ کر سب کے ھاتھہ اپنے شناختی کارڈ پر چلے جاتے ھیں ۔
    خاص کر پاکستانی بنگالہ دیشی مزدوروں کو اتنی سخت دھوّ پ میں کام کرتا دیکھہ کر دل دکھتا ھے ۔ اللہ تعالی سب کے لیے اسایناں پیدا کرے ،

    میں کل سے تمھارے اس اکیس سالہ مریض کے پاس ھی تھی ، مجھے اس کی بے خبری پر دکھہ اور خبردارتکلیف میں مبتلا تیماردار ھوتا ھے ۔ اسکی ماں نے کس دل سے یہ منظر دیکھا ھوگا ۔ اس کا دل توھیں رک گیا ھوگا ، جب تک اکیس برس کے نوجوان نے اپنی دھنلی انکھوں سے ماں کی طرف دیکھہ کر اس کو اطمینان و دلاسہ نیہن دیا ھوگا ماں کے پاوں تلے زمین نیہن آئ ھوگی ،

    میں بھی ھادی ھسپتال میں عادل کے ساھتہ ایسے ھی حان لیوا کیفیت سے گذری ھوں

    عادل کومہ میں تھے اور میں نے ھمشیہ یہی دعا کی عادل کو کچھہ نہ ھو، وہ زندہ رھیں میں مرجاوں ۔بہت مشکل لمحات ھوتے ھیں

    عادل تو کومہ میں تھے مگر ھم ان سے زیادہ تکلیف میں

    میں گرفتار تھے ۔

    اور انکی کی آخری سانسوں تک دعا اور انکے بچنے کی آس میں ۔کھبی موت کے پیر پکڑ کر التجا کرتی ، مجھے لے جاو عادل کو نیہن ۔ میں کسی سايے اور سائبان کے بغیر کیسے زندہ رھونگی ۔باھر کتنی تیز دھوپ ھے ۔ میں تو ساری زندگی اس گھڑی کے تصور سے خائف رھتی تھی عادل کی روح کیہں موجود تھی جب تک انھوں نے اپنی بے جان آنکھوں سے ھم سب کو آخری بار نیہن دیکھہ لیا انکھیں بند نیہن کیں ،موت کتنی بے رحم ھے ، کس طرح پیاروں کو جدا کرتی ھے ۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ھے ، موت تو خود زندگی کی سرحدوں کی محافظ ھے، جب تک انسان کا وقت نیہن آتا ھے کسی کو گریز نیہن پہچاتی ، کس چالاکی اور مہارت سے ھماری سب سے پیاری اور عزیز ھستی کو ھم سے چیھن کر لے جاتی ھے ،میری زندگی میں بھی ،وہ سیاہ رات آئ اور جیسے میرے گھر کے انگن میں ھمشیہ کےلیے ھر مہتاب و افتاب کو گل کر گی اب ۔ مجھہ جیسے اندھیروں کے آسیر روشنی سے گریزاں رھتےھیںسناٹے ان کا مقدر بنتے ھيں ھمشیہ اندیشہ اور ملال اور کشمکش میں گرفتار رھتے ھیں ، نارمل ھونے کے باوجود نارمل نیہن ھوتے ۔ اندر اتنی ٹوٹ پھوٹ جاری رھتی ھے کہ آدمی اپنے ھی غم میں ماتم کناں رھتا ھے ھر شام ۔شام غریباں ۔ سرشام خواھشیں اپنے گھنے بال کھولے گھر میں جگہ جگہ حسرتوں کے چراغ جلاتی ھیں اور پھر اپنے ھی ھاتھوں ان چراغوں کو گل کرتی ھیں ۔

  24. دن بھر میں نجانے کتنے عذاب میری زمین پر اترتے ھیں ۔میں کھبی اپنے بابا کے بارے میں کچھہ لکھنے کا ارادہ کرتی ھوں تو یہ سوچ کر دل کی دھڑکن رکنے لگتی ھے کہ میں اس لمحہ بے یقین سے لیکر آج لمحہ حاضر تک کتنی بار مری ھوں کاش بابا زندہ ھوتے تو میری زندگی کتنی مختلف ھوتی ھے۔ ھم سب کو پرندوں سے محبت پاپا سے ورثے میں ملی ھے اور یہ سب سے قیمتی دولت ھے جس سے ھم سب بہن بھايئوں کے دل اور دامن بھرے ھوۓ ھیں۔ بابا خطرناک جانوروں کا شکار کرتے تھے اور معصوم پرندوں کو آزاد کرتے تھے ۔ ھمارے گھر وں میں ھمشیہ پرندے آتے جاتے رھتے تھے ، درختوں کی وجہ سے انگنت چڑیوں کا رین بسیرا تھا ھمارا گھر ۔ کسی چڑیا کا انڈہ ٹوٹ جاتا تھا تو ھم پر قیامت ٹوٹ جاتی تھی اور مجھے لگتا ھے جب ایک چڑیا کا چھوٹا سا بچہ زمین پر گرا تھا ،میرے دل نے اسی دن دھڑکنا بند کردیا تھا۔ میرا دل بند ھوتے ھی اس چھوٹی چڑیا کی ماں مجھہ میں حلول کر گی تھی ۔ آج بھی جتنی بے چین میں چڑیا کے دکھہ پر ھوتی ھوں کبوتر اور اور عقاب کے دکھہ پر نیہن ھوتی ،

    میری پیاری بہن اور بہت عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو ، میں نے آج ھی سے باد نسیم کا انتظآر شروع کردیا ھے اللہ کرے میرے آنگن میں ایک شام ایسی بھی اترے جب لندن سے محترم المقام صفدر ھمدانی صاحب ۔ سڈنی سے ڈاکڑ نگہت نسیم ۔ لاہور سے زرقا مفتی اور امریکہ سے میری عزيز دوست فرحت پروین اور کراچی سے میرے بھائ صفدر ۔شبر حیدر اور امی کے ساھتہ میرے بھائ کی بیٹی زراشت جس نے اب اپنا نام خود ھی فاطمہ رکھا ھے یہ سب ایک ساتھہ مجھے اپنی مہمان نوازي کا شرف بخشیے نگہت مجھے اس دن کا بہت بیقراری سے انتظار رھے گا ، ھم بہت دنوں تک ایک ساتھہ گذرے ان یادگار ترین دنوں کی مہک سے اپنے دل کو شاد کرینگے انشا اللہ

    واہ واہ واہ فاطمہ سے مجھے بہت محبت ھے میری والدہ کا نام بھی فاطمہ ھے اسی لیے زری نے اپنا نام خود ھی امی کے نام پر رکھا ھے اور یاران من ۔ یہ بچی وہ طوطا ھے جس میں میری جان بند ھے ۔ میری ھر تکلیف کی اس کو سب سے پہلے خبر ھوتی ھے۔ وہ Learning disorders اور بہت سارے مسائل کا شکار ھے ۔ ھم سب اس سے بے حد پیار کرتے ھیں ۔ سب سے حیران کن بات یہ ھے کہ اس کو بولنے میں تھوڑی سی دقت ھوتی ھے ۔ مگر اس کے باوچود اس نے بہت ساری قرآنی آیات اور انیس و دبیر کے کافی سارے مرثیے زبانی یاد کیے ھوۓ اور جب وہ کسی اونچی مسند پر سر ڈھانپ کر بیھٹیں ھیں اور حدیث پڑھتیں ھیں اور مصائب امام پر جو ان پر رقت طاری ھوتی ھے ۔ اس کا احوال لکھنا بہت مشکل ھے ،اس وقت اسکی عمر 8 سال ھے ، اگر کراچی میں اسپیشل بچوں کا کوئ اسکول ھے تو براۓ مہربانی اسکی ویب سائیٹ بتايئں ، میں نے زراشت کی وجہ ھی کراچی میں اسپیشل بچوں کا اسکول کھولنے کا عہد کیا ھے ، اللہ تعالی میری اس حسرت کو ضرور پورا کریگا انشا اللہ۔

  25. محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب آداب عرض ھے ، سب کو اچھی طرح علم ھے کہ آپ کھانے پینے کے بالکل بھی شوقین نیہن ھیں ھاں لسی اور نمکین لسی آپ نے شوق سے پی تھی ، مجھے تو اس بات کا افسوس ھے کہ آپ کے شایان شان حق میربانی ادا نہ کرسکے ، انشا اللہ نیکسٹ وزٹ میں اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرینگے ۔ حلوہ پہلی بار اچھا بنا تھا اور مونس بھائ نے تعریف بھی کی تعریف عجیب کرشماتی لفظ ھے ساری تھکن اتارتا ھے ایک عجیب سی سرشاری بھر دیتا ھے کل رات بھی ترنم لیلی اور مونس بھائ اور میں کافی دیر تک آپ کا ذکر کرتے رھے ۔ میں نے لیلی کو آپ کا پیغام بھی دیا تھا شام کی زیارات والا، اللہ کرے آپ بہت جلد کویت آيئں اور ھم سب پھر آپکی علمی صحبت سے سرفراز ھوسکینگے آپ سے مرثیہ نوتصنیف سننے کا شرف حاصل ھوگا انشا اللہ

    میری عزيز بہن اور بہت پیاری دوست ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ کا شا نہ نجف کا ذرہ ذرہ تمھاری آمد کا شدت سے منتظر ھے ۔ اس کے بعد نجف اکبر کا سفر ۔ خوشی نے رگ وریشے میں سرشاری کی لہر دوڑادی ھے

    اور ھاں ایک مزے کی بات سنو ۔۔۔ جب تک عادل زندہ تھے تو امی اور بہن بھائ جو بھی کپڑے وغیرہ پاکستان سے بھجواتے تھے بہت ھلکے رنگوں کے ،شیفون کے بہت سادے سے مگر بہت خوبصورت کپڑے ، عادل کی رحلت کے بعد تو ان لوگوں نے حد کردی اس قدر بھاری کام کے سوٹ بھیجے کہ مجھے دیکھہ کر غصہ آیا پتہ چلاکہ چھوٹی بہن کے دیور کی شادی تھی اور اس کے سارے کپڑے غلطی سے کویت آگۓ بس اس واقعہ کے بعد جب بھی پاکستان سے کچھہ آتا ھے تو دوست کہتے ھیں کہ مايکئے سے شاھین کا جہیز آیا ھے ۔ اس بار 3 سونے کی انگوٹھیاں ، درنجف، اور عقیق ، یافوت کی تسبح کپڑے اور ڈیکوریشن پیس آۓ ھیں ، آج صبح میں نے صفی اور امی کو شکریہ ، کے فون اور کئ بار میسج بھی بھیجے ، اللہ پاک ھم سب کے بہن بھايئوں ، اور والدین کو سلامت رکھے آمین ثمہ آمین

  26. اچھی فاطمہ ابرار ھمشیہ خوش رھیں ۔خوشی کی اس دولت کو پان کی شکل میں سب کو تقسیم کرتی رھا کریں ، ھااھاھاھاھ،

    ایک ھماری امی ھیں سب کچھہ دنیے پر تیار مگر پان کی دوستی بہت کم کرتی ھیں ۔ مزے کی بات یہ ھے کہ آج سے چند سال قبل جب امی پہلی بار کویت آرھی تھیں تو ان کو سب نے کہا کہ کویت پر کسٹم بہت سخت ھے خاص کر پان اور تمباکو پر بہت پابندی ھے تو امی اپنا کویت کا ٹرپ منسوخ کرنے لگیں تھیں خیر انھوں نے اپنے پان سکھا کر بہت چالاکی سے اس کو کپڑے میں چھپا کر لايئں ،جس دن وہ کویت آیئں مونس بھائ نے انکے لیے پان چھالیہ اور قسم قسم کے تمباکو کے ڈھیر لگا دیئۓ تھے ، وہ یہ سب دیکھہ کر بہت حیران ھویئں ۔ اور تو اور ابھی جب میں امی کی قدمبوسی کےلیے اور انکے ساتھہ عمرے کے لیے سعودیہ گی تو انکے لیے پان کھتہ چونا آمریکی الايچی اور ھندوستانی تمباکو کی سوغات بھی ساتھہ لےکر گی وہ مجھہ سے زیادہ سعودیہ میں پان کو دیکھہ کر ھوئ سعودیہ عربیہ میں پان بہت آسانی سے دستیاب تھا ۔ اور امی پورے سفر میں سب کو پان کی دعوت دیتیں اور سونف چھالیہ بھی تقسیم کرتی نظر آيئں ۔ امی کے قافلے میں 100 افراد تھے پان کی وجہ سے خوب مزہ آتا تھا ۔ اب تو پان پر نظم کا ماحول بھی بن گیا ھے براۓ کرم پان پر نظم حاضر کی جاۓ

  27. اسلام علیکم محترم بھائیو اور پیاری بہنو اللہ آپ سب کو ہمیشہ ہنستا مسکراتا اور خوش و خرم رکھے ،آمین
    مجھے لگتا ہے کہ کہین نہ کہیں کچھ اچھے کام ضرور ہو گئے ہیں جو اللہ رب العزت نے مجھے اتنی پیاری اور محبت کرنے والی چھوٹی بہنیں عطا کر دیں ۔نگہت نسیم ،شاھین رضوی ،فاطمہ ابرار ،زرقا مفتی اور جن کے نام مجھے یاد نہیں آرہے وہ سب ۔
    پیاری بہن شاھین رضوی آج تو آپ کی تحریروں نے سماں باندھ دیا ،اور مجھے بھی بہت سی ایسی باتیں باد آگئین کہ آنکھیں نم ہو گئیں ۔کچھ حادثے ایسے ہوتے ہیں جو بھلائے نہیں بھولتے ۔مگر اللہ نے انسان کو بہت ہمت عطا کی ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات سے نمٹتا بھی ہے ،اور زندگی میں آگے بھی بڑھتا ہے گو یہ سب بہت مشکل ہوتا ہے ۔مگر یوں ہی تو اللہ نے انسان کو فرشتوں سے سجدہ نہیں کرا لیا ۔
    یہ ہی تو صبر کے مقام ہیں جہاں انسان سب سے بڑھ جاتا ہے ۔اللہ تمہاری ہمت کو قائم رکھے اور تمہاری زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں آئیں ۔ آمین
    نئے گھر کی بہت مبارکباد چاہے کرائے کا ہو گھر تو ہے ۔
    پان کی بات کر کے آپ نے مجھے وا لدہ کی یاد دلا دی ۔وہ صرف صبح اور رات میں پان کھاتی تھیں لیکن انتہائی اہتمام کے ساتھ ۔پاندان ہر وقت چمکتا تھا ۔چھالیہ انتہائی باریک کاٹتی تھین ۔ہم بہن بھائیوں نے ایک ایک چھوٹا پاندان اپنے گھر میں رکھا ہوا تھا تاکہ والدہ جب ہمارے یہاں رہنے آئیں تو انہیں پان کی تکلیف نہ ہو ۔اور آپ شاید ہی یقین کریں کہ امی کے آنے سے پہلے سب سے زیادہ پاندان کی فکر ہوتی تھی کہ بالکل چمکتا ہوا ہو اور اس میں تمام لوازمات موجود ہوں ۔
    نکہت نے گھر کا نام بہت ہی خوبصورت رکھا ہے کاشانئہ نجف بہت خوب
    اپنے تمام بھائی بہنوں سے دعاؤں کی طالب ہوں ۔اور اپنی ہر چھوٹی بڑی کوتاہی پر معافی کی طلبگار ۔
    اللہ تم سب کو اپنے حفظ و امان مین رکھے یوں ہی ہنستے مسکراتے رہو ۔
    عالم آرا

  28. اسلام علیکم
    بہنوں کی طرح مجھے اپنے قلمی بھائیوں پر بھی بہت فخر ہے اور کہیں نہ کہیں میری ایک خواہش جو مجھے بھائیوں کی نسبت سے تھی وہ بھی اللہ نے پوری کی ہے ۔مجھے باد ہے جب میں تیسری کلاس میں تھی ٹیچر نے پوچھا تمہارے کتنے بھائی ہیں میں نے اپنے سارے رشتے دار بھائیوں کی گنتی کی اور انہیں بتایا کہ میرے گیارہ بھائی ہیں ۔کیونکہ مجھے بہت سارے بھائیوں کا شوق تھا ۔
    میرے لئے میرے یہ سارے بھائی جو عالمی اخبار سے متعلق ہیں انتہائی قابل احترام اور عزیز ہیں ۔ اللہ آپ سب کو زندگی کی تمام خوشیوں سے نوازے آمین ۔
    مجھے اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھئے گا ۔
    اللہ سب کا حامی و ناصر ہو ۔
    عالم آرا

  29. اتنےسارے سوالوں کےاتنے ڈھیرسارے جواب میرے زہن میں کود اآئےہیں
    لکھنےبیٹھاتو کئی گھنٹےلگ جائیں گے
    یہ ساری کیفیتیں جیتی جاگتی زندگی کےخوبصورت رنگ ہیں اوران کو لفظوں کی صورت میں
    بیان کرنااوربھی خوبصورت تجربہ۔۔۔إ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *