مرتا کیانہ کرتا کہ مصداق بالآخر حکومتِ وقت نے ریلوے کے محکمے کو بچانے کا اصولی فیصلہ کرہی لیا وزیرِاعظم پاکستان جناب گیلانی صاحب نے ریلوے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے اپنی حکومت کی حلیف جماعت اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور کی وزارت تبدیل کرنے کا ارادہ کر ہی لیا اس فیصلہ پر عملدرآمد وزیرِ اعظم کے دورہ آسٹریلیا سے واپسی پر ہو گا، اس سے پہلے وزیر موصوف نے ریلوے کو بند کردینے کا مشورہ بھی دیا تھا اور دلیل میں کئی ملکوں کے نام بھی گنوادیے تھے کہ بھلا ریلوے کے بغیر کیا ملک نہیں چل سکتا !
قیاس ہے ہے کہ بلور صاحب کو کسی اور وزارت کی پیشکش کی گئی ہے یا پھر باہمی مشاورت سے کسی اور محکمے کو برباد کرنے کا سوچا جائے گا کیونکہ حکومت تو بہرحال چلانی ہے اور اے این پی ہے بھی حلیف جماعت ۔
آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا ؟ کب تک انسانی جانوں سے اور اس ملک کے سرمائے سے بدسلوکی کی جاتی رہے گی؟ کب تک عوام کے ٹیکسوں سے پلنے والے وزیرِ بے ضمیر اپنے خزانے بھرتے رہیں گے؟ اس ملک کی قوم کب جاگے گی؟

ریلوے کی بربادی اور حکومت سمیت ریلوے حکام کی انتہائی بئ حسی کی ایک تازہ ترین مثال
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=tazatreen&article=25434
بجا فرمایا آپ نے بابا جی
اس سے زیادہ اور کیا بے حسی ہوگی کہ رات بھر سے پنشن کے انتظار میں کھڑا ریلوے کا ریٹائرڈ برزگ شہری جاں بحق ہو جائے اور ریلوے کا وزیر تو کجا کوئی افسر بھی اس کے گھر تعزیت کو بھی نہ جائے کیا گزری ہوگی اس بزرگ کے گھر والوں پر اور اگر اس گھر میں کوئی معصوم بچے ہونگے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الامان الحفیظ ۔۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
خدا غارت کرے ایسے حکمرانوں کو۔۔۔۔ آمین
پاکستان ریلوے سے ہمارے کچھ زیادہ ہی جذباتی تعلقات ہیں کیونکہ ہمارے والد مرحوم نے وہاں سول انجرئینگ کے طور پر اپنی زندگی کے 45 برس خرچ کیے اور تقریبا 5 سال پہلے ہی ریٹائیرمنٹ لینے میں عافیت جانی کہ پاکستان ریلوے کو اصول اور ایماندار لوگوں کی ضرورت آج سے کوئ 28 سال پہلےہی نہیں رہی تھی۔ اس وقت ہی والد مرحوم رشوت کے آئے دن کی پیشکش سے گھبرا کر گھر بیٹھ گئے تھے اور ہمارے اپنے، نادانی میں ان کو اسی ڈگرپر چلنے کا مشورہ دے رہے تھے جس پر پوری ریلوے چل رہی تھی، لیکن والد مرحوم اپنے اصول پر چلتے رہے اور ریلوے کے زیوں حالی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم کی پیشنگوئ کرکے اپنے اصولوں پر ایمانداری سے کام کرتے ہوئے اور ہم بھائ بہنوں کو رشوت جیسی لعنت سے بچاتے ہوئے اس دنیا سے ہی کوچ کرگئے، آج بھی جب میں کراچی جاتا ہوں اور شارع فیصل پر واقع اس پل کو دیکھتا ہوں جو والد صاحب کی نگرانی میں تیار ہوا تھا کیونکہ اس پل کے نیچے سے ریلوے لائین گزرتی ہے اور اسی لیے وہاں ایک ریلوے کے انجینیر کےطور پر والد صاحب کی ڈیوٹی تھی اور ایک دن اچانک سے جب والد صاحب نے سائیٹ پر چھاپہ مارا تو پتہ چلا کہ پل تعمیر کرنے والا ٹھیکہ دار سمینٹ اور بجری کی ملاوٹ غلط کرکے پل کا ایک ستون تیار کررہا ہے تو انھوں نے اپنے کیمرے سے جو وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے اس ستون کی تصویر بنا ڈالی اور تعمیر کے کام کو فوری طور پر روکوا دیا۔ اس ایک تصویر کی نیگٹو کو حاصل کرنے کے لیے اس ٹھیکے دار نے جانے کتنے روپے کی پیشکش کی لیکن والد مرحوم ٹس سے مس نہ ہوئے اور اس ستون کو پھر سے گرایا گیا اور دوبارہ سے تعمیر کیا گیا اور آج بھی خدا کے فضل سے وہ پل صیح و سالم کھڑا ہے اور کراچی آنے والا ہر شخص جو کراچی ائیرپورٹ سے آتا یا جاتا ہے اس پل سے ضرور گزرتا ہے اور ابھی جب میں کراچی میں تھا تو اپنی امی کے ساتھ اس واقع کو یاد کررہا تھاکہ ابو کی اتنی خدمت کے باوجود امی کو اس مہینے پھر پینشن نہیں ملی۔ وائے رے ہماری ریلوے۔
انور بھائی اللہ کریم آپ کے والد مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔۔ ان کی ایمانداری کو ہم سب کا سلام ۔۔ بھیا جی کیا کیجئے ۔۔ایک وہ وقت تھا کہ لوگ جھوٹے کو دیکھتے رہ جاتے تھے کہ آخر اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ جھوٹ بولے اور آج یہ حال ہے کہ ہم ایک سچے انسان کہ ہمت و عظمت کو تکتے رہ جاتے ہیں کہ آخر اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ سچ بولے ۔۔ آپ کے والد جیسے کئی نایاب ہیرے تو بھائی تہہ خاک ہو ہی گئے ہیں لیکن اس وقت جو ہم نے بر وقت نہ سوچا اور کوئی مہم چلائی تو کئی اور ہیرے بھی ہاتھوں سے نکل جائیں گے اور سچ کا زکر صرف کتابوں اور کہانیوں میں رہ جائے گا۔
بھائی انور ظہیر اللہ تعالیٰ آپ کے والد کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔
آپی آپ نے بجا کہا اگر ھم نے اب بھی آواز نہ اٹھائی تو ھماری آنے والی نسلیں یہ پوچھا کریں گی کہ یہ ایمانداری کیا چیز ہوتی ہے
اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ انور بھائی کے والد جیسے ایماندار اور مخلص لوگوں کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور ان کے جذبوں کو عام لوگوں تک پہنچنے میں مدد کرے اور تمام حبِ الوطن لوگوں کو جہادِ اصغر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
اس پر میں نے ایک تفصیلی کالم لکددیا ہے جو لگا ہوا ہے ملا حظہ فرما ءیں