پیپلز پارٹی کی حکومت نےمادر جمہوریت کو نہیں انکی مرقد کو نشان امتیاز دیا۔از۔صفدر ھمدانی

بینظیر،مرتضیٰ،شاہنواز اور باقی ماندہ صنم بھٹو کی والدہ،غنویٰ اور آصف زرداری کی ساس، فاطمہ اور ذوالفقار جونیئر کی دادی، بلاول،آصفہ اور بختاور کی نانی اور پاکستانی جمہوریت زادوں کو مرنے کے بعد یاد آنے والی انکی ماں کو چوبیس اکتوبر دوہزار گیارہ پیر کی شام چھ بجکر بیس منٹ پر گڑھی خدا بخش میں انکے شوہر ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے قبر میں نانی کی میت کو دیگر احباب کے ساتھ اتارا اور داماد زرداری نے دونوں ہاتھوں سے ایک سے زائد بار قبر پر مٹی ڈال دی اور یوں مرنے والوں نصرت بھٹو ایک بار پھر نصرت مند ہو گئیں

اس خاندان کی عجیب قسمت ہے کہ اسکے سربراہ سمیت کوئی بھی تو طبعی موت نہیں مرا۔ شاید آپ سوچیں کہ نصرت بھٹو تو طبعی موت مری ہیں۔ کاش ایسا ہی ہوتا ۔ اس لیئے کہ طبعی موت تو وہ انیس سو چورانوے میں اسی وقت مر گئی تھیں جب ایک باقاعدہ منصوبہ بندی سے ان سے پارٹی کی تا حیات چیر پرسن کا عہدہ واپس لیا گیا تھا کیونکہ جو چیز تا حیات تھی جب وہ واپس لے لی گئی تو گویا حیات ختم ہو گئی۔یاپھر نصرت بھٹو کی موت اسوقت ہی ہو گئی تھی جب وہ ایک رات ایوان وزیراعظم چھوڑ کر روتی ہوئی اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں آ گئی تھیں
مکمل کالم پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے

3 thoughts on “پیپلز پارٹی کی حکومت نےمادر جمہوریت کو نہیں انکی مرقد کو نشان امتیاز دیا۔از۔صفدر ھمدانی”

  1. حیرت ہے کہ صرف چند ہی گھنٹوں میں سرکاری مشینری نے مادر جمہوریت کے لفظ کا استحصال اس طرح کیا کہ ماں اور جمہوریت دونوں پہ ترس آنے لگا۔ یہ سیاست کیسی ظالم چیز ہے کہ زندہ تو زندہ مردے سے بھی اپنے مطلب کا کام لے لیتی ہے

    واقعی یہی سچ ہے ۔۔ اس لئے خود غرضی اور مطلب پرستی میں کبھی برکت نہیں ہوتی ۔۔ جو لوگ اپنے پیٹ کے آگے نہی دیکھ سکتے وہ ملک کے مسائل کو کیا سمجھیں گے ۔۔ دیکھئے تو ایک دن کی سرکاری چھٹی میں 30 بلین روپے کا خسارہ کیاپاکستان جیسے سسکتی معشیت برداشت کر سکتی تھی ۔۔ اور اس قدر شاہانہ دفن کیا نصرت بھٹو کی زندگی میں ان پر ہوئے کسی دکھ کا مداوہ ہو سکتا ہے ۔۔ اصل میں مسلمانوں کی قوم ہی مردہ پرست ہے ہیں ۔۔ زندہ کو زندہ درگور کر دینا ۔۔اسے روٹی روٹی کو محتاج کر دینا اور جب مر جائے تو اسے کندھوں پر اٹھا کر اس کا افسوس کرنا ۔۔ مسلمانوں کی کتنی sick mentality ہو چکی پے ۔۔۔

    جن لوگوں کی تقلید کے گن پاکستنانی حکمران اور عوام نہیں تھکتے ۔۔ اسی امریکہ اور لندن میں ایک سرکاری چھٹی کے لئے 6 ماہ پہلے کیبینٹ میں تجویز دی جاتی ہے اور پھر سب کی متفقہ رائے سے منظور ہوتی ہے ۔ اس لئے کسی بھی سابق لیدر کے مرنے پر کوئی سرکاری چھٹی کا اعلان نہیں ہوتا ۔۔ جبکہ انہیں اکانومی کا رونا بھی نہیں ہوتا ۔۔

    پیپلز پارٹی اب پیپلز کی نہیں رہی بلکہ “ عوامی آمروں “ کی پارٹی ہے ۔۔ جو صرف قومی خزانوں سے اپنے جشن اور عرس منانا چاہتے ہیں ۔۔ انہیں عوام کی تکلیفوں سے کیا غرض ۔۔ اب بھی اگر الیکشن میں پیپلز پارٹی جیتی ہے تو پاکستان کی عوام کو شرم سے مر جانا چاہئے ۔۔ جن قوموں کے پاس قومی وقار اور پہچان نہ رہے انہیں صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہئے ۔۔

  2. اس قوم کی مردہ پرستی سے یہی امید تھی۔ اب تو ہم مردہ پرستی سے مردار پرستی کی طرف جانے لگے ہیں، جہاں قذافی جیسے لوگ بھی بعضوں کے یہاں ہیرو ہیں۔ الامان و الحفیظ۔

    ایک مدٌت تک رہی شیشے کے گھر میں قید تُو
    مادرِ جمہورٌیت کا نام تُجھ کو تب ملا
    فاخرہ بتول)

  3. بالکل درست کہا ہے آپی آپ نے کہ پیپلز پارٹی اب پیپلز کی نہیں رہی بلکہ “ عوامی آمروں “ کی پارٹی ہے ۔۔ جو صرف قومی خزانوں سے اپنے جشن اور عرس منانا چاہتے ہیں
    پیر 24 اکتوبر سن 2011 کی شام بیگم نصرت بھٹو کی گڑھی خدا بخش میں بھٹو صاحب کے پہلو میں تدفین کے ساتھ ہی بالآخر بھٹو فیملی کا اختتام ہوا اگرچہ باقی ماندہ بھٹو خاندان کے افراد ، ممتاز بھٹو، صنم بھٹو اور غنوہ بھٹو اور ان کی اولاد اب بھی بھٹو فیملی کے ارکان کہلائیں گے مگر بھٹو کاز کا تو خاتمہ ہو ہی گیا ۔ رہ گئی بات پیپلز پارٹی کی تو وہ اس وقت ہی ختم ہو گئی تھی جب زرداری صاحب نے خود کو شریک چیئر پرسن بنایا تھا اور اپنے عزائم کو پایۂ تکمیل تک پہچانے کے لئے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی
    نصرت بھٹو تو اسی روز مرگئی تھیں جب میر مرتضٰی بھٹو اپنی وزیرِاعظم بہن کی حکومت میں ظاہراً پولس مقابلے میں مارے گئے تھے
    آج پارٹی سے وابستہ لوگ جو رو رہے ہیں وہ صرف اور صرف مگر مچھ کے آنسو ہیں اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *