تعریف یا خوشامد !.

کسی بھی اچھے کام ، اور چیز ، کی تعریف کرنا بہت اچھی عادت ہے ، اس میں بخیلی نہیں کرنی چا ہے . یہ بچوں کی طالبعلمو ن کا حوصلہ، اور ہمت بڑھاتی ہے . اس سے کئ ترقی کے راستے کھلتے ہیں -دوستوں کے حلقے میں بھی تعریف مثبت کردار ادا کرتی ہے تعلقات میں استواری پیدا ہوتی ہے-
لیکن جب یہ حد سے تجاوز کر جاۓ تو میں اسے “خوشامد ” کا نام دوں گی – شا گرد ا ستاد کی، چھوٹا افسر بڑے کی ، مریض ڈاکٹر کی ، غریب ، امیر کی
نوکر مالک کی، kisan وڈیرے کی اپنا مطلب نکلنے کے لیے ہر کوئی khusmad کرتا ہے یه ہمارے ملکوں میں زیا دہ ہے شائد ہر کوئی ایک دوسرے کا
محتاج یا ضرورت مند ہوتا ہے . کیا … کرنے والا اپنی ضرورت سے مجبور ہو کرکرتا ہے یا عادت پڑ جاتی ہے ؟ جس کی خوشامد کی جاتی ہے ، ا س کو محسوس نہیں ہوتا کہ یه “جعلی”تعریف ہے؟ اس جعلی خول سے اصل مسرت حاصل نہیں ہوتی . یہ میرا خیال ہے ، آپ اپنے خیالات سے ضرور آگاہ کریں ، خوشامدی الفاظ فورانن پہچانے جاتے ہیں تعریف ، کرنے سے ، کرنے والے کو خوشی ملتی ہے جس کی کی جاۓ ا سے بھی راحت ملتی ہے – balnce ہر مقام پ اچھا نتیجہ نکلتا ہے – مِثآل کے طور پ آج جس سخص سے مطلب کے لیے ا س کی ناجایز تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رهے ہیں کل اسی کے ساتھ مطلب نکلنے کے بعد بد تعریفی کر رہے ہیں – یه اخلاقی طور پ سخصیت پ منفی اثر ڈالتی ہے ، بہتر ہے کے انسان اس سے اجتناب کرے-

6 thoughts on “تعریف یا خوشامد !.”

  1. آچھی عابدہ مظفر سلامت رھو،
    کسی بھی اچھے کام ، اور چیز ، کی تعریف کرنا بہت اچھی عادت ہے ، اس میں بخیلی نہیں کرنی چا ہے . یہ بچوں کی طالبعلمو ن کا حوصلہ، اور ہمت بڑھاتی ہے . اس سے کئ ترقی کے راستے کھلتے ہیں -دوستوں کے حلقے میں بھی تعریف مثبت کردار ادا کرتی ہے تعلقات میں استواری پیدا ہوتی ہے-اور یہ بہت اچھی بات ھے

    مجھے تو اپنے پیارے دوستوں کی گھر والوں ،کولیگز ۔ کی بچوں کی تعریف کرنا بہت اچھا لگتا ھے،اور جو روحانی خوشی مجھے کسی دلجوئ اور تعریف کرکے ملتی ھے اس کو لفظوں میں بیان کرنے کا ھنر مجھے نیہن آتا ۔دراصل تعریف ان کو خوشامد لگتی ھے جو کسی کی تعریف ھی نیہن کرتے۔جو کسی کی دلجوئ نیہن کرتے ۔ اگر خوشامد ایک بدتر چیز ہے اسی طرح مناسب اور سچی تعریف کرنا نہایت عمدہ اور بہت ہی خوب عمل ھے ۔کسی کو سراھنا کسی کا دل بڑھانا، کسی کی تعریف کرنا تو نیکی میں شمار ھوتی ھے۔ کہ ایک اچھا جملہ بھی نیکی ھوتی ھے ۔
    ھاں میں اس سے متفق ھوں کہ کسی کی بہت ضرورت سے زیادہ تعریف چاپلوسی ھے ۔ مگر مجھے توتعریف کرنے کےلیے ھی مناسب الفاظ ھی نیہن ملتے ۔،اے کاش اللہ پاک مجھے اپنے محسنوں کی تعریف کرنے کا ھنر عطا فرماء

  2. جائز تعریف تو بہت عمدہ اور قمیتی خوشبو کی مانند ھوتی ھے۔ یہ سننے والے پر انتا خوبصورت اثر ڈالتی ھے جیسے مشک وعنبرکی پاکیزہ مہک

  3. خوشامد کا فن جس کو آتا نہیں ہے
    اسے تو کوئی منہ لگاتا نہیں ہے
    خوشامد کا جو بھی ہنر جانتے ہیں
    سدا ان کا افسر کہا مانتے ہیں
    خوشامد کا جادو ہے جو بھی جگاتا
    ہمیشہ ہے افسر اسے منہ لگاتا
    خوشامد کا فن جس کو آتا نہیں ہے
    مرادیں کبھی دل کی پاتا نہیں ہے
    ہے بے جا خوشامد نری اک بیماری ملوث
    ملوث ہے اس میں تو اب قوم ساری
    حقائق کو آنکھوں سے اوجھل ہے کرتی
    گناہوں سے دل کو یہ بوجھل ہے کرتی
    اسی نے ہی بہتوں کی لٹیا ڈبوئی
    مضرت سے اس کی بچا ہے نہ کوئی
    جو اچھے مصاحب چنے گر کسی نے
    تو کی کامیابی ہے حاصل اسی نے
    خوشامد پسند جتنے بھی حکمراں تھے
    بنے سارے عبرت کا آخر نشاں تھے
    خوشامد سے انسان ہوتا ہے اندھا
    گلے میں ہے پڑ جاتا پھانسی کا پھندہ
    جو ہیں طاق مکھن لگانے میں بھائی
    تو افسر کی قربت ہی انہوں نے پائی
    کھری بات جو بھی ہیں کہنے کے عادی
    کہیں اس کو شبہ کے مصاحب فسادی
    جو تعریف منہ پہ کسی کے ہے کرتا
    ہے لازم تو مٹی سے منہ اس کا بھرتا
    بچو اس سے عاصم یہ ہے زہر قاتل
    کرے گا خوشامد جو ہے پکا جاہل

  4. شاہین جی ! تعریف کرنا تو بہت اچھی عادت ہے یہ ایک نور ہے جو ہر ایک کے دل میں نہیں ہوتا، لیکن خسامد اپ نے ٹھیک لکھا ہے –
    حقائق کو آنکھوں سے بوجھل ہے کرتی – گناہوں سے دل کو یہ بوجھل ہے کرتی…
    خوشامد پسند جتنے بھی حکمران تھے —بنے سارے آخر غیرت کا نشانہ تھے

  5. خوشامد اور تعریف کی تعریف ھر دو افراد کے درمیان مختلف ھوتی ھے مجھ ناچیز کی نظر میں مثلًا اگر کوئی شخصیت میرے لیئے ماڈل پرسن ھے اس شخصیت کے افکار ونظریات اسکی ھمہ جہت خوبیوں کو دیکھتے ھوئے ھم اس شخصیت کو اپنی زندگی میں ایک اونچا مقام دیتے
    ھیں لیکن دوسرے فرد کی رائے اگر ھم سے مختلف ھو تو ھماری اس شخصیت سے متعلق ھر تعریف کو خوشامد چاپلوسی گردانے گا
    مولائے کائنات علی ابن ابی طالب نے نہج البلاغہ میں تعریف اور خوشامد کا کلیہ بیان فرمایا ارشاد ھے
    استحقاق سے زیادہ تعریف کرنا خوشامد ھے اور استحقاق سے کم تعریف کرنا عاجزی ھے یا حسد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *