معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق ، براڈکاسٹر اور عالمی اخبار کے مدیراعلی محترم المقام جناب صفدر ھمٰدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے ایف سی کالج سے گریجوایشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسروابستہ ہوگئے.
جناب صفدر ھمٰدانی نے ریڈیو پاکستان میں اپنی ملازمت کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں .
انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ’ کفن پہ تحریریں’ 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں ‘فرات کے آنسو’(مرثیوں کا مجموعہ) نورِ کربلا(عزائی شاعری پہ تحقیق) اور” فخر ہمایوں”(معروف صحافی کی زندگی) ‘ اور’معجزئہ قلم’(رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ) فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ انکی تالیف اور تدوین”کلیات حسین” حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔
اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ” تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا” شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک”زینت ہستی” ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ”عطائے رضا” کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ ” رو رہا ہے آسماں” مرثیوں کاایک اور مجموعہ اورغزلوں کے مجموعے” بادل۔چاند اور میں ” اور” گونگی آنکھیں” زیر ترتیب ہے۔
مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی،فرانس،ناروے،ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا)شام ، مصر اور آسٹریلیاکے مختلف شہروں کا سفر کر چکے ہیں ۔۔
آپ سب جانتے ہیں کہ محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کو ہم سب ان کی بے لوث طبعیت کی وجہ سے بابا کہتے ہیں اس لئے کہ وہ ہم سب کے لئے برگد کے درخت کی طرح سایہ دار ہیں ۔ جس کی چھاؤں بلا تفریق سب کے لئے ایک جیسی ہوتی ہے ۔ بابا اپنے خزانوں میں سے جہاں علم و دانش کے موتیوں سے آنے والے کا استقبال کرتے ہیں وہاں سے اٹھتے وقت ہر جانے والے کو زاد راہ کے طور پر قلم بھی تحفتا پکڑا دیتے ہیں ۔۔ پھر وہ مسافر جانے یا اس کا نصیب جانے کہ وہ اس قلم کا کتناحق ادا کرتا ہے ۔۔
ایک اور بات جو انہیں سب سے الگ کرتی ہے وہ ہے ان کا شاہ گر ہونا ۔ بابا جن جن ملکوں کادورہ کرتے ہیں وہاں وہاں اردو کی کئی نئی کونپلیں کھل اٹھتی ہیں ۔۔ اور ثمر بار ہو جاتی ہیں ۔۔ بابا کے ہاتھ میں شفا ہے جس کے سر پر رکھ دیتے ہیں اسے منزل مل جاتی ہے ۔۔
آج سترہ نومبر کے دن عالمی اخبار کی بلاگ فیملی ان کے اہل خانہ کے ساتھ مل کر ان کو سالگرہ کی مبارک باد دیتے ہیں ۔ اور انہیں صحت و سلامتی کی دعا بھی دیتے ہیں ۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو بابا ۔۔ آپ جہاں کہیں بھی رہیں ۔۔ آپ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں ۔۔۔ اللہ کریم و رحیم اپنے حبیب اور ان کی آل مبارک کے صدقے آپ کو ہمیشہ خوشیوں میں رکھے ۔۔آمین ۔

حترم المقام جناب صفدر ھمٰدانی کو سالگرہ مبارک ہوں.
محترم قبلہ ھمدانی صاحب آپکو سالگرہ کی بہت بہت مبارک باد اور دعائیں
خدائے بزرگ وبرتر بصدقہ آئمہ طاھرین علیہ السلام آپکو صحت وسلامتی اور عمر خضر عطا فرمائے آمین
محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کو سالگرہ کا دن بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت مبارک ھو، اللہ تعالی آپ کا سایہ ھم سب کے سروں پر قائم رکھے آمین ثمہ آمین ھمارے گھر میں بھی آپکی مبارک خوشبو پھیلی ھوئ ھے، گھر تبدیل کیا ھے مگر وہ روشنی نیہن جاتی ، آپکی شفقت کی مہک ھمارے گھر کے درو دیوار میں بسی ھوئ ھے ، اللہ پاک آپکو عمر خضر عطا فرماۓ صحت وعافیت کے ساتھہ اسی طرح ھمشیہ علم کی روشنی سے دنیا کو منور کرتے رھیں
تولدت مبارك
بيا شمعا رو فوت كن
هزار سال زنده باشي
Happy birthday to you
French: Bonne anniversaire
Chinese: Sheng ri kuai le
Spanish: Feliz cumpleaños
Italian: Buon compleanno
Swedish: Grattis pa fodelsedagen!
Polish: Wszystkiego Najlepszego!
German: Herzlichen Glückwunsch zum Geburtstag
Hindi: Janam Din ki badhai!
Japanese: Otanjou-bi Omedetou Gozaimasu!
Korean: Saeng il chuk ha ham ni da!
اسّلام علیکم صفدر بھیّا ،
پروردگارعالم پنجتن پاک ۔چہاردہ معصو مین کے صدقے آپ کو صحت وتندرستی کے ساتھ عمر خضر عطا کرے آمین،ثمّہ آمین
سالگرہ آپ کو اور تمام اہل خانہ کو صد ہزار مبارک ،
زائرہ بجّو
ایڈ منٹن
کینیڈ ا
عالمی آخبار کی نائب مدیر اعلی اور ھم سب کی بہت محترم ،عزیز بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم کی لکھی ھوئ خوبصورت تحریر جو انھوں نے گذشتہ سال محترم المقام جنات صفدر ھمدانی صاحب کی سالگرہ کے پرمسرت موقع پر لکھی تھی
میں ایک عرصے تک بابا جناب صفدر ہمدانی کو صرف ان کے قلم کے حوالے سے جانتی تھی … مجھے ہمیشہ ہی ان کی تحریریں پڑھ کر یوں لگتا تھا جیسے میں اس بچے سے مل رہی ہوں جو دہائیوں سے گرائپ واٹر کی بوتل پر “شجاعت “ کا شاہکار بن کر چسپاں ہی نہیں ہے بلکہ شجاعت کی دعوت بھی سر عام دیتا ملتا ہے ۔۔ ان کے قلم کی کاٹ اور جیداری کے بھیس میں وہی بچہ رہتا ہے جسے میں نے ” گرائپ واٹر “ کی بوتل پر اس وقت دیکھا تھا جب مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ اس بھولے بھالے بچے کے ہاتھ میں سانپ کیوں ہے اور وہ اس سے ڈرتا کیوں نہیں ہے ۔۔۔ اس کی آنکھوں کی چمک صاف بتا رہی ہے کہ وہ سانپ کو کچلنے کے ارادے رکھتا ہے ۔۔ ہر خطرے سے آزاد ۔۔ ہر وہم سے دور یہ بچہ مجھے جرات کا ایسا پیغام دیتا تھا کہ میں خود کو ایک پنجرے میں قید پاتی تھی ۔۔۔
میں اکثر سوچا کرتی ۔۔ میں ایسی بہادر کیوں نہیں ہوں کہ جو غلط ہو اس کا شعور لوگوں میں ایسے بانٹ دوں کہ معصومیت بھی زندہ رہے اور سانپ کو بھی اس کے بل میں گھس کر مار دیا جائے ۔۔۔۔۔ مجھے اس بات کا یقین بابا ہی نے دلایا کہ ہر انسان کے اندر سانپوں سے کھیلنے اور اسے کچلنے والا ایک نڈر بچہ رہتا ہے ۔۔۔ اور میں انہیں بہادر انسانوں میں سے ایک ہوں جس کے قلم کی کاٹ میں گرائپ واٹر کے ایک چمچہ شربت جیسی توانائی ہے ۔۔۔ مجھے لگا جیسے انہوں نے میرا دل رکھنے کو کہہ دیا ہو ۔۔۔
یہ ان دنوں کی بات جب بابا پہلے بار سڈنی آئے تھے اکتوبر دو ہزار سات میں ۔۔۔ سڈنی کا سالانہ مشاعرہ ہو چکا تھا ۔۔ سڈنی100.9 ایف ایم پر میں نے نے بابا کا لائیو انٹرویو بھی کیا ۔۔۔ جس کو انہوں نے اپنے یادگار انٹرویوز میں ایک کہا تھا ۔۔ پھر انہوں نے دوسرے دن فون پر ایک حیران کن بات کہی جب بھائی ظفر حسین ( صدائے وطن کے ایڈیٹر جن کے ہاں بابا کا قیام تھا ) جنہوں نے مجھے یہ موقع دیا کہ میں بابا کا شکریہ ادا کر سکتی کہ انہوں نے اتنا وقت ہمارے ریڈیو کے لئے نکالا تھا ۔۔ کیونکہ بابا نے وہ انٹرویو وولنگانگ سے دیا تھا جب بھائی ڈاکٹر شبیر حیدر کے گھر ان کا رات کا کھانا تھا اور وہ مہمانوں میں گھرے ہوئے تھے ۔۔ میں ان کی ادب نواز طبعیت کی تو شروع ہی متعرف تھی لیکن اب گواہ بھی تھی ۔۔۔
بابا نے کہا کے مشاعرے کی تصویریں بہت عمدہ آئی ہیں ۔۔ میں نے ان سے ہنس کر کہا میرے ماموں کہتے ہیں کہ میری تصویر میں تو پس منظر ہی خوبصورت ہوتے ہیں ۔۔ بابا نے برجستہ کہا “ ڈاکٹر صاحبہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے پس منظر خوبصورت ہوتے ہیں ۔۔۔ برجستہ کہنا اور ایسا کہنا کہ وہ اقوال زرین بن جائے بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا ہے ۔۔ان میں بابا میرے جاننے والوں میں ایک سے دوسرا نام ہے ۔۔۔
مجھے ان کےکہے ہوئے ہزاروں جملے یاد ہیں جو کبھی میری کہانیوں کا مرکز ہو جاتے ہیں تو کبھی کالم لکھنے کی وجہ تو کبھی نظم کا بہانہ ۔۔۔ انہوں نے حال ہی مجھے ایک جملہ کہا “ اصل توازن یہ ہے کہ عدم توازن برقرار رکھا جائے “ ۔۔۔ میں آج تک اس جملے کے اسرار میں گم ہوں ۔۔ اور اس ایک جملے نے مجھے ابھی تک کچھ لکھنے نہیں دیا ۔۔۔ کیونکہ اب مجھے اسی پر کچھ لکھنا ہے ۔۔ کیا ۔۔لکھوں ؟؟ کوئی سرا نہیں ملتا ۔۔۔
لیجئے بات ہو رہی تھی کہ مجھے نڈر اور جیدار قلمکار بننا ہے ۔۔ بھلا یہ بابا کے لئے کیا مشکل تھا ۔۔ وہ واپس لندن آچکے تھے ۔۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم سب یعنی شمس بھائی ، منظور بھائی ، مصباح بھائی اور زرقا مفتی ہم سب القمر آن لائن میں لکھاکرتے تھے اور میں صرف اور صرف بابا کی وجہ سے وہاں آئی تھی جس کے لئے انہوں نے سڈنی میں ہی مجھے نیٹ پر اردو لکھنے پر راضی کر لیا تھا ۔۔ انکا اصرار اور حکم تھا کہ میں اخبار پر ضرور آؤں ۔۔۔ ایک دن وہ اخبار پر ہمیشہ کی طرح مصروف تھے اور ساتھ ہی وہ فون پر کسی سے باتیں بھی کر رہے تھے ۔۔ اور مجھے ان سے کسی خبر کا زکر کرنا تھا لیکن ان کے پاس وقت نہیں تھا ۔۔ میں نے مصنوعی غصے سے کہا “ بس ایک میں ہی بیکار ہوں “ ۔۔۔ بابا تو جیسے چونک گئے ۔۔ سب کام اور فون چھوڑ کر کہنے لگے این این بس اسی موضوع پر لکھو ۔۔۔ “بس ایک میں ہی بیکار ہوں“ ۔۔ پر میں کیسے ؟؟ ۔۔۔ میں نے کالم کبھی لکھے ہی نہیں ۔۔ انہوں نے کہا ۔۔ میں یہی بیٹھا ہوں ۔۔اور تم لکھو ۔۔
انہوں نے میرے ہاتھ میں کالمی قلم پکڑا ہی دیا اور مجھ سے ایک ایسا کالم لکھوایا جس کو سب ابھی بھی یاد کرتے ہیں ۔۔۔ بس اس دن سے میں نے جناب صفدر ہمدانی کو اپنا “ بابا “ مان لیا ۔۔ وہ میرے قلمی مرشد ہیں ۔۔ انہوں نے میری تربیت کی ہے ۔۔۔ مجھ سے وہ کالم لکھوائے ہیں جو بابا کی زبان میں “ مضبوط“ کالم ہیں ۔۔ اب میں سانپوں کی بل میں گھس جانے کی جرات لے آئی تھی ۔۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب آپ کے سر پر کوئی ایسا ہاتھ ہو جس میں شفا ہی شفا ہو ۔۔۔
میں نے غزلیں نظمیں کہیں ۔۔ سلام نوحے لکھے ۔۔ حمد و نعت مبارک لکھی ۔۔۔ سب کچھ بابا کی وجہ سے ممکن ہوا ۔۔۔ مرشد ساتھ ہو تو ساری منزلیں آسان ہو جاتی ہیں ۔۔۔ جب بھی کسی خیال کو لکھنے میں ۔۔ کسی خیال کو سوچنے میں مجھے مشکل ہوتی ہے میں بابا کی باتیں یاد کرتی ہوں ۔۔ ان سے فون پر تبادلہ خیال کرتی ہوں ۔۔ پھر وہ مجھے ایسے سمجھاتے ہیں کہ مجھے ایک ہی بات کے کئی اور در کھلتے نظر آتے ہیں ۔۔ انہوں نے میری تحریروں کو اس طرح سے سنوارا ہے کہ مجھے کتابوں میں زندہ کر دیا ہے ۔۔۔
بابا ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی ہیں ۔۔ میں نے ان سے باتوں ہی باتوں میں کئی درسی کتب کا مطالعہ کیا ہے.. کئی لفظوں کے صحیح ہجے اور تلفظ سیکھے ہیں ۔۔ میں روزانہ ایک روشن خیال متوازن درویش سے ملتی ہوں جو ہر بار میرے اعتقاد اور ایمان کو مظبوط کرتا جاتا ہے ۔۔ انہوں نے ہی نے مجھے یہ شوق اور احساس دلایا کہ ہمیں دوسرے ادیان کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے ۔۔ دوسروں کی تعریف میں بخل سے کام نہ لینا ۔۔ ہر ایک کو ہر ممکن کوشش کر کے اس کا حق دینا ان کا خاصا ہے جو وہ ہر ایک میں عملی طور منتقل کرتے رہتے ہیں ۔۔ جس کے احسانمند ہوں اسے ہمیشہ یاد کرنے کے ہنر سے آباد بابا ایک بہت ہی نرم دل انسان ہیں جو جلدی سے اداس بھی ہو جاتے ہیں ۔۔ انہیں منفاقت اور جھوٹ سے نفرت ہے ۔۔ اس کے لئے وہ برسوں کے یارانے بھی چھوڑ سکتے ہیں .
بابا بے حد مقناطیسی شخصیت کے مالک ہیں . انتہائی سادگی کے ساتھ پر مزاح اتنے کہ چپکے چپکے کچھ نہ کچھ کمنٹس کرتے رہیں گے .. خود تو پرسکون جیسے کوئی بات کی ہی نہ ہو اور ساتھ والا ہنس ہنس کر گرنے لگتا ہے .. بابا بچوں کے ساتھ بچے اور بڑوں کے ساتھ بزرگ بن جاتے ہیں . یہ میں سب اس لئے جانتی ہوں کہ بابا میری بیٹی آمنہ کے بہت پکے والے دوست ہیں .. اور اس کے ساتھ میرے ابا جی کےساتھ بھی ان کی خوب بنتی ہے … مجھے بابا کے اندر ان کی شگفتہ طبعیت بہت پسند ہے .. بات سے بات نکالنا تو سب کو آتا ہے لیکن بات کے اندر سے بات کو نکالنا بابا کو خوب آتا ہے … اس کے ساتھ جب وہ کرداروں کے حساب سے مختلف آوازیں نکال کر پورے صوتی تاثرات کے ساتھ کو ئی بات سناتے ہیں تو یقین جانئے ایک سمابندھ جاتا ہے .. اور بابا کو سننے کے ساتھ ساتھ انہیں دیکھتے رہنے کو بھی دل کرنے لگتا ہے …
میں نے ان میں ایک ذمہ دار شوہر کو بھی دیکھا ہے جب آپا ماہ پارہ بیمار تھیں تو وہ ساری رات جاگتے تھے کہ کہیں آپا کو انہیں پکارنے کی تکلیف سے نہ گزرنا پڑے ۔۔ گھر کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور کام کے لئے انہوں نے خود کو کبھی بڑا نہیں سمجھا ۔۔۔ بابا بہترین کھانا پکاتے ہیں ۔۔ خاص طور پر ماش کی دال ، شامی کباب اور حلیم ان کے پسندیدہ کھانے ہیں تو پکاتے بھی سب سے اچھا ہیں ۔۔ اور بابا برتن بھی دھوتے ہیں ۔۔ گھر کی صفائی بھی خود کرنا پسند کرتے ہیں ۔۔ انہیں نفیس کپڑے ۔۔ اچھی پرفیومز کے ساتھ نفیس سادہ سے فریم کی عینکیں بھی بہت پسند ہیں ۔۔ کہیں بھی جائیں خاص طور پر مجالس میں فیروزہ اور عقیق ضرور پہنتے ہیں ۔۔ منبر پر جب ہوتے ہیں تو صرف آقا کے غلام ہوتے ہیں ۔۔ ظاہری علاماؤں اور مولویوں والی ہیت سے دور رہنے کی ہر ممکن کوشش کرنے والے جہاد پرست انسان ہیں ۔۔ جن کا رستہ مشکل ترین ہے ۔۔۔ اور ان دوست انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ۔۔
انتہائی پرشفقت والد ہیں ۔۔ محمد اور زہرا کے ساتھ بے تکلف دوستوں کی طرح باتیں کرنا انہیں بہت پسند ہیں ۔۔ انہیں سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی ان سے سوال پوچھتا ہے ۔۔ کیونکہ مولا علی فرماتے ہیں کہ سوال آدھا علم ہے ۔۔ اسی سنت کو نبھا نے کے لئے ملکوں ملکوًں پھرتے ہیں اور اپنے علم کی شمع کو جلا کر آ جاتے ہیں اور جانے کیسے ایک ایسا ہنرمند ڈھونڈ لیتے ہیں جو اس شمع کی حفاظت پر مامور کر آتے ہیں ۔۔ ان پر یہ اللہ کریم کی پنجتن پاک کے صدقے خاص عنایت ہے ۔
بابا بہترین دوست بھی ہیں ۔۔ جن پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔۔ ان سے کوئی بات کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے ۔۔ ان کے اندر ایک “ آسرا“ ایک “ پناہ گاہ “ کی طرح ایک خاص مہمان خانہ ہے جہاں لوگ جتنا چاہے قیام کریں ۔۔۔ اور لوگ جی بھر کر ان کی میزبانی کا لطف لیتے ہیں ۔۔
بقول انکے وہ بھی انسان ہیں اور ان میں بھی خامیاں ہیں ۔۔۔ بڑی محبت سے ہر ایک پوچھتے نظر آتے ہیں کہ انہیں ان سے آگاہ کیا جائے ۔۔۔ مجھے صرف بابا سے یہ کہنا ہے کہ آپ کسی بھی کام کا سب سے پہلے منفی پہلو مت سوچا کریں ۔۔ جانتی ہوں کہ یہی صحیح ہے لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا ۔۔ کیونکہ پھر مجھے پراجیکٹ بھول جاتے ہیں ۔۔۔
بابا شاعر اور شاعر اہلبیت ہیں ۔۔ مرثیہ ایسے لکھتے ہیں جیسے ان پر اتر رہا ہو ۔۔ اس وقت انکی شکل پر ایک نورانیت ہالہ کر لیتی ہے ۔۔ ان کی آنکھوں میں اس وقت صرف اہل بیت کی محبت رہتی ہے۔۔ ان کے قلم میں جیسے سمندر سانس لیتا ہے ۔۔ نوحے سلام لکھنا ۔۔ جیسے وہ پیدا اسی کام کے لئے ہوئے ہوں ۔۔ کالم لکھنا ، تحقیق کرنا ان کا من پسند کام ہیں ۔۔
بابا کی مجھے ہر دم یہ تاکید رہتی ہے کہ ۔۔۔
1.کوشش کے ساتھ سچ بولو ۔۔اگر سچ بولتے ہوئے کسی دشمن کی کسی خوبی کا اعتراف بھی کرنا پڑ جائے تو کھلے دل سے کرو ۔۔
2. اگر اداس ہو جاؤں تو ہمیشہ کہتے ہیں کہ زندگی “ فروٹ چاٹ “ کی طرح ہوتی ہے جس کے کسی رنگ اور زائقے سے نہیں بچا جا سکتا ۔۔
3مطالعہ وسیع کرو ۔۔ تم آج کل کوئی کتاب نہیں پڑھ رہی ۔۔ اگر کہدوں کہ پڑھ رہی ہوں تو وہیں سب کچھ پہلے سے آخری صفحے تک پوچھ لیتے ہیں ۔۔
4. اپنے گھر کی حفاظت کرو ۔۔ بچوں کی تربیت پر خاص فکر رکھنے کی تاکید روز جیسے ایک دوا ہی طرح ہے جو ہر حال میں کھانی ہی پڑتی ہے ۔۔ان کے نزدیک جو گھر میں اچھا نہیں ہے وہ کسی کے ساتھ بھی زیادہ دیر تک اچھا نہیں رہ سکتا ۔۔
.تمہارے حسن سلوک کے سب سے زیادہ مستحق تمہارے اپنے گھر والے سب سے پہلے آتے ہیں
5.ایک انسان میں صرف برائیاں ہی نہیں ہو سکتی ۔۔ دونوں رخ سے انسان کو دیکھنا سیکھو ۔۔
6.کسی کی مدد اور کسی سے وعدہ کرتے وقت اپنی حثیت کا ایماندارانہ جائزہ ضروری ہے کہ غلط امید دلانا اور جھوٹا وعدہ کرنا سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں ۔
7. اپنی بات متعلقہ شخص تک ضرور پہنچاؤ اور خؤد میں اتنا حوصلہ اور ظرف بھی رکھو کہ اس کی بات کو سن سکو ..
8.اکثر کہتے ہیں کہ دوسروں کی بات کو بہت دھیان سے سنا کرو ایسے جیسے تمہیں کوئی سن رہا ہو ۔۔
9 .اختلافات کے ساتھ جینا سیکھو ۔۔ ہمیں اسی دنیا میں رہنا ہے ۔۔ سو نبھاہنے کا سوچا کرو ۔۔
ایسی ہی کئی ہزار اور باتیں ۔۔۔
بابا کی محنت اور لگن عالمی اخبار کے ایک ایک صفحے پر دیکھی جا سکتی ہے ۔۔۔
رہی بات میر کارواں ہونے کی ۔۔ تو میر کارواں ہونا انہیں ہی سجتا ہے جس کے پاس وقت کا ایک ایک پل بٹا ہو ۔۔ جو رات کو صرف 4 گھنٹے سوتا ہو ۔۔ اور باقی سارا وقت لفظوں سے عملی عبادت کرتا ہو ۔۔ قلمی جہاد کو ہر دم تیار رہتا ہو ۔۔ اس کو اپنے علم و عمل کی شمع جلائے رکھنے میں مشکلات اور دشمنوں کی تعداد میں اضافہ مسرور فرحاں رکھتا ہو ۔۔ جسے اپنے دوستوں پر فخر ہو ۔۔ جو معیار کو تعداد پر ترجیع دیتا ہو ۔۔ جس کے اپنے اصول اور نظریے ہوں جن کے پیچھے علم ٹھاٹھیں مارتا ہو ۔۔ جس کے ہاتھ میں سانپ دبا ہو ۔۔آنکھوں میں جیت لینے کی چمک ہو ۔۔ جس کے لبوں پر ایک پروقار سے مسکراہٹ رہتی ہو ۔۔۔ جو شجیع ہو اور پیغام شجاعت دیتا ہو ۔۔ وہی میر کارواں ہو سکتا ہے ۔۔۔ اور ہم سب وہ خوش نصیب ہیں جو ہمارے میر کارواں قابل صد احترام جناب صفدر ہمدانی ہیں
ماشاءاللہ۔ بہت بہت مبارک ہو۔ خدا آپکا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔ آمین۔
بابا آپکو بہت بہت سالگرہ مبارک
اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا مسکراتا رکھے
آمین
لو جی یہ خبر یہاں بھی پہنچ گئی؟ یاد ہے نا بندر نے بھی اخبار دیکھ کر یہی پوچھا تھا۔ خیر آپ سبکی محبتوں کا قرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ابھی ابھی شاہین نے کویت سے فون کیا اور یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی ٹیلی فون سے باہر نکل آئیں گی۔ سلامت رہیں آپ سب۔ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ شکریہ بہت بہت
جناب صفدر ھمدانی صاحب
ہم سب کی جانب سے سالگرہ کی دلی
مبارک باد قبول فرمائیٍں
خداوند آپ کو صحت و تندرستی سے مالا مال کرے اور آپ ہم سب کے لیئے یونہی مثلِ ترقی ِ اردو بنے رہیں(آمین)
منجانب: عارف نقوی، عشرت معین ظہیر سیما ، سیدسرور ظہیر غزالی، سید انور ظہیر رہبر برلن، جرمنی
بندر نے ہمارا اخبار پڑھا … اتنی ترقی ….
بھائی انور ظہیر ہم سب کے رہبر بہت بہت شکریہ
آپ تو ڈاکٹر ہیں اور آپکو معلوم ہو گا کہ بندر تو دوسروں کو بولنا سکھلانے کے کام بھی آتے ہیں. اخبار پڑھنا تو بہت معمولی بات ہے
آج تو نہیں لیکن پھر کسی دن بندروں کی خلقت اور انکی اقسام پر بات ہو گی ضرور
یہ ہمیشہ ایک مسلہ رہتا ہے کہ کونسی سالگرہ ہے۔ اکسٹھ پورے ہوگئے اس مالک کے کرم سے اور باسٹھویں میں قدم رکھا۔تو کونسی سالگرہ ہوئی۔سال میں گرہ لگی ہے نا۔لیکن کونسی؟
بابا جی کو دل کی گہرائیوں سے ڈھیروں دعائیں اور دلی مبارکباد ۔۔۔۔۔
بابا آپ کا بے حد شکریہ جو آپ نے ہم سب کو ایک خاندان کی طرح سمیٹ رکھا ہے ۔ ہمیں اچھا برا ہر وقت سمجھاتے رہتے ہیں ۔۔ اور یوں ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ دنیا کے سرد گرم سب کچھ سکون سے گزر جاتے ہیں ۔۔ آپ کے لئے صحت و سلامتی کی بے شمار دعائیں ۔۔
ظہیر بھائی آپ تو پورے برلن کے ساتھ تشریف لائے ہیں .. واہ جی واہ .. بات ہوئی نہ
آغا جی بہت بہت مبارک ہو آپ کو سالگرہ کا دن بس پاکستان سے صرف ۳ برس ہی چھوٹے ہیں آپ ، مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان ابھی بھی بچہ ہی ہے اور آپ علم و عمل کا ایک ایسا سایہ دار اور پھل دار درخت ہیں جس سے نسل در نسل لوگ بلا تفریق فیضیاب ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے
ھماری دعا ہے کہ اللہ پاک سلامت رکھے آپ کو سو سال اور ہر سال کے ہوں دن ہزار آمین
میری دلاری شاہین تمہارا مسیج مل گیا تھا .. خدا جانے کہ میرے موبائل کو کیا مرض لاحق ہے مان کر ہی نہیں دے رہا .. ابھی سارے contacts گنوا کر بیٹھی ہوں .. اب یہ بیل نہیں دیتا .. اب تک کہوں گی کہ بہن نیا لے لو .. تو میری شہزادی نیا لیا تھا وہ نجیب نے لے لیا .. لو جی اب کیا کروں .. ہاں میں انشاللہ جلد تمہیں فون کرونگی .. اور تمہارا پیغام اسی وقت پہنچا دیا گیا تھا .. سکون سے اپنے کام نمپٹاؤ ..
سلام علیکم
سال گرہ کی بے شمار مبارک بادیاں قبول فرمائیں ، اللہ ہمیشہ آپ کو خوش و خرم رکھے اور دونوں جہان میں سرفراز فرمائے۔
اسلام علیکم
صفدر بھا ئ سالگرہ بہت بہت مبارک
اللہ آپ کو صحت اور تندرستی کے ساتھ زندگی عطا کرے ۔اور آپ یوں ہی خو شیاں سمیٹتے رہیں ۔
عالم آرا
ماشاءاللہ
بابا بہت بہت مبارک ہو۔
اللہ آپکا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔
آمین
اس صدی کہ ایک عظیم انسان جناب ھمدانی کی اکسٹھویں سالگرہ پر ہدیہ تبریک منجانب شمس جیلانی گر وہ قبول فرما ئیں
مجھے یقین ہے راضی خدا ہے تم سے ھمدانی
جہاں نے زیست میں یہ قدر ہے جوپہچانی
تمہاری عظمتیں اوراحترام دل میں ہے
مثالی چیز عطا کی تمہیں ہے جراء تِ ایمانی
آپ کو سالگرہ مبارک ہو – ایسی کئی سالگرہ منایں. بچوں کی ہر خوشی دیکنی نصیب ہو امین –
اللہ صفدر ہمدانی صاحب کو ایسی بے شمار سالگرہیں منانا نصیب کرے : آمین
میری طرف سے دلی مبارکباد
نگہت آپ کہاں ھیں بابا کی سالگرہ مبارک ھو اور آپ نے تو اپنی خوبصورت تحریر کے ذریعے مبارک باد دے ھی دی سلامت رھیئے
آپ سب احباب کا نام بنام شکریہ۔اس دور میں کسی کے لیئے چند لمحے نکالنا اور پھر لکھنا مجھے علم ہے کتنا مشکل ہے۔ خاص شکریہ منظور قاضی صاحب کہ وہ عالمی اخبار کے بے لوث کرم فرما ہیں۔فاطمہ ابرار کا شکریہ کہ وہ لکھتی کم ہیں لیکن بہت ستھرا۔سید انور ظہیر رہبر،شمس جیلانی،بھائی جعفر،شعیب ہم نام،عابدہ از سویڈن،بھائی ترازی،عالم آرا صاحبہ،خواجہ اکرام،ڈاکٹر نگہت نسیم کا شکریہ۔اور ان سب کا خاص طور پر جنکے پاس لکھنے کا وقت یا حوصلہ نہیں۔ اگر زندگی نے وفا کی اور سانس کا یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ دن اور موقع اب اگلے برس آئے گا۔
صفدر بھا ئ سالگرہ بہت بہت مبارک
شکریہ ارتقا حیات بلکہ تسلسل حیات
اسلام و علیکم
ہمیشہ دیر کر دیتی ہوں ، میں ہر اک کام کرنے میں ۔
معافی کی طلب گار ہوں ۔ میرا ہاتھ جل گیا تھا جس وجہ سے خوشی کے اس موقع پر میں لیٹ ہو گئی ۔
بہت محترم اور ہر دل عزیز سر ہمدانی کو اُن کی سالگرہ پر بہت بہت سی دُعائیں ۔ اور اللہ سے عرض ہے کہ سر کا مہربان سایہ ہم سب پر ہمیشہ بنا رہے الہی آمین ۔
شکریہ سیدہ ثمرین بخاری
ثمرین اب تمہارا ہاتھ کیسا ہے .. کیسے جل گیا تھا .. اللہ رحم کرے .. اپنا خیال رکھا کرو … یہ کیا بات ہوئی بھلا ..
اسلام و علیکم
پیاری آپی
جشن کی تیاریاں ہو رہیں تھیں میلاد وغیرہ کُچھ دن پہلے سے ہی شروع ہو گئے تھے عید ِ غدیر کے حوالے سے تو بس کباب تلتے ہوئے سامنے رکھا فون بجا ایک لمحے کی بات تھی کہ دھیان ہٹا اور تیل ہاتھ پر گر گیا ۔ آپ کی دُعا سے اب بہتر ہے بچ چھالے بنے ہوئے ہیں جو ٹھیک ہو جائیں گے ۔
آپ نے پوچھا بہت شکریہ ، بس دُعاؤں میں یاد رکھیں ۔
آپ سب کی دُعا کی طالب
سیدہ ثمرین بخاری