پیپلز پارٹی نے شاید سیاسی خود کشی کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ از۔ صفدر ھمدانی

محترم المقام صفدر ہمدانی اپنے اس کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔
“ اسوقت جب میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں تو ایوان صدر میں صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کی ملاقات ہو رہی ہے، اگلے روز بدھ کو کابینہ کا اجلاس طلب کر کیا گیا ہے، حکومت نے اپنے اتحادیوں کو بھی طلب کر لیا ہے، ٹی وی ٹاک شوز میں وہی بندروں کا تماشہ جاری ہے اور پیپلز پارٹی والے چار سال سے جو رٹے رٹائے فقرے بول رہے ہیں انہی فقروں کی جگالی کی جا رہی ہے کہ عدالت جانبداری کر رہی ہے، صرف حکومت کے کیسز ہی کیوں نظر آتے ہیں، خط لکھنا بے نظیر کی قبر کا ٹرائل ہے، انہیں عوام نے منتخب کیا ہے، عدالت باقی کیسوں کو سامنے کیوں نہیں لاتی، ہم قربانیاں دے کر آئے ہیں، جب بھی ہماری حکومت آتی ہے ہمارے خلاف سازشیں ہوتی ہیں، ہماری کوڑوں،پھانسیوں اور شہادتوں کی تاریخ ہے وغیرہ وغیرہ “

پھر ایک جگہ لکھتے ہیں “ یہ احساس تو خود جماعت اور حکومت کو بھی ہے کہ چار سال کے عرصے میں ان عوام کے لیئے تو کچھ بھی نہیں کیا گیا جن سے ووٹ لینا ہے۔ ان عوام کو اس تمام عرصے میں کیا ملا۔ نہ بجلی ہے،نہ صاف پانی، نہ گیس، پی آئی اے تباہ، ٹرین چل نہیں رہی، ادارے جیسے ساکت و جامد ہو چکے ہیں، آئین اپنا سینہ پیٹ رہا ہے، قانون دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے، لیکن حاکم اندھے گونگے بہرے ہیں۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کے لیئے سب سے بہترین آپشن یہی ہے کہ وہ ایسی صورت حال پیدا کر دے کہ کرے تو سیاسی خود کشی لیکن اسے سیاسی شہادت کا نام دے دیں اور پھر روتے ہوئے عوام کے سامنے چلے جائیں کہ انکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ظلم ہوا ہے۔“
پورا کالم پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے
ہرپاکستانی کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ پی پی پی اپنے پرانے داؤ پیچ لڑا رہی ہے ۔۔باقی جماعتیں بھی اپنا منجن بیچنے میں لگی ہوئیں ہیں ۔۔ ایسے میں عوام کو کیا کیا کرنا چاہئے ۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عوام پی پی پی کو ایک بار پھر آزمانے کا ارادہ کر بیٹھی ہے ؟؟؟

26 thoughts on “پیپلز پارٹی نے شاید سیاسی خود کشی کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ از۔ صفدر ھمدانی”

  1. خواہش ہے اسکو طاقت مطلق کی اسقدر
    تختی پہ اسکے گھر کی خدا ہے لکھا ہوا
    (صفدر ہمدانی)
    آپ کے اس شعر سے زیادہ اچھی ان ظالموں کی تشریح نہیں ہو سکے گے ۔۔ بہت ہی عمدہ اور بر وقت
    سلامت رہئے

  2. سچ تو یہی ہے جو آپ نے لکھا کہ “ ان حاکموں کا کیا ہے اور انکا اس ملک میں ہے ہی کیا۔ انکے بنک بیلنس باہر، انکے بچے باہر،انکے گھر باہر۔ انکو تو ایک اٹیچی کیس بھی نہیں اٹھانا، اور ایسے بدبختوں کے لیئے لندن سے بہتر کوئی جگہ نہیں جہاں ساری دنیا سے اپنے ملکوں کو لوٹنے والے آ کر یہاں آباد ہو جاتے اور سرکاری مہمان بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے نوے فیصد سیاست دانوں کے لیئے تو یہ لندن ‘‘دارالامان‘‘ ہے۔ “

    لیکن اب سوچنے اور سمجھنے کی باری پاکستانی عوام کی ہے جن کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں صورتوں میں حکمرانوں کے ووٹ انہیں کے حق میں کاسٹ ہو جاتے ہیں ۔۔ لیکن پتہ نہیں اس بار لگتا ہے جیسے بیداری کی ایک لہر سی اٹھی ہوئی ہے ۔۔ شاید اس بار پاکستان کا دامن ان ظالموں سے پاک ہو ہی جائے ۔۔آمین

  3. لیکن پتہ نہیں اس بار لگتا ہے جیسے بیداری کی ایک لہر سی اٹھی ہوئی ہے ۔۔ شاید اس بار پاکستان کا دامن ان ظالموں سے پاک ہو ہی جائے ۔۔آمین
    مگر کیا جب سے پاکستان بنا یہئ نہی ہو رہا ایک آتا ہے لوٹ کا بازار لگاتا ہے پھر دوسرے کی باری یا آرمی۔۔

  4. السلام علیکم
    حالات و واقعات تو بتا رہے ہیں کہ احتساب کا شکنجہ کسا جانے والا ہے اور اس کی گرفت میں صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ بہت سے بڑی بڑی دستار والوں کی گردنیں بھی آئینگی ، صفائی ستھرائی کا عمل شروع ہوا ہی چاہتا ہے ، اور اس بار صفائی ستھرائی کا عمل اپنے اصل مقاصد کے تحت کی انجام پائیگا ، کوئی گڑ بڑ نہیں ہو گی اور جو کرنا چاہے گا وہ بھی اس عمل کا ایندھن بنے گا ،
    ممکن ہے انتخابات ابھی کچھ عرصہ نہ ہو سکیں کہ فل حال تو انتخابی فہرستیں ہی ترتیب نہیں دی جا سکی اور پھر 18 ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن کا قیام بھی ابھی مکمل نہیں ہوا ۔
    آصف احمد بھٹی

  5. آج کی تازہ خبریں پڑھئے اور کڑی سے کڑی ملاتے جایئے .. آُپ کو سب کچھ سمجھ آ جائے گا …
    پہلی خبر
    وزیراعظم گیلانی نے وزرات دفاع کے سیکرٹری خالد لودھی کو برطرف کر دیا ہے اور نرگس سیٹھی کو سیکرٹری دفاع مقرر کیا گیا ہے
    دوسری خبر
    پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا
    تیسری خبر
    آئي ايس پي آر کي جانب سے جاري کئے گئے بيان ميں کہا گيا ہے کہ وزيراعظم کي جانب سے جنرل کياني اور جنرل پاشا پر لگائے گئے الزامات سنگين نوعيت کے ہيں اور دونوں افسران پر ان سے زيادہ سنگين الزامات نہيں ہوسکتے، جن کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ وزيراعظم نے آرمي چيف اور سربراہ آئي ايس آئي سے متعلق اس وقت انٹرويو ديا جب جنرل کياني چين کے دورے پر تھے? وزيراعظم گيلاني نے آرمي چيف اور آئي ايس آئي چيف کے سپريم کورٹ ميں جمع کرائے گئے بيانات کو غير آئيني قرار ديا تھا.
    چوتھی خبر
    ملک میں اداروں کا تصادم سنگین صورت حال اختیار کر رہی ہے. کور کمانڈرز کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہے اور بریگیڈیر سرفراز علی کو ٹرپل ون بدیگیڈ کا کمانڈر مقرر کر دیا ہے

    اور اب پڑھئے بابا کا لکھا ہوا کالم .. آپ کو سب سمجھ آ جائے گا کہ پیپلز پارٹی اس سیاسی خود کشی کے بعد کیوں ایک اور سیاسی شہادت چاہتی ہے

  6. آصف آپ بلکل صحیح کہہ رہے ہیں ۔۔ابھی بابا سے بھی اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی انہوں نے انتہائی خوش آئیند بات بتائی کہ اس بار پیپلز پارٹی شہید نہیں ہو سکے گی ۔ اور نہ ہی فوج ” کو” کر کے آ ئے گی ۔ بلکہ پیپلز پارٹی کو احتساب کے زریعے نا اہل قرار دے کر عدالت فوج سے وقتی طور پر حکومت کرنے کی درخواست کر سکتی ہے ۔ اس سے نہ تو آئین میں کوئی تبدیلی آئے گی اور نہ ہی مارشلاء لگے گا یعنی کسی پارٹی کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا پر پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ نقصان ہو گا جواب اس کا مقدر بن چکا ہے ۔ پارٹی کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ پھر انہوں نے عوام کے لئے کچھ کیا نہیں ۔ لوگ مہنگائی کے ہاتھو ں اس قدر تنگ ہے کہ حکمرانوں کو سڑکوں پر مار دیں گے یا خود چوراہوں پر اجتماعی خود کسی کر لیں گے ۔ سوچئے پہلے تو مہنگائی سے صرف غریب پریشان تھے اب امیر بھی ہیں جن کے بجلی کے بل 60،000 تک آ جاتے ہیں اور گیس کے ایک لاکھ تک ۔۔۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟؟ آخر یوم آخر نے تو آنا ہی ہوتا ہے ۔

  7. اسلام علیکم
    مجھے بھی اس دفعہ کچھ تبدیلی کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے ۔کہ جب جوانون میں کچھ شعور اجاگر ہو تو تبدیلی کی رمق پیدا ہوتی ہے ۔
    اگر ایک اور موقعہ مل رہا ہے تو اب عوام کو بھی ہوش کے نا خون لینے چاہیں ، ان کی قربانیوں کے بدلے دیتے دیتے تو ہم تباہی کے کنارے پجنچ گئے لیکن ملک کسی صورت ان کی قربانیوں کا صلہ چکا نہیں پایا بقول ان کے ۔ اب وقت ہے کہ اس خاندانی سیاست سے بھی چھٹکارا پانے کی سوچی جائے ۔کہ ملک کوئی کھیل نہیں کہ باری باری کھیلا جائے ۔
    دعا ہے کہ اللہ ہماری کوتاہیون کو معاف کر دے اور ہمیں اچھے اور با وقار حکمران عطا کر دے ۔
    ہر وقت دھڑکا لگا ہے کہ نہ جانے کیا ہوگا ۔
    اس سے بڑا سچ کیا ہوگا جو صفدر بھائی نے کہا ۔
    اندھے،گونگے اور بہرے حاکم۔ صرف اپنی ناک تک دیکھنے والے

    عالم آرا

  8. وزیر اعظم گیلانی نے ایک بار پھر فوج کے خلاف بیان دے کر ایک تیر سے دو نشانے لگانا چاہے ہیں ۔ایک طرف جرنل کیانی پر نا ہلی کا الزام لگا کر ہٹانے کا منصوبہ ۔ اگر فوجی جرنل گھر نہ جا سکے تو کم از کم پھر صرف فوج کو اتنا اکسا دیا جائے کہ وہ پیپلز پارٹی کو ” کو” کر لیا جائے اور نا اہلی کا الزام لگا کر گھر بھیج دے ۔ تاکہ آنے والے الیکشن میں پیپلز پارٹی پھر وہی رونا رو سکے کہ ہمیں ” ٹینور ” پورا نہیں کرنے دیا گیا ۔۔ ہم کیا کریں ۔
    مجھے تو ڈر ہے کہ مظلوم بننے کے لئے ” بینیظیر” کی طرح کسی کو ” شہید ” ہی نہ کر دے

  9. ہاں پیپلز پارٹی کی روایات بھی آپکے اِس ڈر کی تائئد کر رہی ہے۔۔فوج کے خلاف بیان دے کر یہ کوشیش ہے۔ کہ فوج اب بیرکوں سے نکل کر اِنکے سر پر سوار ہو اور ملک کی رہی سہی اکانمی کو بھی صاف کر دیا جائے۔ کون سنبھالے گا یہ اہلیت کس میں ہے؟ اِتنے مسائل ڈر ہے کہ اب عوام بے کابو ہو اور سب کو جوتے مارے کہ کیا حال ہوا ہے ملک کا۔

  10. اللہ کرے اس بار پی پی پی مکمل طور پر ختم ھوجاۓ ، زرداری تو پھر دبئی بھاگ رھے ھیں ، شہید بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا یا تھا ،موجودہ صدر نے عوام سے یہ ساری چیزیں چھین لیئں ،اور ان پر گیس بجلی نقص امن بے روزگاری جیسی معتدد آفات بھی ڈال دی ھیں ، ھماری تو بس ایک ھی دعا ھے کہ میرے پاک وطن میں بسنے اور رھنے والے 17 کڑور پاکستانیوں کا دینا کی ھر معدن سے زیادہ قیمتی ھے، اب کے حکمرانوں کا خون بہے گا ، ابکے انکے گھروں میں آگ لگے گی ،

    کیا کروں دل سے اپنے ملک کے غاصب حکمرانوں کے لیے بددعا نکلتی ھے ،

    غصے میں کچھہ لکھا بھی نیہن جاتا ھے، اور پھر ھم سب کے بہت محترم اور بہت مشفق اور مکرم محترم المقام صفدر ھمدانی صاحب نے جو بات کہہ دی ھے ،اس کے بعد کچھہ کہنے کی گنجائش کہاں رھتی ھے

    “ یہ احساس تو خود جماعت اور حکومت کو بھی ہے کہ چار سال کے عرصے میں ان عوام کے لیئے تو کچھ بھی نہیں کیا گیا جن سے ووٹ لینا ہے۔ ان عوام کو اس تمام عرصے میں کیا ملا۔ نہ بجلی ہے،نہ صاف پانی، نہ گیس، پی آئی اے تباہ، ٹرین چل نہیں رہی، ادارے جیسے ساکت و جامد ہو چکے ہیں، آئین اپنا سینہ پیٹ رہا ہے، قانون دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے، لیکن حاکم اندھے گونگے بہرے ہیں۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کے لیئے سب سے بہترین آپشن یہی ہے کہ وہ ایسی صورت حال پیدا کر دے کہ کرے تو سیاسی خود کشی لیکن اسے سیاسی شہادت کا نام دے دیں اور پھر روتے ہوئے عوام کے سامنے چلے جائیں کہ انکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ظلم ہوا ہے۔

    اللہ میرے مللک کی حفاظت فرماۓ آمین ثمہ امین

    بس ایک آدھ دن میں فیصلہ ھونے والا ھے، اللہ پاک اپنا کرم کرے ھماری قوم پر

  11. حالات و واقعات تو بتا رہے ہیں کہ احتساب کا شکنجہ کسا جانے والا ہے اور اس کی گرفت میں صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ بہت سے بڑی بڑی دستار والوں کی گردنیں بھی آئینگی ، صفائی ستھرائی کا عمل شروع ہوا ہی چاہتا ہے ، اور اس بار صفائی ستھرائی کا عمل اپنے اصل مقاصد کے تحت کی انجام پائیگا ، کوئی گڑ بڑ نہیں ہو گی اور جو کرنا چاہے گا وہ بھی اس عمل کا ایندھن بنے گا)یہ سب آصف بھٹی صاحب کہہ رہے ہیں .میری دعا ہے اب ایسا ہی ہو .ہماری عوام کو جاگ جانا چاہئے .کب تک ہر پرانے حکمرانوں کی باتوں میں آتے رہیں گے .اپنی عقل کا امتحان بھی لیں کبھی .نعرے لگانے سے کبھی کچھ ہوا جو آج ہو گا …اب انشااللہ یوم آخر آ کر رہے گا .

  12. پیپلزپارٹی کی حکومت کی لگا تار کوشش ہے کہ وہ مختلف حربے اختیار کر کے کسی نہ کسی طرح فوج کو اشتعال دلائے تاکہ مارشل لا لگ جائے اور وہ ایک بار پھر” شہید“ بن جائے اور لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر سکے۔ یہ خواہش مزید شدت اختیار کر جاتی ہے جب چار سال کے بعد بھی حکومت کے پاس کچھ نہیں جو وہ بطور کارکردگی لوگوں کو دکھا سکے اور اگلے انتخابات میں ان کے ووٹوں کی خواست گار ہو۔

    تاہم ایک بات طے ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نہ تو پرویز مشرف ہیں اور نہ ضیاء الحق۔ وہ جمہوریت کو سپورٹ کرتے ہیں اور اسے غیر مستحکم نہیں کرنا چاہتے ورنہ موجودہ حکومت نے جو بڑی حماقتیں کی ہیں وہ کب کے اسے الٹ چکے ہوتے۔ اس کے علاوہ ملک جن بے شمار پیچیدہ مسائل (جن میں سے بہت سے موجودہ حکومت کے پیدا کردہ ہیں)میں گھرا ہوا ہے، کسی بھی مہم جوئی کامتحمل نہیں ہوسکتا۔

    اس وقت بھارت کے علاوہ امریکہ بھی پاکستان کا قطعی خیر خواہ نہیں ہے کیونکہ پاکستان انکل سام کی بولی نہیں بول رہا۔ رہی بات افغانستان کی تو یہ تو پاکستان کے بارے میں وہی بول بولتا ہے جو اسے امریکہ فیڈ کرتا ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا ایک اور بیان انتہائی اشتعال انگیز ہے مگر جنرل کیانی صبر کا دامن نہیں چھوڑنے والے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) احمد شجاع پاشا کے بیانات جو انہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کے بارے میں سپریم کورٹ میں جمع کرائے ہیں وہ قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ انہوں نے ایسا کرنے کے لئے مجاز اتھارٹی (یعنی وزیراعظم اور وزیر دفاع ) سے منظوری نہیں لی۔

    انہیں یہ24 دن بعد سوجھا کہ جنرل کیانی اور جنرل شجاع پاشا نے کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی کام کیا ہے۔ 16دسمبر کو انہوں نے آرمی چیف سے ملاقات کے بعد سرکاری ہینڈ آؤٹ میں کہا تھا کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کے یہ بیانات رولز آف بزنس کے مطابق ہیں اور یہ عدالت عظمیٰ کے نوٹس پرجمع کرائے گئے ہیں۔ اس سے قبل وزیراعظم آئی ایس آئی کو ”ریاست کے اندر ریاست “ کہہ چکے ہیں اور یہ کہ ان کی حکومت ختم کرنے کے لئے سازشیں کی جارہی ہیں تاہم انہوں نے دیکھا کہ ان کے اس بیان (جو ان کے باس صدر آصف علی زرداری نے بڑا پسند کیا) کے بعد بھی فوج نے مارشل لا نہیں لگایا تو انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ مزید اشتعال انگیزی کی جائے تاکہ ان کی اور ان کی پارٹی کی دل کی حسرت پوری ہو جائے اور وہ ایک بار پھر ”سیاسی شہادت“ کا رتبہ پا لیں۔

    مگر یہ خواہش اب بھی پوری ہوتی نظر نہیں آرہی تاہم ان حماقتوں کا خمیازہ وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کو بھگتنا تو پڑے گا ہی۔وہ کیسے ہوگا آئندہ آنے والا وقت بتائے گا۔ جو بھی سیاسی جماعت یا افراد فوج جیسے قومی ادارے کے بارے میں ایسے حربے استعمال کرتے ہیں وہ ایک نہ ایک دن ضرور پچھتاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے لئے وہ وقت زیادہ دور نہیں ۔

    وزیراعظم کا حالیہ بیان بالکل بے معنی ہے کیونکہ اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کہہ چکے ہیں کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے سپریم کورٹ میں بیانات ذاتی اور ایک شہری کی حیثیت سے جمع کرائے ہیں اپنی سرکاری عہدوں کے لحاظ سے نہیں۔ ایسی صورت میں ان بیانات کی مجاز اتھارٹی سے منظوری لینے کی تو ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے اٹارنی جنرل کہہ چکے ہیں کہ وہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کے وکیل نہیں ہیں اور انہیں شاید اپنا علیحدہ وکیل کرناپڑے۔

    میمو گیٹ نے جس طرح حکومت کو جکڑ رکھا ہے  اس کا جینا دوبھر کر دیاہے اور وہ جس قدر حواس باختہ ہو گئی ہے اس کے اقدامات سے صاف نظر آرہا ہے ۔وہ بار بار ایسی باتیں کر رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس اسکینڈل کی تحقیقات نہ ہو سکے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر یہ مسئلہ منطقی انجام کو پہنچ گیا تو حکومت مشکل میں آجائے گی لہٰذا اسی پریشانی کے عالم میں وزیراعظم بار بار اشعال انگیز بیانات دے رہے ہیں مگر یہ سب کرنے کے باوجود نہ تو انہیں شہادت ملی ہے اور نہ ہی میمو تنازع کی تحقیقات رکی ہے۔

    وزیراعظم کا یہ کہنا بھی حقائق کے خلاف ہے کہ عدالت عظمیٰ نے میمو کا سوموٹو نوٹس لیا بلکہ اس کے برعکس9 پٹیشنیں جن میں نون لیگ کے سربراہ نوازشریف کی درخواست بھی شامل ہے، عدالت میں داخل کی گئیں جن پر اس نے کارروائی کی اور تین رکنی جوڈیشل کمیشن بنایا۔ حکومت سرتوڑ کوشش کر رہی ہے کہ کمیشن کو کسی نہ کسی طرح کارروائی سے روکا جائے تاکہ سارا مسئلہ ہی ٹھپ ہو جائے مگر ایسا ہوتاممکن نہیں لگ رہا۔

    کمیشن نے اپنی کارروائی کو کھلا رکھ کر شفافیت کاعمل اپنایا ہے اگر یہ کارروائی کو خفیہ رکھتا تو گوناگوں شک و شبہات جنم لے سکتے تھے اورحکومت کہہ سکتی تھی کہ یہ سب کچھ اس کے خلاف فیصلہ دینے کے لئے کیا جارہاہے۔اب نہ صرف حکومت بلکہ ہر فریق کو مکمل آزادی ہے کہ وہ بات کھل کر کرے وہ بھی قوم کے سامنے۔ اس کے برعکس پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی جو میمو اسکینڈل کی تحقیقات کر رہی ہے نے اپنی کارروائی کو بند کمرے میں رکھا ہے۔

    وہاں فیصلہ غیر جانبدار ہونے کا امکان نہیں کیونکہ جس پارٹی کی اس میں اکثریت ہے وہ جو چاہے گی فیصلہ کرالے گی اور اس میں پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی اکثریت ہے۔ اپوزیشن اقلیت میں ہے۔ دوسری طرف جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ بے لاگ ہو گا جس میں سیاست کا عنصر مفقود ہو گا۔ نہ صرف کمیشن بلکہ عدالت عظمیٰ میں بھی حکومت کی بھرپور کوشش ہو گی کہ تحقیقات کو زیادہ سے زیادہ تاخیر کا شکار کیا جائے۔ اسے شدت سے انتظار ہے کہ مارچ آئے اور اس کی موج ہو جائے۔ مارچ میں جنرل پاشا کی ملازمت میں توسیع ختم ہونی ہے اور ساتھ ساتھ سینیٹ کے انتخابات بھی مکمل ہونے ہیں۔

    اسی کو مدنظر رکھ کر وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ”افواہوں کا موسم“مارچ میں ختم ہو جائے گا یعنی وہ جنرل پاشا جن کو وہ سازشوں اور میمو گیٹ کے پیچھے سمجھتے ہیں کو مزید توسیع نہیں دیں گے اور ایک نیا سپائی ماسٹر تعینات ہو گا جو ان کی مرضی کا ہو گا حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے دوسرے سینیٹ میں حکومت کی پوزیشن بہت مضبوط ہو جائے گی۔

  13. سوال یہ ہے کہ کیا حالات اس سے زیادہ خراب ہوسکتے ہیں ؟
    کیا ایک بار پھر 12اکتوبر1999ء کی تاریخ دوہرائی جائے گی؟
    کیاحکمرانوں نے سب اداروں سے لڑنے کا تہیہ کرلیاہے اور اس کا نتیجہ کیانکلے گا؟
    ایسے بہت سے سوالات اس وقت گردش میں ہیں۔
    اسلام آباد میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور ہر آنے والے لمحے کے ساتھ خدشات میں اضافہ ہورہاہے۔
    اگرکسی کی طرف سے بھی کوئی غلط قدم اٹھالیاگیا تو اصل نقصان عوام کا ہوگا‘ ملک کا ہوگا۔
    حکمرانوںکاکیاہے‘وہ تو سامان لپیٹ کر اور بریف کیس اٹھا کرملک سے باہرچلے جائیں گے جہاں ان کے اثاثے اورجائیدادیں محفوظ ہیں۔
    حکمران عدلیہ اورفوج دونوں کو مشتعل کررہے ہیں۔ یقیناً اس کا نتیجہ بھی سوچ رکھاہوگا۔ وزیراعظم نے چین کے اخبارکو دیے گئے انٹرویومیں پاک فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹرجنرل پرغیرآئینی‘غیرقانونی اقدام کا الزام لگایاہے۔ جس پر پاک فوج کے ترجمان نے انتباہ کیاہے کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
    یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ان دونوں نے عدالت عظمیٰ کے لیے اپنے بیانات وزارت دفاع کو پیش کیے تھے اور یہ اس کاکام تھا کہ مجاز اتھارٹی سے رابطہ کرتی۔ سیکرٹری دفاع کو فارغ کردیاگیا ہے اور ٹرپل بریگیڈکے سربراہ کو تبدیل کردیاگیاہے۔
    یہ تبدیلی کس طرف اشارہ کررہی ہے؟

  14. یہ صورتحال ایک اورخطرناک صورتحال کی نشاندہی کررہی ہے اور اسے عام طورپر انارکی کہاجاتاہے۔ سیاسی جماعتیں ہی نہیں فوج بھی الجھی ہوئی ہے سیاسی قیادت کی طرف سے فوج پر الزامات بھی عائد کیے جارہے ہیں۔ اس لیے جنرل کیانی نے بھی رفقاءسے مشورے شروع کردیے ہیں۔ یہ این آر او وہ ہے جس سی8 ہزار41 مقدمات ختم کیے گئے۔ اس سے صدرزرداری‘ الطاف حسین‘رحمن ملک‘ گورنر سندھ‘ فاروق ستاراوربابرغوری سمیت درجنوں افراد مستفید ہوئے ہیں۔

    پھر بھی یہ لوگ این آر او کو کیوں زیربحث لائیں گے۔ عدالت نے فی الحال چیف ایگزیکٹو اوروفاقی سیکرٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی این آر او فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے کمیشن اور نئے انتخابات سمیت حکومت کو 6 آپشن دیے ہیں۔ حکومت کو مہلت پر مہلت مل رہی ہے لیکن جواباً حکومت خم ٹھونک کرمیدان میں آرہی ہے ۔ مسلم لیگ ن مسلسل مختلف آپشنز پرہی غورکررہی ہے اب بھی اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے میں انہیں اتنی ہی مشکل ہورہی ہے جتنی مجلس عمل کے فیصلے کے باوجود مولانا فضل الرحمن کو تھی۔

    مسلم لیگ ن اگر ایک سال قبل اسمبلیوں سے باہرآجاتی تو صورتحال بہت مختلف ہوتی۔ یہ سچ ہے کہ یہ اقتدارکا کھیل ہے اور جس کو موقع ملتاہے اقتدارکے سنگھاسن پربیٹھنے کے لیے دوڑپڑتاہے۔ مثال کے طورپر ق لیگ‘ جوں ہی مسلم لیگ ن نے اسمبلیوں سے باہرآنے کی دھمکی دی ق لیگ حکومت میں شامل ہوگئی۔ پہلے 3 سال تک مسلم لیگ ن حکومت کو سہارا دیتی رہیں اب مسلم لیگ ق یہ خدمت انجام دے رہی ہے لیکن ن لیگ بھی حکومت کو گرانے والا کوئی قدم نہیں اٹھارہی گویا….یہ بھی ہمارا دینا ہی ہے۔

    ہم سمجھتے ہیں کہ حکمران پیپلزپارٹی حکومتی حلیف جماعتیں اور نام نہاد اپوزیشن بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور افواج پاکستان بھی سیاسی قیادت کے بیان پر ردعمل اور کسی آپشن کا جائزہ لینے کے بجائے سنجیدگی سے غورکریں کہ اس صورتحال سے کس طرح نکلاجاسکتاہے۔ سب سے پہلے تو ہرقیادت کو اپنے آپ کو معاملات کے گھن چکرسے بالاتربناناہوگا۔ یعنی پارٹی لیڈرشپ اور حکومتی قیادت کو الگ الگ کرنا ہوگا۔

    آرمی چیف کو آرمی چیف بن کر سوچنا ہوگا ملک کا حکمران بن کر نہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی محض سیاسی مفادات کی بنیادپر فیصلہ نہ کریں جس طرح ق لیگ نے کیا۔ یا جس طرح متحدہ 4 سال میں 5 مرتبہ حکومت میں شامل ہوچکی ہے جب ناراض ہوئے الگ ہونے کا اعلان کیا اور چند دن میں ساری ناراضگیاں دور ہوگئیں۔ ایک ماہ سے میمواسکینڈل میڈیا اور حکمرانوں کا اولین موضوع تھا لیکن ایک فیصلے نے میمواسکینڈل کو کہیں اٹھاکرپھینک دیا۔

    اب این آر او پربات جاری ہے۔ جنرل پرویزمشرف جو اس این آر او کے جاری کرنے والے تھے اپنے لیے این آر او مانگتے پھررہے ہیں۔ سب کو اپنی فکرہے۔ صدرکو اپنی‘ وزیراعظم کو اپنی‘ پیپلزپارٹی کو اپنی‘ مسلم لیگ ن اور ق کو اپنی اور متحدہ و اے این پی کو اپنی فکرہے۔ تحریک انصاف کہیں سے نالا کچاہوتو اندرگھسنے کے لیے موقع کی تاک میں ہے۔

    میڈیا سارے معاملے کو کھچڑی بناکر پیش کررہاہے ۔ لیکن فوج وزیراعظم اور صدر یہ سب سمجھ لیں کہ اس وقت محض حکومت کی سلامتی مسئلہ نہیں ہے پاکستان کی سلامتی کا سوال بھی درپیش ہے اگر پاکستان ہے توجنرل کیانی جرنیل ہوں گے ….ورنہ….اورپاکستان ہے تویوسف رضاگیلانی وزیراعظم ہیں ورنہ یوسف بے کارواں ہوں گے۔ اور زرداری صاحب تو جوبھی کچھ ہے (پاکستان) محبت کا پھیلاوہے۔

    پاکستان نہ ہوتا وہ مرد اول نہ بنتے تو وہ خود جانتے ہیں کہ کہاں ہوتے۔ میاں نوازشریف تو اتفاق سے جوکچھ ہیں پاکستان سے ہیں۔ اتفاق فونڈری بھی پاکستان سے ہے۔ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے جنون سے نکلیں تو بہت کچھ سوچنے کا موقع ملے گا۔ ان سب کو سوچنا ہوگاکہ پاکستان کو مستحکم کریں۔ اس کے بعد اپنے معاملات دیکھیں۔

  15. ان حالات میں قوم توقع ہی کرسکتی ہے کہ

    قومی تاریخ کے اس نازک مرحلے پر ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس میں ملک اور قوم کی سلامتی ہو مگرعدالتی احکامات اور ہدایات کے حوالے سے حکمران جماعت کا پچھلے دو برسوں کے دوران جو بھی طرز عمل رہا ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ ماضی کے بعض واقعات کی پرچھائیاں ہو سکتی ہیں۔

    یہ حقیقت بھی ہے کہ وطن عزیز میں کئی عدالتی فیصلوں کے ناخوشگوار سیاسی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ نظریہ ضرورت کے تحت غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دینے کے واقعات کو کبھی قابل فخر نہیں گردانا گیا ۔

    حکمراں پیپلزپارٹی کی جانب سے کئی مواقع پر سامنے آنے والا ردعمل اس حقیقت کے باوجودکہ اس پارٹی نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے، انہی واقعات کا عکس نظر آتا ہے ۔ شاید اسی لئے عدالتی حکم میں وزیر اعظم سمیت کئی اہم حکومتی شخصیات کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ دینے سے اجتناب برتا گیا ہے۔

    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکمران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا ماضی قیدو بند سمیت قربانیوں سے بھرا پڑا ہے اور وہ ہمیشہ قربانیوں کے لئے تیار رہتے ہیں مگر زیادہ بڑی قربانی ”ذاتی انا“ کی قربانی ہے جو حکمراں پارٹی کی مفاہمت کی پالیسی سے نمایاں ہے۔ یہ پالیسی عدالتی احکامات کی تعمیل میں کارفرما رہے اور معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے اجتناب برتا جائے تو ملک و قوم کو کئی مشکلات سے بچایا جا سکتا ہے۔

    ہماری دانست میں جمہوریت اور آئین کی سربلندی کے ساتھ موجودہ بحران سے نکلنے کا محفوظ راستہ عام انتخابات کا انعقاد ہے۔حکمراں پیپلزپارٹی کو اپنی حلیف جماعتوں اور اپوزیشن کی مشاورت سے فوری طور پر ان کا اہتمام کرنا چاہئے اور نگراں حکومت کے قیام سمیت تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دینی چاہئے۔ اسی طریقے سے ملک کو بے یقینی کی صورتحال اور عوام کو کرب کی کیفیت سے نکالا جا سکتا ہے۔

  16. اس وقت ملک میں جسٹس منیر، جسٹس ارشاد حسن خان اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بجائے عوامی طاقت سے بحال ہونے والے چیف جسٹس اپنے ساتھیوں سمیت آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لئے سینہ سپر ہیں میمو کیس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا نے کسی قانونی موشگافی کا سہارا لینے کے بجائے عدالتی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے عدالتی حکم پر اپنا جواب اور بیان حلفی داخل کرایا ہے نہ تو عدالت عظمیٰ نے وزارت دفاع کے ذریعے احکامات جاری کئے اور نہ ان دونوں نے وزارت دفاع کے پیچھے پناہ لینے کی ضرورت محسوس کی۔

    وزیراعظم البتہ ان دونوں کے اس عمل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر عدلیہ اور قانون سے سرتابی کی ترغیب دے رہے ہیں۔ عوام مطمئن ہیں کہ اگر کوئی فوجی اقدام ہوا تو آزاد و خود مختار عدلیہ مزاحمت کرے گی۔ چیف جسٹس فوجی حکمران کے سامنے حرف انکار بلند کرنے کی جرأت دکھا چکے ہیں مگر حکومت کی خواہش ہے کہ یہ آزاد منش فعال عدلیہ ایک بار پھر ڈوگر کورٹ کا روپ دھار لے۔ حکمرانوں کے اشارہ ابرو پر فیصلے صادر کرے اور طاقتوروں کا یہ صوابدیدی حق تسلیم کرے کہ وہ جس فیصلے پر چاہیں عمل کریں، جسے چاہیں ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں۔ کوئی صدائے احتجاج بلند نہ کرے۔

    سیاستدانوں بالخصوص پیپلز پارٹی کے قائدین کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ عدالتیں فوجی آمروں کی لاٹھی بن جاتی ہیں موجودہ عدلیہ ایک فوجی آمر کی لاٹھی بننے کے بجائے عصائے موسوی ثابت ہوئی فرعون کو بالآخر راہ فرار اختیار کرنی پڑی اور جمہوریت کو اس ملک میں پروان چھڑھنے کا موقع ملا مگر منتخب جمہوری حکمرانوں سے عدلیہ کی یہ آزادی برداشت نہیں ہو پا رہی وہ اسے ایک بار پھر نظریہ ضرورت پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں حکمرانوں کے موڈ اور مفاد دیکھ کر فیصلہ کرنے کی خوگر۔

    سوال یہ ہے کہ پھر نظریہ ضرورت کے تحت فیصلہ دینے والی عدلیہ کا قصور کیا تھا؟ ان کا یہ سوچنا جرم تھا کہ جابر حکمران کے خلاف فیصلے کا حشر کیا ہو گا اور انہیں جائے پناہ ملے گی تو کہاں؟ سیاستدان تو اس قابل تھے نہیں ان میں سے بیشتر فوجی حکمرانوں کو اپنی وفا داری کا یقین دلا رہے تھے اور باقی ماندہ معافی تلافی، این آر او کے راستے تلاش کرنے میں مصروف۔

    صرف صدر آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی ہی نہیں حکمران اتحاد میں شامل سارے دانا بینا سیاستدانوں کو سوچنا چاہئے کہ اگر کسی کی قانون شکنی، لوٹ کھسوٹ اور مالی جرائم پر فیصلہ کرنے کا اختیار عدلیہ کو نہیں؟ حکمرانوں اور طاقتوروں کو راہ راست پر لانے کا حق عدالت عظمیٰ نہیں رکھتی تو پھر دوسرا کون آئین، قانون، عدل و انصاف کا تحفظ کرے گا؟

    بندوق والے ہی رہ جاتے ہیں۔ کیا ہمارے حکمرانوں کی یہی خواہش ہے۔ شوق شہادت بجا مگر اس ملک، قوم اور جمہوریت نے ان کا کیا بگاڑا ہے کہ شہادت کے شوقین ان سب کے درپے ہیں۔ یعنی ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔

  17. دراصل پیپلز پارٹی کی حکومت نے سپریم کورٹ اور اپنے ہی ماتحت ادارے فوج کو زچ کرکے رکھ دیا ہے۔ دونوں ادارے صبر تحمل اور ضبط و برداشت کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ آج تک کسی کو عدالتی فیصلوں کے نہ ماننے کی جرات نہیں ہوئی۔ ایسا جرات اظہار بھی اس حکومت کا خاصا قرار پایا جس کی کسی ملکی معاملے پر گرفت ہے نہ کوئی پالیسی ملکی و عوامی مفاد میں۔

    این آر او فیصلے پر عمل سے جس طرح انکار کیا جا رہا ہے وہ ملک کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ صدر صاحب فرماتے ہیں کہ این آر او پر عدالت کا نہیں پارٹی کا فیصلہ مانوں گا۔ پارٹی نے فیصلہ صادر فرمایا کہ سوئس حکام کو عدالتی احکامات کے برعکس خط نہیں لکھا جائے گا۔ اس اعلیٰ سطح سے عدلیہ کی بے توقیری کبھی سنی نہ دیکھی۔ میمو کیس پر الگ واویلا۔ جوڈیشنل کمیشن کی فائنڈنگز اور سفارشات جو بھی ہوں حکومتی اقدامات، وزیر اعظم گیلانی، حسین حقانی اور رحمن ملک کے منصور اعجاز کی پاکستان آمد کے حوالے سے تلخ اور ترش بیانات نے میمو کی حقیقت کو عیاں کر دیا ہے۔

    ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کچھ اہل اقتدار کو گلے میں این آر او اور کچھ کو میمو کا پھندا کستا محسوس ہو رہا ہے۔ کرپشن سے تو شاید ہی کسی کا دامن پاک ہو۔ جو بچیں گے ان کی شاید ڈگریاں دو نمبر ثابت ہوں گی۔ اس لیے کسی بھی قسم کے پھندے سے گردن بچانے کیلئے حکمران سسٹم کی بساط لپیٹنے پر تل گئے ہیں۔ ایک طرف عدلیہ سے محاذ آرائی تو دوسری طرف فوج سے پنجہ آزمائی۔

    فوج جن ممالک کیلئے بھاری پتھر ثابت ہو رہی ہے وہ اسے کمزور اور ڈی مورالائز کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے، پاکستان کے مفادات کی قیمت پر امریکی مفادات کی راہ میں پاک فوج بڑی حد تک مزاحم ہے۔ اسرائیل سمیت اکثر مغربی ممالک پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے اور ایٹمی اثاثے براہ راست پاک فوج کے کنٹرول میں ہونے کے باعث پاک وطن اورپاک فوج کے بارے میں وہی جذبات رکھتے ہیں جو بھارت و امریکہ کے ہیں۔

    پاک فوج کو بدنام کرنا ان ممالک کا ایجنڈا ہے۔ شرم کی بات ہے کہ ہمارے حکمران اور اپوزیشن پاکستان دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے حکومت کچھ زیادہ ہے۔وزیر اعظم گیلانی اور صدر آصف علی زرداری کا ایک معاملے پر آج جو موقف ہوتا ہے کل اس کے برعکس اختیار کیے دکھائی دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان کی دیانت کی بات کی عوام کو ان کی صداقت پر بھی شبہ ہے۔

    فوج کے حوالے سے بھی ان کا کوئی بیان قابل اعتبار نہیں یہ کبھی فوج کی تعریف اور کبھی تضحیک کرتے ہیں لیکن پاکستان مخالف قوتیں اس بات کو اچھالیں گی جو پاک فوج کی بدنامی کا باعث ہو سکتی ہو۔ وزیر اعظم گیلانی نے اسامہ بن لادن کی پاکستان موجودگی کے حوالے سے پاک فوج کو نشانہ بنایا پھر اگلے روز منت اور معافی پر اُتر آئے۔ اب جبکہ جنرل کیانی چین کے دورے پر تھے۔

    وزیر اعظم نے چینی اخبار نویسوں کو خصوصی طورپر بلا کرجنرل کیانی اور شجاع پاشا کے بارے میں کہہ دیا کہ وہ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بیک وقت فوج اور عدلیہ سے ماتھا لگانے کا ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے کہ میمو، این آر او اور کرپشن کے پھندوں سے گردن چھڑانے کی کوشش کی جائے۔ اس کیلئے عدالت اور فوج کو اس حد تک مجبور کر دیا جائے کہ وہ ان کو گھر کی راہ دکھا دیں۔

    عدلیہ اور فوج کے ساتھ حکمرانوں کی محاذ آرائی ان کا اپنے اوپر خود کش حملہ ہے، جس کی لپیٹ میں کوئی اور آئے نہ آئے یہ خود نہیں بچ پائیں گے۔وزیر اعظم اور صدر بات بات پر پارلیمنٹ کی سپرمیسی اور بالادستی کی بات کرتے ہیں حالانکہ عدلیہ مقننہ (پارلیمنٹ) اور انتظامیہ کا یکساں سٹیٹس ہے، سپریم صرف اور صرف ریاست ہے۔ سپریم کورٹ آزاد اور خود مختار ہے۔حکومت خود انتظامیہ بھی ہے، تمام ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کے ماتحت ہیں۔

    بدقسمتی سے بیورو کریسی نے مجموعی طور پر وہ کردار ادا نہیں کیا جو اس کے فرائض کا تقاضا ہے، چند ایک کے سوا تمام بیورو کریٹ حکمرانوں کے حاشیہ بردار ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ حکومت کے ملازم نہیں ریاست کے ملازم ہیں جن کے بارے میں ایسے حالات میں جیسے اب ہیں قائد اعظم نے فرمایا تھا: ”حکومتیں بنتی ہیں، حکومتی گرتی ہیں لیکن آپ لوگ وہیں رہتے ہیں۔ اس طرح آپ کے کاندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری آ جاتی ہے، آپ کو اس لیے بھی تکلیف پہنچ سکتی ہے کہ آپ غلط کام کی بجائے صحیح کیوں کر رہے ہیں۔

    آپ کو قربانی دینی ہو گی اور میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آگے بڑھیں اور قربانی دیں، خواہ آپ بلیک لسٹ ہو جائیں یا پریشانی اور تکلیف میں مبتلا کر دیئے جائیں، آپ کی انہی قربانیوں سے حالات بدلیں گے….پہلی بات جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، یہ ہے کہ آپ کو کسی قسم کے سیاسی دباﺅ میں نہیں آنا چاہیے۔ آپ کو کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاست دان کا اثر قبول نہیں کرنا چاہیے۔

    اگر آپ واقعی پاکستان کا وقار بلند کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی طرح کے دباﺅ کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام اور مملکت کے سچے خادم کی حیثیت سے اپنا فرض بے خوفی اور بے غرضی سے ادا کرنا چاہیے۔ مملکت کیلئے آپ کی خدمت وہی حیثیت رکھتی ہے جو جسم میں ریڑھ کی ہڈی کو حاصل ہے“۔

    بیورو کریسی یا سرکاری ملازمین کے تعاون کے بغیر حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکتی، یہاں تو حکومت نے کرپشن اور اقربا پروری سے ہر ادارے کو ڈبو دیا اور سب کچھ ریاستی مشینری کے ذریعے ہی ہوتا رہا ہے۔ بیورو کریٹس قائد اعظم کے فرامین کو مشعل راہ بنائیں۔ حکومت کوئی بھی ہو، اس کی ملک اور عوام دشمنی پر مبنی پالیسیوں کی راہ میں سنگ گراں بن کر کھڑے ہو جائیں۔ آج کے حالات ان سے کسی بھی دور سے زیادہ ایسا کردار ادا کرنے کے متقاضی ہیں۔

  18. احمد ترازی بھائی. ماشااللہ. سچ کہوں پاکستان کے حالات پر کوئی پی ایچ ڈی کرنا چاہے تو اسکی کم ازکم پچیس فیصد تو مدد آپ نے کر ہی دی ہے. جزاک اللہ

  19. جزاک اللہ بابا آپ کی پسندیدگی ہمارے لیے اعزاز سے کم نہیں
    اللہ کریم آپ کو ہمیشہ آسانیاں عطا فرمائے آمین

  20. جناب شاہنواز فاروقی کہتے ہیں
    پاکستان کی سیاست میں ”مظلومیت“ ایک فلسفہ اور ایک نظام بن گئی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بھٹو صاحب سے آصف زرداری تک مظلومیت اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مظلومیت کے فلسفے میں کوئی جان ہے نہ مظلومیت کے نظام میں کوئی کشش اور معنویت ہے۔

    پاکستان میں مظلومیت کی سیاست کی ابتداءذوالفقار علی بھٹوسے ہوئی۔ بھٹو صاحب سقوط ڈھاکا کے بعد اقتدار میں آئے تھے اور سقوط ڈھاکا نے پاکستان کی فوج بالخصوص جرنیلوں کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ اس لیے کہ ہمارے 90 ہزار فوجیوں نے بھارت کے آگے ہتھیار ڈالے تھے چنانچہ جرنیل پاکستان کی سیاست میں مداخلت کے قابل نہیں رہ گئے تھے۔ اس کے باوجود بھٹو صاحب فوج کے حوالے سے انتہائی محتاط تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ جنرل ضیاءالحق کو فوج کے سربراہ مقرر کرنے سے قبل اعلیٰ فوجی افسروں کی حد درجہ چھان پھٹک کی گئی تھی۔ اس چھان پھٹک سے یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ ضیاءالحق اگرچہ جونیئر افسر ہیں مگر ان کا رجحان مذہب کی طرف زیادہ ہے اور ان کے سیاسی عزائم سرے سے ہیں ہی نہیں۔ چنانچہ ان سے بھٹو صاحب کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ تاہم بھٹو صاحب نے اتنی چھان پھٹک کے بعد جس ضیاءالحق کو فوج کا سربراہ بنایا تھا۔ اُسی ضیاءالحق نے موقع ملتے ہی بھٹو صاحب کا تختہ اُلٹ دیا۔ بدقسمتی سے تختہ الٹنے کا ”موقع“ بھی بھٹو صاحب نے خود جنرل ضیاءالحق کو فراہم کیا۔
    بھٹو صاحب مقبول تھے اور اگر وہ انتخابات میں دھاندلی نہ کراتے تو بھی وہی اکثریت حاصل کرتے لیکن ان کے Total, full اور Complete اقتدار کے فلسفے نے انہیں دھاندلی کی جانب راغب کیا۔ اس دھاندلی نے ان کے خلاف حزب اختلاف کو متحد‘ منظم اور متحرک کیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ بھٹو صاحب نے حزب اختلاف کی تحریک کی طاقت اور اس کے مضمرات کا بروقت اندازہ نہ کیا اور ان کو جب اس کا اندازہ ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھٹو صاحب کی مظلومیت میں افسانہ زیادہ ہے حقیقت کم ہے۔

    بھٹو صاحب کی پھانسی پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ تھی۔ لیکن اس المیے نے بھٹو خاندان اور پیپلزپارٹی کی مظلومیت کی سیاست کو مزید گہرا کردیا۔ بھٹو صاحب جیسے کچھ بھی تھے فکر وخیال کے آدمی تھے۔ وہ اپنی خطابت کو قومی یا علاقائی اور بین الاقوامی رنگ دینے کے لیے کوشاں رہتے تھے مگر ان کے سیاسی وارثوں نے بھٹو صاحب کی لاش کو کافی سمجھ لیا اور ان کے لیے فکر وخیال‘ نظر اور نظریات بالکل ہی غیرضروری ہوگئے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بھٹو صاحب کے سیاسی وارثوں نے ان کی لاش ہی کو فکر بنا لیا۔ اسی کو فلسفہ سمجھ لیا۔ اسی کو پارٹی قرار دے دیا۔ اسی کو نعرے میں ڈھال لیا۔ مظلومیت کی اس سیاست سے پیپلزپارٹی کو انتخابی فائدہ ہوا۔ لیکن ملک وقوم کو اس سے فائدے کے بجائے اُلٹا نقصان ہوا۔ پیپلزپارٹی کے متاثرین کا ذہن اور نفسیات مظلومیت پر مرتکز ہو کر رہ گیا اور اس میں ارتقا کا امکان معدوم ہوگیا۔

    بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت برطرف ہوئی تو پیپلزپارٹی ایک بار پھر مظلومیت کی چادر اوڑھ کر کھڑی ہوگئی اور اس نے اسٹیبلشمنٹ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ لیکن وہ ایسا کرتے ہوئے یہ بھول گئی کہ بے نظیر بھٹو نے اقتدار میں آنے کے لیے جنرل مرزا اسلم بیگ کے سات مطالبات تسلیم کیے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بے نظیر بھٹو کی مظلومیت میں المیہ پہلو نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ جس طرح اقتدار میں آئی تھیں اسی طرح اقتدار سے رخصت ہوگئی تھیں۔

    بے نظیر بھٹو کی حادثاتی موت نے پیپلزپارٹی مظلومیت کی سیاست کو ایک بار پھر چار چاند لگا دیے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ آصف زرداری جو عام حالات میں خود پیپلزپارٹی کے لیے قابل قبول نہ ہوتے پیپلزپارٹی سے اسٹیبلشمنٹ تک ہر ایک کے لیے قابل قبول ہوگئے۔ تاہم مظلومیت کی سیاست کے اس ”نئے عہد“ نے پیپلزپارٹی کی حکومت کرنے کی رہی سہی اہلیت بھی چھین لی۔ سندھ میں ایک بار نہیں دوبار سیلاب آیا مگر دونوں مرتبہ پیپلزپارٹی اپنی سیاسی طاقت کے مرکز میں بھی عوام کی خدمت نہ کرسکی۔ اور اب پیپلزپارٹی ایک بار پھر مظلومیت کے لباس کے کالے پن کو مزید بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے ایک انٹرویو میں فرمایا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے میمو کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو بیان ریکارڈ کرایا ہے اس کے لیے متعلقہ مجاز اتھارٹی سے اجازت نہیں لی گئی۔ اس کا مطلب واضح ہے۔ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی اقتدار سے اپنی ممکنہ رخصتی کے واقع کو سازش بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن مظلومیت کی سیاست صرف پیپلزپارٹی کا معاملہ نہیں۔

    میاں نواز شریف بھی گزشتہ دس بارہ سال سے مظلومیت ہی کی سیاست کررہے ہیں۔ بھٹو صاحب کی طرح میاں صاحب نے بھی بہت دیکھ بھال کر فوج کے سربراہ کا تقرر کیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف بھی جنرل ضیاءالحق کی طرح جونیئر تھے۔ مگر میاں صاحب کو اطلاع دی گئی تھی کہ سینئر افسروں میں سب ہی ان کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں۔ البتہ پرویز مشرف چونکہ مہاجر ہیں اس لیے ان کی فوج میں ”لابی“ نہیں ہے اور وہ میاں صاحب کے لیے ضرر رساں نہیں ہوں گے ۔ مگر بے ضرر سمجھے گئے۔ جنرل پرویزمشرف نے میاں صاحب کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔ اس کے ذمہ دار اگر جنرل پرویز تھے تو میاں صاحب بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں تھے۔ میاں صاحب کے پاس ”بھاری مینڈیٹ“ تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنی برطرفی کی عوامی سطح پر مزاحمت نہ کرسکے۔ اس ناکامی کے ذمہ دار بھی خود میاں صاحب ہی تھے۔ میاں صاحب کو سعودی عرب جنرل پرویز نے نہیں بھیجا تھا۔ میاں صاحب ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اور ان کے اہل خانہ نے مظلومیت کی جو سیاست کی اس کی اخلاقی بنیاد موجود نہ تھی۔ بلاشبہ اس سے میاں صاحب کو سیاسی فائدہ ہوا لیکن اس سے ملک وقوم کی سیاسی تعلیم وتربیت میں کوئی مدد ملی نہ اس سے قوم کے ذہنی ارتقا کی راہ ہموار ہوئی۔

    الطاف حسین اور ان کی تنظیم سیاسی مظلومیت کی ایک اور بڑی مثال ہیں۔ ایم کیو ایم کے خلاف جو فوجی آپریشن ہوا اس کا جواز خود ایم کیو ایم نے تخلیق کیا۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں طاقت کے استعمال کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایم کیو ایم نے تشدد کو اصول اور قتل کو معمول بنا دیا۔ اتفاق سے میجرکلیم بھی اس کی زد میں آگئے۔ جنرل آصف نواز نے اسے فوج کے ادارے پر حملہ بآور کیا اور ایم کیو ایم کے خلاف اس آپریشن کی راہ ہموار ہوئی جس نے چند ہی ماہ میں ظالم کو مظلوم بنا دیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ایم کیو ایم نے اس آپریشن سے نمودار ہونے والی مظلومیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اسی سیاست سے ایم کیو ایم کو بہت فائدہ ہوا لیکن شہری سندھ کے لوگوں کے فکر ونظر پر اس سیاست سے کئی پردے پڑگئے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ مظلومیت کی سیاست سے ہماری قومی زندگی کو کیا نقصان ہوا۔

    اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ مظلومیت کی سیاست نے قومی زندگی میں افراد اور اداروں کے درمیان تعلقات کو کبھی مثبت بنیادوں پر استوار نہیں ہونے دیا۔ مظلومیت کی سیاست نے عوام میں ردعمل کی سطحی نفسیات پیدا کی اور اسے پروان چڑھایا۔ اس سیاست نے قومی زندگی میں اجتماعی جذبات کو جذباتیت کی دلدل میں تبدیل کردیا اور ایک بڑی قومی طاقت کو کمزوری بنادیا۔

  21. پاکستان کے ممتاز دانشور اور تاریخ پاکستان پر سند کا درجہ رکھنے والے محقق جناب ڈاکٹر صفدر محمود تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
    حالات کا گھوڑا سرپٹ بھاگ رہا ہے اور دور دور تک کوئی ایسا شہسوار نظر نہیں آتا جو اس بگٹٹ گھوڑے کو لگام دے سکے۔ اگلے لمحے یا اگلے دن کیا ہو گا یہ پیش گوئی کرنا ممکن نہیں کیونکہ ناسمجھ اور کم فہم حکمرانوں نے پے در پے غلطیاں کر کے اور جذبات کے انگاروں کو بھڑکا کر نہ صرف حالات پر بے یقینی کا غلاف چڑھا دیا ہے بلکہ ایسی آگ بھی جلا دی ہے جس کے بجھنے کی امید نظر نہیں آتی۔ کچھ عرصے سے حکومتی نمائندے اور پی پی پی کے نوخیز جیالے محاذ کھولنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ وہ کبھی سپریم کورٹ اور عدلیہ پر بے انصافی اور جھکاؤ کے الزامات لگاتے اور کبھی فوج پر طنزیں کرتے تھے۔ بالآخر یہ کم فہم جیالے اپنے ارادوں میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش میں دونوں محاذ گرم کر دیئے ہیں۔

    ایک طرف عدلیہ کو آنکھیں دکھائی جا رہی ہیں تو دوسری طرف فوج کو گھورا جا رہا ہے۔ ان جیالوں کا گرم لہو اور انگارے برساتی زبانیں بالآخرقوم و ملک کو بحران میں مبتلا کر دیں گی۔ انہیں زنداں کی سیر کا شوق چرایا ہے اور وہ جلد از جلد شہید بن کر ہمدردی کی لہر پر سوار ہونا چاہتے ہیں اور سیر زنداں کر کے اپنی بہادری اور وفاداری پر مہر تصدیق لگوانا چاہتے ہیں۔ کم سے کم مجھ جیسے کم نظروں کو ان کی اچھلی کودتی پریس کانفرنسوں اور فلمی اداکاری میں اس کے علاوہ اور کوئی ایجنڈا یا محرک نظر نہیں آتا۔ ہو سکتا ہے آستینوں کے نیچے کچھ اور بھی چھپا کر رکھا گیا ہو اور اس کھیل کے پیچھے اور کوئی مقصد بھی ہو جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ حکمران پارٹی ایسے سمجھدار، بالغ ذہن اور بابصیرت حضرات سے محروم ہے جو ایسے مواقع پر بھڑکتی آگ پر قابو پاتے، جیالے سیاسی اداکاروں کی زبانوں کو لگام دیتے اور حالات کا رخ موڑتے ہیں۔

    صدر صاحب بلاشبہ جوڑ توڑ کے ماہر ہیں اور انہوں نے اپنی سیاسی چالوں سے مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کو رام کر کے اپنا سیاسی حلیف بنا رکھا ہے لیکن جب سے میمو سکینڈل پر تحقیق و تفتیش کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اس کے ڈانڈے ایوان صدارت کی طرف بڑھنا شروع ہوئے ہیں صدر صاحب بھی گھبرا کر یا خوفزدہ ہو کر جوشیلے جیالوں کی پشت پناہی کرنے لگے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محاذ آرائی، آنکھیں دکھانا اور بڑھکیں مارنا صدر صاحب اور ان کے دوستوں کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ اسے وقتی ردعمل یا سیاسی بلبلہ نہیں کہا جا سکتا۔ تصادم کی فضا پیدا کرنا اور مخالفت پیدا کر کے محاذوں کو گرم کرنا حکمرانوں کی سیاسی چال ہے جسے سیاسی اور آخری چارہ کار کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد مخالفوں پر دباؤ ڈالنا ہے اور اگر دباؤ کامیاب نہ ہو تو پھر بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنا ہے۔

    پارلیمنٹ میں کامیابی حلیفوں کی مرہون منت ہے اور ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سیاسی حلیف عدلیہ اور فوج کے خلاف محاذوں میں شامل نہ ہوں تو پھر پی پی پی کی حکمت عملی میدان میں اترناہو گی اور اپنے جیالے کارکنوں کو سڑکوں پر لانا ہو گی۔ اگر ایسا ہوا تو سیاسی ٹکراؤ اور تصادم اور بالآخر بدامنی اور ہنگاموں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس صورت میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے کارکن پی پی پی کے مقابلے میں اتریں گے اور تصادم کے امکانات کو تیز کریں گے۔ معاشی بدحالی، لوڈشیڈنگ اور عوامی بے چینی بھی اپنا حصہ ڈالے گی جس سے فضا گھمبیر ہو سکتی ہے اور صورت حال کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔

    اگر آپ گزشتہ دو ماہ کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ حکومت عدلیہ اور حکومت فوج میں فاصلے مسلسل بڑھتے رہے ہیں جن کی بنیادی وجہ عدلیہ کا رینٹل پاور ہاؤسز، ریلوے، این آئی ایل سی، سٹیل ملز ، پی آئی اے اور پنجاب بنک سکینڈلز یا لوٹ مار کا نوٹس لینا تھی۔ حکومت کی کرپشن اور نااہلی کا پردہ ہر روز چاک ہو رہا تھا جس سے حکمران سیخ پا ہو رہے تھے۔ اس پس منظر میں عدلیہ پر بے انصافی اور سیاسی جھکاؤ کے الزامات لگائے گئے اور عوامی سطح پر یہ پیغام دیا گیا کہ پی پی پی کو کبھی بھی عدلیہ سے انصاف نہیں ملا اور یہ کہ عدلیہ ایئر مارشل اصغر خان کی رٹ اور حدیبیہ پیپر ملز کا کیس تو نہیں سنتی کیونکہ ان سے میاں نواز شریف پر زد پڑتی ہے لیکن ہمارے خلاف کرپشن کے مقدمات ہر روز سنے جا رہے ہیں۔

    اس پس منظر میں طریقے طریقے سے توہین عدالت کی جاتی رہی اور عدالت عظمیٰ پر سیاسی جھکاؤ کا الزام لگایا جاتا رہا۔ پھر این آر او آ گیا جس پر عدالت دو سال قبل فیصلہ سنا چکی تھی اور حکومت کو خط لکھنے کا حکم دے چکی تھی۔ میں ذاتی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کو ایئر مارشل اصغر خان کی رٹ بھی سننی چاہئے تھی اور حدیبیہ پیپر ملز کے خلاف کیس بھی سننا چاہئے تھا تاکہ تاخیر سے غلط فہمیاں جنم نہ لیتیں لیکن اس سے قطع نظر عدالت کا حکم نہ ماننے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ سوئٹزر لینڈ حکومت کو خط لکھنا ایسا خطرناک معاملہ بنتا جا رہا ہے جس نے پورے نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    بے نظیر کی قبر کے ٹرائل کا جواز یا بہانہ محض اپنے کرتوت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے کیونکہ اگر حکمران معصوم ہیں تو انہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں اور اگر انہوں نے کمیشن کے چھ کروڑ ڈالر وصول کئے تھے تو انہیں دل پر پتھر رکھ کر وطن واپس لے آتے اور خزانے میں جمع کروا کر قوم پر احسان جتا سکتے تھے۔ اس سے حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اول تو دو ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے چھ کروڑ ڈالر نکالنا دریا میں سے چلو بھر پانی کے برابر ہے۔ دوم پی پی پی کا ووٹ بینک مضبوط ہے اس سے ان کے ووٹ بینک پر اثر نہ پڑتا اور سوم قوم پر یہ احسان کرنے کے بعد وہ دوسرے لیڈروں کو بھی بیرون وطن سے اثاثے واپس لانے کے لئے مہم چلا سکتے تھے۔ میں نے لکھا ہے کہ چھ کروڑ ڈالرز کی واپسی سے حکمرانوں پر اثر نہ پڑتا کیونکہ بی بی کے پیارے مخدوم امین فہیم کے اکاؤنٹ میں اچانک این آئی ایل سی فراڈ کے چھ کروڑ نکل آئے جوانہوں نے نہایت شرافت سے واپس کر دیئے تو اس سے ان کی سیاسی صحت پر کیا اثر پڑا؟ اگر پتہ نہ چلتا تو راز، راز ہی رہتا۔

    فوج اور آئی ایس پی آر کی وضاحت محض وضاحت نہیں بلکہ وارننگ ہے۔ وضاحت یہ نہیں کہتی کہ اس سے سنگین نتائج نکلیں گے۔ اگر آئی ایس پی آر کی ریلیز کو ذرا دھیان سے پڑھا جائے تو یہ ایک طرح سے جوابی حملہ ہے اس لفظی جنگ کا جو ہمارے بھولے بھالے وزیر اعظم نے نہایت خلوص سے چھیڑی تھی۔ وہ کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ ان کے اقتدار کی بساط لپیٹی جا رہی ہے جبکہ ان کی مہم کے انجن ڈاکٹر بابر اعوان صاحب تابوت میں کیلیں ٹھونکنے کا انکشاف بھی کر چکے ہیں۔ مجھے فوج کا ردعمل قدرے سخت لگا اور وزیر اعظم کا معصوم اعتراف یاد آیا جس میں انہوں نے ریاست کے اندر ریاست کا ذکر کیا تھا۔ سارے منظر نامے اور اس کے پس منظر پر غور کریں تو یہ سارا کم فہمی، رابطوں کے فقدان، جلد بازی اور پوائنٹ سکورنگ کا کیا دھرا لگتا ہے۔

    جب فوج اور آئی ایس آئی بار بار کہہ رہی تھی کہ میمو حقیقت ہے اور ہم انکوائری کرنے کے بعد یہ رائے دے رہے ہیں تو حکومت کو بار بار اسے محض کاغذ کا ٹکڑا، نان سنس اور سازش کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ میمو دال میں کچھ کالا ہے چنانچہ حکومت کی بیک وقت سپریم کورٹ اور فوج سے ٹھن گئی۔ اگر وزیر اعظم صاحب کی رائے تھی کہ فوج نے سپریم کورٹ میں جواب بھجواتے ہوئے رولز آف بزنس سے انحراف کیا ہے تو وزیر اعظم صاحب کو یہ مسئلہ پریس میں اچھالنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ یا تو آرمی چیف سے بات کرتے اور یا پھر حکومتی طریقہ کار کے مطابق وضاحت طلب کرتے۔ کل فوج کی وضاحت آئی تو ساتھ ہی ٹرپل ون بریگیڈ کی خبر آ گئی جو محض اتفاق تھا۔

    یوں لگتا ہے جیسے رابطوں اور بصیرت کے فقدان، جیالی ذہنیت اور کم عقلی سے فضا بگاڑی جا رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور سمجھداری سے قابو نہ پایا گیا تو اس کے نتائج کچھ بھی نکل سکتے ہیں۔ میں نے گزشتہ ماہ لکھا تھا کہ دو شخصیات جن کے عہدوں کے ساتھ لفظ چیف آتا ہے مل کر ملک میں تبدیلی لائیں گے۔ علم قیافہ کے مطابق حالات اس رخ پر جا رہے ہیں لیکن ابھی اس میں کچھ وقت لگے گا۔ غیب کا علم صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ہم تو اندازوں اور قیافوں کے دشت کے سیاح ہیں۔

  22. اوئے نیچے اتر!

    اس وقت پاکستان کا وزیرِاعظم اختیارات کے اعتبار سے بظاہر کسی بھی سابق وزیرِاعظم سے زیادہ طاقتور ہے۔ مگر ایسی طاقت کس کام کی جو منہ کی چھچھوندر بن جائے ۔ نہ نگلنے بنے نہ اگلنے بنے۔
    بلکل اس ایٹم بم کی طرح جو موجود تو ہے لیکن کسی کے سر پر پھوڑا نہیں جاسکتا۔ بالکل اس بہو کی طرح جسے سسر بے نقط سنا رہا ہے، ساس چوٹی پکڑ کر کھینچ رہی ہے، خاوند بڑبڑا رہا ہے اور نند جھولی پھیلائے بددعائیں دے رہی ہے۔

    بالکل اس شیر کی طرح جو کہنے کو جنگل کا بادشاہ ہے لیکن ایک طرف سے لگڑ بگا ٹانگ کھینچ رہا ہے، ایک بندر سر پر کود رہا ہے، شکاری کتے گھیرا ڈالے کھڑے ہیں اور ہانکے کا ڈھول قریب سے قریب تر ہو رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم اتنا طاقتور ہے کہ صدر اور عدلیہ کو چھوڑ کر کسی کو بھی مقرر، معطل کرسکتا ہے۔ لیکن وہ کرے تو کیا کرے۔ نہ سوچنے کی مہلت ہے، نہ اکڑوں بیٹھنے کی، نہ کھڑا رہنے کی، نہ جھکنے کی اور نہ سینہ تاننے کی۔

    ایوانِ صدر اسے آنکھوں سے اشارے کر رہا ہے خبردار جو تو نے کچھ لکھا۔کورٹ نمبر ایک سے آواز آ رہی ہے ابے لکھتا ہے کہ گردن مروڑوں۔ جی ایچ کیو میمو میں لپٹی گردن پرگرم گرم سانسیں چھوڑ رہا ہے۔ اپوزیشن سلطان راہی بنی ہوئی ہے اور اتحادی بجلی کے تاروں پر بیٹھے اپنے اپنے پرسکھا رہے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کی جو بااختیار پوٹلی وزیرِاعظم کے سر پر رکھی گئی تھی، پھٹ چکی ہے۔ اس میں سے کچھ اختیارات سپریم کورٹ نے اڑا لیے ہیں ۔کچھ کو فوج نےگول کرکے فٹ بال بنا لیا ہے اور کچھ بے اختیار صدر کے تصرف میں ہیں۔

    جب اختیارات کی طاقت بے بسی کی زنجیر ہوجائے تو سکندرِاعظم بھی بطور وزیرِاعظم کیا کر لےگا۔ ظاہر ہے شام کو کچھ کہےگا صبح کچھ، کبھی ہنسنے والی بات پر روئےگا تو کبھی رونے والی بات پر دم بخود ہوجائے گا۔ اچانک غصے میں آئےگا اور پھر اپنے ہی غصے پر غصے میں آجائے گا مثلاً:

    کسی کو بھی ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ میں تو یہ بات صرف سیکرٹری دفاع کے بارے میں کہہ رہا تھا۔ اسامہ بن لادن چھ سال تک کس ویزے پر پاکستان میں رہا ؟ اختیارات کی طاقت بے بسی کی زنجیر

    جب اختیارات کی طاقت بے بسی کی زنجیر ہوجائے تو سکندرِاعظم بھی بطور وزیرِاعظم کیا کر لےگا۔ ظاہر ہے شام کو کچھ کہے گا صبح کچھ، کبھی ہنسنے والی بات پر روئےگا تو کبھی رونے والی بات پر دم بخود ہوجائے گا۔
    میرے بیان کو غلط نہ سمجھیں۔ میں نے تو یہ بات مشرف کے بارے میں کہی تھی۔ مشرف دور کے آئی ایس آئی چیف کے بارے میں اگر ایسی بات کروں تو میری زبان جل جائے۔
    مجھے امید ہے کہ عدلیہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گی جس سے جمہوری ڈھانچہ خطرے میں پڑ جائے۔
    بڑا افسوس ہوا کہ چیف جسٹں نے مجھے بددیانت اور خائن قرار دیا۔ معافی چاہتا ہوں چیف جسٹس نے نہیں بلکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مجھے بددیانت اور خائن قرار دیا۔

    میں نے تو منت کر کے جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو ملازمت میں توسیع دی تھی بھلا ان پر کیسے تنقید کرسکتا ہوں۔
    جنرل کیانی اور پاشا نے براہِ راست عدالت میں حلفی بیانات داخل کرکے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

    معاف کیجئے میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ اصل میں ساری آگ سیکرٹری دفاع نے لگائی۔ جنرل کیانی اور پاشا کا کوئی قصور نہیں۔ سیکرٹری دفاع کو برطرف کردیا گیا ہے۔ اب سب ٹھیک ہوگیا ہے۔ لا لا، لی لی، لولو۔
    اور یہ جو آئی ایس پی آر نے جنرل کیانی اور پاشا پر میرے الزامات جھٹلاتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے الزامات کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں تو اس بیان پر بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔اسے جاری کرنے سے پہلے جنرل کیانی نے فون پر مجھ سے بات کی اور میں نے اجازت دی کہ آپ وضاحتی بیان جاری کرسکتے ہیں۔

    ایک صاحب بہترین سا سوٹ پہنے گلی سے گذر رہے تھے۔ اچانک اوپر سے کسی نے باسی دال پھینک دی۔ ان صاحب نے چیختے ہوئے کہا اوئے کون بے غیرت اندھا ہے جس نے میرا سوٹ برباد کر دیا۔ مرد کا بچہ ہے تو نیچے اتر، تجھے مزا چکھاؤں کمینے۔

    ایک سوا چھ فٹ کا پہلوان نیچے اترا۔
    اوئے کسے گالی دے رہا تھا باؤ ؟

    کسی کو نہیں سر جی۔ میں تو بس یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ دال بہت لذیذ ہے۔ ذرا سی اور مل جائے تو مزہ آجائے۔

  23. باکمال سیلز مین
    ……………………

    ایک شاپنگ مال میں سیلز مین کی تقرری کے بعد سیل کئی گنا بڑھ گئی _ شاپنگ مال کے مالک نے جب کارکردگی رپورٹ دیکھی تو سیلز مین ( لڑکے ) سے ملنے مال پر پہنچ گیا _ اس نے دیکھا کہ لڑکا ایک کسٹمر کو فشنگ راڈ فروخت کر رہا تھا _
    مالک دور کھڑا ہو کر لڑکے کے سیلز کا انداز دیکھنے لگا ، لڑکے نے کسٹمر کو آٹھ سو روپے کے عوض …راڈ فروخت کر دی اور کسٹمر کے جوتوں پر نظر ڈالت…ے ہوئے بولا ……..
    جناب ___ اتنے مہنگے جوتے پہن کر فشنگ کرنے جاینگے ؟
    ایک اسپورٹس شوز بھی خرید لیں ____ کسٹمر نے اسپورٹس شوز بھی خرید لیے _
    اب لڑکے نے کہا ___ جناب …. تالاب کنارے دھوپ میں بیٹھنا پڑے گا اس کے لیے ایک کیپ بھی لیتے جائیں تو مناسب رہیگا ____ کسٹمر نے کیپ بھی خرید لی _ اب لڑکے نے کہا __ مچھلی پکڑنے میں بہت انتظار کرنا پڑے گا لہٰذا کچھ کھانے پینے کا سامان یعنی بسکٹس ، ویفرز ، میوہ وغیرہ لیتے جائیں ___ کسٹمر نے وہ بھی خرید لیے _ لڑکا بولا ____ مچھلی خرید کر رکھیں گے کہاں ؟؟ تو اس کے لیے یہ دو سو والی با سکٹ بہترین رہے گی _ اس نے وہ بھی خرید لی

    اب ٹوٹل بنے دو ہزار روپے

    بوس بہت خوش ہوا ، پھر اس نے لڑکے کو بلا کر کہا کہ تم بہت باکمال سیلز مین ہو ____ وہ آدمی صرف فشنگ راڈ لینے آیا اور تم نے اسے اتنا سارا سامان فروخت کر دیا …. بہت اچھے !!
    لڑکا بولا جناب ______ وہ آدمی تو اپنی بیوی کے لیے سینٹری پیڈ لینے آیا تھا _ مین نے اس سے کہا کہ پانچ دن گھر بیٹھ کر کیا کرو گے ، جاؤ جا کر مچھلی پکڑو ….:):):):))))))))))

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *