اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا
تیر گی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
یہ سحر کا حسن ، یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ ، یہ سبزہ ، یہ کلیاں دل ربا
یہ بیاباں ، یہ کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا ، کیا ہے تجھ کو قدرت نے عطا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
خلد میں حوریں تری مشتاق ہیں آنکھیں اٹھا
نیچی نظریں جن کا زیور ، جن کی آرائش حیا
جِن و انساں میں کسی نے بھی نہیں جن کو چھوا
جن کی باتیں عطر میں ڈوبتی ہوئی جیسے صبا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
اپنے مرکز سے نہ چل منہ پھیر کر بہر ِ خدا
بھولتا ہے کوئی اپنی انتہا اور ابتدا
یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا
کس نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا
نرم شاخیں جھومتی ہیں ، رقص کرتی ہے صبا
پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوشنما
جن کا ہر ریشہ ہے قندو شہد میں ڈوبا ہوا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
پھول میں خوشبو بھری ، جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف روشن ، خوش نما
آگ سے شعلہ نکالا، ابر سے آبِ صفا
ک سے ہو سکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
ہر نفس طوفان ہے ، ہر سانس ہے اک زلزلہ
موت کی جانب رواں ہے زندگی کا قافلہ
مضطرب ہر چیز ہے جنبش میں ہے ارض وسما
ان میں قائم ہے تو تیرے رب کے چہرے کی ضیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیا
شام کو رنگ شفق کرتا ہے اک محشر بپا
چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا
جھوم کر برسات میں اٹھتی ہے متوالی گھٹا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
جوش ملیح آبادی

واہ رے زمانے. یہ وہ عاشق حسین جوش ہے جسے پاکستان میں ظالم حلقے ملحد کہہ کہہ کر تھکتے نہیں تھے. نام نہاد اور منافق صفت مسلمانوں کی اکثریت سے تو ایسا ملحد بہت اچھا ہے. اللہ پاک حضرت جوش کو جوار وارثان قلم میں جگہ دے.
غننچے تیری زندگی پہ دل ہلتاہے
بس ایک تبسم کے لئے کھلتا ہے
غنچے نے کہا کہ اس چمن میں ہا ہا
یہ ایک تبسم بھی کیسے ملتا ہے
عُقبیٰ کی خبر، نہ عمر دنیا معلوم
تاچند رہیں گے بحر و بر کیا معلوم
ہم خاک ہیں اور خاک ہوجائیں گے کل
اب تک تو ہوا ہے صرف اتنا معلوم
بےچارہ ، عداوت میں گھلا جاتا ہے
وہ آگ لگی ہے کہ پُھنکا جاتا ہے
جب تک میں زندہ ہوں ، اسے چین نہیں
یہ سوچ کے دشمن پہ ترس آتا ہے
یادوں کے دُھندلکے میں رلایا نہ کرو
سوتی ہوئی راتوں کو جگایا نہ کرو
رسنے لگتا ہے پھر سے، دل کا انگور
ممکن ہو تو اب خواب میں آیا نہ کرو
آنکھوں میں بھرے عظیم قرنوں کا گداز
پلکوں میں پروئے ہوئے کونین کے راز
تم کون ہو؟ ٹھہرو تو زرا مرد بزرگ
“میں وقت ہوں “ دور سے آتی ہے آواز
اور اک نہیں ہوا ہے روشن اب تک
صد حیف کہ ہیں فکر کے دشمن اب تک
گو پیر کہن سال ہیں ، لیکن حضرت
پیدا ہی نہیں ہوئے ہیں عقلاً اب تک
اتنی تب و تاب ، اور سویرے ، یہ کیا
اک آنچ سی اور منہ اندھیرے یہ کیا
بل کھا کے یہ انگڑائی، اُبلتی انگڑائی
اور پھر یہ پُھریری سی ، ارے ارے یہ کیا
شیشے کبھی نظروں سے کھنک جاتے ہیں
بے ٹھیس لگے، خود سے دَرَک جاتے ہیں
دیکھا ہے کہ ہوتے ہیں کچھ ایسے بھی سبو
بھرنے نہیں پاتے کہ چھلک جاتے ہیں
“بندے! کیا چاہتا ہے؟ دام و دینار؟“
“یا دولت پائندہ زلف و رخسار؟“
“معبود! نہیں نہیں، کوئی چیز نہیں“
“اِلاّ آگاہیٰ رموز اسرار“
بہن نگہت !قرآن پر اگر انسان غور کرے تو ا س میں سورہ رحمٰن کے سوا اور بھی بہت کچھ ہے، مگروہ وہاں جا کے سمجھے گا، جب اس کے پاس اس کا مداواکرنے لیئے نہ وقت ہو گا نہ مال؟ اورو ہ حسرت اور یاس کی تصویر بنا آگ میں جل رہا ہو گا ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو ہر عذاب سے محفوط رکھے اور یہاں سے ہی عقبیٰ بنا کر لے کر جا ئیں، جو اس کا ہمیں دنیا میں بھیجنے کا مقصد ہے؟ اس اہم ٹاپک کو چھیڑنے پر اللہ تمہیں جزا ئے خیر دے۔آمین۔
جیتے جیتے کب مانتا ہے ایک دن مرجا ئے گا !
سامنے دیکھے گا دوزخ تب وہاں پجھ تا ئے گا !
بہت خوب انتخاب ہے
شکریہ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
وہ خدا بڑا مہربان ہے
اس نے قرآن کی تعلیم دی ہے
انسان کو پیدا کیا ہے
اور اسے بیان سکھایا ہے
آفتاب و ماہتاب سب اسی کے مقرر کردہ حساب کے ساتھ چل رہے ہیں
اور بوٹیاں بیلیں اور درخت سب اسی کا سجدہ کررہے ہیں
اس نے آسمان کو بلند کیا ہے اور انصاف کی ترازو قائم کی ہے
تاکہ تم لوگ وزن میں حد سے تجاوز نہ کرو
اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم کرو اور تولنے میں کم نہ تولو
اور اسی نے زمین کو انسانوں کے لئے وضع کیا ہے
اس میں میوے ہیں اور وہ کھجوریں ہیں جن کے خوشوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں
وہ دانے ہیں جن کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول بھی ہیں
اب تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے
اور جنات کو آگ کے شعلوں سے پیدا کیا ہے
تو تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
وہ چاند اور سورج دونوں کے مشرق اور مغرب کا مالک ہے
پھر تم دونوں اپنی رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
اس نے دو دریا بہائے ہیں جو آپس میں مل جاتے ہیں
ان کے درمیان حد فا صلِ ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرسکتے
تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں
تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
اسی کے وہ جہاز بھی ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح کھڑے رہتے ہیں
تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
جو بھی روئے زمین پر ہے سب فنا ہوجانے والے ہیں
صرف تمہاری رب کی ذات جو صاحبِ جلال و اکرام ہے وہی باقی رہنے والی ہے
تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
آسمان و زمین میں جو بھی ہے سب اسی سے سوال کرتے ہیں اور وہ ہر روز ایک نئی شان والا ہے
کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
اے دونوں گروہو ہم عنقریب ہی تمہاری طرف متوجہ ہوں گے
( تو تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
اے گروہ جن و انس اگر تم میں قدرت ہو کہ آسمان و زمین کے اطرف سے باہر نکل جاؤ تو نکل جاؤ مگر یاد رکھو کہ تم قوت اور غلبہ کے بغیر نہیں نکل سکتے ہو
تو تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
تمہارے اوپر آگ کا سبز شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو تم دونوں کسی طرح نہیں روک سکتے ہو
( پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی طرح سرخ ہوجائے گا
تو تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
پھر اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا
تو پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
مجرم افراد تو اپنی نشانی ہی سے پہچان لئے جائیں گے پھر پیشانی اور پیروں سے پکڑ لئے جائیں گے
تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
یہی وہ جہنّم ہے جس کا مجرمین انکار کررہے تھے
اب اس کے اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگاتے پھریں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
اور جو شخص بھی اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو دو باغات ہیں
پھر تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
اور دونوں باغات درختوں کی ٹہنیوں سے ہرے بھرے میوؤں سے لدے ہوں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
ان دونوں میں دو چشمے بھی جاری ہوں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
ان دونوں میں ہر میوے کے جوڑے ہوں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
یہ لوگ ان فرشوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استراطلس کے ہوں گے اور دونوں باغات کے میوے انتہائی قریب سے حاصل کرلیں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
ان جنتوں میں محدود نگاہ والی حوریں ہوں گی جن کو انسان اور جنات میں سے کسی نے پہلے چھوا بھی نہ ہوگا
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
وہ حوریں اس طرح کی ہوں گی جیسے سرخ یاقوت اور مونگے
پھر تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہوسکتا ہے
تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
دونوں نہایت درجہ سرسبز و شاداب ہوں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
ان دونوں باغات میں بھی دو جوش مارتے ہوئے چشمے ہوں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
ان دونوں باغات میں میوے, کھجوریں اور انار ہوں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
ان جنتوں میں نیک سیرت اور خوب صورت عورتیں ہوں گی
شپھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
وہ حوریں ہیں جو خیموں کے اندر چھپی بیٹھی ہوں گی
تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
انہیں ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
وہ لوگ سبز قالینوں اور بہترین مسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
بڑا بابرکت ہے آپ کے پروردگار کا نام جو صاحب جلال بھی ہے اور صاحبِ اکرام بھی ہے
نیکی اور سچائ کی جو شمع ھم سبکی بہت عزيز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم نے روشن کی ھے اسکی روشنی ظلمات میں دلوں کو تقویت عطا کریگی ، اور اس کا ثواب صاحب بلاگ کو ملتا رھے گا
اجرکم اللہ
جوش شاعر آخر الزماں
جوش جیسا خوش گفتار و خوش قلم شاعر کہاں
بہت اچھا بلاگ ھے ھم سب یہاں حضرت جوش کو خراج تحیسن پیش کرتے ھیں
اللہ پاک حضرت جوش کو جوار وارثان قلم میں جگہ دے.آمین
فَبِی اَیِّ آلآءِ رَبِّکُما تُکَذِّّبَان
سورہ رحمن بہت خوبصورت سورہ ھے ، مجھے اس کا پڑھنا اور باربار سننا بہت اچھا لگتا ھے ،یوں تو پورا قراں ھی پڑھنا اور سننا بہت ھی اچھا لگتا ھے ، کائنات کی سب سے مقدس آسمانی کتاب فرآن مجید فرقان الحمید رشد و ھدایت کا سرچشمہ ھے ، اللہ پاکی ھم کو قراں سے الفت اور اس کو سمجھہ کر پڑھنے کی توفیق عطا فرماۓ امین ثمہ آمین
جوش کی شاعری پر بات کرنے کیےلیے جو قابلیت اور اعلی فہمی درکار ھے میں اس سے سراسر محروم ھوں
جوش کی شاعری ایک ایسا نغمہ ھے جسکی تاثیر روح تک جاتی ھے
حضرت جوش صرف مرثیہ نگاری کا ہی آفتاب نہیں بلکہ نظم اور غزل میں بھی جوش نے اپنا کوئی ثانی نہیں چھوڑا۔جوش کی شاعری کا دبدبہ آج بھی شاید ہی کسی کو نصیب ہوا ہو۔الفاظ حقیقت میں انکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے۔انہوں نے ایک دو درجن نہیں سینکڑوں نئے الفاظ کو جنم دیا۔زبان کی چاشنی اور لغت کی سحر آفرینی جوش کو صحیح معنوں میں جوش بناتی ہے۔
عظیم شاعر جوش ملیح آبادی کا انتقال اسلام آباد میں 22 فروری سنہ 1982 کو ہوا تھا ۔ لیکن اس عرصے میں بھی جوش کے نام پر تنازعات کم نہیں ہوئے۔
ان کاخاندانی نام شبیر احمد خاں تھا۔ جسے بعد میں بدل کر شبیر حسن خاں کر دیا گیا تھا۔ ان کی پیدائش پانچ دسمبر 1898 کو ملیح آباد کے ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد بشیر احمد خاں بشیر بھی شاعر تھے اور داد انواب احمد خاں کا بھی شاعری سے تعلق تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پر دادا نواب فقیر محمد خاں صاحب دیوان شاعر تھے۔ ان کے خاندان میں خواتین شاعرات بھی موجو د تھیں۔ جوش کی دادی بیگم نواب محمد احمد خاں، مرزا غالب کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس طرح جوش کو شاعری ورثے میں ملی تھی۔ لیکن جوش صرف شاعر نہیں تھے ایک ہشت پہلو شخصیت تھے۔ جہاں انہیں شاعری پر زبر دست کمال حاصل تھا۔ وہیں نثر پر بھی انہیں درک تھا۔ ان کی نثر اپنی مثال آپ ہے۔
جوش کا تعلق فلم اور صحافت سے بھی رہا انہوں نے دہلی سے ایک ادبی رسالہ ” کلیم “ شائع کیا تھا لیکن مالی مشکلات کے سبب بہت دنوں تک جاری نہیں رہ سکا۔ بعد میں وہ بھارت سرکاری کے رسالہ ” آج کل “ کے مدیر بنائے گئے تھے لیکن یہاں بھی زیادہ دنوں نہیں ٹک سکے ۔
در اصل جوش کی طبیعت میں اجتماع ضدین تھا اسی لئے وہ کہیں بھی ٹک کر نہیں رہ سکے، نظام حیدر آباد کے دارالترجمہ میں تھے تو نظام کے خلاف ہی نظم لکھ دی اور انہیں وہاں سے نکالا گیا۔ بعد میں وہ بھارت سرکار کے رسالہ ” آج کل “ کے مدیر ہوئے لیکن سنہ 1955 میں پاکستان ہجرت کر گئے۔ وہاں بھی ان کی وابستگی ترقی اردو بورڈ میں رہی۔ لیکن اختلافات کے سبب ان کو وہاں سے بھی سبکدوش ہونا پڑا۔
جوش نے فلمی دنیا میں بھی قدم رکھا تھا اور سنہ 1943 سے سنہ 1948 کے درمیان متعدد فلموں کے گانے اور مکالمات لکھے۔
جوش کے شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں:
روح ادب، شاعر کی راتیں، نقش و نگار، شعلہ و شبنم، فکر و نشاط، جنون و حکمت، حرف و حکایت، آیات ونغمات، عرش وفرش، رامش و رنگ، سنبل وسلاسل، سیف و سبو، سرود و سروش، سموم و صبا، طلوع فکر، الہام و افکار، موحد و مفکر، نجوم و جواہر۔
ان کی نثری کتابوں کے نام ہیں:
مقالات زریں، اوراق سحر، ارشادات، اور یادوں کی بارات۔
جوش ملیح آبادی کی خود نوشت یادوں کی برات ایک ایسی کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد ہندو پاک کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست واویلا مچا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ جوش کو ان کی خود نوشت کی وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہوئی کیونکہ اس میں بہت ہی متنازع باتیں کہی گئی ہیں۔ یادوں کی بارات سنہ 1972 میں کراچی سے شائع ہوئی تھی اور جوش کا انتقال 22 فروری سنہ 1982 کو ہوا۔
ایک طرح سے وہ دس برسوں تک تنازعات میں گھرے رہے اور اس کے باعث انہیں بے حد دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کے عتاب کے بھی شکار ہوئے۔ لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جوش جہاں ایک عظیم شاعر تھے وہیں وہ صاحب طرز نثاربھی تھے او رکیوں نہ ہوتے انہوں نے صرف 9 برس کی عمر میں کہا تھا :
شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ مرا فن خاندانی ہے
لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ شاعری جوش کو راس نہیں آسکی۔ اسی لئے انہیں ’ یادوں کی بارات“ میں لکھنا پڑا:
”آخر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اس قوم میں کسی صاحب قلم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ہرادیب و شاعر کو چاہئیے کہ وہ خود کشی فرما لے ۔ “
گوگل سرچ سے استفادہ کیا ھے
جزاک اللہ شاہین رضوی. جوش صاحب سے جو زیادتیاں صرف مسلک کے نام پر کی گئیں تاریخ ادب انہیں کبھی فراموش نہیں کرے گی.
محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب ، بعافیت و سلامت رھیں ۔مریثہ لکھنے والوں کے ساتھہ تو آج بھی یہی مسلکی رویہ رکھا جاتا ھے۔ یہ تنگ نظر معاشرہ اور مساوات کا درس دینے والےنام نہاد یزیدی ٹولہ آج بھی نام حسین سنتے ھی تنگ نظری کی عینک لگا لیتا ھے
عہد حاضر کے اس تلخ رویئے نے کیسے کیسے بیش قیمت جواھر کو پیوند خاک کردیا
جزاک اللہ
اللہ پاک اس کاوش کو قبول فرمائے الہی آمین ۔
دعا گو
سیدہ
میں صرف اتنا جانتی ہوں شاہین کہ اللہ کریم نے اپنے کام کے لئے خاص ہستیوں کو چنا ہوتا ہے اوروہ ظاہر ہو کر ہی رہتے ہیں چاہے انہیں دنیا کتنا ہی مجروع کرے یامٹانے کی کوشش کرے وہ کبھی مٹ نہیں سکتے ۔۔ کیونکہ اللہ کریم ہی نے فرمایا ہے کہ “ جو ہمارا نام بلند کرتا ہے ہم اس کا نام بلند کرتے ہیں “ ۔۔ اب نام کس کا بلند ہو گا اللہ کریم نے کوئی مسلمان اور کافر کو بطور شرط نہیں رکھا ۔ اب جو بھی بلند کرے گا اس کا نام بلند ہو گا ۔۔ کرنے والے فرشتے ہونگے یا انسان ( اس کا وہی جانے ) ۔۔۔۔ سو جس کا ضامن خود خدا بن جائے اسے کیونکر کسی کی پروا ہو ۔
اس فرمان کے مطابق اللہ کے حبیب اور ان کی آل پاک کی مدحت و مرثیہ کہنے والوں کے نام سدا بلند رہیں گے ۔۔ اس کو نہ ماننا ایسے ہی ہے جیسے سورج کو منبہ روشنی نہ ماننا ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ اللہ کی راہ میں چلنے والوں کا امتحان لکھا ہوا ہے کیونکہ یہ بھی اللہ کریم ہی کا فرمان ہے کہ “ اللہ کی راہ پر چلنے والے آزمائے جائیں گے “ ۔۔ آزمائیش میں ثابت قدمی ہی اصل مایہ ہے ۔ بس یہ کہ ثابت قدمی ایک خزانہ ہے جس کے ہاتھ لگ جائے اس کے لئے دنیا “ فانی “ ہو جاتی ہے ۔۔۔ اور جن جن طلب سچی ہوتی ہے وہی تخت و تاج چھوڑنے والے ہوتے ہیں ۔
اللہ کی راہ میں جتنی بڑی “ میں “ ختم کی جاتی ہے اس کے درجات اتنے ہی “ بلند “ ہوتے ہیں ۔۔ یعنی جتنا زیادہ نفس “ چھوڑا“ جاتا ہے اتنا ہی رب “ پایا“ جاتا ہے ۔
بس یہ طے ہوا کہ جو لکھتے وقت اپنی طلب جیسی رکھے گا ویسا ہی پائے گا ۔ حضرت جوش صاحب کے مقام کو سارے مسلک مل کر بھی کم کریں تو ان کی شہرت اورشان ختم نہیں کر سکیں گے کیونکہ ان کے مرثئے کے ہر مصرعے سے محبت بولتی ہے اور محبت کی “ تول “ صرف محبوب کے پاس ہوتی ہے ۔ اور دیکھئے ان کا محبوب انہیں مرنے کے بعد بھی نواز رہا ہے ۔ یہی محبت کی طاقت اور شان ہوتی ہے جو نہ خود مرتی ہے اور نہ اپنے سے منسوب کسی ایک بھی فرد کو منظر سے ہٹنے دیتی ہے ۔
جوش ملیح آبادی
حسین (ع) اور انقلاب
ہمراز ، یہ فسانہء آہ و فغاں نہ پوچھ
دو دن کی زندگی کا غم ایں و آں ، نہ پوچھ
کیا کیا حیات ارض کی ہیں تلخیاں نہ پوچھ
کس درجہ ہولناک ہے یہ داستاں نہ پوچھ
تفصیل سے کہوں تو فلک کانپنے لگے
دوزخ بھی فرط شرم سے منہ ڈھانپنے لگے
دنیا کی ہر خوشی ہے غم و درد سے دوچار
ہر قہقہے کی گونج مین ہے چشم اشکبار
کیا خار و خس کہ وہ تو ہیں معتوب روزگار
نسرین و نسترن میں بھی پنہاں ہے نوک خار
نغمے ہیں جنبش دل مضطر لئے ہوئے
گل برگ تک ہے برش خنجر لئے ہوئے
یاران سرفروش و نگاران مہ جبیں
آب نشاط و لعل لب و زلف عنبریں
کوئے مغاں و بوئے گل و روئے دلنشیں
زور و زن و زکاوت و ذہن و زر و زمیں
جو شے بھی ہے وہ درد کا پہلو لئے ہوئے
ہر گوہر نشاط ہے آنسو لئے ہوئے
بیگانہء حدود ہے انساں کی آواز
پیچیدہ ہر نظر میں ہے اک تازہ جستجو
تھمتی نہیں کہیں بھی تمنّائے برق خو
ساقی کا وہ کرم ہے کہ بھرتا نہیں سبو
ارماں کی شاہراہ میں ، منزل نہیں کوئی
اس بہر بے کنار کا ساہل نہیں کوئی
اس لیلٰئ حیات کی اللہ ری دار و گیر
ہر لوچ ، اک کمان ہے ہر ناز ایک تیر
اس کے کرم میں بھی وہ حرارت ہے ہم صفیر
جس کے مقبابلے میں جہنّم ہے ، زم ہریر
الجھے جو اس کے گیسوئے پیچاں کے جال میں
لگ جائے آگ ، دامن قطب شمال میں
امراض سے کسی کا بڑھاپا ہے اک وبال
آلام سے کسی کی جوانی ہے پائمال
اسکو ہے خوف ننگ ، اسے نام کا خیال
روزی سے کوئی تنگ، کوئی عشق سے نڈھال
ہر سانس ہے نوید عذاب عظیم کی
گھبرا کے دو دہائی “خدائے رحیم” کی
اس خوں چکاں حیات کے آلام ، کیا کہوں
قدرت نہیں فسانہء ایّام کیا کہوں
دارائے کائنات کے انعام کیا کہوں
یہ داستان مرحمت عام کیا کہوں
کہدوں تو دل سے خون کا چشمہ ابل پڑے
اور چپ رہوں تو منہ سے کلیجہ نکل پڑے
نوع بشر پہ ہے جو عقوبت، نہ پوچھئے
سفّاک زندگی کی شقاوت نہ پوچھئے
جور حیات و جبر و مشقّت نہ پوچھئے
کتنا رقیق ہے دل قدرت نہ پوچئے
سو سال اگر خزاں کے ، تو دو دن بہار کے
قربان ہجوم رحمت پروردگار کے!
یوں تو غم معاش کا سوز نہاں ہے اور
تکلیف جاں گدازئ وعشق بتاں ہے اور
لب تشنگئی شیب و عذاب خزاں ہے اور
اعلان امر حق کی مگر داستاں ہے اور
“گفتار صدق ، مایہء آزار می شود
چوں حرف حق بلند شود دار می شود”
ہاں اس بلا سے کوئی بلا بھی بڑی نہیں
کیا اسُ کو علم جس پہ یہ بپتا پڑی نہیں
کشتوں کے اسکے لاش بھی اکثر گڑی نہیں
اعلانِ امرِ حق سے کوئی شے بڑی نہیں
بے جرم ، خود کو جرم میں جو راندھ لے وہ آئے
اس راہ میں جو سر سے کفن باندھ لے وہ آئے
تکلیف رشد و کاہش تبلیغ ، الاماں
یہ دائرہ ہے ، دائرہء مرگِ ناگہاں
پیہم یہاں سروں پہ کڑکتی ہیں بجلیاں
بارِ الم سے بولنے لگتے ہیں استخواں
ہر گام پر حیات کے چہرے کو فق کرے
مرنا جو چاہتا ہو ، وہ اعلانِ حق کرے
کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے
کچھ کھیل ہے کہ کنہہ حکایات چھوڑ دے
گُھٹی میں تھے جو حل ، وہ خیالات چھوڑ دے
ماں کا مزاج باپ کی عادات چھوڑ دے
کس جی سے کوئی رشتئہ اوہام چھوڑ دے
وِرثے میں جو ملیں ہیں وہ اصنام چھوڑ دے
اوُہام کا رباب ، قدامت کا ارغنُوں
فرسودگی کا سِحر ، روایات کا فسُوں
اقوال کا مِراق ، حکایات کا جنوں
رسم و رواج و صحبت و میراث و نسل و خوں
افسوس یہ وہ حلقئہ دامِ خیال ہے
جس سے بڑوں بڑوں کا نکلنا محال ہے
اس بزمِ ساحری میں جہالت کا ذِکر کیا
خود علم کے حواس بھی رہتے نہیں بجا
اوہام جب دلوں میں بجاتے ہیں دائرا
عقلوں کو سوجھتا ہی نہیں رقص کے سوا
تاریخ جھومتی ہے فسانوں کے غول میں
بوڑھے بھی ناچتے ہیں جوانوں کے غول میں
جس دائرے میں قصرِ قدامت کا ہو طواف
جدّت کے جرم کو کوئی کرتا نہ ہو معاف
بگڑے ہوئے رسوم کا ذہنوں پہ ہو غلاف
آواز کون اُٹھائے وہاں جہل کے خلاف
آواز اٹھائے موت کی جو آرزو کرے
ورنہ محال ہے کہ یہاں گفتگو کرے
ہوتا ہے جو سماج میں جویائے انقلاب
ملتا ہے اُسکو مرتد و زندیق کا خطاب
پہلے تو اسکو آنکھ دکھاتے ہیں شیخ و شاب
اس پر بھی وہ نہ چپ ہو تو قوم کا عتاب
بڑھتا ہے ظلم و جور کے خنجر لئے ہوئے
تشنیع و طعن و دشنہ خنجر لئے ہوئے
اٹھتا ہے غُلغُلہ کہ یہ زندیقِ نامراد
کج فکر و کج نگاہ و کج اخلاق و کج نہاد
پھیلا رہا ہے عالم اخلاق میں فساد
اے صاحبان جذبۂ دیرینۂ جہاد
ہاں جلد اٹھو ، تباہئی باطل کے واسطے
جنت ہے ایسے شخص کے قاتل کے واسطے
اور بلخصوص جب ہو حکومت کا سامنا
رعب و شکوہ جاہ و جلالت کا سامنا
شاہان کج کلاہ کی ہیبت کا سامنا
قرنا و طبل و ناوک درایت کا سامنا
لاکھوں میں ہے وہ ایک کڑوڑوں میں فرد ہے
اس وقت جو ثبات دکھائے وہ مرد ہے
اور بلخصوص بند ہو جب ہر درِ نجات
حق تشنہ لب ہو دشت میں باطل لبِ فرات
دستِ اجل ہو زن و فرزند تک کی ذات
حائل ہو مرگِ زیست میں لے دے کے ایک رات
یہ وہ گھڑی ہے کانپ اُٹھے شیرِ نر کا دل
اس تہلکے کو چاہئے فوق البشر کا دل
وہ کربلا کی رات وہ ظلمت ڈراؤنی
وہ مرگِ بے پناہ کے سائے میں زندگی
خیموں کے گرد و پیش و پُر ہول خامشی
خاموشیوں میں دُور سے وہ چاپ موت کی
تھی پشتِ وقت بارِ الم سے چُھکی ہوئی
ارض و سما کی سانس تھی گویا رُکی ہوئی
وہ اہلِ حق کی تشنہ دہاں ، مختصر سپاہ
باطل کا وہ ہجوم کہ اللہ کی پناہ
وہ ظلمتوں کے دام میں زہرا کے مہر و ماہ
تارے وہ فرطِ غم سے جھکائے ہوئے نگاہ
وہ دل بجھے ہوئے وہ ہوائیں تھمی ہوئی
وہ اک بہن کی بھائی پہ نظریں جمی ہوئی
لبریز زہرِ جور سے وہ دشت کا ایّاغ
دکھتے ہوئے وہ دل وہ تپکتے ہوئے دماغ
آنکھوں کی پتلیوں سے عیاں وہ دلوں کے داغ
پُر ہول ظلمتوں میں وہ سہمے ہوئے چراغ
بکھرے ہوئے ہوا میں وہ گیسو رسول کے
تاروں کی روشنی میں وہ آنسو بتول کے
وہ رات ، وہ فرات وہ موجوں کا خلفشار
عابد کی کروٹوں پہ وہ بے چارگی کا بار
وہ زلزلوں کی زد پہ خواتین کا وقار
اصغر کا پیچ و تاب وہ جھولے میں بار بار
اصغر میں پیچ و تاب نہ تھا اضطراب کا
وہ دل دھڑک رہا تھا رسالت مآب کا
وہ رات جب امام کی گونجی تھی یہ صدا
اے دوستانِ صادق و یارانِ باصفا
باقی نہیں رہا ہے کوئی اور مرحلہ
اب سامنا ہے موت اور صرف موت کا
آنے ہی پر بلائیں ہیں اب تحت وفوق سے
جانا جو چاہتا ہے ، چلاجائے شوق سے
اور سنتے ہی یہ بات بصد کرب اضطراب
شبیر کو دیا تھا یہ انصار نے جواب
دیکھیں جو ہم یہ خواب بھی اے ابنِ بوتراب
واللہ فرطِ شرم سے ہو جائیں آب آب
قرباں نہ ہوں جو آپ سے والا صفعات پر
لعنت اس امن و عیش پر تف اس حیات پر
کیا آپ کا خیال ہے یہ شاہ ذی حشم!
ہم ہیں اسیر سود و زیاں صید کیف و کم
خود دیکھ لیجئے گا کہ گاڑیں گے جب قدم
ہٹنا تو کیا ہلیں گے نہ دشتِ وغا سے ہم
پتلے ہیں ہم حدید کے پیکر ہیں سنگ کے
انساں نہیں ، پہاڑ ہیں میدانِ جنگ کے
ہاں ہاں وہ رات ، دہشت و بیم و رجا کی رات
افسونِ جاں کنی و طلسم قضا کی رات
لب تشنگانِ ذریتِ مصطفا کی رات
جو حشر سے عظیم تھی وہ کربلا کی رات
شبیر نے حیات کا عنواں بنا دیا
اس رات کو بھی مہرِ درخشاں بنا دیا
تاریخ دے رہی ہے یہ آواز دمبدم
دشتِ ثبات و عزم ہے دشتِ بلاؤ غم
صبر مسیح و جرأتِ سقراط کی قسم
اس راہ میں ہے صرف اک انسان کا قدم
جس کی رگوں میں آتشِ بدر و حنین ہے
جس سورما کا اسم گرامی حسین ہے
جو صاحبِ مزاجِ نبوت تھا ، وہ حسین
جو وارثِ ضمیرِ رسالت تھا ، وہ حسین
جو خلوتی ، شاہد قدرت تھا ، وہ حسین
جس کا وجود ، فخرِ مشیت تھا وہ حسین
سانچے میں ڈھالنے کے لئے کائنات کو
جو تولتا تھا نوکِ مژہ پر حیات کو
جو اک نشانِ تشنہ دہانی تھا وہ حسین
گیتی پہ عرش کی جو نشانی تھا وہ حسین
جو خلد کا امیرِ جوانی تھا وہ حسین
جو اک سنِ جدید کا بانی تھا وہ حسین
جس کا لہو تلاطمِ پنہاں لئے ہوئے
ہر بوند میں تھا نوح کا طوفاں لئے ہوئے
جو کاروانِ عزم کا رہبر تھا وہ حسین
خود اپنے خون کا جو شناور تھا وہ حسین
اِک دینِ تازہ کا جو پیمبر تھا وہ حسین
جو کربلا کا داور محشر تھا وہ حسین
جس کی نظر پر شیوہ حق کا مدار تھا
جو روحِ انقلاب کا پروردگار تھا
ہاں اب بھی جو منارۂ عظمت ہے وہ حسین
جسکی نگاہ ، مرگِ عداوت ہے وہ حسین
اب بھی محوِ درسِ محبّت ہے وہ حسین
آدم کی جو دلیلِ شرافت ہے وہ حسین
واحد جو ایک نمونہ ہے ذبحِ عظیم کا
” اللہ رے انتخاب ، خدائے حکیم کا ”
ہاں وہ حسین جس کا ابد آشنا ثبات
کہتا ہے گاہ گاہ حکیموں سے بھی یہ بات
یعنی درونِ پردۂ صد رنگِ کائنات
اک کارساز ذہن ہے ، اک ذی شعور ذات
سجدوں سے کھینچتا ہے جو “مسجود” کی طرف
تنہا جو اک اشارہ ہے “معبود” کی طرف
جس کا وجود ، عدل و مساوات کی مُراد
جو کردگارِ امن تھا ، پیغمبرِ جہاد
تحویل زندگی میں پئے رفعِ ہر فساد
قدرت کی اک امانتِ زریں ہے جسکی یاد
سوزاں ہے قَلبِ خاک ، جو خونِ مبین سے
اک لو نکل رہ ہے ابھی تک زمین سے
عزت پہ جس نے سر کو فدا کر کے دم لیا
صدق و منافقت کو ، جدا کر کے دم لیا
حق کو ابد کا تاج عطا کر کے دم لیا
جس نے یزیدیت کو فنا کرکے دم لیا
فتنوں کو جس پہ ناز تھا وہ دل بجھا دیا
جس نے چراغِ دولتِ باطل بُجھادیا
عالم میں ہوچکا ہے مسلسل یہ تجربا
قوت ہی زندگی کی ہی ہے گِرہ کُشا
سر ضعف کا ہمیشہ رہا ہے جھکا ہوا
نا طاقتی کی موت ہے ، طاقت کا سامنا
طاقت سی شے مگر خجل و بد نصیب تھی
نا طاقتی حسین کی کتنی عجیب تھی
طاقت سی شے کو خاک میں جس نے ملادیا
تختہ اُلٹ کے ، قصرِ حکومت کو ڈھا دیا
جس نے ہوا پہ ، رعبِ امارت اڑا دیا
ٹھوکر سے جس نے افسرِ شاہی گرادیا
اس طرح جس سے ظلم ، سیہ فام ہوگیا
لفظِ یزید ، داخلِ دشنام ہو گیا
پانی سے تین روز ہوئے جس کے لب نہ تر
تیغ و تبر کو سونپ دیا جس نے گھر کا گھر
جو مرگیا ضمیر کی عزت کے نام پر
ذِلت کے آستاں پہ جھکایا مگر نہ سر
لی جس نے سانس ، رشتئہ شاہی کو توڑ کر
جس نے کلائی موت کی رکھ دی مڑوڑ کر
جسکی جبیں پہ کج ہے خود اپنے لہو کا تاج
جو مرگ و زندگی کا ہے اک طرفہ امتزاج
سر دے دیا ، مگر نہ ظلم کو دیا خراج
جس کے لہو نے رکھ لی تمام انبیاء کی لاج
سنتا نہ کوئی دہر میں صدق و صفا کی بات
جس مردِ سرفروش نے رکھ لی “خدا ” کی بات
ہر چند اہل جور نے چاہا یہ بارہا
ہوجائے محو ، یاد شہیدانِ کربلا
باقی رہے نہ نام زمین پر حسین کا
لیکن کسی کا زور عزیزوں نہ چل سکا
عباس نامور کے لہو سے دُھلا ہوا
اب بھی حسینیت کا علم ہے کھُلا ہوا
یہ صبح انقلاب کی جو آج کل ہے ضو
یہ جو مچل رہی ہے صبا ، پھٹ رہی ہے پو
یہ جو چراغِ ظلم کی تھرّا رہی ہے لو
درپردہ وہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو
حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز ، دوستوں
یہ بھی اُسی جری کی ہے آواز ، دوستوں
جس کا ہجوم درد و الم سے یہ حال تھا
سینہ تھا پاش پاش ، جگر پائمال تھا
رُخ پر تھا تشنگی کا دھواں دل نڈھال تھا
اس کرب میں بھی جس کو فقط یہ خیال تھا
آتش برس رہی ہے تو برسے خیام پر
آنے نہ پائے آنچ مگر حق کے نام پر
ہر چند ایک شاخ ، چمن میں ہری نہ تھی
ماتھا عرق عرق تھا لبوں پر تری نہ تھی
باطل کی ان بلاؤں پہ بھی چاکری نہ تھی
یہ داوری تھی اصل میں پیغمبری نہ تھی
رنگ اڑ گیا حکومتِ بدعت شعار کا
عزمِ حسین ، عزم تھا پروردگار کا
تھی جس کے دوشِ پاک پر اہل ولا کی لاش
انصارِ سرفروش کی لاش ، اقرابا کی لاش
عباس سے مجاہدِ تیغ آزما کی لاش
قاسم سے شاہزادۂ گلگوں قبا کی لاش
پھر بھی یہ دُھن تھی صبر کی زلفوں سے بل نہ جائے
اِس خوف سے کہ حق کا جنازہ نکل نہ جائے
زار و نززار و تشنۂ و مجروح و ناتواں
تنہا کھڑا ہوا تھا جو لاکھوں کے درمیاں
گھیرے تھے جس کو تیر و تبر ناوک و سناں
اور سورہا تھا موت کے بستر پہ کارواں
اتنا نہ تھا کہ حقِ رفاقت سے کام لے
گرنے لگیں اگر تو کوئی بڑھ کے تھام لے
ہاں وہ حسین ، خستہ و مجروح و ناتواں
ساکت کھڑا ہواتھا جو لاشوں کے درمیاں
سنتا رہا سکون سے جو پیر نیم جاں
اکبر سے ماہ رو کی جوانی کی ہچکیاں
ہے ہے کی آرہی تھی صدا کائنات سے
پھر بھی قدم ہٹائے نہ راہِ ثبات سے
ہاں اے حسینِ تشنہ و رنجور ، السّلام
اے مہمانِ عرصۂ بے نور ، السّلام
اے شمعِ حلقۂ شبِ عاشور ، السّلام
اے سینۂ حیات کے ناسور ، السّلام
اے ساحلِ فرات کے پیاسے ترے نثار
اے آخری “نبی” کے نوسے ترے نثار
ہاں اے حسین بیکس و ناچار ، السّلام !
اے کشتگانِ عشق کے سردار ، السّلام
اے سوگوارِ یاور و انصار ، السّلام
اے کاروانِ مُردہ کے سالار ، السّلام
افسوس اے وطن سے نکالے ہوئے حسین
اے فاطمہ کی گود کے پالے ہوئے حسین
تو ، اور تیرے حلق پر تلوار ، ہائے ہائے
زنجیر اور عابدِ بیمار ، ہائے ہائے
زینب کا سر کھُلے ، سرِ بازار ہائے ہائے
سر تیرا اور یزید کا دربار ہائے ہائے
انسان ، اس طرح اُتر آئے عناد پر
لعنت خدا کی حشر تک اب زیاد پر
اسّلام علیکم ساتھیوں ،
ہمیشہ کی طرح منفرد شہ پارے پیش کرنے والی عالمی اخبار کی بیٹی نگہت نسیم نے پھر روح کو تازہ کرنے والی ایک حسین اور منفرد تخلیق پیش کی ہے جس کے لئے میری جانب سے اسے صد ہزار مبارکباد کہ یہ توفیقات بھی منجانب اللہ ہی ملتی ہیں
میری دعا ء ہے کہ پاک پرور دگار چہاردہ معصومین کے وسیلے سے اس نیک بیٹی کی توفیقات میں اور اضافہ فرمائے آمین
زائرہ بجّو
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۔
پس اے جنِّ و انس ! تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
Which of the bounties of your Lord will you twain – you men and jinn – then deny?
حضرت جوش کی خوش بیانی
ایک تصویر ہمارے ذہن میں اختر انصاری اکبر آبادی کی بھی اُبھر رہی ہے۔ وہ حیدرآباد سندھ سے نکلنے والے ایک ادبی رسالے کے مدیر اور مشہور شاعر تھے۔ جوش کا کہنا تھا کہ ان کا نام خود ایک مصرع ہے۔ انصاری صاحب ایک بار جوش سے ملنے اُن کے دفتر گئے تو اپنا ”وزٹنگ کارڈ“ بھی ساتھ لے گئے۔ خود اندر جانے سے پہلے بڑے اہتمام سے اپنا وزٹنگ کارڈ اندر بھجوایا۔ کارڈ دیکھتی ہی جوش کی طبیعت رواں ہوگئی۔ اُنھوں نے اُسی کارڈ کی پشت پر ایک قطعہ لکھ کر واپس باہر بھجوادیا: کاغذی پیرہن یہ کس کا ہی؟ کون آیا ہے بن کے فریادی؟ ہاتفِ غیب نے کہا رو کر اختر انصاری اکبر آبادی انصاری صاحب یہ قطعہ پڑھ کر تپ گئے۔خاص کر ”ہاتفِ غیب کے رونے“ پر۔ فی الفور جوابی قطعہ لکھا۔ اندر بھجوایا اور باہر چلے آئے۔ نہیں ملنا تو صاف کہہ دیجیی قطعہ لکھ کر کے وقت کیوں کھویا میں تو ہنستا ہوں اپنی قسمت پر ہاتفِ غیب بے سبب رویا …………٭٭٭………… ایسا ہی قصہ ایک بار جوش صاحب کے ساتھ بھی ہوچکا تھا۔ یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب جوش صاحب بھارت میں تھی، پاکستان نہیں آئے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد بھارتی کابینہ میں وزیر تھے۔ جوش صاحب اُن سے ملنے اُن کے دفتر پہنچے۔ اُس وقت اِس ”کاغذی پیرہن“ کا اتنا رواج نہیںتھا۔ جوش صاحب نے ایک کاغذ پر اپنا نام لکھ کر اندر بھجوادیا تھا۔ بڑی دیر انتظار کیا، مگر مولانا غالباً کسی اہم سرکاری کام میں مصروف تھے۔ تاخیر پر تاخیر ہوتی چلی گئی تو جوش صاحب نے ایک فی البدیہہ شعر ایک اور کاغذ پر لکھ کر اندر بھجوایا اور خود کھولتے ہوئے وہاں سے واپس چلے آئے۔ نا مناسب ہے خون کھولانا پھر کسی اور وقت مولانا بات تعریف وتعارف سے چلی اور ”تعارفی کارڈ“ بانٹتی ہوئی خون کھولانے پر منتج ہوئی۔ ہم نے تو یہ چاہا تھا کہ آج آپ کے فشارِ خون کو معمول پر رکھنے کی کوشش کی جائے۔
کوئی ممبر نشین ایسا لکھ کر تو دکھائے بس قوم کے افراد کو لوٹنا ہی آتا ہے آج تک ان ممبر نشیوں اور عمامہ پوشوں نے قوم سوائے رسوائی اور قتل غارت کے کیا دیا ہے
ہاں اب بھی جو منارۂ عظمت ہے وہ حسین
جسکی نگاہ ، مرگِ عداوت ہے وہ حسین
اب بھی محوِ درسِ محبّت ہے وہ حسین
آدم کی جو دلیلِ شرافت ہے وہ حسین
واحد جو ایک نمونہ ہے ذبحِ عظیم کا
” اللہ رے انتخاب ، خدائے حکیم کا ”
ہاں اے حسینِ تشنہ و رنجور ، السّلام
اے مہمانِ عرصۂ بے نور ، السّلام
اے شمعِ حلقۂ شبِ عاشور ، السّلام
اے سینۂ حیات کے ناسور ، السّلام
اے ساحلِ فرات کے پیاسے ترے نثار
اے آخری “نبی” کے نوسے ترے نثار
آج شاعر انقلاب شبیر حسن خان کی برسی ہے اللہ ان کے درجات کی بلندی فرمائے اور تمام اہل قلم کو اپنی حفظ امان میں رکھے۔ اور آخر میں یہ شعر جوش کی مغفرت کے لئے
عشق حسین میں جو گزرتا ہے دوستو
اُسکا نصیب خوب سنورتا ہے دوستو
جو فاطمہ کے لال پہ مرتا ہے دوستو
نقش دوام ہو کے اپھرتا ہے دوستو
دنیا تو ساتھ چھوڑتی ہے خاک ڈال کر
لے جاتے ہیں جناں میں فرشتے سنبھال کر
ماشاءاللہ،،،، بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔۔۔۔۔۔۔
میرا تعلق GCUF شعبہ اردو سے ہے۔۔۔۔۔۔
اور الحَمْدُ ِلله پروفیسر ماجد مشتاق راٸے صاحب کی زیرِ نگرانی ایم اے لیول کا مقالہ بعنوان 👈 سورہ الرحمن کے منظوم تراجم کا تنقیدی جاٸزہ👉 تحریر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
آپ جیسے باذوق۔ علم دوست۔ ادب دوست احباب سے التجا ہے کہ میری راہنماٸی فرماٸیں۔۔۔۔❤❤😍
03026350614
آپ کی عنایتوں اور محبتوں کا منتظر🙏 محمد نعمان حسن