السلام علیکم
اس لڑی میں میں اپنے پاس موجود برقی کتب کی فہرست ترتیب دونگا ، اس فہرست میں کتابوں کے نام کے ساتھ اُن کےمصنفین اور مولفین کے نام بھی ہونگے جو کہ گاہے بگاہے ایڈیٹنگ کے زریعے شامل کئے جاتے رہینگے ۔ مین کوشش کرونگا کہ کتابوں کو موضوعات کی ترتیب بھی برقرار رہے ۔
شاعری :-
کلیات اقبال – علامہ محمد اقبال
مسدس حالی – الطاف حسین حالی
آس – بشیر بدر
آسمان – بشیر بدر
امیج – بشیر بدر
دست صبا – فیض احمد فیض
نسخہ ہائے وفا – فیض احمد فیض
بے آواز گلی کوچوں میں – احمد فراز
کلیات حبیب جالب – حبیب جالب
گمان – جون ایلیا
مدینہ نعت – صفدر ہمدانی
یا محمد محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں کہتا رہا – انتخاب ، خالدہ سرفراز
انکار – پروین شاکر
خود کلامی – پروین شاکر
عکس خوشبو ( پروین شاکر کی شاعری سے انتخاب ) ۔ بشری ناصر
خیال چہرہ – افتخار راغب
لفظوں کا احساس – افتخار راغب
چپکے سے اتر مجھ میں – مرتضی اشعر
میری آنکھوں سے دیکھوں – فیصل عظیم
مر کر بھی تمہارے ہیں – ریحانہ قمر
محبت ہار جاتی ہے – سورج ہاشمی
موسم گل حیران کھڑا ہے ۔ کلیم احسان
نشاط خواب – ناصر کاظمی
پہلی بارش – ناصر کاظمی
سُر کی چھایا – ناصر کاظمی
غیر مطبوعہ کلام – ناصر کاظمی
پہلی بات ہی آخری تھی – منیر نیازی
ساعت سیار – منیر نیازی
تیز ہوا اور تنہا پھول – منیر نیازی
پچھلی رُت کا ساتھ تمہارا – عتیق الرحمن صفی
رنگ گلنار – سرور عالم راز سرور
رشک قمر – استاد قمر جلالوی
روشنی اے روشنی – شکیب جلالی
شوخ بیانی – شوکت جمال ( مزاحیاں شاعری )
چکن فالودہ – مرتبہ – گل فراز احمد ( مزاحیاں شاعری )
شور بادباں – اکبر حمیدی
ویران سرائے کا دیا – عبید اللہ علیم
طنز و مزاح :-
گدھے کی سر گزشت ۔ کرشن چند
مذاق ہی مذاق میں – فیاض حیدر
ناول :-
پیر کامل ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عمیرہ احمد
لاحاصل – عمیرہ احمد
سحر اک استعارہ ہے – عمیرہ احمد
وآپسی – عمیرہ احمد
سولہواں سال – ایم اے راحت
کالکا دیوی – ایم اے راحت
کان کُن – علیم الحق حقی
عشق کا عین – علیم الحق حقی
عشق کا قاف – سرفراز احمد راہی
پُکار- سرفراز احمد راہی
مہا ماری – شموئل احمد
ندی – شموئل احمد
سوچ نگر کا مسافر – ڈاکٹر صابر علی ہاشمی
سلطان اور خان – اسلم راہی
تیر نگاہ – ایم اسلم
وہ خبطی سی ، دیوانی سی ( چار حصے ) – آسیہ سلیم قریشی
وہ جو حرف حرف چراغ تھا – نگہت بانو
ظلمت کدہ – ایم اے عظیم
وہ اک ایسا شجر ہو – فرحت اشتیاق
دل دریا سمندروں ڈونگھے ( دو حصے ) – آسیہ مرزا
تیری طلب کے سیپ اُٹھائے – آسیہ مرزا
در امید کے درویزہ گر – آسیہ مرزا
ماہی ماہی کوکدی ( دو حصے ) ہما کوکب بخاری
میں عبد القادر ہوں – ثروت نزیر
سمے کی راہ گزر – نگہت عبداللہ
تم کون پیا ؟ – ماہا ملک
آئیڈیل – رضیہ بٹ
جو میرا نصیب تھا – سعدیہ رئیس
کی جاناں مین کون ؟ فائزہ افتخار
اُسے ٹوٹ کر چاہا ہے ہم نے – سیدہ تہمینہ زہرا
افسانے :-
ابابیلیں لوٹ آئینگی – ترنم ریاض
ایک محبت سو افسانے – اشفاق احمد
ایٹمی جنگ – حیدر قریشی
مرگ زار – محمد حمید شاہد
لینڈ اسکیپ کے گھوڑے – مشرف عالم ذوقی
نئی صدی کا عزاب – ایم مبین
تیسرا ہاتھ – سرور عالم راز سرور
اردو کے مشہور افسانے – حسن علی ، قادر بخش
شرمیلی – بشری رحمن
چاند سی دُلھن – ماہا ملک
قاتل – رفعت مرتضی
مضامین :-
آگاہی گر نہیں – حاذق کلیم
آرژنگ – سید احمد شمیم
طواف دشت جنوں – حقانی القاسمی
انشائیہ اور انفرادی سوچ – پروفیسر جمیل آذر
انشائیے :-
پہاڑ مجھے بلاتا ہے – اکبر حمیدی
تلاش – ممتاز مفتی ( دو حصے )
المودودی – نعیم صدیقی
لسانیات :-
تُزک اردو – محمد اسمعیل
اردو محاورات کا تہزیبی مطالعہ – ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی
دینیات :-
سیف ِ چشتیائی – پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ
خلافت اور ملوکیت – سید ابو الاعلی مودودی
پردہ – سید ابو الاعلی مودودی
آداب زندگی – مولانا محمد یوسف اصلاحی
الخفلیفۃ المہدی فی الاحادیثِ صحیحہ – ( مؤلف ) سید حسین مدنی ( ترجمہ ) مولانا حبیب الرحمن
راہِ عمل – مجموعہ منتخب احادیث حصہ اول ( مُرتبہ ) مولان جلیل احسن ندوی
زادِ راہ – مجموعہ منتخب احادیث حصہ دوئم ( مُرتبہ ) مولان جلیل احسن ندوی
جہاد اسلامی – ( مُرتبہ ) خلیل احمد حامدی
جادہ و منزل – سید قطب شہید ( ترجمہ ) خلیل احمد حامدی
جدید جاہلیت – محمد قطب ( ترجمہ ) ساجد الرحمن صدیقی
علامات قیامت اور نزول مسیح – مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی
الامام المہدی – مولانا سید محمد بدر عالم
رسولِ کامل (صلی اللہ علیہ وسلم ) – ڈاکٹر اسرار احمد
شہید مظلوم ( حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی ) – ڈاکٹر اسرار احمد
مثیل عیسی ، علی مرتضی – ڈاکٹر اسرار احمد
قرآن حکیم کی قوتِ تسخیر – ڈاکٹر اسرار احمد
اسلام کی نشاطِ ثانیہ – ڈاکٹر اسرار احمد
عقیدہ و منہج – حافذ محمد سعید
دُعائے حزب البحر – شاہ ولی اللہ
شرعۃ المتین ( مجموعہ احادیث ) – اسد الرحمن قدسی
حقائق اور افسانے – حسین امیر فرہاد
جھوٹے نبی – ابو القاسم رفیق دلاوری
خاتم النبین – مولانا محمد انور شاہ کشمیری
مجہور قرآن – محمد راغب الحسن
مسائل غسل – مولانا عبدالرؤف سکھروی
بائیس جھوٹے نبی – نثار احمد خان فتحی
مسئلہ رفع نزول مسیح علیہ السلام – مولانا عبدالطیف مسعود
عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام – علامہ محمد یوسف بنوری
عورت کا بلا محرم سفرِ حج – پیرزادہ مفتی شمس الدین نور
راہ عافیت ( دو حصے ) – جمع و ترتیب ، ارکان نظام ایجوکیشن سوسائٹی
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے سو قصے – مولف ، شیخ محمد صدیق منشاوی
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے سو قصے – مولف ، مولانا خرم یوسف
حضرت حزیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ – مولانا عمران اشرف عثمانی
توہینِ رسالت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) – محمد اسلم لودھی
اسلام اور دہشت گردی – سید نسیر شاہ
تاریخ :-
خدا کی تاریخ – کیرن آرم اسٹرانگ ( ترجمہ ) یاسر جواد
بہتے لہو کی کہانی – ببرک لودھی
اینڈ آف ٹائم – ڈاکٹر شاہد مسعود
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا – صدیق سالک
اُجالے ماضی کے – ڈاکٹر ابو طالب انصاری
ڈرامے :-
ہجرت کے تماشے – جاوید دانش
مشن امن ( بچوں کے ڈرامے ) صائمہ الہی
ابھی تو رات ہے – انیس جاوید
سب ٹھیک ہے – اقبال نیازی
بچوں کا ادب :-
حکایات – مرتضی اشعر
جب ہم برے ہو جائینگے ( شاعری ) فراغ روہوی
کہانیاں جانوروں کی – آفتاب حسنین
تحقیق :-
صلاۃ الرسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) – مولانا حکیم محمد سیالکوٹی
معرفت ِ اسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) – ترتیب و تحقیق ، محمد متین خالد
شہیدانِ ناموس رسالت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) – ترتیب و تحقیق ، محمد متین خالد
علامہ اقبال اور فتنہِ قادیانیت – ترتیب و تحقیق ، محمد متین خالد
منظر شہاب ، حیت اور فکروفن – ڈاکٹر صلاح الدین رام نگری
شخصیتِ مسیح ( علیہ السلام ) بائبل کے ائینے میں – ترتیب و تحقیق ، محمد نواز فیصل آبادی
شیر شاہ سوری – ترتیب و تحقیق ، ڈاکٹر عطیہ الرحمن
آمنہ نے گھریلو ٹوٹکے – ترتیب و تحقیق ، آمنہ ملک
کذبات مرزا – حکیم محمود احمد ظفر
متفرق :-
ہاں میں باغی ہوں – جاوید ہاشمی
مارکسزم – تاریخ جس کو رد کر چکی ہے ۔ مولانا وحید الدین
سوشلزم – ایک غیر اسلامی نظریہ ۔ مولانا وحید الدین
احمقوں کی جنت – جی آر اعوان
بے حیائی ( آغاز سے انجام تک ) – نعیم احمد ابرار
حج کا طریقہ – مفتی عبد الرؤف سکھروی
قربانی اور ذولاحجۃ کے فضائل و مسائل – مفتی عبد الرؤف سکھروی
قربانی کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا – محمد انعام الحق قاسمی
کشکولِ قلندری – اسد الرحمن قدسی
پیارے نبی کی پیاری سنتیں – مولانا شاہ حکیم محمد اختر
شہر سدوم – شفیق مرزا
سود ، اللہ اوررسول سے اعلان جنگ – مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی
سفر نامے :-
ہر طرف روشنی ( سفر نامہ حج – دو حصے ) خورشید ناظر
جرم و سزا :-
ڈراپ سین – امجد بیگ ایڈوکیٹ
کالا برقعہ – احمد یار خان
قاضی کی کوٹھری اور کنواری بیٹی – احمد یار خان
جاسوسی ادب :-
سیکرٹ ایجنٹ – ڈاکٹر صابر علی ہاشمی
میں ایک جاسوس تھا ( دو حصے ) – طارق اسماعیل ساگر
خونی کہاوت – ایم اے راحت
عمران سیریز :-
بھیانک آدمی – ابن صفی
قبر اور خنجر – ابن صفی
درندوں کی بستی – ابن صفی
گمشدہ شہزادی – ابن صفی
شفق کے پُجاری – ابن صفی
قاصد کی تلاش – ابن صفی
رائی کا پربت – ابن صفی
پاگل کتے – ابن صفی
پیاست سمندر – ابن صفی
کالی تصویر – ابن صفی
خطرناک لاشیں – ابن صفی
گیند کی تباہ کاریاں – ابن صفی
چار لکیریں – ابن صفی
چالیس ایک باون – ابن صفی
آتشدان کا بت – ابن صفی
جڑوں کی تلاش – ابن صفی
عمران کا اغوا – ابن صفی
جزیروں کی روح – ابن صفی
چیختی روحیں – ابن صفی
خطرناک جواری – ابن صفی
ہیروں کا فریب – ابن صفی
دلچسپ حادثہ – ابن صفی
پتھر کا آدمی – ابن صفی
رات کا شہزادہ – ابن صفی
آصف احمد بھٹی

آصف بیٹا جیتے رہئے اللہ کریم ورحیم اس بے لوث خدمت کے بدلے تمھیں جلد سے جلد دین و دنیا کے مال و علم کے خزانون سے ما لا مال کردے آمین
مجھے بشیر بدر کی کتابیں چاہئے اب یہ تمھاری مرضی ،سہولت پر منحصر ہئے کہ ایک کتاب بھیجنے میں سہولت رہئے گی یا ایک سے زیادہ
منتظر زائرہ بجّو
علم نور ہر اور نور سے پر نور ہونا عطائے رب رحیم ہے اور علم کا نور اللہ کے ولی یا ولی صفت احباب پھیلاتے ہیں. مبارک ہو آصف بھائی
اسلام علیکم ساتھیو
جیتے رہئے اآصف بھٹی بھائی اللہ آپ کا کامیابی عطا کرے ۔
یہ تو بہت ہی اہم کام ہے ۔ جزاک اللہ خیر
کتاب سے بہتر کوئی دوست نہ ساتھی ۔
علم دینا اور علم لینا دونوں ہی کارَ خیر ہیں ۔
عالم آرا
السلام علیکم
محترمہ سیدہ صاحبہ ! میں آپ کو بشیر بدر کی تین کتابیں جو کہ فہرست میں بھی موجود ہیں بھیج چکا ہوں ، مزید بھی دیکھونگا کہ اگر میرے پاس موجود برقی کتب میں بشیر بدر کی کوئی کتاب موجود ہوئی تو وہ بھی اپ کو ارسال کر دونگا ۔ اگر میرا برقی پیغام آپ تک نہ پہمچا ہوں تو بتا دیں میں دوبارہ بھیج دونگا ، آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترمین محفل میں نے کتابوں کی فہرست میں مزید کئی کتابوں کے نام کا اضافہ کیا ہے ، آپ سب لوگ بھی ایک بار دیکھ لیں ۔ شکریہ ۔
آصف احمد بھٹی
آصف بھائ آچھے بچے سلامت رھو خوش رھو اللہ پاک تمھار ے علم میں عمر میں رزق میں نیکی اور خیر کے کاموں برکت عطا فرماۓ ،
علم کثیر عطا فرماۓ آمین ثم آمین
کہ تم نے اس خزانے کی برقی تقسیم کا نیک اور بابرکت کام شروع کردیا ھے جزاک اللہ
مجھے بہت خوشی ھورھی ھے کہ یہ نیک کام تمھارے باعمل ھاتھوں سے شروع ھورھا ھے ، آصف بھا ئ زندہ باد
اللہ پاک آصف کو دین و دینا کی ھر نعمت عطا فرماۓ آمین ثم آمین
اچھے بچے آصف مجھے شکیل عادل زادہ کی بازی گر کا 8 داں حصہ چاھیے ، شکریہ کے ساتھہ ایک بڑی دعوت اور دو قران پاک کے نسخے تحفہ کے طور پر ملینگے تم کو اور ساتھہ ڈھیروں دعايئں خوش رھو بھائ
اسلام علیکم
شاہین آپی ! فل حال تو میرے پاس موجود نہین مگر شام تک یا زیادہ سے زیاہد ایک دو دن دین میں تلاش کر کے آپ تک پہنچا دیتا ہوں ۔
آصف اھمد بھٹی
شاہین آپی
یہ ایک لنک ملا تو ہے مگر میرے پاس اوپن نہین ہو رہا آپ دیکھ لیں ۔ ورنہ کچھ اور کرتا ہوں ۔
http://www.mediafire.com/?bqb5gp9gdlftqrr
آصف احمد بھٹی
زبردست بھائی موجیں ہو گئیں نا ہماری تو .. . مجھے جی بھر کر نام دیکھنے دیں پہلے پھر کچھ اور پوچھتی ہوں
جی بیٹا میں نے میل چیک کی تھی تو کتابیں آچکی تھیں اور میں نے اسی وقت آپ کو جواب بھی تحریر کر دیا تھا ،دل و جان سے
تمھارے لئے دعائیں نکلی ہیں اللہ پاک باب علم کے اور شہر علم کے صدقے تمھارے علم کے خزانوں کو نورانی علوم سے بھر دے
آمین اور تمھیں دین دنیا کے بے مثال نعمتیں عطا کرے آمین
دعاگو زائرہ بجّو
السلام علیکم
سیدہ صاحبہ ! مجھے آپ کا جواب گیا تھا ، آپ کی دُعائیں دُنیا و آخرت دونوں کے لیے سرمایہ ہیں ۔ شکریہ
فہرست میں مزید اضافہ کیا ہے ، اور امید ہے میرے پاس موجود تمام برقی کتب میں سے ساری معیاری کتب کی فہرست آج شم تک مکمل ہو جائے گی ، کشھ کتابیں جنہیں میں اتنا میعاری نہیں سمجھتا رہا ان سب کے نام اس فہرست میں شال نہیں ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
نگہت آپی ! آپ آرام سے اور سکون سے فہرست میں موجود کتابوں کو دیکھ لیں اور اپنی پسند کی کتابیں منتخب کر لیں ، کل اور پرسوں دو دن میری چھٹی کے ہونگے ، اس کے بعد آپ کی فرمائش بھی پوری کی جائے گی ۔
آصف احمد بھٹی
جیتے رہو میرے بچّے ،
اگر بظاہر دیکھا جائے تو تمھاری ان خدمات کا صلہ ہم میں سے کوئ بھی تم کو نہیں دے سکتا ہئے کیوںکہ تم نے ہم علم کے پیاسوں کے لئے علم کی ایک نہر جاریہ جاری کر کے وہ انمول خد مت انجام دی ہئے جس کا کو ئ بھی مول نہیں ہئے
،،لیکن میں تم کو ایک بات بتا رہی ہوں کہ ان انمول خدمات کا صلہ اللہ تعالٰی کی جانب سے اس طرح آتا ہئے کہ انسان سوچتا ہئے کہ بارالٰہا یہ جو تو نے مجھے انعام دیا ہئے میں اس کے قابل تو نہیں تھا پھر تجھے میری کون سی ادا پسند آئ جو اتنا کچھ نواز دیا
بہت سی قلبی دعاؤں کے ساتھ اجازت
دعاگو زائرہ بجّو
ڈئر شاہین حیدر سلامت بخیر ،
اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر کیسر کے پھو لوں پر اگر کوئ معلومات ہوں تو اسی بلاگ پر لکھ دو ،یعنی اس کا استعمال کن صورتوں میں ہوتا ہئے رنگ ماہئت وغیرہ وغیرہ
منتظر زائرہ بجّو
یہت خوب اآصف بھٹی بھائی
اللہ آپ کو سلامت رکھے آمین
عالم آرا
پیاری بچو حکم کی تعمیل کی کوشش کرونگی
زعفران ایک پودے، اسکے پھول اور پھول کے ایک حصے کا نام ہے۔ کیسر کی جڑ پیاز جیسی ہوتی ہے۔ اس کا پھول خوش نما ہوتا ہے۔ اس کے پھول کے کیسری رنگ کے حصے کا شمار دنیا کے سب سے قیمتی مصالحوں میں ہوتا ہے۔ یہ کھانوں کو خوبصورت اور ذائقے دار بناتا ہے اور یہ رنگنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
کیسر (Kesar) کو عربی میں زعفران اور انگریزی میں Saffron کہتے ہیں۔ لفظ کیسر کشمیر سے آیا ہے جہاں اسکی کاشت عام اور کاروباری پیمانے پر ہوتی ہے اور اسکی وجہ سے وادی کشمیر اسکے رنگوں میں کھو جاتی ہے۔ کیسر پودے کے علاوہ انسانی نام کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ کیسر ہمارے گیتوں اور محاوروں میں رچا ہوا ہے۔ پنجابی گیت: چنی کیسری تے گوٹے دیاں تاریاں اسکی عام مثال ہے۔
کیسر یا زعفران کی کثرت سے کاشت ایران ، انڈیا اور یونان میں ھوتی ھے ۔ ھر پھول میں تین دھبے ھوتے ھیں یہی حصے زعفران بناتے ھیں
زعفران یا کیسر عرب اور مشرق وسطی میں بہت استمعال کیا جاتاھے یہاں دورھ اور زعفران کی ایک خوش ذائقہ جاۓ بھی بنائ جاتی ھے، کانوں میں اور خاص کر چاولوں کی مختلف ڈشوں میں زعفران کو دودھ اورکیوڑے میں گھول کر اسکی رنگت خوشبو اور ذایئقے کو خوش گواراور خوش نظر بناتی ھے ، ھماری ایک عربی دوست اپنے بالو ں میں مہندی لگاتی ھے جس میں وہ زعفران کو بھی شامل کرتی ھے ،
میرے لئے سب سے زیادہ باعث ِ کشش مقام تھا، وہ زعفران کی دکانیں تھیں۔ زعفران یا کیسر، ایک انتہائی بیش قیمت مصالحہ ہے جو کیسر کے پھول کی پتیوں کی بیچوں بیچ باہر جھانکتی ہوئی اندرونی نازک ڈنڈیوں (اسٹگما) کو خشک کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے قیمتی مصالحہ ہے جو تین ہزاریوں سے کاشت کیا جارہا ہے۔ جبکہ ماقبل تاریخی تحقیقات شمال مغربی ایران میں پچاس ہزار سال قبل تک اسکی موجودگی کے آثار بتاتی ہیں۔ قدیم فارس میں اسے اصفہان اور خراسان کے میلوں پھیلے میدانوں میں کاشت کیا جاتا تھا۔ اسکی قدیم مذہبی اہمیت کے پیش ِ نظر زعفران کے باریک باریک دھاگوں کو آپس میں بن کر رومال کے شکل دے کر مذہبی پیشواؤں کو تبرکا” بھی پیش کیا جاتا تھا۔ جبکہ اسکا دوسرا استعمال ادویات، الوانیات، خوشبویات اور تغسیل میں کیا جاتا تھا۔ قدیم جنگی ادوار میں سے سکون آور نشے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ کہتے ہیں کہ جب سکندر ِ اعظم کا گزر ان علاقوں سے ہوا تو شاہی خانساماؤں نے اسے کھانے میں خوشبو اور ذائقے میں اضافے کے لئے استعمال کیا اور اطباء نے زخمی فوجیوں کے علاج کی خاطر اسے دواؤں میں استعمال کرکے حیران کن نتائج حاصل کئے۔ ادویات کے علاوہ زعفران کی پتیوں کو مریض کے بستر پر پھیلا دیا جاتا تھا، جسکے باعث اسکا مرض دور ہوجاتا تھا۔ بعد ازاں اسے مالیخولیا کے علاج کے لئے چائے میں استعمال کیا جانے لگا، جسکے کرشماتی نتائج سامنے آئے۔ اسی زمانے میں زعفرانی غسل کا طریقہءعلاج بھی دریافت ہوا، جو جلدی امراض اور زخموں کے جلد بھر جانے کی خاصیت کی وجہ سے یونان تک مشہور ہوا۔ اسی لئے آج بھی زعفران کو کھانے میں لذت اور خوشبو اور جلدی امراض میں شفا کی خاطر صابن سازی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں جب ایرانی فاتحین کا غلبہ ہوا تو وہ اپنے ساتھ زعفران بھی لائے۔ اور یہاں بھی یہ علاج اور پکوان دونوں کے علاوہ پوجا پاٹ اور پرساد میں بھی استعمال ہونے لگا۔ ہندوستان کے راستے یہ چین تک پہنچا اور بدھ مذہب کے پیروکار بھی اسے متبرک جاننے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ گوتم بدھ کے وصال کے بعد آپکے پیروکاران زعفران سے رنگے ہوئے پوشاک پہننے لگے، جو آج بھی لاماؤں اور پنڈتوںکا مخصوص رنگ ِ لباس ہے۔ مذہبی اہمیت کے علاوہ ہندوستان میں اس سے درد ِ شقیققہ اور درد ِزہ کے کامیاب علاج کئے گئے قدیم چینی طریقہ ہائے علاج میں زعفران کو ہمیشہ اکسیر کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ دیکھا جائے تو ایک مہین سی پتی، کہ جسکا شاید وزن بھی نہ ہو، میں اللہ تعالی نے اس قدر قوت اور کرشمے چھپا کے رکھ دئے ہیں کہ ہزاروں سال سے آج تک محققین اس سےدریافت کر کے مسلسل کچھ نہ کچھ حاصل کر رہے ہیں۔ اسکی باریک ریشہ نما پتیاں، انکا من موہنا سرخ رنگ اور ان میں سے اٹھتی ہوئی مسحور کن مہک صرف ایک نظر کرنے پر بے ساختہ سبحان اللہ کہنے پر مجبور کردیتی ہے، چہ جائیکہ ان کو استعمال کرکے جسمانی و روحانی فوائد حاصل کئے جائیں۔ فبای آلاء ربکما تکذبن؟<دنیا کا یہ منفرد و بیشقدر مصالحہ، ایران میں وسیع پیمانے پر کاشت ہونے کی وجہ سے وافر مقدار میں نہ صرف اپنے ملک کی ضروریات پوری کر رہا ہے، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں برآمدگی کے زریعے ایران کی معاشی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم نے اسےاپنے ملک میں تو کہیں بازاروں میں دیکھا نہیں تھا۔ صرف اسکا کا پانی سال میں ایک مرتبہ شب ِ نیمہءشعبان میں عریضہ لکھنے کے لئے مل جاتا تھا۔ مشہد کے بازار میں زعفران کے اتنے بڑے زخائر دیکھ کر میں چکرا سا گیا۔ ہر ہر دکان میں کروڑوں روپے مالیت کا زعفران عظیم الحجم شیشے کے مرتبانوں اور دیدہ زیب تحائف کی صورت میں ڈبوں میں سجا ہوا رکھا تھا۔ ایک ساتھ اتنی زیادہ مقدار میں اتنی قیمتی جنس دیکھ کر میں تو ششدر رہ گیا۔زعفران کے ساتھ ساتھ انہی دکانوں کی ایک اور جنس بہت مشہور ہے، جسکے بغیر ایرانی کھانوں کا تصور مشکل ہی ہوتا ہے، اور وہ ہے زرشک۔ زرشک یوں سمجھ لیجئے کہ زعفران کی فصلی بہن ہے، کیونکہ ان دونوں اجناس کو ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت میں کاشت کیا جاتا ہے اور فصل کی تیاری اور چناؤ کا عمل بھی ایک ہی وقت میں انجام پاتا ہے۔ زعفران اور زرشک کی پیداوار میں ایران پوری دنیا میں صف ِ اول کا ملک ہے۔ زرشک جسے انگریزی میں بربری کہا جاتا ہے، ایک چھوٹے سے پودے کا چھوٹا سا پھل ہے، جو حجم میں کشمش سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ بھی زعفران کی طرح جاذب نظر سرخ اور زائقہ دہن کو آبدار کردینےوالا ترش ہوتا ہے۔ اسکے چند دانے بے مزہ پکوان کو کرشماتی طور پر لذیذ بنا دیتے ہیں۔ ایران مین اکثر پکوانوں کا تصور زرشک کے بغیر نامکمل ہے، خاص طور پر زرشک پلاؤ ایران کا ایک خاص الخاص پکوان ہے۔ ہم ایک دکان میں داخل ہوئے اور مشہد میں اپنی پہلی خریداری کا آغاز زعفران کی ایک شیشی اور زرشک کی ایک تھیلی سے کیا۔ ساتھ ہی زرشک کے چند دانے منہ میں رکھ کر امڈ آنے والے پانی پر بند باندھا اور زعفران کی شیشی کو کھول کر اسکی مسحور کن خوشبو ناک کے زریعے آنکھیں بند کر کے دماغ تک پہنچائی۔
سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔
اچھی بجو یہ ساری معلومات میں نے عالمی اخبار میں شائع ھونے والے روحانی سفرنامے سے انتخاب کیا ھے
قمر رضوی بھائ سلامت رھیں جزاک اللہ
عالمی آخبار زندہ باد
آصف میرے بھائ اچھے بھائ مجھے سفر نامے بھی چاھیے ، حجاز کے سفر نامے ، مجھے اب بہت تڑپ ھوگی ھے جو جو زائر وھاں جاتا ھے میرا دل کرتا ھے اس کے سامان میں بندھ ھوکر مکہ مدینہ پہنچ جاوں
آصف میری ساری سہلیاں جون جولائ آگست میں دینا بھر میں گھومنے کے پروگرام بناتی ھیں مگر میری روح صرف ایک ھی جگہ کا طواف کرنا چاھتی ھے مکہ مکہ مکہ
کاش ھم کسی قدم دان کی خاک بن جاوں
کسی ستون ومحراب میں جڑ جاوں
ہرپل نئی آسانیوں اورنئی منزلوں کی جستجو
طاہرہ اعجاز in January
بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی اینیمیا کاباعث
جان ہاپکنز چلڈرن سنٹر میں ڈاکٹروں نے یہ دریافت کیا ہے کہ وٹا من ڈی کی کمی کی وجہ سے بچوں کو اینیمیا کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔اینیمیا ایسی بیماری ہے جو انسانی جسم میں موجود خون کے سرخ خلیے کم ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے جن کی مقدار کا تعین ہیموگلوبن کی سطح ناپنے سے کیاجاتاہے۔ اینیمیا کی علامات جسم میں تھکن، ہلکا سردرد اور کمزوری پرمشتمل ہیں لیکن جب اینیمیا شدت اختیار کر جائے اور خطرناک حد تک پہنچ جائے تو جسم کے بہت سے اعضا متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہیموگلوبن اور وٹامن ڈی کے درمیان تعلق معلوم کرنے کی خاطر طبی ماہرین ۹۴۰۰ سے زیادہ بچوں کے خون کے نمونوں کامعاینہ کیا۔ اِن بچوں کی عمریں ۲ سے ۱۸ سال تک تھیں۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جن بچوں میں وٹامن ڈی کی سطح کم تھی، اُن میں ہیموگلوبن بھی کم تھا اور انہیں اینیمیا لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ تھا۔
و ہ بچے جن میں وٹامن ڈی کی سطح ۲۰ نینو گرام فی ملی لیٹر سے کم تھی، ان میں اینیما کاخطرہ ان بچوںکی نسبت ۵۰؍ فیصد زیادہ تھا جن میں وٹامن ڈی کی سطح۲۰؍ نینوگرام فی ملی لیٹریااس سے زیادہ تھی۔وٹامن ڈی کی سطح فی ملی لیٹر ایک نینوگرام زیادہ ہونے سے اینیمیا کا خطرہ ۳؍ فیصد کم ہو جاتا ہے۔9 فیصد سیاہ فام بچوں کی نسبت صرف ایک فیصد سفید فام بچوں کواینیمیا لاحق تھا۔ سیاہ فام بچوں میں وٹامن ڈی کی سطح سفید فام بچوں کی نسبت کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان میں اینیمیا کی بیماری بھی زیادہ عام ہے ۔لیکن اس کی وجہ ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ، اگرچہ چند ماہرین کا خیال ہے کہ اِس کی وجہ جینیاتی عوامل ہو سکتے ہیں۔
وٹامن اے کے سپلیمنٹ اور قطرے دینے سے سالانہ
چھ لاکھ بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ھیں
برٹش میڈیکل جرنل میں یہ تحقیق شائع ہوئی ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی کے حامل ممالک میں بچوں کو وٹامن اے کے سپلیمنٹ اور قطرے دے کربیماریوں اور موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔وٹامن اے انسانی صحت کے لیے بہت مفید اور ضروری ہے جو خوراک کے ذریعے ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ اِس کی کمی کی وجہ سے بچوں میں پیچش اور خسرہ جیسی بیماریوں کے پھیلائو کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دُنیا بھرمیں۵ سال سے کم عمر تقریباً ۱۹۰؍ ملین بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں۔
انگلستان اور پاکستان کے طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے ۶ ماہ سے ۵؍ سال کی عمر کے ۲؍ لاکھ بچوں پر وٹامن اے کے ۴۳؍ تجربات کیے جس کے نتیجے میں وٹامن اے کی کمی پورا کرنے کی وجہ سے کم آمدنی والے ممالک کے بچوں میں فوت ہونےکی شرح ۲۴ فیصد کم ہوگئی۔ اسہال اور خسرہ سے فوت یا مفلوج ہونے کی شرح میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔
چنانچہ اِس تح قیق کے مطابق ۱۹ ۰؍ملین بچوں میں فوت ہونے کی شرح میں ۲۴؍ فیصد کمی آئی ہے ۔ وٹامن اے کی کمی پوری کرکے سالانہ ۶ ؍لاکھ بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
زعفران جگر کے کینسر
سے بچاتاھے
چوہوں پر تجربہ کرنے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ زعفران جگر کے کینسر کے خلاف اثر پذیرقوت کاحامل ہے۔ یہ پانچواں عام کینسر ہے اور دُنیا بھر میں کینسر سے اموات کے حوالے سے تیسرے نمبرپرآتاہے۔
کینسر کے خلاف جنگ میں اِس بات پر بہت زور دیا جا رہا ہے کہ قدرتی جڑی بوٹیوں اور پودوں کے ذریعے کینسر کا علاج کیا جا سکے۔
اقوامِ متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کے پروفیسر امرامین کہتے ہیں کہ زعفران پودے سے قدرتی طور پر حاصل ہونے والا جوہر ہے جو عام طورپر کھانوں میں ذائقہ اور رنگ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ کینسر مخالف خصوصیت کا بھی حامل ہے اور جگر کے کینسر کے علاج کے لیے بہت کارآمد ہے۔
زعفران کی شفائی خصوصیت کاجائزہ لینے کے لیے تحقیق کی خاطرچوہوںمیں زعفران کااستعمال کرکے تجربہ کیاگیا۔ زعفران تین مختلف مقداروں یعنی 75،ملی گرام ،150ملی گرام ،اور 300 ملی گرام کی مقدار میںاستعمال کیاگیا۔
نتیجے میں ثابت ہوا کہ زعفران کے استعمال سے جگر میں نوڈلز (ابنارمل طریقے سے پیدا ہونے والے اُبھار) کی تعداد میں کمی آئی، جو جگر میں خرابی پیدا کر کے کینسر کے خلیے پیدا کرتے ہیں۔
جن چوہوں کو زعفران کی زیادہ مقداراستعمال کرائی گئی، اُن میں نوڈلز(Hepatic Nodule) کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا اور ایلفا فیوٹوپروٹین (Alpha Fetoprotein) میں بھی کمی واقع ہوئی۔ یہ پروٹین جگر کی خرابیاں پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔اِس تجربے سے ثابت ہوا کہ زعفران کینسر کے خلاف استعمال ہونے کی خصوصیت کاحامل ہے اور کینسر کے خلیوں کو کم کرتا اور اُنہیں پھیلنے سے روکتا ہے۔
گوگل سرچ
اے مالک
اے میرے پاک پروردگار
ھماری زمین سے ھر بیماری کا مکمل خاتمہ کردے آمین ثم آمین
اور جو بیمار ھیں ان کو مکلمل شفا یابی عطا فرما امین ثم آمین
جیوڈئر شاین حیدر ، سلا مت رہو
تمھاری دعاؤں پر صد ہزار آمین ، زعفران کے اوپراتنے سیر حاصل تبصرے کو پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا اتنی قیمتی معلومات گھر بیٹھے ہی پڑھنے کو مل گئیں پروردگارعالم تمھیں دین دنیا کی بہترین اعلٰی و ارفع نعمتوں کے خزانے عطا کرے ،علم بھی اللہ کریم وعلیم کی ایک بیش بہا انمول دولت ہئے بس انسان کے ارادہ کرنے کی بات ہوتی ہئے اور انتظام منجا نب اللہ ہو جاتا ہئے
میں نے قمر بیٹے کی سفر حیرت و عشق کی کافی قسطیں پڑھی ہیں ،لیکن زعفران کے اوپر اتنی تفصیل سے لکھی گئ قسط نظر سے نہیں گزری،
اگر دیکھو تو کائنات کا چپّہ چپّہ پروردگارعالم نے اپنی مخلوق کے آرام و آسا ئش کے لئے سجا دیا ہئے اس پر ہمین دسترس بھی دے دی ہئے بس صرف جستجو اور لگن کی ڈور تھا م کر آگے بڑھنا ہمارا اختیار ہئے اب کچھ باتیں قران کریم کے بارے میں ،،
قران کریم علوم الٰہی کا وہ بیش بہا خزا نہ نہیں بلکہ وہ خزینہ ہے جس کو ایک بار پڑھنے اور سمجھنے کا ارادہ باندھ لیا جائے تو اس ارادے کی تکمیل کا سارا انتظام وہ قادر مطلق اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہئے ،
ہم خواتین عمر کے کسی بھی دور میں ہوں ہماری زمّہ داریوں کی نوعیت ہم کو ہمہ وقت مصروف رکھتی ہئے ،انہی ہمہ تن مصروفیات میں اس کریم نے مجھ خطاکار کے نصیب میں قران کریم پڑھانے کی سعادت بھی لکھ دی میں نے یہاں آکر کافی بچّوں کو پڑھایا اور اس وقت بھی پڑھا رہی ہوں الحمدللہ ،درس و تدریس میں عمر بتاتے ہوئے صرف یہان پر ایک سال میں نے ارادہ کر کے گھر کے اوپر دیا کیونکہ میری ضرورت گھر میں زیادہ تھی اور بیٹی کے بچّے بہت خفا ہورہے تھے تو ان کے پاس ٹورانٹو ہو کے آئ بس یہی ایک سال میں نے خالی گزارا
اور آج کل بھی میں یہان ایڈمنٹن میں پہلے ایک گھر میں قران پاک پڑھا رہی ہون پھر دوسرے گھر میں اسکول ٹیوشن کے لئے آجاتی ہوں پک اینڈڈراپ سروس تو ہر گھر سے ہی مہیّا کی جاتی ہئے ،میرے لئے یہ حیرت کی بات ہئے کہ اللہ پاک مجھ کواس طرح دونوں طرح کے علم سے جوڑ کر رکھنا چاہتا ہئے
میں دعاءبھی یہی کرتی ہون بار الہاٰ مجھے جتنے بھی دنیا میں رکھنا ہو میری زات سے میرے عزیز اقرباء اور تیری مخلوق فیض اٹھاتی رہئے آمین اور میں بھی عالمی اخبار کے وسیلے سے ملنے والے اپنے اس بے غرض و بے لوث محبّت کرنے والے کنبے سے فیض اٹھاتی رہوں آمین ،
ان صفحات پر لکھے جانے والے ایک ایک حرف کا ثواب جاریہ بھیّا صفدرہمدانی اور بیٹی نگہت نسیم کو تا قیامت ملتا رہئے آمین
بہت سی دعاؤں کے ساتھ اللہ حافظ
اچھی بجو اسلام علیکم ، خوش رھیں سلامت رھیں اور اسی طرح علم کی روشنی سے بچوں کے ذھن میں دل میں اجالا کرتی رھیں ، بجو اگر وقت ھوتا ھے تو میرا سب سے پہلا انتخاب عالمی اخبار ھی ھوتا ھے ، کہ یہاں آکر نہ طرف مجھہ جیسی کم علم وکم فہم اپنے دامن میں دعا اور آگہی کی دولت سے اپنا دامن بھر کر جاتی ھے، اللہ پاک آپ کو قران مجید کو پڑھانے کا اجر دارین میں عطا فرماۓ آمین ثم آمین
اللہ پاک آپ سب کو ھمشیہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثم امین
بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی اینیمیا کاباعث
اے مالک
اے میرے پاک پروردگار
ھماری زمین سے ھر بیماری کا مکمل خاتمہ کردے آمین ثم آمین
اور جو بیمار ھیں ان کو مکلمل شفا یابی عطا فرما امین ثم آمین
ڈئر شاہین حیدر تمھارئ دعاؤں پر آمین صد ہزار امین کہتے ہوئے میں بھی بچّوں کی بیماریون کے متعلّق کچھ تحریر کرنا چاہوں گی مثال کے طور پر وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈّیا ں کمزور ہو کر ٹیڑھی ہو نے لگتی ،اور ہڈیوّن کی کمزور ی کا آغاز ان کے چٹخنے
کی آواز سے شروع ہوتا ہئے یعنی اگر بچّہ جب اٹھنے بیٹھنے کے لئے اپنی حرکات کو استعمال کرتا ہئے تو اس کے جسم کی ہڈّیاں چٹخنے کی آواز صاف سنائ دیتی ہئے بس یہی وہ وقت ہوتا ہئے جب بچّے کی صحت کی مکمّل دیکھ بھال کر لی جائے تو مستقبل کے بڑے نقصان سے بچت ہو سکتی ہئے
زیتون وہ پھل ہئےےجس کا زکر قران کریم میں آیا ہئے اگر بچّے کی ما لش اس تیل سے کی جائے تو بھی اچھّے نتائج برآمد ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انجیر کا بھی زکر قران پاک میں اس کی افادیت کا مظہر ہئے ا نجیر میں فاسفورس کا خزانہ ہوتا جو بچّو ں کے دانتوں کے لئے بہت اہم ہئے ایک یا دو انجیریں ایک دن میں کھانے سے ہڈّیا ں اور دانت دونو ں مظبوط ہو نگے
آخر میں ایک پیغام ہئے بچّے آ پ کا سرمایہ ء حیات ہیں ان پھولوں کی اپنی ممکنہ حد تک حفاظت کیجئے
اسّلام علیکم ،ساتھیوں
ہماری پیاری بیٹی شاہین حیدر بار بار قران پاک کی فہم کا زکر کر رہی میرا شعبہ ہی اس مالک کے کرم اور احسان کے سائے میں بہت معمولی سے دنیاوی علم کے ساتھ ساتھ قران کریم سے بھی قلیل سی وابستگی کا ہئے ،
شاہین حیدر کے کہنے سے میں نے سوچا کہ میں جب بھی بلاگ لکھوں گی ، اپنے قلیل علم سے کچھ نا کچھ ضرور تحریر کروں گی انشاللہ تعالٰی
میری آج کی تحریر ہئے کہ بار ہا مرتبہ میری نظروں سے ایک حدیث گزری کہ انبیاء دنیا سے وصال کے وقت اپنا کوئ ترکہ نہیں چھوڑتے ہیں جو کچھ ان کے پاس ہوتا وہ اپنی زندگی مین صدقہ کر جاتے ہیں اگر کچھ تھوڑا بہت بچتا ہئے تو وہ ان کے وصال کے بعد صدقہ کر دیا جاتا ہئے ،،
اس حدیث کو پڑھتے ہوئے میرے دل نے کبھی بھی اس حدیث کی صداقت کو تسلیم نہیں کیا،کیونکہ ہمارے ائمّہ معصومین کے فرمان کے مطابق تم تک جو بھی حدیث پہنچے اس کا موازنہ قران کریم سے کرو اگر اگر قران کریم اس حدیث کی صداقت کی گواہی دے رہا ہئے تو حدیث کودرست تسلیم کر لو اور اگر نہیں تو پھر سمجھ لو کہ حدیث ضعیف ہئے ،، اور پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں قران کریم سے اس حدیث کی توثیق کروں گی چنانچہ جب مین نے قران کریم میں انبیاء کی وراثت کے بارے میں سرچ کیا تو مجھے حضرت داؤد علیہ اسّلام کا قصّہ مع تفسیر پڑھنے کو ملا ،
قران کریم مین صاف صاف لکھا ہئے کہ حضرت داؤد علیہ اسّلام بے پناہ دولت کے مالک تھے اور انہون نے اپنی تمام جائداد منقولہ و غیر منقو لہ اور مال مویشی سب کا وارث حضرت سلیمان علیہ اسّلام کو بنایاتب مجھ پر یہ بات منکشف ہوئ کہ اولاد رسول حضرت محمعد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کو انکے جائز وراثتی حق سے محروم رکھنے کے لئے یہ حد یث ضعیف وضع کر کے عام کی گئ
السلام علیکم
کیا بات ہے ؟ ابھی تک کسی دوست کی طرف سے کوئی فرمائش نہیں آئی ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
ابن صفی کے چاہنے والوں کے لیے عمران سیریز کی کچھ کتابیں جلد ہی فہرست میں شامل کی جائینگی ، اور مزید برقی کتب کی تلاش بھی جاری ہے ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
کچھ مزید کتابیں فہرست میں شامل کی ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
شاہین آپی ! آپ کی فرمائش ہے کہ اپ کو حج پر لکھے گئے سفر نامے چاہیے تو خورشید ناظر صاحب کا سفر نامہ ِ حج ہر طرف روشنی ( دو حصوں ) پر مشتمل میرے پاس موجود ہے ، کل تک مزید دیکھونگا کہ کہ کہیں سے کوئی اور سفر نامہ بھی مل جائے ورنہ یہ دونوں حصے تو یقینا اپ کو ارسال کر دونگا ۔
آصف احمد بھٹی