مجھے یقین ہے کہ انقلاب آئے گا

اکثر لوگ مایوسی کی باتیں کرتے ہیں کہ پاکستان کبھی سدھر نہیں سکتا . وہاں کبھی انقلاب نہیں آ سکتا .. اور میں حیرانگی سے کہہ دیتی ہوں کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اب انقلاب آنے والا ہے ۔ ارے اس کی پہلی نشانی تو آپ خود ہیں جنہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان میں جو ہو رہا ہے وہ غلط ہو رہا ہے ۔ جا بجا ظلم و تشدد کی خبریں اور تصویریں لگانا بھی اسی بات کا ثبوت ہے ۔ بس ہماری یہ صدی اسی بات کی گواہی اور ثبوت اکٹھا کرے گی اور ہماری آنے والی نسل انقلاب بپا کرے گی ۔ پھر امن ہی امن ہو گا ۔ خود پر بھروسہ رکھئے انقلاب کے لئے پورے سو سال چاہیئے ہوتے ہیں اور اس ک لئے دس نسلیں تو کام آ ہی جاتی ہیں ۔

مجھے یقین ہے کہ انقلاب آئے گا ۔ میرے لئے یہی انقلاب ہے کہ ہمارے اندر شعور نے اپنی آنکھیں کھول لی ہیں ۔ ہمیں اچھے برے کی تمیز ہونے لگی ہے ۔ ہمیں اپنے پرائے میں فرق سمجھ آنے لگا ہے اور سب سے بڑی بات ہم سب کو اپنی شناخت کی فکر پڑ گئی ہے ۔

یہی تو نشانیاں ہوا کرتی ہیں ۔ مومن کبھی بھی نا امید نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ایک ہی سوراخ سے دو بار ڈسا جا سکتا ہے ۔ جسے ان باتوں کی سمجھ آ گئی سمجھئے وہی آزاد ہو گیا ۔

مجھے ایک بڑی اچھی سی بات یاد آئی سوچ رہی ہوں کہ اتنی پیاری محفل میں کر ہی دوں ۔ بات یہ ہے کچھ پرندوں کاگزر ایک جنگل سے ہوا ۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ پرندے ہم انسانوں کی طرح تنہا نہیں بلکہ اتفاق پر یقین رکھتے ہیں اور ایک ساتھ ہی اڑتے ہیں ۔

ہوا یوں کہ ان کا گزر ایک ایسے جنگل سے ہوا جہاں آگ لگی ہوئی تھی ۔ ان پربدوں میں سے ایک چڑیا اڑی اور نزدیک ہی کنویں سے اپنی چونچ میں ایک قطرہ پانی کالا کر اس آگ پر ڈالنے لگی ۔ اس کے بار بار کے عمل پر باقی پرندے ہنس پڑے اور کہنے لگے اتنی بڑی آگ پر تمہارا لایا ہوا پانی کا ایک قطرہ کیا کر سکتا ہے ۔

پتہ ہے وہ چڑیا کیا بولی ۔ اس نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ ایک قطرہ آب آگ نہیں بجھا سکتا پر روز حشر میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہو گا تماشہ دیکھنے والوں میں نہیں اور نہ آگ لگانے والوں میں ۔

میں اس چڑیا میں خود کو دیکھتی ہوں اور میں اپنے لکھے ہوئے ہر لفظ کو ، اپنے ہر خیال کو ، اپنی کہی ہر بات کو اسی طرح مثبت رکھنا چاہتی ہوں کیونکہ میرا یقین ہے کہ اگر اللہ کریم پاکستان کو اسی وقت درست کرنا چاہتا ہوتا تو اس کے لئے کیا بڑی بات تھی ۔ اصل میں تو وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون قطرہ آب سے جنگل کی آگ بجھانا چاہتا ہے اور کون آگ لگانا چاہتا ہے

18 thoughts on “مجھے یقین ہے کہ انقلاب آئے گا”

  1. السلام علیکم
    نگہت آپی ! آپ نے درست فرمایا ہے ، تبدیلی آ رہی ہے اور بہت تیزی سے آ رہی ہے ، البتہ کچھ دوستوں کو اسے دیکھنے اور سمجھنے میں وقت لگ رہا ہے ، ہم روز دیکھتے ہیں ، ہمارے چاروں‌طرف شعور و بیداری کی لہریں اُٹھ رہی ہیں ، جو لوگ اس تبدیلی سے خائف ہیں‌وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں‌ کہ جیسے بھی ممکن ہوں اس عمل کو روکیں‌، سو وہ اور تو کچھ کر نہیں سکتے اس لیے گرد اُڑا رہے ہیں کہ کسی طور بھی یہ منظر دھندلا جائے ۔
    آصف احمد بھٹی

  2. اسلام علیکم ساتھیو
    خوش رہئے بہن نگہت آپ نے بالکل ٹھیک اندازہ لگایا ئبدیلی اآرہی ہے بس اس تبدیلی کا ساتھ سب ہم وطنوں کوعقل و شعور کے ساتھ دینا ہے تاکہ یہ تبدیلی ہماری بھلائی اور ترقی پر منتج ہو ۔
    اللہ ہمیشہ اپنے بندوں کو موقع فراہم کرتا ہے یہ اب ہمارا کام ہے کہ ہم اس موقعے سے فائدہ اُٹھائیں ۔کیونکہ وقت بڑا ظالم ہے اس تیزی سے جاتا ہے کہ گزرنے کے بعد ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔اس لئے ہم سب ہی کو میری مراد ہمارے ہم وطن ہیں اس تبدیلی کو مثبت سمجھنا چاہئے اور ہر اس بات کی حمایت کرنی چاہئے جو ہمارے فائدے کی ہو تاکہ یہ آتی تبدیلی ہمیں سنبھال لے ۔
    اس سے بڑی کیا بات ہوگی کہ ہمارے جوان آگے آرہے ہیں ۔ اور ایسے موقعوں پر ہمیشہ بادِمخالف بہت تیز چلتی ہے ۔ بس ان جھونکوں کے سامنے کھڑا ہونا ہی کامیابی ہوگی ۔

    بھائی آصف بھٹی آپ نے بالکل درست کہا کہ کچھ لوگ سمجھ نہیں رہے اور کچھ خائف ہیں ۔ اور زیادہ تر روکنے کے در پے ۔ بس یہ ہی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہماری مخالفتیں ہمیں کسی اچھی بات کی طرف لانے میں حائل ہو جاتی ہیں ۔بس وہاں دعائیں کام آتی ہیں ۔اور ہماری دعا ہے کہ ہمارے جوان کامیاب اور کامران ہوں ۔اور تمام سقم دور کرنے کی ہمت کریں ۔
    اللہ سے دعا ہے کہ ہم اس تبدیلی کا ساتھ دیں اور یہ تبدیلی ہمیں سر خرو کر دے آمین
    عالم آرا

  3. انقلاب تو کیا ابھی انقلاب کے آثار بھی نہیں. اقوام میں انقلاب سے پہلے افراد میں انقلاب آیا کرتا ہے. قلب المنقلبون ہوتا ہے.اپنی صلیب اپنے کاندھے پر اٹھانی پڑتی ہے. انقلاب درختوں پر نہیں دلوں میں اگا کرتا ہے اور اسے لہو کی کھاد دینا پڑتی ہے. انقلاب میں اور تبدیلی میں بہت فرق ہوتا ہے. ابھی تک کی صورت حال تو یہ ہے کہ انتخابات چاہے اگلے 50 برس تک کروا لیں ووٹ سے انقلاب نہیں آئے گا کیونکہ موجودہ حاکموں اور سیاسی جگادریوں نے اس نظام میں اپنے نوجوان شام کر دیئے ہیں اور اسی سٹیٹس کو کو مضبوط کیا ہے. ہاں اگر اگلے کسی وقت میں سوئے ہوئے عوام بیدار ہو گئے اور ننگے پاؤں اور بھوکے پیٹ والے اسلام آباد کی طرف چل پڑے اور چوراہوں پر صلیبیں گاڑ دی گئیں تو پھر ہو سکتا ہے کوئی خونی انقلاب آجائے مگر ایسے انقلاب کا رد انقلاب بھی ہوا کرتا ہے یہ دھیان میں رہے.

  4. بابا ھمدانی کی بات سے سو فیصد متفق ہیں” انقلاب درختوں پر نہیں دلوں میں اگا کرتا ہے“ انقلاب کے پودے کی حق کے خون سے آپیاری کرنا پڑتی ہے اور جب یقین کی کونپل سے بہادری اور وجاہت کا پھول کھلتا ہے تب اس سے انقلاب کی راہ بنتی ہے اور اس راہ میں کانٹے ہی کانٹے ہوتے ہیں جو ان پر سے گزر گیا وہ کامیاب ہو گیا اور ان کامیاب لوگوں کے جہاد سے انقلاب آتا ہے (مثال ایران کی موجود ہے)
    رہی بات باکستان کے انقلاب کی تو اس کے لیے ایک مختصر سی وڈیو پیش ہے اس کو مکمل دیکھ لیں اس کے بعد سوچیں کیا اس طرح انقلاب آسکتا ہے پاکستان میں۔
    میرے خیال میں کبھی نہیں

    http://www.youtube.com/watch?v=uIjIp-_UcPo&feature=related

  5. امّید پہ دنیا قائم ہئے میں بھی یہی سوچ رہی ہون ،لیکن ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں ابھی حال میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بھی میری زہنی رو سفر کر رہی ہئے جہا ں کے عوام نے ایک انقلاب کی صورت کتنی قتل و غارت گری سہی اور پھر ان پر دوسری صورت وہی کچھ مسلّط کر دیا گیا جس سے وہ نجات چاہتے تھے ،
    بہر طور اللہ کی زات سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے وہ بڑا کارساز ہئے ،ہم جہاں ہیں وہین سے اپنے رب کو پکار کر اپنی جدوجہد کا حق ادا کرتے رہیں اور نتیجہ اسی پر چھوڑ دیں یہی ہماری دینی تعلیم کا درس ہئے

  6. نگہت اآپاکابلاگ عنوان دیکھ کرجھٹ سے پاکستان کے ایک محب وطن ابرارالحق کی یاداآئی جس نے پاکستان میں انقلاب آنے کی نویدان الفاظ میں دی ہے اورعوام کوبیدارکرنے میں عمران خان کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ ملاحظہ فرمائیے ابرارالحق کی انقلاب سے متعلق عوام کوسُنائی گئی نویدجوانشائ اللہ ایک دن حقیقت اختیارکرے گی۔
    سرجلائیں گے روشنی ہوگی
    اُس اُجالے میں فیصلے ہوں گے
    روشنائی بھی خون کی ہوگی
    اوروہ فاقہ کش قلم
    جس میںجتنی چیخوں کی داستانیں
    انہیں لکھنے کی آرزوہوگی
    نہ ہی لمحہ قرارکاہوگا
    نہ ہی رستہ فرارکاہوگا
    وہ عدالت غریب کی ہوگی
    جان اٹکی یزیدکی ہوگی
    جس نے بیچی ہے قلم کی طاقت
    جس نے اپناضمیربیچاہے
    جو اب دُکانیں سجھائے بیٹھے ہیں
    سچ سے دامن چھڑائے بیٹھے ہیں
    جس نے بیچاعذاب بیچاہے
    مفسلوں کوسراب بیچاہے
    دین کوبے حساب بیچاہے
    اورکچھ نے روٹی کاخواب بیچاہے
    اورکیاکہیں ہم کہ قوم کواس نے
    کس طرح بارباربیچاہے
    فیض واقبال کاپڑوسی ہوں
    اک تڑپ میرے خون میں بھی ہے
    آنکھ میں سلسلہ ہے خوابوں کا
    اِک مہک میرے چارسوبھی ہے
    جھونپڑی کے نصیب بدلیں گے
    پھرکہیں انقلاب آئے گا، انقلاب آئے گا۔
    انقلاب ، انقلاب،انقلاب، انقلاب
    لُٹے ہوئے، پسے ہوﺅں کاوقت ِ انتقام ہے
    اب وہ قاتلوں کاوقتِ اختتام ہے
    عام آدمی کے ہاتھوں اقتدارآئے گا
    بے قصورشہریوں کاخون رنگ لائے گا
    دیس کی رگوں میں رقص ِزہربے شمارہے
    اُٹھوبھی دوستوکے تم کوکس کاانتظارہے
    انقلاب، انقلاب، انقلاب، انقلاب

    نگہت !پاکستانیوں سے کہہ دوکہ اُمیدکادامن نہ چھوڑیں ۔اُمیدکادامن مضبوطی سے تھامے رکھنے والوں کوہی اللہ نیک مقاصدمیں کامیاب کرتاہے۔

  7. السلام علیکم
    انقلاب یقینا بہت بڑی چیز ہے ، انقلاب سب کو یکسر تبدیل کر دینے کا نام ہے اور پوری تاریخ انسانی میں انقلاب صرف ایک ہی بار آیا تھا اور وہ انقلاب محمدی صلی اللہ علیہ وسلم تھا ، جس نے اہل عرب اور پھر پوری انسانیت کی کایا یکسر بدل دی تھی ، البتہ انسانی معاشروں میں تبدیلیاں آتی رہی ہے ، پاکستان مین نے انے والی تبدیلی کو بہت سے لوگ انقلاب کا نام دے رہے ہیں ، حالانکہ میں اسے صرف تبدیلی سمجھ رہا ہوں مجھے کوئی اعتراض نہیں ، کوئی مانے یا نہ مانے تبدیلی بہر حال آ رہی ہے ، اور پوری شدت سے آ رہی ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  8. سونامی خان آرھا ھے
    سونامی خان آرھا ھے
    سونامی خان آرھا ھے
    مجھے بھی یقین ھے کہ پاکستان میں نوجوانوں میں شعور وبیداری کی لہر جاگ رھی ھے ،ھم آپ اس موضوع پر بات کررھے ھیں یہ بھی انقلاب کی علامات ھیں ، ھر قربانی کی دیوی لہو چاھتی ھے ،موت تو یوں بھی پانی سے ارزاں ھے ھمارے وطن عزیز میں
    تو جان دینی ھے تو کیوں نہ کسی خوبصورت مقصد کے لیے دی جاۓ ،
    میری پیاری بہن اور عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم امید اور کاوش تو جیسے جگنو کی طرح ھوتے ھیں جب ادمی ظلم و زیادتی سے گھبرا کر فریا د کرتا ھے تو اللہ کی رحمت جوش میں آجاتی ھے اللہ تعالی اتنے لوگوں کی فریاد و مناجات کو ضرور شرف قبولیت عطا فرماتا ھے آمین ثم آمین
    پچھلے برس ابرار الحق کویت میں آۓ تھے اور میں تو اسکی قرات سن کر حیران رہ گی تھی ابرار الحق نے بہت محنت ومشکل سے اپنا مقام بنا یا ھے
    اور میں نے بھی مخدوم شاہ حیسن قریشی صاحب سے وعدہ کیا ھے کہ کویت میں ھم اس جماعت میں شامل ھوکر اپنے حصے کی شمع ضرور روشن کرینگے آنشا اللہ

  9. السلام علیکم
    مجھے خوشی ہے کہ اب بہت سے دوست انے والی تبدیلی کو دیکھ رہے ہیں اور محسوس کر رہے ہیں ، ورنہ دو سال پہلے جب میں کہتا تھا تو بہت سے معزز دوست کہتے تھے ( اُٹھو بیٹا آنکھیں کھولو ، بستر چھوڑو اور منہ دھو لو ) ہا ہا ہا ۔
    الحمد اللہ آج میرے ملک کا نوجوان تبدیلی چاہتا ہے اور وہ اس کے لیے کوشش بھی کر رہا ہے ، ہمارے بزرگ اس تبدیلی کی کوشش میں ہمارے ساتھ ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف ممکن حد تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے ۔
    شاہین آپی ! جیسا کہ مین نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ کویت میں ہم لوگ یعنی پاکستان تحریک انصاف ، انصاف ویلفر سوسائٹی کے نام سے کام کر رہے ہیں اور اس وقت ہمارے پاس الحمد اللہ ہزاروں کارکنان موجود ہیں جن مین خواتین کی بھی ایک بری تعداد موجود ہے ، مگر فل حال ہمارا باقاعدہ خواتین کا علیحدہ ونگ موجود نہیں ہے ، مگر ہم لوگ خواتین کارکنان سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں ۔ آپ کو اس معاملے میں جو بھی معلومات درکار ہونگی اس کے لیے میں حاضر ہوں ۔
    آصف احمد بھٹی

  10. آصف مجھے یاد ہے میں نے ہی تمہاری بات پر یہ کہا تھا ” ( اُٹھو بیٹا آنکھیں کھولو ، بستر چھوڑو اور منہ دھو لو ) ہا ہا ہا ” .. میں غلط تھی ویر پر میں نے یکم اپریل سے 13 اپریل کے دوران پاکستان کے تئن بڑے شہروں میں گئی ( کراچی ، لاہور اور فیصل آباد ) . میں وہاں پر بڑی سے بڑی سیاسی اور حکومتی لوگوں سے بھی ملی جس کا انتظام میرے پھوپھی زاد بھائی جو ایڈیشنل سیکریٹری پنجاب ہیں انہوں نے کمال مہربانی سے کیا ہوا تھا . میں ہر طبقہ فکر کے یوتھ سے ملی ، ریڑھی والے سے لے کر بڑے سے بڑے شاپنگ سینٹر پر کھڑے ہو کر باتیں کی . افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار ، پروڈیسرز ، ادکار ، شاعر حضرات اور گھر کے عام افراد سے بھی باتیں ہوئیں … حتی کہ اپنی قومی ائر لائینز پی آئی اے میں سفر کیا ، لاہور ائر پورٹ پر ہر دوکان سے سوغاتیں خریدیں .. کتابیں خریدیں .. بہت بہت کچھ دیکھا .. یوں سمجھو آصف کہ ہر منظر میں ایک نیامنظر دیکھا .. اور بہت ہی مثبت اور شفاف دیکھا ..

    میں پاکستان جیسے ملک میں تبدیلی کو انقلاب کاہی نام دونگی کیونکہ ہم جیسے شعوری پسماندہ ملکوں میں تبدیلی انقلاب جیسی ہی لگتی ہے . اور یہ شعوری تبدیلی ہی مغرب کو کھٹک رہی ہے . وہ جان چکی ہے کہ اب پاکستان کو مٹانا یا اسے برباد کرنا کسی کے بس کی بات نہیں .. بس یہی دیکھ لو نا کہ اگر پاکستان نے مٹنا ہوتا تو گھر کے میر جعفر اور میر صادق ہی بہت تھے .

    ہمارے پاکستان کو اس صدی کا جو نوجوان ملا ہے اس کی آنکھوں میں وہی چمک ہے جو کبھی پاکستان بنتے وقت کسی جوان کی آنکھوں میں ہو گی . میں یہ نہیں کہتی کہ تبدیلی کل آ جائے گی . .. وہ چاہے میری مرنے کے بعد آئے پر آئے گی ضرور .. ان شریفوں ، زرداریوں اور گیلانیوں کا گرم اور حبس زدہ موسم بیتنے والا ہے .. ٹھنڈی ہوا کے جھونکیں بس آیا ہی چاہتے ہیں … رم جھم بس ہوا ہی چاہتی ہے …

    آصف مجھے یقین ہے کہ اب مجھے بھی کوئی معزز یہی کہنے والا ہے ” ( اُٹھو بیٹا آنکھیں کھولو ، بستر چھوڑو اور منہ دھو لو ) ہا ہا ہا ” . پر میں بہت بہت خوش ہوں کہ ٹھیک دو سال بعد وہ معزز بھی میری طرح لکھ رہا یا رہی ہو گی کہ ہاں میں نے صحیح لکھا تھا ..

    سلامت رہو ، آباد رہو

  11. السلام علیکم
    نگہت آپی ! یہ تبدیلی تو میں نے بہت پہلے ہی دیکھ لی تھی ، اور مجھے یقین ہے یہ تبدیلی جسے اپ انقلاب کہہ رہی ہیں بہت جلد میری دھرتی پر اترنے والی ہے ، یہ چراغ کے بجھنے سے پہلے والی پھرپھراہٹ ہے ، کچھ دیر میں ہی سویرا ہو جائے گا ۔ یہ سب میں اس لیے نہین کہہ رہا کہ میرا ترعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے ، عام پاکستانی تو تحریک انصاف کو لاھور کے کامیاب جلسے کے بعد جاننے لگے ہیں مگر میں پاکستان تحریک انصاف کے ابتدائی کارکنان میں سے ہوں ، ہم نے عمران خان کو نہیں بلکہ اس نظرئیے اور سوچ کو سپورٹ کیا ہے جو وہ لیکر آیا ہے ، ہمارے لیے عمراں خان اہم نہیں بلکہ اُس کی وہ سوچ اور نظریہ ہے جسے وہ آج گھر گھر پہنچا چکا ہے ، دلوں پہ زور نہیں ، کوئی نہ سمجھے تو کیا کیا جا سکتا ہے ، ورنہ سچائی تو روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے ، اللہ تعالی نے اس کے اور اسکے مخالفین کے کردار سب کے سامنے رکھ دئیے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

  12. اور ہاں نگہت اپی ! آپ فکر نہ کریں آپ کو کوئی نہیں کہے گا کہ ( اُٹھو بیٹا آنکھیں کھولو ، بستر چھوڑو اور منہ دھو لو ) ہا ہا ہا ” کیونکہ ، اب تو سورج سر پر چمک رہا ہے ، اور جیسا کہ اپ نے خود کہا ہے کہ آج کا نوجوان اپنی آنکھوں میں وہی چمک لیے ہوئے ہے جو ہمارے اجداد کے آنکھوں میں تھی جب وہ پاکستان بنانے کے عمل سے گزر رہے تھے ۔
    آصف احمد بھٹی

  13. بہن نگہت اچھا موضوع ہے۔ میں مریکل اخبار کے لیئے ایک قطعہ لکھتا ہوں۔ یہ کوئی سال بھر پہلے لکھا تھا پیش کر رہاہوں۔ میرے خیال میں دنیا میں انقلاب دستک دے رہا ہے۔ اور ہر انقلاب عوام کی بے چینی سے جنم لیتا ہے اس کی قیادت کہاں کون کریگا یہ کسی کو نہیں معلوم کیونکہ عوام کی قیادت وہی کر سکتا ہے جو بے لوث ہو؟ صفدر بھائی کی رائے حالاتِ حاضرہ کو دیکھتے ہو ئے صحیح ہے کہ مجھے بھی ان تلوں میں جو ہماری کھلیان میں پڑے ہیں تیل نہیں دکھا ئی دیتا۔ لیکن بہت سی باتیں غیب سے ظہور پذیر ہو جاتی ہیں جنکاکسی کو گمان بھی نہیں ہوتا ۔ دنیا کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔
    انقلاب کی آہٹ۔۔۔ شمس جیلانی
    راستہ ہی جینے کا لوگ جب نہ پا ئیں گے
    جوانقلاب آنا ہیں ، وہ انقلاب آئیں گے
    جگمگاتے محلوں کی شمعیں جب بجھائیں گے
    یہ مکین محلوں کے خود ہی بھاگ جا ئیں گے

  14. اسلام علیکم ساتھیو
    میرے خاندان کے تمام جوان بھی اس پارٹی کی طرف رواں دوان ہیں ۔صرف اس کی سوچ اور اس کی تبدیلی کی خواہش پر ۔ اور دعا یہ ہی ہے کہ اللہ کامیابی دے ۔
    اگر برے لوگوں کے ساتھ کچھ اچھے لوگ بھی شامل رہیں تو حکومتیں توازن سے چلتی ہیں ۔ کیونکہ فرشتوں کی جماعت نا ممکن ہے اور اآج کل جن حالات میں ہم ہیں ان میں ان جوانوں کا نکلنا ہی امید ہے اور تبدیلی آنا نوشتئہ دیوار لگ رہا ہے ۔
    انقلاب بالکل الگ چیز ہے وہ ایک دم آتا ہے ۔ ۔اور زیادہ تر خونی ہوتا ہے ۔ اللہ ہم سب ہم وطنون کو عافیت میں رکھے اور ہم بجائے جزبات کے اگر عقل و خرد کو راہ رو کریں تو زیادہ فائدہ ہوگا ۔لیکن تبدیلی وقت لیتی ہے ۔ اور زیادہ تر یک دم نہیں آتی ، پہلے زہنوں کو تبدیل کرنا ضروری ہے کہ جب تک ہم اچھے برے کی تمیز نہیں کر پائینگے فائدہ کم ہوگا ، اب زیادہ تر لوگوں کی توجہ ان تمام لوگون کی طرف ہے جن میں انہیں کچھ جوش اور جزبہ نظر آرہا ہے ۔بس ان کی استقامت کے لئے دعا گو ہوں ۔
    اللہ ہر اس پاکستانی کیی مدد کرے جو اپنے ملک کے لئے کچھ بھلا کرنا چاہتا ہے ۔
    عالم آرا

  15. وطن عزیز میں نہ انقلاب آئے گا نہ تبدیلی۔۔۔۔۔کم از کم اگلے الیکش کے بعد تک یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ ایک خاص طبقے کے لوگ جو اپنی اپنی جماعت میں اموال متروکہ سمجھے جاتے تھے، ضرور عمران خان کے ساتھ ملے ہیں، جہاں خفیہ دست مشکل کشائی کرتا نظر آتا ہے۔ تا ہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اگر یہ لوگ خان عمران کے ساتھ شامل نہ ہوتے تو اس جماعت کی عوام پسندی پر ہمیں بھی شک نہ رہتا، لیکن نعرہ انصاف تو ابھی دم توڑتا اور دُم مروڑتا نظر آتا ہے۔
    انقلاب پاکستان میں آئے بھی تو کس قسم کا ہو؟؟؟؟ طالبانی انقلاب ہو، سنی انقلاب ہو یو شیعہ؟؟؟؟ مصر اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جو اقوام فرقہ بندی کے سبب متفرق ہوں، وہاں غدر تو ممکن ہے، لیکن انقلاب نہیں۔ ہاں پاکستان میں اگر کوئی انقلاب میرے خیال میں کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ سرخ انقلاب ہے جس کا راستہ روکنے کے لئے دنیا بھر کی استعماری قوتوں نے ضیاع الحق کو بھیجا اور اسی کے سبب آج پاکستان کی یہ حالت ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ انقلاب ایران میں ضرور آیا، لیکن عوام وہاں کی بھی اسکے ثمرات سے بے فیضیابی کا رونا روتی ہےکیونکہ وہاں اگر سول یا ملٹری بیروکریسی نہیں تو ملا کریسی نے بہت مسائل پیدا کئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ علماء نظام حکومت چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے، لیکن اگر وہ خود کوجبہ و دستار سے نکال کر عوامی خدمت پر مامور ہو جائیں تو تبھی اسلامی جمہوریت اپنا فیض عوام تک پہنچا سکتی ہے، ورنہ جہاں عوام نے کوئی سوال کیا، وہیں جبہ و دستار کا تقدس مانع ہوا اور لوگ بیچارے حد شرعی سے بچنے کی راہیں ڈھونڈنے لگے۔ بات کسی اور طرف نکل رہی ہے، بہر کیف کسی بھی مسلمان ملک میں ہمیں انہی تفرقہ بازیوں کے سبب سے کوئی انقلاب کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا تا وقتیکہ ہم سب قربانی کے لئے تیار ہوں۔ اسکے لئے پہلی ضرورت صرف یہ ہوگی کہ ہم دین کو اپنی ذات تک محدود کریں اورثواب دارین سے وجہ بے وجہ ہمسایوں کو مستفید کرنا چھوڑ دیں۔ جمعة المبارکہ کے خطبات اور مجالس و اذکار کو چار دیواریوں میں پابند کریں، شہر میں ہے گلی سے اٹھتی ہوئی چہل آذانی صدائیں محدود کریں اور صلات و ذکاة کی رغبت دلانے کا کام کام عوام پرچھوڑ دیں۔ اگر ہم سب قرآن کی صدا وما انت علیھم بوکیل سن سمجھ لیں تو ہم سب ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت چھوڑ سکتے ہیں اور پھر ایک قوم بن کر کسی تبدیلی کا سوچا جا سکتا ہے۔۔ سرخ انقلاب ہی یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔۔۔۔ورنہ

    گل کرو شمعیں، بڑھا دو مئے مینا و ایاغ
    اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا۔

  16. ہاں! انقلاب آئے گااسی طرح میں دیکھ سکتا ہوں کہ یہ جو انقلاب ،انقلاب کا شور مچا رہے ہیں ان میں کوئی بھی پرچم ِانقلاب کا علمدار نہیں ۔ انقلاب کسی شارٹ کٹ،کسی جوڑ توڑ کے فارمولے پر نہیں چلتا ،غیر قومی و ملکی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنا اور درپردہ ان کے مفادات کے ٹھیکیدار بن کر اپنے ملک میں تبدیلی لانا،غیر عوامی طاقتوں کو اکٹھا کر کے ان کے سر پر بیٹھ جانا چند لوگوں کاڈنڈے کے زور پہ اکثریت پرشب خو ن مارنا ،یہ سب انقلاب نہیں ہے۔اگر عوام کی اکثریت ساتھ نہیں تو کسی دوسری چال ونسخے سے انقلاب نہیں آسکتا.

  17. السلام علیکم

    عجم ا ز نغمہ ام آتش بجاں ا ست
    صدائے من درائے کارواں ا ست
    حدی را تیز تر خوا نم چو عرفی
    کہ رہ خوابیدہ و محمل گراں است

    ترجمہ :- جو میں منظوم کر سکا ہوں ۔

    عجم کو مرے نغمے سے آگ لگی ہے
    صدا میری کارواں کی مہمیز بنی ہے
    حُدی کی لے تیز کروں ، جیسے عُرفی
    کہ راہ خوبیدہ و محمل ِ گراں ہوئی ہے
    آصف احمد بھٹی

    ( عُرفی سے مراد عُرفی شیرازی ہے )

  18. قابل رحم قوم اور وزیر اعظم کی نا اھلی
    قابلِ رحم ہے وہ قوم
    جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں
    مگر دل یقیں سے خالی ہیں

    قابلِ رحم ہے وہ قوم
    جو ایسے کپڑے پہنتی ہے
    جس کے لیے کپاس
    اُن کے اپنے کھیتوں نے پیدا نہیں کی

    اورقابلِ رحم ہے وہ قوم
    جو باتیں بنانے والے کو
    اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہے
    اور چمکتی ہوئی تلوار سے بنے ٹھنے فاتح کو
    اپنا ان داتا سمجھ لیتی ہے

    اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
    جو بظاہر خواب کی حالت میں بھی
    حوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے
    مگر عالم بیداری میں
    مفاد پرستی کو اپنا شعار بنا لیتی ہے

    قابلِ رحم ہے وہ قوم
    جو جنازوں کے جلوس کے سوا
    کہیں اور اپنی آواز بلند نہیں کرتی
    اور ماضی کی یادوں کے سوا
    اس کے پاس فخرکرنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا

    وہ اس وقت تک صورتِ حال کے خلاف احتجاج نہیں کرتی
    جب تک اس کی گردن
    عین تلوار کے نیچے نہیں آجاتی

    اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
    جس کے نام نہاد سیاستدان
    لومڑیوں کی طرح مکّار اور دھوکے باز ہوں
    اور جس کے دانشور
    محض شعبدہ باز اور مداری ہوں

    اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
    جو اپنے نئے حکمران کو
    ڈھول بجا کر خوش آمدید کہتی ہے
    اور جب وہ اقتدار سے محروم ہوں
    تو ان پر آوازیں کسنے لگتی ہے

    اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
    جس کے اہلِ علم و دانش
    وقت کی گردش میں
    گونگے بہرے ہو کر رہ گئے ہوں

    اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
    جو ٹکڑوں میں بٹ چکی ہو اور جس کا ہر طبقہ
    اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہو

    خلیل جبران

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *