بیت بازی

اس بلا گ کا مقصد نئے اور پرانے سخنوروں کو اردو فانٹ میں شعر اور نثر لکھنے کی مشق کرنے کا موقعہ دینا ہے ؛
اس بلاگ میں ہم زیادہ تر حصہ بیت بازی قسم کی بازی کھیلتے رہینگے مگر اس کے علاوہ اگر کوئی سخنور یا کوئی نثر نگار اپنی غزل اور نظم اور نثری مضمون پیش کرنا چاہے تو اسکی بھی ہمت افزائی اور پذیرائی کرینگے۔
چونکہ عالمی اخبار کی انتظا میہ چاہتی ہے کہ پورے عالمی اخبار میں صرف اور صرف ایک ہی بلاگ اردو شاعری اور ادب پر ہو تو اس کے لیے یہ بلاگ حاضر ہے ۔
اب بیت بازی کی طرف آتے ہیں:
ایک تجویز :
یہ تجویز میں رومن اردو کی دوسری ویب سائٹوں کو ذہن میں رکھکر پیش کرتا ہوں ۔ ان رومن اردو کی ویب سائٹوں کے نظما بیت بازی کا پروگرام بڑی خوش اسلوبی سے چلا تے ہیں اور اس میں وہ بڑی مہا رت رکھتے ہیں ۔
میرے خیال میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کے بیشتر ارکان اس مشق ( بیت بازی ) سے بخوبی واقف ہیں ۔ میں ان سے اس سلسلہ میں مدد کا طلبگار ہوں۔ خاص طور پر زرقامفتی صاحبہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بلاگ کو آگے بڑھانے اور اسکے اصولوں کی فہرست کو تیا ر کرنے میں میری مدد کریں۔

اگر پنہاں صاحبہ مناسب سمجھیں تو وہ بھی اس سلسلہ میں ہم سب کو کچھ مشورے دے سکتی ہیں۔۔

مجھے بیت بازی کی نظامت کا کوئی تجربہ نہیں ۔ بس برسوں پہلے میں اس کا مشاہدہ کرچکا ہون اور وہی میرے ذہن میں محفو ظ ہے۔

میں اس کو سیدھے سادے انداز میں شروع کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس میں حصہ لینے والے صرف اور صرف یونی کوڈ اردو میں اس میں حصہ لینگے :

میں اسکو شروع کرنےکی خاطر ایک شعر جو ذہن میں آرہا ہے وہ پیش کرتا ہوں ۔ یہ شعر صفد ر ھمدانی صاحب کا ہے :
اس کی نظروں کی سمت دیکھا تھا
بس وہیں رہ گئی آنکھیں میری
یہ شعر ” ی” پر ختم ہو اہے ۔
اب کوئی سخنور ایک ایسا شعر اپنے تبصرےمیں پیش کرے جو حرف ‘ی” سے شروع ہوتا ہو تو اس شعر کے آخری حرف کے ساتھ کوئی نیا سخنور ایک شعر لکھدے ۔
مثا ل کے طور پر کوئی مبصر یہ شعر پیش کرسکتا ہے (جو حرف “ی ” سے شروع ہوتاہے :
فراز :
یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا وہ پھر نہ آیا میری بات مان جاو
۔۔۔۔۔
بیت بازی میں حصہ لینے والے سخنور اب ایک شعر جو حرف ” و ” سے شروع ہوتا ہو‌ ، وہ لکھیں ۔
۔۔۔۔۔
سادہ سے اصول :
ا۔ شعر کے ساتھ شاعر کا نام لکھنا ضروری ہے ( خواہ وہ مبصر کا ہی شعر کیوں نہ ہو)
2۔ جو شعر پہلے تبصرے میں ہوگا اس شعر کےآخری حرف پر ہی مزید اشعار لکھے جاینگے۔ ( مثال : اگر دس تبصرے آئے تو اس ہی تبصرے کا شعر آیندہ کے لیے استعمال ہوگا جو اپنے پچھلے شعر کے فوراً بعد ہوگا ۔
3۔ جو شعر استعمال ہوگیا اس کو پھر سے دہرایا نہ جاےگا
4۔ اس بیت بازی کے دوران پش کردہ اشعار جو استعمال نہہیں ہوئے انکو پھر سے پیش کیا جا سکے گا۔

5۔ اس بیت بازی کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کا فیصلہ بلاگ نگا ر اس کھیل کی مقبولیت یا عدم مقبولیت کا مشاہدہ کرنے کے بعد کرسکے گا : :
یاد رہے کہ اشعار کو صرف اور صرف یونی کوڈ اردو فانٹ میں ہی پیش کیا جائے گا ۔
۔۔۔۔
۔۔
میں زرقا مفتی صاحبہ اور عظمی محمود صاحبہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بیت بازی کی نظامت کے سلسلےمیں میرا ہاتھ بٹائیں ؛
وہ سخنور جو اس بیت بازی میں حصہ لینا نہیں چاہتے انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی غزل یا اپنا نثری مضمون بھی اس بلاگ میں پیش کرسکتے ہیں ۔
بیت بازی میں حصہ لینے والے اپنی بیت بازی کرتے رہینگے مگر وہ دوسروں کی غزل اور مضمون کا مطالعہ بھی کرسکتے ہیں۔
بسم اللہ کیجیے اور اپنا شعر جو ” و ” کے حرف سے شروع ہوتا ہو لکھیے ۔
اگر کسی کو مجھ سے ذاتی باتیں کہنی ہوں تو وہ میرے ای میل کے پتہ پر بات کرسکتے ہیں ۔
میں دوسرےتمام مبصروں سے بھی یہی درخواست کرونگا کہ اپنی ذاتی خط وکتابت کو اپنی اپنی ای میل کے ذریعہ کریں تاکہ یہ بلاگ قابو سےباہر نہ ہوجائے۔
فقط:
سخنوروں کا خادم
بلاگ کا ناظم
منظور قاضی از جرمنی
manzoorquazi@gmail.com

225 thoughts on “بیت بازی”

  1. سبحان اللہ ماشاللہ
    اللہ تعالی کرے جیتی رہین
    واہ واہ واہ واہ
    زرقا مفتی صاحبہ حق ادا کردیا حالی کی زمین کا

    واہ واہ مفر کی صورت کیا قافیہ نکالا ہے
    خوش رہیں
    ش ن قادری

    واقعی اس بلاگ میں بڑی پائداری ہے مبارک ہو

  2. شاہ نور بھائی بہت بہت شکریہ کہ آپ واپس آئے ۔۔ میں تو آپ کو بس ای میل کرنے والی تھی کہ بس بہت ھو لیئے خفا ۔۔ ۔۔ بھائی آپ بہت اچھے ھیں جو اتنا کشادہ دل رکھتے ھیں ۔۔ اللہ پاک ھم سب کو اتنا ھی اچھا دل دے ۔آمین

  3. حال دل نہیں معلوم لیکن اسقدر یعنی
    ہم نے بارہا ڈھونڈھا تم نے بارہا پایا
    شکیل جمال

  4. انا میں ہم بھی کمال رکھتے ہیں
    مگر دوستوں کا خیل رکھتے ہیں
    کر دیں جو تجھے لاجواب
    ایسے ہم بھی سوال رکھتے ہیں

    شاعر: یاسر

  5. ن سے
    نہیں دیکھا جب اہنے دل میں اس نے
    تو پھر اسنے ہمیں دیکھا کہاں ھے؟
    عظمی محمود

  6. اپنے دل میں اسنے
    نہیں دیکھا جب اپنے دل میں اس نے
    تو پھر اسنے ہمیں دیکھا کہاں ھے؟

  7. یہ لازم تو نہیں لب پہ لائی جائے
    جو بات میری آنکھوں سے عیاں ہے

    یاسر

  8. یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
    یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے

    احمد فراز

  9. یوں ہی نہیں بہار کا جھونکا بھلا لگا
    تازہ ھوا کے ، یاد پرانی بھی ساتھ ھے
    پروین شاکر

  10. یوں ہی تو نہیں تجھے مانگا ہے
    سب سے جدا تیرا انداز بیاں ہے

    یاسر

  11. یوں ہی تو نہیں چنا تجھے لاکھوں میں
    سب سے جدا تیرا انداز بیاں ہے

    یاسر

  12. یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرا ئیاں
    لیکن اب نقش و نگارِ‌طاقِ نسیاں ہوگئیں
    ( غالب )
    ۔۔۔۔
    منظور قاضی از جرمنی

  13. جناب منظور قاضی صاحب پہلے تو آپ کا بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔آپ نے اس ناچیز کو خوش آمدید کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،

    وہ غزل ہمارے نامور شاعر ناصر کاظمی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،

  14. نہیں ہے نا امید اقبا ل اپنی کشت ویراں سے
    زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

    علامہ اقبال

  15. نہ کسی کی آنکھ کا نور ھوں نہ کسی کے دل کا قرار ھون
    جو کسی کے کام نہ آسکے، میں وہ ایک مشت غبار ھوں
    بہا در شاہ ظفر

  16. نوحہ گروں میں دیدہئ تر بھی اُسی کا تھا
    مجھ پر یہ ظلم بارِ دگر بھی اُسی کا تھا

    احمد فراز

  17. نگارانِ چمن اب بھی تبسم کو ترستےہیں
    بہاروں کو چلن سکھلا گئی شاید خزاں اپنا
    ( قابل اجمیری )

    اگلا شعر الف سے شروع ہوگا ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    عظمی محمود صاحبہ اگر کنول خان صاحبہ کو بھی اس بلاگ میں پھر سےتشریف لانے کے لیے کہیں تو اس بلاگ میں پھر اردو اور پنجابی کا خوشگوار امتزاج پید ا ہوجاے گا۔
    پتہ نہہیں سائرہ بتول صاحبہ نے اب تک اس انتہائی نفیس بلاگ میں اب تک حصہ کیوں نہیں لیا ۔ یہی بات میں رانی صاحبہ اور نور الصباح سیمیں برلاس صاحبہ کے لئے کہنا چاہتا ہوں ۔
    ۔۔
    فقط :
    بلاگ کا خادم
    منظور قاضی از جرمنی
    ۔۔۔۔
    اگلا شعر الف سے شروع ہوگا

  18. الف سے شعر
    شاعر : پنہاں
    اس کے سوا تو کچھ بھی دکھائی نہیں دے سکا
    بینائی مانگ لی ہے مری کس کے خواب نے

    ۔۔۔اس ہی شعر کےساتھ پنہاں کے یہ دو اشعار :
    میں حرف حرف پڑھتی گئی اپنے آپ کو
    جینا سکھا دیا مجھے دل کی کتاب نے

    پنہاں تم ہی بتاو کسے کیا بتاوں میں
    شاعر بنا دیا ہے مجھے کس عذاب نے
    ۔۔۔
    اگلا شعر ی سے شروع ہوگا۔
    ۔۔
    فقط : منظور قاضی از جرمنی

  19. اوپر کے تبصرے میں مجھ سے کمپوزنگ کی غلطی ہو ہی گئی ۔
    پنہاں کا شعر صحیح طور پر یوں ہے :
    اس کے سوا تو کچھ بھی دکھا ئی نہ دے سکا
    بینائی مانگ لی ہے مری کس کے خواب نے

    پنہاں صاحبہ سے معافی کے ساتھِ
    منظور قاضی از جرمنی

  20. اک روز یہ عادت تجھے رلائے گی محسن
    تو جو چھوڑ دیتا ہے ہر ایک کو اپنا بنا کر

    ًمحسن نقوی

  21. رہتا ہوں‌ بگولوں کی طرح رقص میں بیتاب
    اے ہم نفسو! میں دلِ صحرا سے اٹھا ہوں

    عرش صدیقی

  22. زرقا مفتی صاحبہ نے عرش صدیقی کا شعر لکھا جو ن پر ٹوٹا:

    نشاطِ خندہ ء گل کا سرور سب کو ہے
    علاجِ گریہِ شبنم کسی کے پاس نہیں
    ( محسن بھوپالی )
    اگلا شعر ن سے شروع ہوگا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ :اس بلا گ کی مقبولیت کے باعث اب تک 221 سے زیادہ تبصرے شامل ہوئے ۔ میرے خیال میں یہ عالمی اخبار کی تاریخ میں ایک قابل تقلید مثال ہے جس کے لیے ہم سب ایک دوسرے کو اور خاص طور پر عالمی اخبار کی انتظامیہ کو دلی مبارکبا د پیش کرتے ہیں۔

    اب میں 4 جولائی کو تین ہفتوں کے لیے غیر حاضر رہونگا ( اتنی مدت جس میں آپ سب میری غیر حاضری کے عادی ہوجائنگے ) مگر میں چاہتا ہوں کہ آپ سب دانشوروں اور سخنوروں کی تفریح طبع اور علم کی تحصیل کے لیے ایک نیا بلاگ عنقریب شروع کرتا جا وں جس کا عنوان ” بیت بازی کا تسلسل” ہوگا ۔
    اس نئے بلاگ کو موجودہ بلاگ کے تجربے سے فایدہ اٹھا کر آسان ہی رکھا جائے گا۔ شاعر کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں اور عروض کی پابندی بھی ضروری نہیں صرف نئے شعر کو پچھلے شعر کے آخری حرف سے شروع کرنے کی پابندی ہوگی اور یہ بھی شرط ہوگی کہ جو اشعا ر اس بلاگ میں استعمال ہوچکے ہیں وہ نئے بلاگ میں دو بارہ استعمال نہ ہوں ۔ مقصد صرف شعر لکھنے کی مشق چاہئے اور تثر لکھنے کا موقعہ ملتا رہے۔ میرے غیاب میں نگہت نسیم صاحبہ خود یا انکی ( نکا ) نامزد کردہ سخنور اس قسم کے بلاگوں کو چلاسکتی ( چلا سکتے ) ہیں۔
    انتظار کیجئے ۔
    ۔۔۔۔
    فقط:
    علم کا خواہاں
    منظور قاضی از جرمنی

  23. جناب منظور قاضی صاحب
    ۔
    میری یہ بہت پرانی غزل جسے میں خود بھی شاید بھول چکی تھی مگر آپ نہ جانے کہاں سے نکال لائے۔بہت شکریہ۔
    ۔
    پنہاںؔ

  24. میں اس بلاگ کے پڑھنے والو ں اور اس میں حصہ لینے والوں کی خوشخبری کے لیے یہ عرض کررہا ہوں کہ میں آج ایک نیا بلاگ ” بیت بازی کا تسلسل ” کے عنوان سے شروع کرچکا ہوں ؛
    اب آپ سب حضرات و خواتین اس بلاگ کی بجائے اس نئے بلاگ ” بیت بازی کا تسلسل ” میں حصہ لے کر اسکو دلچسپ اور کامیاب بنا سکتے ہیں۔
    اب اس بلاگ کو ختم کرنا پڑے گا ۔
    اس بلاگ میں کافی مفید معلومات مو جود ہیں ۔ اسے ہر فرد اپنے اپنے کمپیوٹروں کے خز انوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
    فقط:
    بلاگ کا نگراں
    منظور قاضی از جرمنی

  25. دونوں کی امر کٹ ہی گئی بیکلی کے ساتھ
    میری کسی کے ساتھ میں انکی کسی کی ساتھ

    مجھے یہ شیر بھوت اچّھا لگتا ہے. کیا کوی اس شیر کے خالق کا نام جانتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *