دوستو جیسا کہ آپ سب جانتے ھیں کہ ھیں منظور بھائی بیت بازی کے بلاگ کی میزبانی تین ھفتوں تک نہیں کر سکیں گے تو میں نے سوچا کہ چلیں ھم سب ایک محفل سخن رکھتے ھیں جس میں ھم سب قطع نظر اس کے کہ کون مستند شاعر(شاعرہ) ھے یا وہ سرے سے شاعر ھے بھی کہ نہیں ۔۔ بس اپنا اپنا کلام (غزلیں ،نظمیں، قطعات ) یا کوئی بھی تک بندی سب کو سنایئں گے یعنی لکھیں گے اور جتنا چاھے لکھیں ۔اور کوئی بھی اس کلام پر تنقید یا اس کی اصلاح نہیں کرے گا بلکہ اس کلام میں سے اپنی پسند کا مصرعہ یا شعر تلاش کرکے اس شاعریا شاعرہ کو داد ضرور دے گا ۔۔
لیجیئے دوستو سب سے پہلے میں اپنی ایک نظم آپ سب کی بارگاہ فکر میں پیش کرتی ھوں ۔۔۔
“آتش خاموش کی دھن پر”
عشق تو دل کے طور پر گرا ایک آتش پارہ ھے
آتش فراق میں ڈوبا
آتش دیدہ
آتش رخ
آتش مزاج
باھر سے اندر
اور
اندر سے باھر تک
آتش پا ،آتش جگر اور آتش سوزاں ھے
جو
کبھی
آتش خاموش کی دھن پر درویشانہ رقص کرتا ھے
تو
کبھی
آتش بار ان دیکھی وادیوں میں سرگرداں رھتا ھے
چلتے چلتے
کئی نئے آتش کدے ایسے شہروں میں دریافت کرتا ھے
جن کا پتہ شہر دل میں پہلے کہیں نہیں ملتا ھے
آنکھوں کے رستے دل کے صحرا میں یوں اترتا ھے
جیسے
آتش بہار میں پھولوں کا آتشی رقص ھوتاھے
کیا
کسی نے کبھی یہ رقص دیکھا ھے ؟
میں تو
انہیں آتش خانوں کے سفر پہ
خیالوں کے کئی گونگے آتشی پل چنتی رھتی ھوں
آرزؤں کو یقین کی بانہوں میں آتش ریز کرتی ھوں
اور اسی آتش ریزی میں
کبھی یہی عشق
قرب کے تخت قوسین پر پہنچا کر
میرے
طاق بدن پر سجےآتش نفس کو آتش برگ دکھاتا ھے
اور
تن من آتش فراق میں ایسے جلاتا ھے
کہ
رخت سفر باندھتے ھوئے
آتش بجاں
آتش نوا کو
اسی دل کے طور پر آتش پارہ کر کے سلگتا چھوڑ جاتا ھے
پھر
اسی آتش پارے کی سرد آگ میں دہکتی ہوئی میری انگلیاں
کئی ان پڑھے باب لکھ جاتی ھیں ۔۔۔۔

سبحان اللہ میان عبداللہ صاحب ماشاللہ
اللہ نطر بد سے بچائے
اتنا بے داغ کلام واہ واہ
جیتے رھو
اللہ حافط
ش ن قادری
نیک نامی کی توقع میں کئ بد نام لوگ
مشکلیں خود بانٹ کر مشکل کشا ہونے لگے
عظمی محمود صاحبہ اللہ عمر دراز عطا کرے کیا حقیقت آمیز شعر ھے۔ عالمی سیا ست سے لے کر نجی معاملات تک ھر موقع کی مناسبت پر مبنی شعر کہنا قادرالکلامی کے ساتھ بے مثال ھے
کیا مرصع غزل ھے۔ واہ واہ واہ
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
ش ن قادری
جانے کیوں مجھےھروہ الفاظ،جوموت سےجڑےھوں بھتfasinate کرتے ھیں،وجہ کیاھےآج تک نھیں جان پائ :
دل کےویرانے آ کہ سجاے گا
سچا پیارھی اسےمیری دھلیز پرلاےگا
اسےخبرکروکہ میں شھرمیں آیاھوں
خوش تو بھت ھو گا مگر میرے پاس نہ آے گا
کفن میں کچھ د یر مرا چہرا کھلا ھی رکھنا
میری بے بسی دیکھنے وہ ضرور آے گا
وہ آے تو میرے جنازے سے اسے دورھی رکھنا
اس کا اداس چہرا مجھ سے دیکھا نہ جاے گا
میری قبر پر نام کی تحتی نہ لگانا یارو
آتے جاتے اسے میرا غم بھت ستاے گا
شہر بانو کہاں تھیں ۔۔ میں تمہیں یاد کر رھی تھی ۔۔ سنو مجھے ای میل تو کرو dr.nighat.nasim@gmail.com (ایڈریس) ۔۔شکریہ
جگر کے شعر :
ان کا جو کام ہے اربابِ سیاست جانیں ۔۔میرا پیخام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اس شعر پر میری مندرجہ ذیل تضمین حاضر ہے :
نغمہ ء امن و اماں سارے جہاں تک پہنچے
دل کے گوشہ سے چلے سب کی زباں تک پہنچے
چاند کا نور جہاں جائے وہاں تک پہنچے
ضوئے خورشید جدھر جائے وہاں تک پہنچے
ہر گلی کوچے میں ہر ایک مکاں تک پہنچے
ہر تخیل میں ہراک وہم و گماں تک پلنچے
ساری دنیا کے ہراک پیر و جواں تک پہنچے
صرف دنیا ہی نہیں کون و مکا ں تک پہنچے
ر ہبروں تک ہی نہیں راہبراں تک پہنچے
میکشو ں تک ہی نہیں پیرِ مغاں تک پہنچے
عقل کی کارگہ ء دیدہ وراں تک پہنچے
عشق کی بارگہ ء خوش نظراں تک پہنچے
امن کی انجمنِ زندہ دلاں تک پہنچے
جنگ کی محفلِ آشفتہ سراں تک پہنچے
دیکھنا یہ ہے خدا جانے کہاں تک پہنچے
” میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ”
۔۔۔۔
فقط :
علم کا خواہاں
منظور قاضی از جرمنی
جناب قاضی منطور بھائ صاحب سلام علیکم
واہ واہ
بہت خوب بھت ہی خوب
مین بھی یہ کہوں گی کہ
درس انسان اگر جان وراں تک پہنچے
تب یہ پیغام محبت بھی وہان تک پہنچے
خیر اندیش عطمی محمود
درس انسان اگر جان وراں تک پہنچے
تب یہ پیغام محبت بھی وہان تک پہنچے
نیک نامی کی توقع میں کئ بد نام لوگ
مشکلیں خود بانٹ کر مشکل کشا ہونے لگے
عظمی میں حیران ھو رھی ھوں آپ کی شاعری اور انتخاب پر ۔۔ یا پھر میں ھی تنقیدی موڈ میں ھوں ۔۔۔ لیکن پلیز مجھے ضرور سمجھایئں کہ آخر آپ کہنا کیا چاھتی ھیں ۔۔ مجھے سیکھ کر بہت خوشی ھو گی ۔۔ شائد میں ھی غلط سمجھ رھی ھوں ۔۔
آج کچھ الفاظ اپنے ملک کے حالات کی نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے کا افسوس نہ کر
سر سلامت نھیں رھتے یہاں دستار کے بیچ
سرخیاں امان کی تلقین میں مصروف رھیں
حرف بارود اگلتے رھے اخبار کے بیچ
کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے
شعلے اگتے نظر اے مجھے گلزار کے بیچ
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ میرا سایہ صفِ اشجار کے بیچ
رزق،ملبوس،مکان،سانس،مرض،قرض،دوا
منقسم ھو گیا انسان انہی افکار کے بیچ
دیکھے جاتے نہ تھے آنسو میرے جس سے
آج ھنستے ھوے دیکھا اُسے اغیار کے بیچ ۔۔۔۔۔۔۔
سلام علیکم نگہت نسیم صاحبہ
میں اس سے زیادہ کیا عرض کروں بقول شاعر تجھے کیا سناؤں اے دلربا تیرے سامنے میرا حال ھے
پھر بھی
درد کے مارے ھوئے آہ و فغاں تک پھنچے
چارہ گر ہی نہ مگر دردِ نہاں تک پھنچے
اک تسلیّ جو لبِ چارہ گرا ں تک پھنچے
قدرے آرام دلِ سوختہ جاں تک پھنچے
بہر انصاف جو وہ میرے مکان تک پھنچے
عدل ھو تب جو میرے دشمن ِ جاں تک پھنچےِ
ناگواری نہ کہیں بار ِ گراں تک پھنچے
ھم سے تکلیف ھے کوئ تو بیاں تک پھنچے
شعر عظمی جو کہیں میری زباں تک پھنچے
اھلِ تنقید وہیں سود و زیا ں تک پھنچے
خیر اندیش عظمی محمود کینڈا
پنجابی کا ایک لوک ماہیا سا ہے:
“تیرے لونگ دا پیا لشکارا،
تے ہالیاں نے ہل ڈھک لیے۔۔۔”
1999 کی بات ہے۔ ایسے ہی “داستان سرائے” (قبلہ مرحوم اشفاق احمد صاحب کے گھر) میں بیٹھے تھے اور لاہور کے اچھے اچھے لکھاری بھی تزرید فرما تھے کہ کسی نے اس لوک شعر کا اصل پس منظر کا پوچھا۔ بڑی خیالوں کی اڑانیں ہوئی، اور حقیقت کچھ یوں عیاں ہوئی:
“البیلی جب کھیتوں سے گذر رہی تھی تب وہاں کسان اپنی زمینوں پر ہل چلا رہے تھے۔ کہ اچانک اس مہ جبیں کے لونگ کا لشکارا بجلی کی مانند چمک اٹھا۔
ہالیوں نے نہ تو وہ مہ لقا دیکھی، نہ ہی اس کے حسن کی تاب۔۔۔۔ وہ تو جیسے سراپا طور کی تجلی تھی۔۔۔۔ اور ہالیوں نے سمجھا، بجلی کوندی ہے، بارش آئی کہ آئی۔۔۔۔
پھر بھلا ہل چلانے کا فائدہ؟
سو انہوں نے اپنے ہل بند کردیے۔۔۔۔۔”
اس لوک ادب کے گمنام تخلیقکاروں کو سلام۔۔۔۔۔
جو گوتم بدھ کی طرح سچ، حسن اور خدا جیسے الفاظ ایک ہی ہستی کے نام کر گئے۔۔۔۔
اور جب وہ ایک ہی جگہ، ایک ہی وقت اپنے جوہر میں ظاہر ہوتی ہے تب محبت کا پہلی تجلی رونما ہوتی ہے۔۔۔
سبحان اللہ۔
سب سے پہلے عالمی اخبار کے سب پڑنے اور لکھنے والوں کو آداب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بہت سی دعا سب کے لیے۔۔۔اللہ تعالی آپ سب کو صحت عطا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین
عرض کیا۔۔۔۔۔۔،
شانِ عطا کو تیری عط کی خبر نہ ہو
یوں بھیک دے کے دست گدا کو خبر نہ ہو
کر شوق سے شکایت محرومی وفا
لیکن میرے غرور وفا کو خبر نہ ہو
ایک روز اسطرح بھی مرے بازوں میں آ
میرے ادب کو تیری حیا کی خبر نہ ہو
آزادی خطا بھی ہے آزادی کی شان
بٹھکوں تو میرے رہنما کو خبر نہ ہو
نزرانہ حیات سلیقے سے کر قبول
اے موت میرے ذوق بقا کو خبر نہ ہو
میری ایک غزل کے چند اشعار اس” محفل سخن ” کی خدمت میں پیش کرتا ہوں :
وہ گلاب وہ غنچے وہ سمن نہیں ملتے
جن کےپھول خوشبو دیں وہ چمن نہیں ملتے
اجنبی دیاروں میں ہم وطن نہیں ملتے
ہم وطن ملیں بھی تو ہم سخن نہیں ملتے
مطلبی فضاوں کا طور ہی نرالا ہے
تن سے تن تو ملتے ہیں من سے من نہیں ملتے
عاشقانِ شیریں ہیں سینکڑوں زمانے میں
وقتِ آزما ئش ہر کوہ کن نہیں ملتے
رہبرانِ ملّت کاا حال سب پہ روشن ہے
بد چلن تو ملتے ہیں ، خوش چلن نہیں ملتے
حاکموں کی حکمت سے اب یہ وقت آیا ہے
دیس کے مکینوں کو پیرَہن نہیں ملتے
سب نے مل کے لوٹا ہے کارواں کو منزل پر
جھوٹ ہے کہ منزل پر راہزن نہیں ملتے
اتفاق سے قاضی علم و فن کی محفل میں
اہل علم کہتے ہیں اہلِ فن نہیں ملتے
۔۔۔۔۔
فقط :
منظور قاضی از جرمنی
اسلام وعلیکم
نگہت جی اور باقی سب احباب کو بھی مبارکباد بہت اچھی شاعری پیش کرنے پر۔
نگہت جی آپ سے ایک سوال جیسا کہ میں پہلے بھی دوسرے بلاگز میں لکھ چکی ھوں کہ میں شاعرہ نہی ھوں۔ ہاں البتہ شاعری پڑھنے کا شوق ضرور ھے۔ تو کیا آپ کے بلاگ میں کسی اور کی شاعری لکھ سکتی ھوں جو مجھے اچھی لگتی ھو تاکہ آپ سب بھی پڑھ سکیں؟
جواب کی منتظر
کنول خان
پیاری کنول ویسے تو جو چاھو لکھو لیکن یہ بلاگ لکھا ھی اس لیئے گیا تھا کہ نئے پرانے سب لوگ صرف اپنی شاعری لکھیں جس پر کوئی تنقید نہیں کرے گا بلکہ اس میں سے سب سے اچھے مصرعے یا شعر پر داد دیں گے ۔ اگر شاعر ی یاشاعرہ چاھتے ھیں تو اپپنی اصلاح کے لیئے کہہ سکتے ھیں لیکن پرایئویٹ ای میل ایڈریس پر ۔۔ عنقریب ایک ایسا بلاگ شروع کرونگی جس میں جتنی چاھے اپنی پسند کی شاعری لکھنا ۔۔ ھمیں بہت خوشی ھو گی ۔۔
آداب و تسلیمات
پیاری نگہت جی تب تو ھم جیسے شاعری سے فار غ لوگ اور آپ شاعر حضرات ھر دو ھی مشکل میں ھیں۔
وہ ایسے کہ اگر جو ھم شاعری کرنے لگے تو آپ حضرات کے صبر کی کڑی آز مائش ۔ اور ھمارے لیے شاعری کرنا بذاتِ خود ایک مشکل کام ھو گا۔ خیر ھم ہمت نہی ھاریں گے۔
اور دیکھتے ھیں آپ شاعر لوگوں کے صبر کا پیمانہ کب لبریز ھوتا ھے۔ پس ایک گزارش ھے۔ کوئی بھی تبصرہ آپ سب دے سکتے ھیں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔مہربانی کر کے میرا دل رکھنے کی خاطر مصلحت کے الفاظ استمال نہیں کیجیئے گا۔ اچھا ھے یا برا بس کہ دیں۔ شکریہ۔
مجھے اک شخص کہتا ھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تیری یادیں ستاتی ھیں
تیری پاتیں رولاتی ھیں
مجھے سونے نہیں دیتیں
مجھے شب بھر جگاتی ھیں
مجھے اک شخص کہتا ھے۔
میرے بے مول جیون کو
جینے کی رمک دے دو
میری سوچوں کی ظلمت کو
کوئی ایسی چمک دےدو
میری بیکل سی سانسوںکو
پھر ایسے قرار آئے
تمھارے بن یوں جینے کی
میری مشکل ختم کردو۔
مجھے اک شخص کہتا ھے۔
کنول خان ۔
مجھے بھی ایک شخص کہتا ھے کہ کنول اچھا لکھتی ھے ۔۔ واہ جی واہ ۔۔ مزہ آیا نا ۔۔ ۔۔ اپنی بات کا
سلام علیکم
کنول واہ واہ بہت خوب
بس اسی طرح لکھتی رہو
بس میں ایک بات پوچھوں، چپکے سے بتادو
تمہیں جو شخص کہتا ہے
کہان وہ شخص رہتا ہے؟
ہا ہا
عظمی
مائکل:
کیا بتایں کہ کیا کیا تمنے، کیا بتایں کہ کیا ہوا سب کو
ساری دنیا کی آنکھ میں ہم نے، جھلملین آنسوں کی دیکھی ہیں۔
اسلام وعلیکم
عظمی جی آپ کے خلوص کی داد دیتی ھوں ۔ما شا اللہ۔
اور سنئے۔
تب افسانہ بنتا ھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
جب کوئی کسی کو یاد کرے
دیوانہ وار اسرار کرے
خود کو روکے۔ رہ نہ پائے
ملنے پر تکرار کرے
تب افسانہ بنتا ھے۔
جب چاہت ہر شے پر بھاری ھو
ہر رشتہ دھاگہ بن جائے
ہر کشش ھی ماند جب پڑنے لگے
کوئی کام نہ پورا ھو پائے
تب افسانہ بنتا ھے۔
جب کوئی چُپ چُپ سا رھنے لگے۔
سب کے ھوتے کھو سا جائے
کہنے سننے کا ھوش نہ ھو
چاہے کچھ اور ھو کچھ جائے
تب افسانہ بنتا ھے۔
چاھت کی خُشبو اُڑنے لگے
کوئی چہرہ پھول سا لگنے لگے۔
باتیں شبنم سی بھیگی ھوں
اور دل بھنورا سا ھو جائے۔
تب افسانہ بنتا ھے۔
جب عشق عبادت بن جائے۔
محبوب خدا کا درجہ لے۔
دل اسک روٹھے رک سا جائے۔
درِ یار پے عاشق جھک جائے۔
تب افسانہ بنتا ھے۔
جب یار کی گلیاں مقتل ھوں
عاشق کو گلشن لگنے لگیں
راھوں میں کانٹے ہائل ھوں
اور عشق میں جینے مرنے لگیں
تب افسانہ بنتا ھے۔
شکریہ آپکی
کنول خان۔
اسلام وعلیکم
جو دل میں ھے وہ کہنے سے انکار نہ کر
دل کی با تیں دل میں رکھنے پر اسرار نہ کر
گیا وقت جو ایک بار پھر ہاتھ نہ آئے
دل کو بوجھل رکھنے کی تقرار نہ کر
کنول خان۔
میں یہ سمجھا محبت امر ہوتی ہے
لیکن وہ تھا میرا گماں، اب سمجھ آیا
انا جیت جائے تو محبت ہار جاتی ہے
وہ اس راز سے تھا انجاں، اب سمجھ آیا
ہر بات کواس کی محبت کی ادا جانا
دل بھی تھا کتنا ناداں،اب سمجھ آیا
ہر چہرا کتنا گہرا، ہر روپ بہروپ
یہ ہے حضرت انساں، اب سمجھ آیا
تو بندگی، تو ہر خوشی، تو ہی زندگی
سب جھوٹے عہدوپیماں، اب سمجھ آیا
ٹوٹ کر بکھرے ہو، لبوں پہ تبسّم ہو
یہ اتنا نہیںہے آساں، اب سمجھ آیا
اسے بھولنا ہو گا، مجھے جینا ہوگا
یہی ہے دستورجہاں،اب سمجھ آیا
یاسر اسامہ
لسلام و علیکم
امید ہے آپ سب احباب خیریت سے ہوں گے- کسی کو عظمیٰ صاحبہ کی کویئ خیر خبر ہے وہ کافی دنوں سے غیر حاضر ہیں- یہ بلاگ بلکہ شاعری کا ہر بلاگ ہی ان کے بغیر ادھورا سا لگتا ہے-
یاسر میرے بھائی عظمی جی کہاں ھیں ۔۔ھم بھی انہیں ڈھونڈ رھے ھیں ۔۔ مسعود قاضی بھائی ۔۔ آپ کو کچھ پتہ ھو ۔۔تو پلیز ۔۔یاسر کنول سے پوچھو ۔۔ شائد اسے پتہ ھو ۔۔