ڈاکٹر نگہت نسیم کے ساتھ ایک یادگار ملاقات ۔۔ از: جویریہ بتول کراچی

DSC08929

میں اس وقت خود کو کتنا خوش نصیب سمجھ رہی ہوں یہ میرا دل جانتا ہے یا میرا خالق و مالک جس نے مجھے اتنی آفاقی محبتوں کے سائے میں رکھا ۔ مجھے ای میل سے اپنے بہت ہی معتبر اور محترم بھائی محمد احمد ترازی کی اکلوتی صاحبزادی جویریہ بتول کی پہلی تحریر ملی ہے ۔ میرے عزیز بہن بھائیو جویریہ نے کبھی نیٹ پر اردو نہیں لکھی تھی ۔ میں نے اسے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ لکھے کیونکہ اس کے اندر لکھنے کی لگن کو میں اسی دن جان گئی تھی جب وہ مجھ سے ملنے دو اپریل 2012 کو میرے عارضی ٹھکانے پر آئی تھی ۔

جویریہ بتول ، احمد بھائی کی قلمی وارث ہے۔ یہ بات میں برے وثوق سے اس کی پہلی تحریر پڑھ کر کہہ رہی ہوں ۔۔۔ اتنی بے ساختہ اور اتنی نکھری ہوئی تحریر بلکل بیٹی جویریہ جیسی ہے ۔۔ مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میری بیٹی نے میری خواہشوں اور ، تمناؤں اور پیار کی لاج رکھ لی ہو ۔۔ دیکھئے توجویریہ بتول نے ناصرف نیٹ پر اردو لکھنی سیکھی ہے بلکہ اپنے تاثرات بھی قلمبند کئےہیں ۔۔

آہیے ہم سب مل کر بیٹی جوریہ کے لئے اس کی صحت و سلامتی کے ساتھ ساتھ اچھے نصیب کی دعا بھی کریں ۔۔ سلامت رہو بیٹی تم نے میراسر فخر سے بلند کر دیا ہے.

۔۔ آئیے اب پڑھتے ہیں جوریہ بتول کی پہلی تحریر ۔۔۔

“ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اردو ادب کی نامور ادیبہ اور شاعرہ ہیں،آپ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں،آپ نے پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی،لیکن زیادہ عرصہ کراچی میں گزرااور طبی وتخلیقی حوالے سے بہت نام کمایا،1994 میں آپ نے سڈنی میں سکونت اختیار کرلی اور ایک عرصے سے وہاں ایف ایم ریڈیو کے پروگرام ”ریڈیودوستی“ کی میزبانی کررہی ہیں،اس کے علاوہ آپ ایک ٹی وی پروگرام کی میزبانی بھی کرتی ہیں،اپنی پیشہ ورانہ اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ صحافت اور ادب میں بھی سر گرم ہیں اور گزشتہ تین سال سے ایک آن لائن اخبار ”عالمی اخبار“ کی نائب مدیرہ بھی ہیں۔

ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا ذکر میں نے اپنے ابو محمد احمد ترازی کی زبانی بارہا سنا،ابو کی ہی بدولت مجھے ڈاکٹر صاحبہ کو جاننے کا موقع ملا، آپ کے بارے میں اتنا کچھ جان کر میرے دل میں آپ کو دیکھنے اور ملنے کا شوق پیدا ہو گیا اور جب مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ 15 دن کیلئے پاکستان تشریف لا رہی ہیں اور انھوں نے ابو کو کہا ہے کہ وہ مجھے بھی ملنے کیلئے ساتھ لائیں،تو میری خوشی کی انتہا نہیں تھی،میں توجیسے ساتھویں آسمان پر اُڑ رہی تھی،میں شدت سے 2اپریل کے دن کا انتظار کرنے لگی۔

اور جب 2اپریل2012 کا دن کا دن آیا تو میں ابو کے ساتھ اُن کے دوست اعظم انکل اور ڈاکٹر شبیر انکل کے ساتھ ڈاکٹر صاحبہ سے ملنے جا رہی تھی،میں بہت خوش تھی،میرے اندر عجیب سی کیفیت تھی خوشی،ڈر ،گھبراہٹ،جیسے ملے جلے جذبات…. میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ جب آپ میرے سامنے ہونگی، تو میں کیا کرونگی؟ کیسے بات کرونگی ؟ آپ کیسی ہونگی ؟ مجھ سے کچھ پوچھیں گی تو مجھے جواب دینا آئے گا بھی یا نہیں؟ پتا نہیں مجھ سے مل کر آپ کو کیسا لگے گا؟بس اسی قسم کے خیالات میرے ذہن میں گردش کررہے تھے۔

بہر حال اسی شش وپنج میں راستہ گزر گیا اور ہم سب ڈاکٹر صاحبہ کے عارضی ٹھکانے پر پہنچے، کچھ ہی دیر میں آپ میرے سامنے تھیں، بلیک سوٹ اور سفید دوپٹہ میں ملبوس،خوبصورت اور دلکش شخصیت کی مالک ڈاکٹر نگہت نسیم ہمارے اسقبال کیلئے کھڑی تھیں، ایک ہی نظر میں انھوں نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا،حقیقت میں اُن کی شخصیت باوقار اور دل موہ لینے والی ہے، مجھے دیکھتے ہی آپ نے مجھے گلے لگایا،بہت پیار سے اپنے ساتھ اپنے قریب بٹھایا،یوں جیسے مجھے برسوں سے مجھے جانتی ہوں،مجھے آپ سے مل کر مجھے ذرا بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا،آپ بہت ملنسار ،ہنس مکھ اورمحبت کرنے والی ہیں،آپ کے لہجے میں بہت پیار اور اپنائیت تھی، اِس ملاقات کے دوران آپ نے میری توجہ لکھنے کی طرف دلائی،میری بہت حوصلہ افزائی کی اور مجھے عالمی اخبار میں لکھنے کی دعوت دی،آپ سے یہ یادگار ملاقات شاید ہی میں کبھی بھول پاؤں،یہاں اگر میں کہوں کہ اس ایک ملاقات میں آپ میری آئیڈیل بن گئیں تو قطعاً مبالغہ نہ ہوگا۔

ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں،وطن سے محبت اور رشتوں کا احترام ہمیشہ آپ کے پیش نظر رہتا ہے، دیار غیر میں رہ کر بھی آپ پاکستان کی محبت کو عام کرتی رہتی ہیں،جس کا عکس آپ کی تحریروں میں جابجا صاف نظر آتا ہے،آپ کے افسانوں کے دو مجموعے ”گردباحیات“ اور” مٹی کا سفر “ منظر عام پہ آچکے ہیں،نظم نگاری اور کالم نگاری میں بھی آپ کو ممتاز مقام حاصل ہے،آپ کی نظموں کا مجموعہ ”سفید جھیل“ اور دسمبر میں آپ کے کالموں کا مجموعہ ”یہی دنیا ہے اور یہیں کی باتیں “ شائع ہوا ۔

ڈاکٹر صاحبہ خود بھی کتاب دوست اور دوسروں کو بھی کتاب کے مطالعے کی ترغیب دیتی ہیں،آپ نے اپنی دو عمدہ وبہترین کتابیں مجھے تحفے میں دیں ،”مٹی کا سفر “ ڈاکٹر صاحبہ کے بہترین افسانوں کا مجموعہ ہے، اِس کے تمام افسانے بہت اچھے اور سبق آموز ہیں، پڑھنے بیٹھو تو لگتا ہے ہم خود اِس کہانی کا حصہ ہیں ۔

”سفید جھیل “ آپ کی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں آپ نے اپنی قلبی کیفیات،احساسات ،جذبات اور اپنے تصورات کو الفاظ کا جامہ پہنا کہ نظموں کے لباس میں ڈھالا ہے،آپ کی ہر نظم میں ایک الگ رنگ ، الگ بات اور الگ احساس ہے،ہر نظم کے پیچھے بہت گہری سوچ موجود ہے، آپ کی شاعری ساگر کے موتی جیسی سچی،دھنک کے رنگ جیسی شوخ ، پہلی بارش کی پھوار میں بھیگی بھیگی،بالکل اس طرح جیسے بارش کے بعد صاف شفاف اور دھلے ہوئے درختوں کی کونپل اور پتے،آپ کی نظموں کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک نئی دنیا سے آشنا اورمتعارف ہورہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ سے ملنے والے اتنے پیارے اور خوبصورت تحائف کیلئے میں آپ کی بہت شکرگزار ہوں اور اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ آپ نے اپنی اتنی ساری دعائیں ،پیار اور محبت میرے نام کی، میں اس لحاظ سے اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ مجھے پہلی بار ڈاکٹر صاحبہ جیسی علم وادب کی نامور شخصیت سے ملاقات اور آپ پر اپنے ٹوٹے پھوٹے خیالات لکھنے کا موقع ملا،حالانکہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ مجھے نہ لکھنے کا ڈھنگ آتا ہے اور نہ مناسب الفاظ کا چناو….اس لیے میں اس ملاقات کو الفاظ کا وہ جامہ نہیں پہناسکتی ،جو ایک پختہ لکھاری کرسکتا ہے ،اسی وجہ سے میں صحیح ڈھنگ سے لکھنے کا حق ادا نہیں کرپائی،اسے بس ایک چھوٹی سی ٹوٹی پھوٹی کوشش سمجھئے ،میں جانتی ہوں کہ اگر میں ادھار کے الفاظ سے ڈاکٹر صاحبہ کی تعریف و توصیف لکھ بھی دوں تو بھی وہ الفاظ بھی ڈاکٹر صاحبہ کی شخصیت کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

میں آپ کی حوصلہ افزائی اور پیار کیلئے بہت بہت مشکور ہوں،میری تمام دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں، خدا پاک ڈاکٹر صاحبہ کے نام ، مرتبے کو بلند فرمائے،آپ کا نام اردو ادب میں ستاروں کی طرح ہمیشہ چمکتا دمکتا رہے اور آپ کی جانب سے ہمیشہ ہم جیسے نئے لکھنے والوں کو حوصلہ افزائی اور پیار ملتا رہے ،اللہ
آپ کو ہمیشہ اپنی امان رکھے۔آمین
———————
جویریہ بتول جگ جگ جیو میری بچی ۔۔ دین و دنیا میں ہم سب کا تعارف بنو ۔۔ الہی آمین

20 thoughts on “ڈاکٹر نگہت نسیم کے ساتھ ایک یادگار ملاقات ۔۔ از: جویریہ بتول کراچی”

  1. ماشااللہ جویریہ بتول ایک لکھاری والد کی لکھاری بیٹی ہیں اور یہی وہ ورثہ ہے جو باقی رہتا ہے. ترازی بھائی خوش قسمت ہیں کہ انہیں جویریہ جیسی بیٹی ملی جو قلم کی حرمت کو باپ کے ساتھ بانٹ رہی ہے. ڈاکٹر صاحبہ کے بارے میں لکھے ہوئے آپکے جزبات خود آپکے شفاف قلب کی بھی نشاندہی کررہے ہیں. اللہ پاک آپکو صحت و سلامتی اور بلند فکر عطا کرے اور آپ قلم دوستی کو پروان چڑھاتی رہیں.امین

  2. میری مسیحا بیٹی ،
    دعائیں ہی دعائیں ،تمھارے لئے بھی اور اور جویریہ کے لئے بھی اور بیٹے محمّد ترازی کے لئے بھی، بے شک تمھیں اللہ پاک کی کرم نوازی کے طفیل ہی سب کچھ مل رہا ہئے عزّت دولت ،مرتبہ خوشیاں ماشاللہ ،،اور اس پر تمھاری انکساری ،لیکن میری بیٹی اس نام کے پیچھے ،،اس مقام کے پیچھے تمھاری کتنی راتوں کے رت جگے شامل ہوں گے جب تم نے پوری پوری رات ریاضتوں کی نظر کئے ہوں گے ،اللہ پاک تم کو مذید نعمتیں عطا کرتا رہئے آمین

    تمھارے وسیلے سےجویریہ سے مل کر بہت خوشی ہوئ اس بچّی کی تربیت میں ترازی بیٹے کی تربیت بول رہی ہئے اور انشاللہ مجھے امّید ہئے کہ یہ بچّی بھی اپنے ہونہار باپ کی طرح ہونہار نکلے گی

    اللہ تعالٰی اپنے حفظ و امان میں رکھّے آمین

    دعا گو زائرہ بجّو

  3. توجہ کے لئے ممنون ہوں ۔۔اس تحریر کو پڑھتے وقت صرف اس بات پر دھیان رہے کہ جویریہ بتول کی یہ پہلی تحریر ہے ۔۔ ا س کے دل کی شفافیت اس کی تحریر میں نمایاں ہے ۔ اس میں” پیشہ ورانہ تبصرے ” کی بو نہیں آتی ۔ انتہائی سچی اور پیار سے گندھی تحریر میرے لئے ہر تبصرے سے بڑھ کر ہے ۔ اور آنے والے اچھے وقت کی نوید بھی ۔

  4. اللہ پاک کے فضل سے میری کوشش ہوتی ہے کہ میری توجہ نئی نسل پر رہے کیونکہ یہی نسل ہمیں زندہ رکھے گی ۔ ورنہ جتنی چاہے کتابیں لکھ لیجئے جو گر ایک بھی پڑھنے والا میسر نہیں ہوگا تو کس کام کی یہ عرق ریزی ۔۔ اللہ پاک اپنے حبیب کے صدقے ہماری معمولی سی کوشش کو بھی باریابی عطا کردے ۔ الہی آمین

  5. اسلام علیکم ساتھیو
    اللہ جویریہ بیٹی کو بہت نوازے ۔اور ان کا قلم اپنے والد ہی کی طرح رواں رہے آمین
    بہن نگہت آپ نے میرے دل کی بات کر دی ۔اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔

    ““اللہ پاک کے فضل سے میری کوشش ہوتی ہے کہ میری توجہ نئی نسل پر رہے کیونکہ یہی نسل ہمیں زندہ رکھے گی ۔ ورنہ جتنی چاہے کتابیں لکھ لیجئے جو گر ایک بھی پڑھنے والا میسر نہیں ہوگا تو کس کام کی یہ عرق ریزی ۔۔ اللہ پاک اپنے حبیب کے صدقے ہماری معمولی سی کوشش کو بھی باریابی عطا کردے ۔ الہی آمین““
    آپ کی دعا پر ثمہ آمین
    ہمارے بچوں میں بڑی صلاحیت ہے بس انہیں موقعہ اور توجہ چاہئے ۔ یہ ہمارے خوابوں کی تعبیر ہیں ۔
    عالم آرا
    وینکور

  6. چونکہ مجھے بھی محمد احمد ترازی صاحب سےاپنے دورہ کراچی کے دوراں شرف ِ ملاقات حاصل ہو چکا ہے۔بہت ہی اسلام کا درد رکھنے والے پر خلوص آدمی ہیں۔ مجھے امید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ جویریہ ان کی بیٹھی ہو نے کے رشتے سے انہیں جیسا خود کو ثابت کرے گی اور ان ہی کی طرح خدمت اسلام اور ادب بھی کرے گی میں اس کے لیئے دعا گو ہوں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے علم ِ لدنی نوازے آمین چونکہ اس نےآغاز بہن نگہت سے کیا ہے میری ان سےبھی درخواست کہ وہ اسے ایک اچھی لکھاری بنانے کے لیئے اپنی شفقت سےنوازیں۔

  7. بہت خوب جویریہ ، آپ نے جس طرح سے ملاقات کو بیان کیا ہے ، وہ متاثر کُن ہے ، نگہت باجی کی شخصیت پر کچھ کہنا تو سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے . . . . اللہ آپ کا زور قلم اور زیادہ کرے . . آمین

  8. جویریہ کی اس پیرا گراف میں آپ سب تشبہیات اور تسلسل کا حسین امتزاج دیکھئے …

    ”سفید جھیل “ آپ کی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں آپ نے اپنی قلبی کیفیات،احساسات ،جذبات اور اپنے تصورات کو الفاظ کا جامہ پہنا کہ نظموں کے لباس میں ڈھالا ہے،آپ کی ہر نظم میں ایک الگ رنگ ، الگ بات اور الگ احساس ہے،ہر نظم کے پیچھے بہت گہری سوچ موجود ہے، آپ کی شاعری ساگر کے موتی جیسی سچی،دھنک کے رنگ جیسی شوخ ، پہلی بارش کی پھوار میں بھیگی بھیگی،بالکل اس طرح جیسے بارش کے بعد صاف شفاف اور دھلے ہوئے درختوں کی کونپل اور پتے،آپ کی نظموں کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک نئی دنیا سے آشنا اورمتعارف ہورہے ہیں۔”

    جویریہ تم قلمکار ہی پیدا ہوئی ہو .. خود پر بھروسہ رکھو بیٹی اور اپنے قلم کو اللہ کریم کی امانت اور اس کی طرف سے دیا ہوا منصب سمجھ کر لکھو اور بس تاحیات لکھتی رہو … اللہ تمہارا مددگار ہو .. آمین

  9. اسلام وعلیکم!
    جتنی پیاری جویریہ ہے اُتنی ہی پیاری اسکی تحریر ہے آللہ پاک جویریہ کے قلم کو اور طاقت عطا کرے اور وہ اپنےوالد کا نام روشن کرے جویریہ اللہ پاک آپلو صحت عطا کرے

  10. ارشد بھائی خؤش آمدید ۔۔ آپ نے کتنا اچھا کہا کہ جتنی پیاری جویریہ ہے اُتنی ہی پیاری اسکی تحریر ہے ۔۔ میں بھی کل سے سب سے یہی کہہ رہی ہوں ۔۔ اللہ کریم اپنے حبیب اور ان کی آل پاک کے صدقے جویریہ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے ۔۔ الہی آمین

  11. عائشہ صاحبہ نے تبصرے میں کچھ لکھنے کی کوشش کی ہے لیکن کسی وجہ سے تبصرہ خالی ہے .اگر وہ دوبارہ لکھنے کی سعی کر سکیں..انتظامیہ

  12. اسلام وعلیکم!
    احمد بھا ئی آپ کو بے حد مبا رک با د کہ جو یر یہ نے آ ج تحر یر ی مید ان میں پہلا قدم ر کھا جو یر یہ کی خامو ش طبع میں لفظوں کا خز ینہ پوشید ہ ہے اللہ پا ک جو یر یہ کو تحر یرو ا فکار کی بلند یوں تک پہنچائے جویریہ اللہ پاک آپلو صحت عطا کرے آپ
    جیسی نو جوان نسل ہمارا اثاثہ ہے

  13. پیاری عائشہ اپ کو بلاگ فیملی میں خوش آمدید ۔۔ احمد بھائی واقعی بہت بہت مبارک ہو کہ ان کے چمن میں جویریہ جیسا پھول مہکتا ہے ۔ آپ کی آمد کا انتظار رہے گا ۔ ایک بار پھر بلاگ فیملی میں خوش آمدید

  14. احباب کے پرخلوص جذبات اور محبت بھر ے احساسات کے سامنے مجھے شکریہ کا لفظ بہت چھوٹا اور حقیر معلوم ہورہا ہے لہذا میں نے اسے استعمال کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے تمام احباب کیلئے جزاک اللہ کہتا ہوں
    ارشد بھائی نے درست کہا واقعی جویریہ بہت پیاری بیٹی ہے وہ ہمارے گھر میں واحد ہے جسے میری طرح کتابوں سے محبت ہے وہ میری کتابوں کی صفائی ان کی ترتیب کے ساتھ اس کی دیکھ بھال بھی کرتی اور وقتا فوقتا مطالعہ بھی ۔ ۔ ۔ ۔اسے میری طرح لکھنے کا بھی شوق ہے کبھی کبھی کہانیاں بھی لکھتی ہے اور ان پر میری رائے بھی لیتی ہے،باجی سے ملاقات کے حوالے مندرجہ بالا تاثرات جویریہ نے ایک ماہ قبل لکھے لیکن یہ سوچ کر روانہ نہیں کیے کہ معلوم نہیں کیسے لگیں ایک دن مجھے معلوم ہوا تو میں کہا دکھاو ،اس نے دکھائے انہیں دیکھ اس کی عمر اورتجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے کسی ترمیم و اضافہ کی کوئی گنجائش محسوس نہیں ہوئی لہذا میں نے اس کی ہمت بڑھاتے ہوئے اسے روانہ کرنے کا کہا جو بالآخر آپ کے سامنے ہیں۔
    آپ سب کی حوصلہ افزائی یقینا جویریہ کیلئے حوصلے ہمت اور معاونت کا باعث ہوگی خود میری بھی یہی تمنا ہے کہ کوئی تو ہو جو میری وراثت کا امین ہو جو اپنی تحریروں کے ذریعے مجھے زندہ رکھے اور قلم کی عزت و حرمت کو قائم رکھے آپ سب کی ہمت افزائی میری امید کو یقین کا درجہ دے رہی آج مجھے اگر کوئی عزت حاصل ہے تو یہ میرے رب کے بعد بابا ،باجی ،جناب شمس جیلانی،عالمی اخبار کے قلم کار ساتھیوں اور ان قاری کی وجہ سے ہے جو ہمارا لکھا پڑھتے اور برداشت کرتے ہیں،اگر بابا ،باجی اور جناب شمس جیلانی صاحب میری حوصلہ افرائی اور سرپرستی نہ فرماتے تو شاید میں یہاں نہیں ہوتا اور نہ ہی جویریہ کی آمد کا سبب بنتا ۔عالمی اخبار نے مجھے نام اور پہچان دی اور انشاء عالمی اخبار جویریہ کو بھی نام اور پہچان دے گا ،بس اسے صبر استقامت اور ہمت کے ساتھ اس سفر کا جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کی بنیاد آپ سب نے اپنے پر خلوص جذبات سے آج رکھدی ہے ۔
    میں بابا صفدر ہمدانی صاحب ،باجی نگہت نسیم صاحبہ،محترم و مکرم جناب شمس جیلانی صاحب ،محترمہ سیّدہ زا ئرہ عابدی صاحبہ ،محترمہ عالم آراء آپا،بھائی اظہر الحق،محترمہ عائشہ صاحبہ اور بھائی ارشد احمد خان جو میرے بہت ہی پیارے دوست اور اچھے برے وقتوں کے ساتھی ہیں اور میری ان کی دوستی کم وبیش 25 سالوں سے زائد پر محیط ہے کے پرخلوص جذبات کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہوں اور سب کیلئے دعا گو ہوں کہ اللہ کریم ان تمام احباب کو ہمیشہ اپنی امان میں رکھے اور انہیں دین و دنیا کی آسانیاں عطا فرمائے۔آمین بحرمۃ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم جزاک اللہ

  15. بہت ھی پیاری اور بہت ھی سو‏یٹ اور شکر برفی قلاقند اور مصری سے زیادہ اچھی بیٹی جویرہ بیٹی سلامت رھو ، سب سے پہلے تو دیر سے تبصرہ کرنے پر معذرت ، مگر اللہ گواہ ھے کہ تم کو جمعہ کے دن سے کویت میں بھی یاد کیا جارھا تھا اور خوب دعايئں دی جارھی تھیں اور اللہ پاک سے دعا کرتے ھیں تم کو مالک دوجہاں خالق لوح وقلم اپنے حفظ وامان میں رکھے ،آمین ثم آمین
    یہ تمھارے بابا اور ھمارے بہت محترم بھائ محمداحمد ترازی صاحب کے ساتھہ ھماری بھی خوش نصیبی ھے کہ اتنی کم عمری میں اتنی خوبصورت کتاب پر اتنا خوبصورت تبصوہ لکھہ کر ھم سب کے دل جیت لیے ھیں اور ھم سب کی دعاوں کی کتاب میں بھی شامل ھوگی ھو۔ اور تم ایک ایسے قابل فخر باپ کی بیٹی بھی ھو جو سچ کہنے لکھنے سے کھبی نیہن گھبراتا اور قلم ھی انکا سب سےبڑا اثاثہ ھے ، قلم انکی تلوار اور قلم ھی انکا قلعہ ھے ،تم بڑی خوش نصیب ھو کہ ایک ایسے بابا کی بیٹی ھو جن علم سے محبت کرتے ھیں اور تم کو بھی مالک دوجہاں نے ھی جذبہ اور شوق عطا کیاھے ، میرا دل چاھتا ھے اپنی بہت پیاری بیٹی جویرہ کے ماتھے پر تیار کروں اللہ پاک تم کو دین و دینا کی ھر نعمت عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    میں تو بار بار ان سطور کو پڑھ رھی ھوں کتنی سادگی اور گہری ھے تھماری تحریر میں
    اور پھر تم نے جس لگن سے اردو ٹايپنگ سیکھی ھے اور اتنی سادگی اور سچائ سے اپنے تاثرات قلم بند کیے ھیں

    تم نے تو ایک ایسے پاکیزہ ماحول میں جنم لیا ھے جہاں قلم کو کتاب کو سچائ کو ایمان داری کو ھر شے پر سبقت دی جاتی ھے ، اور دیکھو یہاں لکھنا اس لیے بھی اچھا بہت اچھا بہت ھی اچھا لگتا ھے کہ یہاں دل و دماغ سے لکھنا پڑتا ھے بڑے جذت و شوق سے لکھنا پڑتا ھے ، ، تم اپنے ابو کے کتب خانے کا بھی خیال رکھتی ھو
    جو لوگ کتابوں کو دیکھتے پڑھتے اور ان میں مکتوب باتوں کو اپنی تنہائ کا رفیق بناتے ھیں اور انکی روشنی سے اپنی زیست کو منور کرتے ھیں تو اللہ پاک ان لوگوں پر اپنا خاص کرم فرماتا ھے جویرہ تم جیسی بہت پیاری اور معصوم بیٹی کو اللہ پاک ھمشیہ اپنے حفظ وامان میں رکھے امین ثم آمین

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا ذکر میں نے اپنے ابو محمد احمد ترازی کی زبانی بارہا سنا،ابو کی ہی بدولت مجھے ڈاکٹر صاحبہ کو جاننے کا موقع ملا، آپ کے بارے میں اتنا کچھ جان کر میرے دل میں آپ کو دیکھنے اور ملنے کا شوق پیدا ہو گیا اور جب مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ 15 دن کیلئے پاکستان تشریف لا رہی ہیں اور انھوں نے ابو کو کہا ہے کہ وہ مجھے بھی ملنے کیلئے ساتھ لائیں،تو میری خوشی کی انتہا نہیں تھی،میں توجیسے ساتھویں آسمان پر اُڑ رہی تھی،میں شدت سے 2اپریل کے دن کا انتظار کرنے لگی۔

    اور جب 2اپریل2012 کا دن کا دن آیا تو میں ابو کے ساتھ اُن کے دوست اعظم انکل اور ڈاکٹر شبیر انکل کے ساتھ ڈاکٹر صاحبہ سے ملنے جا رہی تھی،میں بہت خوش تھی،میرے اندر عجیب سی کیفیت تھی خوشی،ڈر ،گھبراہٹ،جیسے ملے جلے جذبات…. میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ جب آپ میرے سامنے ہونگی، تو میں کیا کرونگی؟ کیسے بات کرونگی ؟ آپ کیسی ہونگی ؟ مجھ سے کچھ پوچھیں گی تو مجھے جواب دینا آئے گا بھی یا نہیں؟ پتا نہیں مجھ سے مل کر آپ کو کیسا لگے گا؟بس اسی قسم کے خیالات میرے ذہن میں گردش کررہے تھے۔

    بہر حال اسی شش وپنج میں راستہ گزر گیا اور ہم سب ڈاکٹر صاحبہ کے عارضی ٹھکانے پر پہنچے، کچھ ہی دیر میں آپ میرے سامنے تھیں، بلیک سوٹ اور سفید دوپٹہ میں ملبوس،خوبصورت اور دلکش شخصیت کی مالک ڈاکٹر نگہت نسیم ہمارے اسقبال کیلئے کھڑی تھیں، ایک ہی نظر میں انھوں نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا،حقیقت میں اُن کی شخصیت باوقار اور دل موہ لینے والی ہے، مجھے دیکھتے ہی آپ نے مجھے گلے لگایا،بہت پیار سے اپنے ساتھ اپنے قریب بٹھایا،یوں جیسے مجھے برسوں سے مجھے جانتی ہوں،مجھے آپ سے مل کر مجھے ذرا بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا،آپ بہت ملنسار ،ہنس مکھ اورمحبت کرنے والی ہیں،آپ کے لہجے میں بہت پیار اور اپنائیت تھی، اِس ملاقات کے دوران آپ نے میری توجہ لکھنے کی طرف دلائی،میری بہت حوصلہ افزائی کی اور مجھے عالمی اخبار میں لکھنے کی دعوت دی،آپ سے یہ یادگار ملاقات شاید ہی میں کبھی بھول پاؤں،یہاں اگر میں کہوں کہ اس ایک ملاقات میں آپ میری آئیڈیل بن گئیں تو قطعاً مبالغہ نہ ہوگا۔

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں،وطن سے محبت اور رشتوں کا احترام ہمیشہ آپ کے پیش نظر رہتا ہے، دیار غیر میں رہ کر بھی آپ پاکستان کی محبت کو عام کرتی رہتی ہیں،جس کا عکس آپ کی تحریروں میں جابجا صاف نظر آتا ہے،آپ کے افسانوں کے دو مجموعے ”گردباحیات“ اور” مٹی کا سفر “ منظر عام پہ آچکے ہیں،نظم نگاری اور کالم نگاری میں بھی آپ کو ممتاز مقام حاصل ہے،آپ کی نظموں کا مجموعہ ”سفید جھیل“ اور دسمبر میں آپ کے کالموں کا مجموعہ ”یہی دنیا ہے اور یہیں کی باتیں “ شائع ہوا ۔

    ڈاکٹر صاحبہ خود بھی کتاب دوست اور دوسروں کو بھی کتاب کے مطالعے کی ترغیب دیتی ہیں،آپ نے اپنی دو عمدہ وبہترین کتابیں مجھے تحفے میں دیں ،”مٹی کا سفر “ ڈاکٹر صاحبہ کے بہترین افسانوں کا مجموعہ ہے، اِس کے تمام افسانے بہت اچھے اور سبق آموز ہیں، پڑھنے بیٹھو تو لگتا ہے ہم خود اِس کہانی کا حصہ ہیں ۔

    ”سفید جھیل “ آپ کی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں آپ نے اپنی قلبی کیفیات،احساسات ،جذبات اور اپنے تصورات کو الفاظ کا جامہ پہنا کہ نظموں کے لباس میں ڈھالا ہے،آپ کی ہر نظم میں ایک الگ رنگ ، الگ بات اور الگ احساس ہے،ہر نظم کے پیچھے بہت گہری سوچ موجود ہے، آپ کی شاعری ساگر کے موتی جیسی سچی،دھنک کے رنگ جیسی شوخ ، پہلی بارش کی پھوار میں بھیگی بھیگی،بالکل اس طرح جیسے بارش کے بعد صاف شفاف اور دھلے ہوئے درختوں کی کونپل اور پتے،آپ کی نظموں کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک نئی دنیا سے آشنا اورمتعارف ہورہے ہیں۔

    مجھے بھی ایسا ھی لگا کہ تمھاری اس تحریر کو پڑھ کر ، جیسے کہ پہلی بارش کی پھوار میں بھیگی بھیگی،بالکل اس طرح جیسے بارش کے بعد صاف شفاف اور دھلے ہوئے درختوں کی کونپل اور پتے ھر جیز نکھری نکھری دل کش اور دل نواز جیسے صبح صادق کا روح پرور منظر
    خوش رھو بیٹی سلامت رھو خوب تعلیم حاصل کرو آمین ثم آمین

  16. دوستو ! برسوں پہلے کی بات ھے میرے ابا جی نے ایک دن مجھ سے کہا تھا کہ “لکھنا اور پڑھنا“ دو مختلف علم ھیں ۔ لکھتا وہی ھے جنہیں دعاؤں کے تحفے ملتے ھیں ۔ جنہیں اللہ ، رسول ، اہل بیت اور ولیوں سے نسبتیں ھوتی ھیں ۔ جن سے ان کے ماں باپ اور خلق ٍ خدا راضی ھوتی ھے ۔ اللہ پاک ان پر ان دعاؤں کے صدقے “کشف“ کے تحفے بھیجتا رھتاھے ۔جس سے انہیں ان باتوں تک رسائی مل جاتی ھے جہاں پر کسی دوسرے کی رسائی ممکن نہیں ھوتی

    ھماری بہت اچھی بہن اور بہت اچھی اور بہت عزيز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم نے اپنی کتاب مٹی کا سفر کی تقریب اجراء کے موقعہ پر یہ خوبصورت بات کہی تھی مجھے جو بات اچھی لگتی ھے میرے دل میں اترتی ھے تو میرا دل چاھتا ھے اس بات کا ذھنی اور قلبی لطف اٹھاوں اور اپنے اصحاب کو بھی اس قلمی خوشی میں شامل کروں

  17. ارے شاہین تم نے یہ کہاں سے پڑھ لیا ۔ اف میرے اباجی بس ان کی ہر بات میں ایک رمز ہے ایک پیار ہے ایک کتاب بند ہے

  18. اللہ پاک تمھارے والدین کا سايہ تادیر تم سب کے سروں پر قائم رکھے اور انکو صحت و تندرستی عطا فرماء آمین ثم آمین
    مجھے بھی یہ اقتباس بہت اچھا لگا تو میں نے سوچا اپنی اتنی پیاری اور پرخلوص دوست کی اتنی دل میں اتر جانے والی بات کو ھر خاص وعام تک پہنچایا جاۓ اب باد صبا اس خوبصورت مکتوب کو قریہ قریہ لیکر جاۓ گی اور لوگ اپنے بزرگوں کا احترام پہلے سے بھی زیادہ کرینگے ، انشا اللہ ،
    خوش رھو سلامت رھو میری گڑیا میری چاند سی بہن سلامت رھو

  19. اسلام علیکم،
    آپ سب احباب کےاتنے پیار اور حوصلا افزائی کیلئے میں تہہ دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہو ں اور خاص طور پر ڈاکٹر صاحبہ جن کی بدولت مجھے اتنی دعائیں مل رہی ہیں ڈاکٹر صاحبہ اگر مجھے حوصلہ اور ہمت نا دیتیں تو شاید میری یہ تحریر آپ کے سامنے نہ ہوتی اور میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ میں ابو کی بیٹی ہوں جو ہمیشہ میری ہمت بڑھاتے ہیں اور مجھے حوصلہ دیتے ہیں۔ مجھ پہ اللہ پاک کا بھت کرم ہے کہ مجھے آپ سب کا پیار اور ابو اور ڈاکٹر صاحبہ کی سرپرستی ملی ۔آپ سب کی دعائیں اور پیار اسی طرح میرے ساتھ رہا تو امیں بھی اپنے ابو کی طرح ایک دین و ادب کی خدمت کرتی رہوں گی ۔انشائاللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *