پیاری دوست شاہین حیدر رضوی سالگرہ بہت بہت مبارک

Red Rose Bouquet
میری دوست
یہ دنیا
بہت آسان ہو گئی ہے
جب سے
تم نے کہاہے
میری دنیا
تم سے مکمل ہو گئی ہے
(ڈاکٹر نگہت نسیم )

آج یکم جولائی کے دن عالمی اخبار کی بلاگ فیملی تمہیں سالگرہ کی مبارک باد کے ساتھ صحت و سلامتی کی دعا بھی دے رہی ہے ۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ڈئیر شاہین ۔۔ تم جہاں کہی بھی رہتی ہو پر ہمیشہ ہمارے ساتھ ہی رہتی ہو ۔۔۔ اللہ کریم و رحیم اپنے حبیب اور ان کی آل مبارک کے صدقے تم کو دائمی خوشیوں میں رکھے ۔۔
الہی آمین

25 thoughts on “پیاری دوست شاہین حیدر رضوی سالگرہ بہت بہت مبارک”

  1. جلتی شمعیں روشن چہرے
    کاسنی لڑیاں نازک سہرے
    نرگس،بیلا،موتیا،لالا
    جوہی،چمپا،اور،بنفشا
    ہر ایک یاد و شاد ہے نا
    آج آپکی سالگرہ ہے
    دیکھو ہم کو یاد ہے نا
    ہم تو صرف دعاءگو لوگ
    خاک و مہر کا کیا سنجوگ
    پاس رہیں یا دور رہیں
    وحشت سے رنجور رہیں
    یہاں محفل آباد ہے نا
    آج آپکی سالگرہ ہے
    دیکھو ہم کو یاد ہے نا
    کیسے کیسے خواب بنیں
    رنگ برنگے پھول چنیںُ
    ان کے ہاتھہ پہ ہاتھہ رہے گا
    سالگرہ کا کیک کٹے گا
    خواب ہر ایک آباد ہے نا
    آج آپکی سالگرہ ہے
    دیکھو ہم کو یاد ہے نا
    ــــــــــــــــــــ
    ہماری جانب سےبھی ہ بہن شاہین حیدر رضوی صاحبہ کو سالگرہ کی بہت بہت مبارک قبول ہو اللہ کریم آ پکی عممر علم ،مرتبہ اور مقام میں خیر و برکت اور بلندی
    عطا فرمائے آپ کو ہمیشہ آسانیوں سے نوازے اور ہرمشکل فکرو غم اور رنج و الم سے دور رکھے
    آمین (بحرمۃ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم)

  2. اسلام علیکم ساتھیو
    پیاری بہن شاھین سالگرہ بہت بہت مبارک ہو ۔
    اللہ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم اور شاد کام رکھے آمین
    عالم آرا
    وینکور

  3. آج کے ایک عام سے دن کو آپ سب نے اتنا اھم اور ناقابل فراموش بنا دیا ،میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے جب بلاگ میں اپنی بہت ھی عزيز دوست کی جانب سے اپنے جنم دن کی مبارک باد کا پیغام دیکھا تو یقین کریں جمعرات کو لگنے والی چوٹ میں ھونے والا درد بھی جیسے ایک دم ھی غا‏ئب ھوگیا ، یہ ھی نیہں بلکہ نصف صدی کے زخم بھر گیۓ ھیں میں نے پہلے اپنے رب کا شکرادا کیا اور پھر آپ سب کا شکریہ ادا کر رھی ھوں کہ اچھے دوست زمین پر اللہ تعالی کا انعام ھوتے ھیں آپ سب کو اللہ پاک سلامت رکھے آمین ثم آمین
    خوش رکھے شاد و آباد رھیں اور میرے لیے تو آپکی سب کی دعايئں سب سے قیمتی تحائف ھیں اس بات پر اتنے رب کا زندگی کی ھر سانس تک شکریہ ادا کروں تو کم ھے،
    میرے بہت اچھے ساتھیوں
    میرے ھر درد کی دوا تم ھو
    اچھے بھائ شعیب صفدر سلامت رھیں آپکی دعاوں اور برتھہ ڈے وشیز کا بہت بہت شکریہ خوش رھیں بھائ بہت شکریہ بہت شکریہ اللہ آپکی خوشیوں میں عمر میں رزق میں علم میں ایمان میں صبر میں عدل میں برکت دے آمین ثم آمین

  4. شاھین جی
    سالگرہ مبارک
    اللہ تعالی سے دُعا ہے کہ آپ کی سبھی نیک خواھشات پوری کرے آمین

    sparkle - http://www.sparklee.com

    free photo rating

  5. اچھےبھائ احمد محمد ترازی سلامت رھیں خوش رھیں اللہ آپکے قلم کو ھمشیہ یونہی رواں دواں رکھے ، آمین ثم آمین

    میری تو آج سالگرہ نیہں ھے بلکہ عید ھے بلکہ عیدین ھے ابھی ھمارے سپر وائیزر اور کولیگز کی طرف سے مسٹر بیکر کا کیک اور کتکوت کے فطائر اور لقمہ قاضی دینا ھائیک کی طرف سے چیز کیک اور بہت ساری دعايئں اور تحائف کا سرپرآئز ملا ھے کل رات میری بہت اچھی دوست سینڈرا اور ایک بہت ھی محترم دوست کے ساتھہ ھم لوگوں نے بہت خوبصورت شام گذاری اسکا عکس تو محفوظ کرلیا ھے ،آپکی دعااور نظم بہت ھی اچھی لگی ،آپکی تحریر میں یہاں بلاگ میں لگا رھی ھوں جو مجھے بہت پسند ھے

    اسلام تعلیم اور تعلّم سے وابستہ افراد کو معاشرے کا سب سے اہم فرد قرار دیتا ہے، حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ”علم حاصل کرو،چاہے اُس کیلئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔“یہ قانون فطرت ہے کہ علم قوموں کی ترقی کی بنیاد اور اساس ہوا کرتا ہے،قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا کردار ہمیشہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے،دنیا میں وہی قومیں اور ممالک مرجع خلائق رہے جنھوں نے تعلیمی میدان ترقی کی،ایک وقت تھا جب تعلیم کی وجہ سے مسلمانوں کو دنیا کی امامت کا مرتبہ حاصل تھا،یہ وہ دور تھا جب مغرب اپنے تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا،لیکن اُس وقت اسلام کی روشنی دنیا کو منور کر رہی تھی اور قرطبہ کی جامعات دنیا بھر میں علم وفن کا مرکز تھیں،لیکن جب تعلیم و تعلّم اور شمیشیر و سناں کی جگہ طاؤس و رباب نے لے لی تو ہماری تنزلی کا دور شروع ہو گیا،تعلیمی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے وہ جو کبھی اقوام عالم کے سردار تھے،اغیار کے غلام اور محکوم ہوگئے، آج دنیا کی بہترین تعلیمی ادارے اغیار کے پاس ہیں اور پوری دنیا سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلئے لوگ اُن کی طرف رجوع کرتے ہیں،جبکہ ہماری تعلیمی ترقی کا حال یہ ہے کہ دنیا کی بڑی جامعات کی لسٹ میں دور دور تک ہماری کسی جامعہ کا نام تک نہیں آتا،اِس کی بنیادی وجہ تعلیمی میدان میں حکومتوں کی عدم دلچسپی ہے،ہمارے یہاں بجٹ میں صرف 2فیصد بجٹ حصہ تعلیم کےلئے مختص کیا جاتا ہے جس سے بہتری کی توقع تو کجا موجودہ سیٹ اپ کو چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔
    اَمر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا شعبہ روز اوّل سے ہی عدم توجہی کا شکار رہا ہے،ہر حکومت نے تعلیمی کمیشن تشکیل بنائے،نت نئی تعلیمی پالیسیاں تشکیل دیں،تعلیمی فروغ کیلئے کاغذی ادارے بنائے،مگر ہمارا نظام تعلیم جوں کا توں ہی رہا،جبکہ دنیا کا دستور یہ ہے کہ قومیں اپنی ترقی اور کامیابی کیلئے ادارے تعمیر کرتی ہیں،اُن کی مسلسل پرورش کرتی ہیں،پروان چڑھاتی ہیں اور انہیں بہتر سے بہتر بناتی رہتی ہیں،تب جاکر نتائج حاصل کرتی ہیں،کیونکہ ادارے ہی قوموں کا اثاثہ اور میراث ہوتے ہیں جو ثمربار اور گھنے درختوں کی مانند انکی کئی نسلوں کو پھل مہیا کرتے ہیں، سایہ فراہم کرتے ہیں،اِس کے عکس ہم نے اپنی چونسٹھ سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ زور ادارے بنانے کی بجائے انہیں کمزور کرنے اور توڑ نے پر دیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شعبے میں ہم پیچھے رہ گئے،ہمارے حکمرانوں کا یہ شغل اب بھی جاری ہے،اگر اتفاق سے کوئی ادارہ وجود میں آ بھی گیا تو اِس کے درپے ہونا ہمارے حکمران اپنے فرض منصبی شمار کرتے ہیں،خوش قسمتی سے پچھلے آٹھ دس سالوں میں ادارہ سازی کے میدان کے اندر ہم سے ایک قابل تعریف کام سرزد ہو گیا جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام تھا،لیکن اب ہمارے حکمران اسے تحلیل کر نے کے منصوبے بنارہے ہیں ۔

    پہلے ہی پاکستان میں تعلیم کا حال دگر گوں تھا،رہی سہی کسر حکومت نے ایچ ای سی کو ختم کرنے کا فیصلہ کرکے پوری کردی ہے،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ٹکڑے کرکے صوبوں میں بانٹ دیا جائے گا اور اِس کی مرکزی حیثیت ختم ہوجائے گی،حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام اٹھارویں ترمیم کے مطابق اٹھایا گیا ہے جبکہ 18 ویں ترمیم کمیٹی کے ایک رکن مسلم لیگ( ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی آئینی مجبوری نہیں کہ ایچ ایس سی کو لازماً صوبوں کے حوالے کیا جائے،اُن کے خیال میں یہ انتقامی کارروائی ہے کیونکہ جعلی ڈگریوں کے معاملہ پر کمیشن نے حکومت کا دباؤ قبول نہیں کیا تھا،یہی رائے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں اور قائدین کی ہے،دوسری طرف تعلیمی اداروں کے وائس چانسلر سمیت طلبہ تنظیمیں بھی حکومت کے اِس فیصلے کے خلاف صف آراءہوچکے ہیں،ہماری نظر میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے صوبوں کے سپرد کرنا اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے،اِس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو چلانا صوبوں کے بس کا روگ نہیں اور نہ ہی یہ ادارہ اپنی نوعیت اور آئینی حیثیت کے سبب صوبوں کے سپرد کیا جانا چاہئے ۔
    اِس سے قطع نظر کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ٹکڑے کرنے کی آئینی حیثیت کیا ہے، یہ حقیقت کسی طور بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ تعلیمی کے میدان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی انتہائی متاثر کن ا ور شاندار رہی ہے،ہائرایجوکیشن کے قیام سے پہلے دنیا بھر کی بہترین جامعات میں پاکستان کی کوئی یونیورسٹی شامل نہیں تھی لیکن اب دنیا کی بہترین جامعات میں پاکستان کی دو یونیورسٹیاں شامل ہیں،یہ بھی حقیقت ہے کہ ہائر ایجوکیشن کے قیام کے بعد ریسرچ کے شعبے میں بہت ترقی ہوئی اور ہمارے اسکالر نے قابل قدر کام کیا،آج ایچ ایس سی کے تعاون سے سینکڑوں پاکستانی اسکالر پی ایچ ڈی اور اِس لیول کی تعلیم مکمل کرچکے، جبکہ سات ہزار سے زائد طلباءدنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کررہے ہیں،جن سے یہ امید کی جارہی تھی کہ جب یہ اسکالرز اور پروفیسرز مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی کرکے وطن واپس آئیں گے تو پاکستان کا علمی و تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں بہتری آئے گی ۔
    لیکن حکومت کے اِس تعلیم دشمن اقدام سے ہم نہ صرف ہم عالمی بینک اور امریکہ کی اعلیٰ تعلیم کےلئے کروڑوں ڈالر کی امداد سے محروم ہوجائیں گے بلکہ پاکستانی یونیورسٹیوں کو عالمی ریکنگ میں لانے اور پی ایچ ڈی پروفیسرز کی تعداد میں نمایاں اضافے اور ریسرچ کے ذریعے ترقی کے خواب بھی چکنا چور ہوجائیں گے،ساتھ ہی وہ طلبا ءجنھیں ایچ ایس سی نے 50 ارب روپے خرچ کرکے اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھجوایا تھا،وطن واپس آنے سے گریز کریں گے،جس نہ صرف تعلیمی معیار خراب ہوگا بلکہ قومی خزانے کو نقصان کے ساتھ ہماری ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوگی اور اِس ادارے کے خاتمے سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان کی ڈگریاں بھی مشکوک قرار پائیں گی ۔
    لہٰذا ہماری ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ انہیں اپنے فیصلے کے حسن و قبح پر ضرور غورکرنا چاہیے تھا،ہماری نظر میں تعلیم کے شعبے کو صوبوں کے حوالے کرنا ایک خطرناک اور ایساملک دشمن قدم ہے،جس پر عمل سے چھوٹے صوبوں کے ٹیچرز اور پروفیسر اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم ہوجائیں گے،اِس ادارے کی آزادانہ حیثیت ختم کرنے سے اِس کا سب سے زیادہ نقصان اُن چھوٹے صوبوں کو ہوگا جن کے وسائل پہلے ہی بہت کم ہیں،حکومت کے اِس عمل سے صوبوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی پیدا ہوں گی کیونکہ تمام صوبوں اور کشمیر میں معیار تعلیم ایک جیسا نہیں ہے،دوسری جانب ایک ایسا ادارہ جو پاکستان کیلئے دنیا میں قابل فخر کردار ادا کررہا ہے،کے خاتمے سے ہمارا تعلیمی معیار گرے گا اور بیرونی ممالک میں موجود ہزاروں ذہین پاکستانی طلبہ کا مستقبل بھی تاریک ہوجائے گا۔
    جہاں تک ایچ ای سی کا تعلق ہے تو ممکن ہے کہ اِس میں کچھ خامیاں ہوں لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اِس ادارے کو زندہ درگور کردیا جائے،بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ خامیاں دور کی جاتیں اور اِس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاتا،مگرافسوس کہ اِس طرف توجہ دینے کے بجائے اِس ادارے کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا جس سے اِس اعتراض میں وزن محسوس ہوتاہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی چھان بین روکنے کےلئے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے،ہم اپنے ارباب اقتدار کو یاد دلانا چاہتے کہ قوموں کا روشن مستقبل اعلیٰ تعلیم سے وابستہ ہوتا ہے،آج کوئی معاشرہ تعلیم کی تجدید سے بے نیاز ہوکر زندہ نہیں رہ سکتا،اچھی اور معیاری تعلیم سماج کے زندگی بخش نظریات سے چشم پوشی نہیں کر سکتی،دونوں کا ربط ایسی افادیت پیدا کر سکتا ہے جو قومی استحکام اور سماجی فلاح کی ضمانت ہے،ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ،جدید اور فلاحی معاشرہ ہی استحکام پاکستان کی کلید ہے،اربابِ اختیار،دانشور وں،ماہرینِ تعلیم،میڈیا اور اصحاب الرائے کی یہ اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل کےلئے حکومت کے اِس تعلیم کش ( تعلیم نہ کھپے) کے اقدام کے خلاف متحد ہوکر واضح لائحہ عمل اختیار کریں،وگرنہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانا ہمارا مقدر ہے ۔

  6. بہن شاہین حیدر رضوی صاحبہ
    بہت شکریہ جزاک اللہ

  7. Shaheen rizvi shaiba,very very happy birthday to you ,may Allah give you lots of happiness.aameen may Allah give you long long life.aameen

  8. پیاری بہن شاہین ١ “تم صد ا خوش رہو یہ دعا ہے میری ”
    آج سارا دن ا اپ کی سالگرہ کی خوشی میں ، معلوم ہے کتنی بار گا چکی ہوں،،” بار بار یہ دن اے،،،،،،بار بار یہ دل گاۓ تم جیو ہزاروں سال ہے یہ میری آرزو ہپی برتھڈے تو یو ہپی برتھڈے تو یو … ”
    ہمیشہ صحت مندی سے کئ سلگریں منایں امین آپ نے بلکل صحیح لکھا ہے ایسی دعا یں ملنے آپ کی پ تھ کا وت اتر گئی ہو گی ..ایک اچھی وش سے بہت کچھ مل جاتا ہے، جب آپ مجھے ہر بار لکھتی ہیں ، “سلامت رہو “میرا دل بہت خوش ہوتا ہے ، آپ کے لیے بھی اسی طرح کی دعا دل سے نکلتی ہے –

  9. اس خوشی کے موقع پر شاہین کے لئے شاہین ہی کی غزل ۔۔۔ واہ واہ واہ

    آئینہ خانوں میں جلتی سر دیوار آنکھیں
    ھیں پر اسرار بہت عشوہ پرکار آنکھیں

    کرہ ارض پر ھیں مرکز سیار آنکھیں
    جہاں گذیدہ گئے وقت میں شمار آنکھیں

    ھویئں بازار میں یوسف کی خریدار آنکھیں
    پردہ شب میں ستاروں کا ھیں شعار آنکھیں

    روشنی رنگ طرب چاند کا غبار آنکھیں
    مہر ماہ انجم و انوار و نغمہ بار آنکھیں

    تمازتوں کے سفر میں ھیں آبشار آنکھیں
    خرد کی قید میں ھیں تازہ گرفتار آنکھیں

    چراغ شب میں عبث نعمت دیدار آنکھیں
    کیہي جلتے ھوۓ پربت کیہی چنار آنکھیں

    کبھی خزاوں کا موسم کبھی بہار آنکھیں
    دنگ ھیں دیکھہ کے دولت کے بھی انبار آنکھیں

    فقر و فاقہ میں بھی رد کرتی ھیں دینار آنکھیں
    غموں کی دھوپ میں ھنستی ھوئ فنکار آنکیھیں

    حجرہ چشم میں تنہائی کا شکار آنکھیں
    وحشت ھجر سے گبھرايئں کیئ بار آنکھیں

    چارہ گر دردمیں ڈھلنے کو ھیں تیار آنکھیں
    شاعری رنگ سخن قافیہ بردار آنکھیں

    شاھین رضوی

  10. میری طرف سے بھی مبارکباد قبول فرمائیں اللہ آپ کو ایسی سیکڑوں خوشیاں عطا فرما ئے ۔آمین

  11. دیرسے ہی مبارکبادبھیج رہاہوں اُمیدہے دُعائوں اورمبارکبادکوشاہین اآپاقبول فرمائیں گی۔اللہ تعالیٰ دُنیاواآخرت میں تمام خوشیاں سے اآپاکونوازے۔اآمین۔

  12. طارف ابرار بھائ سلامت رھیں خوش رھیں
    آپ سب کی دعاوں نے اس دن کو یادگار بنا دیا کہ میں نے بہت سارا وقت اپنی انکھوں کو خشک کرتے ھوۓ گذارہ میں
    بار بار اپنے رب کا شکرادا کرتی کہ میں اتنی خوش نصیب ھوں ۔اتنی ساری دعايئں کہ جمعرات کے دن ھونے والے چھوٹے سے ایکسڈنٹ سے لگنے والی چوٹ اور پھر اتوار والے دن بہت تیز بخار چڑھا سب مشکلیں سارے مراحل آپ کی ان قیمتی دعاوں کی بدولت آسان ھوگیۓ
    میں بھی آپکی طرح اپنے بہت عظیم اور عزيز ترین دوستوں کا شکریہ بھی بر وقت ادا نہ کرسکی بعض دوست جو سالگرہ کی مبارک اور عیادت کو آۓ انکا کہنا تھا کہ لگتا ھے کہ شاھین کا یوم ولادت اور یوم وفات بھی یکم جولائ کو ھی ھوگا
    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کا شکریہ کہ ھم عمر کی نصف صدی میں داخل ھوگیۓ ھیں اور مجھے اس حقیقت کا اغتراف کرنے دیں کہ میں تو اپنی عمر کے 22ویں سال ھی 50 برس سے زیادہ بڑی ھوگی تھی اسی لیے میں اپنے سے 32 برس بڑے شوھر کے ساتھہ زندگی ھسنی خوشی گذارنے کے قابل ھوسکی ، اللہ کا لاکھہ لاکھہ شکر ھے

    ھر حال میں شکر پروردگار ادا کرتی ھوں
    کہ اتنے بہترین دوست عطا کیے
    میں بہت محترم اور بہت قابل تعظیم بہت بڑے عالم جناب شمس جیلانی صاحب کا شکریہ ادا کرتی ھوں
    کہ آپکی دعا نے میری چھوٹی سی دینا کو آسمان کے برابر کردیا اللہ تعالی آپ کا سايہ اور دست شفقعت ھم سب کے سروں پر قا‏ئم رکھے آمین ثم آمیں

  13. بہت اچھی بہن عالم آراء اسلام علیکم ، خوش و خوش حال رھیں اللہ پاک زندگی کے ھر شعبے میں آپکو کامیاب و کامران فرماۓ آمین ثم آمین
    پہلے تو تاخیر حاضری پر معذرت کررھی ھوں ، کہ بخار میں بھی یہی بات دل کو رنجیدہ کرتی رھی کہ اپنے دوستوں کی مبارک باد تو قبول کرلی مگر بروقت انکا شکریہ نہ ادا کرسکی ۔آپکی محبت بھری دعاوں کی چھاوں تو خوش نصبیوں کو میسر آتی ھے اور اللہ کا شکرادا کرتی ھوں کہ آپ جیسے بہت پیارے دوستوں کی بدولت پردیس بھی میں بھی اپنوں جیسی شفقعت ملتی ھے
    سلامت رھیں
    اللہ پاک آپکے قلم کو ھمشیہ رواں دواں رکھے امین ثم آمین
    اچھی بیٹی نوشین عقیل خوش رھو بچہ اللہ پاک تم کو دارین کی ھر خوشی عطا فرماۓ اور جہاں بھی رھو چاند ستاروں کی طرح سب سے منفرد اور ممتاز رھو سلامت رھو چاند تھماری ھر دعا پر آمین ثم آمین ّ ثم آمین
    اور یہاں تو عابدہ مظفر بھی ائ ھیں اور اتنی پیاری باتیں کہ روح تک سرشاری کی لہر دوڑ گی خوش رھو سلامت رھو اللہ پاک تمھاری ھر مراد کو پوری کرے آمین ثم آمین
    دراصل جب ھم کسی کو دعا دے رھے ھوتے ھیں تو دراصل اللہ پاک دعا دینے والے کا صدق اور اخلاص دیکھہ کر دعا دینے اور دینے دونوں فریقین کو اس کا اجر عطا کرتا ھے اللہ پاک تم کو بہت ساری خوشیاں عطا فرماۓ ھر مشکل کو اسان کرے آمین ثم آمین
    ابھی ھماری بہت کم گو اور بہت ھی پیاری بہن زرقا مفتی کا بھی شکریہ ادا کرنا ھے اور پھر اسکے بعد ھم سبکی بہت قابل احترام اور پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم کا بھی شکریہ ادا کرنا ھے

  14. شاہین رضوی صاحبہ کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد دینے میں تاخیر کی معافی چاہتا ہوں۔
    میں اگر چیکہ عالمی اخبار کے بلاگوں کی دنیا سے دور ہوگیا ہوں مگر ان بلاگوں کی بسنےوالی ہستیوں کو ہمیشہ اپنے دل کےقریب سمجھتا ہوں۔
    آج اس بلاگ کو پڑھکر شاہین رضوی صاحبہ کی طویل زندگی کےلیے دل سے دعائیں نکل رہی ہیں: اللہ انہیں انکی سالگرہ مبارک کرے اور انہیں ایسی بےشمار سالگرہیں منانے کے مواقع عطا کرتا رہے: آمین
    فقط:
    دعا گو اور خیر اندیش
    منظور قاضی : میونخ ، جرمنی سے

  15. جیوے شاہیں عمر ہزاریاں آمین

    میری جانب سے بھی جنم دن کی بدھائ لو،پرور دگار عالم تمھاری عمر عزیز میں مبارک ترقّی کے ساتھ تمھیں علم عرفان کے پاکیزہ تر خزینے بھی یونہی عطا کرتا رہئے آمین

    میں زندگی کی ہمہ ہمی میں کسی بھی بچّے کی سالگرہ کو کبھی بھی اہمیت نہیں دے پاتی تھی لیکن میری سب سے چھوٹی بیٹی کا ایک دن میرے پاس فون آیا میں نے فون جیسے ہی اون کیا اس کی آواز آئ امّاں مبارک ہو ،میں نے کہا خیریت؟ کس بات کی مبارکباد دے

    رہی ہو کہنے لگی امّاں آج میری سالگرہ ہئے میں بے اختیار ہنسنے لگی تو وہ کہنے لگی امّاں جب میری بیٹی ا ور بیٹے کی سالگرہ کا دن آتا ہئے تو میں ان ساعتوں کو یاد کر کے اللہ کا شکرانہ ضرور ادا کرتی ہوں جب اس مالک معبود نے مجھ کو اپنی یہ نعمت اور

    رحمت عطا کی ،اس کے کہنے سے میں نے سوچا واقعی یہ بات تو بہت ہی مناسب ہئے کہ ایک جانب سالگرہ کی مسرّت ہوتو دوسری جانب اللہ کا شکرانہ ،اس ایک فون نے مجھ کو سمجھا دیا کہ سالگرہ کی اہمیت کیا ہوتی ہئے

  16. محترم ومکرم جناب منظور قاضی صاحب اسلام علیکم ، سلامت رھیں خوش رھیں اللہ پاک آپ کو ھشیہ قلبی قکری قلمی جسدی اور روحانی طور پر چست و توانا رکھے آمیں ثم آمین آپ سب کی پرخلوص دعايئں میرا سب سے قیمتی اثاثہ ھیں ، میری لیے دعا کرنے اور مجھے اپنی دعاوں میں شامل کرنے کا بہت شکریہ اس بات کا اجر تو صرف خالق کائنات ھی عطا کریگا اور ھم سب کی ڈھیروں دعايئں آپکے لیے
    اللہ کرے آپکی قسمت کا ستارہ ھمشیہ بام عروج پر رھے آمین ثم آمین میری صد سالہ سالگرہ کی مبارک باد کا بہت شکریہ اللہ پاک آپکو عمر خضر عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    آللہ پاک آپ کو مکمل صحت و تندرستی اور عمر طویل عطا فرماۓ لاتعداد خوشیاں سے آپکا گھر چمکتا دمکتا رھے آمین ثم آمین

  17. آچھی بجو زائرہ خانم اسلام علکیم ، بجو اتنی پیاری دعاوں کا بہت شکریہ اور دینا بھر میں ایک دن ھی سالگرہ کی مبارک باد دی جاتی ھے میں وہ خوش بخت ھوں جس کو عالمی آخبار کے پلیٹ فارم سے آج ھفتہ بھر بعد بھی سالگرہ کے تہنیتی پیغام موصول ھو رھے ھیں اللہ پاک آپکو بھی بحق محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور انکی پاک آل کے تصدق میں دینا کی ھر خوشی عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    اور آپکی بات بہت اچھی لگی کہ اپنی لخت جگر کے ایک فون سے آپ نے کتنی پیاری بات اخذ کی ھے ،

    اچھی بجو ھم جس عہد بے مہر میں زندہ ھیں وھاں یوں بھی خوشیاں کم ھیں اور دکھہ زیادہ
    یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور خوشیاں کتنی اھم ھوتی ھیں
    اور کسی نادیدہ حزن و الم کی گرفت میں آۓ ھوۓ انسان کو کتنی سرشاری عطا کرتی ھيں ، لفظی کم مائیگی آڑے آرھی ھے میں ان
    احساسات کو لفظوں میں ڈھالنے سے قاصر ھوں
    بچو میرے لیے تو بس یہ دعا کریں کہ اللہ پاک مجھے کسی کا محتاج نہ کرے اللہ پاک مجھے سب کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    ایک بار پھر آپکی اس محبت اور دعاوں کا بہت شکریہ
    اللہ پاک آپکو صحت تندرستی اور لاتعداد نعمتوں سے سرفراز فرماۓ آمین ّّثم آمین

  18. وعلیکم وا لسّلام میری پیاری اور لائق فائق صاحب علم بیٹی ،

    مالک دو جہاں تم کو بحقّ سرکار دوعالم اور آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی آل پاک کے صدقے میں کبھی کسی دکھ سے ہم کنار نا کرے آمین ،
    یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہئے کہ زندگی دکھ سکھ کی چھاؤں کے مجموعے کا نام ہئے ،اور جب ہم سکھی ہوتے ہیں تو محسوس ہوتا ہئے کہ

    زمانہ بھی ہمارے ساتھ خوش ہئے لیکن جب ہم دکھی ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو کتنا تنہامحسوس کرتے ہیں ،،تمھاری یہ بات بھی اپنی جگہ سو فی صد درست ہئے کہ یہ عہد بے مہر ہے اس میں خوشیاں کم اور دکھ زیادہ ہیں ،

    ایسے میں کہیں سے کوئ پر مسرّت پیغام ہمارے نام پھول کی نازک پتّی کی طرح ہماری ہتھیلی پر رکھ دیتا ہئے تو ہم پھر سے جی اٹھتے ہیں اور زمانے کی ساری بے وفائ کا گلہ بھول جاتے ہیں ،

    سالگرہ کے موقع پر بھیجے گئے خوبصورت پیغام اور دعائیں ایسی نازک پنکھڑیا ں بن کر ہمارے گردا گرد ہالہ بنا کر ہمیں مسحور کرتے رہتے ہیں ،اور میں بھی اکثر یہ بات سوچتی ہوں کہ میں وہ خوش نصیب بزرگ خاتون ہو ں جس کو تم جیسی پیاری نیکیوں سے

    مہکتی ہوئ بیٹیاں میسّر آئ ہیں جو مجھ بزرگ کو دعائیں دیتی ہیں ورنہ د ستور زمانہ ہئے کہ ہمیشہ بزرگ ہی بچّو ں کو دعائیں دیتے ہیں ،،محتاجی سے بچنے کے سب سے بہترین دعا ءجوشن کبیر میں درج ہئے اور شائد اس کا نمبر 43 ہئے ،میں ہمیشہ اس دعا کا ورد رکھتی ہوں الحمد للہ ، ،

    ایک بار پھر بہت سی دعاؤں کے ساتھ اللہ حافظ
    خیر اندیش زائرہ بجّو

  19. آچھی بجو سلامت رھیں

    بجو ایک بار پھر دعاوں کا شکریہ

    آپ اپنی اتنی روح پرور دینی روحانی مصروفیات کو چھوڑ کر بلاگ پر آتی ھیں تو ھر طرف دعاوں کی مہک پھیل جاتی ھے

    پیاری بجو کچھہ بزرگ تو کھبی بھی بزرگ نیہں بنتے اور نہ ھی دعا دیتے ھیں
    مجھے اپنی ایک دوست کی بات کھبی نیہن بھولتی ھے
    ایک دن ھم سب کیہں بیھٹے تھے کہ مغرب کی نماز کا وقت ھوگیا سب نماز کے لیے اٹھنے لگے تو میں نے بزرگ خاتون سے کہا

    ھم سب کے لیے بھی دعا کیجیے گا

    انھوں نے جواب دیا
    سب اپنے لیے خود دعا کریں میں کسی اور کے لیے کیوں دعا کروں

    پھر میری طرف دیکھا اور بولیں آپ خود کیوں نیہں سب کے لیے دعا کرتیں
    وہ پہلا دن تھا جب میں سب کو نماز ّپڑھائ اور باجماعت دعا بھی کرائ میرا مقصد ان خاتون کی دل شکنی تھا نہ ھی ناراضگی ، اس لیے صافی القلب سے خوب دعايئں ھويئں اور شائد وھی ٹرننگ پوائنٹ تھا کہ میں نے خود ھی سب کے لیے خوشی خوشی دعا کرنے کی عادت اپنا لی میرے مالک کا لاکھہ لاکھہ شکر ھے کہ وہ دوسروں کے لیے کی گی ھر دعا ضرور قبول فرماتا ھے مجھے دعا دینا اور دعا لینا بہت اجھا لگتا ھے اور دن میں بہت بار یہ موقع مجھے میرا رب خود ھی فراھم کردیتا ھے مجھے دعا دتیے ھوۓ بہت سکون ملتا ھے

    اجھی زائرہ بجو آج گیاروں دن بھی سالگرہ والا بلاگ چل رھا ھے اور مجھے اسی بلاگ میں اپنے سارے عالمی آخبار کے ساتھیوں سے یہ بھی درخواست کرنی ھے کہ براۓ مہربانی اپنی اپنی سالگرہ کی تاریخ یہاں پوسٹ کردیں جن دوستوں کی سالگرہ کا دن مجھے معلوم ھے وہ میں بلاگ میں لکھ دونگی
    باقی لوگ براۓ کرم
    براۓ مہربانی
    براۓ محبت
    براۓ خلوص
    براۓ دوستی
    اپنی اپنی تاریخ میلاد ضرور یہاں تحریر یردیں
    میں تو ایک دم ھی حیران رہ گی
    کہ کوئ دعا کے لیے منع کرسکتا ھے
    کاش انکو پتہ ھوتا کہ کسی کے لیے دعا کرنے سے خود کرنے والے پر نیکی اور خیر وبرکت کے کیسے کیسے بند دروازے کھل جاتے ھیں

    کہ دینا میں دعا ھی سب سے بہترین تحفہ ھوتا ھے

    سب سے پہلے میں معروف شاعر مشہور صدا کار
    شاعر اھلبیت
    کالم نگار
    معروف قلم کار
    سیف للسان سیف القلم صحافی
    مححقق و تنقید نگار
    پاکستان اور پاکستان کے باھر اپنا الگ نام بنانے والے براڈ کاسٹر
    مايہ ناز ادیب اور کئ کتابوں کے مصنف
    عالمی آخبار کے مدیر اعلی محترم المقام صفدر ھمدانی صاحب کی سالگرہ 17 نومبر کو ھوتی ھے

  20. عالمی آخبار کی جان شان ان بان اور بہت ھی میھٹی اور سويئٹ اور بہت قابل فخر نائب مدیر اعلی ھم سب کی بہت پیاری ھی پیاری بہن اور عزیز دوست سڈنی میں آباد اور خوابوں میں پاکستان میں مقیم معروف نظم نگار شاعرہ ادیبہ چار کتابوں کی مصنفہ بہت اچھی کالم نگار ذھین فطین اور اپنی ڈاکٹری کی فلیڈ میں بھی اپنا اور اپنے خانوادے کے ساتھہ پاکستان کا نام روشن کرنے والی ڈاکٹر نگہت نسیم کی سالگرہ ۲۲ ستمبر کو ھے

  21. ذھین فطین پرجوش خوش نظر و خوش فکر خوش قلم معروف شعراء کی ویب سائٹ ڈیزائينر اعلی ادبی ذوق کی حامل خوبصورت شاعرہ مشہور کہانی کاراور عالمی آخبار میں ایک بہت خاص مقام رکھنے والی زرقا مفتی کی سالگرہ 25 اکتوبر کو ھے

  22. موت کی دستک۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔زرقامفتی

    گھنیری زُلف کے سائے
    گلابی جام ہونٹوں کے
    سبھی تھے منتظرکب سے
    کہ تم اب لوٹ کے آو

    مگر افسوس کہ تم نے
    لگائی دیر آنے میں
    ابھی کچھ روز پہلے ہی
    کواڑوں پر مرے دل کے
    ہوئی تھی موت کی دستک

    مرے ویران سے دل نے
    رسائی اُس کو دے دی تھی
    یہاں اب اُس کا پہرا ہے
    اندھیرا ہی اندھیرا ہے
    سُنو تم لوٹ جاو اب
    اُسی مصروف دُنیا میں
    جہاں تم کو کبھی پہلے
    نہ میری یاد آتی تھی

    ۔۔۔۔۔۔
    زرقا کی خوبصورت نظم آپ سب کی خدمت میں

  23. آپ سبکی بارگاہ فکر ميں زرقا مفتی کی ایک بہت خوبصورت غزل پیش ھے

    ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہئیے
    پُر خار حسرتوں کو جلا دینا چاہئیے

    جب عشق کا نصاب ہی تبدیل ہو گیا
    تو نام بھی وفا کا مٹا دینا چاہیئے

    ہر شخص ہے غلام یہاں اپنے نفس کا
    اخلاص کی روش کو بُھلا دینا چاہیئے

    برباد ہو چکا ہے مرے دل کا یہ چمن
    خوابوں کی تتلیوں کو اُڑا دینا چاہیئے

    مانوس ہو چکے ہیں اندھیروں سے اس قدر
    تاروں کو اور قمر کو بجھا دیناچاہیئے

    اس دیس میں ٹھکانے کے دن بیت ہی گئے
    موسم ہے ہجرتوں کا بتا دینا چاہیئے

    پندار کی شکست نے بے حال کر دیا
    اپنی انا کے بُت کو گرا دینا چاہیئے

    آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
    احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

    ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
    اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

    ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک
    اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیئے
    زرقا مفتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *