“ لو لو سر پاکستان “ کے درجنوں مسلمانوں پر مسلک کے نام پر گولیاں

کتنے افسوس کی بات ہے ایک مسلمان ملک میں کئی مسلمانوں نے رمضان المبارک کے با برکت اور رحمتوں کے مہینے میں “ لو لو سر پاکستان “ کے درجنوں مسلمانوں پر مسلک کے نام پر گولیاں برسائیں ۔۔۔۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے اب ہم مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔ آہ آج ہم مسلمانوں سے ہر چرند پرند اور درندے تک معتبر ہیں ۔ آیئے ان مظلوم خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کریں جنہیں اپنے ہی وطن میں شام غریباں گزارنی پڑی ۔۔۔۔۔ اللہ اللہ یہ دل دکھ سے نڈھال ہے ۔۔۔۔۔۔ اور سرکار ، فوج ، عدالت سب خاموش ہیں ۔۔ ۔۔ آئیے دعا کریں “ ہو میرا کام مظلوموں کی حمایت کرنا ۔۔۔ الہی آمین

جنگلی جانوروں کا رزق ۔۔۔۔۔ از ۔ ۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم

اپنی تیرگی بخت تو دیکھو۔۔۔ لوگو
جو تھا مالی چمن کا وہی گل و ثمن کا قاتل ٹھہرا
ہرنفس اسیر ہوس ہے یہاں ۔۔ کیا کہوں کون کیسے برباد ہوا
عقاب زمین پر اترے ہیں جب سے — سر اٹھا کرمرنا بھی دشوار ہوا
سچ تو یہ ہے کہ
عہد بے بصر میں یہ عہد ضلالت ہے کہ ہر کام تعزیر ہے لوگو
حَیات و مَمات میں ہر ثانیہ مستعاراور حیات کش ہے لوگو
ہائے میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔
اس رونق شہر سے میری روح تک گھائل ہو چکی ہے ۔۔
سنو
اگر آج کا سچ یہی ہے
کہ
جو بھی جرم تکفیر امید کرے وہی دار لعنت پر لٹکا دیاجائے
تو
پھر آج تمہاری بات ہی کیوں نہ مان لوں
میں کہ عاشق ، طفل مکتب ، چاک گریباں ۔۔
پاؤں شکسہ ۔۔ کیف جنوں میں رقصاں
جنگل کے سبزکوہساروں کا رخ کر لوں
اور
معتبر جنگلی جانوروں کا رزق ہو جاؤ

18 thoughts on ““ لو لو سر پاکستان “ کے درجنوں مسلمانوں پر مسلک کے نام پر گولیاں”

  1. تف ہے ایسے چیف جسٹس پر جو کتے کے مرنے پر نوٹس لے لیتے ہیں پر روزانہ ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کا از خؤد نوٹس نہیں لیتے ۔ یاد رکھئے جو آ ج مر گئے ہیں وہاں کل ہم آپ بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہمیں بھی کوئی مسلک کے نام پر بس سے اتار کر گولیوں سے بھون سکتا ہے ۔۔۔۔۔ کم از کم اس سانحہ پر دکھ تو کیجئے ۔

  2. سانحہ ببو سر،سریاب روڈ کوئٹہ اور کامرہ کی بھر پور مذمت کرتے ہیں -ان واقعات سے ظاہر ہے حکومت دہشت گردوں کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے ارض پاک پر بیگناہ نہتے افراد کا خون بہایا جا رہا ہے –ہم حکومتی بے حسی نام نہاد چیف جسٹس اور حقوق انسانی کی تنظیموں اور میڈیا کی مجرمانہ خاموشی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں -ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ داران اور انکی پشت پناہی کرنے والے افراد کو فا الفور گرفتار کر ک قرار واقعی سزا دی جاۓ-ہم شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں -نام نہاد مسلمانوں نے ١٤ سو سال پرانی تاریخ دہراتے ہوۓ بالکل اسی طرح ان لوگوں کو عید کی خوشیاں منانے سے محرروم کر دیا جس طرح کوفہ میں امام المتقیان کو شہید کر کہ اولادمرتضیٰ کو اذیت سے دوچار کیا تھا ۔امام زمان عجل اللہ فرجه الشریف ان سب کو صبر جمیل عطا فرماۓ
    آمین
    (ملک حسین عباس )

  3. حکم قرآن

    قرآن مجید نے مسلمانوں کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیں چاہے وہ جس جگہ ،جس زمانہ اور جس مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ ظلم کی سرکوبی اور ظالم کے خلاف قیام اسلام کا اوّلین فریضہ ہے ۔ اس لئے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کرنا ظالم کی حوصلہ افزائی ہے اوراس سے دنیا میں ظلم کو فروغ حاصل ہو گا۔

    یہی وجہ ہے کہ دین مبین اسلام میں کسی کی برائی بیان کرنا اور اس کی غیبت کرنا بدترین جرم ہے جسے قرآن مجید کی زبان میں مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قراردیا گیا ہے لیکن اس مسئلہ میں بہت سے مواقع کو مستثنٰی قرار دیا گیا ،جن میں سے ایک مظلوم کی ظالم کیخلاف فریاد بلند کرنا ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم وستم کی وجہ سے ظالم کیخلاف صدائے احتجاج بلند کرسکتاہے چاہے وہ ظلم انفرادی ہو یا اجتماعی ۔

    قرآن مجید نے اسی بات کو سورہ مبارکہ “ نساء“ میں یوں بیان فرمایا:

    ((لا یحبّ اللہ الجھر بالسّوء من القول الاّ من ظلم …))[1]

    ترجمہ: اللہ مظلوم کے علاوہ کسی کی طرف سے بھی علی الاعلان برا کہنے کو پسند نہیں کرتا …۔

    اس آیت مجیدہ سے یہ پتہ چلتاہے کہ مظلوم کویہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالم پر علی الاعلان تنقید بھی کرسکتا ہے اور اسکے خلا ف احتجاج بھی ۔

  4. بے شک پاکستان کے مسلمان امن پسند ہیں پر خاموشی پسند بھی ہیں جو طلم کو مزید تقویت دے رہے ہیں ۔ کاش ہم یہ مجرمانہ خاموشی وہ خواہ کسی کی بھی ہو اسے توڑ سکیں اور اپنے مجبور و بے بس مسلمان بہن بھائیوں کی معمولی سی بھی مدد کر سکیں ۔ میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ ہر کام ہر ایک نہیں کر سکتا ۔ اس لئے خدائے پاک نے سب کو اہم اور اپنے اپنے منصب کی پاسداری کا حکم فرمایا ہے ۔ کسی کے پاس قلم ہے ۔۔ کسی کے پاس کلام ہے ۔۔ کسی کے پاس منصب ۔۔ کسی کے پاس صرف دل ہی میں ظالموں کو برا سمجھنا ۔ سب کچھ ہم سب کو اپنی اپنی توفیق کے ساتھ کرنا ہے ۔۔۔۔ جب بھی کوئی برائی پیدا ہوتی ہے اس کی زمیداری ہر فرد پر عائد ہوتی ہے سو اس کے سدھار کی زمیداری بھی یکساں سب پر عائد ہوتی ہے خواہ برائی کرنے والا یا برائی چاہنے والا کوئی بھی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ دشمن ہو یا دوست ۔۔۔۔۔

  5. بہن نگہت۔
    یوں تو کہنے کو رب کے بندے ہیں
    لیکن انساں نہیں درندے ہیں
    ایسی پستی ہے کیا بتا ئیں تمہیں
    فعل گندے ،خیال گندے ہیں

  6. اسلام علیکم
    کمپیوٹر کی پرابلم نے بہت دنوں سے پریشان رکھا ،آج الحمدُللہ لکھ سکتی ہوں .
    عزیز بہن نگہت روز ایک نیا دکھ ہے ایک نئی ازیت ہے جو شاید اب بے حس سا بنا رہی ہے سب حس والوں کو بھی .کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ کہاں جائز ہے کہ اس طرح موت کے گھاٹ ائار دو ،بسوں سے اتار کر ،شناختی کارڈ دیکھ کر یا ان کی پہچان کرنے کے بعد .کیسا ظلم ہے ظلم بھی شرمندہ ہی ہوگا کہ کون لوگ مجھے ڈھا رہے ہیں وہ جو پڑھتے ہیں کہ ایک جان بھی لے لی تو سمجھو ساری انسانیت کو مار ڈالا اور ایک جان بچالی تو سمجھو کہ ساری انسانیت کو بچا لیا اور مزہ یہ کہ وہاں جان کی تشریح نہیں ہے کہ کس کی جان مسلمان کی غیر مسلم کی عقیدے والے کی بے عقیدہ کی گنہگار کی یا پاکباز کی .اور شاید مارنے والے بھی اگر کلام پاک کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں تو انہیں بھی پتہ ہوگا پھر یہ اندھیر کیسا ؟
    لوگ پہلے بھی مزہب کے نام پر عقیدے کے نام پر شناخت کے نام پر مارے جاتے رہے ہیں لیکن بہت ہی کم کبھی کبھار کوئی سانحہ ہو جاتا تھا اب تو کوئی دن نہیں جاتا کہ اس قسم کے واقعات نہ ہو رہے ہوں .آپ نے ٹھیک کہا کہ ہم میں کوئی بھی ان باتوں پر نوٹس لینے کو تیار نہیں ٹارگت کلنگ نے ہزاروں گھر سونے کر دئے کوئی نہیں روک سکتا اندھیر نگری ہے اور چوپٹ راج .
    سب آپس میں لڑ رہے ہیں کوئی بھی ان اہم اور حساس مسئلوں کی طرف توجہ نہیں دے رہا جیسے یہ ان کا مسئلہ ہے ہی نہیں .ان کا مسئلہ ہے وزیرِ اعظم کو بچانا صدر کو بچانا اور اپنی حکومت کو بچانا جتنی پارٹیاں حکومت میں شامل ہیں وہ بھی بے بس ہیں اور جو اپوزیشن میں ہیں وہ ہاتھ تاپ رہی ہیں اس لگی آگ میں تاکہ اگلی باری لے سکیں .
    میں تو بس یہ حیران ہوں کہ کیا کسی کو بھی اپنی جواب طلبی کی فکر ہے ؟ کہ بس ایک یہ فکر ہی رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے کہ ہم اللہ کو کیا جواب دینگے .کیا وہاں بھی نعوذُ باللہ
    استثناء کی بات کرینگے جو وہاں ہم میں سے کسی کو بھی حاصل نہ ہوگا صرف وہ ہی پار جائیگا جس نے احکامات پر عمل کیا ہوگا .شر اور فساد سے گریز کیا ہوگا خود بھی امن سے رہیگا اور دوسروں کو بھی امن فراہم کرے گا .
    اس ماہ مبارک میں بھی ہم نے وہ سب کچھ دیکھا اور سنا جس نے صرف تکلیف ہی پہنچائی .ہمارے اختیار میں صرف دعا کرنا ہے اور اپنی غلطیوں کی اپنے رب کے حضور توبہ کرنا ہے
    لیکن ان باتوں پر احتجاج ضرور کرنا چاہئے حتی المقدور کہ یہ ہم سب کا فرض ہے .
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک سے اس ظلم اور شدت پسندی کا خاتمہ فرما دے اور جو لوگ اس کی بھینٹ چڑھ گئے ان کے خاندانوں کو صبر دے امین
    عالم آرا
    وینکور

  7. آپ سب کا احتجاج محبت کی نوید اور اُ مید کی ایک کرن ہے۔

  8. بہن نگہت میں نے اپنے چند اس سے پہلے کہ کالموں میں اس مسئلہ اور اس کی وجوہات اور علاج روشنی ڈالی تھی اور یہ تازہ کالم بھی لولو سر اور پاکستان کے عام حالات پر ہے جس کا لنک یہاں دے رہا ہوں جو اس شرارت کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے اس برائی کے بیج بوئے جن کے مدرسوں میں مسلمانوں کے قتل عام کا سبق روزانہ پڑھایا جارہو۔ وہاں سے کوئی اچھی خبر آئے یہ ناممکن ہے۔
    http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=shams&article=32113

  9. اسّلام علیکم ۔محترم ہم نشینوں

    ہم بے وطنوں کے لئے کیا عید کیا بقرعید ،بس دعائیں ورد زبان رہتی ہیں کہ اللہ ہمارے ہم وطنوں کو اپنی امان میں رکھّے ،لیکن شائد ابھی اللہ تعالٰی ہماری دعاؤں کو جمع کر کے ہمارے صبر وضبط کو آزما رہا ہئے ،ان چند دنوں میں جو کچھ حالات گزرے ہیں تو مبارک باد کے حرف بھی منہ موڑ گئے ہیں ،

    پروردگار عالم ہم گناہ گاروں کے حال پر رحم کر دے آمین
    ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
    میرے ان غریب الدّیار بے وطن ہم وطنوں کو سلام
    جو اپنے بچّوں کے لئے
    جو اپنے خون پسینے سے کمائے ہوئےرزق جاں فشا ں سے
    ریشم کمخواب کے پیرہن
    لے کر اپنے آشیانوں کو جاتے ہوئے
    مسکرا رہئے تھے ،
    گیت ان کے دل گا رہئے تھے
    ان کی سہاگنیں
    اپنی بانہوں میں کنگن ،اور
    اپنی مانگوں میں افشاں سجانے کی منتظر تھیں
    کہ برس پیچھے ان کے سہاگ آرہئے تھے
    اوران کی ماؤں بہنوں کے آنچل
    دعاؤں کے پھول برسا رہئے تھے
    ان کے معصوم بچّے
    اپنے گھروندوں کے باہر کھڑے کہ رہئے تھے
    میرے پاپا ابھی آ رہئے ہیں
    ہاں میرے چا چو بھی ساتھ آرہئے ہیں
    ننّھی پنکی کی گڑیا بھی وہ لا رہئے ہیں

    سائرن کی آواز
    آؤ بچّوں دیکھو میرے پاپا چلے آرہئے ہیں
    ایمبولینس سے کفن میں ملبوس میّت اتار کر آنگن میں رکھ دی گئ ہئے
    اور موت و زندگی کے فلسفے سے بے نیاز بچّہ باپ کی میّت سے مخاطب ہو کر کہ رہا ہئے

    چھّے پاپا اٹھو عید آ گئ ہئے

    مسجدوں میں نمازوں کی صف بچھ گئ ہئے

    دیکھو پاپا میں بلکل نہیں رو رہا ہوں
    میں امّی کو تنگ بھی نہیں کر رہا ہوں
    میں نے پنکی کا جھولا بھی خود ہئے جھلایا
    اس کی انگلی پکڑ کر ہئے گھر میں گھمایا
    دیکھو پاپا میں بلکل نہیں رو رہا ہوں
    میں امّی کو تنگ بھی نہیں کر رہا ہوں

    چھّے پاپا اٹھو عید آ گئ ہئے
    امّی دیکھو
    میرے پاپا کوکیا ہوگیا ہئے

    میری نمازعید کا جوڑا
    کون ان سے چھین کر لے گیا ہئے
    ان کو گلگوں کفن کس نے پہنا دیا ہئے

    اچھّے پاپا اٹھو عید آ گئ ہئے
    مسجدوں میں نمازوں کی صف بچھ گئ ہئے
    میرے گھر میں یہ ماتم صف کیوں بچھی ہئے
    امّی دیکھو یہ سب میرے پاپا کو لے کر کہاں جا رہئے ہیں

    اچھّا !اب میں سمجھا
    اب کے برس آنگن میں میرے
    ماتم صف کیوں بچھی ہئے

    ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

    کچھ دل شکستہ سے نکلے ہوئے الفاظ کا نزرانہ شہدائے قرا قرم اور کراچی کے نام
    زائرہ بجّو
    ٹورانٹو
    غیر حاضری کی معزرت ،

  10. شمس بھائی ، عالم آرا آپا ، زائرہ بجو ، طفر جعفری بھائی آپ سب کو بہت بہت عید کی مبارک ہو ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ یہ عید بہت بہت دکھی کر رہی ہے ۔ اللہ خیر کرے ہمارے پاکستان اور بہن بھائیوں کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے ۔۔ الہی آمین

  11. تمام احباب کو ھماری اور ھمارے اہلِ خانہ کی طرف سے عید مبارک
    سلام ان شہدا پر جو اسوہ حسینی پر کاربند رہتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے
    سلام ان ماوں پر جن کے جوان اسلام کے نام پر اپنا لہو بہاگئے
    اللہ کی لعنت ہو ان حکمرانوں پر جن کی حکمرانی میں انسان انسان کو مار رہا ہے
    اللہ کی لعنت ہو ان قاضیوں پر جن کے غلط فیصلوں سے ظالم اور مکار لوگوں کو فائدا ہو رہا ہے
    اللہ کی لعنت ہو ان نام نہاد مسلمانوں پرجو دوسرے مسلمان کو کافر کہہ کر قتل کے فتوے جاری کررہے ہیں

  12. سچ تو یہ ہے کہ اس عہد کے نوے فیصد مسلمانوں اور مسلم حاکموں کو خود کو اللہ کے آخری رسول کی امت کا فرد کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ کے حبیب کے لیئے باعث تضحیک ہیں۔ یہ اسکی امت میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جس نے جانور حتیٰ کہ حشرات الارض کی حیات کی بھی ضمانت دے اور یہ اسکی اہلبیت اور اسکے سردار جنت نواسے سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں کو کافر قرار دیں اور ان کو سڑکوں پر بسوں سے اتار کر گولیوں سے بھون دیں اور اسلام زندہ باد کے نعرے لگائیں۔ تُف ہے ایسے عشق رسول کا دعویٰ کرنے والوں پر۔ اصل مجرم اس ملک کے وہ ظالم حاکم ہیں جو اپنے اقتدار اور اپنے کرسی کے لیئے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں لیکن تمام تر طاقت اور اختیار کے باوجود کسی اقدام پر تیار نہیں۔ انکا دین،مذہب اور مسلک کچھ بھی ہو یہ سب ابلسیت کے نمائندے ہیں اور فکر یزیدی کے پیروکار ہیں ۔

  13. سوچتا ہوں اللہ کیوں کر ہمیں اپنی خاص امان میں رکھے اور کیوں ہمیں ایمان کی سلامتی عطا کرے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی “ مجرمانہ خاموشی“ کی سزا روز ملتی ہے اور آج بھی مل رہی ہے ۔ جو قومیں چپ کا روزہ رکھ لیتی ہیں وہ قومیں اس وقت تک نہیں جاگتی جب تک گھر گھر آگ نہیں لگ جاتی اور ہر گھر سے لاش نہیں اٹھتی ۔۔ ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا ہی ظالم کی حمایت ہوتی ہے اور ظالم کا ساتھ دینے والے کی سزا تو ہوتی ہی ہے ۔اور یہی سزا ہے کہ روز اپنی ضمیر کی لاش اپنے کندھوں پر رکھے اپنے اندر ہی چیختا رہے

  14. کاش ہم ظالم کو ہر جگہ پر ظالم کہنا ہی سیکھ جائیں ۔اور کچھ نہیں تاکہ روز حشر اتنا تو ہو کہ گواہی دینے والوں میں ہمارا نام بھی ہو ۔کیونکہ وہ مالک کل کائینات جانتا ہے کہ ہمارے اختیار میں بس اتنا ہی تھا ۔ وہ معبود کبھی بے عدل ہو ہی نہیں سکتا کہ زرداری کا حساب چیف جسٹس سے لے اورحاکموں کا حساب ہم اور آپ سے لے ۔ ہم سب نے اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہے ۔سو وہ جانتا ہے کہ ہمارا اختیار کتنا تھا ۔ التجا کرتا ہوں کہ بس ظالم کو ظالم کہنا سیکھ جایئے اور اس کے ظلم کی تشہیر کرنا اپنا فرض بنا لیجئے اور لوگوں کو آ گاہ کرتے رہئے کہ یہ ظلم کہاں کہاں ہوا ہے

  15. اسی لنک پر شمس جیلانی بھیّا کا پر مغز مضمون پڑھنے کو ملا ،یہی آج کے دور میں مسلمان قوم کا المیہ ہئے کہ ہما رے بیشتر پیشوایان
    دین خود قران کریم کی روح سے آ شنا نہیں ہیں تو وہ بھلا قوم کی رہبری کا فریضہ صحیح معنوں میں کیونکر انجام دے سکتے ہیں ،،
    پروردگار عالم ہمیں توفیق عطا کرتا رہئے کہ ہم کمزور لوگ جہاد بالقلم کا حق ادا کرتے رہیں

    یہ ظالمین جن پہاڑوں سے آئے تھے پروردگاعالم ان پہاڑوں کے اندر ہی ان بد بختوں کو پیس کر جہنّم میں ڈال دے آمین

  16. جنگلی جانوروں کا رزق ۔۔۔۔۔ از ۔ ۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم

    اپنی تیرگی بخت تو دیکھو۔۔۔ لوگو
    جو تھا مالی چمن کا وہی گل و ثمن کا قاتل ٹھہرا
    ہرنفس اسیر ہوس ہے یہاں ۔۔ کیا کہوں کون کیسے برباد ہوا
    عقاب زمین پر اترے ہیں جب سے — سر اٹھا کرمرنا بھی دشوار ہوا
    سچ تو یہ ہے کہ
    عہد بے بصر میں یہ عہد ضلالت ہے کہ ہر کام تعزیر ہے لوگو
    حَیات و مَمات میں ہر ثانیہ مستعاراور حیات کش ہے لوگو
    ہائے میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔
    اس رونق شہر سے میری روح تک گھائل ہو چکی ہے ۔۔
    سنو
    اگر آج کا سچ یہی ہے
    کہ
    جو بھی جرم تکفیر امید کرے وہی دار لعنت پر لٹکا دیاجائے
    تو
    پھر آج تمہاری بات ہی کیوں نہ مان لوں
    میں کہ عاشق ، طفل مکتب ، چاک گریباں ۔۔
    پاؤں شکسہ ۔۔ کیف جنوں میں رقصاں
    جنگل کے سبزکوہساروں کا رخ کر لوں
    اور
    معتبر جنگلی جانوروں کا رزق ہو جاؤ

    ڈاکٹر نکہت نسیم کی بہت اچھوتی نظم بہت اچھی لگی
    پاکستان میں جو مسلمانون کا وطن ھے جہاں ھر فرقہ دوسرے فرقے کو کافر اور دھشت گرد قرار دیتا ھے اور اتنا بڑا تفرقہ پیھلا کر ھمارے ازلی دشمن ھماری پشت پر خنجر گھونپتے ھیں
    انکی حمایت ھمارے کرپٹ سیاست دان کررھے ھیں عجب سا قتل عام جاری ھے
    دینا بھر میں ایسے مواقع پر شاعر اور قلمکار اپنی تخلیقات میں احتجاج کرتے ھیں اور ھمشیہ زندہ رھنے والی تخلیقات میں ان مظالم کا نقشہ کھنچتے ھیں جو ملک وملت اور عوام الناس پر کیا جاتا ھے ، اللہ ھم میں پھر وھی جوش وجذبہ بھر دے جو 1947میں تھا
    ھم کو اسی جوش ایمان اور عزم و ھمت کی ضرورت ھے2012میں ھم متحد ھوجایئں تو پھر کس کی مجال کہ ھماری طرف آنکھہ اٹھا کر دیکھے مگر یہاں تو روز لوگ مرتے ھیں ۔حالت امن میں اتنے بےگناہ مررھے ھیں یہ کیسی سرزمین ھے جہاں
    قتل عام بم دھماکے عا م ھوۓ
    ھر روز جنازے اٹھتے ھیں
    ھر شہر دھشت گردوں کی ھٹ لسٹ پر ھے
    ھر حساس مقا م تک دھشت گردوں کی رسائ ھے
    دھشت گرد جس کو چاھیں بھون ڈالیں
    وطن عزیز میں کیہں سیاسی قتل ھورھے ھیں
    کیہں سماجی قتل ھورھے ھیں
    کیہں بے گناھوں کو قتل کیا جارھا ھے
    کیہں اقتصادی قتل کیے جارھے ھیں
    کیہں فرقہ وارانہ قتل کیے جارھے ھیں
    قاتل کی جنت پاکستان بن گیا ھے
    کسی قاتل کو کیسی دھشت گرد کو کھبی گرفتار نیہں کیا جاتا ھے
    کبھی میڈیا یا عوام الناس کے سامنے نیہن لایا جاتا
    حکومت سبکی سرپرستی کررھی ھے اور پورے ملک میں لگی آگ دیکھ کر چین کی بانسری بجا رھی ھے
    اللہ ھمارے پیارے وطن پاکستان کی حفاظت فرماۓ آمین ثم آمین

  17. اس بار عید بہت افسردگی میں گذری ھے
    اھل وطن کی عید بھی خوف وھراس کی نذر ھوئ
    عید پر بڑے بچے بے فکری سے تفریح مقامات پر جاتے تھے اس بار اس سے بھی محروم رھے
    سارے ملک پر دھشت کے سیاہ بادل چھاۓ رھے اور لوگ عید کیسے مناتے
    کیونکہ عید ھمارا بہت اھم تہوار ھے اور اللہ کی جانب سے عید الفطر روزے داروں کا انعام ھوتی ھے ، اس لیے ایک آدھ میھٹی چیز بنا کر ٹی وی کے آگے بیھٹہ کر پاکستان کی خبریں دیکھہ کر افسردہ ھوتے رھے اور اللہ تعالی سے پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کی دعايئں کرتے رھے ،
    اللہ تعالی ھمارے وطن پیارے پاکستان کی حفاظت فرماۓ آمین ثم آمین

  18. اسلام علیکم ساتھیو
    آپ سب کو بھی عید مبارک بہن نگہت سلامت رہو عید مبارک
    میں تو کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ کیا واقعئی مسلمان اس حد تک جا سکتا ہے کہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو اس بے دردی سے مار دے ۔شناخت کر کے ۔بے شناخت ۔ٹارگت کر کے ۔اندھا دھند گولیاں چلا کر
    پھر خیال آتا ہے کہ یزید تو ہر دور میں ہوتے ہیں ۔اور ہماری خاموشی انہیں طاقت دیتی ہے ،چند کمزور سی آوازیں اٹھتی ہیں اور بس ۔
    بہن زائرہ اور بہن شاھین اللہ آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔
    میری طرف سے پوری عالمی اخبار کی فیملی کو بہت بہت عید مبارک
    عالم آرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *