مٹی میں چراغ رکھ دیا !

bibi Qureshi
آج اخبار کھولا تو بڑی بڑی شہ سرخیوں کے بعد ایک چھوٹی سی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ۔
خبر ہے کہ”
زراعت کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بی بی قریشی کو جمعرات کو ایدھی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا ، تفصیلات کے مطابق 14 اگست 2012 کو بلقیس ایدھی ہوم میں انتقال کرنے والی92 سالہ بی بی قریشی نے لندن سے زراعت میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی اور لندن سمیت دنیا کے کئی ممالک کی جامعات میں تدریس کے فرائض انجام دیے ، ان کے شاگردوں میں اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی شامل ہیں ۔ بی بی قریشی مارچ 2012 سے ایدھی ہوم میں رہائش پذیر تھیں ان کے گھر والے کراچی اور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں لیکن مارچ 2012 سے انکے انتقال تک کوئی بھی ان سے ملنے نہیں آیا 10 روز تک ایدھی کے سرد خانے میں رکھنے کے بعد ان کی میت ایدھی قبرستان میں سپردِ خاک کردی گئی عبد الستار ایدھی کے علاوہ کسی قابلِ ذکر شخصیت نے انکی نمازِجنازہ میں شرکت نہیں کی ایدھی رضا کاروں سمیت محض چند افراد جنازہ میں شریک ہوئے۔
ھمارا دل خون کے آنسو رو رہا ہے
دماغ سئیں سائیں کررہا ہے
علم اور قلم سے محبت کرنے والوں اور علم کی حفاظت کرنے والوں کے ساتھ کیا یہی سلوک کیا جاتا ہے!
کیا یہی ھماری ترقی ہے ؟
کیا یہی ھماری پہچان ہے ؟
کس بناٗ پر بی بی قریشی ایدھی ہوم میں پہنچیں؟
وہ کیا عوامل تھے کہ ان کو تنہا چھوڑ دیا گیا ؟
صرف اور صرف اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قوم نے کبھی اچھوں کی قدر نہ کی
ھم نے بزرگوں کو احترام کرنا چھوڑ دیا
استاد کی قدر کرنا چھوڑ دی
اے خدا ھمیں ہدایت دے اور اس قوم کو علم سے محبت کرنا سکھا دے
آمین

6 thoughts on “مٹی میں چراغ رکھ دیا !”

  1. جس ملک میں علم اور عالم کی اسطرح رسوائی،بے وقعتی اور تضحیک ہو گی وہاں بے ادبی کے کھیتوں میں فقط بے توقیری کی ہی فصل کٹے گی اور ہم سب یہی فصل کاٹ رہے ہیں.یہ تو ایک بی بی قریشی ہیں جو میڈیا کی وجہ سے منظر عام پر آ گئیں ورنہ ایسے کتنے ہی لوگ ہیں جو سامنے ہی نہین آتے اور دنیا سے پردہ کر جاتے ہیں. اس قوم کو ظاہری پن سے،جہالت سے،مفاد پرستی سے اور جھوٹ سے محبت ہے علم و دانش سے نہیں.اسی لیئے تو قعر مذلت مقدر بنا ہوا ہے

  2. جعفر بھائی میں بہت بہت اداس ہو گئی ہوں یہ خبر پڑھ کر .. ہائے ہائے .. کیسا ظلم ہے .. ہم کس زمانے میں رہ رہے ہیں جو اتنا بے مہر اور بے فیض ہے .. اوہ میرے اللہ ..

  3. ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات بڑھتےہی جارہےہیں ،
    ہرروزاخلاقی پستی کا ناقابل یقین واقعہ ہمارادل دہلا دیتاہے لیکن ہمارے بےحس معاشرےپراس کا ذرہ برابربھی اثرنہیں ہوپارہا
    یوں لگتاہے معاشرہ اپنے خول میں بندہوگیاہے
    لوگ لاتعلق ہو گئے ہیں
    بس جو ہوتا ہے..ہوتا رہے ہمیں کیا…….والا رویہ ہر طرف بنیادیں مضبوط کرچکاہے
    اس کا انجام کیاہوگا..واللہ اعلم ‘
    ایسے معاشرے تو انقلاب نہیں لےکرآتے..
    ایسے معاشروں میں رہنےوالے ایک دوسرےکو نوٹ کھسوٹ کھاتےہیں
    یہاں تک کہ ہڈیاں بچ جاتی ہیں ….
    انہیں کتے کھاجاتےہیں …..پالتو اور باہرسے آنےوالے کتے……..

  4. جعفر بھائ مٹی نے اتنے چراغ نگل لیے ھیں پھر بھی مٹی تلے اندھیرا ھی اندھیرا ھے
    اللہ تعالی مرحومہ بی بی قریشی کی مغفرت فرماۓ آمین ثم آمین

    گئی۔

    ڈاکٹر بی بی قریشی فروری میں دوسرے مرتبہ ایدھی ہوم آئیں تھیں ڈاکٹر بی بی قریشی کی وصیت کے مطابق ان کی لاش کو ان کے گھر والوں کے حوالے نہ کی جائے شاید اسی لیے ادھی والوں نے اتنی قابل فخر بیٹی کو اتنی خاموشی سے دفن کردیا ، لگتا ھے کہ ھم لوگ تو صرف دکھہ اٹھانے کو رہ گیے ھیں اللہ رحم فرماۓ

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    تری بانکی چتون نے چن چن کے مارے
    نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے

    نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے
    ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے

    یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
    وہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے

    ہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیا
    مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے

    ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
    گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے

    جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
    تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے

    خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
    تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

    امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
    پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے

  5. ہم کہ ٹہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

    فیض احند فیض کی مشرقی پاکستان کے المئے کے بعد کہی ہوئ یہ نظم پاکستان کی اس وارثوں کے ہوتے ہوئے لاوارث صاحب علم
    خا تون پر بھی صادق آ تی نظر آ رہی ہئے

    وائے افسوس کہ احساس زیاں کی رمق بھی قوم میں باقی نا رہی

    میں ابھی دو مہینے سےعالم مسافرت میں ہوں ،8ستمبر کو انشاللہ ایڈمنٹن روانگی ہئے ،پھر باقاعدگی سے حاضر ہوتی ہوں
    سب کے لئے دست بدعا ہوں جو جہاں ہئے شادو آباد رہئے
    دعاگو زائرہ بجّو
    ٹورانٹو

  6. جو ھوا بہحت برا ھوا. مگر میرا سوال صرف اتنا ھے کھ ایسا کیون ھوا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *