بیربل اور آج کا وزیر!

سنا ہے کہ بیربل اپنے وقت کا بہترین وزیر تھا اور بادشاہِ وقت کو اس پر پورا بھروسہ ہوتا تھا اور جو کام دوسروں سے نہیں ہوتا تھا وہ بیربل لمحوں میں کر گزرتا تھا اس کے بعد بادشاہوں کو ایسا وزیر میسر نہیں ہوا۔ مگر اس دور میں پاکستان کے بادشاہ کو ایک ایسا وزیر مل گیا جس پر اس وقت کے بادشاہ کو بیربل جیسا اعتماد ہے اس کا ایک واقعہ پڑھ اور سن لیں تو خود سمجھ جائیں گے

loin1

ایک گاوٗں میں شیر آگیا اور قریبی جنگل میں قیام پذیر ہوگیا پھر وہ روز آتا اور ایک بندہ کو کھا جاتا گاوٗں والوں کا خوف سے برا حال تھا کہ نجانے کب ان کی باری آجائے بہرحال بات ملک کے بادشاہ (صدر) تک پہنچی اس نے اپنے نہایت ذہین اور چالاک وزیر کو مشن دے کر روانہ کیا ۔ وزیر 500 مزدور لے کر گاوٗں پہنچ گیا اور گاوٗں میں ایک بہت بڑا لوہے کا پنجرہ بنوایا جب پنجرہ بن کر تیار ہوگیا تو گاوٗں والوں نے اس وزیر کو بہت دعائیں دیں اور سکھ کا سانس لیا کہ اب شیر پکڑا جائے گا،

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا وزیر نے سب گاوٗں والوں کو اس پنجرے میں بند کردیا کہ اب شیر کسی کو نہیں کھائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ گئے آپ کہ وہ موصوف کون ہیں
جی جناب یہ ہیں رحمان ملک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیدہ دانستہ عوام کو پریشان کرنا ان کا فرض ہے۔
آپ کیا کہتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

5 thoughts on “بیربل اور آج کا وزیر!”

  1. جفر بھائی مثال اچھی ہےمگر کچھ ہی حصہ منطبق ہوتا ہے۔کہ بادشاہ بھی ہے بیر بل بھی ہے مگر عوام کو بھیڑیوں سامنے اس نےڈالدیا ہے کہ وہ بھیڑیوں کو ناراض نہیں کر ناچاہتے

  2. محترم شمس جیلانی صاحب آپ نے درست فرمایا کہ وہ بھیڑیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ بھیڑیا کسی سے دوستی نہیں رکھتا اور یہ قوم ویسے بھی پست سے پست ہو گئی ہے اس قوم کو اپنا آپ بدلنے کی بھی پرواہ نہیں رہی ہے۔

  3. جعفر حسین بھائ اسلام علیکم
    بلاگ اچھا ھے اور حسب حال بھی ھے
    بیربل کے بارے میں کچھہ لکھنے سے پہلے میں تھوڑی سی تفصیل بیربل کے بارے میں کاپی اور پیسٹ کی سہولت سے استفادہ کرتے ھوۓ لکھتی ھوں ،

    بیربل کا اصل نا م راجا مہیش داس تھا اور قوم برہمن۔ اکثر روایات میں یہ بھی ہے کہ نام برہم داس تھا اور قوم کے بھاٹ(مسخرے)تھے۔ برہیہ تخلص رکھتے تھے۔کالپسی کے رہنے والے تھے،ادھر ادھر شہروں میں گھوم پھر کر کبت اور دوہے گایا کرتے تھے۔شہنشاہ اکبر کا لڑکپن ہی سے برہمنوں بھاٹوں اور ہندوطوائفوں کی طرف میلان خاطر بلکہ التفات خاص تھا لہٰذامہیش داس مغل اعظم کے دربار سے وابستہ ہوا تو بڑی تیزی سے بادشاہ کا قرب حاصل کر لیا۔ شہنشاہ نے راجا بیربل یا بیربر (شہہ زور راج،پہلوان راجا )کا خطاب عنایت کیا ۔ بیربل ویدانت کے موحدانہ اشعار خوب سمجھتے اور صوفیانہ مشرب رکھتے تھے۔ جودت طبع ، مزاج دانی، رمز شناسی، خوش بیانی، سخن فہمی ، بزلہ سنجی اور ظرافت طبع میں کمال رکھتے تھے۔ بادشاہ کے اس قدر منہ چڑھے تھے کہ مغل اعظم آرام کے وقت بھی انہیں حرم میں اندر بلا لیا کرتے تھے۔یعنی بیربل رتن خاص تھے، جو تخلیئے میں بھی بادشاہ کے آگے خوش گفتاریوں کے پھول کھلاتے تھے۔ملا دو پیازہ اور بیربل کے آپس میں خوب نوک جھوک رہتی تھی۔ مہابلی خود بھی ان خوش مزاجوں کو چھیڑ دیا کرتے تھے، اور لطف اندوز ہوتے تھے۔ سوات اور باجوڑ (پشاور) کی مہم پیش آئی تو بیربل اس لڑائی میں کام آ گئے۔ تلاش بسیار کے با وجود لاش نہ مل سکی۔مہابلی اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ کئی روز تک دربار نہ کیااور گوشہ نشین رہے۔
    اور پھر پاکستان کے بیربل یعنی رحمان ملک صاحب انکے تو انگنت لطائف ھیں

  4. Ab Ke Rut Badli Tou Khushbu Ka Safar Dekhay Ga Kon ?
    Zakham Phoolon Ki Tarah Mehkain Gain Per Dekhay Ga Kon ?
    Dekhna Sab Raqs-e-Bismil Mein Magan Ho Jayein Ge
    Jis Taraf Se Teer Aaye Ga Udher Dekhay Ga Kon ?
    Zakham Jitnay Bhi Thay Sab Mansoob Qaatil Se Howay
    Teray Haathon Ke Nishaa.n Ay Chaarahgar Dekhay Ga Kon ?

  5. ارے یہ کیا ہوا… متوسطہ طبقے، عوام، پاکستان، کراچی اپنے ملک کے حالات دیکھنے

    کی بات کرنے والے دوہری شہریت چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے اور وزارت اور اسمبلیوں

    کی رکنیت چھوڑ دی۔
    پاکستان میں کشمیر یا فلسطین کے لیے جلسہ یا جلوس ہو تو کہا جاتا
    تھا کہ پاکستان کی بات کرو کراچی جل رہا ہے، کشمیر کی بات کیوں کرتے ہو؟ اس کا

    فائدہ بہرحال بھارت کو ہوتا تھا۔ لیکن اب جبکہ الیکشن کمیشن کو حلف نامہ دینے کا وقت

    آیا کہ ہم صرف پاکستانی شہری ہیں تو فیصلہ یہ کیا گیا کہ اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دیں

    گے غیر ملکی شہریت نہیں۔ سنتے آئے تھے کھائے یہاں کا گائے وہاں کا… لیکن اب تو

    سب کے سامنے آگیا کہ کھائے بھی وہاں کا اور گائے بھی وہاں کا۔ کوئی عام لوگ دوہری

    شہریت کی خاطر پاکستان کے 98 فیصد عوام کی نمائندگی سے دست بردار نہیں ہوئے ہیں

    بلکہ متحدہ ڈپٹی پارلیمان لیڈر جو الیکٹرانک میڈیا میں تو سرکردہ لیڈر ہیں، اور 98 فیصد

    غریب عوام کی بات کرتے ہیں وہ بھی شامل ہیں اور سندھ اسمبلی میں چبا چبا کر بات

    کرنے والے رضا ہارون بھی ہیں۔ خیر انہوں نے کچھ سوچ کر ہی فیصلہ کیا ہوگا کیونکہ

    سب جانتے ہیں تیسرے ملک کی مستقل شہریت بھی کسی بھی وقت مل سکتی ہے یعنی

    ملک عدم کی لہٰذا فیصلہ تو انہوں نے سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔

    یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ جس طرح کچھوا پانی کے بغیر نہیں رہ سکتا اسی طرح

    چند گھنٹوں میں یہ وزیر مشیر بن گئے معاون خصوصی بن گئے تمام اختیارات وہی رہیں

    گے۔ لیجیے متوسطہ طبقے اور 98 فیصد عوام کی نمائندگی تو برقرار ہے (حکومت میں)۔

    1987 سے مسلسل حکومت میں رہنے والے بھلا اقتدار سے باہر کیسے وقت گزار سکیں

    گے… اب میڈیا کو بھی دیکھنے اور پرکھنے کا وقت ہے کہ جو ٹی وی چینلز پر جگہ اور

    وقت دینے کے لیے پیمانہ اسمبلی کی رکنیت اور سیٹوں کو بناتے ہیں اب وہ کیا کریں

    گے… لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ اب بھی اسی طرح متوسطہ طبقے کے نمائندوں کو وقت

    دیتے رہیں گے کیونکہ اب میڈیا کے ساتھیوں کو بھی تیزی سے تیسرے ملک (ملک عدم)

    کی شہریت دی جارہی ہے ۔ اور اب پاکستان اور خصوصاً کراچی کے عوام کا بھی امتحان

    ہے۔ اب تو انہوں نے ہر طرح اپنے حکمرانوں کا چہرہ دیکھ لیا ہے۔ اسے کہتے ہیں تھری

    ڈی امیج۔ پہلے انہوں نے اختلاف برداشت نہ کرنے پر بوری بند لاشوں کا ایج دیکھا پھر

    مال بنانے کے لیے بھتہ خوری کی انتہا دیکھی یہ امیج دوسرے گروپوں کے اس میدان

    میں کود پڑنے سے ذرا ’’سافٹ‘‘ ہوگیا تو اب سیاست میں 98 فیصد غریب اور متوسطہ

    طبقے کی نمائندگی کا امیج بھی سامنے آگیا… انہوں نے غیر ملکی شہریت کو عوام کے

    مسائل اور پاکستانی شہریت پر ترجیح دے کر اپنا تیسرا امیج بھی سامنے کردیا… اور

    دوسری طرف عدلیہ کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے حکم کو عوام کے جمہوری حقوق

    پر ڈاکا قرار دیا جارہا
    ہے حالانکہ ان کا چوتھا امیج یہی ہے کہ اسی عدلیہ کے چیف کی
    کراچی آمد پر شہر کو خون سے سرخ کردیا تھا۔ پھر یہ عدلیہ کو کیسے مانیں گے۔ یہ ہے

    ان کا فور ڈی امیج۔ اس میں اگر عوام زبان، رنگ نسل علاقے اور تعصب! کی آگ میں

    جلتے رہے اور اسی کی روشنی میں فیصلے کیے تو پھر اس شہر کو روزانہ 20 نہیں

    200 لاشوں کی قربانی دینی ہوگی۔ اور جس قسم کا پیغام راولپنڈی سے ملا ہے وہ یہ ہے

    کہ ابھی کراچی پر کوئی توجہ نہیں دیں گے جب لوگ گلیوں میں جھولیاں پھیلا کر رو رو

    کر بھیک مانگیں گے تو راولپنڈی والے سوچیں گے کہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ کام خود کراچی

    والوں کے سوچنے کا ہے کہ وہ لاشیں اور ان کے رہنما ڈالر اٹھاتے رہیں یا اب اہل کراچی

    اپنی شناخت واپس لانے پر غور کررہے ہیں۔ اب تو انہیں بار بار وہ لوگ بھی مل چکے

    ہیں جنہوں نے اس شہر کی شکل ہی بدل ڈالی لیکن میڈیا نے سارے کارنامے فور ڈی امیج

    والوں کے کھاتے میں ڈال دیے… میڈیا اگر چہ پاکستان میڈیا کہلاتا ہے لیکن یہ بھی

    دراصل دوہری شہریت کا حامل میڈیا ہے۔ کھاتا پاکستان کا ہے اور گاتا ہندوستان اور

    امریکا کا… چوروں ڈاکوئوں کو معزز کہتا ہے اور معززین کا مذاق اڑاتا ہے۔ لیکن کیا

    کریں یہ تو خود فور ڈی امیج والا میڈیا ہے۔ اب صرف عوام کے ہاتھ میں اس امیج کو

    صاف کرنے کا اختیار ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ اپنا مستقبل بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *