ایک زمانہ تھا کہ مملکت خدادا میں
97٪ مسلمان رھتے تھے
ان میں
اھل سنت کی تعداد 74٪ تھی اور شعیہ کلمہ گو مسلمان گو اقلیت میں تھے مگر
کیا سنی کیا شعیہ کیا سبھی
ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے ایک دوسرے کے دکھہ درد خوشی وموت میں شریک ھوتے تھے
ایک دوسرے کی محافل ومجالس میں بخوشی شریک ھوتے تھے
احترام انسانیت کا چلن عام تھا
کوئ بھی بڑا کسی بھی چھوٹے کو کوئ غلط کام کرتے دیکھتا تو اس کو سمجھایا جاتا
بہت کم لوگ اونچی آواز میں بات کرتے تھے
لوگ لڑائ جھگڑے سے گھبراتے تھے
ھر انسان بے عزتی کے خوف سے ڈرتا تھا
یہ اس وقت کی بات ھے جب نہ
شعیہ کو ریال کے بل بوتے پر کافر کہلانے کا رواج عام ھوا تھا
نہ ھی پاکستان مخالف، شعیہ مخالف لابی کو ریال و درھم سے خریدا گیا تھا
پاکستان ایسا امن و امان کا گہوارہ تھا جہاں بہت سارے مذاھب احترام و اطمعنان سے رھتے تھے
جہاں شعیہ اکثریت نیہں اقلیت میں تھے
جہاں شعیہ آبادی کا 10٪ سے بھی کم تھے مگر ایک مضوط و مستحکم طبقہ شعیہ کہلاتا تھا
سارے پاکستانی کہتے تھے ھم کو پاکستان بھی محمد علی جناح کی وجہ سے ملا ھے جو پہلے اسماعیلی شعیہ تھے بعد میں اثنا عشری شعیہ کہلاۓ
ڈاکٹر سر محمد آقبال کے بارے میں بھی یہی سنتے تھے گو وہ اھل سنت تھے مگر احترام اھل بیت انکے خون میں شامل تھا
غالب میرتقی میر
دبیر
انیس
ريئس امروھی
مولانا رشید ترابی
پاکستان کی بہت ساری نامور شخصیات شعیہ ھی تھیں
شعیان آھل بیت کا ایک زمانہ احترام کرتا تھا
لوگ دور دور سے انکی مجالس میں شریک ھوتے تھے
شعیہ مسلمان زندگی
کے ھر شعبے میں بہترین خدمات انجام دے رھے تھے
ملک کے بہترین ڈاکٹرز مہندسین معلمین بنکر سارے بڑے عہدوں پر شعیہ ھی فائز تھے کیونکہ وہ اپنی قابلیت کی وجہ سے عروج پر پہنچے تھے وہ باب علم کے ماننے والے تھے علم کی روشنی ساتھہ تھی
اور وہ کھبی کسی سے نیہں ڈرتے تھے
کیونکہ شعیہ قوم نیہں
ھمت کا نام
سربلندی کا نام
شعیہ بلند فکری اور بلند پروازي کا نام
شعیہ تعمیر و ترقی کا نام
شعیہ اعتماد و اعتبار کانام
شعیہ علم و انوار کا نام
پھر خلیج کی ایک شعیہ مخالف لابی اپنے درھم ودینار کی بدولت پاکستان کے نام نہاد ملاوں کو خریدنے میں کامیاب ھوگی
فرقہ پرستی
وطن فروشی
وحدت فرقوں میں تقسیم ھونے لگی
لوگ درھم ودینا ر کے بدلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ھوگۓ
ھمارے دشمن بہت مضبوط تھے
اسلام کے دشمن
دین کے دشمن
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن
اھلبیت کے دشمن
پاکستان کے دشمن
شعیوں کے دشمن
آخوت وبھائ چارگی کے دشمن
امن وامان کے دشمن
بھائ کو بھائ کادشمن بنا دیا
نوجوانوں کے ھاتھوں سے علم اور کتاب چیھن کر ھتیار تھما دیے گیۓ
اور انکی انکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی گی
شہر میں بس
خون کی
میرے ھم وطنوں کی
بے گناھوں کے لہو
کی بو پھیلی ھوئ ھے
ھر گھر میں موت کی خاموشی
ھر ماں سہمی ھوئ
ھر باپ کے دل میں ڈر
ھر بشر خوفزدہ
کون ھے جو ھم سب کو اس خوف کے حصار سے نکالے گا
کون ھے جو انسان کی جان و مال کی حفاظت کا عہد نبھاۓ گا

جہاں سے بغض و نفرت کے مٹانے کا ارادہ کرکے آۓ ھیں
اسی مقصد کی خاطر سر کٹانے کا ارادہ کر کے آۓ ھیں
افسوس ہمارا وطن لہو لہان ہے اور ہاتھ بہی ہمارے ہی ہئں اللہ رحم کرے
درست کہا شاہین حیدر،بات ایک ہزار فیصد درست ہے
۔۔۔۔۔۔۔
فرقہ پرستی
وطن فروشی
وحدت فرقوں میں تقسیم ھونے لگی
لوگ درھم ودینا ر کے بدلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ھوگۓ
ھمارے دشمن بہت مضبوط تھے
اسلام کے دشمن
دین کے دشمن
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن
اھلبیت کے دشمن
پاکستان کے دشمن
شعیوں کے دشمن
آخوت وبھائ چارگی کے دشمن
امن وامان کے دشمن
اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں مذہب کی بنیاد پر ملک بنانے کا تجربہ فیل ہوگیا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر دو ملک وجود میں آئے یعنی پاکستان اور اسرائیل۔ پاکستان کو تقریباً ناکامیاب ملک قرار دیا جاچکا ہے۔ اسرائیل میں کتنے لوگ ہیں جو رات کو آرام کی نیند سوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ملک بھی انسانیت کے نام پر بنے گا وہی ملک کامیاب ہوگا۔
اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں مذہب کی بنیاد پر ملک بنانے کا تجربہ فیل ہوچکا ہے تو کیا غلط ہوگا؟ مذہب کی بنیاد پر دو ملک وجود میں آئے یعنی پاکستان اور اسرائیل۔ پاکستان کو تقریباً ناکامیاب ملک قرار دیا جاچکا ہے۔ اسرائیل میں کتنے لوگ ہیں جو رات کو آرام کی نیند سوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جو ملک بھی انسانیت کے نام پر بنے گا وہی ملک کامیاب ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ میری اس تحریر کی بھر پور مذمت ہوگی۔ لیکن ———–؟
اسلام علیکم ساتھیو
بہن شاھین حیدر رضوی ۔آپ کے بلاگ نے مجھے اپنے بچپن میں پہنچا دیا جہاں محلے میں تین گھر شیعہ مسلک کے تھے اور باقی سنی لیکن کبھی کوئی اختلاف نہیں تھا سب ایک دوسرے کا احترام اس حد تک کرتے تھے کہ ہر مزہبی تقریب میں بھی شامل ہوتے تھے ۔ سب ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی تھے ۔پھر پتہ نہیں کیا ہوا ۔
مجھے لگتا ہے کہ ہم میں اب بھی ایک دوسرے کا احترام اور محبت ہے ۔ یہ بھی شاید کوئی ایجنڈا ہے جس پر عمل ہورہا ہے ۔ کہ مارو اور لڑواؤ ۔ جہاں تک پیسے کی بات ہے تو یہ ہی ایک چیز ہے جو ایمان تک خرید لیتی ہے باقی چیزیں تو ثانوی ہیں ۔
بھائی ظفر جعفری کوئی آپ کی بات کی مزمت کرے یا نہ کرے مگر میں آپ کی اس بات کی تائید کرونگی کہ انسانیت سب سے بڑی سچائی ہے ۔ اگر آپ میں انسانیت ہی نہیں تو آپ کیسے مسلمان کیسے عیسائی کیسے ہندو اور کیسے کسی اور مزہب سے متعلق ہو سکتے ہیں ۔جب تک ہم انسانیت کو بنیاد نہیں بنائینگے ہم اس قتل و غارتگری سے نجات نہیں پا سکینگے شاید ۔
کوئی بھی بات بار خاطر ہو تو در گزر کی درخواست
عالم آرا
بھائیوں اور بہنوں میں ایک طویل قیام کے لیئے ابو ظہبی پہونچ گیا ہوں جوکہ 6 اپریل تک جاری رہے گا۔ 25 دسمبر سے پاکستان میں تھا اور بہت مصروف بھی ،ہندوستان کے بعد پاکستان کا فوری سفر اس لیئے درپیش ہوا کہ میں نے اپنی دونوں بہنوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں بھانجی اور بھانجے کی شادی میں شرکت ضرور کرونگا ان میں ایک بہن کا بیٹا تھا اور دوسری کی بیٹی۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ اپنے ساتھ پورے اپنےخاندان کو بھی لا ؤنگا۔چونکہ میں ہمیشہ یہ بات دہراتا ہوں کہ مسلمان اگر وعدہ کر تا ہے تو پورا بھی کرتاہے۔ لہذا میں نے پاکستان موجودہ حالت میں وہا ں مع اہلِ خاندان جانے کا خطرہ مول لیا اور سربسجود رہا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ میری لاج رکھنا؟الحمد للہ سب بچے تو بخیریت اپنے ٹھکانوں پر پہونچ گئے۔لیکن مجھے بہت ہی کٹھن وقت ،جس میں ڈاکو ؤں سے ملاقات بھی شامل ہے گزارنا پڑا اس امتحان میں بھی حضو ر (ص) کے ذکر کے طفیل سرخرو رہا اور مجھے کسی قسم کا نقصان نہیں پہونچا۔ گوکہ پہلے بھی آپ سے رابطہ نہیں ٹوٹااور گاہے بہ گاہے ملاقات رہی مگر اب انشا اللہ با قاعدگی سے بلاگ میں حاضری رہے گی۔
بہن شاہین آپ نے اپنے دور کی بات کی ہے مگر میں نے جو دور دیکھا وہ یہ تھا کہ نصف خاندان سنی ہے اور نصف فقہ جعفریہ پر یقین رکھتا ہے بیوی اہل ِ تشیع میں سے ہے تو شوہر سنی ہے کہیں اس کا الٹ بھی مگر اس کے باوجود گھر میں امن و چین تھا ۔صرف مسلمان ہو نا شرط تھا عقیدہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔کہ چالیس کی دہائی میں ایک ملک عالم وجود میں لایا گیا۔ اس نے یہ نعرہ لگا یا کہ ہم فقہ حنبلی بد عت سے پاک کر نے کے لیئے اقتدار پر قابض ہو ئے ہیں۔ اور اس نے بدعت کے نام پر اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا۔چونکہ وہ ہمیشہ سے خاندانی عصبیت شکار تھا اور قریش سے خود کو بہتر سمجھتا تھا ۔اس نے اہل ِبیت کا احترام ختم کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ جو کہ آج تک کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
جبکہ بھائی جعفر صاحب کے تجزیہ سے میں متفق نہیں ہوں کہ “ دو نوں ملک پاکستان اور عزرائیل مذہب کے نام پر بنے اور ناکام ہو ئے؟ کیونکہ پاکستان تواسلام کے نام پر بنا تھا جس پر کبھی ایمانداری سے عمل نہیں کیا گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ ہم زیر عتاب ہیں۔ جبکہ عزارائیل کی بنیاد تلمود پر ہےجو انکی فقہ کی کتاب ہے مذہب یعنی تورات کا اول تو ان کے یہاں دخل ہی نہیں ہے دوسرے اس مذہب کوبھی اللہ سبحانہ تعالیٰ اسلام آنے کےبعد منسوخ کر چکا ہے؟ البتہ صفدر بھائی نے وجوہات پر بہت اچھی طرح روشنی ڈالی ہےجس میں ہر با کا جواب ہے۔
میرے عزيز بھائ عمران الیاس سلامت رھیں
آپ کی بات 100٪ سچی ھے
افسوس ہمارا وطن لہو لہان ہے اور ہاتھ بہی ہمارے ہی ہئں اللہ رحم کرے
سال گذشتہ میں جتنے شعیہ گھرانوں کے چراغ گل ھوۓ
انکے قاتل آج بھی آزادی سے گھوم رھے ھیں
ھر دھماکے کے بعد کالعدم شکر جھنگوی لشکر یزیدی شعیوں کو مارنے کی ذمہ داری قبول کرتی ھے
آج تک کوئ قانون کی گرفت میں کیوں نیہں آیا
؟؟؟
انصاف کب ملے گا ؟؟÷÷
شہیدوں کے لواحقین کو صبر کی تلقین تو کرتے ھیں
مگر انکی زندگی کتنی دشوار ھوجاتی ھے
پہلے لوگ اولاد کی دعا مانگتے تھے
اب لوگ کہتے ھیں کہ پہلے امن وامان ھوجاۓ پھر سوچینگے
میں کس کے ھاتھوں پہ اپنا لہو تلاش کروں
کہ سارے شہر نے پہنے ھوۓ ھیں دستانے
موم کی طرح جلتے رھے ھم شہیدوں کےتن
رات بھر جھلملاتی رھی صبح وطن
رات بھر جگمگاتا رھ چاند تاروں کا بن
تشنگی تھی مگر
تشنگی میں بھی سرشار تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے
مرد و زن منتظر
کب چلے گی نسیم بہار صبح
مخدوم محی الدین کی ایک نظم کی چند لائينیں
محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب
آغائ ممنون و متشکرم
آپکی حوصلہ افزائ مجھہ جیسے کم علم اور کم فہم اور کم سمجھہ انسان کے لیے بہت معنی رکھتی ھے مجھے رواں رکھنے کے لے اکسیر بھی ھے خوش رھیں سلامت رھیں اپ ھماری ھمت بھی ھے
کہتا ھے کون ختم ھوئ کربلا کی جنگ
ھم لڑ رھےھیں آج بھی فوج یزید سے
نتیجہ الفکر شاعر آل عباءمحترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب
یا الٰہی خیر کر حالتِ ملت ہو گئی اب عین غین
سال نو بھیجا جو تونے ابکی لائے امن وچین
سالِ توبہ یہ بنے اور ساری بلائیں دور ہوں
نسلِ نو میں دوڑ جائے ہر جگہ جذبہِ حسینؑ
آپکی اس خوبصورت رباعی پر آمین ثم آمین کہتے ھیں ۔بلاگ میں آپکی قیمتی آراء شامل ھوئ اور ھمارے اس بلاگ کی قدر وقیمت بڑھ گی
‘ بہت ھی محترم اور قابل صداحترام جناب گرامی شمس جیلانی صاحب پاکستان سے باخیرت وبعافیت واپسی کی مبارک باد قبول کریں
بھانجے اور بھتیجی کی شادی کی مبارک باد قبول کریں
اللہ پاک آپکو صحت وتندرستی عطا فرماۓ آمین ثم آمین
ھمیشہ خوشی اور مسرت کی شادی اور خانہ آبادی کی ھر تقریب میں آپکے پاکیزہ وجود سے برکت ھو
انشا اللہ آپکا قیام 6 اپریل تک دبي میں ھوگا
آپ براۓ کرم کویت بھی تشریف لايئۓ اور ھم اھل کویت کو اپنی مہمان نوازی کا موقعہ ضرور دیں ھمارے لیے برکت وسعادت کی بات ھوگی
آپکا بصرت افروز تبصرہ پڑھ کر بہت ھی خوشی ھوئ
میرے دوستوں کی ایک بڑی تعداد اھل سنت سے تعلق رکھتی ھے اور وہ بھی میرے ھاں ھر مجالس میں شریک ھوتے ھیں
خود میرے مرحوم شوھر عادل فواد المناسترلی اھل سنت تھے ھم نے زندگی کے 24 سال گذارے
میرا تو بس ایک ھی چیز پر یقین رکھتی ھوں کہ اللہ تعلی ھر گناہ کو معاف کردتیا ھے مگر انسانیت کا احترام نہ کرنے والوں کو سزاملتی ھے جو کوئ کسی انسان کو دکھہ دیتا ھے جسمانی اور ذھنی اذیت دیتا ھے اللہ پاک اس کو معاف نیہں کرتا
میں سوچتی ھوں جب بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ھیں اور دوسروں کو قتل کرتے ھیں
اللہ انکو کیسے معاف فرماۓ گا ؟؟
شاھین بہن،کی بات کا فی ھد تک در ست ھے ۔ اور مینے بھی اپنے بچپن مین سکو لو ن ،کالجو ن مین سنی شیئہ کا کوئ اکھتلاف نہ دیکھا نہ سنا – اور تو اور اباجان ھمیشہ بتاتے تھے۔کہ لاکالج مہن 1936 مین ھنرو مسلم سکھ عسا ئ ‘کی سب کی ا پس مین بھت دوستی تھی –
رفر جعفر ی کا تجزیہ درست ھے- عالم ار ا جی!واقعی اگر انسا نییت نھین تو مزھب یا عقیدہ کچھ بھی ہو فرق نھی پر تا –
السلام علیکم
ہم نے اپنی زندگی میں کبھی شعیہ سُنی منافرت نہیں دیکھی ہاں خبروں میں ضرور سُنی ۔ شعیہ سُنی خاندانوں کی دوستیاں نسل در نسل منتقل ہوتے دیکھی ہیں ۔ نہ جانے کون ظالم ہیں جو مسلمانوں میں نفاق ڈالنا چاہتے ہیں
شیخ جی باتیں کریں ایمان کی قرآن کی
اور پنڈت داستاں چھیڑا کرے بھگوان کی
——————————-
آؤ ہم انسان ہیں باتیں کریں انسان کی
کنور مہندر سنگھ بیدی
زنگ ذہن میں انساں کے لگاتا ہے تعجب
یہ ایسی نصیحت ہے جو ہیروں میں تُلی ہے۔
ظفر جعفری
اگر آپ خود کو ہندو، عیسائ، یہودی، بنگالی ،گجراتی، حبشیوں وغیرہ سے برتر کہیں گے تو پھر آپ شیعہ سنی کے معاملہ میں بھی متعصب ہونگے۔ اگر آپ ان سب کو اپنی طرح انسان سمجھیں گے تو آپ سنی شعیہ، اسماعیلی وغیرہ کو بھی اپنی طرح کا انسان سمجھیں گے۔Clergy کسی بھی مذہب کی ہو اس کا mind set ایک ہی ہوتا ہے۔
تصحیح ‘ تعصب’
میں بہت خاموشی سے بلاگ میں موجود تھی ۔۔ سوچتی رہی کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم ہو ۔۔ مجھے یاد ہے کہ میری بچپن کی سہیلی جو میڈیکل میں آنے تک تھی ۔ کیونکہ اس کے بعد اس کی شادی دور دراز ہو گئی اور میں بھی اپنی پڑھائی کے سلسلے میں گھر سے ہوسٹل میں آ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ اتنے برس ساتھ رہنے پر بھی مجھے پتہ نہ چل سکا کہ وہ شعیہ تھی ۔ پتہ مجھے اس دن چلا جب اس کی مرحومہ ماں نے مجھے میڈیکل کی تعلیم کے لئے گھر سے رخصت ہوتے وقت امام ضامن باندھا ۔۔۔ اور میری ماں نے کئی بار ان کاشکریہ ادا کیا ۔ ۔۔۔ اس عمر تک ہم گھر کے بچوں کو کسی عقائد کے الگ ہونے کا کچھ پتہ نہ تھا ۔۔۔ ہم سب صرف مسلمان تھے ۔۔۔ صرف مسلمان ۔۔۔
آج دنیا کیا سے کیا ہوگئی ۔۔ بچوں کو کان میں ازان دیتے وقت ہی شاید ان کا عقیدہ بھی پھونک دیا جاتا ہے ۔۔۔ پورے پاکستان میں جیسے شعیہ سنی آگ لگی ہوئی ہے حالانکہ جب لوگوں سے ملو تو وہ بھی اتنا ہی حیران ہوتے ہیں جتنا میں ہوتی ہوں ۔۔ وہ بھی میری ہی طرح ایک دوسرے سو پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آخر یہ سب کون کر رہا ہے ۔۔ یہ سب جوبھی کر رہا ہے بہت بہت برا کر رہا ہے ۔۔
آج کل میری آنکھوں میں ستاسی لاشیں رہتی ہیں ۔۔ اور ان پر بین کرتے ان کے پیارے ۔۔۔ یہ منظر جیسے آنکھوں کے ساتھ سل سا گیا ہے ۔۔ میرے خدا مسلک کے نام پر یہ دن دیکھنے تھے ۔۔ میرے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جب جب سوچتی ہوں ۔۔۔۔ جن کے ساتھ ہوا وہ پوری عمر اب کیا کریں گے ۔۔ سوچنا نہیں چاہتی کیونکہ میرا دل کہتا ہے کہ وہ سب بھی ان چار دنوں میں مر گئے تھے ۔۔۔۔ پر نہیں مرے تو وہ ظالم جنہوں نے اس فساد کو ہماری سرزمین پاک میں بویا ہے ۔۔۔ کاش ہم سادہ لوح اپنے حکمرانوں اور ملاں کی اس سازش کو سمجھ سکتے تو ہم یوں برباد نہ ہوتے ۔۔ بلکہ پہلے کی طرح ہر فرق بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ۔۔ کاش ۔۔ کاش
شیعہ اور سنی دو فرقے نہیں ہیں۔ جس طرح سنی پہلے اہلِ سنت ہوتے ہیں ۔اسکے بعد حنفی، مالکی، شافعی یا حنبلی ہوثے ہیں۔ اس ہی طرح اہلِ تشعیع پہلے اہلِ سنت ہوتے ہیں ۔اسکے بعد شیعہ یا جعفری ہوتے ہیں۔ ہمارا خدا، کتاب،قبلہ،نبی ایک ہیں۔ الازہرکےایک عیسائپ پروفیسرنےکہاہےکہ جتنی قریب فقہء جعفریہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی فقہ سے ہےاتنےقریب یہ سنی فقہ ایک دوسرے سے نہیں ہیں۔ اگر کھانے کی کوئ چیز کسی بھی سنی فقہ میں حرام ہے تو وہ چیز جعفری فقہ میں حرام ہے۔
میرے عزیز دوستوں سلامت رھو
شائد میں نام بنام آپ سب کی بلاگ میں شرکت اور تبصرہ کا اس طرح شکریہ ادا نہ کرسکو جیسا کہ حق بنتا ھے
آپ سب کی طرح
مجھے بھی کھبی یہ احساس نیہں ھوا کہ شعیہ سنی کوئ الگ قوم ھیں کوئ الگ لوگ ھیں ھم برسوں اس ملک میں امن و عافیت سے رھتے تھے اور رھتے رھنگے گذشتہ کسی سالوں سے ھمارے صدیوں پرانے دشمن ۔اسلام دشمن۔ مسلمان دشمن ،جو صدیوں سے مسلمانوں کےباھمی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاھتے تھے صلح آتشی کو جنگ وجدل میں بدلنے ھم کو اپس میں لڑانے میں ھمارے نوجوانوں کے اذھانوں میں سسیہ بھرنے میں میں کامیاب ھوگے ۔
میں سوچتی ھوں کہ
صدیوں پہلے قبل اسلام ایام جاھلیہ کے وہ بدو عرب کتنے شر پسند ھونگے کیسے کیسے طریقوں سے انسانوں کو آذیت دیتے ھونگے
اسلام نے ان حیوان نما انسانوں کو جاھلت کی تاریکی سے نکال کر روشن اور پرامن راستہ دکھایا مسلمان بنایا ”
مجھے بہت پہلے پڑھی ھوئ ایک نعمت یا د آرھی ھے
یہ پہلا سبق تھا کتاب خدا کا
کہ ھے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
پھر مجھے حدیث نبوی بھی یاد ائ
بہتر مسلمان وہ ھے جس کی زبان اور ھاتھہ سے دوسرے مسلمان محفوظ رھیں
کیہں بھی کسی انسان پر ظلم ھورھا ھے اس ظلم کی شدید مذمت کرتے ھوۓ
صرف شعیوں کو مارنے کی بات نیہں کررھی ھوں میں کسی بھی فرقے کے کسی بھی مسلک کے کسی بھی لسانی سیاسی گروہ کے قتل کی مذمت کررھی ھوں اللہ پاک ھم کو طرف مسلمان بنےکی توفیق عطا فرماء ایک اچھا مسلمان جسکی زبان اور ھاتھہ سےدوسرا مسلمان محفوظ رھے
سنا ھے اچھے وقتوں کے مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی تکلیف پر بے چین ھوجاتے تھے
وہ اچھے وقتوں کے مسلمان جن کی ایمانی طاقت اور مضبوطی کی وجہ سے پہاڑ ریزہ ریزہ ھوجاتے تھے
سمندر جن سے ڈر کر راستہ چھوڑ دیتے تھے
صحراء جن کے دم سے گلزار ھوجاتے تھے
پتھر دل قلوب جن کو دیکھہ کرموم ھوجاتے تھے
ابھی مجھے بہت رونا آرھا ھے مجھے بھی کوئٹہ کے شہدوں کے منفی درجہ حرارت میں 3 دن تک بے گور وکفن لاشے یاد آتے ھی آنکھوں میں آنسو آجاتے ھیں
دنیا میں ھر جگہ دستور ھے رواج ھے کہ اگر کوئ کسی کو قتل کرتا ھے تو قاتل کو سزاملتی ھے
مگر کربلا کی طرح پاکستان میں بھی دستور بدل گیا ھے بے گناھوں پر ظلم ڈھانے کا رواج عام ھوچکا ھے مقتول کے ورثاء سالوں بعد بھی حق و انصاف حاصل کرنے میں ناکام ھوچکے ھیں انکی انکھوں سے اج بھی اشک غم رواں دواں ھیں کوئ انکا دکھہ بٹانے والا نیہں کوئ انکو انصاف دلانے والا نیہں
کھبی کبھی لگتا ھے کہ یہ اب جنگل بن گیا ھے یہاں جو طاقت ور ھے وہ ایک مکروہ اور جان لیوا ھتیار لیکر کسی کو بھی مار سکتا ھے صرف دینا کے نقشے پر پاکستان ھی ایسا ملک ھے کہ جہاں قاتل آزاد پھرتے ھیں
اس سے قبل کہ میں اچھی بہن عالم آراء کا بلاگ میں آمد اور تبصرے کا شکریہ ادا کروں
زرقا مفتی کی ایک نظم آپکی بارگاہ فکر میں پیش کررھی ھوں
اپنے دیور کے نام
(اُسکی بیوہ کی ترجمانی کرتے ہوئے)
تمہارا ساتھ جب پایا
محبت پہ یقیں آیا
بھرا خوشیوں سے آنگن تھا
کھلے تھے پھول گلشن میں
سہانی زندگانی تھی
مگر کیا جانئے کس پل
کسی حاسد کی نظرِ بد
لگی میرے نشیمن کو
لٹیرے تین آئے تھے
ارادے سے ڈکیتی کے
مجھے سونا بچانا تھا
نہ مجھ کو مال پیارا تھا
مگر اک خوف تھا دل میں
فقط تم سے جُدائی کا
کسے معلوم تھا لیکن
لکھا تھا کیا نصیبوں میں
بڑا بھاری وہ لمحہ تھا
نہ لرزا ہاتھ قاتل کا
چلائی اُس نے جو گولی
مری تو جان ہی لے لی
تمہیں لے کر میں بانہوں میں
لگی تھی التجاوں میں
کہیں ٹوٹے نہ اے ہمدم
تمہارے سانس کی ڈوری
ابھی تو زندگانی کا
سفر کتنا ہی باقی ہے
مگر دستِقضا سے تو
کبھی مہلت نہیں ملتی
مری خوشیاں مرے سپنے
تمہارے سب حسیں وعدے
تمہارے ساتھ جا سوئے
یہاں اب کچھ نہیں باقی
سوائے پانچ لاشوں کے
کبھی اے خادمِ اعلیِ
یہاں سے جو گزرنا ہو
جھکا لینا یہ سر اپنا
تمہاری حکمرانی میں
نہیں محفوظ کوئی گھر
ابھی آزاد ہیں قاتل
شیعہ کلنگ کے خلاف کامیاب دھرنے اور بلوچستان حکومت کی برترفی کے بعد لشکر جھنگوی زیادہ فعال ہو گئی اور شہادتوں کی تعداد بڑھ گئی 16 جنوری کو ھماری وائف (لیلیٰ ) کے خالو کو ملیر میں ان کے گھر کے سامنے اور چھوٹی بچی (جس کو وہ اسکول وین میں بٹھا رہے تھے) اس کے سامنے گولیوں سے چھلنی کردیا
کل بھی میں جنگل میں تھا اور آج بھی جنگل میں ھوں
کل میرے ھمساۓ تھے خونی درندے بھیڑے
آج انسانوں میں ھوں اور خون کے جل تھل میں ھوں
روح کا قاتل ھوں میں اور جسم کے مقتل میں ھوں
آہ آج ایک مسلمان ملک جو صرف اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا جو صرف اجتماعی مفاد اور احترام انسانیت کے لے قائم ھوا تھا
باھمی آخوت کے پاکیزہ جذبے کے بجاۓ آج یہاں بھائ بھائ کا خون بہا رھا ھے
اسلامی جمہوریہ پاکستان
آ پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا ھے جہاں
موت ھر شہر ھر گلی ھر سڑک ھر گھر میں رقصاں ھے
جہاں کسی کی عزت وابرو
کسی جان ومال کسی کی زندگی
کی کوئ ضمانت نیہں ھے
ایک معمولی سے موبايئل کی خاطر جہاں گولی مار دی جاتی ھے
جہاں ایام جاھلت جیسی بری عادات عام ھورھی ھیں
نشہ اور صرف نشہ
کیہں اقدارا کا نشہ
کیہں دولت کا نشہ
آہ یہ ھم کہاں جارھے ھیں
لوگ تاریکی سے روشنی کا سفر کرتے ھیں
صد حیف پاکستان میں لوگ روشنی سے تاریکی کی طرف جارھے ھیں
آج کسی بھی نوجوان کو سڑک پر روک کر اسکا نام پو چھا جاتا ھے اگر وہ زیدی
نقوی رضوی
عسکری
علی بتاتا ھے تو گولی سے ماردیا جاتا ھے
اسلام علیکم بہن شاھین سلامت رہو
ہمارے چار طرف ایسا ما حول بن گیا ہے کہ مارے خوف اور پریشانی کے کچھ بات کرنے کو نہیں رہی ۔میری بہن پتہ ہے کہ کون کر ر ہا ہے ۔کبھی کہتے ہیں طالبان کبھی کہتے ہیں لشکر جھنگوی لیکن حکومت میں نہ انہیں پکڑنے کا دم ہے نہ انہیں روکنے کا ۔تو پھر انہیں حکومت کا حق کیوں حاصل ہے ؟
چاہے کسی کو بھی مارا جائے وہ محترم ہے وہ انسان ہے ،ہم تو اب کوئی مسلک جانتے ہیں نہ شناخت ہمیں تو انسانیت چاہئے کہ انسانی زندگی بہت قیمتی ہے اور اس کو بچانا اور تحفظ دینا سب کا کام ہے ۔
ہم جب تک اپنے اندر موجود بھیڑیوں کو تلاش کر کے انصاف کے کٹہرے تک نہیں لائینگے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا ۔لیکن یہ کرے گا کون اپوزیشن بھی کہتی ہے کہ یہ ہونا چاہئے وہ ہونا چاہئے حکومتی ارکان بھی کہتے ہیں کہ یوں ہونا چاہئے ووں ہونا چاہئے مگر کرنے کو قدم اٹھانے کو کوئی تیار نہیں ۔
مجھے تو شکوہ ہے اُن سب سے جو ہر بات پر اتنے بڑے بڑے دھرنے دیتے ہیں لیکن کوئی انسانی جانوں کے بچانے کے لئے دھرنا نہیں دیتا کوئی ہمارا بہی خواہ ہماری زندگی کی حفاظت کی ضمانت نہیں دیتا صرف اپنے ساتھ گارڈز کی فوج ِظفر موج رکھتا ہے اور عوام ڈنڈے لئے جان ہتھیلی پر لئے اس کی جان کی حفاظت کرتے ہیں ۔
اس سے زیادہ حیوانیت کیا ہوگی کہ شناخت کر کے مارا جائے ؟ اللہ ہم سب کے گناہوں کو معاف کرے کہ ان مظالم پر خاموشی بھی ایک گناہ ہے ۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی بے حرمتی شروع کر دی اور اپنے منصب کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
نہی عن المنکر سے ہاتھ اُٹھانا سب سے بڑی کمزوری ہے ۔
بھائی ظفر جعفری میری طرف سے تعزیت قبول کریں اللہ مرحومین کواپنے جوار رحمت میں جگہ دے آمین ۔
میری کوئی بھی بات بار خاطر ہو تو در گزر کی درخواست
عالم آرا
بہن عالم
ٰ بھائی ظفر جعفری میری طرف سے تعزیت قبول کریں اللہ مرحومین کواپنے جوار رحمت میں جگہ دے آمین ۔ٰٰ
یہ تعزیت آپکو جعفر حسین صاحب سے کرنی چاہئے کیونکہ حادثہ اُنکے یہاں ہوا ہے۔ مجھے بھی اس کا بیحد دکھ ہے جعفر حسین صاحب میری طرف سے تعزیت قبول کریں۔
جعفر حسین بھائی ہم سب کی طرف سے تعزیت قبول کیجئے ۔۔ اللہ کریم مرحومین کواپنے جوار رحمت میں جگہ دے آمین اور آپ سب کو صبر اور حوصلہ ۔۔
طالبان لشکرِ جھنگوی، سپاہِ صحابہ پاکستان، القائدہ اور بے شمار چھوٹی چھوٹی غیر فعال تنظیمیں جو نہ ہونے کے برابر تھیں آج ڈالر اور ریال میں اس قدر ڈوب گئی ہیں کہ ان کو اپنے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا ۔
مجلس ماتم کے تو یہ قائل ہی نہیں تھے اب تو میلاد کے بھی قائل نہ رہے اور نعوذ و باللہ رسول(ص) پر درود و سلام کو بھی بدعت سمجھتے ہیں ۔ نعت پڑھنے اور سننے کو گناہ سمجھتے ہیں اور نبی کریم کی ولادت کی خوشیاں منانے کو بھی بدعت سمجھتے ہیں
سجدہ گزار تو ابلیس بھی تھا اور خدا کی وحدانیت کا بھی قائل تھا اور اللہ ہی کو عبادت کے لائق سمجھتا تھا مگر اللہ نے جس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اس کو نہیں مان کر راندہِ درگاہ ہوا اور لعنتی قرار پایا
آج کا نام نہاد مسلمان بھی یہی کچھ کررہا ہے رسول اکرم (ص) کے فرمان کو بھلا کر ذاتی مفادات کے خاطر اللہ کے ناپسندیدہ اعمال بجا لارہا ہے
اسی کلمہ کی نفی کررہا ہے جو وہ پڑھ رہا ہے ، اسی نماز کو باطل کررہا ہے جو وہ بروقت ادا کررہا ہے صرف اور صرف اللہ کے واضح احکام کی خلاف ورزی کرکے ، اور پھر بھی اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول (ص) کا چاہنے والا سمجھ رہا ہے۔
دورِ جاہلیت کے عرب بدوٗں کی طرح آج بھی رسول اور آلِ رسول (ص) کا دشمن ہے
اور اسی دشمنی کے نتیجے میں ھم اپنے پیاروں سے محروم ہورہے ہیں
کسے معلوم کہ کل کس کی باری ہے
خاص کر کراچی میں لوگ یہ سوچ کر نکلتے ہیں کہ آج واپس بھی آئیں گے یا لائے جائیں گے ،
کب کس جگہ ، کس مقام پر کس سینے پر ولائیتِ علی کے منکر کی گولی آلگے اور وہ داخلِ بہشت ہو۔
اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین۔
پاکستان اس وقت بے شمار عارضوں اور بحرانوں کا شکار ہے۔ کوتاہ نظر لوگوں کا خیال
ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ۔حقیقتاََ ایسا نہیں۔ آج کے پاکستان
کا سب سے بڑا مرض ،سب سے بڑا عارضہ اور سب سے بڑا مسئلہ اقتصادی زبوں حالی
ہے اور اقتصادی زبوں حالی نے طالبانائزیشن سے نہیں کرپشن سے جنم لیا ہے اور
کرپشن میں مولاناصوفی محمد،حکیم اﷲ اور بیت اﷲ محسود شریک نہیں رہے بلکہ
ماڈرن ،ماڈریٹ اور جدید تعلیم یافتہ بیوروکریٹ اور سول اور خاکی پوش ملوث پائے
جاتے ہیں۔
دہشت گردی کی طرح کرپشن کا ناسور اس ملک کی جڑوں تک اچانک نہیں پہنچا بلکہ
بتدریج اندر تک سرایت کرتا چلاگیا ۔ہر حکومت اپنی پیش رو حکومت کا ریکارڈ توڑنے
کی کوششوں میں مگن رہی ۔پرویز مشرف کی فوجی حکمرانی کے دور میں کرپشن کے
انداز بدل گئے۔ شوکت عزیز نے کچھ ایسا جادو کیا کہ حکمرانوں کی کرپشن کے مضر
اثرات عام آدمی پرنہ پڑے ۔اس تمام عرصے میں مصنوعی خوشحالی کا دو ر دورہ رہا
۔سیاسی حکومتوں نے تو کرپشن کو کرپشن سمجھا اور جانا ہی نہیں۔یوں پاکستان وائٹ
کالر جرم کی بنا پر جاں بہ لب ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرضے معاف اور ری
شیڈول کرنے سے صاف انکار کیا ہے اور یورپی یونین نے دھمکی دی ہے کہ اگر
پاکستان نے کرپشن کو کنٹرول نہ کیا تو اس کی مصنوعات کو منڈیوں تک پہنچے کی دی
گئی سہولت واپس لے لی جائے گی۔
کرپشن اب ایک مائنڈ سیٹ بن کر رہ گیا۔ ذاتی کردار کے حامل بظاہر بہت محترم اور
معتبر لوگ سرکاری وسائل کو لوٹنے ،کمیشن کھانے ،رشوت لینے کو جرم نہیں سمجھتے
بلکہ اسے اﷲتعالی ٰ کی طرف سے فراہم کیا گیا ایک موقع تصور کرنے لگے ہیںاور اس
موقع سے فائدہ نہ اُٹھانے والوں کو بے وقوف اور بزدل سمجھاجانے لگا ہے ۔یوں ایک
دیمک ہے جو معاشرے کی اقدار اور سوچ کے مثبت انداز کو اندر ہی اندر سے چاٹتی جا
رہی ہے۔ ایک دور میں ’کوٹھیوں پر’ ہٰذا من فضل ربی‘‘ کی تحریر ان کے کرپشن اور
لوٹ مار کے پیسوں سے تعمیر کی چغلی کھاتی تھی۔ اب تو یہ تحریر درج نہ ہوتے ہوئے
یہ مائنڈ سیٹ کسی آسیب کی طرح معاشرے میں چہار سو رقصاں ہے۔
بیت المال کو امانت سمجھنا خلافت اسلامیہ کا بنیادی مقصد تھا ۔خلفائے راشدون کے عہد
میں ریاست کے مال کو اﷲ اور انسانوں کی اجتماعی امانت سمجھنے کا رجحان غالب
تھا۔اب معاشرے سے اجتماعی امانت کا تصور ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔حالانکہ دنیا کے
کلی سیکولر معاشروں میںجہاں مذہب اور مذہبی اقدار وروایات کا ریاست کے قریب سے
بھی گزر نہیںہوتا ریاستی وسائل لوٹنے کوقانونی ہی نہیں اخلاقی جرم بھی سمجھا جاتا ہے
مگر پاکستان میں اس پوری سوچ و فکر اور سیاسی ثقافت کو ریورس گیئر سالگ گیا ہے۔
جب سوچ تنزل کی طرف گامزن ہو گی تو لوگ اور معاشرہ عروج کی جانب کیونکر سفر
کر سکتا ہے؟۔کرپشن جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو ریاستیں اقتصادی عدم توازن کے
بھنور میں گھر کر دیوالیہ ہوجاتی ہیں ۔سوویت یونین اس کی واضح مثال ہے ۔ایسے میں
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اندرون سندھ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے
ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر قوم صحیح ٹھپہ لگائے تو ملک صحیح ہو سکتا ہے ۔صحیح
ٹھپہ لگنے سے ان کی مراد یہ ہوگی کہ اگر پاکستانی عوام بیلٹ پیپر پر بنے شیر کے نشان
پر دھڑا دھڑ مہریں لگادیں تو اس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہو جائے
اور اس طرح پاکستان کی تنزلی کا سفر بلندی کے سفر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
میاں صاحب کا دعویٰ اپنی جگہ مگر پاکستانی عوام اپنی طرف سے صحیح ٹھپہ ہی لگاتے
ہیں۔وہ اپنے سامنے دستیاب ماحول میں چند مقبول جماعتوں کے امیدواروں کے نشانات پر
ہی مہریں لگاتے ہیں۔جن میں فقط انیس بیس کا ہی فرق ہوتا ہے۔اگر ذاتی کردار میں کوئی
امیدوار بہتر ہوتا ہے تو وہ پاپولر سیاست کے عملی تقاضے اور ہتھکنڈے استعمال کرنے
کے فن سے عاری ہوتا ہے ۔ایسے میں عوام چیمہ صاحب کو ووٹ نہیں دیں گے تو چٹھہ
صاحب کو دیں گے ۔لغاری صاحب کو مسترد کریں گے تو مزاری صاحب کو چنیں
گے۔چانڈیو صاحب کو جھنڈی دکھائیں گے تو جام صاحب کی طرف لڑھکیں گے۔ان بے
چاروں کے پاس آپشن ہی کیا ہے؟۔صحیح ٹھپے کی بات کرکے میاں صاحب کا اپنے اور
اپنی جماعت کے بارے میںحسنِ ظن اپنی جگہ مگر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ
پاکستان کا عارضہ اب ایک ٹھپے سے خاصا آگے بڑھ چکا ہے۔ پاکستان کو سلو پوائزننگ
کے ذریعے اب Ungovernable یعنی ناقابل حکمرانی کے مقام تک لایا جا چکا ہے ۔یہی
وجہ ہے عمومی طور پر کہاجاتا ہے کہ پاکستان کے عارضوں کا علاج اب ایک بھرپور
سرجری میں مضمر ہے ۔سرجری بھی وہ نہیں جو علامہ طاہر القادری نے کرنے کی
کوشش کی تھی ۔اس کنٹینرانہ سرجری اور انقلاب کا انجام دیکھ کر تو اب کچھ عرصہ تک
لوگ انقلاب کانام سن کر کانوں میں انگلیاں ٹھونستے رہیں گے ۔البتہ سرجری کا ایک
طریقہ یہ بھی ہے کہ حکمران سب سے پہلے اپنے پیٹ پر پتھر باندھیں ۔حکمران کے دین
پر عوام کا دین ہوتا ہے کی تاریخی صداقت کے تناظر میں ملک کا آدھا مسئلہ اسی بات
سے حل ہوجائے گا ۔سرکاری وسائل کو شیر مادر سمجھنے کا مائنڈ سیٹ اسی وقت سے
تبدیل ہونا شروع ہوجائے گا۔اس لیے ٹھپہ کوئی بھی غلط نہیں ہوتا ،لوگوں کاا جتماعی
شعور کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتا غلط اس وقت ہوتا ہے جب ان کے چنے ہوئے نمائندے
ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہو یا کسی بھی لیگ سے ، کان نمک میں نمک ہو کر جاتے ہیں
یہ اس لیے ہوتا ہے کہ معاشرہ ان سے اسی بات کا تقاضا کرتا ہے وہ سوسائٹی میں ’’نکو
‘‘ بن کر نہیں جی سکتے۔
کہتا ھے کون ختم ھوئ کربلا کی جنگ
ھم لڑ رھےھیں آج بھی فوج یزید سے
———————————————-
اسلام کے سب سے بڑے دھوکے باز جنرل ضیأ الحق کے زمانے میں سوادِ اعظم پاکستان بنائی گئی اسی زمانے میں شیعہ سنی اختلافات کو اتنا عام کیا گیا کہ انسان انسان سے پناہ مانگنے لگا پھر کچھ دہایوں میں یہ سلسلہ کسی حد تک کم ہوا مگر رکا نہیں
افغانستان سے کرائے کے قاتل پاکستان آنا شروع ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بستیاں کی بستیاں آباد ہونے لگیں
جس ملک میں کبھی قوم اور قبیلے اور مذہب کی بنیاد پر کوئی عناد نہ تھا آج اس جگہ پنجابی پٹھان، سندھی ، بلوچی ، مہاجر ، ہزارہ قبیلہ کی گردان کی جاتی ہے
کوئی انسانیت کی بات نہیں کرتا
کوئی اخلاق کی بات نہیں کرتا
کوئی کسی کا بھلا نہیں چاہتا
ہر کوئی اپنے اچھے برے کو دیکھ رہا ہے
حد تو یہ ہے کہ اب باقائدہ بالکہ کھلم کھلا منافقت کی جارہئ ہے
نعت و سلام کی آڑ میں منافقت کی جارہی ہے
ابو سفیان کو حضور اکرم (ص) کا چاہنے والا بتایا جارہا ہے
علی (ع) اور معاویہ(لعن) کو بھائی بھائی قرار دیا جارہا ہے
یزید کو حق شناس بتایا جا رہا ہے
یعنی حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا جارہا ہے
گو کہ یہ کام اندر خانہ 14 سو سالوں سے ہو رہا تھا مگر آج یہ برملا کیا جانے لگا ہے
کوئی اپنی اولاد کا نام یزید اور معاویہ نہیں رکھتا تھا
مگر آج کے دور مین تمام دشمنانِ اہلبیت کے نام رکھے جارہے ہیں
اور یہ سلسلہ شروع ہوا ہے عرب سے
کہ جس جگہ کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے
جو کہ عالمِ اسلام کے لیے باعثِ صد افتخار ہے
جہاں اب یزید کے نام پر مدرسے بننے لگے ہوں وہاں سے علم کیا حاصل کیا جائے گا
سوچنے لے لیئے بہت کچھ ہے
———————————————
میرے بھائ جعفر حسین سلامت رھیں
آپ کو اور آپکی اھلیہ کو اور مرحوم کے اھل خانہ کو اللہ پاک صبر جمیل عطا فرماۓ آمین
مرحوم کی مغفرت فر ماۓ ان کے درجات بلند فرما ۓ اللہ پاک بحق آل عباء مرحوم کی قبر کو کشادہ اور منور کرے آمین ّثم امین
عمران الیاس بھائ آپکی بات بہت اچھی لگی
پاکستان کا عارضہ اب ایک ٹھپے سے خاصا آگے بڑھ چکا ہے۔ پاکستان کو سلو پوائزننگ
کے ذریعے اب Ungovernable یعنی ناقابل حکمرانی کے مقام تک لایا جا چکا ہے ۔یہی
وجہ ہے عمومی طور پر کہاجاتا ہے کہ پاکستان کے عارضوں کا علاج اب ایک بھرپور
سرجری میں مضمر ہے ۔سرجری بھی وہ نہیں جو علامہ طاہر القادری نے کرنے کی
کوشش کی تھی ۔اس کنٹینرانہ سرجری اور انقلاب کا انجام دیکھ کر تو اب کچھ عرصہ تک
لوگ انقلاب کانام سن کر کانوں میں انگلیاں ٹھونستے رہیں گے ۔البتہ سرجری کا ایک
طریقہ یہ بھی ہے کہ حکمران سب سے پہلے اپنے پیٹ پر پتھر باندھیں ۔حکمران کے دین
پر عوام کا دین ہوتا ہے کی تاریخی صداقت کے تناظر میں ملک کا آدھا مسئلہ اسی بات
سے حل ہوجائے گا ۔سرکاری وسائل کو شیر مادر سمجھنے کا مائنڈ سیٹ اسی وقت سے
تبدیل ہونا شروع ہوجائے گا۔اس لیے ٹھپہ کوئی بھی غلط نہیں ہوتا ،لوگوں کاا جتماعی
شعور کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتا غلط اس وقت ہوتا ہے جب ان کے چنے ہوئے نمائندے
ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہو یا کسی بھی لیگ سے ، کان نمک میں نمک ہو کر جاتے ہیں
یہ اس لیے ہوتا ہے کہ معاشرہ ان سے اسی بات کا تقاضا کرتا ہے وہ سوسائٹی میں ’’نکو
‘‘ بن کر نہیں جی سکتے۔
مالک دوجہاں
مختار کل
اے قادر المطلق
یا رب کردگار
یا رب ذوالجلال
اے میرے رب
اے میرے رب
اے میرے رب
یا اللہ
یا اللہ
یا اللہ
اپنے حبیب آقاۓ دوجہاں
کے صدقے اور طفیل
پاکستان میں دھشت گردوں کے ھاتھوں
دشمنان اسلام کے ھاتھوں مرنے والوں
کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی ترین مقام
عطا فرماء آمین ثم آمین
سونپتی رھتی ھے یہ کتنے کلیجوں کو خراش
روز آيئنے کیا کرتی ھے کتنے پاش پاش
کتنے بوڑھوں سے جواں بیٹوں کی اٹھواتی ھے لاش
کتنی تمکینوں میں بھرتی ھے یہ کرب و ارتعاش
کیا بتاوں روز کتنے پھول مرجھا تی ھے یہ
ماوں سے کتنے چہتے چیھن لے جاتی ھے یہ
جوش
ندامت سے ہوں لرزیدہ مگر ہے التجا مولا
سزا کس جرم کی ہے اتنا تو ہم کو بتا مولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ہم پہ رحم کر دے سرخ فیتے سے بچا مولا
ہیں رستے بند سارے کوئی رستہ تو دکھا مولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نشانے پر جو خود کُش کے ہیں میرے بھائی ہیں سارے
مرا دم گھُٹ رہا ہے صرف اک موجِ صبا مولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھا کر رات دن لاشیں قدم بھی لڑکھڑاتے ہیں
یہ لاشہ نوجواں کا اب نہیں ہے اٹھ رہا مولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں آتا سمجھ میں کس طرح اسکو جدا کردوں
بدن سے میرے لپٹا ہے مرا بندِ قبا مولا
۔۔۔۔۔۔
لہو میں تر بتر ہیں ارضِ پاکستان کے باسی
بتا دے عہدِ نو کی کیا یہی ہے کربلا مولا
۔۔۔۔۔۔۔
جہالت میں گھری ہے میرے آقا کی یہ امت سب
کرم کر اور جہالت کے یہ سب پردے ہٹا مولا
۔۔۔۔۔۔۔۔
تجھے ہےواسطہ آلِ محمد کا مرے مالک
خطاکاروں کی کر دے درگزر یہ بھی خطا مولا
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ میرے چاروں جانب سانپ ڈستے ہیں مجھے صفدر
ہوا ہے بے اثر کس طرح موسیٰ کا عصا مولا
اسلام علیکم
معافی چاہتی ہوں بھائی طفر جعفری امید کہ در گزر فرمائینگے ۔
اللہ آپ کو جزا دے ۔
عالم آرا
اآپ کا نام پھر غلط لکھا گیا
معافی کی طلبگار