کیاانصاف کا یہ تقاضہ نہیں کہ پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز کا نام شہید ذولفقار علی بھٹو انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز ہوجانے کے بعد اب پاکستان کا نام بھی بدل کر اسلامی جمہوریہ شہید ذولفقار علی بھٹو رکھدیا جائے۔ پاکستان نے تو 1971 میں صرف آدھی شہادت دی تھی جبکہ سائیں ذولفقار علی بھٹو نے پوری شہادت دی ہے -قائدِ اعظم نے تو انگلی کٹاکر بھی شہیدوں میں نام نہیں لکھوایا۔

برادر ظفر جعفری بجا ارشاد۔ یہ حکومتیں نہیں یہ حاکمین ہیں اور ریاست انکے باپ دادا کی جاگیر اور عوام اس جاگیر میں انکی نسلوں کے غلام۔تف انکے تخم نا بسم اللہ پر
واہ ری حکومت، ترے پرخچے اُڑاواں۔
فکر نہ کریں اب جو رسم چل نکلی ہے توآنے اپنے پدر ِنسبتی کے نام پہ نام رکھدیں گے
سر یہاں “اسلامی” اور “جمہوریہ” کے الفاظ بھی نامناسب ہیں۔ کیونکہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہاں نہ اسلام نظر آیا اور نہ ہی جمہوریت۔
اسلام علیکم
میں نے اس خوف کا اظہار بہت پہلے کیا تھا ۔ ہر آنے والے ناموں کو اپنے حکمرانوں یا اپنی پسند کے ناموں سے بدل دیتے ہیں ۔ ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ پانچ سال بعد ہر چیز بے نظیر ہوگی ،
لیکن دکھ یہ ہے کہ پہلے فوٹو پیچھے گئے ۔ پھر ان کی زات کے مقابلے میں بھی آئے ۔ اب احسان کا بدلہ یہ ہے کہ ناموں کو بھی کم سے کم جگہ رہنے دیا جائے ۔ اُس قاعد کا نام جس نے تن تنہا آزادی کی جد و جہد کی اور ایک آزاد ملک اللہ کی رحمت اور اس مالک کل کی تائید کے ساتھ حاصل کیا اس کا نام بھی کم سے کم جگہوں پر رہنے دیا جائے ۔ڈکھ کی بات ہے ۔
لیکن جب جعلی ڈگریاں ملک میں ہر طرف ہوں تو ایسی باتوں پر افسوس نہیں ہوتا ۔
اللہ ہمیں اچھی قیادت عطا فرمائے ۔آمین
عالم آرا
بھائی اسلام نہ سہی اسلام آباد تو ہے؟
جب سے پاکستان موجودہ بحران میں پھنسا ہے ایک طبقہ چیخ چیخ کر کہتا چلا آرہا ہے کہ
پاکستان کی موجودہ بحرانی کیفیت میں ایک بیرونی ہاتھ بھی موجود ہے مگر یار لوگ ہیں
کہ اسے افسانہ قرار دے کر دنیا کی ہر خرابی کا ذمہ دار جنرل ضیاء الحق کو قرار دے
رہے ہیں۔جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی کے انداز کی بات تو دور اس کا جواز ہی کسی
کتاب میں تلاش نہیںکیا جا سکتا ۔فی زمانہ کسی شخص کو یہ حق دیا ہی نہیں جا سکتا کہ
وہ ایک قوم کے دستور العمل اور عمرانی معاہدے کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھ کر اپنے
فرمان کو قوم کا دستور العمل قرار دے ۔مگر یہ کہنا بھی ایک منفی نفسیاتی رویہ ہے کہ
ضیاء الحق کے اقتدار سے پہلے پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں،شیر
اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پی رہے تھے ۔چہار سو محبتوں کی برکھا برس رہی تھی
۔خوش حالی اور قومی یکجہتی کی قوس ِقزح ماحول پر سایہ فگن ہوا کرتی تھی ۔جب بھی
ان لوگوں کو بتایا جاتا تھا کہ پاکستان میں تشدد کی لہر میں بالواسطہ یا بلاواسطہ بیرونی
ہاتھ ہے تو یہ حضرات قسم کھا کر اس میں ضیاء الحق کا ہاتھ تلاش کرتے تھے ۔اب کہیں
سے نومنتخب امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کی دو برس پرانی تقریر ہاتھ آگئی ہے ۔تقریر
کیا ہے پاکستان میں بحرانوں اور دہشت گردی کے محرک کی نشاندہی اورمعتبر گواہی
ہے۔
چک ہیگل نے اپنی اس تقریر میں کہاہے کہ بھارت پاکستان میں مسائل پیدا کرنے کے لیے
افغانستان کو سیکنڈ لائن کے طور استعمال کرنے کے علاوہ اور بہت کچھ کر رہا ہے۔جو
لوگ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کی کلنٹن کی اس گواہی کو معتبر جان کرکہ بھارت
پاکستان کا بہترین دوست ہے جس سے دوستی کر کے پاکستان کی معیشت راکٹ کی رفتار
سے ترقی کر سکتی ہے اور چین و ایران خطرناک ممالک ہیں ان سے دوستی سے بی
چوہیا لنڈوری ہی بھلی،سردھنتے تھے خدامعلوم اب اسی امریکا کے وزیر دفاع کی گواہی
کو معتبر کیوں نہیں مانتے؟ چک ہیگل کی بات کو درست مان لیا جائے تو سمجھ جانا
چاہیے کہ پاکستان نے بھارت کی ریشہ دوانیوں سے تنگ آکر افغانستان کو اپنی سیکنڈ
ڈیفنس لائن بنانے کا خواب دیکھا تھا وہ سارا منصوبہ بھارت نے اسی پر اُلٹ دیا ہے ۔اب
بھارت افغانستان کو ایک بار پھر پاکستان کے خلاف اپنی سیکنڈ ڈیفنس لائن بنانے میں
کامیاب ہوگیا ہے۔ اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا تصور کسی شوق کشور کشائی اور شوق حاکمیت کا
نتیجہ نہیں تھا بلکہ تنگ آمد بجنگ آمد کا ہی شاخسانہ تھا۔
تین سال قبل میں اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے کے لئے’’ دہشت گردی کے خلاف
جنگ اور پاکستان ‘‘کے عنوان سے ایک ریسرچ اسٹڈی تیار کررہا تھا تو تحقیق اور کئی
باخبر لوگوں سے تبادلہ ٔ خیال کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ پاکستان کو موجودہ
حالات سے دوچار کرنے میںمحض جہادی مائنڈ سیٹ ،ضیاء الحق کے انداز حکمرانی اور
افغان جہاد کا نہیں بلکہ نائن الیون کے بعد اُبھرنے والی کئی نئی سیاسی حرکیات کا گہرا
عمل دخل ہے ۔البتہ جہادی مائنڈ سیٹ کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ نہایت صفائی اور مہارت
کے ساتھ بھڑا دیا گیا ہے ۔لال مسجد آپریشن اس کانقطۂ عروج تھا۔یہ فیصلہ کن موڑ
پاکستان کے لیے ایک عجیب مشکل کا آغاز ثابت ہوا جب اس کے انسانی اثاثے پورس کے
ہاتھیوں کی طرح خود اسی کو کچلنے لگ گئے ۔جب اپنے ہی دوستوں کی بندوقیں پیچھے
مڑ کر خود اپنوں ہی کے خلاف تن گئیں۔اپنے ہاتھوں کے سنگ اپنے ہی سر پر برسنے
لگ گئے۔اب لال مسجد کمیشن کی رپورٹ سامنے آئے گی تو توقع کی جانی چاہیے اس
میں ان’’ ماہرین‘‘ کا ذکر ضرور ہوگا جنہوں نے پاکستان کو اس نئی صورت حال سے
دوچار کر دیا تھا۔ چک ہیگل کی گواہی کی گونج سنائی ہی دے رہی ہے کہ سابق وزیر
اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے گوادر کی بندرگاہ چین
کے حوالے کرنا مناسب فیصلہ نہیں اس سے بلوچوں کا احساس محرومی مزید بڑھ جائے
گا۔جب سے گوادر پورٹ کا کنٹرول چینی کمپنی کے حوالے کیا گیا ہے اس سلسلے میں
مخالفانہ آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں ہیں۔میاں نوازشریف کی آواز بھی انہی میں شامل
ہے۔چائنا اوورسیز پورٹ کو ایسٹ انڈیا کمپنی قرار دینے کی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ گوادر پر چین کاکنٹرول امریکا اور بھارت کو ناگوار ہے ۔یہ دنوں ملک
دوستی اور ہمسائیگی کا کوئی اعلیٰ معیارپیش کرنے سے قاصر رہے ہیں۔امریکا نے
پاکستان کو ہر لمحہ استعمال کرکے پھینک دیا جبکہ بھارت نے بھی دبائو کے لمحوں میں
پاکستان کی منت ترلے اور دبائو سے نکلنے کے بعد آنکھیں دکھانے سے گریز نہیں کیا
۔نائن الیون کے بعد دونوں ملک یک جان و دو قالب ہو کر رہ گئے ۔امریکا نے پاکستان اور
کشمیر کے بارے میں بھارت کی فلاسفی اور اصطلاحات کو اپنا لیا۔حد تو یہ کہ کشمیریوں
کی جائز اور قانونی جنگ آزادی کو بھی القاعدہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔اس کے برعکس
چین پاکستان اور کشمیریوں کاآزمودہ دوست ہے ۔امریکا یہ سمجھتا ہے کہ گوادر بندرگاہ
کی صورت میں مشرق وسطیٰ کے وسائل میں چین ایک نیا اور طاقتور حصہ دار بن کر
سامنے آئے گا۔بھارت کو یہ غم کھائے جا رہاہے کہ چین اس کی معاشی اور بحری ناکہ
بندی کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا۔اس غم میں دونوں ملک ہلکان ہو رہے ہیں اور
دونوں پاکستان کو تشدد کی آگ میں جلا رہے ہیں۔سی آئی اے اور را مل کر پاکستان میں
بدترین دہشت گردی کروار رہی ہیں۔اس کے لیے کہیں تحریک طالبان کو استعمال کیا جا تا
ہے تو کہیں بلوچ مزاحمت پسندوں کو۔المیہ یہ ہے کہ بلوچ مزاحمت پسند وسائل کی چھینا
جھپٹی میں اسی طرح ایندھن بن رہے ہیں جس طرح افغان عوام سوویت یونین اور امریکا
کی کشمکش میں راہ کی گھاس بنے تھے۔بندرگاہ اگر چین کے حوالے نہ ہوتی تو کیا یہ
کسی سردارکے کنٹرول میں دی جاتی ؟اتنے بڑے ادارے ذاتی تصرف میں نہیں دیے
جاتے۔ اسے پاکستان کے وفاقی اداروں نے ہی چلانا تھا اسے کسی بلوچ سردار یا صوبائی
حکومت نے تو نہیں چلانا تھا مگر مین میکھ نکالنے والوں نے اس صورت میں بھی اپنا
کام کرنا تھا۔قدرتی گیس کے ذخائر تو چینی کمپنی کو نہیں دیے گئے یہ تو آج بھی پاکستانی
اداروں کے پاس ہی ہیں پھر ہر سال دو سال بعد رائیلٹی کا تنازع تصادم کی شکل کیوں
اختیار کرتا رہا ؟نواب اکبر بگٹی اور عطاء اﷲ مینگل بہت صاف گو لوگ رہے ہیں انہوں
نے اس معاملے میں اگر کبھی کھل کر اقرار نہیں کیا تو انکار بھی نہیں کیا۔نواب اکبر بگٹی
نے اپنے آخری آخری ٹی وی انٹرویو میں یہ برملا کہا تھا کہ اگر شیطان بھی ان کی مدد
کرے تو وہ اسے قبول کریںگے ۔اسی طرح سردار عطا ء اﷲ مینگل نے بلوچ مزاحمت
پسندوں کو بھارت کی امداد حاصل ہونے کے سوال کے جواب میں ایک سرد آہ بھر کر کہا
کہ ’’کاش ایسا ہوتا‘‘۔اس لیے بلوچ سرداروں کو بندرگاہ کو کھیل تماشا بنانے کی بجائے
اس سے پیدا ہونے والے مواقع اور امکانات سے فائدہ اُٹھانا چاہیے ۔بلوچستان کے ساحل پر
اس قدر بڑی معاشی سرگرمی اس خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔اسی طرح بعض لوگ
اقصائے چن کا علاقہ چین کے کنٹرول میں دینے پر بھی اعتراض کرتے ہیں مگر پاکستان
نے اس فیصلے سے چین کو تنازع کا ایک اور فریق بنا کر بھارت کی پوزیشن کوکمزور
کیا تھا ۔کمزور لوگ کسی مضبوط دشمن کے مقابلے میں اپنے ہاںکسی دوسری مضبوط
طاقت کے لیے مفاد اور کشش پیدا کرتے ہیں۔یہ سیاست کے کھیل ہوتے ہیں۔ چک ہیگل کی
گواہی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے کرداروں کو جنرل ضیاء الحق کے نام اور
سائے کے پیچھے چھپانے والوں کو اپنی ادائوں پر ایک بار غور ضرور کرنا چاہیے۔