عالمی یوم خواتین ہر سال آتا ہے اور گزر جاتا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا عالمی دنوں کو منانے سے ہماری خواتین کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہے.
ہمارے سٹا ف روم میں گر ما گرم بحث ہو رہی تھی ؛کہ آج کادن خواتین کا ھے-مختلف قسم کی آر اتھیں-ان میں سے چند ایک قا رئین کے لیے “عملی طو ر پر دیکھا جائے ھر فیلڈ میں مر د کا
اقتدار زیادہ ھے -گھر ،ہو یا با ھر زیادہ تر اسی کی چلتی ھے۔” ” عورت ہر کام میں چاہے وہ مر د سے بہتر بھی کرے،اس کی تنخو اہ مر د سے کم ہے-” اسی طر ح کی کتنی ہی مثالیں زیر بحث تھیں
–
میں آج ایک ترقی پسند شاعرکی بات نہیں بھو لتی اس نےکہا تھا کہ جب میں بچپن میں گڑ یو ں سے کھیلتا تھا تو والدین کے ساتھ ساتھ ارد گرد ما حول والو ں کو اچنبھا ہوتا تھا-جب لوگ بڑ ی عمر میں ا س طر ح کریں تو ز یادہ تکلیف دہ بات ھے-جب چاہے ،جب دل بھر جا ئے تو دوسر ی عور ت سے شادی کرلی-”
اسطرح کا قدم اٹھاتے وقت ذیادہ تر عام طور پر مرد اتنی سنجید گی سے نہیں سوچتا جتنا عورت سوچتی ھے-اب مر د حضرات اس کو پڑھتے وقت اپنی اچھی مثال دینے سے پہلے یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ اکثر یت کی بات ھور ہی ہے-
ہمارے ملک پاکستان کو بنے کتنے سال ہو چکے مگر ہم ابھی تک جاگیردارانہ قبائلی کلچراور فرسودہ رسم و رواج سے پیچھا نہیں چھڑا سکے ۔ عورتوں پر تشدد بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس سے انسانی زندگی کی قدر اور وقار کی نفی بھی ہوتی ہے ۔ یہ پاکستان کے آئین کی شق 34 کے تحت عورتوں کی قومی زندگی میں پوری طرح شمولیت کے حق پر بھی اثرانداز ہوتا ہے ۔ ہمارے ملک میں عورتوں پر کئی قسم کے تشدد عرصے سے ہوتے آرہے ہیں۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اسلام عورت کا احترام کرنے والا مذہب ہے آج سے چودہ سو سال پہلے مسلمانوں کو میرے پیارے رسولﷺ نے یہ سبق دیا کہ عورت قابل عزت ہستی ہے بانی پاکستان نے بھی عورتوں کو پاکستان میں برابری کا حق دیا ان کے حقوق کی حفاظت کا اپنی ہر تقریر میں ذکر کیا ہمیں تو اپنے مذہب اور اپنے نظریہ پاکستان کے مطابق عورت پر تشدد کو فوری طور پر ختم کرنا چاہئے۔

عابدہ جی.آپ کی باتیں توجہ طلب ہیں.دراصل خواتین کے حقوق پر ڈاکہ صرف مرد نے نہیں ڈالا بلکہ اسمیں معاشرے کے تمام طبقے اور سوچ شامل ہے. مردوں اور عورتوں کی نفسیات میں ایک بنیادی فرق تو فطرت نے رکھا ہوا ہے لیکن عورت سے زیادتی فطرت نے نہیں معاشرے نے کی ہے.ہاں یہ بات ضرور توجہ طلب ہے کہ معاشرہ کیا ہے؟ میں اور آپ سے مل کر معاشرہ بنتا ہے
Aabida jee m samjhti hu k mard itna aurat p zulm nhi kerta jitna ek doosri aurat p ker jati hy
Safdar jee ki baat sahi hy k ye muashry ki zayadti hy
Aalmi din to bht khamoshi sy guzar jata hy is sy zada to valentines manaya jata hy 🙂
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ معمول کے مطابق جاری ہے اور مسخ شدہ لاشیں بھی مسلسل مل
رہی ہیں۔ گزشتہ بدھ کو بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں 6 افراد قتل کردیے گئے ہیں۔
سفا کی سے قتل ہونے والوں میں عالمی شہرت یافتہ خدمت خلق کے نجی ادارے اورنگی
پائلٹ پروجیکٹ کی خاتون سربراہ کاسفاکانہ قتل بھی شامل ہے۔ اس قتل سے اندازہ کیا
جاسکتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی واقتصادی مرکز میں لوگ کن
حالات میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کراچی کی غریب ترین آبادی
میں نجی سطح پر خدمت فراہم کرنے والی تنظیم ہے جس کی کارکردگی کو عالمی سطح
پر تحسین کی نظروں سے دیکھا گیا ہے۔ کرائے کے سفاک قاتلوں نے پروجیکٹ کی
خاتون سربراہ پروین رحمن کو نشانہ بناکر قتل کردیا جو اپنے دفتر سے گھر واپس جارہی
تھیں۔ پروین رحمن عالمی سطح کی این جی او کی سربراہ تھیں اس لیے ان کا رابطہ قومی
اور بین الاقوامی سطح
پر بھی تھا اور انہوں نے کراچی کی آبادیوں میں زمینوں پر قبضے
کے خلاف بھی آواز اٹھائی تھی۔ اس سے پہلے بھی کراچی کی ایک اور قدیم بستی میں گٹر
یاغپچہ کی زمین پر قبضے کے خلاف مہم چلانے والے سیاسی اور سماجی کارکن کو
بھی قتل کردیا گیا۔ اس
واقع سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب امور مملکت جرائم پیشہ طبقات اور
مختلف مافیائوں کے سپرد
ہوگئے ہیں اور جو بھی بدعنوانی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا
ہے اس کو خاموش کردیا جاتا ہے۔ کراچی میں تمام رفاہی اراضی پر قبضہ ہوچکا ہے
کوئی باغ باقی نہیں بچا ہے۔ عدلیہ نے سندھ میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا جائزہ
لینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کراچی میں بھی اسکولوں کی عمارتوں پر قبضہ ہوچکا ہے
اور کئی عمارتیں مارکیٹوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ ایک نبجی ادارے کی خاتون سربراہ کے
قتل کی پشت پر مجرموں کی لینڈ مافیا شامل ہے۔ اس صورت حال کی مزاحمت کرنا شہر
کو بچانے کے لیے ضروری ہے۔