انشا جی یہ فیض ہے کس کا، کیا ہے اس کا نام ومقام ؟

انشا جی یہ فیض ہے کس کا ، کیا ہے اس کا نام مقام ؟
ہم تو رنگ تمھارا جانیں ، ایسے کب اشعار کہو !
۔۔۔۔
میں نے اب تک جن اردو شعرا پر بلاگ لکھے ان میں یہی بات مشترک ہے کہ وہ سب میرے اور تمام اردو دنیا کے پسندیدہ شاعر ہیں ۔
قمر جلالوی ، جوش ملیح آبادی ، ڈاکٹر پنہاں اور انکے علاوہ ساحر اور مجاز پر جو بلاگ میں نے پیش کیے ان کی پذیرائی پر میرا دل مطمئن ہے ۔
آج میں شیر محمد خاں انشا عرف ابن انشا پر یہ بلاگ پیش کررہاہوں۔ امید کہ پڑھنے والوں میں سے وہ تمام حضرات و خواتین جنھوں نے ابن انشا کو قریب سےدیکھا اور سنا اور اسکی نظم اور نثر کا مطالعہ کیا ، وہ سب بھی اس بلاگ میں حصہ لے کر ابن انشا کی نظم اور نثر اور خاص طور پر اسکی نثر نگاری میں اسکی بذلہ سنجی کے عنصر پر تبصرے کرینگے ۔

اپنی ایک طویل نظم کے ایک شعر میں انشا نےاپنا تعارف اس طرح کروایا:
انشا جی جسے پکارتے ہو
اس شخص کا نام شیر خاں ہے
۔۔
انشا 27 جون 1927 کو جالندھر کے ایک قریب گاوں میں پیدا ہوا۔ اور اپنی زندگی پاکستان میں گذاردی ۔ وہ 11 جنوری 1978 کو پچاس سال کی عمر میں اس دنیا کو خون کی جاں لیوا بیماری سے شکست کھاکر ، چھوڑ گیا ۔ اس کی تدفین کراچی میں‌ہوئی ۔
انشا پاکستان کے شعرا کی صف ِ اول کا شاعر تھا اوراپنے ہم عصر شعرا میں کافی مقبول تھا۔ اسکی یاد اب بھی پاکستان کے شعرا نہایت ہی محبت اور احترام کے ساتھ کرتے ہیں۔
اس نے پنجاب یونیورسٹی سے 1946 میں بی اے کیا اور کراچی یونیورسٹی سے 1953 میں ایم اے کیا۔
وہ ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہا مگر اس نے اقوام متحدہ کے آفس کی ملازمت کے سلسلے میں دنیا بھر کے ممالک کا دورے کیے اور ان دوروں کے سفر نامے بڑے دلچسپ انداز میں تحریر کیے۔
ابن انشا کی تصنیفات میں چاند نگر، دلِ وحشی ، اس بستی کے اک کوچے میں ، آوارہ گر د کی ڈائری ، دنیا گول ہے ، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہیں تو چین کو چلیے ، نگری نگری پھرا مسافر، خمارِ گندم اور اردو کی آخری کتاب اور خط انشا جی کے ، شامل ہیں
۔۔۔۔
انشا کےاشعار میں امیر خسرو اور میر کا انداز ہے اور فارسی اور عربی کے الفا ظ کی مقابلہ میں ہند ی الفاظ کا خزانہ موجود ہے جس کی وجہ سے اس کے اشعار انتہائی آسان اور عام فہم ہیں۔
اس کے اشعار میں سے چند ایک کی مثال پیش خدمت ہیں:
جانے کیا تو ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانےمیں
لیلےٰ تو اے قیس ملے گی دل کے دولت خانے میں

جنم جنم کے ساتوں دکھ ہیں اس کے ماتھے پر تحریر
اپنا آپ مٹانا ہوگا ، دل کے دولت خانے میں

اس بستی میں اتنے گھر تھے اتنے چہرے اتنے لوگ
اور کسی کے درپر پہنچا ؟ ایسا ہوش دوانے ہیں؟

بے دردسننی ہوتو چل ، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق ترا، رسوا ترا، شاعر ترا ، انشا ترا

اس شہر میں کس سے ملیں ؟ ہم سے تو چھوتی محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے ، ہر شخص دیوانا ترا

راز کہا ں تک راز رہے گا منظرِ عام پہ آئے گا
جی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گا

رات کے خواب سنائیں کس کو ، رات کے خواب سہانے تھے
دھندلے دھندلے چہرے تھے۔ پر سب جانے پہچانے تھے

پھر ہجر کی لمبی رات میاں ، سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی ‘
جو دل میں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کیا ، گھبرانا کیا؟

جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں ، کیو ں بن میں نہ جا بسرام کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا ؟

ہم سے جس کے طور ہوں بابا ، دیکھوگے دو ایک ہی اور
کہنے کو تو شہر کراچی بستی دل زدگا ں کی ہے

سب کو دل کے داغ دکھائے ، ایک تجھی کو دکھا نہ سکے
تیرا دامن دور نہیں تھا ، ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکے

شب ماہ میں جب بھی درد اٹھا ، کبھی بیت کہی لکھی چاندنگر
کبھی کو ہ سے جا سر پھوڑ مرے ، کبھی قیس کو جا استاد کیا

کس کو پار اتارا تم نے، کس کو پار اتارو گے
ملا حو تم پردیسی کو ، بیچ بھنور میں ماروگے
۔۔۔۔۔۔۔
ان چند اشعار کے بعد کوشش کرونگا کہ انشا کی
نظموں کے اقتباسات بھی پیش کروں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ انشا کی شاعری کے دلدادہ اس بلاگ میں انشا پر اوراسکی شاعری پر کیاارشاد فرماتے ہیں۔
فقط :
منظور قاضی از جرمنی

50 thoughts on “انشا جی یہ فیض ہے کس کا، کیا ہے اس کا نام ومقام ؟”

  1. منظور بھائی مجھے بے اتہا خوشی ھے کہ آپ نے ابن انشا پر مضمون باندھا ھے ۔۔ ابن انشا میرے بے اتہا پسندیدہ ادیب اور شاعر ھیں ۔۔ مجھے ان کی شاعری سے کہی زیادہ ان کا نثری اسلوب متاثر کرتا ھے ۔۔ میں نے ان کے بھائی جناب محمود ریاض اور ان کے بھتیجے جناب محمود بابر فیصل کی شفقت تلے اپنی نثر نگاری کی ابتدا کی تھی ۔۔ میں اس پورے خانوادے کی احسانمند ھوں کہ ان کی شفقت اور تربیت سے میں آج آپ سب کے درمیان ھوں ۔۔ اللہ پاک ابن انشا ، محمود ریاض اور محمود بابر فیصل کو غریق رحمت کرے ۔۔آمین

    ابن انشاء کی لکھی ھوئی چند یادگار تحریریں

    “ایک دعا”

    یا اللہ کھانے کو روٹی دے پہننے کو کپڑا دے رہنے کو مکان دے عزت اور آسودگی کی زندگی دے

    میاں یہ بھی کوئی مانگنے کی چیزیں ہیں؟ کچھ اور مانگا کر بابا جی آپ کیا مانگتے ہیں؟ میں؟ میں یہ چیزیں نہیں مانگتا میں تو کہتا ہوں اللہ میاں مجھے ایمان دے نیک عمل کرنے کی توفیق دے

    بابا جی آپ ٹھیک مانگتے ہیں انسان وہی چیز تو مانگتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی

    “ہمارا ملک ”

    ایران میں کون رہتا ہے؟ ایران میں ایرانی قوم رہتی ہے؟ انگلستان میں کون رہتا ہے؟ انگلستان میں انگریز قوم رہتی ہے؟ فرانس میں کون رہتا ہے؟ فرانس میں فرانسیسی قوم رہتی ہے؟ یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے اس میں پاکستانی قوم رہتی ہوگی؟ نہیں اس میں پاکستانی قوم نہیں رہتی ؟ اس میں سندھی قوم رہتی ہے اس میں پنجابی قوم رہتی ہے اس میں بنگالی قوم رہتی ہے اس میں یہ قوم رہتی ہے اس میں وہ قوم رہتی ہے لیکن پنجابی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ سندھی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ بنگالی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ پھر یہ ملک الگ کیوں بنایا تھا؟ غلطی ہوگئی معاف کردیجئے، آئندہ نہیں بنائیں گے؟

    “پاکستان ”

    حدود اربعہ پاکستان کے مشرق میں سیٹو ہے، مغرب میں سنٹو، شمال میں تاشقند اور جنوب میں پانی یعنی جائے مفر کسی طرف نہیں۔ پاکستان کے دو حصے ہیں، مشرق پاکستان اور مغربی پاکستان یہ ایک دوسرے سے بڑے فاصلے پر ہیں، اس کا اندازہ اب ہورہا ہے۔ دونوں کا اپنا اپناحدود اربعہ بھی ہے۔ مغربی پاکستان کے شمال میں پنجاب ، جنوب میں سندھ ، مشرق میں ہندوستان اور مغرب میں سرحد اور بلوچستان ہیں، یہاں پاکستان خود کہاں واقع ہے اور واقع ہے بھی نہیں اس پر آج کل ریسرچ ہورہی ہے۔مشرقی پاکستان کے چاروں طرف آج کل مشرقی پاکستان ہی ہے۔

    ” پیاسا کوا ”

    ایک پیاسا کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔ اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی پاس ہی بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔

    کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ہی نڈھال بھی ہوگیا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔ پھر بے سدھ ہو کر زمین پرگرگیا اور مرگیا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ہر گز جان سے نہ جاتا۔

    ” کبوتر ”

    کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتر ۔سفید کبوتر ، نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہر النساء کو جب کہ وہ ابھی بے بی نورجہان تھیں ۔کبوتر ہی تو پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیااور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔

    یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟ نورجہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔

    اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہواتو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد ہی سے شادی کر کے بقیہ عمر ہنسی خوشی بسر کر دیتا تھا۔چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر وائی ملک کے پاس بھیجا تھا۔الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آ گئی۔طوطے کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔

    ” ابتدائي حساب ”

    حساب کے چار بڑے قاعدے ہيں

    جمع، تفريق، ضرب، تقسيم

    پہلا قاعدہ : جمع

    جمع کے قاعدے پر عمل کرنا آسان نہيں

    خصوصا مہنگائي کے دنوں میں سب کچھ خرچ ہوجاتا ہے

    کچھ جمع نہيں ہوپاتا

    جمع کا قاعدہ مختلف لوگوں کيلئے مختلف ہے

    عام لوگوں کيلئے ١+١ = 1 1/2

    کيونکہ 1/2 انکم ٹيکس والے لے جاتے ہيں

    تجارت کے قاعدے سے جمع کرائيں تو 1+1 کا مطلب ہے گيارہ

    رشوت کے قاعدے سے حاصل جمع اور زيادہ ہوجاتا ہے

    قاعدہ وہي اچھا جس ميں حاصل جمع زيادہ آئے بشرطيکہ پوليس مانع نہ ہو

    ايک قاعدہ زباني جمع خرچ کا ہوتا ہے

    يہ ملک کے مسائل حل کرنے کا کام آتا ہے

    آزمودہ ہے

    ” فعل ديگر ”

    فعل کي بنيادي قسميں دو ہيں، جائز فعل، ناجائز فعل، ہم صرف جائز فعل کے افعال سے بحث کريں گے، کيونکہ قسم دوئم پر پنڈت کو آنجہاني اور جناب جوش مليح آبادي مبسوط کتابيں لکھ چکے ہيں۔

    فعل کي دو قسميں فعل لازم اور فعل متعدي بھي ہيں، فعل لازم وہ ہے جو کرنا لازم ہو، مثلا افسر کي خوشامد، حکومت سے ڈرنا، بيوي سے جھوٹ بولنا وغيرہ۔

    فعل متعدي عموما متعدي امراض کي طرح پھيل جاتا ہے ايک شخص کنبہ پروري کرتا ہے، دوسرے بھي کرتے ہيں، ايک رشوت ليتا ہے، دوسرے اس سے بڑھ کر ليتے ہيں، ايک بناسپتي گھي کا ڈبہ پچيس روپے ميں کرديتا ہے دوسرا گوشت کے ساڑھے بارہ روپے لگاتا ہے، لطف يہ ہے کہ دونوں اپنے فعل متعدي کو فعل لازم قرار ديتے ہيں، ان افعال ميں گھاٹے ميں صرف مفعل رہتا ہے، يعني عوام ، فائل کي شکايت کي جائے تو تو فائليں دب جاتي ھیں ۔
    ۔۔

  2. ابن انشاء کی شاعری

    ابنِ اِنشاء کا تعلق ترقی پسند شعراء کی اس قبیل سے تھا جو اشتراکیت سے زیادہ سوشلزم کے حامی تھے ۔ مگر اس کے باوجود ان کی غزل پر کسی قسم کی چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ نظم ہو یا غزل ہر میدان میں ان کی شاعری لازوال ہے ۔ ان کے ہاں انسان کے معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی جھلک اور کسک بھی ہے اور ایک عجیب پراسرار رومانی ماحول بھی۔

    یہ دونوں تجربے ان کی شاعری میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں کبھی حسن سے لگاوٴ حد سے تجاوز کرجاتا ہے اور کبھی زندگی اپنی حد امکان سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگتی ہے ۔ ان کی نظموں پر مغربی شاعری اور ترقی پسندی کا غلبہ ہے جبکہ ان کی غزل مروجہ اصول و ضوابط کی پابند ہے وہ اپنی غزل میں میر سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں رنگ میر کی تقلید کے ساتھ ساتھ نازک، شگفتگی اور ندرت اظہار بھی ہے ۔

    انہوں نے میر کی تقلید کے باوجود اپنی غزل کو اپنے ماحول اور معاشرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپنے لئے ایک نئی راہ نکالی ہے اپنی اس خوبی کی بنا پر وہ اپنے دیگر ہم عصروں میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ ہندی کے الفاظ کے استعمال نے ان کے کلام میں وہ چاشنی اور جاذبیت پیدا کردی ہے کہ ان کے شعر سنتے ہی دل میں اتر جاتے ہیں اور قاری کو ان کی بات اپنی بات معلوم ہوتی ہے ان کی شاعری ترقی پسندی اور رومانیت کا حسین امتزاج ہے جس میں نغمگی اور موسیقیت کا عنصرنمایاں ہے ۔
    ابن انشا کی ایک خوبصورت نظم جومیری پسندیدہ ترین نظموں میں سے ایک ھے

    نظم — فرض کرو

    فرض کرو! ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
    فرض کرو! یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

    فرض کرو! یہ جی کی بپتا، جی سے جوڑ سنائی ہو
    فرض کرو! ابھی اور ہو اِتنی، آدھی ہم نے چھپائی ہو

    فرض کرو! تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
    فرض کرو! یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں

    فرض کرو! یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پِیت ہماری ہو
    فرض کرو! اِس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو

    فرض کرو! یہ جوگ بجوگ ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
    فرض کرو! بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایہ ہو

    دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو، کون دِلوں کی جانے، ہُو
    بستی بستی صحرا صحرا، لاکھوں‌کریں دیوانے، ہُو

    جوگی بھی، جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
    کاسہ لئے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں

    شاعر بھی، جو میٹھی بولی بول کے مَن کو ہرتے ہیں
    بنجارے، جو اُونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں

    اُن میں سُچے موتی بھی ہیں، اُن میں‌کنکر پتھر بھی
    اُن میں اتھلے پانی بھی ہیں، اُن میں گہرے ساگر بھی

    گوری دیکھ کے آگے بڑھنا، سب کا جھوٹا سچا، ہُو
    ڈوبنے والی ڈوب گئی، وہ گھڑا تھا جس کا کچا، ہُو

  3. السلام علیکم
    قاضی صاحب ذندہ باد )
    نگھت آپا آپ بھی ذندہ باد )
    ویسے تو میں اردو سے اچھی خاصی نا بلد ہوں ۔ اچھی خاصی مطلب اچھی خاصی اور یہ بات آپ سب لوگ بخوبی جانتے بھی ہیں ۔
    مگر قاضی صاحب کے ایسے بلاگز اگر آتے رہے اور پروردگار نے مجھے ذندگی دی اور میں عالمی اخبار پر آتی رہی تو بہت جلد میری معلومات میں اضافے کے ساتھ ساتھ میری اردو میں بھی کافی ترقی ہو جائے گی ) یہ حقیقت ہے کے یہاں آنے سے پہلے نا تو مجھے اسقدر کوئی شوق تھا اور نا ہی کوئی خاص جستجو ۔
    مگر جیسے جیسے میں عالمی اخبار پر آتی رہی یہاں معلوماتی بلاگز پڑھتی رہی تو میرے اندر جستجو بڑھتی رہی ۔اور اس کے لئیے میں بلا جھجک قاضی صاحب کی بے انتہا احسان مند ہوں کے انہوں نے ایک تو میری سرپرستی فرمائی اور انکا ہر بلاگ اپنی مثال آپ ہوتا ہے ۔میں تو پھر بھی یہاں لکھ بھی دیتی ہوں مگر مجھے اندازہ ہے کے یہاں کافی آنے والے ایسے بھی ہونگے جو بنا کچھ لکھے یہاں سے معلومات حاصل کرتے ہونگے ۔
    اتنے شاندار بلاگز اتنی معلومات میری جیسی لڑکی کے لئیے یہ ایک خزانے سے کم نہیں اسکے لئیے میں کھلے دل سے قاضی صاحب کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہوگا )
    پروردگار عالم قاضی صاحب کی سرپرستی ہم سب پر صدا قائم و دائم رکھے آمین ۔‌)
    ابن انشا کا یہ بلاگ بے حد ذبردست ہے بہت ہی شاندار ہے کم از کم میں تو کھلے دل سے قاضی صاحب کو پھر سے یہی کہونگی قاضی صاحب ذندہ باد )
    ۔
    اور نگھت آپا آپکی ہر ہر تحریر اتنی خوبصورت ہوتی ہے کے دل بے ساختہ یہی چاہتا ہے کے آپکی جتنی بھی تعریف کروں کم ہے )
    میں یہ بات بہت اچھی طرح جانتی ہوں کے مجھ سے یہاں آنے والے کافی لوگ خفا بھی ہوتے ہونگے ۔مگر میں وہی کہتی ہوں جو میرے دل میں ہوتا ہے میرے دماغ میں ہوتا ہے ۔اگر میری بات سے کسی کا دل دکھے تو اسکے لئیے بھی معزرت )
    قاضی صاحب آپکے اس بلاگ نے میرے اندر جستجو بڑھا دی ہے اب میں ابن انشا کی شاعری نیٹ پر سرچ کر رہی ہوں اور جو جو کلام میں نے ابھی تک انکے پڑھے وہ حقیقت میں اپنی مثال آپ ہیں )
    انشا جی کا ایک کلام جو کے احمد جاہنزیب نے گایا بھی ہے وہ یہاں نقل کر رہی ہوں
    ۔
    ۔اک بار کہو تم میری ہو
    ہم گھوم چکے بستی بن میں
    اک آس کی پھانس لئیے من میں
    کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو
    کوئی دیپک ہو کوئی تارا ہو
    جب جیون رات اندھیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو ۔۔
    ۔
    کلام تو یہ بہت بڑا ہے مگر یہاں یہ مختصر ہی لکھ رہی ہوں کیونکہ میرا بلاگ ویسے ہی بہت بڑا ہو گیا ہے سو معزرت )
    ذبردست قاضی صاحب کم از کم مجھے تو آپ کے زریعہ بہت اچھے اچھے کلام پڑھنے کو مل گئے ورنہ شاید یہ نام میرے ذہن میں نا آتا
    اسکے لئیے ایک دفعہ پھر آپ کا بہت بہت شکریہ )

  4. ماریہ تمھاری محبت مجھے ھمیشہ مغرور کر دیتی ھے ۔۔ دعا ھے دین و دنیاکی خوشیاں پاؤ ۔۔ جیتی رھو ۔۔

  5. میں تہ دل سے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ میرے موضوعات کی پذیرائی اتنے مثبت اور تعمیری اندا ز سے کرتی ہیں اور اپنا قیمتی وقت نکال کر اتنے پر اثر اندا ز میں کرتی ہیں۔ میں اسے میری ہی نہیں بلکہ میرے موضوعات کی خوش قسمتی سجھتا ہوں۔
    ڈاکٹر صاحبہ نے جس قدر عقیدت مندی سے ابن انشا اور اسکے قریبی اقارب کا انکی اپنی ادبی زندگی پر اثرا انداز ہونے کا اظہا ر کیا ا س کو محسو س کرکے ان سب کی روحیں خوش ہوگئی ہونگی۔
    میں سب پڑھنے والوں سے یہ ہی عرض کرونگا کہ میر ی خاطر نہیں بلکہ میرے بلاگ کے موضوعات کی شخصیات اور انکی شاعری کی خوبیوں پر اظہار عقیدت کی خاطر اپنے تبصروں سے اس بلاگ کو نوازیں۔
    میں پھر ڈاکٹر نگہت نسیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے تبصرے سے میرے بلاگ کے موضوع ( ابن انشا ) کو نوازا ۔۔ شکریہ شکریہ
    ۔۔۔۔
    سیدہ ماریہ علی صاحبہ زندہ باد : یہ انکی مہربانی اور انکا خلوص ہے کہ وہ مجھے اپنا بہی خواہ سمجھتی ہیں اور مجھے اپنے پرخلوص الفاظ سے نوازتی ہیں ۔ میں انکی اور انکی تحاریر کی دل سے قدر کرتا ہوں ۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ وہ انتہائی خلوص سے میرے بارے میں ان بلاگوں میں کھل کر لکھتی ہیں ۔ میں ان سے یہی کہونگا کہ یہ باتیں دل میں رکھنےکی ہوتی ہیں بلا گوں میں لکھ کر ( غیر دانستہ طور پر ) سب کی توجہ میرے موضوع کی بجائے مجھ پر مرتکز کرنے کے لیے نہیں ہوتیں۔
    ہاں اگر بلاگ کے موضوع اور اس موضوع کی شخصیت اور اسکےشاعری اور نثر سے وہ متاثر ہوتی ہیں تو ضرور اس کی خاطر ( میر ی خاطر نہیں ) اس کو اپنے مثبت اور تعمیری تبصروں سے نوازیں۔
    میں مشکور ہوں کہ ماریہ علی صاحبہ نے یہ لکھا کہ انکی ادبی زندگی پر میرے بلاگوں نے مثبت انداز میں اثر ڈالا۔ شکریہ شکرہ ماریہ صاحبہ شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔
    اس موقع پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی قاری ابن انشا کی ذاتی زندگی (رومانی اور ازدواجی زنگی ) کے بارے میں اور اگر اس نے کوئی اولاد چھوڑی ہوتو اسکے بارے میں کوئی روشنی غالے تو اس بلاگ کی افادیت میں اضافہ ہوگا ۔ ( اس سلسلے میں مجھے کچھ بھی نہیں‌معلوم ہے )‌۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  6. السلام علیکم
    مجھے انشا جی کی یہ نظم بہت پسند ہے

    اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
    اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
    ہے کوئی جو ساھو کار بنے
    ہے کوئی جو دیون ہار بنے
    کچھ سال مہینے لوگو
    پر سود بیاج کے دن لوگو
    ہاں اپنی جان کے خزانے سے
    ہاں عمر کے توشہ خانے سے
    کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں
    کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
    جب نام ادھار کا آیا ہے
    کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
    کچھ کام ہمیں بھی نپٹانے ہیں
    جنھیں جاننے والے جانیں ہیں
    کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
    کچھ جگ کے دوسرے دھندے ہیں
    ہم مانگتے نہیں ہزار برس
    دس پانچ برس دو چار برس
    ہاں سود بیاج بھی دے لیں گے
    ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
    آسان بنے دشوار بنے
    پر کوئی تو دیون ہار بنے
    تم کون تمہارا نام ہے کیا
    کچھ ہم سے تم کو کام ہے کیا
    کیوں اس مجمعے میں آئی ہو
    کچھ مانگتی ہو کچھ لائی ہو
    یا کاروبار کی باتیں ہیں
    یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
    ہم بیٹھے ہیں کشکول لئے
    سب عمر کی نقدی ختم کئے
    گر شعر کے رشتے آئی ہو
    تب سمجھو جلد جدائی ہو
    اب گیت گیا سنگیت گیا
    ہاں شعر کا موسم بیت گیا
    اب پت جھڑ آئی پات گریں
    کچھ صبح گریں کچھ رات گریں
    یہ اپنے یار پرانے ہیں
    اک عمر سے ہم کو جانیں ہیں
    ان سب کے پاس ہے مال بہت
    ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
    ان سب نے ہم کو بلایا ہے
    اور جھولی کو پھیلایا ہے
    تم جاؤ ان سے بات کریں ہم
    تم سے نہ ملاقات کریں
    کیا بانجھ برس کیا اپنی عمر کے پانچ برس
    تم جان کی تھیلی لائی ہو کیا پاگل ہو
    جب عمر کا آخر آتا ہے ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
    جینے کی ہوس ہی نرالی ہے ، ہے کون جو اس سے خالی ہے
    کیا موت سے پہلے مرنا ہے تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
    پھر تم ہو ہماری کون بھلا ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا
    کیا سود بیاج کا لالچ ہے کسی اور اخراج کا لالچ ہے
    تم سوہنی ہو من موہنی ہو تم جا کر پوری عمر جیو
    یہ پانچ برس یہ چار برس چِھن جائیں تو لگیں ہزار برس
    سب دوست گئے سب یار گئے تھے جتنے ساھو کار گئے
    بس یہ اک ناری بیٹھی ہے یہ کون ہے کیا ہے کیسی ہے
    ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
    جب مانگیں جیون کی گھڑیاں گستاخ انکھیاں کتھے جا لڑیاں
    ہم قرض تمہارا لوٹا دیں گے کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
    جو ساعتِ ماہ و سال نہیں وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
    جو اپنے جی میں اتار لیا لو ہم نے تم سے ادھار لیا

  7. سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ نے انشا کی جو نظم شروع کی تھی اس کے مزید چند بند:
    جب ساون بادل چھائے ہوں
    جب پھاگن پھول کِھلائے ہوں
    جب چندا روپ لٹا تا ہو
    جسب سورج دھوپ نہاتا ہو
    یا شام نے بستی گھیری ہو
    اک بار کہو‌تم میری ہو
    ہاں دل کا دمن پھیلا ہے
    کیوں گوری کو دل میلا ہے
    ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
    تم کب تک دور جھروکے میں
    کب دید سے دل کو سیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو
    کیا جھگڑا سود خسارے کا
    یہ کاج نہیں‌ بنجارے کا
    سب سونا روپا لے جائے
    سب دنیا دنیا لے جائے
    تم ایک مجھے بہتیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انشا کے پاس فارسی اور عربی الفا ظ کا طمطراق نہیں ۔ا س میں ہندی کی چاشنی ہے جس کی مثال اس پوری نظم میں ہے ( جس کے چند بند عطا اللہ عیسی خیلوی نے بڑے موثر انداز میں گایا ہے ) :

    عنوان : سب مایا ہے : ( مایا کا مطلب فریب ، سراب ، دھوکا )
    سب مایا ہے ، سب ڈھلتی پھرتی چھا یا ہے
    اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
    جو تم نے کہا ہے ، فیض نے فرما یا ہے
    سب مایا ہے
    ہا ں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
    یا ایک وہ لذت نا م ہے جس کا رسوائی
    بس اس کے سوا تو جو بھی ثوا ب کمایا ہے
    سب مایا ہے
    اک نام تو باقی رہتاہے ، گر جان نہیں
    جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
    تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
    سب مایا ہے
    معلوم ہمیں سب قیس میا ں کا قصہ بھی
    سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی ، یہ انشا بھی
    فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لا یا ہے
    سب مایا ہے
    کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو
    جس سات سمندر پار کی نار بات کرو
    اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھا ہیے؟
    سب مایا ہے
    جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
    تم جانتے ہو۔۔ہم کیونکر اس کا نام لکھیں
    دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے
    سب مایا ہے
    و ہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
    وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں‌حیرانی تھی
    آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوا یا ہے
    سب مایا ہے
    جولوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
    وہ جان کے دھوکے کھا تے، دھوکے دیتے ہیں
    ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
    سب مایا ہے
    جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
    اس شہر سے دور ۔۔ اک کٹیا ہم نے بنائی ہے
    اور کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے :
    سب مایا ہے
    ۔۔۔۔۔
    حق مغفرت کرے ابن انشا ایک سیدھی سادی ، دل کو لگنے والی شاعری کا شاعر تھا
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  8. قاضی صا حب آپ نے ایک مرتبہ پھر بہت اچھا بلاک شروع کیا ہے مبارکباد قبول فر ما ءیے۔ اور اس پر بہن نگہت کے تبصہ نے چار چاند لگا دیءے۔ آپ کا یہ فعل گزشتہ صدی کے شاعروں کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے ۔ ویسےتو انشا ء جی اپنے کام سے زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ مگر ” گاہے ، گاہےقصہِ پا رینہ را ” کے مصداق ذکر دہرا تے رہنے سے نءی نسل با خبر رہتی ہے۔ انشاء جو خود تھے وہ تو تھے ہی ۔ مگر انہوں نے اپنے پیچھے جو اپنا جانشین چھوڑا تھا وہ بھی بہت ہی پیارا بچہ تھا ۔ جس کانام تھا بابر مگر اس کی زندگی نے بھی وفا نہیں کی، اللہ دونوں کو غریق رحمت کرے کہ ایک ادارہ چھوڑ گءے ۔

  9. انشا کی اس مشہور غزل کے وہ چند اشعار جسے شائد دنیا نے کسی موسیقار سے نہیں‌ سنا :
    ہم اور رسمِ بندگی ؟ آشفتگی ؟ اُ فتادگی؟
    احسان ہے کیا کیا ترا ، اے حُسنِ لا پروا ترا

    دو اشک جانے کس لیے ، پلکوں پ آکر ٹِک گئے
    الطاف کی بارش تری، اکرام کا دریا ترا

    اے بے دریغ و بے امان، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
    ہم کو تری وحشت سہی َ ہم کو سہی سودا ترا

    ہم پر سختی کی نظر ؟ ہم ہیں فقیرِ رہگزر
    رستہ کبھی روکا ترا؟ دامن کبھی تھاما ترا

    ہاں ہاں تری صورت حسیں ، لیکن تو ایسا بھی نہیں
    اس شخص کے اشعار سے ، شہرہ ہوا کیا کیا ترا

    باقی کے اشعار ” کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا ” وغیرہ تو سب جانتے ہی ہیں ۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  10. انشا کی اس غزل کے چند اشعار تو پوری دنیا استاد امانت علی خاں کی آواز میں سن چکی ہے ۔ اس کے بقیہ اشعار یہ ہیں:
    پھر ہجر کی لمبی رات میاں َ سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
    جو دل میں ہے لب پر آنے دو ، شرمانا کیا ، گھبرانا کیا ؟

    اس روز جو ان کو دیکھا ہے َ اب خواب کا عالم لگتا ہے
    اس روز جو ان سے بات ہوئی ، وہ بات بھی تھی افسانا کیا ؟

    اس حسن کے سچے موتی کو َ ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
    جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیںَ وہ دولت کیا ؟ وہ خزانا کیا ؟

    اس کو بھی جلا دکھتے ہوئے من ! اک شعلہ لال بھبوکا بن
    یوں آنسو بن بہ جانا کیا ؟ یوں ماٹی میں مِل جانا کیا ؟

    باقی کے اشعار ” انشا جی اٹھو اب کوچ کرو ، اس شہر میں جی کا لگا نا کیا ” وغیرہ سے سب واقف ہی ہیں۔

    فقط :
    منظو ر قاضی از جرمنی

  11. شمس جیلانی صاحب نے ہمیشہ کی طرح میری ہمت افزائی کی اور میرے بلاگ کو سراہا جس کے لیے میں ان کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
    میں چاہتا ہوں کہ جب تک مجھے عالمی اخبار کی انتظامیہ نے بلاگ لکھنے کی اجاز ت دی ہے اس کو تعمیری اور مثبت طریقہ سے استعمال کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ” تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را ۔ گا ہے گاہے باز خواں ایں قصہ ء پارینہ را ” پر عمل کیا جائے ۔
    شمس جیلانی صاحب کی اس اطلاع نے غمزدہ کردیا کہ ابن انشا کا بیتا بابر بھی دنیا سے رخصت ہوگیا ۔ اللہ باپ اور بیٹے دونوں کو جنت میں جگہ دے ۔ آمین ۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اردو نظم اور نثر کی دنیا میں ابن انشا کا نام ہمیشہ کےلیے محفوظ ہوگیا ہے ۔
    شمس جیلانی صاحب کا مزید شکریہ ۔
    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  12. قاضی صاحب شکریہ ! صرف ایک تصیح کردو ں کہ بابر ان کا بیٹا نہیں بلکہ بھتیجہ تھا اور بہت ہی پیارا بثہ تھا ان کے بعد اس نے ہی کاروبار سنبھالا اور خوب سنبھالا۔ جہاں تک مجھے علم ہے انکا بیٹا کوئی نہیں تھا۔

  13. جی شمس بھائی ابن انشا کا کوئی بیٹا نہیں تھا ۔ میں نے انہی کے بھتیجے محمود بابر فیصل جو محمود ریاض صاحب کے بیٹے تھے .. کی بات کی تھی جن کی شفقت تلے میں نے ابتدائی ادبی تربیت پائی ۔ انہوں نے کرن ڈایجسٹ جیسا ادارہ تشکیل دیا تھا ۔۔ محمود بابر فیصل میرے ان محسنوں میں سے جن کے بغیر یقینا میرا سفر ادھورا رہ جاتا ۔۔

    مجھے فخر ھے کہ وہ مجھے اپنی ہمشیرہ کہتے تھے اور بڑے بھائی ھونے کے ناطے وہ میرے خوب لاڈ اٹھایا کرتے تھے ۔۔کرن ڈائجسٹ کا آفس میرے سول ھوسپٹل سے بہت ھی قریب تھا ۔ بابر بھائی اکثر مجھے فون کرتے اور کہتے کہ ھمشیرہ کھاناٹھندا ھو رھا ھے بس جلدی سے آجاّؤ ۔۔ اور پھر یوں بھی کیتے کہ سنو ہمشیرہ اس دفعہ کے شمارے میں 5 صفحے تمھارے ھیں ۔۔ آتے ھوئے ایک افسانہ بھی لیتی آنا ۔۔ کئی دفعہ کہتی کہ بابر بھائی ایسے کیسے لکھ سکتی ھوں ۔۔ وقت نہیں ملا ۔۔ اور پھر میرے کئی اور بہانے ۔۔ پر وہ بڑی محبت سے کہتے کہ تو تم چاھتی ھو کہ ھمار ا پرچہ لیٹ ھو جائے ۔۔

    میں نے اپنے بڑوں سے جتنی محبتیں پائی ھیں۔۔ انہیں میں اپنے ساتھ سرمائے کی طرح رکھتی ھوں ۔۔ آج جب بھی کوئی نیا لکھنے والا مجھے ملتا ھے تو میر اجی کرتا ھے کہ میں بابر بھائی کی طرح سر سے پیر تک شفقت اور محبت ھو جاؤ‌ں اور سیکھنے کے بعد کوئی محسن کش ھو جائے تو انہی کی طرح برباری کے ساتھ مسکرا کر آگے بڑھ جاؤں ۔۔۔اپنی اس کوشش میں کبھی کامیاب ھو جاتی ھوں توکبھی بری طرح سے ناکام بھی ۔۔۔ طالب علم جو ہوئی ۔۔

    بابر بھائی ایک چھتنار تھے جس کے سائے تلے میرے علاوہ میری بہن دلشاد نسیم (ناول نگار، افسانی نگار ، ڈرامہ رایئٹر جیو) ۔ غزالہ رشید ( ایڈیٹر بچوں کاادب، افسانہ نگار ، ریڈیو ڈرامہ نگار، مدیرہ خصوصی کرن ڈائجسٹ اور دوشیزہ ڈائجسٹ )، فرح دیبا (افسانہ نگار ، سابقہ مدیرہ خصوصی کرن ڈایجسٹ ) اور سیما رضا ( سابقہ مدیرہ کرن ڈایجسٹ ،افسانی نگار ، کراچی ریڈیو انچارج ادبی پروگرام ) اور جانے کتنے ھی اور چھوٹے چھوٹے پودے بڑے ھوئے ھیں ۔۔۔

    خدا گواہ ھے کہ ابن انشا ، محمود ریاض اور محمود بابر فیصل جیسے لوگ دنیا میں بہت ھی کم ھوتے ھیں شائد اسی لیئے اتنی جلدی ھماری نظروں سے اوجھل ھو جاتے ھیں ۔۔ پر ایسے لوگ دلوں سے نہیں جاتے ۔۔ ۔۔ اللہ پاک انہیں اور ھم سب کو اپنی رحمتوں میں رکھے ۔۔آمین

  14. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ابن انشا کے بھائی اور بھتیجے سےاتنی روحانی عقیدت اور قرب کا حال مجھے معلوم ہوتا تو میں انشا کا بلاگ کئی ماہ پہلے پیش کردیتا ۔
    میں جب ناصر کاظمی اور قابل اجمیری کے بلاگ لکھرہا تھا ا ن دنوں مجھے ابن انشا پر بھی ایک بلاگ لکھنے کا خیال آیا مگر پھر قمر جلالوی اور جوش اور دیگر شعرا کے بلاگوں پر ساری تونائی ختم ہوگئی۔
    ابن انشا کے اس بلاگ میں بہت کچھ لکھنےکی گنجائش ہے اس کے اشعار اور اسکی نثر نگاری ( جس میں رشید احمد صدیقی اور پطرس کی سی بذلہ سنجی ہے ) قابل مطالعہ ہے جس کی چند مثالیں نگہت نسیم صاحبہ نے اپنے تبصر ے میں پیش کردی ہیں۔
    میں اپنی محدو د معلومات کی روشنی میں یہ بلاگ تو شروع کرچکا ہوں مگر اس بلاگ میں وہ حضرات اور خواتین بہت کچھ لکھ سکتے ہیں جن کے پاس انشا کی ساری کتابیں موجود ہوں۔
    افسوس کہ جن کے پاس کتابیں نہیں وہ اس بلاگ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرسکتے اور جن کے پاس کتابیں ہیں وہ اپنی کتابوں کی معلومات کو اپنے ذہن میں دفنا کر ان معلومات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے سے ہچکچاتے ہیں ۔ ” بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے”

    میں پاکستان میں رہنے والے اور پاکستان سےباہر والے سخنوروں سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اس بلاگ میں ابن انشا کی تخلیقات پر کچھ نہ کچھ لکھیں ۔
    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نےجس طرح اس بلاگ کی پذیرائی کی وہ میری ہمت افزائی کے لیے کافی ہے،
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  15. انشا کی ایک نظم کے چند بند :

    یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں ، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
    تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں؟

    ہیں لاکھوں روگ زمانےمیں ، کیوں عشق ہے رسوا بیچارہ
    ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی ، انسان کو رکھتیں دکھیا را
    ہاں بے کل بے کل رہتا ہے، ہو پیت میں جس نے جی ہارا
    پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھر ے گا آوارہ ؟
    یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں ، یہ لوگوں نےپھیلائی ہیں
    تم انشا جی کا نام نہ لو ، کیا انشا جی سودائی ہیں؟
    یہ بات عجیب سناتے ہو، وہ دنیا سے بے آس ہوئے
    اک نام سنا اور غش کھایا ، ایک ذکر پہ آپ اداس ہوئے
    وہ علم میں افلاطون بنے ، وہ شعر میں تلسی داس ہوئے
    وہ تیس برس کے ہوتےہیں ، وہ بی اے ایم اے پاس ہوئے
    یہ باتیں جھوتی باتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم انشا جی کا نام نہ لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے ، تم نام نہ لو ہم جان گئے
    وہ جس کے لانبے گیسو ہیں، پہچان گئے پہچان گئے
    ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی اس گھر میں تھے مہمان گئے
    پر اس سے تو کچھ با ت نہ کی، انجان رہے انجان گئے
    یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں۔۔۔۔۔۔
    تم انشا جی کا نام نہ لو ۔۔۔۔۔
    جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں ، کیا انشا کو سمجھا نا ہے؟
    اس لڑکی سے بھی کہ لیں گے ، گو ا ب کچھ اور زمانا ہے
    یا چھوڑیں یا تکمیل کریں، یہ عشق ہے یا افسانا ہے ؟
    یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے ؟
    یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں ، جو لوگوں نےپھیلائی ہیں
    تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں؟

    ۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  16. انشا کی نظم ” اس بستی کے اک کوچے میں” کے چند اشعار :

    اس بستی کے اک کوچے میں اک انشا نام کا دیوانہ
    اک نار پہ جان کو ہار گیا، مشہور تھا اس کا افسانا

    اس نار میں‌ایسا روپ نہ تھا جس دھوپ سے دن کی دھوپ دبے
    اس شہر میں کیا کیا گوری ہے، مہتاب رخے گلنار لبے
    کچھ بات تھی اس کی باتوں میں، کچھ بھید تھے اس کی چتون میں
    اسے اپنا بنا نے کی دھن میں، ہوا آپ ہی آپ سے بیگانا
    اس بستی کے اک کوچے میں اک انشا نا م کا دیوانا
    ۔۔
    ہاں عمر کا ساتھ نبھانے کے تھے عہد بہت پیمان بہت
    وہ جن پہ بھروسہ کرنے میں کچھ سود نہیں، نقصان بہت
    وہ نار یہ کہ کر دور ہوئی، ” مجبوری ساجن مجبوری ”
    یہ وحشت سےرنجور ہوئے اور رنجوری سی رنجوری
    اس روز ہمیں معلوم ہوا ، اس شخص کا مشکل سمجھانا
    اس بستی کے اک کوچے میں ، اک انشا نام کا دیوانا
    ۔۔۔
    اب آگے کا تحقیق نہیں ، گو سننے کو ہم سنتے تھے
    اس نار کی جو جو باتیں تھیں ، اس نار کے جوجو قصے تھے
    اک شام جو اس کو بلوایا ، کچھ سمجھا یا بیچارے نے
    اس رات یہ قصہ پاک کیا ، کچھ کھا ہی لیا دکھیارے نے
    کیا بات ہوئی ، کس طور ہوئی ؟ اخبار سے لوگوں نے جانا
    اس بستی کے اک کوچے میں، اک انشا نام کا دیوانا
    ۔۔۔
    ہر بات کی کھوج تو ٹھیک نہیں‌، تم ہم کو کہانی کہنے دو
    اس نار کا نا م مقام ہے کیا ، اس بات پہ پردا رہنے دو
    ہم سےبھی تو سودا ممکن ہے، تم سے بھی جفا ہوسکتی ہے
    یہ اپنا بیا ں ہوسکتا ہے ، یہ اپنی کتھا ہوسکتی ہے
    وہ نار بھی آخر پچھتا ئی ، س کام کا ایسا پچھتا نا
    اس بستی کے اک کوچے میں، اک انشا نام کا دیوانا
    ۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  17. منظور صاحب یقینآ یہ اچھی کوشش ہے ، کم از کم نئی نسل ان نابغہء روزگار شعرا کے بارے میں جان تو لے گی۔ ابن انشاء ان شاعروں‌میں‌سے ہیں‌جنھوں‌نے اردو شاعری کو نیا لب ولہجہ دیا ۔ایسا لہجہ جسے عوامی بھی کہہ سکتے ہیں‌اور خواص کا لب ولہجہ بھی ۔آسان زبان میں شاعری کرنا قدرے مشکل ہے اور اسے دلکش و دلآ ویز بنانا اور بھی مشکل ہے ۔ اردو میں ایسی چند ہی مثالیں ملتی ہیں‌۔ جیسا اس بلاگ میں‌امیر خسرو کا نام آیا ہے ، وہ بھی سہی مگر نظیر کے بعد جس شاعر کو عوامی کہہ سکتے ہیں‌وہ ابن انشا ہی ہیں ، ان کی نثر اور نظم دونوں‌کا اسلوب یکساں‌ہے۔ عام الفاظ کو معنوی وسعت دینا بہت مشکل ہے لیکن انشا کے اس کمال کو ان اشعار میں دیکھیں:

    1.
    دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابلِ دید ہوا

    دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابلِ دید ہوا
    ایک ستارا بیٹھے بیٹھے تابش میں خورشید ہوا

    آج تو جانی رستہ تکتے، شام کا چاند پدید ہوا
    تو نے تو انکار کیا تھا، دل کب نا امید ہوا

    آن کے اس بیمار کو دیکھے، تجھ کو بھی توفیق ہوئی?
    لب پر اس کے نام تھا تیرا، جب بھی درد شدید ہوا

    ہاں اس نے جھلکی دکھلائی، ایک ہی پل کو دریچے میں
    جانو اک بجلی لہرائی، عالم ایک شہید ہوا

    تو نے ہم سے کلام بھی چھوڑا، عرضِ وفا کی سنتے ہیں
    پہے کون قریب تھا ہم سے، اب تو اور بعید ہوا

    دنیا کے سب کارج چھوڑے، نام پہ تیرے انشاء نے
    اور اسے کیا تھوڑے غم تھے ? تیرا عشق مزید ہوا

    2.

    ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
    ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
    آج یہاں کل اور نگر میں، صبح کہاں اور شام کہاں

    ہم سے بھی پیت کی بات کرو کچھ، ہم سے بھی لوگو پیار کرو
    تم تو پشیمان ہو بھی سکو گے، ہم کو یہاں پہ دوام کہاں

    سانجھ سمے کچھ تارے نکلے، پل بھر چمکے ڈوب گئے
    انبر انبر ڈھونڈ رہا ہے اب انہیں ماہِ تمام کہاں

    دل پہ جو بیتے سہ لیتے ہیں، اپنی زباں میں کہ لیتے ہیں
    انشاء جی ہم لگ کہاں اور میر کا رنگِ کلام کہاں

    اک بات کہیں گے انشاء جی تمھیں ریختہ کہتے دیر ہوئی
    تم ایک جہاں کا علم پڑھے، کوئی میر سا شعر کہا تم نے؟

    3.
    ہم لوگوں نے عشق ایجا کیا !
    جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا !
    کبھی شہرِ بتاں میں خراب پھرے، کبھی دشتِ جنوں آباد کیا

    کبھی بستیاں بن، کبھی کوہ و دمن،رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن
    جہان حُسن ملا وہاں بیٹھ گئے، جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا

    شبِ ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا، کبھی بیت کہے ، لکھی چاندنگر
    کبھی کوہ سے جاسر پھوڑ مرے، کبھے قیس کو جا استاد کیا

    یہی عشق بالآخر روگ بنا، کہ ہے چاہ کے ساتھ بجگ بنا
    جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا، بڑا مَن کے نگر میں فساد کیا

    اب قربت و صحبتِ یار کہاں، اب و عارض و زلف و کنار کہاں
    اب اپنا بھی میر سا عالم ہے، ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا

  18. نثر کی بہت اچھی مثالیں ڈاکٹر نسیم صاحبہ نے اس بلاگ میں شامل کی ہیں‌۔ میں بھی چند سطور( یا مثالوں‌) سے یہ سعادت حاصل کر لوں‌:
    ابن انشا نے اسمٰعیل میرٹھی کے طرز پر اردو کی آخری کتاب لکھی یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ( اگر آپ کو خود اپنی تنقید سننے کی عادت ہو تو، ورنہ نہ پڑھیں‌) اس کتاب میں‌کئی اسباق ہیں ، ہر سبق اپنے آپ میں دلچسپ ہے مگر اس سے زیادہ دلچسپ ( مشق کے لیے ) سوالات کے حصے ہیں ۔
    مہابھارت ان کے ایک سبق کا عنوان ہے اس کے سوالات ملاحظہ کریں:
    1۔ ارجُن نے گھومتی مچھلی کی آنکھ میں‌تیر مارنے کے علاوہ بھی کبھی کوئی اور تیر ماراتھا ۔
    اب ایک سبق کا متن ملاحظہ کریں:
    فعل ماضی
    ماضی میں کسی شخص نے جوفعل کیا ہو اسے فعل ماضی کہتے ہیں، کرنے والا عمومآ اسے بھولنے کی کوشش کرتا ہے لیکن لوگ نہیں بھولتے ۔
    ماضی کی کئی قسمیں مشہور ہیں۔ سب سے مشہور ’’شاندار ماضی ‘‘ ہے ، جس قوم کو اپن امستقبل ٹھیک نظر نہ آئے وہ اس صیغے کو بہت استعمال کرتی ہے۔
    ایک ماضی شکیہ ہے ۔ جن لوگوں‌کا ماضی مشکوک ہو وہ ماضی شکیہ کے ذیل میں‌آتے ہیں ، (وہ) عمومآ ہاتھوں‌ہاتھ لیے جاتے ہیں‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فعل مستقبل
    جو لوگ آج کاک کام کل پر ٹالتے ہوں ان کے ہر فعل کو فعل مستقبل کہا جاتا ہے ۔
    ( اقتباس از ’’ ایک سبق گرامر کا ‘‘

  19. بے انتہا قابل احترا م بہن ڈاکٹر نسیم نگہت صاحبہ اور ادب کےخزینے کو کُریدنےوالے بھائی منظورقاضی صاحب کیا یہ ممکن ہے کہ ابن انشا کے اس کلام کو
    انشا جی چلو اب کوچ کرو ۔۔۔۔۔
    کئی گلو کاروں نے بہت ہی خوبصورت انداز سے گایا ہے ،کیا ان میں‌سے کسی ایک یا دو کو عالمی اخبار کے صوتی حصے میں‌شامل کر سکتے ہیں‌۔
    شاید یہ میری بچکانہ باتیں‌ہیں ، لیکن میں‌کیا کروں‌اب تو اتنی محنت سے ٹائپ کر لیا اس لیے قارئین آپ جو سمجھیں آپ پر ہے ۔

  20. اکرام بھائی آپ کی تجویز بہت اچھی لگی ۔۔ بابا تک پہنچ گئی ھے ۔ انشاللہ جلد ھی لگ جائے گی ۔

  21. ڈا کڑ خواجہ اکرام صاحب کا دلی شکریہ کہ انہوں نے انشا کے اس بلاگ میں از خود حصہ لیا اور میری درخواست کا انتظار نہیں کیا۔
    اسی طرح زرقا مفتی صاحبہ نے بھی اپنی پسند کی انشا کی نظم بھی اس بلاگ میں شامل کردی۔
    ان تمام تبصروں سے اس بلاگ کی اہمیت اور افادیت بڑھ گئی ہے۔
    اب صفدر ھمدانی صاحب ، امین ترمذی صاحب اور تلمیذ فاطمہ صاحبہ کے تبصروں کا انتظا ر ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انشا کی غزل حاضر ہے :
    سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہو
    انشا صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھا تے ہو

    دل کی بات چھپانی مشکل ، لیکن خوب چھپاتے ہو
    بن میں دانا، شہر کے اندر دیوانے کہلا تے ہو

    بے کل بے کل رہتے ہو، محفل کے آداب کے ساتھ
    آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے ، بھولے بھی بن جاتے ہو

    پیت میں ایسے لاکھ جتن ہیں، لیکن اک دن سب ناکام
    آ پ جہاں میں رسوا ہو گے، وعظ ہمیں فرماتے ہو

    ہم سے نام جنو‌ں کا قائم ، ہم سے دشت کی آبادی
    ہم سےدرد کا شکوہ کرتے؟ ہم کو زخم دکھا تے ہو؟

    ۔۔۔۔۔۔
    منظور قاضی از جرمنی

  22. انشا کی نظم ” سکھ چاہو تو۔۔۔۔۔”
    فرش پہ بیٹھے اک جوگی نے عرش کے چاند پہ ہارا جی
    شعر ہمارے سننے والو۔۔رکھیو جان سے پیار ا جی

    ہر بستی ہر گھر پر چنچل چاند نے چہرا چمکایا
    اس جوگی کے حصے میں پرگھور اندھیرا ہی آیا

    متوالے نے سپنوں کے تاگوں کی چادر پھیلائی
    اجیارا تو کیا ملتا ۔۔جگ نے ٹہرا یا سودائی

    یاروں نے سو سو جتنوں سمجھا یا ناکم ہوئے
    جوگی جی دامن ہی دامن پھیلائے بد نام ہوئے

    دور افق پر چندا پل بھر ٹھٹکا، ہنس کر ڈوب گیا
    انشا ( ہا ں وہ رمتا جوگی ) دنیا سے محجوب گیا

    اب لوگو بتلاو ۔۔سکھ میں اچھا یا دکھیارا جی ؟
    سکھ چاہو تو پیت نہ کیجو۔۔ رکھیو جان سے پیارا جی
    ۔۔۔۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضٰ‌ ا ز جرمنی

  23. اس بلاگ کے عنوان کے لیے انشا کا جو شعر منتخب کیا گیا ہے اس شعر کی غزل کے اشعار حاضر ہیں:

    اس کو نام جنوں کا دے لو،پیار کہو کہ دلار کہو
    ایسا اور کسی کا دیکھا دل کا کاروبار ؟ کہو

    بستی میں‌دیوانہ سمجھو، دشت میں ہم کو خوار کہو
    اُ ن سے ایک نہ ایک بہانے ہو نا تھا دوچار کہو

    تم کیا سود و زیاں کی جانو، تم جو اسے ایثار کہو
    جان تو دیں پر جاناں پائیں ، ہم کو دینا دار کہو

    اور کسی کے در پر جائیں چھوڑ کے انک دوار بھلا؟
    ایسی اچھی آنکھوں والے کتنے ہیں سرکا ر کہو

    تم نے حال ہمارا دیکھا ؟ تم جو باغ و بہاراں میں
    گل کو چاک بداماں جانو، نرگس کو بیمار کہو

    بیچ بھنور کے منزل کرتے ہم تو یوں بھی پہنچیں گے
    ایک ٹکے میں لے چلتے ہو مانجھی دریا پار کہو؟

    ہم بھی ترے کونین بھی تیرے، دنیا کیا اور عقبیٰ کیا
    بیچ میں کیوں اے دوست اٹھادی ناحق کی دیوار کہو

    انشا جی یہ فیض ہے کس کا ، کیاہے اس کا نام ومقام
    ہم تو رنگ تمھارا جانیں، ایسے کب اشعار کہو!
    ۔۔۔۔۔
    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  24. دروازہ کھلا رکھنا ؛ از ابن انشاء
    دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہ
    اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہ
    شاعر ہے کہ عاشق ہے، جوگی ہے کہ بنجارہ

    دروازہ کھلا رکھنا
    سینےسے گھٹا اتھے ، آنکھوں سے جھڑی برسے
    پھاگن کا نہیں‌بادل ، جو چار گھڑی برسے
    برکھا ہے یہ بھادوں کی، برسے تو بڑی برسے

    دروازہ کھلا رکھنا
    آنکھوں میں تو اک عالم ، آنکھو ں میں تو دنیا ہے
    ہونٹوں پہ مگر مہریں، منہ سے نہیں کہتا ہے
    کس چیز کو کھو بیٹھا، کیا ڈھونڈنے نکلا ہے

    دروازہ کھلا رکھنا

    شکووں کو اٹھا رکھنا ، آنکھوں کو بچھا رکھنا
    اک شمع دریچے کی چوکھٹ پہ جلا رکھنا
    مایوس نہ پھر جائے ، ہاں پاسِ وفا رکھنا

    دروازہ کھلا رکھنا
    دروازہ کھلا رکھنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    ابن انشاء کی شاعری اور نثر نگاری کا شیدائی
    منظور قاضی از جرمنی

  25. انشا کی نظم : یہ کون آیا
    انشا جی یہ کون آیا ، کس دیس کا باسی ہے
    ہونٹوں پہ تبسم ہے ، آنکھوں میں اداسی ہے
    خوابوں کے گلستاں کی خوشبوئے دلا را ہے
    یا صبح تمنا کے ماتھے کا ستا را ہے
    ترسی ہوئی نظروں کو اب اور نہ ترسا رے
    اے حسن کے سوداگر ، اے روپ کے بنجارے
    رمنا دلِ انشا کا اب تیرا ٹھکا نہ ہو
    اب کوئی بھی صورت ہو ، اب کوئی بہانہ ہو

    خاکسترِ دل کو ہےپھرشعلہ بجاں‌ ہونا
    حیرت کا جہاں ہونا ، حسرت کا نشاں ہونا
    اے شخص جو تو آکر یوں دل میں سمایا ہے
    تو درد کہ درماں‌ہے تو دھوپ کہ سایاہے؟
    نیناں ترے جادو ہیں ، گیسو ترے خوشبو ہیں
    باتیں کسی جنگل میں بھٹکا ہوا آہو ہیں
    مقصودِ وفا سن لے، کیا صاف ہے سادہ ہے
    جینےکی تمنا ہے، مرنے کا ارادہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  26. انشا جی بہت دن بیت چکے:
    (1 ) :
    انشا جی بہت دن بیت چکے
    تم تنہا تھے ، تم تنہا ہو
    یہ جوگ بجوگ تو ٹھیک نہیں
    یہ روگ کسی کا اچھا ہو؟
    کبھی پورب میں ، کبھی پچھم میں
    تم پُروا ہے ، تم پچھوا ہو؟
    جو نگری نگری بھٹکا ئے
    ایسا بھی نہ من میں کانٹا ہو
    کیا اور سبھی چونچال یہاں ؟
    کیا ایک تمہی یہاں دُ کھیا ہو
    کیا ایک تمہی پر دھوپ کڑی
    جب سب پر سُکھ کا سایہ ہو
    تم کس جنگل کا پھول میاں
    تم کس بگیا کا بیلا ہو؟
    تم کس ساگر کی لہر بھلا
    تم کس بادل کی برکھا ہو؟
    تم کس پونم کا اجیارا
    کس اندھی رین کی اوشا ہو
    تم کن ہاتھوں کی مہندی ہو
    تم کس ماتھی کا ٹیکا ہو
    کیو ں شہر تجا، کیوںجوگ لیا
    کیوں وحشی ہو ، کیوں رسوا ہو
    ہم جب دیکھیں بہروپ نیا
    ہم کیا جانیں تم کیا کیا ہو؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  27. انشا جی بہت دن بیت چکے : ( نظم کا دوسرا بند )
    ( 2 )
    جب سورج ڈوبے سانجھ بھیے
    اور پھیل رہا اندھیارا ہو
    کسی ساز کی لے پر‌جھنن جھنن
    کسی گیت کا مکھڑا جا گا ہو
    اس تال پہ ناچتے پیڑوں میں
    اک چپ چپ بہتی ندیا ہو
    ہو چاروں کوٹ سگندھ بسی
    جیوں جنگل پہنا گجرا ہو
    یہ انبر کے مکھ کا آنچل
    اس آنچل کا رنگ اودا ہو
    اک گوت رو پہلے تاروں کی
    اور بیچ سہنرا چندا ہو
    اس سندر شیتل شانت سمے
    ہا بولو بولو پھر کیا ہو؟
    وہ جس کا ملنا ناممکن
    وہ مل جائے تو کیسا ہو‌؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  28. انشا جی بہت دن بیت چکے
    تیسر ا بند ( 3)
    کیوں ایسے سپنے دیکھتے ہو
    انشا جی تم آپ بھی سپنا ہو
    اک بیتیں لکھتے شاعر ہو
    اک گیت اگلتی بینا ہو
    یہ باتیں من میں وہ سوچے
    جو کیا بتلائیں کیسا ہو ؟
    وہ جس کے ہاتھ میں قسمت کی
    اک لمبی گہری ریکھا ہو
    وہ شخص پرانے قصوں کا
    اک مدماتا شہزادہ ہو
    جو شہر کا رستہ بھولا ہو
    اور جنگل میں آ نکلا ہو
    وہ راجا کاشی نگری کا
    یا والئی بلخ و بخارا ہو
    کچھ اس کے تاج پہ کلغی ہو
    کچھ اس کا چاند سا چہرہ ہو
    وہ مالک محل اٹاریوں کا
    یا روپے سونے والا ہو
    یا کوئی انوکھا گُن والا
    وہ جس کا جگ میں چرچا ہو
    یا کوئی سجیلا بنجارا
    جو نگری نگری گھوما ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  29. “ہمارا تمہارا خدا بادشاہ”
    از: ابنٍ انشاء
    ………

    کسي ملک ميں ايک بادشاہ تھا، بڑا دانش مند، مہربان اور انصاف پسند، اسکے زمانے ميں ملک نے بہت ترقي کي اور رعايا اس کو بہت پسند کرتي تھي، اس بات کي شہادت نہ صرف اس زمانے کے محکمہ اطلاعات کے کتابچوں اور پريس نوٹو ں سے ملتي ہے بلکہ بادشاہ کي خود نشت سوانح عمري سے بھي۔
    شاہ جمجاہ کے زمانے ميں ہر طرف آزادي کا دور دورہ تھا، لوگ آزاد تھے، اور اخبار آزاد تھے، جو چاہيں کہيں جو چاہيں لکھيں، بشرطيہ کو بادشاہ کي تعريف ميں ہو، خلاف نہ ہو۔
    اس بادشاہ کے زمانہ ترقي اور فتوحات کيلئے مشہور ہے، ہر طرف خوش حالي ہي خوش حالي نظر آتي تھي، کہيں تل دھرنے کو جگہ باقي نہ تھي، جو لوگ لکھ پتي تھے، ديکھتے ديکھتے کروڑ پتي ہوگئے،حسن انتظام ايسا تھا، کہ امير لوگ سونا اچھالتے اچھالتے ملک کے اس سرے سے اس سرے تک بلکہ بعض اوقات بيرون ملک بھي چلے جاتے تھے، کسي کي مجال نہ تھي کہ پوچھے اتنا سونا کہاں سے آيا اور کہاں لیے جارہے ہو۔
    روحانيت سے شغف تھا، کئي دوريش اسے ہوائي اڈے پر لينے چھوڑنے جاتے يا اس کي کامراني کيلئے چلے کاٹتے تھے، طبعيت ميں عفو اور درگزر کا مادہ از حد تھا، اگر کوئي شکايات کرتا تھا، کہ فلاں شخص نے ميري فلاں جائداد ہتھيالي ہے، يا فلاں کارخانے پر قبضہ کرليا ہے، رو مجرم خواہ بادشاہ کا کتنا ہي قريبي عزيز کيوں نہ ہو، وہ کمال سير چشمي سے اسے معاف کرديتے تھے، بلکہ شکايت کرنے والوں پر خفا ھوتے تھے، عيب جوئي بري بات ہے۔
    جب بادشاہ کا دل حکومت سے بھر گيا تو وہ اپني چيک چکيں لے کر تاريک دنيا ہوگيا اور پہاڑوں کي طرف نکل گيا، لوگ کہتے ہيں اب زندہ ہے ۔
    وللہ اعلم بالصواب

  30. “بیرم خان کو حج کروانا”
    از: ابنٍ انشاء
    ………

    بيرم خان اکبر کا اتاليق تھا، اسي نے اس کي پرورش کي تھي، اور تخت دلايا تھا، اکبر نے تخت پر بيٹھنے کے بعد جب سارے اختيارات قبضے ميں کر لئے توسوچا پہلے اس محسن کے احسانات کا بدلہ چکانا چاہيے، چناچہ بيرم خاں کو بلايا اور کہا۔۔۔۔۔خان بابا، اب آپ جائيے، حج کر آئيے، کسي کو حج پر بھيجنا خواہ وہ جانا چاہے يا نہ جانے چاہے بڑي نيکي کا کام ہے، اکبر نے اور بھي کئي لوگوں کو انکے نہ نہ کرتے ہوئے حج و زيارات پر بھيجا ليکن خود ناگزير وجوہات اور چند در چند مصروفيات کي وجہ سے کبھي نہ جا سکا۔
    بيرم خاں حج کو جاتے ہوئے راستے ميں قتل ہوگيا، ليکن يہ اس کا ذاتي معاملہ تھا، تاريخوں ميں لکھا ہے، کہ اکبر اس کے مرنے کي خبر ہوئي تو بہت رنج ہوا، ضرور ہوا ہوگا۔

  31. “دینٍ الاہی”
    از: ابنٍ انشاء
    ………

    دينيات کي ہر طرف اکبر کے شغف کو ديکھتے ھوئے وزير با تدبير ابوالفضل نے اس کے ذاتي استعمال کيلئے دين الہي ايجاد کر ديا تھا، اور يہ کہنے کي ضرورت نہيں کہ اس کے پہلے خليفہ کي ذمہ دارياں خود سنبھال لي تھيں، چڑھتے سورج کي پوجا کرنا اس مذہب کا بنيادي اصول تھا، مريد اکبر کے گرد جمع ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ اے ظل الہي تو ايسا دانا و فرزانہ ہے کہ تجھ کو تاحيات سربراہٍ مملکت يعني بادشاہ وغيرہ رہنا چاہيئے، اس کے نام کا وظيفہ پڑھتے تھے، اور اس کي تعريف ميں وقت بے وقت بيانات جاري کرتے رہتے، پرسشتں کي ايسي رسميں آج کل بھي رائج ہيں، ليکن ان کو دين الہي نہيں کہتے۔

  32. “برکاتٍ حکومتٍ انگلشیہ”
    از: ابنٍ انشاء
    ………

    عزيزو بہت دن پہلے اس ملک ميں انگريزوں کي حکومت ہوتي تھي اور درسي کتابوں ميں ايک مضمون برکاتٍ حکومتٍ انگليشہ کے عنوان سے شامل رہتا تھا، اب ہم آزاد ہيں، اس زمانے کے مصنف حکومت کي تعريف کيا کرتے تھے، کيونکہ کے اس کے سوا کوئي چارہ بھي نہيں تھا، ہم اپنے عہد کي آزادي اور قومي حکومتوں کي تعريف کريں گے، اس کي وجہ بھي ظاہر ہے۔
    عزيزو انگريزوں نے کچھ اچھے کام بھي کئے ہيں، ليکن ان کے زمانے ميں خرابياں بہت تھيں، کوئي حکومت کے خلاف بولتا تھا يا لکھتا تھا تو اس کو جيل بھيج ديتے تھے، اب نہيں بھيجتے، رشوت ستاني عام تھي، آج کل نہيں ہے، دکاندار چيزيں مہنگي بيچتے اور ملاوٹ بھي کرتے تھے، آج کل کوئي مہنگي نہيں بيچتا، ملاوٹ بھي نہيں کرتا، انگريزوں کے زمانے ميں امير اور جاگيردار عيش کرتے تھے، غریبوں کو کوئي پوچھتا ہے کہ وہ تنگ آجاتے ہيں، خصوصا حق رائے دہندگي بالغاں کے بعد سے ۔
    تعليم اورصنعت و حرفت کو ليجئے، ربع صدي کے مختصر عرصے ميں ہماري شرح خواندگي اٹھارہ في صد ہوگئي، غير ملکي حکومت کے زمانے ميں ايسا ہوسکتا تھا؟
    انگريز شروع شروع ميں ہمارے دستکاروں کے انگوٹھے کاٹ ديتے تھے، اب کارخانوں کے مالک ہمارے اپنےلوگ ہيں، دستکاروں کے انگوٹھے نہيں کاٹتے ہاں کبھي کبھي پورے دستکار کو کاٹ ديتے ہيں، آزادي سے پہلےہندو بنئيے اور سرمايہ دار ہميں لوٹا کرتے تھے، ہماري خواہش تھي، کہ يہ سلسلہ ختم ہو اور ہميں مسلمان بنئے اور سيٹھ لوٹيں، الحمد اللہ کہ يہ آرزو پوري ہوئي، جب سے حکومت ہمارے ہاتھ ميں آئي ہے ہم نے خاص برآمدات دو ہيں، وفود اور زرمبادلہ، درآمدات ہم گھٹاتے جارہے ہيں، ايک زمانہ ميں تو خارجہ پاليسی تک باہر سے درآمد کرتے تھے ، اب يہاں بننے لگي ہے۔،

  33. ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، فیاض امر صاحب نے اس مرتے ہوئے بلاگ میں ابنِ انشاء کی بذلہ سنجی اور اسکی نثر نگاری کے مثالیں دے کر، جان ڈالدی ہے۔
    اگر انہوں نے یہ تما م تحاریر کو اپنے ہاتھوں سے ٹائپ کیا ہے تو ان کا مزید شکریہ کہ پاکستان کی بجلی کے اچانک آنے اور جانے سے انکو کافی تکلیف اٹھانی پڑی ہوگی۔
    جو قاری اس بلاگ کو پڑھرہے ہیں وہ یقینی طور پر ابن انشاء کی نثر نگاری سے بھی کافی محظوظ ہورہے ہونگے ۔
    انشا کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جو شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری کی صنف پر بھی کافی عبور اور کمال رکھتے تھے۔ ( ان میں احمد ندیم قاسمی اور جمیل الدین عالی بھی سرِِ فہرست ہیں)
    فراز اور جالب اور ناصر کاظمی اپنی شاعری کی وجہ سے مشہور و معروف تھے مگر انکی نثر نگاری کی صفت اتنی اجاگر نہیں ہوئی جتنی کہ ابن انشاء کی نثر نویسی کی ہوئی ۔ ( ابن انشا کی نثر نویسی میں پطرس اور رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی جیسے ادیبوں کی تحریروں کی جھلک ہے )
    میں انتہائی خلوص دل سے فیاض امر صاحب کی اس بلاگ پر توجہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح اردو کے دوسرے شعرا ( مجاز اور ساحر ) کے بلاگوں کو بھی اپنی نوازشات سے نوازینگے ۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  34. انشا جی بہت دن بیت چکے نظم کا چوتھا بند
    (4)
    ہم نگری نگری گھومے تو
    جب نکلے تھے آوارہ ہو
    و ہ لندن ہو ، وہ پیرس ہو
    وہ برلن ہو َ وہ روما ہو
    وہ کابل ہو ، وہ بابل ہو
    وہ جاوا ہو ، وہ لنکا ہو
    وہ ساحلِ سین وہ رائن ہو
    یا ساحتِ نیل و دجلہ ہو
    وہ چین کا دیش وشلا کہیں
    یا پچھم دیس امریکا ہو
    و چوٹی فیوجی یا ما کی
    یا الپس کا پربت اونچا ہو
    وہ چھتیں گلابی لیڈن کی
    یا نیلا آب جنیوا ہو
    دن استفبول کی گلیوں میں
    یا شب کی سیرِ پراہا ہو
    کچھ صورتیں تھیں ، کچھ مورتیں تھیں
    کچھ اور بھی شاید دیکھا ہو
    جہاں نظریں ٹھہری ٹھٹکی ہوں
    جہا ں دل کا کانٹا اٹکا ہو
    پر ہم کوتو کچھ یاد نہیں
    کچھ کھویا ہو ، کچھ پایا ہو
    ان باتوں میں، ان گھاتوں میں
    سنجوگ کا کوئ لمحہ ہو
    ہم اپنے جو خود آپ نہیں
    پھر بولو کون ہمارا ہو
    یوںسمجھو شہر سرائے میں
    شب بھر کے لیے کوئی اترا ہو
    کوئی پردیسی ، کوئی سیلانی
    وہ جس کا دور ٹھکا نہ ہو
    شام آئے سویرے کوچ کیا
    جب دھندلا دھندلا رستہ ہو
    جب دھرت سونی سونی ہو
    جب انبر پھیکا پھیکا ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پانچواں بند آٰئیندہ پھر کبھی
    ۔۔۔۔۔
    فقط: منظور قاضی از جرمنی

  35. انشا جی بہت دن بیت چکے :
    سب کی بے چینی دیکھکر : اس بند کا پانچواں بند بھی حاضر ہے
    (5)
    اک عالم تھا ، کیا عالم تھا
    وہ سچا ہو ، یا جھوٹا ہو
    ہم اپنے آپ میں ڈوب گئے
    خود پتھر بن ۔ خود دریا ہو
    جیوں گھاس کا تنکا جنگل میں
    جیوں آندھی میں کوئی پتا ہو
    ہم کس سے کہیں ، کس طور کہیں
    کوئی بات ہماری سمجھا ہو !
    ہم اس سے ملیں جو اپنا ہو
    ہم اس سے کہیں جو ہم سا ہو

    جب یہ بھی نہیں ، جب وہ بھی نہیں
    کیا بات بنے ، کیا رستہ ہو
    اس زنداں مین کوئی روزن ہو
    ا س گنبد میں‌ دروازہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نظم کا چھٹا اور آخری بند آئندہ پھر کبھی ۔
    ۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  36. محترم سائیں منظور قاضی صاحب! السلام علیکم۔
    (سب سے پہلے تو پاؤں چھو کر یہ عرض رکھ رہا ہوں کہ کہ مجھ جیسے نالائق انسان کو یہ “صاحبی” کے قید سے نکال دیں تو احسان رہے گا!
    میں آپ کا بچہ سماں ہوں۔ کبھی بڑوں نے اپنے چھوٹوں کو “صاحب” کہ کر پکارا ہے؟
    ہاں پکارتے ہیں جب وہ ناراض ہوتے ہیں یا خفگی کا اظہار کرتے ہیں! اب آگے آپ کی عنایت ہوگی خدارا!
    سچ بتاؤں کہ کو اوپر انشاء جی کے انشائیہ جب ٹائیپ کر رہا تھا تب بجلی کا تو مسئلہ کم (کیونکہ لیپ ٹاپ پر کام کرتا ہوں) ہاں البتہ آنکھوں میں پانی تھا اور کبھی کبھی انشاء جی کے کسی جملے پر مسکرا اٹھتا تھا!
    آپ کا حکم کہ کہ ساحر یا مجاز سرکار پر لکھوں!
    خدارا یقین کر لیجیے گا، پچھلے چند دنوں سے میں اپنی ہوم منسٹر (حضرت بیوی صاحبہ) سے ٹھیک ٹھاک ٹکر چل رہا ہے۔ کیوں کہ اس کی عدم توجہی سے کافی کتابیں چوہوں کی نظر ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان میں ایک انتہائی نادر کتاب بھی تھی نام تھا “جواہر پارے”۔۔۔
    بہت اعلیٰ کتاب تھی۔ اردو کی کلاسک پر میں نے اس جیسی کتاب کم دیکھی ہے۔ اس مین مجاز صاحب پر کیا کیا لکھا ہؤا تھا!
    اوھ خدایا!
    (میرا خیال ہے کہ گھر میں پھر پانی پت کی جنگ چھڑ جائے گی کیونکہ آپ نے یاد دلادیا۔۔۔۔۔۔
    اب دونوں کے لیے دعا کیجیے گا۔
    میرے لیے خصوصی کیونکہ وہ مجھ سے بڑی ہے۔
    تبھی تو گاندھی جی کی طرح میں “اسے” مائی جی” کہ کر پکارتا ہوں۔ 🙂
    دعاگو۔۔۔
    فیاض امر

  37. انشا جی بہت دن بیت چکے
    چھٹا اور آخری بند
    (6)
    اے جوگی، اے درویش کوی
    کیوں عمر گنوائے رمتا ہو
    کیوں تن پر راکھ بھبوت ملے
    تو گورکھ ناتھ کا چیلا ہو
    یہ پورب پچھم کچھ بھی نہیں
    یہ جوگ بجوگ بھی دھوکا ہو
    جو تجھ سے جدا سب مایا ہے
    یا اپنے کو اگر پانا ہو
    کیوں اور پہ جی کو رجھاتا ہے
    یہ پیت کی ریت تو پھندا ہو
    جو ہارا جان سے ہار گیا
    جو جیتا وہ بھی رسوا ہو
    دھونی نہ رما، بسرام نہ کر
    بس الکھ جگا کر چلتا ہو
    تو اپنا رہ ، تو اپنا بن
    تو انشا ہے ، تو انشا ہو
    ۔۔
    ختم شد
    منظور قاضی ا ز جرمنی

  38. مولانا الطاف حسین حالی کی نعت کے چند اشعار
    وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
    مرادیں‌غریبوں کی بر لانے وال
    ،صیبت میں غیروں کے کام آنے والا
    وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

    فقیروں کا ملجا ، ضعیفوں کا ماویٰ
    یتیموں کا والی ، غلا موں کا مولیٰ

    خطا کار سے درگزر کرنے والا
    بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
    مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
    قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

    اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
    اور اک نسخہ ءکیمیا ساتھ لا یا

    ۔۔۔۔۔۔
    جب امت کو سب مل چکی حق کی نعمت
    ادا کرچکی فرض اپنا رسالات
    رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی حجت
    نبی(ص) نے کیا خلق سے قصدِ رحلت

    تو اسلام کی وارث ایک قوم چھوڑی
    کہ دنیا مں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی
    ادا کرچکی فرض اپنا رسالت
    رہی حق پہ پہ باقی نہ بندوں کی حجت
    نبی ( ص) ن کا خلق سے قصدِ رحلت

    تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی
    کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  39. معافی چاہتا ہوں نعت کے بلاگ کی بجائے مولانا حالی کی نعت کے چند اشعار اس بلاگ میں شایع کردیا
    اب چند اشعار کی بجائے مکمل نعت کو نعت کے بلاگ میں شامل کردیا ہوں
    ۔۔۔۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  40. فیاض امر صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اپنے تبصرے سے نوازا ۔
    میں ان سے عمر میں توبہت بڑا ضرور ہوں مگر علم میں بہت بہت چھوٹا محسوس کرتاہوں۔
    دوسری بات جس میں انکو مجھ پر فوقیت ہے وہ یہ کہ وہ سندھ میں رہتے ہیں وہ سندھ جس نے مجھے اورمیرے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو اس وقت پناہ دی جب ہم بے گھر و بےدر ہندوستان سے آکر کراچی کی بندرگاہ پر اترے تھے ۔ ( یہ برسوں پہلے کی بات ہے)
    تیسری بات جس میں وہ امتیاز رکھتے ہیں کہ ان کے پاس اردو اور سندھی کی کتابوں کا ذخیرہ ہے اور و ہ لائبریریوں سے قربت رکھتے ہیں ( اگر چیکہ ان کے کہنےکے مطابق ان کی چند کتابو ں کو “چوہے ” چاٹ گئے ہیں )
    چوتھی بات ان میں یہ موجود ہے وہ یہ کہ وہ اپنے ذہن کو کھلا رکھتے ہیں اور سب کی آوازوں کو سنتے ہیں اور اگر دوسروں کی باتیں قابلِ قبول ہیں انہیں وہ انکساری سے قبول بھی کرلیتے ہیں ۔
    پانچویں بات ان میں یہ بھی ہے کہ وہ ژال پال سارتر اور برنارڈ شاہ اور ہومر اور رامائیین اور مہابھارت وغیرہ وغیرہ کے ارشادات اور انکی کتابوں کی مشمولات سے بھی واقف ہیں
    ( یہ وہی سارتر ہیں جن کو نوبل پرائز کمیٹی نے نوبل پرائز دیا مگر انہوں نے لینےسےانکا ر کردیا )
    چھٹی بات یہ ہے کہ اردو انکی مادری زبان نہیں ہے مگر وہ اردو کو اپنی سگی ماں کی زبان ( سندھی ) کی طرح چاہتے ہیں ا ور اسکا استعمال اردو کے اہل زبان افراد کی طرح یا اس سےبھی بہتر کرتے ہیں۔
    ساتویں بات ان میں یہ ہے جو بہت کم افراد میں نہیں کہ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں ( ریاضی کے پرچے میں کاپی کا استعمال ) اور اپنی زندگی کے راز کو ( سادات گھرانےمیں آمد اور پرورش ) کو بھی دنیا کے سامنے بیان کرنےمیں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ ( حق گوئی وبے باکی کی یہ ایک اعلی مثال ہے )

    بہرحال: فیاض امر صاحب علم کا سمندر ہیں ۔
    اس لیے میں انکو فیاض امر” صاحب” کہتا ہوں

    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  41. بس بابا منظور قاضی صاحب! بس، خدارا۔۔۔۔۔
    میں ایک گناھگار انسان ہوں سراپا گناہوں کا مجموعہ! کچھ نہیں اچھائی مجھ میں۔۔۔۔۔۔
    یہ سب آپ کا حسنٍ ظرف ہے، ذرہ نوازی ہے۔۔۔ اس میں میرا کچھ نہیں! یہ آپ کی اپنی تعریف کی رزق ہے۔
    خدا وندٍ قدوس کی درگاہ سر بسجود ہوں کہ کائنات کا خالق آپ کو ڈھیروں خوشیاں اور ہر لمحہ تابندہ سلامتی میں رکھے۔ آمین۔
    میرا خیال یہ ہے کہ یہ بلاگ انشاء جی کا ہے اس لیے اب اس مجھ سے نادان اور نافہم انسان کا تذکرہ نہ ہو تہ بہتر۔
    آباد رہیں۔
    دعاگو
    فیاض امر

  42. فیاض امر صاحب کی یاد دہانی کا شکریہ: یہ بلاگ انشا جی کے لیے ہے جس میں میں نعت بھی شامل کرگیا ہوں ( جس کا مجھے غم نہیں۔ ) مگر موضوع سے ہٹ کر دیگر باتیں اس میں غیر ضروری ہیں ۔ شکریہ

  43. انشا کی نظم ” لب پر نام کسی کا بھی ہو ِِ۔۔۔۔”
    لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہے
    اے تصویر بنانے والی ، جسب سے تجھ کو دیکھا ہے

    بے تیرے کیا وحشت ہم کو، تجھ بن کیسا صبر وسکوں
    توہی اپنا شہر ہے جانی، تو ہی اپنا صحرا ہے

    نیلے پربت ، اودی دھرتی ، چاروں کوٹ میں تو ہی تو
    تجھ سے اپنے جی کی خلوت، تجھ سے من کا میلا ہے

    آج تو ہم بکنے کو آئے ، آج ہمارے دام لگا
    یوسف تو بازارِ وفا میں، ایک ٹکے کو بکتا ہے

    لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول
    لے جانی اب آدھی شب ہے، چاروں طرف سنا ٹا ہے

    طوفانوں کی بات نہیں ہے ، طوفاں آتے رہتے ہیں
    تو اک نرم ہوا کا جھونکا ، دل کے باغ میں ٹھہرا ہے

    یا تو آج ہمیں اپنا لے ، یا تو آج ہمارا بن
    دیکھ کے وقت گزرتا جائے ، کون ابد تک جیتا ہے

    فردا محض فسوں کا پردا ، ہم تو آج کے بندے ہیں
    ہجر و وصل ، وفا اور دھوکا سب کچھ آج پہ رکھا ہے

  44. انشا کی نظم :
    کل ہم سپنا دیکھا ہے
    جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے
    اس شخص کو اپنا دیکھا ہے

    وہ شخص کہ جس کی خاطر ہم
    اِ س دیس پھریں اس دیس پھریں
    جوگی کا بنا کر بھیس بھریں

    چاہت کے نرالے گیت لکھیں
    جی موہنے والے گیت لکھیں

    دھرتی کے مہکتے باغوں سے
    کلیوں کی جھولی بھر لائیں
    انبر کے سجیلے منڈل سے
    تاروں کی ڈولی بھر لائیں

    ہاں کس کے لیے سب اس کے لیے
    وہ جس کے لب پر ٹیسو ہیں
    وہ جس کے نینا ں آہو ہیں

    جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی
    جو درد بھی ہے اور دارو بھی

    وہ الھڑ سی و چنچل سی
    وہ شاعر سی ، و ہ پاگل سی

    لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں
    ہم نام نہ اس کا بتلائیں

    اے دیکھنے والو تم نے بھی
    اس نار کی پیت کی آنچوں میں
    اس دل کا تپنا دیکھا ہے ؟
    کل ہم نے سپنا دیکھا ہے

  45. انشا جی کہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
    انشا کہو مزاجِ مبارک کو اِن دنوں
    دنیا خوش آرہی ہے کہ جانی اداس ہو

    نببھنے لگی ہے بلدہ ء خوباں کی خاک سے
    یادوں کی وحشتیں ہیں پرانی ، اداس ہو

    وہ سر میںآپ کے تھا جو سودا چلا گیا
    یا اب بھی ہے وہ جی کی گرانی، اداس ہو

    تنہا نشینی ، خلق گریزی ، فسردگی
    بیتیں بہ طرزِ میر سنانی ، اداس ہو

    آوارگی بہ کوچہ و بازار و باغ و دشت
    بر میں لیے کسی کی نشانی ، اداس ہو

    کل بزمِ دوستا ں میں تمھار ہی ذکر تھا
    ہم نے سنی تمھاری کہانی ، اداس ہو

    تم نے عجیب روگ ہے جی کو لگا لیا
    تم نے ہماری بات نہ مانی ، اداس ہو

    دیکھو نہ اب بھی جی کو محبت سےپھیر کے
    ایسی بھی کیوں کسی کی جوانی ، اداس ہو

  46. ئ بلا گ اس وقت تک نامکمل رہے گا جب تک صفدر ھمدانی صاحب اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے کچھ اس بلاگ میں انشا کی زندگی اور شاعری پر اپنی معلومات سے سب کو آگاہ نہیں کردیتے ۔

  47. ابن انشاء کے حوالے سے منظور قاضی صاحب آپ نے بلاگ شروع کیا مبارکب دقبول کیجیے۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے ۔ میں بچپن سے انشاء جی کو پڑھتا آرہا ہوں۔ میرئے پسندیدہ ترین شاعر اور نثر نگار ہیں۔اُن کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ۔
    سب کو دل کے داغ دیکھائے ایک تجھی کو دیکھا نہ سکے
    تیرا دامن دور نہیں تھا ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکے
    اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے آمین۔
    اشرف عاصمی لاہور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *