میں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ انفرادی تربیت ہی عالمی امن کی پرورش کر سکتی ہے ۔ میرے دوست احباب اکثر مجھ سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ مجھے ان کا بے حد احترام ہے۔ آج مجھ سے میرے بدیسی دوستوں نے بھی میرے دیس کے امن پر بہت ساے سوال کئے اور انہیں بھی میں نے یہی کہا کہ ہم زمیداری سے بھاگنے والے لوگ ہیں ۔ ہم لوگ اپنی بندوق چلانے کے لئے دوسروں کے کندھے استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اخلاق کا درس سب کو دیں اوراس کے زاتی اخلاق پر کوئی انگلی بھی نہ اٹھائے ۔۔
آیئے آج میں آپ کو چینی ادیب “لین ، یو، تانگ کی کتاب سے ایک اقتباس سناتی ہوں جسے مھترم مختار صدیقی نے ترجمہ کیا ہے اور یہ کتاب “ جینے کی اہمیت “ 1956 میں شائع ہوئی تھی ۔ اور مجھے یہ نایاب کتاب اپنے ابا جی ( سسر مرحوم ) کی لائیبریری سے ورثے میں منتقل ہوئی ہے کہ میں ان کی ادب دوستی کی وارث ہوں ۔
دوستو اس موضوع میں وہی لکھا ہے جو میری آئیڈلوجی ہے ۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ادیب نے میری سوچیں پڑھ لی ہوں ۔۔۔
قدیم لوگوں کا دستور تھا کہ اگر دنیا میں اخلاقی ہم آہنگی کی تمنا کرتے ، تو یہ کہتے سب سے پہلے ہمیں خود اپنی قومی زندگی کی تنظیم کرتے ۔
قومی زندگی کی تنظیم کرنے والے سب سے پہلے گھریلو زندگی کو باقائدہ بناتے ۔
جو لوگ گھریلو زندگی کو منظم بنانا چاہتے وہ سب سے پہلے زاتی زندگی کی تربیت پر توجہ دیتے ۔ اور جو لوگ زاتی زندگی ککی تربہت و تہذیب پر توجہ دیتے ہیں ، وہ سب سے پہلے دلوں کو پاک صاف کرتے ۔۔۔
دلوں کو پاک صاف کرنے کی خواہش کرنے والے سب سے پہلے نیتوں کو مظبوط بناتے ۔ نیتوں کو مخلص بنانے والے سب سے پہلے سمجھ اور مفاہمت پیدا کرتے ۔۔۔
دوستو !
سمجھ ، اشیاء کے علم کی چھان بین سے پیدا ہوتی ہے ۔ جب اشیاء کا علم حاصل ہو جائے تو تب سمجھ پیدا ہوتی ہے ، اورسمجھ پیدا ہو جائے تو تو نیت اور ارادہ مخلص ہو جاتا ہے ۔ اور جب نیت صاف اور ارادی مخلص ہو جائے تو دل صاف ہو جاتا ہے۔ جب دل صاف ہو جائے تو زاتی زندگی کی تہذیب اور تربیت پوری ہو جاتی ہے۔ زاتی زندگی کی تربیت اور تہذیب ہو جائے تو گھریلو زندگی منظم اور باقائدہ ہو جاتی ہے تو قومی زندگی بھی منظم ہو جائےگی ۔ اور جب قومی زندگی منظم ہو ہو تو دنیا امن و امان کو گہوارہ بن جائے گی ۔
گویا شہنشاہ سے لے کر ایک عام آدمی تک ہر چیز کی بنیاد اس بات پر ہے کہ زاتی زندگی کی تربیت اور تہذیب کی جائے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کہ بنیاد با قائدہ اور ٹھیک نہ ہو تو ساری عمارت ٹھیک اور باقائدہ ہو ۔
دنیا میں ایسا کوئی درخت موجود نہیں جس کا تنا کمزور اور نازک ہو اور اس کی ٹہنیاں بھاری بھر کم اور مظبوط ہوں۔ اس کائینات کی ہر چیز کا ہونا ایک وجہ رکھتا ہے اور ہر چیز کا دوسری چیز سے ربط اور تعلق اپنی جگہ اٹل ہے ۔
اسی طرح انسانی معاملوں میں ابتدا اور انتہا دونوں موجود ہیں ۔ لیکن ان درجوں کا جاننا ، ان کا تقدس ، تقدیم اور تاخیر کا علم حاصل کرنا دانشمندی کی ابتدا اور اس کی دہلیز ہے۔
طالب دعا
ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی
چھبیس مئی دو ہزار تیرہ

بیٹی باد نسیم ،سلامت وشاد رہو سدا سہاگن رہو ،
میں ایک طالب علم کی حیثیت سے تمھارے بلاگ کی تحریر سے پوری طرح متّفق ہوں اور میں ایک اچھے معاشرے کی تشکیل میں اچھے فرد کو پہلا عنصرسمجھتی ہوں تم نے بلکل صحیح لکھا ہے کہ ایک فرد ہی تو عمارت کی پہلی اینٹ ہوتا ہے ،یہی فرد جب افراد کے اعداد میں آجاتا ہے تو عمارت بن جاتی ہے
مین تمھاری تحریر کے حرف حرف سے متّفق ہوں ،
اور یہ تو ہما ری کتاب حکمت میں بھی اللہ تعالٰی فرما رہا ہے ((دیکھو جب میرے پاس آنا تو قلب سلیم لے کے آنا )
جی ہاں ! یہ دل ہی تو ہے جس کے اندر سارے بکھیڑے پرورش پاتے ہیں جب دل ہی میلا ہو گا تو کون سی بات درست ہو سکتی ہے اور یہ بھی سوچو کہ دن میں پانچ وقت جاء نماز پر ہم کس کے پاس جاتے ہیں اور ان پانچ وقتوں کے درمیان ہمارے دل ناتوان پر کیا کچھ گزرتی ہے ،
پھر بھی وہ کہ رہا ہے کہ دل میلا ہو گا تو میری نظر کرم تم پر نہیں اٹھے گی اس لئے سب سے پہلے ماشرے کی اچھی تشکیل و تکمیل کے لئے سب سے پہلے قلب کی تطہیر ہونی ضروری ہے ،
دعاگو زائرہ بجّو
اسلام علیکم ساتھیو
خوش رہو بہن نگہت نسیم ۔میں آپکی بات سے بالکل متفق ہوں کہ انفرادی تربیت بہت ضروری ہے جو گھر سے شروع ہوتی ہے کہ سب سے پہلا مدرسہ ہی گھر ہے
۔فرد ہی ملت کی تقدیر بنتا ہے ۔اور شاید دوسروں کے لئے معلم بھی ۔
ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر محفل میں ایک شخص بھی اچھی سوچ اور اچھی شخصیت کا حامل ہوتا ہے تو پوری محفل سج سی جاتی ہے ۔یہ ہی حال اچھے افراد سے ایک اچھے معاشرے کا ہوتا ہے ۔جب تک ہم تربیت اور انفرادیت پر ذور نہیں دینگے اچھائی پنپ نہیں سکے گی ۔نہ ہی معاشرہ اچھا ہو سکے گا ۔
سلامت رہئے بہن زائرہ عابدی میں نے تو ایک کالم ہی دل پر لکھا تھا کہ جو کچھ ہے وہ دل ہی ہے اسے اگر اپنے قابو میں کر لیں صاف شفاف کر لیں تو فتح پا سکتے ہیں خرابیوں پر کوتاہیوں پر ۔
لیکن ہم سب سے زیادہ اسی سے غافل ہیں ۔ہماری پاک کتاب تو ہمیں درس ہی یہ دیتی ہے کہ سوچو سمجھو اور عمل کرو ۔
اللہ ہمیں بھلائیوں کی طرف قدم بڑھانا آسان کر دے آمین
عالم آرا
انفرادی تربیت کی اھمیت
واقعی اس تربیتی بلاگ کی اس وقت شدید ضرورت ھے
سمجھ ، اشیاء کے علم کی چھان بین سے پیدا ہوتی ہے ۔ جب اشیاء کا علم حاصل ہو جائے تو تب سمجھ پیدا ہوتی ہے ، اورسمجھ پیدا ہو جائے تو تو نیت اور ارادہ مخلص ہو جاتا ہے ۔ اور جب نیت صاف اور ارادی مخلص ہو جائے تو دل صاف ہو جاتا ہے۔ جب دل صاف ہو جائے تو زاتی زندگی کی تہذیب اور تربیت پوری ہو جاتی ہے۔ زاتی زندگی کی تربیت اور تہذیب ہو جائے تو گھریلو زندگی منظم اور باقائدہ ہو جاتی ہے تو قومی زندگی بھی منظم ہو جائےگی ۔ اور جب قومی زندگی منظم ہو ہو تو دنیا امن و امان کو گہوارہ بن جائے گی ۔
گویا شہنشاہ سے لے کر ایک عام آدمی تک ہر چیز کی بنیاد اس بات پر ہے کہ زاتی زندگی کی تربیت اور تہذیب کی جائے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کہ بنیاد با قائدہ اور ٹھیک نہ ہو تو ساری عمارت ٹھیک اور باقائدہ ہو ۔
دنیا میں ایسا کوئی درخت موجود نہیں جس کا تنا کمزور اور نازک ہو اور اس کی ٹہنیاں بھاری بھر کم اور مظبوط ہوں۔ اس کائینات کی ہر چیز کا ہونا ایک وجہ رکھتا ہے اور ہر چیز کا دوسری چیز سے ربط اور تعلق اپنی جگہ اٹل ہے ۔
اسی طرح انسانی معاملوں میں ابتدا اور انتہا دونوں موجود ہیں ۔ لیکن ان درجوں کا جاننا ، ان کا تقدس ، تقدیم اور تاخیر کا علم حاصل کرنا دانشمندی کی ابتدا اور اس کی دہلیز ہے۔
بہت ھی اثر انگیز اور سبق آموژ باتیں ھیں
باربار بھی پڑھیں تو کم ھے
کسی بھی انسان پر اس کی ابتدائ تعلیم و تربیت ایک خاص طور اسکی شخصیت سازی پر اّثر انداز ھوتی ھے
کسی بھی افراد کی
اخلاقی تربیت واقعی کسی بھی معاشرے کی تعیمر و ترقی کے لیے بہت ھی ضروری ھوتی ھے یہ فرد اور چوری برائ کاھلی غلط کاموں سے روکتی ھے
امیر عرب و العجم
امیر المومنین حضرت علی ( علیہ السلام) کا ارشاد گرامی ھے اصلاح کی ابتدا اپنی ذات سے کرنی چاہئے۔ ہمیں خود اپنے اور پہلے توجہ دینا چاہئے۔ اعلی اخلاقی تربیت کا پہلا اور اہم ترین قدم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو، اپنے اخلاق کو اور اپنے کردار کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے۔ اپنے عیوب کو دیکھے، ان پر غور کرے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ یہ کام ہم خود ہی کر سکتے ہیں اور یہ ذمہ داری خود ہمارے کندھوں پر ہے۔ ہمیں اپنی حفاظت کرنا چاہئے، اپنی لغزشوں کو کم کرنا چاہئے اور اس کام میں خدا سے مدد مانگنا چاہئے۔
اپنی بداخلاقیوں اور بری صفات کا پتہ لگائیں۔
راہ کمال میں کہیں رکنا نہیں چاہئے اور کسی بھی منزل پر قناعت نہیں کرنی چاہئے۔
حضرت امام زین العابدین علیہ الصلوات والسلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا
اے اولاد آدم
تیرا حال
، تیری حالت
، تیرے ایام
اور تیرا راستہ
اس وقت تک اچھا رہے گا
جب تک تو خود اپنے نفس کو وعظ و نصیحت کرتا رہے گا۔
کوئی تیرے باطن میں تجھے نصیحت کرے
، تیرا دل، تیری عقل، تیرا ضمیر، تیرا ایمان تجھے نصیحت کرے۔
دوسروں کی نصیحت مفید ہے لیکن اس سے زیادہ مفید یہ ہے
کہ انسان خود اپنے آپ کو نصیحت کرے۔
جب تک تمہارے اندر نصیحت کرنے والا ہے اور جب تک تم خود اپنا محاسبہ کرتے رہوگے ۔ انسان کا اپنا محاسبہ دوسروں کے محاسبے سے زیادہ دقیق ہو سکتا ہے۔ اس لئے کہ انسان خود سے کچھ چھپا نہیں سکتا۔
یہ انفرادی تربیت کے ثمر کی طرف ہی اشارہ ہے کہ باب شہر علم نے جو ارشاد فرمایا تھا کہ جس نے اپنے آپکو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا. کبھی غور کیجئے کہ مولا نے یہ نہیں فرمایا کہ جس نے اپنے رب کو پہچانا اس نے خود کو پہچانا، اسکی حکمت یہ ہے کہ خود کو پہچاننے کا عمل صرف اور صرف انفرادی تربیت پر منحصر ہے. یہ بہت طویل اور بہت اہم موضوع ہے اور اس پر تبادلہ خیال ہونا چاہیئے. لیکن مجھے علم ہے کہ اس گفتگو میں معدودے چند لوگ ہی شرکت کریں گے کیونکہ یہ بیت بازی اور مشاعرہ نہیں ہے بلکہ ایک علمی اور فکری موضوع ہے
میں محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب سے اور قابل صد احترام میری عزيز اور بہت ھی مخلص دوست اور پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم سے درخواست و المتاس کرونگی کہ اس موضوع پر اور تفصیل سے تحریر کریں
مجھے یہ فکری بلاگ اس لیے بھی اجھا لگا کہ اج میرے ملک کے لاتعداد نوجوان جو دھشت گردی کا الہ و نشانہ بن رھے ھیں
دراصل یہ بھی اخلاقی تربیت کا فقدان ھی تو ھے
اس موضوع پر زور دار بحث ھونی چاھیے
مزیذ مبصرین کے تبصرے بھی مدد گار ھونگے
یہ تو سب سے اھم عصری موضوع ھے
انٹر نیٹ پر کسی جگہ یہ ایک پیراگراف پڑھا تھا۔اچھا لگا ۔سوچا آپ بھی اس مطالعے میں شریک ہو جائیں
۔۔۔۔۔۔۔
نفس بظاہر حسد، بغض، شہوت اور غصہ جیسی بری صفات کا منبع اور سر چشمہ ہے ۔ یہ وہ صفات ہیں جو کئی حکمتوں اور مصلحتوں کی وجہ سے انسان کی جبلت میں ودیعت کی گئی ہیں ۔ اسی طرح نفس شیطان کے وسوسوں اور اشاروں کو وصول کرنے کا ایک تیار آلہ ہے اور گویا وہ اس کے ایکسچینج کی طرح کام کرتا ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم اس بات کو بھی جانیں کہ یہ مشین (اسی وقت) تبدیل ہونے اور ترقی کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے ۔ بلکہ یہ روحانی دنیا میں آدمی کی بلندی اور ترقی کا ذریعہ ہے ، لیکن اس مشین کا اپنے کاموں کو مثبت انداز میں پورا کرنے کا دارومدار آسمانی قوانین کے تحت اچھی طرح تربیت اور تزکیہ کرنے میں ہے ، جس طرح ہم گھوڑے کو اس وقت سدھاتے ہیں جب ہم اسے سواری بنانا چاہتے ہیں ۔ ورنہ اگر ہم اس کواپنے حال پر چھوڑ دیں تو وہ خواہشات اور اہواء کے پیچھے دوڑ پڑے گا اورمادی حیوانی خواہشات کا مطیع ہو کر برائیوں اور شرور پر کاربند ہو جائے گا اور یہ بات آخر کار انسان کو ایک گہری کھائی میں گرا دیتی ہے اور اس کاانجام ہلاکت اور موت ہوتا ہے ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ وہ انسان جو اپنے نفس کی مشکلات کو حل نہیں کر سکتا وہ ہر روحانی اور مادی توفیق کو (جیسے کہ پرانے زمانے سے لے کر اب تک ثابت ہے) اپنی ہلاکت کا سبب بنائے گا۔ اس لیے اگر نعمت انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کر کے غفلت کی جانب لے جا رہی ہے تو وہ نعمت نہیں بلکہ نعمت کی شکل میں زحمت ہے۔ جی ہاں، یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ وہ چیز جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی ہو ( خواہ وہ استنبول کی فتح ہی کیوں نہ ہو) وہ ایک آفت ہے جسے اللہ تعالیٰ بندے پر مسلط کرتا ہے اور وہ اسے اس مقام پر شدید نقصان میں ڈال دیتا ہےجہاں سے کامیابی کی امید ہوتی ہے ۔ ان تمام خطرات سے بچنے کا رستہ یہ ہے کہ آدمی جہاد اکبر سے کبھی پیچھے نہ ہٹے ۔ مطلب یہ ہے کہ نفس کے خلاف جہاد کرتا رہے اور نفس کے حیلوں اور سازشوں سے مقابلے میں نہایت چوکس اور بیدار رہے۔
اصلاح کے میدان میں اہم ترین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرے کی تعمیر سے پہلے فرد کی تعمیر کا اہتمام کریں۔ دوسرے الفاظ میں نظام اور اداروں میں انقلاب سے پہلے فرد میں انقلاب لانا ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ اسے ہم قرآن کے الفاظ میں بیان کر دیں، جس نے فیصلہ ہی کر دیا ہے کہ کوئی بھی انقلاب ہو اس کے لیے نفس کی تبدیلی ضروری ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ (الرعد: ۱۱)
یہ ہر اصلاح، ہر تبدیلی اور ہر اجتماعی تعمیر کی بنیاد ہے۔ فرد پوری عمارت کی بنیاد ہے۔ اس لیے آغاز یہیں سے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک اچھی اور مضبوط عمارت کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اگر اس کی اینٹیں بوسیدہ اور خراب ہوں۔
معاشرے کی دیوار میں فرد سب سے پہلی اینٹ ہے۔ اس وجہ سے فرد کی اصلاح اور اس کی ایک حقیقی مسلمان کے طور پر کامل اسلامی تربیت کے لیے جو بھی کوششیں کی جائیں اس کی دوسری چیزوں پر ترجیح ہے۔ کیونکہ یہ ہر قسم کی اصلاح اور تعمیر کے لیے ایک ضروری تمہید ہے اور اسی کا مطلب نفس کی تبدیلی ہے۔
انسان کی ایک صالح فرد کے طور پر تعمیر انبیا کا کام تھا۔ اور ان کے بعد ان کے خلفا اور وارثین بھی اسی ذمہ داری پر مامور ہیں
اسلام علیکم ساتھیو
میرا علم تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن سوچ ضرور ہے ۔ اور شاید عمر کے اس حسے میں بھی ہوں جہاں کچھ تجربہ بھی ہو جاتا ہے ۔ اور شاید گزرتے وقت کے ساتھ انسان کی جبلت ہے کہ وہ اچھے برے کی تمیز بھی کرنے لگتا ہے ۔بات ساری اسی حقیقت پر آکر ٹک جاتی ہے کہ ماحول بدلنے اور اپنی اقدار اور اپنے اسلاف کے کرداروں سے دور ہونے نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔در اصل تربیت بھی ایک جہاد ہے جس سے آج کل ہم سب نے ہی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں ۔
بچہ چھوٹا ہوتا ہے اپنے ارد گرد کے ماحول سے سیکھتا ہے ،پہلے پانچ سال کی عمرسے پہلے بچوں کو اسکول نہیں بھیجا جاتا تھا اور یہ پانچ سال بچوں کے لئے ایسی تربیت مہیا کرتے تھے جو انہیں جھگڑے لڑائی جھوٹ اور بد تہزیبی سے دور رکھنے میں معاون اور مدد گار ہوتے تھے ۔مائیں نانا نانی اور چچا تایا کے لئے بچے ایک قیمتی کھلونا ہوتے تھے جنہیں ہر کوئی انتہائی محبت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی دیتا رہتا تھا ۔بچوں کو آپس میں جھگڑنے سے روکا جاتا تھا ضد کرنے سے منع کیا جاتا تھا ۔اور ان پانچ سالوں میں بچہ بہت سی ایسی باتیں اپنے گھر ہی میں سیکھ لیتا تھا جو اسکی آگے کی زندگی کے لئے انتہائی اہم اور کار آمد ہوتی تھیں اگر ہم سب ہی اپنے ماضی میں چلے جائیں تو کیا ہمیں یاد نہیں آتا کے رات میں سوتے وقت دادی کلمے سناتی تھیں اور یاد بھی کرا دیتی تھیں ۔ہم بادشاہوں کی کہانیاں سنتے تھے پیغمبروں کے حالات سنائے جاتے تھے حضرت ایوب کی کہانی ان کا صبر کرنا ۔حضرت نوح کا واقعہ ان کا اللہ کے آگے ہر کام میں جھک جانا ۔حضرت ابراھیم (ع) کا سر تسلیم خم کرنا حضرت علی (ع) کی شجاعت اور علم کے خزینے ۔حضرت فاطمہ ذہراء کے صبر اور گھر کے کاموں کی مشقت ، یہ سب وہ باتیں ہیں جنہیں ہم نے اپنے بچپن میں سنا اور بڑے ہوکر اپنی زندگیوں میں استعمال کیا ۔
کیا اب ہمارے وہ ماحول ہیں ۔کیا ہم اب اپنے بچوں کو اتنا وقت دے رہے ہیں جتنا اس وقت کے ماں باپ اور قریبی رشتے دیا کرتے تھے ؟ کیا ہم اتنے مصروف نہیں کہ ہمیں اپنے بچوں سے بات کرنے کا بھی وقت نہیں ؟ کیا ہم نے اپنے ملک ہی میں بچوں کو ان تمام راستوں پر چلتے نہیں دیکھا جو کسی صورت ہمارے لئے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ہم آزادی کے معنی غلط لینے لگے ہیں ہم تہزیب کے معنی بدل چکے ہیں ہمیں وہ زہر نظر ہی ن ہیں آرہا جو ہم انجانے میں اپنی نئی نسل کو منتقل کر رہے ہیں ۔وہ ہے نقل اور وہ بھی ایسی نقل جو صرف اور صرف گڑھے کی طرف دھکیل رہی ہے ۔بزرگوں کا قول ہے کہ نقل کو عقل کی ضرورت ہوتی ہے اور عقلمند صرف اس بات کی نقل کرتے ہیں جو انکے فا ئدے کی ہو ۔دور کیوں جائے زرا اپنے ہی بچوں کے لکھے ہوئے ان جملوں کی طرف چلے جائے جو سوشل میڈیا پر ہم سب روز ہی پڑھتے ہیں ،کہاں ہے تربیت اور کہاں ہے شخصیت ۔
یہاں سار اقصور ہم بڑوں کا ہے میں سمجھتی ہوں کہ بچے بہت باشعور ہیں انہیں راہبر چاہئیں ۔اچھے پیش رو چاہئیں ۔ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو انہیں نرمی اور محبت سے برائیوں سے روک سکیں ۔
ہم تو خود بھی ایک دوسرے کی کاٹ اور مخالفت میں لگے ہوئے ہیں ۔جب تک ہم محبت کو عام نہیں کرینگے جب تک ہم ایک دوسرے کا بھلا نہیں سوچینگے ہماری سوچیں ہم تک ہی محدود رہ جائینگی ۔
ضرورت ہے اچھائیوں کو فروغ دینے کی برائیوں کی نشاندہی کی ۔
جہاد روز مرھ کی زندگی میں بھی ہے جب آپ اپنے بچوں کی تربیت میں مشغول ہوں ۔آج کا بچہ معصوم جب پیدا ہوتے ہی ایک گھنٹے کے لئے کلاس میں جانے لگتا ہے اور وہ وقت جو اسے ماں کی نرم گود اور باپ کی شفقت میں ہونا چاہئے اسے چاہے کچھ وقت کے لئے ہی صحیح اسے اس نعمت سے دور کرتا ہے تو یقینا اس کے اندر جو کمی پیدا ہوتی ہے وہ بڑے ہو کر کسی نہ کسی صورت ضرور نکلتی ہے لیکن ماں باپ کو یہ فخر ضرور ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں میں بیٹھ کر بڑائیاں مار سکیں کہ ہم نے تو اسے ایک دن کا تھا جب ہی اسکول بھیجا تھا ۔افسوس
اب شکوہ صرف خود سے کیا جا سکتاہے ۔یا پھر اپنے رویوں پر غور کیا جاسکتا ہے ۔اوراپنے بچوں کو وقت دینے پر توجہ دی جاسکتی ہے کہ یہ جوان اور یہ نو جوان ہماری بے توجہی سے اس حالت کو پہنچ رہے ہیں ۔اس لئے خطا کار تو ہم سب ہی ہیں ہم سب ہی کو اس گمبھیر معاملے کا حل تلاشنا چاہئے ۔ کہ دیر آید درست آید
محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہمیں ہمارے اندر پھیلنے والے اندھیروں سے نکالتا ہے ۔کہ ہم مثال بنیں اپنے بچوں کے لئے اپنے قرابت والوں کے لئے ۔عمل ضروری ہے جب تک ہم ہر محاز پر عمل کی طاقت کو استعال نہیں کرینگے فائدے نہیں مل سکتے ،علم حاصل کرنے اور عمل کرنے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے ۔ہم ان بلاگوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اپنا محاسبہ کرنے کا موقعہ بھی ملتا ہے جزاک اللہ خیر
میری کوئی بھی بات بری لگے تو معافی کی خواستگار ہوں ۔بس وہ ہی لکھ دیتی ہوں جو مجھے محسوس ہوتا ہے ۔
اللہ ہمارے بچوں کو ان تمام زہنی آزاروں سے بچائے رکھے آمین ۔
عالم آرا
بالکل سچ ھے ہر انسان اپنی اصلاح کی کوشش کرے تو یہ اچھائی اور کردار سازی کا پختہ عمل شروع ھو گا فرد سے ھی معاشرہ بنتا ھے اور قومیں وجود میں آتی ھے اس انفرادی تربیت میں والدین اور اساتزہ کا رول عملی جامہ پہنانے میں معاون ھوتا ھے ، پھر جو منزل آتی ھے وہ ھے اپنے نفس کے خلاف جہاد انسان میں روحانی پختگی اور عقیدہ جزا و سزا پر پورے صدق سے قائم و دائم رھنے پر منحصر ھے جس کی عظیم درس گاہ مکتب اہل بیت ع ۔ س سے بڑھ کر کچھ نھیں ، جتی رھئے سدا سکھی رھئے بہن نگھت نسیم صاحبہ
ہمارے یہاں یہ روش عام ہے کہ ہمارے پاس علم اور عمل کے خزانے موجود ہوتے ہوئے اگر کوئی ترقی پسند اس کو کہیں سے لیکر لکھدے تو ہم اس سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔ جبکہ وہ بھی ہمارے یہاں سے ہی لیئے گئے ہوتے ہیں؟ میں نے پہلے بھی یہ واقعہ نقل کیا تھا کہ میں ایک کریکشن سنیٹر (جیل) کے معائنہ پر گیا تو جیلر نے بہت سے طغرے دیواروں پر لگا ئے ہوئے تھے۔جوکہ قر آنی تعلیمات پر مبنی تھے مگر حوالے میں اس نے لکھا ہوا تھا کہ مصنف “ نمعلوم“
میں نے اس سے پوچھا کہ یہ تو تم نے سب قرآن سے لیا ہے؟ کنیڈین تھا گھبرایا نہیں کیونکہ اس کا ضمیر مطمعن تھا، کہنے لگا کہ اس سےبہتر مجھے کہیں کوئی چیز کسی اورکتاب میں نہیں ملی جس کو پیش کرنے والے نے اپنے عمل سے بھی ثابت کیا ہو؟ لہذا قیدیوں کی اصلاح ِ کردار کے لیئے میں نے یہاں یہ لگا یا ہوا ہے۔ تب میں نے پوچھا کہ پھرتم نے قرآن کا حوالہ کیوں نہیں دیا ؟ تو اس نے کہا کہ اس لیے کہ تعصب کی وجہ سے پھر کوئی نہیں پڑھتا؟
اب رہی قدیم کتب کی بات توکونسی کتاب اور کونسی کہاوت کس پیغمبر (ع) کی ہے کون جانے؟ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو وہاں کے قدیم مذہب کے پیغمبر کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا، صرف ایک مرتبہ ان کی اندھیرے میں ایک پرچھا ئیں نظر آئی تھی وہ کسی مصور نے کاغذ پر محفوط کر لی جبکہ ان کے نام سے پورا مذہب موجود ہے؟ اور بدھ مت پہونچنے سے پہلے تک وہی اکلوتا مذہب وہاں رائج تھا اور ابھی تک بھی رائج ہے کہ وہ بدھ مت میں گڈ مڈ ہوگیا ہے۔
جبکہ حضور (ص) کو دنیا نے دیکھا بھی، پرکھا بھی اور ہماری کتاب بھی ہر قسم کی تحریف سے پاک ہے جبکہ قر آن کہتا ہے کہ تمام مذاہب حقیقت میں ایک تھے جن میں بعد میں مفاد پرستوں نے تحریفات کیں۔ تو جب کہ آقا ئے نامدار (ص) نے سب سے زیادہ زور عمل پر دیا ہےاور پہلے خود قر آنی تعلیمات پر عمل کیا۔ پھر دوسروں سے عمل کرایا اور اپنے ماننے والوں کو پہلے کردار سازی کے کٹھن مر حلے سے گزارا، پھر کہیں جاکر وہ مشینری تیار ہوئی جس نے اسلامی نطریہ کو چلایا۔ اس عمل سے کیسی کیسی ہستیاں تیار ہوئیں فہرست طویل ہے سب کے بیان کرنے کا یہاں موقعہ نہںِ۔ جس کی ایک کامل مثال باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ مردوں میں اور خواتین میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا جیسی ہستیاں ہیں جو مینارہ نور کی طرح ہمارے سامنے ہیں ان کا کردار ہمارے پاس کتابوں میں محفوظ ہے ان کے افعال ہمارے سامنے ہیں پھر ہمیں کہیں اور سے مثال دینے کی کیا ضرورت ،وہ کونسی مثال ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ پھر حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کے لیئے تو خود اللہ سبحانہ تعالیٰ نے گارنٹی دی ہو ئی ہے کہ تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ تمہارے لیے کافی ہے،اور یہ بھی فرمادیا کہ “ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے سوائے اس کے جو ان پر وحی کیا جا ئے۔“اور انہوں (ص) نے آگے یہ فرماکر بات ختم فرمادی کہ “ صرف میرا ہی راستہ سیدھا راستہ ہے اس پر چلو گے تو تم فلاح پا جاؤگے ،اس راستے کے علاوہ دونوں طرف لاتعداد راستے ہیں جن پر پردے پڑے ہو ئے ہیں ان میں سے کسی یں داخل مت ہونا ورنہ بھٹک جا ؤگے“ جبکہ دوسروں کے اتباع کے لیے فرمایاکہ صرف وہی قابلِ اتباع ہیں جو کہ من و عن میرے راستے پر گامزن ہیں؟
اور یہ واقعہ تو آپ نے سب نے پڑھا ہو گا کہ حضرت عمر (رض) کچھ تورات کی تعلیمات پر مشتمل اقوالات لے آئے اور جب حضور(ص) کو پڑھ کر سنایا تو حضور (ص) سخت ناراض ہوئے؟ اور فرمایا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی کتاب موجود ہے تو کہیں اور بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ ہم سب کو اسوہ رسول (ص) اوران کی عترت کی راہ پر چلنے ، عمل کرنے اور محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آًٰ مین) کیونکہ ان سے محبت کر نا بھی آیت مودہ کی شکل میں ہدایت قرآنی ہےاورحضور (ص) کے اسوہ حسنہ میں شامل ہو نے کی وجہ سے لازمی ہے اس لیےکہ وہ ان سب سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ اور یہ ان کا فرمان ہے کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں(ص) اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں؟ پھر اس کے بعد معاشرتی آداب قرآن اور اسوہ حسنہ میں موجود ہی وہا ں تلاش کر یں۔
کوئی شک نہیں
سب سے ایم کام انسان میں انسانیت پیدا کر نا ہے جس کو ہم نے بھلا دیا ہے